"حرمتِ احکامِ الٰہی، راہِ خدا میں قربانی اور منافقین کا کردار"

درس نمبر 315، سورہ التوبۃ آیات 37 تا 42 اشاعتِ اول: 21, 22 اور 23 نومبر، 2022، بمطابق ،24, 25 اور 26 ربیع الثانی ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • دنیاوی مفادات کے لیے اللہ کے احکامات بدلنا کفر ہے۔
  • غزوہ تبوک کا کٹھن سفر مسلمانوں کے لیے آزمائش تھا۔
  • غار ثور میں اللہ نے پوشیدہ لشکروں سے مدد فرمائی۔
  • مال اور جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔
  • منافقین کٹھن حالات میں حیلے بہانوں سے پیچھے ہٹتے ہیں۔
  • مسلمان امتحان اور ابتلا کے دور میں کامیاب ہو گئے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّيُوَاطِــُٔوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ (37)

ترجمہ: اور یہ نسیئی (یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کر دینا) تو کفر میں ایک مزید اضافہ ہے جس کے ذریعے کافروں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس عمل کو ایک سال حلال کر لیتے ہیں، اور ایک سال حرام قرار دے دیتے ہیں، تاکہ اللہ نے جو مہینے حرام کئے ہیں، اُن کی بس گنتی پوری کر لیں، اور (اس طرح) جو بات اللہ نے حرام قرار دی تھی، اُسے حلال سمجھ لیں۔

حاشیہ: یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کر کے انہوں نے چار مہینے کی گنتی تو پوری کر دی، لیکن ترتیب بدلنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس مہینے میں واقعۃً اللہ تعالیٰ نے لڑائی حرام قرار دی تھی، اُس میں انہوں نے لڑائی کو حلال کر لیا۔

ترجمہ: ان کی بدعملی ان کی نگاہ میں خوشنما بنا دی گئی ہے، اور اللہ ایسے کافر لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا ﴿37﴾

اصل میں اللہ جل شانہ کے احکامات میں رد و بدل کرنا، اس کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ بعض دفعہ لوگ اپنے دنیاوی مفادات کے لیے اللہ تعالی کے حکموں میں تبدیلی کر لیتے ہیں، اور یہ تبدیلی مختلف طریقوں سے لوگ کرتے ہیں۔ کبھی حیلے کی صورت میں یا اپنی طرف سے کہ ان کو اختیار ہے، مطلب یہ کر سکتے ہیں، بس گنتی پوری کر لیں کافی ہے۔ تو ایسا نہیں ہے۔ اللہ پاک نے جس چیز کو جس طرح لازم کیا ہے، اسی طرح کرنا ہوگا۔ حلال حلال ہے، حرام حرام ہے۔ حرام کو حلال نہیں قرار دیا جا سکتا، اور حلال کو حرام نہیں قرار دیا جا سکتا۔ دونوں صورتوں میں نقصان ہے۔ تو بنی اسرائیل میں جن لوگوں نے یوم السبت، مطلب اس پہ حیلہ کیا تھا، تو ان کو بڑی سخت سزا دی گئی، اور وہ سزا یہ تھی کہ وہ بندر اور سور بنا دیے گئے۔ اور ان لوگوں نے یہ کیا کہ جو سال کے محترم مہینے تھے، جن میں لڑنا حرام تھا، ان کو انہوں نے حلال قرار دیا۔ تو بہرحال جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں، اللہ تعالی ان کو ہدایت نہیں پہنچاتے۔ اس وجہ سے ہم لوگ پہلے سے اللہ پاک کے حلال کو حلال سمجھیں اور حرام کو حرام سمجھیں، اور پھر اللہ پاک سے توفیق مانگیں، تو اللہ تعالی مدد فرمانے والے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت تامہ نصیب فرمائے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِیْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ ؕ اَرَضِیْتُمْ بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِیْلٌ (38) اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَيْـًٔا ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(39) اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۚ فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِیْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ؕ وَ كَلِمَةُ اللّٰهِ هِیَ الْعُلْیَا ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ (40)

