"احکامِ الٰہی کی پاسداری: عقائد کی اصلاح، مال کے حقوق اور حرمت والے مہینوں کا بیان"

درس نمبر 314، سورہ التوبۃ آیات 30 تا 36 اشاعتِ اول: 19 اور 20 نومبر، 2022، بمطابق ،22 اور 23 ربیع الثانی ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • علماء کو بذاتِ خود احکام وضع کرنے کا اختیار نہیں۔
  • اللہ تعالیٰ اپنا نور ضرور مکمل فرمائے گا۔
  • ذاتی مفادات کے لیے حق بات کو چھپانا ناجائز ہے۔
  • زکوٰۃ ادا کیے بغیر مال جمع کرنا یقینی تباہی ہے۔
  • حرمت والے چار مہینوں میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔
  • حرمت والے مہینوں میں عبادت کریں اور گناہوں سے بچیں۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَيْرُ ۨ ابْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ ۚ يُضَاهِـُٔوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ (30) اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ (31) یُرِیْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ (32) هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (33)

ترجمہ: یہودی تو یہ کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں،

حاشیہ: حضرت عزیر علیہ السلام ایک جلیل القدر پیغمبر تھے، (ان کو بائبل میں عزرا کے نام سے یاد کیا گیا ہے، اور ایک پوری کتاب اُن کے نام سے منسوب ہے)۔ اور جب بخت نصر کے حملے میں تورات کے نسخے ناپید ہو گئے تھے تو انہوں نے اُسے اپنی یادداشت سے دوبارہ لکھوایا تھا، اور شاید اسی وجہ سے بعض یہودی انہیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا ماننے لگے تھے۔ یہاں یہ واضح رہے کہ اُن کو بیٹا ماننے کا عقیدہ سب یہودیوں کا نہیں ہے، بلکہ بعض یہودیوں کا ہے جو عرب میں بھی آباد تھے۔

ترجمہ: اور نصرانی یہ کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب اُن کی منہ کی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ اُن لوگوں کی سی باتیں کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کافر ہو چکے ہیں۔ اللہ کی مار ہو ان پر! یہ کہاں اوندھے بہکے جا رہے ہیں؟ ﴿30﴾

حاشیہ: اس سے مراد غالباً عرب کے مشرکین ہیں جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔

ترجمہ: انہوں نے اللہ کے بجائے اپنے احبار (یعنی یہودی علماء) اور راہبوں (یعنی عیسائی درویشوں) کو خدا بنا لیا ہے،

حاشیہ: ان کو خدا بنانے کا جو مطلب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے، اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے علماء کو یہ اختیارات دے رکھے ہیں کہ وہ جس چیز کو چاہیں، حلال اور جس چیز کو چاہیں، حرام قرار دے دیں۔ واضح رہے کہ عام لوگ جو کسی آسمانی کتاب کا براہِ راست علم نہیں رکھتے، اُن کو شریعت کا حکم معلوم کرنے کے لئے علماء سے رجوع تو کرنا ہی پڑتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے شارح کی حیثیت میں اُن کی بات ماننی بھی پڑتی ہے۔ اس کا حکم خود قرآن کریم نے سورۃ نحل (16: 43) اور سورۃ انبیاء (21: 7) میں دیا ہے۔ اس حد تک تو کوئی بات قابلِ اعتراض نہیں۔ لیکن یہود و نصاریٰ نے اس سے آگے بڑھ کر اپنے علماء کو بذاتِ خود احکام وضع کرنے کا اختیار دے رکھا تھا

یہ اہلِ تشیع کے جو آیۃ اللہ ہوتے ہیں وہ بھی اگر کہتے ہیں تین آیۃ اللہ مل جائیں تو وہ کوئی بھی بات آگے پیچھے کر سکتے ہیں۔ اس طرح عیسائی یہ تو باقاعدہ معافی دیتے ہیں پادری۔ اگر گناہ وغیرہ کر چکے ہوں تو Confession کو کہتے ہیں، مطلب وہ اپنے اعتراف کر لیں۔ پادری کے سامنے، تو وہ سرٹیفکیٹ دیتا ہے کہ بس تم معاف ہو، تم معاف ہو گئے ہو۔ یعنی گویا اللہ پاک کا جو اختیار ہے وہ اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔

حاشیہ: کہ وہ آسمانی کتاب کی تشریح کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی مرضی سے جس چیز کو چاہیں، حلال اور جس چیز کو چاہیں، حرام قرار دے دیں،

