باطنی بیماریاں (حسد، کینہ، غصہ) اور دین و دنیا کی اصلاح

خطبات الاحکام، خطبہ نمبر: 36، مراقبہ و محاسبہ وغیرہ کے بیان میں، اشاعت اول:13 جون، 2021، بمطابق: 3 ذی القعدہ ، 1442 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. دین پر چلنے سے دونوں جہانوں میں کامیابی ملتی ہے، جبکہ محض دنیا کی فکر انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہے۔
  2. دنیاوی معاملات کی طرح آخرت کی کامیابی کے لیے خود بخود رجحان نہیں بنتا بلکہ اس کے لیے خاص فکر اور محنت درکار ہے۔
  3. حسد اور کینہ انسان کا دنیاوی سکون تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی نیکیوں کو ایسے کھا جاتے ہیں جیسے آگ لکڑی کو۔
  4. حسد اصل میں اللہ کی تقسیم پر ناراضی ہے، حالانکہ مالدار کا امتحان شکر کرنا اور غریب کا امتحان صبر کرنا ہے۔
  5. کسی کی نعمت پر حسد کرنے سے نظر لگتی ہے، اس لیے اپنی نعمتوں کو ظاہر کرنے کے بجائے چھپا کر رکھنا بہتر ہے۔
  6. انسان کو اپنی تمام امیدیں صرف اللہ سے وابستہ رکھنی چاہئیں اور مخلوق سے دل یا زبان سے کچھ نہیں مانگنا چاہیے۔
  7. دین کے تعلق اور مساجد کو اپنے دنیاوی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرنا انسان کی بہت بڑی حماقت ہے۔
  8. حسد اس قدر خطرناک بیماری ہے کہ اس کی وجہ سے یہود حق پہچاننے کے باوجود اس سے محروم ہو کر تباہ ہو گئے۔
  9. کسی مسلمان کے خلاف دل میں بغض رکھنا پیر اور جمعرات کے دن ہونے والی مغفرت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
  10. غصے کے وقت عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے، اس لیے اپنی جسمانی حالت بدل کر نفس کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
  11. حقیقی طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت بپھرے ہوئے نفس پر قابو پا لے اور لوگوں کی غلطیوں کو معاف کر دے۔
  12. جہاد کے موقع پر غصہ کرنا ضروری ہے، تاہم بے موقع غصہ انسان کو دائمی نقصان اور پشیمانی میں مبتلا کر دیتا ہے۔
  13. اللہ کی عطا کردہ دنیاوی نعمتوں اور وسائل کو ضائع ہونے سے بچانا اور ان کا صحیح استعمال کرنا بھی دین کا اہم تقاضا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَمِّ الْحِقْدِ وَالْحَسَدِ

إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا

وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِرَجُلٍ قَالَ لَهُ أَوْصِنِي قَالَ لَا تَغْضَبْ فَرَدَّدَ ذَلِكَ مِرَارًا قَالَ لَا تَغْضَبْ

وَقَالَ عليه الصلاة والسلام إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ

وَقَالَ عليه الصلاة والسلام وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا

وَقَالَ عليه الصلاة والسلام دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ

وَقَالَ عليه الصلاة والسلام إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ

وَقَالَ عليه الصلاة والسلام تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ فَيُقَالُ اُنْظُرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

معزز خواتین و حضرات! اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں اللہ پاک نے ایسا پیارا دین عطا فرمایا ہے۔ جس پر چلنے سے ہماری دونوں جہاں میں کامیابی ہوتی ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جس چیز سے دنیا کا فائدہ ہوتا ہے اس کی طرف تو دھیان ہوتا ہے، رجحان ہوتا ہے۔ اس کی فکر ہوتی ہے۔ لیکن جس چیز سے آخرت میں کامیابی ہوتی ہے اس کی طرف نہ دھیان ہوتا ہے نہ فکر ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں لوگ بڑے relaxed ہوتے ہیں کہ دیکھا جائے گا۔ حالانکہ وہاں دیکھا جائے گا نہیں ہو سکتی۔ دنیا میں تو ہو سکتا ہے۔ دنیا میں تو عین ممکن ہے کہ جب وقت آ جائے تو عین ممکن ہے آپ کچھ کر گزریں۔ لیکن وہاں آخرت میں تو آپ کچھ بھی نہیں کر سکیں گے، وہاں تو جو نتیجہ ہو گا وہی سامنا کرنا پڑے گا اس کا۔ لہٰذا یہاں پر الٹ معاملہ ہے دنیا کے معاملے میں تو بہت زیادہ چستی ہے۔ اور دین کے معاملے میں بہت زیادہ سستی ہے۔ تو یہ معاملہ بڑا خطرناک ہے۔

اسی وجہ سے قرآن پاک میں اور احادیث شریفہ میں ان چیزوں پر زیادہ زور دیا گیا ہے جو آخرت کے لحاظ سے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی جو چیزیں ہیں ان کا لوگ خود خیال رکھتے ہیں اس کا۔ اس کے لیے کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثلاً پانی خود بخود نیچے آتا ہے، اس کے لیے کسی کو محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ بلکہ راستہ خود ہی بناتا ہے۔ جبکہ آپ اس کو اوپر لے جائیں گے تو اس کے لیے محنت کی ضرورت ہے۔ تو لہٰذا دنیا کے لیے لوگ خود بخود ان کا ذہن بنا ہوتا ہے، اس کے لیے سوچتے بھی ہیں، اس کے لیے فکر بھی کرتے ہیں۔

یہ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے جو سکول کے جو بچے ہوتے ہیں جو سکول جاتے ہیں۔ تو مائیں ان کو کیسے جلدی تیار کرتی ہیں، کپڑے ان کے لیے تیار رکھتی ہیں، کتابیں ان کے لیے تیار اور محنتیں کر کر کے ان کو ناشتہ کرانا اور پھر یہ ہے کہ ان کو جلدی جلدی سکول پہنچانا۔ یہ سارے کام بڑی خوشی خوشی وہ کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر دین کی چیز ہو تو اس میں پھر خود بخود ہو جائے تو اچھی بات ہے ورنہ مشکل بات ہے۔

تو یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ ہمیں ان چیزوں کا خیال رکھنا پڑے گا۔ سکول میں اگر استاد مارتا ہے تو اس کو برداشت کرتے ہیں۔ اور مسجد میں اگر استاد مارتا ہے تو اس کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ معاملہ بالکل ایسے ہی چل رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ استادوں کو مارنا چاہیے، میں صرف فرق دکھا رہا ہوں کہ فرق ایسا ہے۔ کہ سکول کے لیے پیسے بھی خرچ کرنا آسان، استاد جو مارتے ہیں اس کو برداشت کرنا بھی آسان، اس کے لیے صبح سویرے اٹھنا بھی آسان، اس کے لیے ساری محنتیں آسان، لیکن دین کے لیے یہ کام بڑا مشکل ہے۔ اگر آسانی سے ہو جائے تو اچھی بات ہے۔ بلکہ بعض لوگ تو کہہ بھی دیتے ہیں اچھی بات ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے نا بھئی دین پر چلنا چاہیے، فلاں کام کرنا، کہتے ہیں اچھی بات ہے۔ یہ نہیں کہ مطلب مجھے کرنا چاہیے، اس کے لیے مجھے پوری محنت کرنی چاہیے، یہ نہیں ہوتا۔ خیر یہ تو درمیان کی بات آ گئی۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارا جو دین ہے وہ اتنا پیارا دین ہے کہ اس میں ہماری آخرت کا بھی سنورنا ہے اور دین کے لیے بھی سنورنا ہے اور دنیا کے لیے بھی۔ بعض دفعہ بڑی عبرتناک صورتحال ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بعض بچوں پہ بڑی محنت ہوتی ہے، ان کو مہنگے سکولوں میں پڑھاتے ہیں، مہنگے کالجوں میں پڑھاتے ہیں، یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں۔ جب وہ پڑھ لکھ جائیں تو اپنے پاؤں پر جب کھڑے ہو جاتے ہیں تو اپنے والدین کو سلام کر لیتے ہیں۔ پھر نہ والدین کی خبر لیتے ہیں نہ کوئی اس کے بارے میں ان کو سوچ و فکر ہوتی ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو ایسی حالت ہوتی ہے کہ ان کو اپنے والدین کی میت کا کندھا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ وہ ہسپتالوں میں جب فوت ہوتے ہیں تو چوہڑوں کے ذریعے سے ان کو اٹھواتے ہیں، خود بھی خود مطلب جن کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔ ایسا ہم نے دیکھا ہے، مطلب ایسی اس قسم کی چیزیں ہیں۔ اور یہ سب دنیا کی کارفرمائی ہے۔ دنیا کے ساتھ لگن کی بات ہے۔ اور جو لوگ دیندار ہوتے ہیں چاہے کیسے ہی کمزور ہوں لیکن ان کو فکر ہوتی ہے وہ والدین کی خدمت بھی کرتے ہیں۔ وہ ایسے موقع پہ کام بھی آتے ہیں۔ پھر بعد میں ان کو یہی پتہ چلتا ہے کہ اوہو میرے کام کا بچہ تو یہ تھا۔ لیکن وہ جو کچھ ہونا ہوتا ہے وہ ہو چکا ہوتا ہے۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ ہمیں جو دین کی بات ہے اور دنیا کی بات ہے ان کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے ہمارا جو دین ہے وہ دونوں جہانوں میں ہمیں الحمدللہ فائدہ پہنچاتا ہے۔

نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہان کی ہے

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔

اب میں آپ کو ایک خاص چیز کے بارے میں عرض کرنا چاہتا تھا اور وہ ہے حسد اور کینہ۔ حسد جو ہے اس کا دنیا کا بھی نقصان ہے اور اس کا آخرت کا بھی نقصان ہے۔ آخرت کا نقصان بہت زیادہ ہے، دنیا کا نقصان بھی برداشت نہیں ہوتا۔ آخرت کا نقصان کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ اس سے نیکیاں ایسی جلتی ہیں جیسے کہ لکڑی آگ کے ذریعے سے جلتی ہے۔ یعنی جو حسد کر رہا ہے وہ اصل میں اپنی نیکیاں جلا رہا ہے۔ اب کس کا نقصان کر رہا ہے؟ جس کے ساتھ حسد کر رہا ہے اس کا نقصان کر رہا ہے؟ اصل میں اس کا اپنا نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس کی نیکیاں جل رہی ہیں۔ اور دنیا کا نقصان کیا ہے؟ کہ اس کا دل جل رہا ہوتا ہے۔ دماغ کھول رہا ہوتا ہے۔ کڑھن ہو رہی ہوتی ہے۔ blood pressure high ہو رہا ہوتا ہے۔ sugar ہوتی ہے۔ اور مختلف قسم کی بیماریوں میں یہ آ جاتا ہے، پھنس جاتا ہے۔ کس وجہ سے؟ حسد کی وجہ سے اور کینے کی وجہ سے۔ جو لوگ حاسدین ہوتے ہیں یقین جانیں ان کی دنیا خراب ہوتی ہے۔ وہ اس چیز کو جانتے نہیں ہیں۔ سوچتے نہیں ہیں۔

حسد کی ایک صورت جو ہے یہ نظر لگنا بھی ہے۔ جس کی نظر لگتی ہے اس میں بھی زیادہ تر وجہ جو ہوتی ہے وہ حسد ہوتا ہے۔ اب حسد کس طرح ہوتا ہے وہ ذرا میں عرض کرتا ہوں پھر ان شاء اللہ بات سمجھ میں آ جائے گی۔ حسد اصل میں اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر ناراضی ہونے سے ہوتا ہے۔ یعنی اللہ پاک نے کسی کو امتحان کے طور پر زیادہ دیا ہے۔ اور کسی کو امتحان کے طور پہ کم دیا ہے۔ اب ہر ایک کا پرچہ ہے۔ جس کو زیادہ دیا ہے اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ اس پہ اترائے نہیں، اس پہ شکر کرے، اس کو خیر کے مواقع میں استعمال کرے۔ اس کا امتحان یہ ہے۔ جس کو کم دیا ہے اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ صبر کرے، کسی اور کی چیز پر نظر نہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ سے مانگے۔ دعا کرے گا تو اس کو دعا کا بھی اجر ملے گا۔ اور اگر اس کی دعا دنیا میں قبول ہو گئی تو دنیا کا کام بھی ہو جائے گا۔ نہیں ہوا تو کم از کم دعا کا اجر تو اس کا مل ہی جائے گا اس کو۔ اور یہ ہے کہ وہ صبر کا جو اجر ہے وہ بھی پائے گا۔

اب اللہ جل شانہ نے پرچے مختلف بنا دیے۔ کسی کا شکر کا بنا دیا، کسی کا صبر کا بنا دیا۔ اب کوئی آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا پرچہ تو نے کیوں اس طرح بنا دیا۔ اس کا موقع نہیں ہے۔ لہٰذا اپنی اپنی چیز کو دیکھنا چاہیے یہ اس طرح ہوتا ہے۔ ہمارے آج کل جو پرچے ہوتے ہیں دنیا میں امتحان گاہوں میں ہوتے ہیں۔ اس میں یہ ہوتا ہے کہ ہر student جو ہوتا ہے ان کو بعض دفعہ مختلف پرچہ دیا جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لائنوں کو مختلف پرچے دیے جاتے ہیں یعنی ایک لائن کو ایک پرچہ دیا، دوسری لائن کو دوسرا پرچہ دیا، تیسری لائن کو تیسرا پرچہ دیا۔ تاکہ وہ ایک دوسرے سے نقل نہ کریں۔ تو وہ پھر یہ ہے کہ وہ اپنے ہی پرچے کے اندر گم ہوتا ہے، وہ کسی اور کے بارے میں سوچتا بھی نہیں کہ کیا ہے۔ تو اسی طریقے سے جو صبر والا پرچہ ہے وہ صبر والے کریں اور جو شکر والا پرچہ ہے وہ شکر والے کریں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا کی جو حیثیت ہے وہ تو بہت تھوڑی ہے۔ اس دنیا میں آپ کتنا کمائیں گے؟ اور کتنا ساتھ لے جائیں گے؟ یہاں تو یہ حالت ہے کہ خالی ہاتھ آدمی آتا ہے اور خالی ہاتھ جاتا ہے۔ یہ درمیان کی ساری چیزیں دنیا کی جو ہیں وہ ساری کی ساری یہاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ اگر کوئی کروڑوں اربوں کا مالک ہے تو کروڑوں ارب پیچھے چھوڑ دے گا۔ اگر کوئی ہزاروں کا مالک ہے تو کچھ ہزار پیچھے چھوڑ دے گا۔ اگر کوئی کسی کے اوپر قرض ہے تو قرض پیچھے چھوڑ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں پر وہ والی بات نہیں ہے کہ انسان اپنے ساتھ، ہاں البتہ اس کو اگر مل گیا ہے خیر کے موقع پہ استعمال کر لیا ہے تو پھر یہ وہ ساتھ لے جا رہا ہے۔ اس وجہ سے کبھی بھی یہ نہیں کہنا چاہیے کہ مجھے کیوں نہیں ملا، ہاں اللہ پاک سے مانگ سکتا ہے۔ اللہ پاک سے مانگ سکتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں مانگنے کا دروازہ کھلا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مانگ سکتا ہے لیکن انسانوں سے نہ مانگے۔ انسانوں سے نہ زبان سے مانگے، نہ دل سے مانگے زبان سے مانگنے والی بات جو ہے وہ تو سوال ہے۔ اور دل سے مانگنے والے کو اشرافِ نفس کہتے ہیں وہ اشرافِ نفس ہے۔

ایک دفعہ ایک بزرگ تھے، ان کے گھر میں فاقہ تھا۔ یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ یہ دین داری پر منحصر نہیں ہے کہ جو دین دار ہوگا تو مال دار ہوگا یا دین دار ہوگا تو غریب ہوگا۔ غریب آپ کو دین داروں میں بھی مل جائیں گے، بے دینوں میں بھی مل جائیں گے، بلکہ کافروں میں بھی مل جائیں گے۔ کیا یہ امریکہ سارے کے سارے مال دار ہیں؟ وہاں ایسے بیچارے بھی ہیں جن کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ بڑے پریشان علاج کے لیے، دوسری چیزوں کے لیے۔ ہر جگہ پر یہ صورتحال ہے۔ تو کافروں میں بھی مالدار بھی ہوتے ہیں، غریب بھی ہوتے ہیں۔ گنہگاروں میں بھی مالدار بھی ہوتے ہیں، غریب بھی ہوتے ہیں، دینداروں میں بھی مالدار بھی ہوتے ہیں، غریب بھی ہوتے ہیں۔

خیر وہ بزرگ جو تھا وہ غریب تھا۔ تو ایسا ہوتا ہے کہ مطلب اگر کوئی غریب ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دوسروں سے مانگتا پھرے ان کو اس نے اپنا فاقہ چھپایا ہوا تھا۔ اور ان کے بڑے شاگرد تھے بڑے بڑے مالدار شاگرد تھے۔ لیکن اس نے اپنے کسی بھی شاگرد کے اوپر بھی ظاہر نہیں ہونے دیا کہ مجھے فاقہ ہے۔ خیر ان کا ایک شاگرد ان کی صورت کو دیکھ کر خاموشی کے ساتھ چلا گیا، اس استاذ کو پتہ چل گیا کہ شاید اس نے محسوس کر لیا ہے کہ میں فاقے سے ہوں تو یہ کچھ لا رہا ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ اپنے گھر سے بہت سارا material کھانے کا وہ لے آیا اور حضرت کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو بہت اجر دے، آپ نے محبت کی ہے لیکن میں اس سے معذور ہوں، میں کھا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا حضرت کیسے؟ میرا مال تو حلال ہے۔ آپ کیسے نہیں کھا سکتے؟ انہوں نے کہا بیٹا آپ کا مال حلال ہے، میرے لیے حلال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کیسے۔ انہوں نے کہا آپ کے یہاں سے روانہ ہونے کے وقت مجھے خیال ہوا تھا کہ آپ میرے لیے کچھ لا رہے ہیں تو یہ دل کا سوال ہے اشرافِ نفس ہے میرے لیے حرام ہے، میں اس کو نہیں کھا سکتا۔ یہ ہوتا ہے، ایسی حالت میں بھی اپنے آپ کو صبر کرنا یہ معمولی بات نہیں ہوتی، اللہ والے ہوتے ہیں۔

