حج کی تاریخ، تعمیرِ کعبہ اور قربانیٔ ابراہیمی کا پس منظر
سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، جلد 5، حج، اشاعت اول: 5 نومبر 2020 بمطابق: 19 ربیع الاول 1442 ہجری، (حصہ اول)
حج کا مفہوم اور مکہ مکرمہ کی آبادی کا تاریخی آغاز
ستارہ پرستی کا رد اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت
اولادِ ابراہیم علیہ السلام کی مختلف علاقوں میں آبادکاری کے مقاصد
سابقہ انبیائے کرام کے ہاں "بیت ایل" (بیت اللہ) اور قربان گاہوں کی تعمیر
تورات کے مطابق نذر اور قربانی کے قدیم احکام و شرائط
ملتِ ابراہیمی میں قربانی کی اصل حقیقت اور تسلیم و رضا کی آزمائش
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ آج جمعے کی رات ہے اور جمعے کی رات ہمارے ہاں حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی مرتب کردہ سیرت النبی کی کتاب، اس سے درس ہوتا ہے۔ حضرت کا درس بڑا نادر ہے۔
کیونکہ اس میں حضرت نے سیرت کے عنوان سے جو ہمارے مذہبی فریضے ہیں، ان کا جو بہترین تجزیہ فرمایا ہے کہ یہ کس طریقے سے مطلب یعنی فرض ہوئے ہیں اور اس کی تفصیلات کیا ہیں اور گزشتہ امتوں کے ساتھ اس کی کیا باتیں مشترک ہیں اور کچھ کیا مختلف ہیں۔ اور جو مختلف ہیں اس کی کیا کیا وجوہات ہیں، بڑی خوبصورتی کے ساتھ، بڑی جامعیت کے ساتھ حضرت نے یہ جمع فرمایا ہے۔ اگرچہ معلومات کے لحاظ سے تو بہت ساری کتابوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس مقصد کے لیے کہ ان کی جو وجہ ہے اور اس قسم کی جو تجزیہ نگاری ہے، اس کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ بہت ہی عجیب انداز میں حضرت نے اس کو جمع فرمایا ہے۔ تو آج انشاء اللہ حج کے بارے میں بات ہوگی، آپ کو خود ہی ان شاء اللہ پتہ چلتا جائے گا کہ کس طریقے سے حضرت نے باتیں فرمائی ہیں۔
﴿وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ ﴾ (آل عمران۔ ۱۰) حج اسلام کی عبادت کا چوتھا رکن، اور انسان کی خدا پرستی اور عبادت کا پہلا اور قدیم طریقہ ہے۔ اس کے لفظی معنی قصد اور ارادہ کے ہیں اور اس سے مقصود خاص مذہبی قصد اور ارادہ سے کسی مقدس مقام کا سفر ہے لیکن اسلام میں یہ ملک عرب کے شہر مکہ میں جا کر وہاں کی حضرت ابراہیمؑ کی بنائی ہوئی مسجد خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانے اور مکہ کے مختلف مقدس مقامات میں حاضر ہو کر کچھ آداب اور اعمال بجالانے کا نام ہے۔
انسانی تمدن کی ابتدائی تاریخ پڑھنے والوں کو معلوم ہے کہ انسانی جماعت کی ابتدائی شکل خاندان اور خانوادہ کی صورت میں تھی۔ اس سے آگے بڑھی تو چند خیموں اور جھونپڑیوں کی ایک مختلف سی آبادی بنی۔ پھر وہ شہر کی صورت میں منتقل ہوئی، اس سے ترقی کر کے اس نے ایک قوم ایک ملک کا قالب اختیار کیا اور بالآخر وہ تمام دنیا پر چھا گئی۔ مکہ اس انسانی ترقی کے تمام مدارج اور مراتب کی ایک مرتب تاریخ ہے، وہ حضرت ابراہیم خلیلؑ کے عہد میں ایک خاندان کا تبلیغی مستقر بنا۔ پھر حضرت اسماعیلؑ کے زمانہ میں وہ چند خیموں اور جھونپڑیوں کی مختصر سی آبادی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ پھر رفتہ رفتہ اس نے عرب کے مذہبی شہر کی جگہ حاصل کر لی، اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد وہ اسلامی دنیا کا مذہبی مرکز قرار پایا۔
دنیا کی ابتدائی آبادی کے عہد میں یہ دستور تھا کہ ہر آبادی کے محصورانہ احاطہ میں دو خاص با عظمت مکان بنائے جاتے تھے۔ ایک اس آبادی کے بادشاہ کا محل یا قلعہ اور دوسرے اس آبادی کے کاہن کا معبد ہوتا تھا۔ عموماً ہر آبادی کسی نہ کسی دیوتا یا ستارہ کی طرف منسوب ہو کر اس کی حفاظت اور پناہ میں ہوتی تھی اور اسی محافظ دیوتا یا ستارہ کی وہاں پوجا ہوتی تھی۔ اس کے معبد کا صحن دارالامن ہوتا تھا۔ نذرانہ کی تمام رقمیں اور پیداواریں اس میں جمع ہوتی تھیں اور جیسے جیسے اس آبادی کی بادشاہی اور حکمرانی بڑھتی جاتی تھی اس دیوتا کی حکومت کا رقبہ بھی بڑھتا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ کا آبائی وطن عراق تھا جہاں کلدانیوں کی آبادی اور حکومت تھی۔ یہاں بھی بدستور ستاروں کی پوجا ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیمؑ نے نبوت پا کر ستارہ پرستی کے خلاف دنیا میں سب سے پہلی آواز بلند کی اور ایک خدا کی پرستش کی دعوت دی۔ ان کے خاندان اور قوم کے لوگوں نے ان کو اس کے لئے تکلیفیں دیں اور بالآخر ان کو اپنا وطن چھوڑ کر شام مصر اور عرب کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ یہ تمام وہ مقامات تھے جن میں سام کی اولاد پھیلی ہوئی تھی اور مختلف ناموں سے ان کی حکومتیں قائم تھیں۔ آثار قومیات، لسانیات اور دوسرے تاریخی قرائن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرب کا ملک سامی اقوام کا پہلا مسکن اور پہلی آبادی تھی اور یہیں سے نکل کر وہ یمن اور خلیج فارس کے سواحل سے عراق پہنچی تھیں اور شام و فلسطین گئی تھیں اور مصر میں ہکسوس یا چرواہے (بدو) بادشاہوں کے نام سے حکمران تھیں۔
حضرت ابراہیمؑ نے مختلف شہروں کے سفر کے بعد عرب و شام کی سرحد کا رخ کیا اور بحر میت کے پاس اردن میں اپنے بھتیجے حضرت لوطؑ کو آباد کیا۔ اپنے بیٹے حضرت اسحاق کو کنعان (فلسطین) میں بسایا، اپنے دوسرے بیٹوں مدین وغیرہ کو حجاز کی طرف بحر احمر کے ساحل پر اس مقام پر جگہ دی جس کو ان کے انتساب سے آج تک مدین کہتے ہیں اور اس سے آگے بڑھ کر فاران کی وادی میں حضرت اسماعیلؑ کی سکونت مقرر کی۔ یہ تمام مقامات وہ شاہراہ تھی جس پر سے مصر و شام، حجاز و یمن اور حجاز و یمن سے مصر و شام آنے جانے والے تاجروں سوداگروں اور قافلوں کا تانتا لگا رہتا تھا۔ اپنی اولاد کو اس خاص سلسلہ سے آباد کرنے سے حضرت ابراہیمؑ کے دو مقصد تھے۔ ایک یہ کہ تجارتی قافلوں کی آمد و رفت کی بنا پر اس کو غلہ اور ضروری سامان کے ملنے میں تکلیف نہ ہو اور ساتھ ہی وہ بھی اس سوداگری میں بہ آسانی شریک ہو سکے اور دوسرا یہ کہ خدا کی خالص توحید کی تبلیغ کے لئے قوموں کے گزرگاہ بہترین تبلیغی مرکز تھے۔ یہاں وہ عراق و شام کی جبار و قہار قوموں کے حدود سے جو مشہور بت پرست اور ستارہ پرست تھیں علیحدہ رہ کر لوگوں میں دین حق کو پھیلا سکتی تھی۔
بیت اللہ
حضرت ابراہیمؑ کا دستور یہ تھا کہ جہاں کہیں ان کو روحانیت کا کوئی جلوہ نظر آتا وہاں خدا کے نام سے ایک پتھر کھڑا کر کے خدا کا گھر اور قربان گاہ بنا لیتے تھے۔ چنانچہ تورات کتاب پیدائش میں ان کی تین قربان گاہوں یا خدا کا گھر بنانے کے واقعات مذکور ہیں: ’’تب خداوند نے ابرام کو دکھائی دے کے کہا کہ یہی ملک میں تیری نسل کو دوں گا اور اس نے وہاں خداوند کے لئے جو اس پر ظاہر ہوا ایک قربان گاہ بنائی اور وہاں سے روانہ ہو کے اس نے بیت ایل (بیت اللہ) کے پورب کے ایک پہاڑ کے پاس اپنا ڈیرہ کھڑا کیا، بیت ایل اس کے پچھم اور عئی اس کے پورب تھا اور وہاں اس نے خدا کے لئے ایک قربان گاہ بنائی اور خداوند کا نام لیا (۱۲۔ ۷-۸)‘‘
اس کے بعد ہے: ’’اور وہ (ابراہیم) سفر کرتا ہوا دکھن سے بیت ایل میں اس مقام تک پہنچا جہاں اس نے شروع میں ایک قربان گاہ بنائی اور وہاں ابراہیم نے خدا کا نام لیا۔‘‘ (۱۳۔ ۴) پھر ایک اور جگہ پہنچے جہاں ان کو خدا کی وحی اور برکت کا پیام پہنچا اور حکم ہوا: ’’اٹھ اور اس ملک کے طول و عرض میں پھر کہ میں اسے تجھ کو دوں گا اور ابراہیم نے اپنا ڈیرہ اٹھایا اور ممرے کے بلوطوں میں جو حبرون میں ہیں جا رہا اور وہاں ایک قربان گاہ بنائی۔‘‘ (۱۳۔ ۱۷-۱۸) اسی قسم کی قربان گاہیں اور خدا کے گھر حضرت اسحاقؑ، حضرت یعقوبؑ اور حضرت موسیٰ نے بھی بنائے اور آخر حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ نے بیت المقدس کی تعمیر کی جو بنی اسرائیل کا کعبہ اور قبلہ قرار پایا۔ حضرت اسحاقؑ کے حال میں ہے کہ جہاں ان پر وحی اور وعدہ کی بشارت نازل ہوئی۔ ’’اور اس نے وہاں مذبح بنایا اور خداوند کا نام لیا اور وہاں اپنا خیمہ کھڑا کیا اور وہاں اسحاقؑ کے نوکروں نے کنواں کھودا۔‘‘ (پیدائش ۲۶- ۲۵)
حضرت یعقوبؑ کو جہاں مقدس رؤیا ہوئی، وہاں: ’’اور یعقوب صبح سویرے اٹھا اور اس پتھر کو جسے اس نے اپنا تکیہ کیا تھا، کھڑا کیا، اور اس کے سرے پر تیل ڈالا، اور اس مقام کا نام بیت ایل رکھا اور یہ پتھر جو میں نے ستون کھڑا کیا خدا کا گھر ہو گا اور سب میں سے جو تو مجھے دے گا دسواں حصہ (عشر) تجھے (خدا کو) دوں گا‘‘ (۲۸۔ ۱۸-۲۲) حضرت موسیٰؑ کو حکم ہوتا ہے: ’’اور اگر تو میرے لئے پتھر کی قربان گاہ بنائے تو تراشے ہوئے پتھر کی مت بنائیو کیونکہ اگر تو اس کے لئے اوزار لگائے گا تو اسے ناپاک کرے گا، اور تو میری قربان گاہ پر سیڑھی سے ہرگز مت چڑھیو تا کہ تیری برہنگی اس پر ظاہر نہ ہو‘‘ (خروج ۲۰۔ ۲۵-۲۶) حضرت موسیٰؑ نے خدا کے حکم کے بموجب: ’’اور پہاڑ کے تلے ایک قربان گاہ اور بنی اسرائیل کے بارہ فرقوں کے لئے بارہ ستون بنائے اور سلامتی کے ذبیحے بیلوں سے خداوند کے لئے ذبح کئے اور موسیٰ نے آدھا خون لے کے بانسوں میں رکھا اور آدھا قربان گاہ پر چھڑکا‘‘ (خروج ۲۴۔ ۴-۶)
اوپر کے اقتباسات میں اس قسم کی تعمیر یا مکان کا ایک نام (مذبح، قربان گاہ) بتایا گیا ہے اور دوسرا بیت ایل یعنی بیت اللہ اور خدا کا گھر‘ اس سے ثابت ہوا کہ حضرت ابراہیمؑ اور ان کی نسل میں اس قسم کی قربان گاہ اور بیت اللہ بنانے کا دستور تھا، اسی قسم کا وہ گھر ہے جو مکہ معظمہ میں کعبہ، مسجد حرام اور مسجد ابراہیم کے نام سے آج تک قائم ہے بلکہ اس کی نسبت اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کا پہلا گھر ہے۔
حضرت اسماعیلؑ کی قربانی اور اس کی شرائط:
اس کتاب کی پہلی جلد کے مقدمہ میں یہ بحث تفصیل سے آچکی ہے کہ قرآن پاک کے بموجب حضرت ابراہیمؑ نے اپنے جس محبوب اور اکلوتے بیٹے کی قربانی کا خواب دیکھا تھا اور توراۃ کے مطابق جس کی قربانی کا حکم ہوا تھا، وہ حضرت اسماعیلؑ تھے اور یہ بحث بھی وہیں گزر چکی ہے کہ قربانی کرنے سے توراۃ کے محاورہ میں یہ مقصود ہے کہ وہ خدا کی عبادت گاہ کی خدمت کے لئے نذر کر دیا جائے وہ نذر کردہ جانوروں پر ہاتھ رکھ دیتا تھا اور وہ جانور اس کی طرف قربانی کئے جاتے تھے، جو لوگ خدا کی عبادت گاہ کی خدمت کے لئے نذر کئے جاتے تھے وہ نذر کے دنوں میں سر نہیں منڈاتے تھے جب نذر کے دن پورے ہو جاتے تھے تب ان کا سر مونڈا جاتا تھا، جو قربانی یا نذر پیش کی جاتی تھی وہ پہلے قربان گاہ پر ہلائی یا پھرائی جاتی تھی، اس کے بعد وہ قربانی کی جاتی یا جلائی جاتی تھی۔
ملت ابراہیمی کی حقیقت قربانی ہے:
توراۃ اور قرآن پاک دونوں سے یہ ثابت ہے کہ ملت ابراہیمی کی اصلی بنیاد قربانی تھی اور یہی قربانی حضرت ابراہیمؑ کی پیغمبرانہ اور روحانی زندگی کی اصلی خصوصیت تھی اور اسی امتحان اور آزمائش میں پورے اترنے کے سبب سے وہ اور ان کی اولاد ہر قسم کی نعمتوں اور برکتوں سے مالامال کی گئی، توراۃ کی کتاب پیدائش میں ہے: ’’خداوند فرماتا ہے، اس لئے کہ تو نے ایسا کام کیا اور اپنا بیٹا ہاں اپنا اکلوتا بیٹا دریغ نہ رکھا، میں نے اپنی قسم کھائی کہ میں برکت دیتے ہی تجھے برکت دوں گا، اور بڑھاتے ہی تیری نسل کو آسمان کے ستاروں اور دریا کے کنارے کی ریت کے مانند بڑھاؤں گا، اور تیری نسل اپنے دشمنوں کے دروازوں پر قابض ہو جائے گی، اور تیری نسل سے زمین کی ساری قوم برکت پائے گی، کیونکہ تو نے میری بات مانی۔‘‘ (۲۲۔ ۱۶-۱۷-۱۸)
قرآن پاک میں ہے: ﴿ وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ﴾ (بقره - ۱۵) اور جب ابراہیم کے پروردگار نے چند باتوں میں اس کی آزمائش کی، پھر اس نے ان کو پورا کیا، تو خدا نے اس سے کہا کہ میں تجھ کو لوگوں کے لئے پیشوا بنانے والا ہوں۔ ﴿ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ o إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾ (بقره - ۱۶) اور ہم نے ابراہیم کو دنیا میں چنا اور وہ آخرت میں یقیناً نیکوں میں سے ہے، جب اس کے خدا نے اس سے کہا کہ اپنے کو سپرد کر دے، اس نے کہا میں نے اپنے کو دنیا کے پروردگار کے سپرد کر دیا۔ ﴿ يٰاِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴾ (صافات - ۳) اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، ہم یونہی اچھے کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ یہی وہ برکت ہے جس کو مسلمان دن میں پانچ مرتبہ خدا کے سامنے یاد کرتے ہیں: ﴿اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ﴾
اب دیکھو کہاں کہاں سے باتیں، ڈانڈے مل رہی ہیں، اور ہم لوگ تو ویسے ظاہراً مطلب مانتے ہیں تقلیداً، لیکن تحقیقاً جب بات سمجھ میں آ جاتی ہے تو اس کی بات اور ہوتی ہے۔
لیکن یہ قربانی کیا تھی؟ یہ محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی بلکہ روح اور دل کی قربانی تھی، یہ ماسوی اللہ اور غیر کی محبت کی قربانی خدا کی راہ میں تھی، یہ اپنی عزیز ترین متاع کو خدا کے سامنے پیش کر دینے کی نذر تھی، یہ خدا کی اطاعت، عبودیت اور کامل بندگی کا بے مثال منظر تھا، یہ تسلیم و رضا اور صبر و شکر کا وہ امتحان تھا، جس کو پورا کئے بغیر دنیا کی ’’پیشوائی‘‘ اور آخرت کی ’’نیکی‘‘ نہیں مل سکتی، یہ باپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کے خون سے زمین کو رنگین کر دینا نہ تھا، بلکہ خدا کے سامنے اپنے تمام جذبات اور خواہشوں، تمناؤں اور آرزوؤں کی قربانی تھی، اور خدا کے حکم کے سامنے اپنے ہر قسم کے ارادے اور مرضی کو معدوم کر دینا تھا، اور جانور کی ظاہری قربانی اس اندرونی نقش کا ظاہری عکس اور اس خورشیدِ حقیقت کا ظل مجاز تھا۔
اب اگر میں ذرا تصوف کی terminology میں بات کروں۔ تو جس چیز کو فنا کہتے ہیں۔ یعنی اپنی خواہشات کو، اپنی آرزوؤں کو، فنا کر دینا اللہ تعالی کے لیے اور ان کو کچھ نہ سمجھنا اللہ تعالی کے حکم کے سامنے۔ یہ فنا ہے۔ اور پھر اس کے بعد پھر اللہ جل شانہ اس کو بقا نصیب فرما دیتے ہیں۔ یعنی اپنی طرف سے اس کو خلیفہ بنا کر لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں۔ اور پھر ان سے وہ اپنا جو کام ہے پورا کرواتے ہیں۔
تو اب ذرا دیکھیں یعنی یہ مطلب ساری باتیں ابھی جو آیت کریمہ ہے تو اس میں اس فنائیت کی بھی بات ہے اور ساتھ ساتھ وہ بقا کی بھی بات ہے کہ یعنی جو اللہ جل شانہ نے پھر ان کو کیسے مطلب صلہ عطا فرما دیا۔ تو اس میں ظاہر ہے مطلب ہے کہ
وَإِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ۔ جب اس کے خدا نے اسے کہا کہ اپنے کو سپرد کر دے۔ تو اس نے کہا میں نے اپنے آپ کو دنیا کے پروردگار کے سپرد کیا۔
اس کے بعد پھر کیا ہوا؟
يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ۔ اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچا کر کے دکھایا، ہم یوں ہی اچھے کام کرنے والوں کو بدلے دیتے ہیں۔
تو پھر بدلہ کیا دیا؟ پھر اللہ جل شانہ نے اس پر ظاہر ہے وہ برکت اتاری۔ اور ایسی برکت اتاری کہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ تو یہ اللہ جل شانہ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ فرمایا۔ تو حضرت نے بھی مطلب یہ بات فرمائی ہے کہ یہ اصل میں تمام چیزوں کی قربانی تھی، اپنے جذبات کی، اپنے احساسات کی، اپنے ادراکات کی۔ اور پھر اس پر اللہ جل شانہ کی قبولیت آئی اور مطلب اللہ پاک نے اس کو سرفراز فرما دیا۔
جاری ہے ان شاء اللہ