دورِِ حاضر کے فتنے اور ایمان کی حفاظت

آیات و احادیث از خطاب الاحکام، خطبہ: بُرے ہم نشین سے الگ رہنے کے بیان میں

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ - سیکٹر F-13، اسلام آباد - بنی سٹاپ، گولڑہ روڈ، اسلام آباد، پاکستان

فتنوں کے دور میں دوسروں سے پہلے اپنی اصلاح کی ترجیح برے ماحول سے بچاؤ اور خلوت (تنہائی) کی شرعی اہمیت دعوت و اصلاح کے لیے ذاتی روحانی قوت کی ضرورت سوشل میڈیا اور فکری یلغار کا دجالی فتنہ شیطانی گمراہی کے تدریجی حربے اور نوافل کی اہمیت انسانی زندگی کا اصل مقصد اور دین کو دنیا پر فوقیت

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔

قَالَ: {رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ} (المائدة: 25)۔

وَقَالَ عَلَیْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضَ الْفِتَنِ، وَقَالُوْا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: «فَكُوْنُوْا أَحْلَاسَ بُیُوْتِكُمْ»۔ وَقَالَ عَلَیْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ: «یُوْشِكُ أَنْ یَكُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ یَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، یَفِرُّ بِدِیْنِهِ مِنَ الْفِتَنِ»۔ وَقَالَ عَلَیْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ فِی الْفِتَنِ: «تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِیْنَ وَإِمَامَهُمْ»، قِیْلَ: فَإِنْ لَمْ یَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: «فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا»۔ وَقَالَ عَلَیْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ: «الْوَحْدَةُ خَیْرٌ مِنْ جَلِیْسِ السُّوْءِ، وَالْجَلِیْسُ الصَّالِحُ خَیْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ»۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِیُّ الْكَرِیْمُ۔

معزز خواتین و حضرات! اصل میں اس وقت جو حالات ہیں، زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان حالات کے متعلق بات کی جائے۔ ادھر ادھر کی باتوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایک شخص ہے، وہ مر رہا ہے، اور آپ اس کے زکام کا علاج کر رہے ہیں، تو یہ عجیب بات ہے۔ مطلب ظاہر ہے، پہلے تو اس کو موت سے بچانے کی کوشش کر لیں۔ اس کا دل بیٹھ رہا ہے اور آپ کہتے ہیں جی اس کا زکام ٹھیک ہونا چاہیے۔ تو مقصد یہ ہے کہ جو فوری تقاضا ہو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اس وقت صورتحال کیا ہے؟ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ لوگوں کے ایمان خطرے میں پڑ رہے ہیں۔ لوگوں کے ایمان خطرے میں پڑ رہے ہیں۔ اور ہر طرف سے فتنے برپا ہو رہے ہیں۔ فتنہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کے بارے میں انسان کو پتا نہ ہو کہ یہ غلط ہے۔ اور اس میں مبتلا ہونے کا اس کو اندیشہ ہو۔ وہ فتنہ ہوتا ہے۔ جو ظاہری چیز ہوتی ہے اس کو فتنہ نہیں کہتے، اس کو ہم غلط چیز کہہ سکتے ہیں۔ لیکن فتنہ وہ ہوتا ہے جس کا پتا نہ چلے کہ اس کا نقصان ہے اور نقصان اس میں ہو۔ مثلاً کینسر کی جو بیماری ہے خطرناک کیوں ہے؟ کیونکہ کینسر کی بیماری کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب انسان آخری سٹیج پر پہنچ چکا ہوتا ہے۔ وہ خوش قسمت ہوتا ہے جس کو پہلے سٹیج پر معلوم ہو جائے کسی وجہ سے ورنہ اکثر وہ بات علاج سے گزر چکی ہوتی ہے۔ اس وقت پھر صرف اس کی موت کو آسان بنانے کی ترکیب کی جاتی ہے اور کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ تو اس طرح یہ جو فتنے ہیں، یہ انسان کو کفر کی حالت تک لے جاتے ہیں اور اس کو پتا بھی نہیں چلتا۔ تو ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم کس دور میں رہ رہے ہیں اور آخر کیا مسائل ہمیں درپیش ہیں۔ سب سے پہلے جو میں نے قرآن پاک کی آیتیں پڑھی ہیں، اس کے بارے میں کچھ ظاہر ہے عرض کروں گا کہ کیا مطلب ہے اس کا۔ اور جو احادیث شریف تلاوت کی ہیں، اس کے بارے میں عرض کروں گا۔ پھر اس کے بعد جو مناسب بات ہوگی ان شاء اللہ عرض کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تو جو آیت مبارکہ میں نے تلاوت کی ہے یہ موسیٰ علیہ السلام کے الفاظ مبارک ہیں جو قرآن نے نقل کیے ہیں، آپ ذرا غور سے سن لیں۔ موسیٰ علیہ السلام کیا فرما رہے ہیں:

” اے میرے رب! نہیں مالک ہوں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا“

بھائی بھی پیغمبر ہیں، ہارون علیہ السلام۔ اور خود بھی پیغمبر ہیں۔ تو کیا کہہ رہے ہیں؟

اے میرے رب! نہیں مالک ہوں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا، پس علیحدگی کر دیجئے ہم میں اور فاسق قوم میں۔

