حقیقتِ جذب و سلوک اور اقسامِ مجذوب (حصہ اول)
اشاعت اول: 28 مارچ، 2018 بمطابق: 11 رجب المرجب 1439 ھ
جذب اور سلوک کی حقیقت اور اس پر اٹھنے والے اشکال کا ازالہ
روح کا سابقہ عشق، نفس کا تسلط اور مجاہدۂ سلوک کی ناگزیریت
سلسلہ نقشبندیہ میں ”اندراجِ نہایت در بدایت“ کا اصل مفہوم
جذبِ کسبی بمقابلہ جذبِ وہبی اور تزکیۂ نفس کی اہمیت
مکتوباتِ شریف کی روشنی میں نہایت کی ”صورت“ اور ”حقیقت“ کا فرق
مجذوبِ متمکن کا مقام، حدودِ بیعت و ارشاد اور شیخِ کامل کی شرائط
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
آج بدھ کا دن ہے، اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ یہ جو مکتوبات شریف کا درس ہے، یہ اَن گنت علوم اور معارف کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بعض حضرات اس کا خاص اہتمام فرماتے ہیں سننے کا۔ اور ہم بھی کوشش کرتے ہیں کہ اس میں ہم کوئی سستی کا مظاہرہ نہ کریں۔ بلکہ وقت پر یہ ساری چیزیں ہو سکیں۔
بہر حال چونکہ اس کی طرف بہت سارے حضرات دور دور متوجہ ہیں۔ لہٰذا اس کے بارے میں سوالات بھی ہیں۔
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت مرشدی و مولائی۔ حضرت اقدس کی خدمت پاک میں سوال عرض ہے کہ حضرت والا کی زندگی کو دیکھ کر اور حضرت کے صبر و استقلال کو دیکھ کر ایک پیر صاحب سے تو میں نے اپنے شیخ کا ایک بیان فارورڈ کیا۔ باتیں ہماری چل رہی تھیں۔ تو آپ نے اس میں حضرت والا کی تعلیمات مبارکہ مجدد الف ثانی قدس سرہ کے مکتوبات شریف کی روشنی میں۔ ما شاء اللہ ان کو بہت فائدہ محسوس ہوا۔ گزشتہ مکتوبات کی دو تین مجالس میں ان کی برابر حاضری بھی رہی ہے۔ تو وہ یہ بیان ہم نے فارورڈ کیا ان شیخ کا۔ اس میں انہوں نے بیان کیا کہ سلوک اور جذب کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بلڈنگ ہو اور سلوک سیڑھی کے مانند ہے۔ اور جذب جو ہے لفٹ میں کھڑے ہو جانا منزل وہی طے ہو گی۔ جذب والے کی رفتار لفٹ کی طرح تیز ہو گی اور سالک کی جو سلوک کا راستہ اختیار کرے گا اس کو پاپڑ بیلنے پڑیں گے مجاہدے ریاضت کرنی پڑے گی۔ اور اس میں حضرت جنید بغدادی اور دیگر مشائخ کا حوالہ دیا ان کی سیرت کا۔ تو حضرت ہمیں تو یہ سمجھ میں آیا اس بیان کے مفہوم سے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ یا تو یہ طریقہ یا وہ طریقہ کہ اگر جذب ہو گیا کسی پر اللہ نے خود اپنی طرف کھینچ لیا۔ مثال جگر مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی جو شاعر تھے حضرت تھانوی قدس سرہ کے ہاتھ پہ بیعت کی، شراب سے توبہ تائب کی اور
بالآخر شراب کے ترک کرنے سے وہ کافی عرصہ جی رہے تھے کہ وفات پائی۔ تو کہا کہ بس ایک جھٹکے سے وہ حضرت سے بیعت ہو گئے۔ اور اللہ نے ان کو جذب کر لیا۔ تو گویا کہ ان کو کوئی پاپڑ نہیں بیلنے پڑے ان کے الفاظ استعمال کرنے کے لیے اور سلوک طے نہیں کرنا پڑا۔ بس قبولیت ہو گئی۔