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لئے) کوچ کرو تو تم بوجھل ہو کر زمین سے لگ گئے؟کیا تم آخرت کے مقابلے میں دُنیوی زندگی پر راضی ہو چکے ہو؟ (اگر ایسا ہے) تو (یاد رکھو کہ) دُنیوی زندگی کا مزہ آخرت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، مگر بہت تھوڑا ﴿38﴾

حاشیہ: یہاں سے غزوۂ تبوک کے مختلف پہلوؤں کا بیان شروع ہو رہا ہے جو اس سورت کے تقریباً آخر تک چلا گیا ہے۔ اس غزوے کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ اور غزوۂ حنین کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد شام سے آنے والے کچھ سوداگروں نے مسلمانوں کو بتایا کہ رومی سلطنت کا بادشاہ ہرقل مدینہ منورہ پر ایک زور دار حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے، جس کے لئے اُس نے ایک بڑا لشکر شام اور عرب کی سرحد پر جمع کر لیا ہے، اور اپنے فوجیوں کو سال بھر کی تنخواہ پیشگی دے دی ہے۔ صحابہ کرامؓ اگرچہ اب تک بہت سی جنگیں لڑ چکے تھے، مگر وہ سب جزیرۂ عرب کے اندر تھیں، یہ پہلا موقع تھا کہ دنیا کی مانی ہوئی ایک بڑی طاقت سے مقابلہ پیش آ رہا تھا۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ ہرقل کے حملے کا انتظار کئے بغیر خود پیش قدمی کی جائے، اور خود وہاں پہنچ کر مقابلہ کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے مدینہ منورہ کے تمام مسلمانوں کو اس جنگ میں شریک ہونے کے لئے تیاری کا حکم دیا۔ مسلمانوں کے لئے یہ بہت بڑی آزمائش تھی۔ اوّل تو دس سال کی متواتر جنگوں کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ فتح مکہ کے بعد سکون کے کچھ لمحات میسر آئے تھے۔ دوسرے جس وقت اس جنگ کے لئے روانہ ہونا تھا، وہ ایسا وقت تھا کہ مدینہ منورہ کے نخلستانوں میں کھجوریں پک رہی تھیں۔ انہی کھجوروں پر اہلِ مدینہ کی سال بھر کی معیشت کا دارو مدار تھا، ایسی حالت میں باغات کو چھوڑ کر جانا نہایت مشکل تھا۔ تیسرے یہ عرب میں گرمی کا سخت ترین موسم تھا جس میں آسمان سے آگ برستی اور زمین سے شعلے نکلتے محسوس ہوتے ہیں۔ چوتھے تبوک کا سفر بہت لمبا تھا، اور تقریباً آٹھ سو میل کا یہ پورا راستہ لق ودق صحراؤں پر مشتمل تھا۔ پانچویں سفر کے لئے سواریاں کم تھیں۔ چھٹے اس سفر کا مقصد رومی سلطنت سے ٹکر لینا تھا جو اُس وقت نہ صرف یہ کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی، بلکہ اُس کے طریقِ جنگ سے بھی اہلِ عرب پوری طرح مانوس نہیں تھے۔ غرض ہر اعتبار سے یہ انتہائی مشقت، جان و مال اور جذبات کی قربانی کا جہاد تھا جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیس ہزار صحابہ کرامؓ کے لشکر کے ساتھ تبوک روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرقل اور اُس کے لشکر پر آپ کی اس جرأت مندانہ پیش قدمی کا ایسا رُعب طاری فرما دیا کہ وہ سب واپس چلے گئے، اور مقابلے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ مذکورہ بالا مشکل حالات کے باوجود صحابہ کرامؓ کی بھاری اکثریت ماتھے پر بل لائے بغیر جاں نثاری کے جذبے سے اس مہم میں شریک ہوئی۔ البتہ کچھ صحابہ ایسے بھی تھے جنہیں یہ سفر بھاری معلوم ہوا، اور شروع میں انہیں کچھ تردد رہا، لیکن آخر کار وہ لشکر میں شامل ہو گئے۔ اور چند ایسے بھی تھے جو اس تردد کی وجہ سے آخر تک فیصلہ نہ کر سکے، اور سفر میں شرکت سے محروم رہے۔ دوسری طرف وہ منافقین تھے جو ظاہری طور پر تو مسلمان ہو گئے تھے، لیکن اندر سے مسلمان نہیں تھے۔ ایسی سخت مہم میں مسلمانوں کا ساتھ دینا اُن کے لئے ممکن ہی نہیں تھا، اس لئے وہ مختلف حیلوں بہانوں سے مدینہ منورہ میں رُک گئے، اور ساتھ نہیں گئے۔ اس سورت کی آنے والی آیات میں ان سب قسم کے لوگوں کا ذکر آیا ہے، اور اُن کے طرزِ عمل پر تبصرہ فرمایا گیا ہے۔ آیت نمبر 38 میں جن لوگوں کو ملامت کی گئی ہے، اُن سے مراد منافقین بھی ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو“ اُن کے ظاہری دعوے کے مطابق فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خطاب اُن صحابہ کرامؓ سے ہو جن کے دل میں تردد پیدا ہوا تھا۔ البتہ آیت نمبر 42 سے تمام تر بیان منافقین ہی کا ہے۔