مطلب اس حد تک حالات خراب ہو گئے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام ان سے جدائی اختیار کر رہے ہیں، حالانکہ پیغمبر کا کام کیا ہوتا ہے؟ پیغمبر تو آیا ہی تبلیغ کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن قوم نے اس حد تک بے وفائی کی اور اس حد تک نافرمانیاں کیں، اس حد تک حکم عدولی کی کہ موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے کہہ رہے ہیں کہ یا اللہ! مجھے اپنے، اس قوم سے جدا کر دیجیے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو بچانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔ یہ میرے ساتھ خود ہوا ہے اس وجہ سے میں عرض کر سکتا ہوں۔ ایک جلسے میں شریک تھا۔ اس میں کسی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔ پتا نہیں چلا مجھے کہ کیا ہوا، ابھی تک اس کا پتا نہیں ہے۔ وجہ کیا تھی، کیا تھی مجھے نہیں معلوم۔ لیکن سب لوگ کھڑے ہوگئے۔ تو ظاہر ہے یہ سٹیج والوں کے لیے بڑا مسئلہ ہوتا ہے، جلسے میں اگر اس قسم کی صورتحال ہوجائے، پریشان ہوجاتے ہیں۔ تو وہاں سے مسلسل ایک اعلان سنایا جارہا تھا۔ بزرگو اور دوستو! اپنے اپنے آپ کو بٹھاؤ کسی اور کو نہ بٹھاؤ۔ بزرگو اور دوستو! اپنے اپنے آپ کو بٹھاؤ کسی اور کو نہ بٹھاؤ۔ بزرگو اور دوستو! اپنے اپنے آپ کو بٹھاؤ کسی اور کو نہ بٹھاؤ۔ اور پانچ منٹ میں سارا مجمع بیٹھ گیا۔ یہ کیا چیز تھی؟ یہ اسی اعلان کی برکت تھی۔ اگر یہ فرماتے کہ لوگوں کو بٹھاؤ تو کیا لوگ بیٹھتے؟ سب لوگ بٹھانے والے ہوتے، کوئی بیٹھنے والا نہ ہوتا۔ یہی چیز ہے کہ جب انسان اپنے آپ پر توجہ کرلے، کہ میں ٹھیک ہو جاؤں، تو سارے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اگر سارے لوگ اس طرح سوچنے لگیں، تو سب ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اور اگر ہر ایک یہ سوچے کہ باقی لوگ ٹھیک ہو جائیں، تو کوئی بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔ ہر ایک کے لیے باقی لوگ ہوں گے نا، خود تو ٹھیک نہیں ہوگا۔ لہذا مسئلہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس وجہ سے اپنے اپنے آپ کو بچانا یہ بہت زیادہ اہم ہے۔ اب عرض کرتا ہوں احادیث شریف کی۔

حدیث اول

آنحضرتﷺ نے بعض فتنوں کا ذکر کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ: آپﷺ (اُس وقت کے لئے) ہم کو کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: بس تم اپنے گھروں کے ٹاٹ بن جاؤ (ابو داؤد)، یعنی باہر نہ نکلو کہ ان قصوں میں شریک ہونا پڑے

حدیث دوم

ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قریب ہے کہ مسلمان کا سب سے بہتر مال بکریاں ہوں گی، جن کو لے کر پہاڑ کی چوٹی اور بارش کے مَوقِع کو تلاش کرتا پھرے گا، اپنے دین کو فتنوں سے بچا کر بھاگے گا۔ (بخاری)۔“عين جمع الفوائد عن مالك والبخاري وابي داود والنسائي۔

حدیث سوم

ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: فِتنوں کے بارے میں کہ پکڑے رہے تُو مسلمانوں کی جماعت کو اور اُن کے امام کو۔ عرض کیا گیا: پس اگر نہ ہو ان کی جماعت سے کوئی امام؟ ارشاد فرمایا: (تو ایسی حالت میں ) اُن كُل فرقوں سے دور رہنا (بخاری)

حدیث چہارم

” ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺنے کہ خَلوَت بہتر ہے بُرے ہم نشین سے اور نیک ہم نشین بہتر ہے خَلوَت (میں رہنے) سے (بیہقی)

اِن سب روایات سے معلوم ہو گیا کہ نہ ہر حال میں خلوت بہتر ہے نہ جلوت، بلکہ خَلوت بُرے ہم نشینوں سے بچنے کے واسطے ہے اور جَلوَت اچھی صحبت کے لئے ہے اور فتنہ کے مَوقِع پر ضعیف لوگوں کے لئے (یعنی جو کہ رَفعِ فِتنہ پر قادر نہ ہوں خَلوَت بہتر ہے، جیسا کہ ابھی آنے والی آیت سے ثابت ہوتا ہے)

جیسے کہ ابھی آنے والی آیت سے ثابت ہو جائے گا۔

ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب کہ سوال کیا گیا آپ سے اس آیت کے بارے میں ﴿يَآأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ...﴾ ''الآيۃ'' (المائدہ: 105) یعنی اے ایمان والو! اپنی (اصلاح کی) فکر کرو۔ جب تم راہ پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں

پس فرمایا کہ اَمر بالمعروف اور نَہی عنِ المُنکَر کیا کرو، یہاں تک کہ جب تم حِرص کی پیروی اور خواہش کا اتباع اور دنیا کو ترجیح دینا اور ہر ایک رائے والے کا اپنی رائے کو پسند کرنا دیکھو، تو پھر تجھ پر اپنی فکر لازم ہے اور اس وقت عوام کے کام کو اپنے (ذِمَّہ) سے الگ کر۔ (جمع الفوائد عن ابی داؤد و الترمذی)

اب میں آپ کو اپنا واقعہ سناتا ہوں۔ میرے ساتھ گزرا ہے۔ ایک جنرل صاحب ہیں ڈاکٹر بھی ہیں، میرے دوست ہیں۔ میں اپنے کسی کام سے ان سے ملنے کے لیے گیا۔ اس نے کہا اچھا ہوا جی آپ آگئے مجھے تو خیال نہیں تھا۔ میری بیٹی کی شادی ہے۔ اور فلاں جگہ پر ہم نے ساتھیوں کو بلایا ہے۔ تو آپ صرف دین کی دعوت دینے کے لیے تشریف لائیں۔ مطلب یہ آپ یہ نہ کہیں کہ میں آپ کو۔۔۔ اس لیے اس کو پتہ تھا کہ میں بارات وارات میں شریک نہیں ہوتا۔ لیکن بہرحال چونکہ اس کو پتہ تھا، اس نے کہا بس آپ صرف دین کی دعوت دینے کے لیے آپ تشریف لائیں۔ میں نے کہا یہ بات تو صحیح ہے دعوت کے لیے تو جانا چاہیے۔ میں گیا جی۔ اب جنرل کی بیٹی کی شادی ہوگی تو جنرل ہی آئے ہوں گے۔ جنرل تھے بریگیڈیئر تھے یا بہت سیکریٹری لیول کے بڑے بڑے لوگ تھے۔

یقین جانیں اتنا تکبر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا اتنا تکبر، چہروں سے ٹپک رہا تھا۔ ان کے ساتھ بات کرنا تو دور کی بات ہے، مجھے اپنی فکر ہو گئی۔ میں نے کہا تم لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظيم پڑھ لیا کرو کم از کم تجھ پہ اثر نہ ہو جائے۔ میں نے سارا وقت لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظيم پڑھنے میں گزارا۔ اور بس جانے میں عافیت سمجھی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ ایسی حالت میں پھر کیا کرنا چاہیے؟ اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔

وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ انسان بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ میں فلاں کو دعوت دے رہا ہوں۔ حالانکہ وہ مدعو ہو رہا ہے۔ کسی چیز سے متاثر ہو کر وہ مدعو ہو رہا ہوتا ہے۔ نتیجتاً۔۔۔ میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ ویسی بات ہے کہ ایک دفعہ ایسا ہوا، ایک صاحب تھے، اس نے سنا تھا کہ پیسے پیسوں کو کھینچتے ہیں۔ مطلب ویسے کہاوت ہے، مطلب ویسے سمجھانے کے لیے۔ وہ ایک دکان پہ گیا، اس کا جو گَلّا تھا اس میں جو پیسے پڑے تھے، اس طرح وہ اپنا روپیہ اس کو پکڑے رکھا کہ اس کے پیچھے آئیں گے پیسے۔ اخیر میں جب نہیں آیا تو غصہ ہو گیا تو اس نے وہ روپیہ اس میں پھینک دیا۔ تو دکاندار نے کہا بھئی کیا کر رہے ہو؟ کیوں پھینکے پیسے؟ کہتے ہیں مجھے بتایا گیا تھا کہ پیسے پیسے کو کھینچتے ہیں لیکن اس نے کھینچا نہیں، اس لیے میں نے پھینکا ادھر۔ کہتا ہے کھینچ دیا نا۔ یعنی ان پیسوں نے ان کو کھینچ لیا۔ بات تو صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زیادہ چیز تھوڑے کو کھینچ لیتی ہے نا۔ تو اب دیکھو، یا تو آپ کے اندر اتنی روحانیت ہو کہ آپ اس کو کھینچیں۔ اور اگر اتنی روحانیت نہیں ہے اور اس کے اندر شیطانیت زیادہ ہے، پھر کیا ہوگا؟ پھر مسئلہ ہوگا، پھر آپ کو کھینچے گا وہ۔ پھر آپ کو کھینچے گا۔

شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کی بات کر رہا ہوں، مشہور بات ہے، شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے۔ ان کا ایک ساتھی تھا، اس نے ایک کام کے لیے اس کو ایک۔۔۔ یہ ہوتے ہیں نا چار ابرو صاف، اس وقت یہ فتنہ تھا، چار ابرو صاف، مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ ہو جاتے ہیں کہ جو کہ بھنویں بھی مونڈ دیتے ہیں اور داڑھی تو منڈی ہوتی تھی، مونچھیں بھی اور سر بھی، اس کو چار ابرو صاف کہتے تھے، اور یہ ایک بہت بڑا مسئلہ تھا ان میں، ان میں توجہ کی قوت بہت بڑی زیادہ ہوتی تھی۔ ان کے پاس بھیجا۔ جب ان کے پاس بھیجا، سمجھانے کے لیے۔ تو وہ زیادہ طاقتور تھا۔ تو اس نے کہا اچھا تم عبدالعزیز کی طرف سے آئے ہو، آؤ۔ بیٹھو۔ تو اس نے یہ حلوہ حلوہ کر رہے تھے، کہتے ہیں جاؤ یہ عبدالعزیز کے پاس لے جاؤ۔ اور اس کو کہا یہ سارے چار ابرو صاف کر لو۔ چار ابرو اس کے صاف کروا دیے اور پھر ان کو اپنے پاس بھیجا۔ وہ جب دور سے آ رہا تھا نا تو شاہ صاحب نے کہا إنا لله وإنا إليه راجعون۔ میں نے غلطی کی۔ میں نے کمزور آدمی کو بھیجا۔ میں نے کمزور آدمی کو بھیجا، یعنی اس کے اندر اتنی روحانیت نہیں تھی ابھی کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔ نتیجتاً، خود ہی سب کچھ چھوڑ بیٹھا۔ تو آج کل کے دور میں یہ چیزیں چل رہی ہیں، چل رہی ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا فتنہ جو ہے نا وہ ہے social media۔ اس کا سب سے بڑا فتنہ جو کیا ہے؟ وہ social media ہے۔ یقین کیجیے، ناراض نہ ہونا، اس وقت بیٹھنے والوں میں بہت سارے لوگ social media کے مارے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔ گپ شپ نہیں لگا رہا۔ گپ شپ نہیں لگا رہا، سچ بات بتا رہا ہوں، کیونکہ میرے پاس لوگ آ کر خود بتاتے ہیں۔ مجھے ان ساری چیزوں کا علم ہوتا رہتا ہے کہ کون کس وجہ سے مار کھا رہا ہے۔ تو social media کی وجہ سے اتنا ذہنی انتشار، خلفشار، مذہب سے برگشتگی، برے خیالات۔ یہ ساری چیزیں آج کل آ رہی ہیں اور بہت زور سے آ رہی ہیں۔ کمزور آدمی اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ جو پہلوان ہو، علیحدہ بات ہے، لیکن پہلوان کتنے ہوتے ہیں؟ کمزور آدمی اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ تو ایسی صورت میں پھر کیا کرنا چاہیے؟ اب ذرا حدیث شریف سے بتاتا ہوں، باقی میں تبصرہ نہیں کروں گا زیادہ۔ دجال کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، دجال کے ساتھ مقابلہ کرو؟ دجال کے بارے میں بات یہ ہو گی کہ اس سے بھاگو۔ کیونکہ اتنی زیادہ اس کے اندر شیطانی قوت ہو گی، کہ جو بھی اس کے پاس آئے گا۔ تو وہ magnet کی طرح اس کو کھینچ دے گا، نتیجتاً وہ اس کا شکار ہو جائے گا۔ ایک طرف اس کی جنت اس کی بنائی ہوئی، جو fraud کی جنت ہو گی، اور ایک طرف دوزخ۔ اپنے پسندیدہ لوگوں کو جنت میں ڈالے گا، اپنے ناپسندیدہ لوگوں کو دوزخ میں ڈالے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی جنت اصل میں دوزخ ہو گی اور اس کی دوزخ اصل میں جنت ہو گی۔ یہ باتیں تو ہیں۔

تو ایسی صورت میں فرمایا کہ دجال سے مقابلہ نہ کرو، بھاگو۔ اپنے ایمان کو بچاؤ، یہ والی بات ہے۔ تو سوشل میڈیا اس وقت دجال کا پورا role play کر رہا ہے۔ پورا role play کر رہا ہے۔ اس وقت یہ صورتحال ہے کہ جو اس کا مارا ہوا ہے نا ہم نے مجبوراً یہ اندازے لگائے ہیں۔ یقین جانیے کہ ایک بچے کو آپ سمجھا سکتے ہیں ایک بات، لیکن ایک بڑے ذہین فطین آدمی جو اس کا شکار ہوا اس کو آپ نہیں سمجھا سکتے۔ نہیں سمجھا سکتے۔ الٹا آپ کو پکڑے گا۔

تو اس وقت اپنے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اور فقہ کا ایک قاعدہ ہے۔ مشہور قاعدہ ہے آپ سب حضرات جانتے ہیں علمائے کرام سے پوچھ سکتے ہیں۔

جلب منفعت سے دفع مضرت زیادہ اہم ہے۔

یعنی جس چیز میں فائدہ بھی ہو اور نقصان بھی ہو تو اس وقت نقصان سے بچنا زیادہ لازم ہے۔ دوسرے کو مسلمان بنانے سے، مسلمان کو مرتد بننے سے بچانا زیادہ ضروری ہے۔ دوسرے کو مسلمان بنانے سے، کافر کو مسلمان بنانے سے، مسلمان کو مرتد ہونے سے بچانا یہ زیادہ ضروری ہے۔ یہ اصول ہیں۔ تو جب اس صورتحال میں ٹھیک ہے سوشل میڈیا میں فائدہ بھی ہے۔ شراب کے بارے میں اللہ پاک فرماتے ہیں قرآن پاک میں اس میں لوگوں کے لیے فائدے بھی ہیں۔ منافع للناس لیکن اس کا گناہ زیادہ ہے لہذا نہ پیو۔ شراب کے بارے میں۔ اب اگر کوئی آدمی شراب کے فائدے ثابت کرنا چاہے ہم کہیں گے بالکل ہیں۔ ہم انکار نہیں کرتے لیکن اس کا نقصان تو ہے۔ نقصان کیا ہے؟ یہ عقل کو زائل کرتی ہے۔ وقتی طور پر یہ عقل کو زائل کرتا ہے۔ اور عقل انتہائی قیمتی چیز ہے جس کے ذریعے سے انسان نقصان سے بچ سکتا ہے۔ تو جب یہ عقل کو زائل کرتا ہے تو اس سے بچو۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ social media بھی انسان کی عقل پر attack کرتا ہے۔ information کا ایک طوفان ہے۔

دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ دو اس وقت دنیا میں گمراہی کی طاقتیں ہیں، دو بڑی طاقتیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی اور بھی ہیں لیکن بڑی کی بات کر رہا ہوں۔ ایک وہ ہے جو زبردستی ڈنڈے کے زور سے برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اور ایک وہ ہے جو ڈنڈا نہیں چلاتے۔ وہ information کے ذریعے سے لوگوں کو خراب کرتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے کسی بات کو چھپانا ہو نا حقیقت کو چھپانا ہو تو اتنا زیادہ جھوٹ اس کے ارد گرد جمع کر لیں گے کہ اس میں سچ نظر نہیں آئے گا پھر کہ سچ کیا ہے۔ آپ حیران ہو جائیں گے بھئی بات کدھر ہے۔ یہ ان کے چھپانے کا style اس طرح ہے کہ جھوٹ ادھر ادھر اتنے شامل کر لیں گے کہ پھر آدمی کو سچ کا پتہ چلنا بڑا مشکل ہو گا۔ اس وقت مجھے آپ بتائیں غزہ میں جو ہو رہا ہے۔ ایک بچے کو بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ لیکن جو لوگ اسرائیل کے حمایتی ہیں ان کو کوئی سمجھا سکتا ہے؟ ان کو کوئی نہیں سمجھا سکتا۔ ویسے ان کو کیا وہ نظر نہیں آ رہی؟ ان کو سب کچھ نظر آ رہا ہے۔ لیکن وہ شیطان کے ساتھ ہیں۔ تو جب شیطان کے ساتھ ہیں تو شیطان کی strategy کے ساتھ بھی ہیں۔ ان کو یہ چیزیں بالکل صحیح نظر آ رہی ہیں۔ کیوں، وجہ کیا ہے، کہ وہ بالکل ان کے ساتھ ہیں۔ تو اس طریقے سے یہ جو بات ہے کہ میں عرض کرتا ہوں کہ اگر ہم لوگ اپنی روحانیت کو نہیں develop کر سکتے تو پھر کم از کم اپنے آپ کو فتنے سے بچانے کے لیے اس سے ہٹ تو جائیں نا۔ اس کے پاس تو نہ جائیں نا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا نا ابھی آپ کے سامنے حدیث شریف گزر گئی۔ فرمایا بری صحبت سے بچنے کے لیے خلوت اچھی ہے۔ بری صحبت سے بچنے کے لیے خلوت اچھی ہے اور اچھی صحبت خلوت سے ہی اچھی ہے۔ پس ویسے عام حکم تو یہ ہے كونوا مع الصادقين سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ سچوں کے ساتھ ہو جاؤ اصل حکم تو یہی ہے قرآن پاک کا۔ لیکن اگر سچے available نہیں ہیں تو پھر کیا کرو؟ پھر خلوت۔ پھر اپنے آپ کو بچاؤ۔ پھر عام اس طرح کھلے نہ پھرو، expose نہ ہو۔ میں germany میں تھا۔ ایک دن knocking ہو گئی۔ ایک صاحب اور ایک چھوٹا بچہ ساتھ تھا اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں اس دن اکیلا تھا میں نے کہا جی تشریف لائیے۔ بٹھا دیا اندر۔ بچے کے لیے میں نے دودھ کا arrangement کر لیا اس کے لیے coffee وغیرہ۔ بات چیت شروع ہو گئی وہ اصل میں وہاں چرچ تھا۔ وہ چرچ کی طرف سے آیا تھا۔ کہتے ہیں جی آپ چونکہ غیر ملکی ہیں ہمیں پتہ چل گیا ہے، تو یہ ہمارا جو چرچ ہے نا یہ غیر ملکیوں کی کچھ خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو جس قسم کی ضرورت ہو تو آپ ہمیں کہہ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں بتائیے۔ دیکھیں نا سمجھ میں آ گئی نا بات؟ مجھے تو پتہ چل گیا کہ وہ کس لیے آئے ہیں میری کون سی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ لیکن براہ راست no کرنا تو مناسب نہیں ہوتا نا کیونکہ آپ no کریں گے تو وہ ایک عجیب بات ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا واہ واہ کیا بات ہے آپ نے تو بالکل صحیح بات کی ہے۔ ہم تو آپ کے انتظار میں تھے۔ ضرور تشریف لائیے۔ کہتے کیا بات ہے؟ میں نے کہا ہمارا ایک بہت بڑا کام ہے۔ بہت بڑا کام ہے۔ جس میں آپ اور ہم شریک ہیں۔ آپ کو بھی نقصان ہو رہا ہے ہمیں بھی نقصان ہو رہا ہے اس نقصان سے بچنا بہت ضروری ہے۔ میں نے کہا آپ christian ہیں نا، کہتے ہیں: ہاں، میں نے کہا: میں مسلمان ہوں۔ یہود مسلمانوں کے خلاف بھی ہیں، christians کے خلاف بھی ہیں۔ ظاہر ہے اپنی تاریخ کو پڑھیں کہ کتنا نقصان پہنچایا christians کو اور ہمیں تو نقصان پہنچا رہے ہیں ابھی تک۔ تو ان کے خلاف اکٹھے ہو جائیں۔ اور ذرا کچھ کام کریں۔ تو یہ تو آپ بڑے اچھے موقعے پہ آ گئے۔