خیر وہ شاگرد بھی بڑا زبردست شاگرد تھا، ہوشیار تھا۔ اس نے کہا حضرت کیا میں آپ کو حرام کھلاؤں گا؟ اگر آپ کو نہیں جائز تو میں واپس لے جاتا ہوں۔ وہ سارا کچھ اٹھا کے باہر چلا گیا۔ ابھی دو منٹ بھی نہیں گزرے کہ پھر واپس ساری چیزیں لے آیا۔ اس نے کہا حضرت اب تو خیال نہیں تھا نا آپ کا؟ انہوں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا اب کہتا ہے اب میرے لیے جائز ہے۔ تو لے آیا، کہتا ہے دیکھو شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے۔ امتحان ہو گیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے، سبحان اللہ پاس ہو گئے امتحان میں بھی اور اللہ پاک نے وہ سارا کچھ کھلا بھی دیا۔

علاء الدین خلجی ایک بادشاہ گزرے ہیں۔ ان کے جو شیخ تھے شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، ہمارے بھی سلسلے میں ہیں، بہت بڑے بزرگ تھے حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ۔ ہمارے حضرت کے ساتھ دو طرح کا تعلق ہے۔ ایک تو اپنے سلسلے کا ہے، چشتی سلسلے کا تعلق ہے۔ اور ایک ہمارے پردادا جو تھے حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جو دادا تھے۔ مست بابا رحمۃ اللہ علیہ وہ حضرت کے خلیفہ بھی تھے اور داماد بھی تھے۔ تو اس لحاظ سے ہمارا تو ان کے ساتھ دونوں قسم کا تعلق ہے۔ تو حضرت وہ فاقے سے ہوتے تھے فاقہ سے۔ بادشاہ کا شیخ ہے، لیکن فاقہ سے ہے۔ بادشاہ کو بھی پتہ نہیں چلنے دیا کہ یہ فاقہ سے ہے۔ ایسی عجیب، ایسے باغیرت اور ایسے غیور لوگ کہ ایسی بڑی بات ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا تعلق نصیب فرما دے۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ اگر کسی کے پاس ہے تو شکر کرے۔ اور کسی کے پاس نہیں ہے تو صبر کرے۔ بجائے اس کے کہ دوسرے کی جیب پہ نظر رکھے، طمع رکھے اس سے، اللہ تعالیٰ سے طمع رکھے۔ اللہ تعالیٰ سے امید رکھے۔ جس کی دوسرے کی جیب پر طمع ہے، اس کو اللہ سے طمع نہیں ہے سمجھ میں آ گئی نا بات؟ جس کو دوسرے کی جیب سے طمع ہے، اس کو اللہ سے طمع نہیں ہے۔ جس کو اللہ سے طمع ہے، اس کو کسی اور سے طمع نہیں ہے۔ یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے۔ لہٰذا دوسرے سے بالکل طمع نہیں کرنی چاہیے، اور اللہ سے طمع کرنی چاہیے اللہ سے امید رکھنی چاہیے۔

اللہ پاک فرماتے ہیں أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں بھئی جب ہم، ہمیں اللہ نہیں دیتا تو کیا کریں؟ بھئی خدا کے بندے تم اپنی طمع غیر سے کاٹ تو دو نا۔ تمہاری طمع غیر کے ساتھ ہے۔ تو پھر کیا اب اللہ پاک سے طمع ہی نہیں ہے؟ تو اپنی طمع کی دنیا اللہ پاک کی طرف بناؤ کہ اللہ سے ملتا ہے کسی اور سے نہیں۔ اس وجہ سے اگر کوئی شخص اپنے آپ کے اندر یہ چیز دیکھے، تو اللہ کے سامنے گڑگڑائے، روئے، اللہ پاک سے مانگے۔ کہ یا اللہ، مجھے یہ غیرت دے دے، یہ توفیق دے دے، کہ میں کسی اور سے نہ مانگوں، نہ کسی اور سے لوں۔

میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ دین کے تعلق کو دنیا کے لیے استعمال کرنا یہ سب سے بڑی حماقت ہے۔ دین کے تعلق کو دنیا کے لیے استعمال کرنا کیا ہے؟ سب سے بڑی حماقت ہے کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اس پر اتنا کچھ ملنے والا تھا جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ آپ نے اس کو صرف چند دنیاوی چیزوں کے اوپر فروخت کر دیا ختم کر دیا۔ یہ کیا کر دیا تو نے؟ یہ تو نے کیا کر دیا؟ یہ ہم وہاں حرم شریف میں الحمد للہ اللہ تعالیٰ بار بار ادھر لے جائے۔ مسجد نبوی میں روضہ اقدس پہ، جس کو حال ہوتا تھا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غایت تعلق اور رو رہے ہوتے تھے اور مانگ رہے ہوتے تھے، اس وقت یہ یہ مانگنے والے نہیں ہوتے تھے، وہ ایسے ٹوہ میں ہوتے تھے اور جا کر اس وقت ان سے سوال کرتے تھے۔ اب دیکھو، وہ کس سے مانگ رہے ہیں اور یہ کس سے مانگ رہے ہیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ وہ مانگ رہے ہیں اللہ سے اور یہ مانگ کس سے رہے ہیں؟ اور کہاں مانگ رہے ہیں؟ مسجد میں سوال کرنے کی اجازت ہی نہیں۔ مسجد میں جو سوال کرتا ہے تو ایک دفعہ مسجد میں کسی نے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پاک آپ کو یہ نہ دے۔ مسجد میں؟ مسجد تو خدا کا گھر ہے، وہاں تو اللہ سے مانگو۔ اگر تو خدا کے گھر میں بھی کسی اور سے مانگ رہا ہے تو بے وقوف تجھے پتہ نہیں ہے آپ کی حالت کیا ہے؟ کدھر بیٹھے ہو؟ تو ایسے موقع پر بھی، وہ ایسے موقع کی تاڑ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا معاملہ اوپر سے تو بالکل ہی رابطہ منقطع ہے۔ تو یہ، یہ جو چیز ہے مطلب یہ ہے کہ دنیا کے لیے اپنے دین کے تعلق کو استعمال کرنا بڑا خطرناک ہے۔

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے۔ مثلاً مسجد میں کوئی آ رہا ہے، کوئی مالدار آدمی ہے۔ اب وہ دنیا دار لوگ ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ اب ہمیں ان سے کچھ حاصل ہو جائے۔ کوئی ڈاکٹر آنا شروع کر لے تو ان کے پاس اپنے مریض لے جاتے ہیں مفت علاج کے لیے۔ کوئی اور، بھئی خدا کے بندے شکر کرو کہ وہ آیا ہے مسجد میں۔ تم ایسی حرکت نہ کرو کہ تیری وجہ سے آنا ہی چھوڑ دے۔ مثلاً کوئی یہاں پر آیا ہوا ہے، اس کے پاس موٹر سائیکل ہے۔ اب میں اس سے موٹر سائیکل مانگتا ہوں کہ آپ ذرا مجھے موٹر سائیکل دیں میں فلاں جگہ تک جاؤں۔ وہ دے دے گا، انکار نہیں کر سکے گا لیکن تو نے بہت غلط حرکت کی۔ تو نے اس کے اللہ کا راستہ توڑنے کی کوشش کی ہے، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ اگر اسی وجہ سے آنے سے رک جائے، تو کس کی وجہ سے رک گیا؟ ہر ایک کی اپنی حالت ہوتی ہے یعنی اچھی حالت نہیں ہوتی۔ گھروں کی بڑی مشکل حالتیں بھی ہوتی ہیں، بڑی مشکل سے وہ گزارہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ کو تو کچھ نہیں کہہ سکے گا کیونکہ ظاہر ہے آپ ایسی جگہ پر ہیں۔ لیکن آپ نے اپنا نقصان کر دیا نا۔ اس وجہ سے اس چیز کو کاٹ دینا ہے۔ بھئی میں نے کسی سے سوال نہیں کرنا۔ اگر مجھے حالات میں اللہ پاک نے ڈال دیا ہے تو مجھے وہاں سے نکالنے والے بھی اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ کوئی اور نہیں نکال سکتا کوئی اور نہیں نکال سکتا۔ تو یہ جو چیز ہے یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ بنیادیں ہیں۔

باقی اصل بات جو شروع کی ہے وہ میں نے حسد سے شروع کی ہے۔ اور حسد کے بارے میں میں نے کہا نظر لگنا، آج کل جادو سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا حسد کی نظر سے نقصان ہو رہا ہے لوگ مر رہے ہیں۔ بالکل سچی بات بتاتا ہوں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نظر سے اونٹ ہنڈیا میں پہنچ جاتا ہے اور آدمی قبر میں پہنچ جاتا ہے نظر لگنے سے۔ اس میں اللہ پاک کی طرف سے حکمت ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے بھئی اس سے اپنے آپ کو بچا لوں تو کوشش ضرور کرے لیکن اس میں حکمت ہے۔ کہ حکمت کیا ہے بتاتا ہوں۔