یہ اسماعیلی لوگ جو ہیں نا، یہ بھی ان کا جو امام ہے، وہ جو کچھ کرنا چاہے کر سکتے ہیں۔

حاشیہ: خواہ اُن کا یہ حکم اللہ کی کتاب کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔

یہ اصل میں، واقعتاً اللہ پاک ہمیں بچائے، آہستہ آہستہ شیطان کام کرتا ہے۔ اور لوگوں کو اپنے راستے سے ہٹاتا ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیں، یہاں پر جیسے حکم ہے کہ جو اپنے علماء ہیں، ان کی بات مانو، اب اسی کو آگے بڑھا دینا تو وہ ظاہر ہے، کہ وہ ان کے لیے اپنے لیے دلیلیں بنا کر وہ جو بات بھی جائز کرنا چاہیں گے کہ کر دیں گے، جو ناجائز کرنا چاہیں گے تو ناجائز کر دیں گے۔ تو ایسا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جو مفتیانِ کرام ہیں، ان کے لیے قانون یہ ہے۔ کہ وہ جب بھی کوئی فتویٰ دیں تو ریفرنس دیں گے۔ کہ کہاں سے۔ مطلب اس کی دلیل دیں گے قرآن سے، سنت سے اور علمائے محققین کے اقوال سے۔ وہ باقاعدہ ریفرنس دیں گے۔ تو یہاں راستہ بند ہے، یہاں پر راستہ اس طرح کھولا نہیں جا سکتا۔ لیکن اگر کوئی کھولنا چاہے تو پھر ظاہر ہے وہ پوری کی پوری جماعت سے کٹ جائیں گے۔ وہ اس میں شامل ہی نہیں ہوں گے۔

ترجمہ: اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ اُن کو ایک خدا کے سوا کسی کی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اُس کے سوا کوئی خدا نہیں۔ وہ اُن کی مشرکانہ باتوں سے بالکل پاک ہے۔ ﴿31﴾ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے سوا ہر بات نامنظور ہے، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بُری لگے ﴿32﴾ وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اُسے ہر دوسرے دین پر غالب کر دے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔ ﴿33﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو حق کے ساتھ کر دے۔ حق پر چلنے کی اور حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ (34) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(35) اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (36)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

ترجمہ: اے ایمان والو! (یہودی) اخبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔

حاشیہ: لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھانے کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں، لیکن ان علماء کے حوالے سے خاص طور پر جو بات کہی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ لوگ رشوت لے کر لوگوں کی مرضی کے مطابق شریعت کو توڑ مروڑ ڈالتے ہیں، اور اس طرح اللہ کے مقرر کئے ہوئے صحیح راستے سے لوگوں کو روک دیتے ہیں۔

یہ تو ایک بات ہو گئی، رشوت کی ایک قسم ہے۔ دوسرے یہ ہے کہ جو بادشاہوں یا اہل حکومت یا اہل ثروت لوگ ہیں، ان کا یہ خیال رکھتے تھے۔ یعنی ان کے لیے الگ مسئلہ بتاتے تھے اور باقی لوگوں کو الگ مسئلہ بتاتے تھے۔ تو اس سے ظاہر ہے، مطلب یہ ہے کہ اصل حکم چھپ جاتا تھا، تو یہ اللہ پاک کے راستے سے روکنا ہے۔ اور اس کے ذریعے سے وہ جو مفادات حاصل کرتے تھے، ظاہر ہے وہ ناجائز تھے۔ تو آج کل بھی اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو حق بات نہیں کرتے، اور حالات کو دیکھتے ہیں جس میں ان کے مفادات ہوتے ہیں، اس طرف بات چلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسی چیزوں سے محفوظ فرمائے۔

ترجمہ: اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اُس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، اُن کو ایک دردناک عذاب کی ”خوشخبری“ سنا دو۔﴿34﴾

حاشیہ: اگرچہ یہ آیت براہِ راست اُن اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بخل کی وجہ سے مال جمع کرتے رہتے تھے، اور اُس کے شرعی حقوق ادا نہیں کرتے تھے، لیکن آیت کے الفاظ عام ہیں، اور ان کا اطلاق اُن مسلمانوں پر بھی ہوتا ہے جو مال و دولت اکٹھا کرتے چلے جائیں، اور وہ حقوق ٹھیک ٹھیک ادا نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے اُن کے مال پر عائد کئے ہیں جن میں سب سے اہم زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔

تو یہ جو بھی اس طرح کرتے ہیں تو ظاہر ہے وہ اپنے لیے بہت زیادہ آخرت کا جو نقصان ہے وہ مول لیتے ہیں، جو یقیناً تباہی کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