حضرت ہمیں تو یہ بات برعکس معلوم ہوتی ہے مجدد الف ثانیؒ کی تعلیمات کے، کہ سلوک لازمی ہے، دس مقامات طے کرنا۔ جذب اس کو کسی بھی راستے سے ملا ہو۔ حضرت مزید روشنی فرما دیں اس پر اگر مناسب ہو اس مجلس کے لیے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔ اصل میں یہ واقعی بہت اہم سوال ہے جیسے کہ آپ حضرات نے نوٹ کر لیا ہوگا۔ اور مجھے بڑی حیرت ہے کہ مشائخ اس قسم کی بات کر سکتے ہیں۔ مشائخ بھی نقشبندی سلسلے کے ہوں۔ وہ یہ بات کس طرح کر سکتے ہیں، اس پر مجھے حیرت در حیرت در حیرت ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ اگر ہم اس نکتے کو نہ سمجھیں جو ابھی میں کہنے والا ہوں، تو شاید نقشبندی سلسلے کی پوری عمارت گویا کہ گر جائے گی۔ بہت اہم بات ہے، ابھی میں جو عرض کرنے والا ہوں۔
یہ بات تو بالکل صحیح ہے، اس بات میں کوئی غلطی نہیں ہے کہ جذب بہت تیز ہوتا ہے۔ اور تیزی کے ساتھ، کیونکہ جذب ایک جذبہ ہے۔ تو جذبہ میں وقت کیا لگتا ہے؟ وہ تو تیز ہو گا۔ سلوک میں ایک ایک چیز کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔ ایک ایک چیز کو۔ جیسے کہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا دس مقامات سلوک تفصیل کے ساتھ طے کرنے ہوتے ہیں۔ یہ حضرت کے الفاظ ہیں دس مقامات سلوک جو ہیں وہ تفصیل کے ساتھ طے کرنے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس میں پاپڑ بھی بیلنے پڑیں گے، مجاہدات اور ریاضتیں بھی ہوں گی، سارا کچھ ہو گا۔
لیکن ذرا اس پر غور فرمائیں کہ جذب کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے جو ارشاد فرمایا تھا کہ میں نے نہایت کو بدایت میں مندرج کر لیا۔ اس کا مطلب کیا تھا؟ اس کا مطلب یہ تھا کہ جو دوسرے سلاسل میں جذبِ منتہی یا جذب وہبی جو بعد میں حاصل ہوتا تھا رسوخ کے لیے اور اس میں جان ڈالنے کے لیے۔ طریقہ تو سلوک کے ساتھ سمجھ میں آ گیا۔ اصلاح تو سلوک کے ساتھ ہو گئی لیکن اس میں جان ڈالنے کے لیے طاقت پیدا کرنے کے لیے اللہ جل شانہٗ جذبہ وہبیہ عطا فرما دیتے ہیں۔ تو وہ طریقہ تھا پہلے یعنی سلوک طے کرنا پھر اس کے بعد جذب کا ہو جانا۔ لیکن ان حضرات نے جذب کو پہلے کر دیا کیوں پہلے کر دیا اور کیسے پہلے کر دیا؟ اب ذرا سنیے۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہماری جو روح ہے یہ پہلے سے اللہ کی عاشق تھی۔ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ اس میں اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ پاک نے پوچھا تھا ارواح سے کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب نے کہا کہ بَلٰى کیوں نہیں۔ تو اس سے ارواح کا گویا کہ اللہ پاک کا عاشق ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔
لیکن جیسے ہی انسان عالم ارواح سے اس دنیا میں آتا ہے، اور روح نفس کے شکنجے میں آ جاتی ہے، اور نفس کے تسلط میں آ جاتی ہے، گویا کہ روح کو وہی کرنا پڑتا ہے جو نفس کرتا ہے۔ مطلب گویا کہ اس کے ساتھ وہی ہوتا ہے۔ اب مثلاً روح آنکھ میں موجود ہے۔ تو آنکھ زندہ ہے روح کی وجہ سے۔ لیکن چل کس وجہ سے رہی ہے؟ وہ کیا چیز چاہتی ہے؟ اس طرح کانوں کا معاملہ ہے، اس طرح زبان کا معاملہ ہے، اس طرح ذہن کا معاملہ ہے، تمام حواس کا معاملہ ہے۔ تو یہ ساری کی ساری روح کی وجہ سے چیزیں چل رہی ہیں۔ لیکن حکم اس پر نفس کا چل رہا ہے۔ اور نفس متشدد ہے اس مسئلے میں۔
اللہ پاک نے فرمایا: كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔ اور یہ: بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ۔
یہ ساری باتیں جو ہیں مطلب یعنی اس میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ نفس کا تسلط روح پر ہوتا ہے۔ لہٰذا روح مطلب گویا کہ یوں سمجھ لیں وہی ہو رہا ہوتا ہے جو نفس چاہتا ہے۔
اب حضرت نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے یہ کیا کہ وہ جو عشق تھا روح کا جو نفس کے جال میں پھنس کر گم کر چکا تھا اس کو یاد بھی نہیں تھا کہ میں کس کا عاشق ہوں۔ کیونکہ كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ۔ یہ کام کس کا ہے؟ یہ تو دل کا ہے نا محبت کا معاملہ ہے۔ دل کا معاملہ ہے۔ لہٰذا اب یہ ہے کہ جو عاجلہ کی محبت ہے وہ اس میں ہے لیکن ہے نفس کی وجہ سے جیسے میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ فجور نفس میں ہوتے ہیں اور اس کی مخالفت نفس میں ہوتی ہے تو تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور تقویٰ اسٹور دل میں ہوتا ہے۔ تو اسی طریقے سے یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ یہ جو چیزوں کے ساتھ تعلق ہے یہ تو نفس کی وجہ سے ہے لیکن اس کی محبت دل میں ہے۔ مطلب یہ چیزیں ہیں تو كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ اور دوسری بات بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ اس میں آپ دیکھ لیں کہ روح جو ہے یہ نفس کے جال میں آ کر چونکہ سب کچھ چھوڑ چکی تھی سب کچھ بھول چکی تھی تو پھر دوبارہ اس کو ذکر اذکار مراقبات کے ذریعے سے وہ چیز یاد دلائی گئی جو اس کو پہلے سے حاصل تھی۔ یعنی اس کو اللہ یاد آ گیا۔ روح کو اللہ یاد آ گیا۔
اب روح کو جیسے اللہ یاد آ گیا تو اللہ کے احکامات پر عمل کرنا بھی یاد آ گیا۔ اب عمل کرنا وہ چاہتی ہے۔ لیکن ادھر نفس موجود ہے وہ نہیں کرنا چاہتا۔ اب دل عمل تو کرنا چاہتا ہے جذب کی حالت میں عمل تو کرنا چاہتا ہے۔ لیکن نفس عمل نہیں کرنا چاہتا۔ تو اب نفس کو عمل پر لانے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہو گی اس کو کرنا پڑے گا۔ تو جیسے دل کا علاج ذکر ہے اور جو ذکر کے ساتھ زندہ ہو گیا۔ تو اب نفس کا علاج ذکر تو نہیں ہے۔ اس کا علاج تو مجاہدہ ہے ریاضت ہے، مخالفتِ نفس ہے۔ وہ کرنا پڑے گا۔ تو اسی کو سلوک کہتے ہیں۔ تو وہ سلوک طے کرنا تھا۔