حکمت کیا ہے؟ اگر نظر نہ لگتی تو مالدار لوگ غریب لوگوں کی زندگیاں اجیرن کر جاتے۔ اور مالدار لوگ اپنی ان نعمتوں کو سامنے کرتے تو ان کے دل جلتے، پریشان ہوتے غریب۔ اب کم از کم نظر لگنے کی وجہ سے تو چھپا کے رکھیں گے نا۔ تو کم از کم لیکن اب غریبوں کو بھی نہیں چاہیے کہ بھئی اگر وہ چھپا کے رکھتے ہیں تو تم خواہ مخواہ اس کو دیکھو۔ پھر تمہاری طرف سے گڑبڑ ہے۔ اگر وہ چھپا رہا ہے تو چھپانے دو نا بھئی ٹھیک ہے نا وہ صحیح کر رہا ہے نا۔ آپ کو تکلیف سے بچا رہا ہے۔ اب خواہ مخواہ تو ہی اس کے پیچھے چلے جاؤ، دیکھو کہ یہ کیا چیز ہے۔ وَلَا تَجَسَّسُوا قرآن کے ایک حکم کی مخالفت۔ کہ کسی کی ٹوہ میں نہ لگو۔ یہ ایک حکم مطلب حکم کی خلاف ورزی ہو گئی۔ دوسرا وَلَا تَحَاسَدُوا کہ حسد نہ کرو۔ وہ اس دوسرے اس کے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی۔ یعنی کتنے حکموں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے؟ تو اس کا یہ ہے کہ اس میں یہ حکمت ہے کہ جو نعمتوں والے ہیں ان کا وہ شکر کا پرچہ ہے۔ لیکن اب ایسی صورت میں وہ اگر آپ کو تکلیف سے بچا رہے ہیں اور آپ سے چھپا رہے ہیں تو پھر اس کو چھپانے دو۔ اس کا حق ہے اس کو چھپانے دو۔ اور اس کے پیچھے نہ رہو، اس کو اس کی ٹوہ میں نہ رہو۔ کیونکہ اگر وہ آپ کو نہیں دے رہا تو اس کو یہ نقصان ہو رہا ہے کہ اس کو نظر لگے گی اور آپ کو یہ نقصان ہو گا کہ آپ کا دل جلے گا۔ آپ کو پریشانی ہو گی۔ دونوں طرفہ نقصان ہے، یہ دودھاری تلوار ہے، ادھر بھی وار کرتی ہے، ادھر بھی وار کرتی ہے۔ تو کتنے نقصان کی بات ہے۔

تو یہ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ جو ہے یہ دیکھو باقاعدہ ایک سورت اتری ہے اس کے لیے۔

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ۔

یعنی اے اللہ میں تیرے پاس حسد کرنے والے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جب وہ مجھے میرے ساتھ حسد کر رہا ہو۔ باقاعدہ یعنی مطلب یہ بتایا گیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اچھی بات نہیں ہے اچھی بات نہیں ہے۔ انسان اپنے آپ کو اپنے دل کو اس سے ہٹا دے۔ اور اگر نہ ہٹے تو اللہ پاک سے مانگے دعا کرے۔ اور پھر بھی نہ ہٹے تو پھر مطلب زیادہ اللہ کی حکمت ہوتی ہے تو پھر یہ ہے کہ ایسی جگہوں سے دور رہے جہاں پر لوگوں کی نعمتیں ظاہر ہوتی ہوں۔ اپنی دنیا کو الگ بنا لے اللہ پاک کے ساتھ بس اپنی لو لگائے تعلق بنائے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اپنے اخراجات کے اندر خود کمی کرے۔

مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنے اخراجات میں کمی نہیں کرتے۔ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے ان کا اور پھر وہ کیا کرتے ہیں پھر لوگوں سے مانگتے رہتے ہیں۔ کہ جی میرے اوپر قرض ہے تو یہ مانگتے رہتے ہیں پھر۔ تو یہ ہے کہ مطلب بھئی سارے لوگوں کے پاس تو ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اپنے سے نیچے والے لوگوں کو دیکھو کہ ان کے پاس کیا ہے۔ ایسے لوگ جن کے پاس ایک وقت کا کھانا ہوتا ہے دوسرے وقت کا ان کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ملے گا یا نہیں ملے گا۔ تو آپ ان کے اوپر نظر کر لیں کہ آخر وہ کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔ بجائے اس کے آپ اوپر والوں کے اوپر نظر کرتے ہوں کہ بھئی وہ تو کیسے عیش میں ہے عیش کی بات بھی نہیں ہے، بھئی جس کے پاس بہت کچھ ہے وہ ضروری نہیں کہ عیش میں ہو۔ پتہ نہیں اس کو کتنی تکلیفیں ہیں اس وقت۔ گھروں میں کتنی لڑائیاں ہیں مصیبتیں ہیں۔ اور اس میں اپنے گناہوں کی وجہ بھی ہوتی ہے اور یہ حسد کی وجہ سے بھی ہوتا ہے نظر لگنے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔

میرے ایک ساتھی ہیں، رشتہ دار ہیں، اس نے کہا کہ مجھے میری نظر گاڑیوں پر بہت زبردست لگتی ہے۔ کہتے ہیں میں گھر سے نکل رہا تھا نماز کے لیے تو ہمارے گھر کے سامنے ایک شخص اپنی گاڑی کے ساتھ کھڑا تھا، کہتے ہیں بڑی زبردست گاڑی تھی۔ کہتے ہیں میں نے اس کو دیکھ لیا اور آگے چلے گئے نماز جب نماز سے واپس آ رہا تھا تو اس کی گاڑی کا ٹائی راڈ کھڑے کھڑے ٹوٹ گیا تھا۔ کھڑے کھڑے اب کھڑے کھڑے کسی کا ٹائی راڈ ٹوٹتا ہے؟ کبھی ہو سکتا ہے؟ یہ ایسی ظالم چیز ہے۔ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں کاڼی چوی۔ یہ پتھروں کو توڑتے ہیں، مطلب ایسے بعض نظریں ایسی ہوتی ہیں جو پتھروں کو توڑتی ہیں۔ لیکن ان کا نقصان ہو جاتا ہے لیکن جواب میں پھر ان کا بھی ہوتا ہے۔ یہ دیکھو نا یہ آپ گیند کو پھینکیں نا دیوار کے اوپر، تو دیوار کو دھکا سا لگتا ہے لیکن پھر واپس گیند کدھر جاتا ہے؟ گیند پھر واپس آتا ہے۔ تو اگر ادھر نقصان کرتے ہیں تو بالکل واپس آکر ادھر دوسری قسم کا نقصان کرتا ہے۔ تو اس وجہ سے اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچانا چاہیے بہت خطرناک گیم ہے۔

اس وقت پوری دنیا کے اندر حرص بہت زیادہ ہے حرص۔ حرص مختلف قسم کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پیسے کا تو خیر الگ حرص ہے نا وہ تو خیر سب میں ہے لیکن بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کسی میں علم کا حرص ہوتا ہے تو اس کی نظر عالم پہ لگتی ہے۔ اگر کسی میں دین کا حرص ہے تو اس کی نظر دین داروں پہ لگتی ہے۔ یعنی یہ مثال کے طور پر ایک آدمی اچھی نماز پڑھ رہا ہے آپ نے اس کو دیکھ لیا سبحان اللہ چلو جی اگلے دن وہ نماز ہی نہیں پڑھ سکتا۔ کیا ہو گیا؟ یعنی ایسا ہوتا ہے۔ وہ نماز سے ہی بیچارہ گیا۔ کوئی بات کیا ہے مطلب کسی نے اچھی تقریر کی اور بس وہ کام خراب ہو گیا اس کا۔

اس کے لیے چاہیے کہ انسان ہر وقت اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ اور جس کو کہتے ہیں نا مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وہ دل سے کہہ سکے۔ دل سے، دل سے مطلب یہ ہے کہ اس کو اللہ کی طرف لوٹائے۔ یا اللہ تیری شان ہے کہ دیکھو اس کو یہ چیز ملی ہے۔ بس نظر اللہ پہ چلی گئی وہ بچ گیا۔ اور آپ کا اللہ تعالیٰ نے اس کا اجر لکھ دیا۔ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ صحابی کی صحابی پہ نظر لگی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس کے بعد اصول بھی بتا دیا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ چیزیں ہیں۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ نظر رکھنی چاہیے کہ ہماری نظر اللہ پہ ہو مخلوق پہ نہ ہو۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اس کی ہم لوگ مشق کریں۔ اور اپنے دل سے مخلوق کی محبت کو نکالیں۔ یہ بہت ضروری ہے۔

خیر ابھی میں آپ کے سامنے جو میں نے تلاوتیں کی ہیں تلاوت کی ہے اور جو احادیث شریف پڑھی ہیں میں اس کا ترجمہ بتاتا ہوں۔