ترجمہ: اگر تم کوچ نہیں کرو گے تو اللہ تمہیں دردناک سزا دے گا، اور تمہاری جگہ کوئی اور قوم لے آئے گا، اور تم اُسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ﴿39﴾ اگر تم ان کی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد نہیں کرو گے، تو (ان کا کچھ نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ ان کی مدد اُس وقت کر چکا ہے، جب ان کو کافر لوگوں نے ایسے وقت (مکہ سے) نکالا تھا جب وہ دو آدمیوں میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ: ”غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“چنانچہ اللہ نے ان پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی، اور اُن کی ایسے لشکروں سے مدد کی جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور کافر لوگوں کا بول نیچا کر دکھایا، اور بول تو اللہ ہی کا بالا ہے۔ اور اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ ﴿40﴾

حاشیہ: یہ ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ ہے

جو پہلے گزرا ہے۔

حاشیہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف اپنے ایک رفیق حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکلے تھے، اور تین دن تک غارِ ثور میں روپوش رہے تھے۔ مکہ مکرمہ کے کافر سرداروں نے آپ کی تلاش کے لئے چاروں طرف لوگ دوڑائے ہوئے تھے، اور آپ کو گرفتار کرنے کے لئے سو اونٹوں کا انعام مقرر کیا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ آپ کو تلاش کرنے والے کھوجی غارِ ثور کے منہ تک پہنچ گئے، اور اُن کے پاؤں حضرت صدیق اکبرؓ کو نظر آنے لگے جس کی وجہ سے اُن پر گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہوئے۔ لیکن حضور سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اُن سے فرمایا تھا کہ: ”غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے غار کے دہانے پر مکڑی سے جالا تنوا دیا، اور وہ لوگ اُسے دیکھ کر واپس چلے گئے۔ اس واقعے کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد کافی ہے، لیکن خوش نصیبی اُن لوگوں کی ہے جو آپ کی نصرت کی سعادت حاصل کریں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنے وعدوں پر یقین کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (41) لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ (42)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: (جہاد کے لئے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل، اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ﴿41﴾ اگر دنیا کا سامان کہیں قریب ملنے والا ہوتا، اور سفر درمیانہ قسم کا ہوتا، تو یہ (منافق لوگ) ضرور تمہارے پیچھے ہو لیتے، لیکن کٹھن فاصلہ ان کے لئے بہت دُور پڑ گیا۔ اور اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکل جاتے۔ یہ لوگ اپنی جانوں کو ہلاک کر رہے ہیں، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں ﴿42﴾

