معرکۂ حق و باطل: حضرت موسیٰؑ کے معجزات، جادوگروں کا قبولِ اسلام اور صبر و استقامت کا درس
درس نمبر 291، سورہ الاعراف آیات 105 تا 129، اشاعتِ اول: 5،4 اور 6 اکتوبر، 2022، بمطابق 7 ، 8 اور 9 ربیع الاول ، 1444 ہجری
موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے اپنے معجزات دکھائے۔
فرعون نے مقابلے کے لیے تمام شہروں سے جادوگر بلوائے۔
معجزہ دیکھ کر تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے۔
ایمان لانے پر جادوگر فرعون کی دھمکیوں سے نہیں ڈرے۔
فرعون نے بنی اسرائیل پر دوبارہ مظالم شروع کیے۔
حضرت موسیٰ نے قوم کو صبر اور تسلی دی۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ (105) قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (106) فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ (107) وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ (108) قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ (109) یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ (110) قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآىٕنِ حٰشِرِیْنَۙ (111) یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ (112)
ترجمہ: میرا فرض ہے کہ میں اللہ کی طرف منسوب کر کے حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہوں۔ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک کھلی دلیل لے کر آیا ہوں، لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو“ ﴿105﴾ اُس نے کہا کہ: ”اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اُسے پیش کرو، اگر تم ایک سچے آدمی ہو“ ﴿106﴾ اس پر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی، تو اچانک وہ ایک صاف صاف اژدھا بن گیا ﴿107﴾ اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) کھینچا تو وہ سارے دیکھنے والوں کے سامنے یکا یک چمکنے لگا۔ ﴿108﴾ فرعون کی قوم کے سردار (ایک دوسرے سے) کہنے لگے کہ: ”یہ تو یقینی طور پر بڑا ماہر جادوگر ہے ﴿109﴾ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری زمین سے نکال باہر کرے۔ اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟“ ﴿110﴾ انہوں نے کہا کہ: ”ذرا اس کو اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دو، اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دو ﴿111﴾ تاکہ وہ تمام ماہر جادوگروں کو جمع کر کے تمہارے پاس لے آئیں“ ﴿112﴾
تو جیسے کہ پچھلی یعنی کل جو ہے نا وہ بات شروع ہوئی تھی موسی علیہ السلام کی۔ تو فرعون کے پاس وہ آ گیا۔ تو فرعون سے فرمانے لگے کہ مطلب جو ہے نا میں کوئی بات بھی اللہ کی طرف جھوٹی منسوب نہیں کر سکتا۔ تو میں ایک کھلی دلیل تمہارے پاس لے آیا ہوں۔ لہذا بنی اسرائیل میرے پاس بھیج دو۔ تو انہوں نے پھر یہی کہا کہ اچھا تم پھر کوئی نشانی لے کر آؤ۔ تو پھر یعنی معجزہ دیکھا۔ تو موسیٰ علیہ السلام کو دو معجزے دیے گئے تھے، اس وقت جب کلام کا واقعہ ہوا تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلام ہوئے تھے۔ تو اس وقت جو دو معجزے دیے گئے تھے وہ موسی علیہ السلام نے دکھا دیے۔ یعنی ایک تو اپنی عصا کو پھینکا تو وہ اژدہا بن گئی۔ اور دوسرا اپنے ہاتھ کو گریبان سے کھینچا تو سارے دیکھنے والوں کے سامنے وہ یکایک چمکنے لگا۔ تو اس پر جو ہے نا وہ جو مطلب فرعونی تھے وہ آپس میں کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے۔ اصل میں جو لوگ مانتے نہیں ہیں نا تو وہ اول تو معجزہ کی فرمائش کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر کہ یہ تو کر نہیں سکیں گے۔ اور جب کر لیتے تو ماننا تو تھا نہیں تو پھر کہتے یہ جادو ہے۔ تو یہ سب پیغمبروں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ تو یہ دو معجزے جو تھے اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو بھی عطا فرمائے تھے۔ اور چونکہ اس زمانے میں جادوگروں کا بڑا چرچا تھا۔ جادوگر جگہ جگہ موجود تھے۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کو اس کے توڑ کے لیے دو معجزات عطا فرما دیے تھے۔ کہ وہ لوگ چونکہ جادو سے متاثر ہوتے تھے۔ تو اس وجہ سے اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کو بھی ایسے معجزے عطا فرما دیے تھے کہ جادوگروں کو یعنی عاجز کر دیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ بات پھر آگے بڑھے گی۔ اس میں جیسے بعد میں آئے گا کہ جادوگروں کو جمع کرنے کا مقصد تو یہ تھا کہ موسی علیہ السلام کو شکست دیں۔ لیکن پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو ان پہ غالب کر دیا نہ صرف غالب کر دیا بلکہ وہ جادوگر بھی مسلمان ہو گئے ایمان لے آئے۔ تو یہ بات ان شاء اللہ آگے آئے گی۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنے احکامات پر عمل کرنے کی صحیح طریقے سے توفیق عطا فرمائے۔
وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ (113) قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ (114) قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ (115) قَالَ اَلْقُوْا ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ (116) وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَ (117) فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (118) فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ (119) وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَ (120) قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (121) رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ (122) قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (123) لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ (124) قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ (125) وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ (126)
ترجمہ: (چنانچہ ایسا ہی ہوا) اور جادوگر فرعون کے پاس آگئے (اور) انہوں نے کہا کہ: ”اگر ہم (موسیٰ پر) غالب آگئے تو ہمیں کوئی انعام تو ضرور ملے گا“ ﴿113﴾ فرعون نے کہا: ”ہاں، اور تمہارا شمار یقیناً ہمارے مقرب لوگوں میں (بھی) ہوگا“ ﴿114﴾ انہوں نے (موسیٰ سے) کہا: ”موسیٰ! چاہو تو (جو پھینکنا چاہتے ہو) تم پھینکو، ورنہ ہم (اپنے جادو کی چیز) پھینکیں؟“ ﴿115﴾ موسیٰ نے کہا: ”تم پھینکو!“ چنانچہ جب انہوں نے (اپنی لاٹھیاں اور رسیاں) پھینکیں تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا، اُن پر دہشت طاری کر دی، اور زبردست جادو کا مظاہرہ کیا ﴿116﴾ اور ہم نے موسیٰ کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو۔ بس پھر کیا تھا، اُس نے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ساری چیزیں نگلنی شروع کر دیں جو انہوں نے جھوٹ موٹ بنائی تھیں ﴿117﴾ اس طرح حق کھل کر سامنے آگیا، اور اُن کا بنایا کام ملیا میٹ ہو گیا ﴿118﴾ اس موقع پر وہ مغلوب ہوئے، اور شدید سبکی کی حالت میں (مقابلے سے) پلٹ کر آگئے ﴿119﴾ اور اس واقعے نے سارے جادوگروں کو بے ساختہ سجدے میں گرا دیا۔ ﴿120﴾وہ پکار اٹھے کہ: ”ہم اُس ربّ العالمین پر ایمان لے آئے ﴿121﴾ جو موسیٰ اور ہارون کا ربّ ہے۔“ ﴿122﴾ فرعون بولا: ”تم میرے اجازت دینے سے پہلے ہی اس شخص پر ایمان لے آئے؟ یہ ضرور کوئی سازش ہے جو تم نے اس شہر میں ملی بھگت کر کے بنائی ہے، تاکہ تم یہاں کے رہنے والوں کو یہاں سے نکال باہر کرو۔ اچھا تو تمہیں ابھی پتہ چل جائے گا ﴿123﴾ میں نے بھی پکا ارادہ کر لیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا، پھر تم سب کو اکٹھے سولی پر لٹکا کر رہوں گا“ ﴿124﴾ انہوں نے کہا: ”یقین رکھ کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس واپس جائیں گے ﴿125﴾ اور تو اس کے سوا ہماری کس بات سے ناراض ہے کہ جب ہمارے مالک کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم اُن پر ایمان لے آئے؟ اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر کے پیمانے انڈیل دے، اور ہمیں اس حالت میں موت دے کہ ہم تیرے تابع دار ہوں“ ﴿126﴾
یہ قرآن کریم نے جادوگروں کے لیے کہا کہ "اُلْقِيَ" یعنی
حاشیہ: مجہول کا صیغہ ”القی“ استعمال فرمایا ہے، جس کے لفظی معنی ”گر گئے“ نہیں، بلکہ ”گرا دیئے گئے“ ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حالات ایسے پیش آئے کہ اُن کے ضمیر نے انہیں بے ساختہ سجدے میں گر جانے پر مجبور کر دیا۔ اوپر ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں ایمان کی یہ طاقت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ جو جادوگر چند لمحوں پہلے اپنے مذہب کی دفاعی کارروائی پر بھی فرعون سے انعام مانگ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد اُن میں یہ عظیم حوصلہ پیدا ہو گیا کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی دھمکیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانے کا اشتیاق ظاہر کرنے لگے۔