حق تعالیٰ شَانُہٗ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر یہ (مظلوم مسلمان مکہ سے کہیں) ٹَل گئے ہوتے، تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے، جب کہ ان کافروں نے اپنے دِلوں میں عَار کو جگہ دی اور عار بھی جاہلیت کی۔

یعنی اس موقع پر جو بے جا ضد کفار نے کی تھی وہ محض حسد اور کینے کی وجہ سے تھی۔

نیز ارشاد فرمایا ہے کہ کسی خاص قوم کی عداوت تم کو اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔

نیز ارشاد فرمایا ہے الله تعالیٰ نے کہ (اے پیغمبر! آپ کہیے کہ) میں حسد کرنے والے کے شَر سے پناہ مانگتا ہوں جب وہ حسد کرنے لگے۔

یہ واقعتاً جو یہود ہیں، پوری قوم کی قوم تباہ ہو گئے اسی حسد کی وجہ سے۔ پوری قوم کی قوم اندازہ کریں، اتنی powerful چیز ہے یہ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو ایک یہودی مکہ مکرمہ میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ اور لوگوں سے پوچھتا تھا کہ آج کوئی بچہ تو پیدا نہیں ہوا؟ آج کوئی بچہ تو پیدا نہیں ہوا؟ لوگ ان کو بتاتے تھے، وہ جا کر اس بچے کو دیکھتے تھے، نہیں نہیں یہ نہیں یہ نہیں۔ خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو یتیم تھے۔ اور یتیموں کی اس معاشرے میں کوئی value نہیں تھی۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا اکثر لوگوں کو پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ قریبی رشتہ داروں کو تو تھا لیکن باقی لوگوں کو نہیں تھا۔ تو کسی نے کہا کہ ہاشمیوں میں بھی ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ تو اس نے کہا مجھے ادھر بھی لے جاؤ۔ اب وہاں گئے تو بچے کو یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دیکھا تو دیکھتے ہی اس کو غشی آ گئی مطلب بے ہوش ہو گیا۔ اور جس وقت ہوش میں آئے تو پہلا لفظ جو اس کی زبان سے نکلا، افسوس نبوت بنی اسرائیل سے چلی گئی بنی اسماعیل میں۔ اب دیکھیں یہاں پر کیا کہہ دیا بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں چلی گئی۔ تو اب ان کو اس کا افسوس ہو گیا اور دیکھو اب حسد ہو گیا نا۔ اس حسد کا فوراً جو اثر ہوا وہ کیا ہوا؟ کہ اس وقت کے قریش جو موجود تھے انہوں نے کہا آپ کو پتہ ہے کہ بچہ آپ کے ساتھ کیا کرے گا؟ انہوں نے کہا کیا کرے گا؟ انہوں نے کہا تو تمہیں اپنے شہر سے نکلوا دے گا۔ اب دیکھو دشمنی اسی وقت شروع ہو گئی اسی وقت دشمنی شروع ہو گئی۔ یہ ہے حسد۔

تو اب یہ جو قوم تھی یہ مطلب اس وجہ سے تباہ ہو گئی کہ انہوں نے کہا کہ یہ ہم میں کیوں نہیں آیا۔ یہ آخری نبی جس کی یہ شان ہے وہ ہم میں کیوں نہیں آیا۔ بس حسد کے مارے مخالف ہو گئے۔ تو یہ یہ جو چیز ہے نا حسد، یہ ایسا ظالم ہے کہ اب دیکھو یہودیوں کو پتہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ یعنی باقاعدہ وہ ان کو پتہ ہے کہ کیسے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔ لیکن نہیں، نہیں، نہیں، نہیں۔ مخالفت پہ کمر باندھی ہوئی ہے۔ بالکل شیطان کی طرح کیونکہ شیطان جو ہے وہ جانتا ہے کہ کون سی چیز کیا ہے لیکن وہ مانتا نہیں۔ تو پوری قوم کی قوم، شیطان بذات خود حسد کی وجہ سے اس حال کو پہنچ گیا۔ اس کی بھی یہی وجہ تھی کہ آدم علیہ السلام کے ساتھ حسد کیا۔ تو حسد اس قسم کی خطرناک چیز ہے۔

اور رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے ارشاد فرمایا جس نے آپ سے عرض کیا تھا کہ مجھے کچھ وصیّت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا کہ غصّہ مت ہوا کر، اس شخص نے اس (سوال) کو کئی مرتبہ دہرایا، آپ نے ہر مرتبہ یہی فرمایا کہ غصّہ مت ہوا کر۔ (بخاری)

یہ اصل میں ان کا کوئی خصوصی مسئلہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار ان کو یہی بتا دیا۔ بعض لوگوں میں بعض چیزیں ذرا خصوصی ہوتی ہیں۔ مثلاً جس کی نظر لگتی ہے تو اس کو تو یہی باتیں زیادہ کی جائیں گی نا۔ کیونکہ ان کے لیے special وہی چیز ہے۔ جس کا غصہ مرض ہو تو ان کو تو غصے کا ہی بار بار کہا جائے گا۔ جن کا مطلب یعنی کوئی اور مرض ہو، مثلاً کسی کو فضول خرچی کا مرض ہو تو اس کو پھر اسی کا بار بار بتایا جائے گا۔ کسی کو بدنظری کا مرض ہو تو اس کو اس چیز کا بار بار بتایا جائے گا۔ یعنی گویا کہ جس کا جو خصوصی مسئلہ ہے تو مشائخ کا کام یہ ہوتا ہے کہ ان کو بار بار اس پہ ٹوکتے رہیں۔ بعض لوگ تنگ بھی ہو جاتے ہیں کہ بھئی ہمیں بار بار کیوں کہتے ہیں۔ بھئی خدا کے بندے یہ تو حدیث شریف سے ثابت ہے۔ دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرما دیا غصہ مت ہوا کر۔ ثابت ہوا نا کہ مطلب کہ یعنی جس میں کوئی خاص بات ہو تو اس کو بار بار اس کو بتا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری ہے آپ کو اس چیز سے نکلوانا۔ تو وہ بار بار آپ کو کہے گا۔ کون آپ کو کہے گا؟ اگر وہ بھی نہ کہے تو پھر کون کہے گا۔

اور آنحضرت ﷺ نے ایک شخص سے ارشاد فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کو غصّہ آوے اور وہ کھڑا ہوا ہو تو اس کو چاہیے کہ بیٹھ جاوے، پس اگر اس کا غصّہ چَلا جاوے (تو خیر) ورنہ لیٹ جاوے۔ (ابوداؤد)

کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ حالت بدل لے۔ تاکہ آپ کا ذہن تبدیل ہو جائے۔ غصے کے بارے میں کہتے ہیں کچھ پندرہ سولہ منٹ ہی ہوتا ہے غصہ۔ زیادہ یعنی peak جو اس کا ہوتا ہے، پندرہ سولہ منٹ ہی ہوتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین یہ کہتے ہیں ظاہر ہے اس کے ہم specialist تو نہیں ہیں لیکن وہ لوگ کہتے ہیں۔ کہ تقریباً پندرہ سولہ منٹ کا اس کا peak ہوتا ہے۔ اگر اس وقت آپ اس سے بچ گئے تو انتہائی قدم سے بچ جائیں گے آپ۔ اس میں اگر کچھ ہو گیا تو بس اس کا پھر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً اس وقت اگر آپ کے پاس pistol ہے تو آپ مار بھی سکتے ہیں۔ اگر کوئی اور چیز ہے تو مطلب اس سے یہ بھی ہو سکتا ہے، مطلب گالی بھی دے سکتے ہیں کچھ اور بھی کر سکتے ہیں۔ تو اس پندرہ سولہ منٹ سے ذرا تھوڑا سا اپنے آپ کو بچاؤ۔ پانی پی لو، بیٹھ جاؤ، لیٹ جاؤ، باہر نکل جاؤ۔ کوئی آپ کے سامنے عمر میں بڑا ہے تو اس سے خود آپ ہٹ جاؤ، اگر چھوٹا ہے تو اس کو اپنے سے ہٹاؤ۔ لیکن کچھ کر لو تاکہ آپ کا رخ بدل جائے۔ ذہن کا رخ بدل جائے تاکہ آپ انتہائی قدم اٹھانے سے محفوظ ہو جائیں۔

اور ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور نہ بُغض رکھو۔ (بخاری)

بغض ایسا ہوتا ہے۔ کہ آپ کو کسی پہ غصہ ہے اگر آپ نے اس پہ غصہ نکال دیا تو ختم ہوا۔ لیکن اگر غصہ آپ نہ نکال سکے کسی وجہ سے تو دل میں رکھ لیا کہ جب موقع ملے گا تو دیکھیں گے۔ تو یہ بغض ہے۔