یہ اصل میں تبوک کے موقع پر جو حالات تھے، وہ حالات بڑے مشکل حالات تھے۔ مالی لحاظ سے بھی اور جانی لحاظ سے بھی۔ کیونکہ مالی لحاظ سے یہ باتیں تھیں کہ کھجور پک رہے تھے، اور ان کی معیشت کا دارومدار اسی پر تھا زیادہ تر۔ اس لیے ان کو اس طرح چھوڑ کے جانا، یہ کوئی آسان بات نہیں تھی۔ تو پہلے سے فرمایا کہ

ترجمہ: (جہاد کے لئے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل،

اور یہ بھی فرمایا،

ترجمہ: اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔

اور یہ فرمایا

ترجمہ: اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ﴿41﴾

یعنی یہ سمجھ اللہ کی بڑی نعمت ہے، اس سے حق کی شناخت ہو سکتی ہے۔ اور انسان اپنے لیے صحیح فیصلہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو، تو پھر یہ ہے کہ غلط کو صحیح کہہ سکتا ہے، صحیح کو غلط کہہ سکتا ہے۔ دوسری بات چونکہ منافقین بھی درمیان میں تھے، تو منافقوں کا ایمان ظاہر کرنا دو وجہ سے تھا۔ ایک تو یہ کہ اپنے آپ کو بچانا تھا۔ بزدل تھے، علی الاعلان کفر کا اعلان نہیں کر سکتے تھے۔ اور مالی فائدہ بھی حاصل کرنا ہوتا تھا۔ یعنی اگر مسلمانوں کو فتح ہوتی، تو ساتھ شامل ہونا چاہتے تھے کہ ہمیں بھی مال غنیمت میں سے ملے۔ اور اگر خطرہ ہوتا، تو پھر اپنے آپ کو بچاتے۔ جیسے احد کے موقع پہ کر لیا۔ تو یہاں تبوک کے موقع پر بھی ایسا ہوا کہ منافقین مختلف حیل و بہانوں سے پیچھے ہوتے تھے۔ تو اللہ پاک نے، چونکہ اللہ پاک تو جانتے تھے ان کو۔ اللہ پاک تو سب کچھ جانتا ہے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا اگر دنیا کا سامان کہیں قریب ملنے والا ہوتا، یعنی ان کو کوئی دنیاوی مالی فائدہ ہوتا اور سفر بھی کٹھن نہ ہوتا، تو یہ ضرور آپ کے ساتھ ہوتے۔ لیکن جو کٹھن فاصلہ ہے یہ ان کے لیے دور پڑ گیا، تو گویا کہ اللہ پاک نے جو مشکل حالات بھیجے ان کی پہچان کے لیے اور مطلب ظاہر ہے ان کو علیحدہ کرنے کے لیے۔ تو اس میں ظاہر ہے پھر گو مگو میں پڑ گئے۔ تو فرمایا کہ

ترجمہ: اب یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں استطاعت ہوتی تو ہم ضرور آپ کے ساتھ نکل جاتے۔

لیکن اصل میں یہ اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کیونکہ اللہ پاک خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں اور یہ اپنے آپ کو سچ وہ کر رہے ہیں، اور پیغمبر کے ساتھ معاملہ ہے، تو پیغمبر پہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ لہٰذا اس کو بھی پتہ چل جاتا ہے۔ تو مسلمانوں کے لیے ایک امتحان اور ابتلا کا دور تھا۔ جس میں ماشاءاللہ وہ کامیاب ہو گئے۔ اور جو حضرات پیچھے رہ گئے تھے، ان کا واقعہ بعد میں آ رہا ہے۔ کہ ان کے ساتھ پھر کیا ہوا۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی ہدایت ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے۔

وَاخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