تو وہ سلوک اگر طے نہ کرے تو یوں سمجھ لیجیے کہ محبت تو حاصل ہو گئی جذب حاصل ہو گیا۔ جذب حاصل ہو گیا لیکن کام نہیں ہو رہا وہ جو ہونا چاہیے وہ نہیں ہو رہا بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں جو جذب کسبی ہے یہ زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو مختصر وقت کے لیے کیونکہ ظاہر ہے آپ نے نفس کے خلاف گویا کہ ایک انقلاب برپا کر دیا، نفس ختم تو نہیں ہوا۔ نفس ختم تو نہیں ہوا نفس جس وقت آپ نے دیر کر دی نفس اپنی مورچہ بندی کر کے سارا کچھ ختم کر دے گا۔ پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں کر سکیں گے۔ اب عین ممکن ہے کہ دوبارہ آپ اس کے اوپر قابو ہی نہ پا سکیں۔ ایسا ممکن ہے کیونکہ وہ اپنی مورچہ بندی پوری طرح کر چکا ہو گا۔ تو ایسی صورت میں ضروری تھا کہ جلد سے جلد سلوک کے لیے تیاری کی جائے۔ یعنی جیسے دیکھیں نا دل بیدار ہو گیا، دل نے چاہا کہ اب میں اللہ پاک کے احکامات پر عمل کر لوں، نفس مزاحمت کر رہا ہے۔ تو اس وقت چونکہ دل ما شاء اللہ مسلح ہے اللہ تعالیٰ کی محبت سے تو اس وقت اسی سے فائدہ اٹھا کر فوراً سلوک طے کرایا جاتا تو سبحان اللہ وہ کام بن جاتا کام ہو جاتا۔ لیکن اگر اس میں دیر کر دی تو پھر کیا ہو گیا وہ دوبارہ وہ ختم ہو جائے گا۔ reaction سخت بھی ہو سکتا ہے!! reaction سخت بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہ چیز یہ کہ یہ بات اسی وجہ سے حضرت نے بھی فرمائی کہ جو لوگ کسی طریقے سے جذب حاصل کر لیں، کسی طریقے سے جذب حاصل کر لیں، لیکن وہ سلوک کو طے نہ کریں، وہ راستے میں ٹھہر گئے۔ اس کے لیے مثال حضرت نے وہی خانہ کعبہ والے دی تھی۔ وہ راستے میں ٹھہر گیا پہنچ نہیں سکے۔ نہ صرف خود پہنچ سکے اب کسی اور کو بھی نہیں پہنچا سکتے۔
ٹھیک ہے جذب کی وجہ سے ان کو کچھ قوتیں حاصل ہو گئیں وہ قوتیں جو دل کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں وہ ان کو حاصل ہو گئیں۔ قوت عزمہ جس کو ہم کہتے ہیں وہ ان کو حاصل ہو گئیں۔ توجہ کر سکتے ہیں مختلف اور جو مطلب جو ان کے جس میں وہ چیزیں ظہور میں آتی ہیں وہ ہو سکتی ہیں۔ لیکن وہ جو اصل چیز ہے جو اللہ پاک کے احکامات کی پابندی تھی وہ نہیں ہو پائے گی۔ نتیجتاً دوبارہ یہ روح نفس کے تسلط میں آ جائے گی اور پھر معاملہ بہت خطرناک ہو جائے گا۔
تو اب اگر اس وقت یہ کر لے کہ سلوک طے کر لیا جائے۔ سلوک طے کر لیا جائے تو سلوک طے کرنے کے بعد پھر سبحان اللہ پھر جو سیر فی اللہ شروع ہو جاتا ہے، یہی حضرت نے بھی بات فرمائی۔ جو سیر فی اللہ شروع ہو جائے اس وقت جو جذب حاصل ہوتا ہے وہ جذب جان ڈالنے کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی چیزیں وہی ہیں جو سلوک والی ہوتی ہیں۔ مثلاً آپ نے وہی کام کرنے ہیں جو سلوک آپ سے کرا رہا ہے لیکن وہ آپ محبت کے ساتھ کریں گے۔ وہ شوق کے ساتھ کریں گے، وہ آپ انتہائی انہماک کے ساتھ کریں گے، وہ چیزیں اس میں آ جائیں گی وہ جذبہ وہبی کے ذریعے سے آ جائیں گی۔ تو اب یہی چیز وہ جو جذبہ وہبی ہے وہ جان ڈالنے کے لیے استعمال ہوگا۔