اس کے بعد اس نے کہا ٹھیک ہے میں اپنے بڑوں سے بات کروں گا، تو پھر آؤں گا اور پھر وہ کبھی نہیں آیا۔ پھر کبھی نہیں آیا۔ مطلب میرا یہ ہے کہ دیکھو اس قسم کا لوگوں کو گھیرتے ہیں۔ کسی نہ کسی طریقے سے کبھی پیسے کے لحاظ سے، کبھی service کے لحاظ سے، کبھی ہسپتالوں کے لحاظ سے۔ کبھی NGOs کے ذریعے سے وہ باقاعدہ لوگوں کو ممنون بناتے ہیں۔ اور جب لوگ ممنون ہو جاتے ہیں، پھر ان کو اپنا literature دیتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ۔ یہ edwardes college کے principal تھے، ہمارے پشاور کے جو edwardes college تھے۔ تو ہمارے ایک ساتھی تھے UK میں ظاہر ہے وہ اپنے پڑھنے کے لیے گئے تھے۔ تو ایک چرچ میں گئے تھے ویسے دیکھنے کے لیے کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ تو ان کے اس میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان کو کیا پتہ کہ کوئی آدمی پشاور سے بھی آیا ہوگا۔ تو بیٹھے تھے تو وہ جو edwardes college کے principal تھے وہ وہاں پر آ گئے تھے۔ تو انہوں نے speech کی وہاں پر۔ تو speech میں اس نے کہا کہ میں پشاور میں ہوں اور میں نے یہ کام کیا، یہ کام کیا، یہ کام کیا، یہ کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ تو دعوی نہیں کر سکتا کہ ان کو میں عیسائی بنا سکا، لیکن ان کو مسلمان بھی نہیں رہنے دیا۔ میں یہ تو دعوی نہیں کر سکتا کہ ان کو میں نے عیسائی بنایا لیکن ان کو مسلمان بھی نہیں رہنے دیا۔ یہی طریقہ ہوتا ہے۔ شیطان کا طریقہ کار کیا ہے؟ شیطان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ پہلے کافر بنانا چاہتا ہے اللہ بچائے۔ ایمان کے اوپر وار کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ کامیاب نہ ہو تو پھر گناہ کبیرہ میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ بھی کامیاب نہ ہو تو پھر گناہ صغیرہ پہ اصرار کرواتا ہے۔ جو گناہ صغیرہ پہ اصرار کرواتا ہے۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتا تو پھر کسی نیک کام سے ہٹاتا ہے۔ آپ کو اس وقت بہت سارے لوگ ملیں گے میرا خیال ہے اس وقت بیٹھے ہوئے لوگوں میں بھی آپ کو ملیں گے کہ مستحب کے بارے میں ان کا condition یہ ہے، مستحب ہی تو ہے نا تو کیا کرنا ضروری ہے؟ ایسے لوگ ہیں یا نہیں ہیں؟ حالانکہ مستحب جو ہے واقعی یہ اللہ تعالیٰ نے ایک open option دیا ہوتا ہے کہ کوئی کرنا چاہے تو اس پر یہ یہ چیزیں دوں گا فائدے ہیں۔ کوئی نہ کرنا چاہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ مجھے بتاؤ ice cream نہ کھائے تو اس سے آپ کا پیٹ خراب ہوگا؟ گلا خراب ہوگا؟ temperature ہوگا؟ پھر کیوں کھاتے ہو؟ پھر کیوں کھاتے ہو؟ مزے ہیں نا، مطلب extra، extra مزہ ہے۔ یہی بات ہے نا، مستحب ایسی چیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ مستحب کو جب اختیار کرتے ہیں، تو اس سے آپ کو مزید فائدہ ہوتا ہے۔ نفل، نفل ایک زائد چیز کو کہتے ہیں۔ فرائض واجبات تو مقرر ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے، حدیث شریف میں، صاف حدیث شریف ہے، کہ سب سے زیادہ قرب تو ہوتا ہے فرائض کے ذریعے سے۔ سب سے زیادہ قرب تو ہوتا ہے فرائض کے ذریعے سے۔ لیکن نفل کے ذریعے سے، یعنی فرائض موجود ہوں تو۔ فرائض موجود نہ ہوں تو پھر تو نہیں۔ فرائض موجود ہوں تو پھر نفل کے ذریعے سے اتنا قرب ہوتا ہے جس کو قرب بالنوافل کہتے ہیں کہ انسان اتنا ترقی کرتا ہے، اتنا ترقی کرتا ہے، اللہ پاک فرماتے ہیں میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتے ہیں۔ میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتے ہیں۔ یہ بات ہو جاتی ہے اب بتاؤ یہ کس چیز کی برکت سے ہوا؟ نفل کی وجہ سے ہوا۔ تو اس وقت بہت سارے لوگ میں کہتا ہوں کہ یہاں تک علماء بھی اس میں involve ہیں۔ یہ میں ان سے بھی بات کرتا ہوں۔ بہت سارے علماء کہتے ہیں بس جی فرائض واجبات ہو جائیں بس کافی ہے نا۔ اے خدا کے بندو آپ نے علم اس وجہ سے پڑھا ہے کہ آپ یہ چیزیں سیکھ جائیں؟ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، کیا عالم نہیں تھے؟ جو سو رکعات نفل عام راتوں میں پڑھتے تھے۔ رمضان کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ عام راتوں میں سو رکعات نفل پڑھتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ عجیب عجیب احوال ہیں ان کے، یہ بڑے علماء تھے۔ تو کیا عالم ہو کر پھر انسان چھوڑ دے؟ بھئی عالم ہو کر تو انسان اس کا داعی بنے۔ خود عمل کر لے اور دوسروں کو بھی اس طرف لے آئے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ دیکھو نا شیطان کیا کرتا ہے؟ پہلے تو کافر بناتا ہے۔ کافر نہ بنے گناہ کبیرہ میں مبتلا کرتا ہے۔ گناہ کبیرہ نہ کرے گناہ صغیرہ میں مبتلا کرتا ہے۔ گناہ صغیرہ نہ کرے پھر کیا ہے نیکیوں سے روکتا ہے۔ تو اب گناہ کبیرہ ہے نا نماز چھوڑنا۔ اسے تو نہیں روک سکتا۔ واجب سے بھی نہیں روک سکتا وہ تو مکروہ تحریمی ہے۔ تو کس چیز سے روکے گا؟ نوافل سے روکے گا۔ مستحبات سے روکے گا۔ تو یہ شیطان کا۔۔۔ تو ہماری یہ بات ہے کہ اگر ہم لوگ اس social media کے ساتھ involve ہوں گے۔ یہ ہمیں پہلے کیا کریں گے کہ بالکل ہی کاٹ دیں۔ نہ کر سکے تو پھر کیا گناہ میں مبتلا کریں گے۔ کسی گناہ کبیرہ میں مبتلا کریں گے، نہ کر سکے تو پھر کیا ہو گا؟ گناہ صغیرہ میں۔ نہ کر سکے تو پھر کیا ہو گا؟ پھر ان چیزوں سے بس نیکیوں سے آپ کو چھڑا دیں گے۔ ان چیزوں کی آپ کے ذہن میں کوئی value نہیں ہو گی۔ اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کا value آپ کا بہت بڑھا دیں گے اوہو یہ کرنا چاہیے یہ کرنا چاہیے یہ کرنا چاہیے۔