اللہ اکبر۔ ایمان میں بڑی طاقت ہے، اور اگر ہم اپنے ایمان پر محنت کر لیں اور ایمان ہمارا صحیح طور پر بن جائے، یقینِ کامل اس کا حاصل ہو جائے، تو پھراس کے بعد اس کے سامنے کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ جیسے کہ یہ جادوگر جو کچھ دیر پہلے مسلمان نہیں تھے، تو ظاہر ہے انعام مانگ رہے تھے فرعون سے، لیکن بعد میں اس کی بھی پروا نہیں کی۔ اللہ جل شانہ ہمارے ایمانوں کو بھی مضبوط فرمائے، اور ہر قسم کے جو دنیاوی مطلب، جو چیزیں ہیں، ان سے ہم مرعوب نہ ہوں، بلکہ اللہ تعالی کی محبت ہمیں نصیب ہو اور اللہ تعالی کی فرمانبرداری کریں۔
وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ (127) قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ (128) قَالُـوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ (129)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا: ”کیا آپ موسیٰ اور اُس کی قوم کو کھلا چھوڑ رہے ہیں، تاکہ وہ زمین میں فساد مچائیں، اور آپ اور آپ کے خداؤں کو پسِ پشت ڈال دیں؟“ (56) وہ بولا: ”ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے، اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے، اور ہمیں ان پر پورا پورا قابو حاصل ہے“ ﴿127﴾ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: ”اللہ سے مدد مانگو، اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ زمین اللہ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، اُس کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور آخری انجام پرہیزگاروں ہی کے حق میں ہوتا ہے۔“ ﴿128﴾ انہوں نے کہا کہ: ”ہمیں تو آپ کے آنے سے پہلے بھی ستایا گیا تھا، اور آپ کے آنے کے بعد بھی (ستایا جا رہا ہے)“ موسیٰ نے کہا: ”اُمید رکھو کہ اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا، اور تمہیں زمین میں اُس کا جانشین بنادے گا، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا کام کرتے ہو“ ﴿129﴾
حاشیہ: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ایمان لانے والے جادوگروں کو دھمکیاں تو دی تھیں، لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے اور جادوگروں کے ایمان اور استقامت کو دیکھ کر حاضرین، اور خاص طور پر بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد ایمان لے آئی کہ اُس کو فوری طور سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ماننے والوں پر ہاتھ ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوا، اور جب مجمع درہم برہم ہوگیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ماننے والے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اس موقع پر فرعون کے سرداروں نے یہ بات کہی جو یہاں مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے تو ان لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ اپنی طاقت جمع کر کے آپ کے لئے ایک خطرہ بن جائیں گے۔ فرعون نے اپنی خفت مٹانے کے لئے اُن کو جواب دیا کہ فوری طور پر چاہے میں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، مگر اب بنی اسرائیل کو ایک ایک کر کے ختم کروں گا، البتہ عورتوں کو اس لئے زندہ رکھوں گا کہ وہ ہماری خدمت کے کام آسکیں۔ اُس نے اپنے آدمیوں کو یہ بھی یقین دلایا کہ حالات ہمارے قابو میں ہیں، اور ہماری حکمت عملی ایسی ہے کہ ہمارے لئے کوئی بڑا خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرنے کا ایک نیا دور شروع ہوا جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مؤمنوں کو تسلی دی کہ صبر سے کام لیتے رہو۔ آخری انجام ان شاء اللہ تمہارے ہی حق میں ہوگا۔
تو یہ گویا کہ انسان وہ جو حالات ہوتے ہیں اس میں ڈر تو جاتا ہے، لیکن پیغمبر چونکہ ہر طرف دیکھتا ہے یعنی اوپر بھی اللہ پاک کی طرف سے جو احکامات ہوتے ہیں وہ بھی آ رہے ہوتے ہیں، اور پھر اللہ پاک کے جو تکوینی جو احکامات ہوتے ہیں وہ بھی جانتا ہے، سارا کچھ اس کو نظر آتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ اپنی قوم کو تسلی دے رہے تھے کہ انجام کار وہ تمہاری کامیابی ہوگی، اس وجہ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس صرف یہ ہے کہ وقت پر جو ہے وہ صبر کرنا پڑے گا، اور بے شک اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دی، لیکن یہ والی بات ضرور ہے کہ وقتی طور پر، امتحان کے طور پر، کچھ مشکلات وغیرہ آ سکتی ہیں۔ تو اس وقت بھی وہی تھے، تو ان لوگوں نے کہا تھا، ہم تو آپ سے پہلے بھی ستائے گئے تھے اور آپ کے بعد بھی، مطلب، ستائے جا رہے ہیں آپ کے آنے کے بعد بھی، تو پھر موسیٰ علیہ السلام نے ایک تسلی دی۔ اللہ پاک ہم سب کو حق پر جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