ترجمہ: جس دن اس دولت کو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اُس سے ان لوگوں کی پیشانیاں اور ان کی کروٹیں اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی، (اور کہا جائے گا کہ:) ”یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا! اب چکھو اُس خزانے کا مزہ جو تم جوڑ جوڑ کر رکھا کرتے تھے۔“ ﴿35﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ مہینے ہے،

یہاں پر بھی بات چلی ہے، مطلب وہ تو پوری ہو گئی، لیکن فرمایا کہ

حاشیہ: سورت کے شروع میں جو اعلانِ براءت کیا گیا ہے، اُس میں بت پرستوں کی ایک قسم کو حرمت والے مہینے ختم ہونے تک مہلت دی گئی تھی، اس مناسبت سے عرب کے بت پرستوں کی ایک نامعقول رسم کی تردید ضروری تھی جو آیت نمبر 36 اور 37 میں کی گئی ہے۔ اس رسم کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے چاند کے چار مہینوں کو حرمت والے مہینے سمجھا جاتا تھا۔ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان چار مہینوں میں جنگ کی ممانعت تھی۔ عرب کے بت پرستوں نے اگرچہ بت پرستی شروع کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کو بہت کچھ بدل ڈالا تھا، لیکن ان مہینوں کی حرمت کو سب تسلیم کرتے تھے، اور ان میں جنگ کو ناجائز سمجھتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ ممانعت ان کو مشکل معلوم ہونے لگی، اس لئے کہ ذوالقعدہ سے محرم تک تین متواتر مہینوں میں لڑائی بند رکھنا اُن کے لئے دُشوار تھا، چنانچہ اس مشکل کا حل انہوں نے یہ نکالا تھا کہ وہ کسی سال میں کہہ دیتے تھے کہ اس مرتبہ صفر کا مہینہ محرم سے پہلے آئے گا، یا محرم کے بجائے صفر کے مہینے کو حرمت والا مہینہ سمجھا جائے گا۔ چنانچہ اس طرح وہ محرم کے مہینے میں لڑائی کو جائز قرار دے لیتے تھے۔ اس کے علاوہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حج چونکہ مختلف موسموں میں آتا تھا، اس لئے بعض مرتبہ وہ موسم ان کی تجارت کے لئے سازگار نہیں ہوتا تھا تو وہ حج ذوالحجہ کے بجائے کسی اور مہینے میں کر لیتے تھے، اور اُس کے لئے انہوں نے کبیسہ کا ایک حساب بھی گھڑ لیا تھا جس کی تفصیل امام رازیؒ نے اپنی تفسیر میں بیان فرمائی ہے، اور حافظ ابن جریرؒ کی بعض روایات سے بھی ان کی تائید ہوتی ہے۔ مہینوں کو آگے پیچھے کرنے کی اس رسم کو نسیئی کہا جاتا تھا جس کا ذکر آیت نمبر 37 میں آ رہا ہے۔

تو اللہ پاک نے جو چیزیں مقرر کی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے، اور اس میں چار مہینے حرمت کے ہیں۔ اس میں کوئی اپنی طرف سے تبدیلی نہیں کر سکتا۔ جیسے دن کو کوئی رات نہیں کہہ سکتا، رات کو کوئی دن نہیں کہہ سکتا، تو اس طرح کسی ایک مہینے کو دوسرے مہینے کے ساتھ بدلا نہیں جا سکتا، جو مقرر چلا آ رہا ہے اسی کو یعنی اختیار کرنا چاہیے۔ تو

ترجمہ: یہی دین (کا) سیدھا سادہ (تقاضا) ہے، لہٰذا ان مہینوں کے معاملے میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو،

حاشیہ: یعنی اللہ تعالیٰ نے مہینوں کی جو ترتیب مقرر فرمائی ہے، اُس میں رد و بدل کر کے مہینوں کو آگے پیچھے کرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ جس مہینے میں لڑائی حرام تھی، اُس میں اُسے حلال کر لیا گیا جو ایک بڑا گناہ ہے، اور گناہ کا ارتکاب کرنے والا خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے، کیونکہ اُس کا بُرا انجام اُس کی جان ہی کو بھگتنا پڑے گا۔ ساتھ ہی اس جملے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہئے، اور ان مہینوں میں گناہوں سے بچنے کی فکر اور دنوں سے زیادہ کرنی چاہئے۔

ترجمہ: اور تم سب مل کر مشرکوں سے اُسی طرح لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور یقین رکھو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے ﴿36﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت پر پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