لیکن جو اصل کام ہے۔ مجھے آپ بتائیں اصل کام کیا ہے؟ قرآن پاک میں ہے میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔

نہیں پیدا کیا میں نے انسان اور جنات کو جنات اور انسان کو کس چیز کے لیے پیدا کیا ہے؟ اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔

اللہ کی عبادت اور بندگی یہ اصل کام ہے ہمارا۔ اللہ کی عبادت اور بندگی۔ یہ اصل کام ہے ہمارا۔ اللہ کی عبادت اور بندگی۔ بندگی میں ساری چیزیں آتی ہیں۔ مثلا معاملات بھی آتے ہیں معاشرت بھی آتی ہیں اخلاق بھی آتے ہیں ساری چیزیں آتی ہیں۔ ہمیں اس لیے پیدا کیا گیا ہے۔ دنیا میں ہم لوگ اگر کچھ ایسا کام کر سکے جس سے باقی لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے تو بالکل ٹھیک ہے۔ منع نہیں ہے۔ منع نہیں ہے۔ لیکن ان کاموں میں پڑ کر اس اصل کام کو چھوڑ دو۔ یہ نہیں۔ یہ نہیں۔ یہ نہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے آپ کرو تو بالکل ٹھیک ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے کرو تو بالکل ٹھیک ہے۔ میں آپ کو اپنا واقعہ سناتا ہوں۔ ہمارے ایک دوست ہیں اب بھی ماشاءاللہ زندہ ہیں اللہ ان کو زندہ رکھے۔ اور بہت بڑے عہدے پر ہیں باہر ملکوں میں۔ دوست class fellow ہیں تو class fellow تو ہر قسم کی بات کر سکتا ہے نا انسان کے ساتھ۔ مجھے کہتے ہیں شبیر یہ آپ کو کیا ہو گیا؟ آپ کون سی باتیں کر رہے ہیں؟ دنیا کہاں پہنچ گئی اور آپ کون سی باتیں کر رہے ہیں؟ میں نے کہا اچھا چلو میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔ کہتے کیا؟ میں نے کہا یہ بتاؤ کہ ہم دنیا دار ہیں یا صحابہ کرام دنیا دار تھے؟ کہتے صحابہ کرام تو دنیا دار تھے ہی نہیں۔ تو میں نے کہا اچھا دنیا میں آخرت کی بات نہیں کر رہا ہوں، دنیا میں صحابہ کرام زیادہ کامیاب تھے یا ہم زیادہ کامیاب ہیں؟ کچھ سوچ کر بولا کہ وہ زیادہ کامیاب تھے۔ میں نے کہا آپ کی theory تو fail ہو گئی۔ آپ کی theory تو fail ہو گئی آپ کہتے ہیں نا کہ مطلب میں کچھ دین کی باتیں کر رہا ہوں تو اس کا مطلب ہے میں کامیاب نہیں ہوں دنیا میں۔ آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ میں تو آپ کو صحابہ کی پوری جماعت کا بتا رہا ہوں۔ کہ پوری دنیا ان سے ڈرتی تھی۔ صحابہ سے ڈرتی تھی۔ کیا ہم سے لوگ ڈرتے ہیں؟ ہمارے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں اور پرواہ بھی نہیں کرتے۔ جیسے کیڑے مکوڑوں کے اوپر کوئی پھر جاتا ہے نا پرواہ نہیں کرتا اس طرح ہمارا کوئی پرواہ بھی نہیں کرتا۔ اور وہ ان کی بات تھی کہ سبحان اللہ سب ان سے ڈرتے تھے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے نقش قدم پہ چلنا چاہیے۔ میں دنیاوی ترقی سے روکتا نہیں ہے، نہ میں روک سکتا ہوں۔ نہ شریعت کا حکم ہے۔ صرف اس لیے کہتا ہوں کہ ان چیزوں کو اس کے لیے نہ چھوڑو۔ مجھ سے ایک استاد نے پوچھا میرے استاد تھے میں جب پڑھ رہا تھا۔ فوت ہو گئے اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے۔ مجھے کہا شبیر اگر reactor پر آپ کی duty لگا دی جائے اور نماز کا وقت آ جائے تو آپ کیا کریں گے؟ میں نے کہا نماز پڑھوں گا۔ اب وہ مجھ سے توقع رکھ رہا تھا کہ میں کہوں گا میں reactor پہ رہوں گا نا، ظاہر ہے modern لوگ ہیں نا۔ ، تو reactor پہ رہوں گا۔ میں نے اس سے کہا میں نماز پڑھوں گا۔ تو کیا reactor کو چھوڑ دو گے؟ تو میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں نماز نہ پڑھوں میرے پیٹ میں درد ہو جائے میں ٹوائلٹ چلا جاؤں پھر reactor کا کون کرے گا؟ میں نے کہا ایک ہی آدمی ہو گا reactor کے لیے؟ reactor کے لیے تو کئی ہوں گے لوگ نا ایک تو نہیں ہو گا آخر ٹرک ڈرائیور جو ہوتے ہیں ایک ہوتے ہیں دو ہوتے ہیں جب لمبے سفر پہ جاتے ہیں۔ دو ہوتے ہیں نا تو reactor کو آپ ایک آدمی پہ چھوڑ دیں گے؟ تو اب ظاہر ہے کبھی کوئی ہو گا کبھی کوئی ہو گا تو اس طرح آپس میں باری باری کام کرتے رہیں گے۔ تو میں بھی اس طرح کروں گا۔ پھر چپ ہو گئے۔ یہ ہیں فتنے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات۔ مجھ سے ڈاکٹر لوگ پوچھتے ہیں ہم operation کر رہے ہوتے ہیں تو کیا نماز کا وقت آ جائے تو نماز پڑھیں؟ میں نے کہا خدا کے بندے operation شروع کرتے وقت یہ سوچ لیا کرو نا کہ اس میں کیا کیا آئے گا۔ اور ایک آدمی تو نہیں ہوگا مختلف پوری team ہوتی ہے۔ تو اس کے لیے آپ planning کرو۔ جیسے میں نے کہا کبھی کھانا چھوڑا ہے operation کے لیے؟ وہ اگر کھا سکتے ہو تو نماز کیوں نہیں پڑھ سکتے ہو؟ میں نے کہا ہر چیز کا اپنا اپنا طریقہ ہوتا ہے۔ مطلب ٹھیک ہے میں مفتی نہیں ہوں۔ ایک suggestion دے سکتا ہوں۔ آپ ٹھیک ہے مفتیوں سے بات کر لیں۔ ان سے پوچھیں۔ لیکن بہرحال میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ آج کل سارا زور کس چیز پہ پڑتا ہے؟ بس آپ دین چھوڑیں تو آپ کامیاب ہوں گے۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ہم دین نہیں چھوڑیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ ہم دین نہیں چھوڑیں گے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ہم دین نہیں چھوڑیں گے چاہے دنیا ہمارے پاس رہے یا نہ رہے۔ دنیا چاہے ہمارے پاس رہے یا نہ رہے لیکن دین نہیں چھوڑیں گے۔ دین کو رکھیں گے پھر ان شاءاللہ دنیا کے اوپر حکمرانی بھی خلافت فی الارض کا وعدہ کس کے ساتھ ہے؟ ہاں دین پر چلنے والوں کے ساتھ ہے۔ ہم لوگ دیندار ہو جائیں صحیح معنوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر صحابہ کرام کے طریقے پر چلنا شروع کریں یہ پوری دنیا آپ کے ہاتھ پہ دی جاتی ہے یا نہیں دی جاتی پھر دیکھو۔ اللہ تعالی ہم سب کو نصیب فرمائے۔

واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين