سختی و آسانی کی آزمائش، مکرِ الٰہی سے بے فکری کا انجام اور سابقہ اقوام سے عبرت
درس نمبر 290، سورہ الاعراف آیات 94 تا 104، اشاعتِ اول: 2 اور 3اکتوبر، 2022، بمطابق 5 اور 6 ربیع الاول ، 1444 ہجری
اللہ تعالیٰ عاجزی کے لیے بدحالی بھیجتے ہیں۔
ایمان اور تقویٰ اختیار کرنے سے برکتیں کھلتی ہیں۔
بداعمالیوں کے باوجود ملنے والی خوشحالی دراصل ڈھیل ہے۔
ہوشیار شخص دوسروں کے انجام سے سبق لیتا ہے۔
حضرت موسیٰ کو متکبر فرعون کی طرف بھیجا گیا۔
ہمیں ان قرآنی واقعات سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ (94) ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (95) وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰـكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ (96) اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآىٕمُوْنَ (97) اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ (98) اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ (99)
ترجمہ: اور ہم نے جس کسی بستی میں کوئی پیغمبر بھیجا، اُس میں رہنے والوں کو بدحالی اور تکلیفوں میں گرفتار ضرور کیا، تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں۔ ﴿94﴾
اس میں یہ
حاشیہ: بتایا یہ جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اپنے عذاب سے ہلاک کیا، انہیں (معاذ اللہ) جلدی سے غصے میں آکر ہلاک نہیں کر دیا بلکہ انہیں سالہا سال تک راہِ راست پر آنے کے بہت سے مواقع فراہم کئے۔ اوّل تو پیغمبر بھیجے جو انہیں برسوں تک ہوشیار کرتے رہے، پھر شروع میں انہیں کچھ معاشی بدحالی یا بیماریوں وغیرہ کی مصیبتوں سے دوچار کیا، تاکہ اُن کے دل کچھ نرم پڑیں۔ کیونکہ بہت سے لوگ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں، اور تنگی ترشی میں بعض اوقات حق بات کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ پیدا ہو جاتی ہے۔ جب ایسے حالات میں پیغمبران کو متنبہ کرتے ہیں کہ ذرا سنبھل جاؤ، ابھی اللہ تعالیٰ نے ایک اشارہ دیا ہے، جو کسی وقت باقاعدہ عذاب میں تبدیل ہو سکتا ہے، تو بعض لوگوں کے دل پسیج جاتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب اُن پر خوش حالی آتی ہے تو اُن کے دل میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس پیدا ہوتا ہے، اور وہ اُس وقت حق بات کو قبول کرنے کے لئے نسبتاً زیادہ آمادہ ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں کو بدحالی کے بعد خوش حالی کی نعمت بھی عطا کی جاتی ہے، تاکہ وہ شکر گزار بن سکیں۔ حالات کی اس تبدیلی سے بعض لوگ بیشک سبق لے لیتے ہیں، اور راہِ راست پر آجاتے ہیں۔ لیکن کچھ ضدی طبیعت کے لوگ ان باتوں سے کوئی سبق نہیں سیکھتے، اور یہ کہتے ہیں کہ یہ دُکھ سکھ اور سرد و گرم حالات تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پیش آچکے ہیں۔ انہیں خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی اشارہ قرار دینے کی کیا ضرورت ہے؟ اس طرح جب ان لوگوں پر ہر طرح کی حجت تمام ہو چکی ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب آتا ہے، اور اس طرح پکڑ لیتا ہے کہ ان کو پہلے سے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
ترجمہ: پھر ہم نے کیفیت بدلی، بدحالی کی جگہ خوش حالی عطا فرمائی، یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے، اور کہنے لگے کہ دُکھ سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچتے رہے ہیں۔ پھر ہم نے انہیں اچانک اس طرح پکڑ لیا کہ انہیں (پہلے سے) پتہ بھی نہیں چل سکا ﴿95﴾ اور اگر یہ بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کر لیتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین دونوں طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ لیکن انہوں نے (حق کو) جھٹلایا، اس لئے اُن کی مسلسل بدعملی کی پاداش میں ہم نے ان کو اپنی پکڑ میں لے لیا ﴿96﴾ اب بتاؤ کہ کیا (دوسری) بستیوں کے لوگ اس بات سے بالکل بے خوف ہوگئے ہیں کہ کسی رات ہمارا عذاب اُن پر ایسے وقت آپڑے جب وہ سوئے ہوئے ہوں؟ ﴿97﴾
حاشیہ: ان واقعات کے حوالے سے اب کفار مکہ کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے کسی کو بھی بے فکر ہو کر نہیں بیٹھ رہنا چاہئے۔ اور یہ بات صرف کفار مکہ ہی کے لئے نہیں ہے، بلکہ ہر وہ شخص جو کسی گناہ، بدعملی یا ظلم میں مشغول ہو، اُسے ان آیات کریمہ کا ہمیشہ دھیان رکھنا چاہئے۔
تو یہاں پر ہم سب لوگوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ کہ ہم لوگ بھی یہ جو عذابات آج کل آرہے ہیں، تکالیف آرہی ہیں، پریشانیاں آرہی ہیں۔ اب دیکھیں یہاں پر صاف بتایا گیا ہے یعنی قرآن پاک کی آیات مبارکہ ہے۔ جس میں فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے لوگوں کو کچھ تکالیف ویسے عام سی آ جاتی ہیں۔ یعنی بیماریاں، پریشانیاں، معاشی بدحالیاں پھر آ جاتی ہیں۔ تو اگر وہ لوگ سنبھل جائیں تو اچھی بات ہے۔ اور پھر کچھ لوگوں کی فطرت ذرا نیک ہوتی ہے تو ان کو خوشحالی مطلب پھر دوبارہ ان پر خوشحالی لاتے ہیں۔ تو ان کو شکر کا موقع ملتا ہے۔ تو اگر وہ شکر کر لیتے ہیں تو بچ جاتے ہیں، مطلب دونوں پہ حجت تمام ہو جاتی ہے۔ اب اس کے بعد اگر کچھ لوگ سمجھ گئے اور سوچ سمجھ سے کام لے لیا تو وہ تو بچ جاتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ جو ضدی ہوتے ہیں وہ ان چیزوں سے نیگیٹو اثر لیتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو ویسے ہی باتیں ہیں کیونکہ یہ تو ہمارے باپ دادوں کے ساتھ بھی ہوئیں، کبھی سختی آئی ہے، کبھی آسانی آئی ہے، کبھی کیا آیا ہے، کبھی کیا آیا ہے۔ تو یہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔ اور یہی چیز ہوتی ہے جو کہ نعوذ باللہ من ذلک گویا کہ وہ اللہ پاک کو چیلنج کر رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض لوگ تو اس طرح کہہ بھی دیتے ہیں کہ اگر عذاب لا سکتے ہیں تو لے آئیں۔ اللہ اکبر، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمادے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو بچنا چاہیے ایسے حالات میں۔
ترجمہ: اور کیا ان بستیوں کے لوگوں کو اس بات کا (بھی) کوئی ڈر نہیں ہے کہ ہمارا عذاب اُن پر کبھی دن چڑھے آجائے جب وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہوں؟ ﴿98﴾ بھلا کیا یہ لوگ اللہ کی دی ہوئی ڈھیل (کے انجام) سے بے فکر ہو چکے ہیں؟
حاشیہ: یہاں اصل لفظ ”مکر“ ہے جس کے معنی عربی میں ایسی خفیہ تدبیر کے ہوتے ہیں جس کا مقصد وہ شخص نہ سمجھے جس کے خلاف وہ کارروائی کی جا رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اُن کی بداعمالیوں کے باوجود دُنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جس کا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ اپنی بدعملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو اُن کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے۔ لہٰذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے، بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہئے، اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ہم راہِ راست سے بھٹکے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔
آمین ثم آمین۔ اللہ جل شانہ ہمیں سمجھ بوجھ عطا فرمائے صحیح معنوں میں۔ اور قرآن پاک میں جو اشارے اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جو مطلب ہمیں پیشین گوئیاں بتائی گئی ہیں۔ تو اس کے مطابق ہم لوگوں کو اس سے اثر لینا چاہیے۔ اور ہم لوگوں کو بدعملیوں سے رجوع کرنا چاہیے، یعنی اچھے اعمال کی طرف اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو یعنی پورا کرنے کی طرف۔ اور ایمان و تقویٰ کی طرف اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرما دے۔
اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ (99) اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ (100) تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآىٕهَا ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ (101) وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ (102) ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ (103) وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (104)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: (اگر ایسا ہے) تو (یہ یاد رکھیں کہ) اللہ کی دی ہوئی ڈھیل سے وہی لوگ بے فکر ہو بیٹھتے ہیں جو آخر کار نقصان اٹھانے والے ہوتے ہیں ﴿99﴾ جو لوگ کسی زمین (کے باشندوں کی ہلاکت) کے بعد اُس کے وارث بن جاتے ہیں، بھلا کیا اُن کو یہ سبق نہیں ملا کہ اگر ہم چاہیں تو اُن کو (بھی) اُن کے گناہوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں مبتلا کر دیں؟ اور (جو لوگ اپنی ضد کی وجہ سے یہ سبق نہیں لیتے) ہم اُن کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کوئی بات نہیں سنتے ﴿100﴾ یہ ہیں وہ بستیاں جن کے واقعات ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے پاس اُن کے پیغمبر کھلے کھلے دلائل لے کر آئے تھے، مگر جس بات کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے، اُس پر کبھی ایمان لانے کو تیار نہیں ہوئے۔ جو لوگ کفر کو اپنا چکے ہوتے ہیں، اُن کے دلوں پر اللہ اسی طرح مہر لگا دیتا ہے ﴿101﴾ ہم نے ان کی اکثریت میں عہد کی کوئی پاسداری نہیں پائی، اور واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے نافرمان ہی پایا ﴿102﴾ پھر ہم نے ان سب کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا، تو انہوں نے (بھی) ان (نشانیوں) کی ظالمانہ ناقدری کی۔ اب دیکھو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا ﴿103﴾ موسیٰ نے کہا تھا کہ: ”اے فرعون! یقین جانو کہ میں ربّ العالمین کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہوں ﴿104﴾
یہ جو آیات بار بار آتی ہیں اس سلسلے میں کہ لوگوں پر عذاب آ جاتا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم کو تباہ کر دیا جاتا ہے عذاب آ جاتا ہے۔ اس کے بعد انہی کی نسل سے جو بچے ہوتے ہیں مطلب ان سے اور قوم آباد کر لیا جاتا ہے۔ اور ان کو ان سارے واقعات کا پتہ ہوتا ہے۔ مطلب جیسے آ رہے ہوتے ہیں نا جیسے ہمیں اپنے انڈیا کی ہسٹری معلوم ہے کہ کون آیا کون بادشاہ اور کیا ہوا کیا ہوا مطلب ظاہر ہے پڑھتے بھی ہیں اور ویسے بھی۔ تو معلوم ہوتے ہیں ساری چیزیں۔ لیکن وہی والی بات ہے کہ انسان جب دوسرے کو مصیبت میں دیکھتا ہے تو یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مجھ پر بھی آ سکتا ہے۔ اپنے بارے میں وہ ہمیشہ optimistic ہوتا ہے۔ اور دوسروں کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ تو ایسے ہیں یہ تو ایسے ہیں۔ تو جن لوگوں کو ڈھیل دی جاتی ہے ڈھیل سے مراد یہ ہے کہ فی الحال ان پر عذاب نہیں لایا جاتا ان کو موقع دیا جاتا ہے۔ تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم بچے ہوئے ہیں۔ تو اس طرح تو پہلے والے بھی سمجھتے تھے کہ ہم بچے ہوئے ہیں لیکن اچانک پر عذاب آ گیا۔ ایسی صورت میں گویا کہ ہمیں دوسروں سے عبرت پکڑنی چاہیے۔ کہتے ہیں کہ ایک شخص جو اپنے اوپر تجربہ کرتا ہے پھر عقل سیکھتا ہے تو یہ بے وقوفی کی بات ہے۔ اور جو دوسروں پر جو گزرا ہوتا ہے اس سے سبق سیکھتا ہے تو یہ ہوشیار لوگ ہوتے ہیں۔ مطلب ایک اپنے آپ کو جو سنبھالتے ہیں۔ تو یہاں فرمایا کہ
حاشیہ: بعض لوگوں کو اُن کی بداعمالیوں کے باوجود دُنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جس کا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے۔ پھر جب وہ اپنی بدعملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو اُن کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے۔ لہٰذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہئے، بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہئے، اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگر ہم راہِ راست سے بھٹکے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے اپنی پناہ میں رکھے۔
اللہ جل شانہ ہمیں ایسے حالات میں عقل سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور وہ کام نہ کریں جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہوا ہے۔ اور ہم اپنے آپ کو اس سے بچائیں۔
حاشیہ: یہاں سے آیت نمبر 162 تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کے کچھ اہم حصے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اس سورت میں فرعون کے ساتھ آپ کی گفتگو اور مقابلے اور اُس کے غرق ہونے کی تفصیل، نیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا ہونے کے واقعات آرہے ہیں۔ آپ حضرت یعقوب علیہ السلام کی چوتھی پشت میں آتے ہیں۔ سورۂ یوسف میں قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جب مصر کے وزیر خزانہ بن گئے تو انہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو فلسطین سے مصر بلا لیا تھا۔ اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی ساری اولاد جو ”بنو اسرائیل“ کہلاتی ہے، پھر وہیں آباد ہو گئی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے اُن کو شہری آبادی سے الگ ایک علاقہ دے دیا تھا۔ مصر کے ہر بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کے بعد رفتہ رفتہ مصر کے بادشاہوں نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام سمجھنا شروع کر دیا۔ اور دوسری طرف تکبر میں آکر انہی میں کا ایک فرعون (جس کا نام جدید تحقیق کے مطابق منفتاح تھا) خدائی کا دعوے دار بن بیٹھا۔ ان حالات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر اُس کے پاس بھیجا گیا۔ اُن کی پیدائش، مدین کی طرف ہجرت اور پھر نبوت عطا ہونے کے واقعات تو ان شاء اللہ سورۂ طٰہٰ (سورت نمبر 20) اور سورۂ قصص (سورت نمبر 28) میں آئیں گے۔ اس کے علاوہ مزید 35 سورتوں میں آپ کے واقعات کے مختلف حصے بیان فرمائے ہیں۔ لیکن فرعون کے ساتھ اُن کے جو واقعات پیش آئے، ان کا تذکرہ یہاں ہو رہا ہے۔
موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ساری بات ہو رہی تھی۔ کہ موسیٰ علیہ السلام یعقوب علیہ السلام ہی کی اولاد میں تھے یعنی بنی اسرائیل میں تھے اور ان کی چوتھی پشت میں تھے۔ یعنی یوسف علیہ السلام نے سب کو بلا لیا تو وہیں پر آباد ہو گئے۔ تو چوتھے پشت میں مطلب جو ہے نا وہ دوسری طرف جو عزیز مصر والی بات تھی وہ سلسلہ چل رہا تھا تو اس وقت ان بادشاہوں کو فرعون کہا جایا کرتا تھا۔ تو ان کا اپنا نام بھی ہوتا تھا اور بطور جیسے مطلب یہ ہے کہ مغل emperor ہوتے ہیں مغل بادشاہ جس طرح ان کے اپنے وہ نام بھی ہوتے۔ تو یہ فرعون جو تھا جو موسیٰ علیہ السلام کے وقت تھا اس وقت اس کو اس کا نام جاتا منفتاح تھا۔ اس نے اپنے آپ کو رب الاعلی کا وہ دے دیا تھا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں۔ اور ان کے لیے پھر موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبری عطا فرمائی کہ ان کے پاس جاؤ ان کو نصیحت کرو شاید وہ نصیحت مان جائے۔ پھر وہ پوری تفصیل ان شاءاللہ دوسری سورتوں میں آ رہی ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں ان واقعات سے عبرت لینے کی اور اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