تو یہودیوں میں بغض ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ابھی تک کر رہے ہیں نہیں کر رہے؟ کس طریقے سے یہ ساری چیزیں پالی ہوئی ہیں۔ یہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کوئی آیا تھا پارسی تھا تو آیا تھا کہ مطلب جو میرا مالک ہے وہ مجھ سے اتنا زیادہ مانگتا ہے، یعنی غلام تھا نا۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ اتنا تو زیادہ نہیں ہے وہ تو صحیح مانگ رہا ہے مطلب یعنی کہ وہ ظلم نہیں ہے۔ تو بس اس نے دل میں پال رکھی کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ۔ تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو، وہ پاٹ بناتا تھا، وہ نہیں ہوتے چکی کے پاٹ۔ تو اس نے کہا کہ میرے لیے چکی کا۔ اس نے کہا میں تو آپ کے لیے ایسی چکی کا پاٹ بناؤں گا کہ دنیا یاد رکھے گی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ تو بہت ہی زیادہ ہوشیار تھے۔ تو اپنے ساتھی سے کہا اس نے مجھے دھمکی دی ہے۔ اس نے مجھے دھمکی دی ہے اور اسی نے ہی عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر لیا تھا پھر۔ فیروز جو تھا۔ آج کل اس کا ایران میں مقبرہ بنایا ہوا ہے اور اس کے اس پہ حاضری ہو کے قطار لگے ہوتے ہیں۔ ابو لؤلؤ فیروز

تو یہ یہ جو چیز ہے۔

اور ارشاد فرمایا ہے: تم سے پہلی اُمتوں کی بیماریاں تم میں آہستہ آہستہ پہنچ جاویں گی، (یعنی) حسد، بُغض اور وہ مُونڈ دینے والی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بال مُونڈ دیتی ہے، لیکن دین کو مُونڈ دیتی ہے (یعنی برباد کر دیتی ہے)۔ (ترمذی)

اب دیکھیے حسد کتنی خطرناک چیز ہے اور بغض۔ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ یعنی انسان کی ساری محنت برباد ہو جاتی ہے۔

اور ارشاد فرمایا ہے کہ بَچو تم حسد سے، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا لیتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (ابوداؤد)

نیز ارشاد فرمایا ہے آنحضرت ﷺ نے کہ جمعرات اور پیر کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ پس ہر اس شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے سوائے اس شخص کے کہ جس کو اپنے (مسلمان) بھائی سے بُغض ہو، پس کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کو مہلت دو، یہاں تک کہ آپس میں صُلح کر لیں۔ (مسلم)

مطلب یہ ہے کہ یہ بلاوجہ جو ہم لوگ کرتے ہیں نا کوئی دنیاوی بات ہوتی ہے اور اس پر آپس میں ایسا تعلق خراب کر لیتے ہیں کہ پھر سلام بھی نہیں لیتے اس سے۔ ملنا جلنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ تو یہ کیا ہے؟ یہ بہت خطرناک بات ہے۔ اب اس حد تک خطرناک ہے کہ جمعرات اور پیر کے دن ہر شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے لیکن ان کی نہیں۔

اور ارشاد فرمایا الله تعالیٰ نے کہ تیار کی گئی ہے جنت ان متقیوں کے لئے جو خرچ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں فراغت میں (بھی) اور تنگی میں (بھی) اور غصّہ کو ضبط کرنے والے اور لوگوں (کی تقصیرات) سے درگزر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے نیکو کاروں کو محبوب رکھتا ہے۔

یہ بہت پیاری آیت ہے۔ جس کے ساتھ ایک واقعہ ہے۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ کا کہ حسن رضی اللہ تعالی عنہ ایک دفعہ، حضرت رضی اللہ تعالی عنہ بڑے جلالی تھے۔ تو ایک دفعہ ایک باندی ان کے ہاتھ دھلا رہی تھی۔ تو پانی ان کے آستینوں پہ پڑ گیا۔ تو حضرت کو غصہ آ گیا۔ تو باندی جی وہ کافی ہوشیار تھی۔ تو اس نے فوراً آیت پڑھ لی وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ۔ یعنی جو غصہ کو ضبط کرتے ہیں، پی جاتے ہیں۔ تو حضرت نے اپنے غصے کو روک دیا۔ حکم پہ عمل ہوا۔ پھر اس باندی نے کہا وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ۔ جو لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔ فرمایا میں نے تجھے معاف کر دیا۔ پھر اس نے آگے کہا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ اور اللہ پاک نیک کاروں کو پسند کرتا ہے۔ فرمایا اچھا میں نے تجھے چھوڑ دیا مطلب یعنی وہ آزاد کر دیا۔ اب دیکھو سزا کی بجائے اس کو جزا مل گئی۔ اس قرآن کی برکت سے۔ تو جس نے قرآن پاک کی اتنی قدر کی تو ان کی پھر اللہ پاک کیسے قدر کرتے ہوں گے؟ کتنا اللہ تعالی نے ان کو نوازا تھا۔ تو اس وجہ سے ہمیں ان حضرات کے پیچھے چلنا چاہیے۔ اللہ اکبر۔

آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ لوگوں کو پچھاڑنے والا درحقیقت پہلوان نہیں، پہلوان وہی شخص ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ (متفق علیہ)

ویسے میں آپ سے ایک بات عرض کروں، نفس کے اوپر من حیث المجموع قابو رکھنے کا حکم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لئے کام کر لیا۔ تو یہ مجموعی طور پر بات ہے۔ اور بیوقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کرنے دیا جو کرنا چاہتا تھا۔ اور پھر بعد میں ویسے ہی بس اپنے آپ کو خوش فہمی میں مبتلا رکھتا ہے کہ بس یہ ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا۔ تو یہ یہ یہاں پر یہ والی بات ہے کہ یہ تو یہ تو عام بات ہے۔ کہ نفس کو قابو میں رکھنا۔ لیکن غصہ کے وقت چونکہ نفس بپھر جاتا ہے۔ یوں کہہ سکتے ہیں ساری کی ساری طاقت اس میں سمٹ آتی ہے اس چیز میں۔ اس وقت اس کو برداشت کرنا آسان نہیں ہوتا، مشکل ہوتا ہے۔ لہذا یوں کہہ سکتے ہیں اس کو کشتی کے ساتھ تعبیر دیا، یعنی گویا کہ یوں سمجھ لیجئے کہ اس وقت آپ کو نفس سے کشتی کرنی پڑتی ہے۔ یہ ہوتا ہے نا کہ ایک آدمی غصہ ہو جائے نا بہت زیادہ، تو وہ کسی کو مارنا چاہتا ہے، تو دوسرے لوگ اس کو بچانا چاہتے ہیں، تو اس کو پکڑتے ہیں۔ پکڑتے ہیں تو مطلب ہے کہ اس میں بڑا زور آ چکا ہوتا ہے اس وقت۔ تو وہ ہے کہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، کوئی اس کے پیر پکڑتا ہے، کوئی اس کا بال پکڑتا ہے، کوئی کس طریقے سے مطلب قابو کرنا چاہتا ہے۔ تو ظاہر ہے مطلب کیونکہ اس وقت وہ بپھرا ہوا ہوتا ہے، وہ اپنے آپ میں نہیں ہوتا۔ تو ایسے ہی انسان خود اپنے آپ کو قابو کرے نا تو یہ کتنا مشکل ہو گا؟ جبکہ بپھر چکا ہو نفس اس کا غصے کی وجہ سے۔ چہرہ سرخ اور بس وہ مرنے مارنے کے لئے تیار اور یہ سارا کچھ۔

غصہ نام ہر وقت ممنوع نہیں ہے۔ غصہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ لیکن وہاں جہاں اللہ پاک کا حکم ہے۔ جیسے جہاد کے موقع پر۔ علی رضی اللہ تعالی عنہ باہر تشریف لائے مرحب کے مقابلے میں، عبد ود، اس کے مقابلے میں۔ تو عبد ود نے جب کہا کہ یہ لڑکا ہے، مطلب یہ ایک نوجوان ہے، تو اس نے کہا بیٹا تم واپس چلے جاؤ، مجھے اپنے برابر کسی آدمی سے مقابلہ کرنے دو جو میرا برابر ہو۔ تو علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا لیکن میں تو تجھے مارنا چاہتا ہوں۔ لیکن میں تو تجھے مارنا چاہتا ہوں۔ تو اس پر ان کو بڑا غصہ آ گیا۔ تو اس نے غصے میں تلوار کا وار کر لیا جو کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے آپ کو بچا لیا۔ مطلب ظاہر ہے وہ... یہ بھی ایک technique ہوتی ہے کہ آپ اپنے دشمن کو غصہ دلائیں نا تو غصے میں پھر انسان صحیح فیصلہ نہیں کر سکتا۔ تو وہ یہ ہے کہ بڑا غصہ ہو گیا تو اس نے تلوار چلائی لیکن وہ جگہ پہ نہیں گئی۔ تو علی رضی اللہ تعالی عنہ نے بس پھر موقع دیکھا۔ تو علی رضی اللہ تعالی عنہ نے چھلانگ لگائی۔ وہ چھلانگ لگا کر اس کے کندھے کے اوپر وہ تلوار رکھ دی نا تو وہ تلوار بالکل نیچے آ گئی، کاٹ دیا اس کو۔ اس وقت یہ صورتحال تھی کہ گرد اڑی بہت زیادہ۔ تو کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہوا۔ مسلمان اور کافروں کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ عبد ود نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کو شہید کیا یا علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو مار دیا۔ گرد میں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ تو اندر سے پھر آواز آئی اللهُ أَكْبَرُ تو پتہ چل گیا کہ علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کام کر دیا۔ وہ مارا گیا۔ تو یہ جو بات ہے کہ غصہ جہاد میں کرنا ہوتا ہے۔ بلکہ کافروں پہ غصہ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ۔ کفار کے اوپر سخت اور مسلمانوں کے اوپر آپس میں رحمدل۔ یہ تو ہے۔ تو غصہ ہر جگہ منع نہیں ہے۔ لیکن بے موقع غصہ کرنا، جہاں منع کرنے کا حکم ہے، منع ہونے کا حکم ہے، وہاں پر غصہ کرنا، وہ ٹھیک نہیں ہے۔

بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان پھر بعد میں خود پشیمان ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص، مسلمان نہیں تھا وہ۔ اس کے بچے نے اس کے بونٹ کے اوپر کچھ لکھا۔ چھری وغیرہ سے، وہ لکھا نا۔ تو وہ جب آ گیا تو بڑا غصہ ہو گیا، تو اس نے اس کا ہاتھ اٹھا کے نا، چھوٹا بچہ تھا، اس کو سختی کے ساتھ بونٹ کے اوپر مارا۔ غصے میں، تو اس کی، اس کی ساری انگلیاں شل ہو گئیں۔ تو اس کو ہسپتال میں داخل کیا۔ تو ڈاکٹروں سے پوچھا کہ کیا، انہوں نے کہا کہ یار یہ تو انگلیاں ان کی ٹھیک نہیں ہو سکتیں یہ تو شل ہو گئی ہیں۔ یعنی ان کے اعصاب کٹ گئے ہیں۔ تو اس کو بھی تکلیف ہوئی ہے، تو اس نے اب بچے نے اپنے والد سے پوچھا کہ میں کیا ٹھیک ہو سکتا ہوں؟ تو یہ بات اس کو برداشت نہیں ہوئی۔ اور ساری رات اس نے بے چینی میں گزاری اور صبح اس نے خودکشی کر لی۔ لیکن خودکشی سے پہلے جب گیا تو اس نے اب کار کو جب دیکھا نا کہ اس کے اوپر کیا لکھا تھا، اس پہ لکھا تھا "I love you dad" کہ میں ابو تجھے چاہتا ہوں، تجھے پسند کرتا ہوں۔ اس نے لکھا اس پہ یہ تھا۔ تو ظاہر ہے اس کو تو اور بھی زیادہ تکلیف ہو گئی اس کو۔ تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو، اب دیکھو اس غصہ میں اس نے سوچا نہیں۔ بعد میں سوچنے سے کیا ہوتا ہے؟ بعض لوگ بچوں کو اتنا سخت زور سے مار لیتے ہیں کہ ان کا کان پھٹ جاتا ہے۔ دانتوں پہ خون آ جاتا ہے۔ کچھ اور بات، سر زخمی ہو جاتا ہے۔ پھر خود ہی ہسپتالوں کے دھکے کھاتے ہیں۔ لیکن کیوں، بھئی، تھوڑا سا غور کرو، ٹھیک ہے، سزا دو، لیکن اتنا جتنا کہ ہے۔ اور اس انداز میں دو کہ اس کو دائمی نقصان نہ ہو، صرف وقتی طور پہ زجر و توبیخ ہو۔ تاکہ اس کو، یعنی وہ ڈر جائے اور وہ کام نہ کرے جو کہ جس سے تو بچانا چاہتا ہے۔ لیکن یہ تو نہیں کہ اس کو، یہ تو تو غلط کام کر رہا ہے جو کہ مطلب، اس سے زیادہ غلط کام کر رہا ہے، بچہ تو بچہ ہے تو تو بچہ نہیں۔ تو یہ جو چیز ہے کہ غصہ کے وقت انسان کی عقل، کہتے ہیں غصہ سے کسی نے پوچھا تو کدھر ہوتا ہے؟ ویسے سمجھانے کے لیے قصہ ہے۔ تو اس نے کہا کہ میں سر میں ہوتا ہوں۔ اس نے کہا سر میں تو عقل ہوتی ہے۔ اس نے کہا جب میں آ جاتا ہوں تو عقل میرے لیے جگہ چھوڑ دیتی ہے۔ یعنی پھر عقل نہیں رہتی۔ تو بات بالکل صحیح ہے کہ جس وقت غصہ آ جاتا ہے اس وقت عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ اگر عقل کام کرے تو پھر غصہ کیا ہوا ہے؟ اگر آ بھی جائے تو کنٹرول رہے۔ یعنی غصہ اتنا کرنا چاہیے جتنی کی ضرورت ہے۔ جتنی کی ضرورت ہے۔

اب دیکھیں اگر آپ کسی بھی پاور کو کنٹرول کرتے ہیں تو وہ انرجی کی صورت بن جاتی ہے، وہ ایک stored انرجی ہوتی ہے اس کو آپ کام میں لا سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اس کو کنٹرول نہ کریں تو دھماکہ اور تباہی۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ اصل طاقت control میں ہے۔ قابو کرنے میں ہے۔ اسی طرح نفس کو قابو کرنے میں یہ والی بات ہے۔ کہ آپ نفس کو قابو کر لیں تو آپ کی روحانیت خود بخود بہت اوپر چلی جائے گی۔ لیکن اگر آپ نے نفس کو قابو نہیں کیا تو پھر نفس آپ کو کھینچے گا نیچے۔ اور پھر اسفل سافلین میں چلے جائیں گے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

اور آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بندے نے کوئی گھونٹ اللہ کے نزدیک، اس غصہ کے گھونٹ سے افضل نہیں پِیا، کہ جس کو الله کی رضامندی کے لئے پِی جاوے۔ (احمد)

یہ ایک دفعہ مجھے خود مشاہدہ ہوا تھا ہمارے پشاور میں medical college کے دو طالب علم تھے۔ ایک تو ان میں بہت بڑا ڈاکٹر بنا بعد میں اور دوسرا بھی ڈاکٹر specialist تھے دونوں۔ ہمارے یعنی ہم عمر تھے یعنی گویا class fellow تو نہیں تھے کیونکہ وہ medical college میں تھے ہم engineering میں تھے۔ لیکن بہرحال ایک ہی level پہ تھے ہم۔ تو ان میں سے ایک طالب علم نے اس دوسرے طالب علم کو منہ پہ مارا ہمارے سامنے۔ تو دوسرا بھی جوابی کارروائی کر سکتا تھا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ اس نے اپنے غصے کو پی لیا۔ اور پینے کا باقاعدہ ہمیں مشاہدہ ہوا۔ وہ کیسے مشاہدہ ہوا یہ جب انسان پانی پیتا ہے نا تو یہ نہیں ہوتا نرخرہ جو ہوتا ہے مطلب یہ باقاعدہ جس طرح ہلتا ہے نا پانی پیتے ہوئے وہ بالکل وہ اس کی یہ جگہ اسی طرح ہلی۔ تو ہمیں نظر آیا کہ اس نے غصہ کو پی لیا۔ مطلب یہ ہے کہ غصے کو control کر لیا۔ میں ابھی تک اس کو یاد رکھتا ہوں کہ واہ کمال کیا اس نے کہ غصے کو پی لیا۔

اور آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ بندے نے کوئی گھونٹ اللہ کے نزدیک، اس غصہ کے گھونٹ سے افضل نہیں پِیا، کہ جس کو الله کی رضامندی کے لئے پِی جاوے۔ (احمد)

نیز ارشاد فرمایا ہے کہ بیشک غصّہ ایمان کو اِس قدر بگاڑ دیتا ہے جس طرح اِیلوَا شہد کو۔(بیہقی)

تو یہ شہد میں ڈال دی جائے تو شہد خراب ہو جاتا ہے۔ تو یہ یہ ہے کہ غصہ ایمان کو اس قدر بگاڑ دیتا ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو وہ کام بالکل نہیں کرنے چاہیے جس سے ہمارے ایمان کو نقصان ہوتا ہو۔ جس سے ہمارے اعمال کو نقصان ہوتا ہو۔ جس سے ہماری آخرت کو نقصان ہوتا ہو۔ اور جس سے ہماری جائز دنیا کو نقصان ہوتا ہو۔

دیکھو عزت نفس جو ہے یہ جائز دنیا ہے۔ جائز دنیا ہے۔ اس کی حفاظت کا باقاعدہ بتایا جاتا ہے۔ تو اس کو تو بھی نہیں ضائع کرنا چاہیے نا۔ اگر اللہ پاک نے آپ کو ایک معزز مقام دیا ہے تو اس کو کیوں خراب کرتے ہو؟ اپنی نیچ حرکتوں سے اس کو کیوں خراب کرتے ہو؟ تو اس وجہ سے اپنی جو جائز دنیا ہے اس کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔ مطلب اللہ پاک نے آپ کو کچھ مال دیا ہے۔ اللہ پاک نے اگر آپ کو کچھ مال دیا ہے تو مال اگر آپ کو حلال ملا ہے، آپ اس کو ضائع نہ کریں۔ آپ اس کو صحیح استعمال کر لیں۔ اللہ کے راستے میں دے دیں۔ کسی آدمی کو ان کے ساتھ خیر خواہی کے طور پر ان کو دے دیں یا اپنے طور پر اچھے کاموں میں خرچ کر لیں۔ لیکن ضائع نہ ہونے دیں۔ یہ بعض لوگ ہوتے ہیں نا مالدار ہوتے ہیں تو پرواہ نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں جی بس ٹھیک ہے جی ہمارے پاس، مثال کے طور پر ایک دفعہ ہم جا رہے تھے۔ تو مفتی ظہیر صاحب بھی ہمارے ساتھ تھے۔ تو ہم سے آگے جو گاڑی والے تھے نا تو وہ دوڑا رہے تھے motorway پر تیز speed۔ تو مفتی ظہیر صاحب نے اس کو فون پہ بات کی کہ اگر تیرا چالان ہو گیا اور جرمانہ تو نے دے دیا تو یہ اسراف میں شمار ہوگا۔ یہ اسراف میں شمار ہوگا۔ یعنی یہ نہیں کہ آپ کو صرف دنیا کا نقصان ہوا، دین کا بھی نقصان ہوا۔ کیونکہ آپ نے اسراف کر لیا۔ بلاوجہ خواہ مخواہ پیسے لگا دیے۔ کیوں لگا دیے؟ ضرورت کیا تھی؟ یہ کسی غریب کو دے دو۔ اگر آپ کے پاس زیادہ ہیں۔ اور اگر زیادہ نہیں تو خرچ کیوں کرتے ہو؟ تو یہ بعض لوگ ہوتے ہیں نا کہ مطلب وہ بس وہ ایسے ہوتے ہیں نا کہ جیسے پھٹنے کو ہوتے ہیں مطلب وہ کہتے ہیں کہ بس ہم کچھ کریں اس کے ساتھ۔ وہ اس طریقے سے۔ بھئی اللہ پاک نے اگر آپ کو باعزت زندگی دی ہے اس باعزت زندگی کو باعزت رہنے دو۔

بلکہ ہمارے دین میں تو اس حد تک ماشاءاللہ ہمارے ساتھ خیر خواہی ہے کہ میں نے کہا نا کہ ہمارا دین تو ہماری دنیا کی بھی حفاظت کرتا ہے۔ ہمارے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ فرما رہے تھے یعنی فرمانے لگے افسوس یہ تو دنیا کو بھی نہیں سنبھال سکتے ہم تو ان کی دنیا کے لیے بھی روتے ہیں۔ اب مثال کے طور پر دیکھو نا ہم لوگ اپنی زمینوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ وہ بھئی کرنل محمد خان کی کتاب بجنگ آمد وہ میں پڑھ رہا تھا۔ تو اس میں ان کی ڈیوٹی لگی تھی نا وہ وہاں پر مصر میں۔ تو وہاں جا رہے تھے تو راستے میں فلسطین بھی آیا تھا۔ تو انہوں نے کہا جس وقت یہ فلسطین کا علاقہ شروع ہو گیا تو جو مسلمانوں کا علاقہ تھا وہ زمینیں بالکل بنجر ونجر یا اس قسم کی تھیں یعنی جیسے ان کی کوئی look after نہیں تھی۔ اور جیسے ہی یہودیوں کی بستیاں شروع ہو گئیں، تو باقاعدہ زبردست قسم کی بنی ہوئی تھیں اور وہ agriculture کے تمام چیزوں کے مطابق اور اچھے اس میں پھل وغیرہ سارے کچھ تھے۔ تو کہتے ہیں افسوس مجھے افسوس ہوا کہ دیکھو نا مسلمانوں کو اپنی زمینوں کا سنبھالنا بھی نہیں آتا۔ تو بعض دفعہ یہ لازم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ نہیں کرتے تو آپ کی معیشت تباہ ہوتی ہے۔ معیشت تباہ ہوتی ہے تو کافروں کے دست نگر ہو جاؤ گے۔ جب کافروں کے دست نگر ہو جائیں تو وہ آپ کے دین پر ڈاکا ڈالیں گے۔ اب یہ پاکستان کے ساتھ ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا؟ پاکستان کے ساتھ یہی تو ہو رہا ہے کہ ہم نے اپنے جو وسائل جو تھے ان پہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ اپنے پاؤں پہ کھڑے نہیں ہوئے۔ اغیار کی کاسہ لیسی میں پڑ گئے۔ نتیجتاً اب وہ ہم سے آہستہ آہستہ آہستہ ساری چیزیں چھین رہے ہیں اس کے ذریعے سے۔ یہ مطلب یہ بات ہے۔

تو اپنے اپنے جو وسائل ہیں ان کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ آپ کی ضائع نہ ہوں۔ اپنی دنیا کی جو اللہ تعالی نے آپ کو جو چیزیں دی ہیں اس کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی آپ کے پاس امانت ہے۔ اس امانت کو صحیح صورت میں لوٹانا ہے۔ ورنہ پھر پوچھ ہوگی۔ ہمارے بزرگوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کسی کے پاس دو کنال زمین ہے اور دو کنال زمین میں جتنا کہ غلہ ہو سکتا ہے یا چیزیں ہو سکتی ہیں، اگر اس سے کم اس میں پیدا کر دی اس نے تو اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ تو نے زمین کو کیوں ضائع کیا؟ تو نے کیوں اس سے اتنا زیادہ مطلب اتنے جو چیزیں نکل سکتی تھیں نہیں نکالی؟ باقاعدہ پوچھا جا سکتا ہے۔ یا تو پھر کسی کو دے دو کہ وہ اس کو استعمال کرے۔ اگر خود نہیں کر سکتے۔ یا پھر ایک اس کا باقاعدہ پورا انتظام کرو۔ تو اس وجہ سے ہمیں جو ہمارا دین ہے وہ ہماری رہنمائی کرتا ہے، دنیا کے معاملے بھی، دین کے معاملے بھی کرتا ہے۔ تو ہمیں بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے، مسلمان کی تو ماشاءاللہ دونوں طرح duty ہے۔ دین کی duty بھی ہے اور دنیا کی بھی duty ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنی اپنی duty صحیح طریقے سے کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

عارفانہ کلام: حسد

حاسد کو ایک دم نہیں راحت جہان میں
رنجِ حسد ہے جان ہے جب تک کہ جان میں

جو دل کہ معترض ہوا تقسیمِ رب پہ ہے
آنکھ اس کی کچھ نہیں پر اک آفت ہے اس آن میں

جو رب کی تقسیم پہ جو آنکھ مطمئن نہیں ہے، معترض ہے، وہ جس کو بھی دیکھے گی اس کو نظر لگ جائے گی اس کی، کیوں؟ اس کے اندر شر پیدا ہوا ہے، وہ شر کسی کو بھی لگ سکتی ہے۔ آپ نے کبھی سوچا ہے کہ نظرِ بد کا علاج ماشاء اللہ کہنا کیوں ہے؟ سوچا ہے کبھی؟ ماشاء اللہ کہنا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماشاء اللہ کا لفظ یہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہونے کے لیے کہا جاتا ہے۔ یعنی آپ اس کا اظہار کرتے ہیں کہ سبحان اللہ، اللہ نے کیا اچھا فیصلہ کیا ہے! ماشاء اللہ! آپ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ پاک نے کیا اچھا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ تو جب آپ اللہ کی تقسیم پہ راضی ہوئے، آپ کی نظر سے شر ختم ہو گیا۔

جو دل کہ معترض ہوا تقسیمِ رب پہ ہے
آنکھ اس کی کچھ نہیں پر اک آفت ہے اس آن میں

اے کاش خزانوں پہ رب کی اس کی نظر ہو
اس سے ہو کامیاب جینے کے امتحان میں

حاسد کو ایک دم نہیں راحت جہان میں
رنجِ حسد ہے جان ہے جب تک کہ جان میں

حاسد نے حسد میں اپنا خرمن جلا دیا
یہ تو وہی ہے خُو جو رہی ہے شیطان میں

شیطان نے بھی تو کہا تھا نا: أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ تو حسد کی وجہ سے مارا گیا تھا نا؟ اور حسد کی آگ اتنی خطرناک ہے کہ آدمی سمجھتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں، پھر بھی کرتا ہے۔ یعنی ایسی خبیث چیز ہے کہ آدمی کو پتہ ہوتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں۔ یہود کو پتہ نہیں ہے؟ یہود کو پتہ نہیں؟ بالکل پتہ ہے، لیکن کرتے ہیں کیونکہ ظاہر ہے اب حسد کی جلن کی وجہ سے برداشت نہیں ہو رہا۔ تو حسد اتنی خطرناک چیز ہے جو انسان کی عقل کو جلا دیتی ہے، تو یہ خرمن والی بات ہے۔

حاسد نے حسد میں اپنا خرمن جلا دیا
یہ تو وہی ہے خُو جو رہی ہے شیطان میں

حاسد کو ایک دم نہیں راحت جہان میں
رنجِ حسد ہے جان ہے جب تک کہ جان میں

اے کاش ہم ان تین کو کریں ٹھیک اے شبیرؔ
نفس و عقل و قلب جو کہ ہیں انسان میں

حاسد کو ایک دم نہیں راحت جہان میں
رنجِ حسد ہے جان ہے جب تک کہ جان میں

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم۔ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ وَحَبِيبُكَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم۔ وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