اب یہ والی بات میں اب اس لیے عرض کرتا ہوں کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جس وقت بچہ جیسے چلتا ہے پھر گر جاتا ہے پھر چلتا ہے پھر گر جاتا ہے پھر چلتا ہے تو گویا کہ بچے کو والدین اٹھا لیتے ہیں، تو بعینہ اسی طریقے سے جب سلوک طے کرتے ہیں تو سلوک کا معاملہ تو ایسا ہے کہ وہ تو لمبا کام ہے، تو اللہ تعالیٰ اس میں مدد فرماتے ہیں اور وہ مدد اس طرح فرماتے ہیں کہ وہ بہت سارے کام اللہ تعالیٰ خود ہی کرواتے ہیں، لیکن یہ ترتیب تو اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا، وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا یہ ہماری طرف سے ہے، لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ تو جَاهَدُوا فِينَا اول ہے یا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا دوسرا اول ہے جَاهَدُوا فِينَا اول ہے۔ لہٰذا یہ تو کرنا پڑے گا۔ بنیادی بات تو وَالَّذِينَ جَاهَدُوا سے شروع ہوتی ہے، لہٰذا پہلے جتنے سلسلے تھے وہ سلوک سے شروع ہوتے تھے۔ اور لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وہ بعد میں خود بخود آ جاتا تھا، لیکن چونکہ مجبوری تھی لوگوں میں شوق نہیں تھا، تو حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے اتنا کیا، اتنا فرق ہے اس سے زیادہ فرق نہیں ہے، اتنا کیا کہ اس کو پہلے کر دیا، وہ جذبِ کسبی ہے۔
لیکن حضرت نے ثابت کر دیا کہ جذب کسبی اور جذب وہبی بظاہر ایک نظر آتے ہیں لیکن ان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ اس طرح نہیں ہے، کیونکہ جذب وہبی سلوک کے طے کرنے کے بعد ہے، نتیجتاً چیزیں اپنی اپنی جگہ پر چلی گئی ہیں، اب اس کے اندر جان ڈالی گئی ہے۔ اور دوسری طرف جذبِ کسبی جو ہے، اس میں سبحان اللہ محبت تو ابھر گئی، سارا شوق بھی آ گیا سب کچھ آ گیا، لیکن چیزیں اپنی اپنی جگہ پر ہیں نہیں۔ تو کیا کریں گے اب؟ کام تو نہیں ہو سکتا۔ کام تو تب ہو سکتا ہے جب چیزیں اپنی اپنی جگہ پر ہو جائیں، ہر چیز آپ کی اپنی اپنی جگہ پر ہو۔ تو اب یہ جوانے کا مطلب ہے آپ بے شک وہ کچھ بھی کر لیں، یعنی وہ وہ ٹربو ڈیزل ڈال لیں یا جو بھی آپ نے ڈالنا ہو، لیکن مشین ہی خراب ہو تو کیا کر سکتے ہیں آپ؟ اس وجہ سے پہلے ان چیزوں کو ٹھیک کرنا پڑے گا، پھر ما شاء اللہ جو آپ کا Fuel ہے جذب کا وہ اس کو ہوا پہ چلائے گا۔ لیکن اس وقت کم از کم آپ کو یہ کام تو پہلے کرنا پڑے گا، تو سلوک والے کام کو اس کو ignore نہیں کیا جا سکتا۔
اور میں حیران ہوں کہ اگر یہ چیز جو یہ نہیں مانتے، پھر وہ پہلا والا سٹیپ کس لیے تھا؟ مطلب دیکھیں نا آپ ذرا غور کر لیں، پہلے عاشق تو تھی نا روح، روح عاشق تھی۔ لیکن کیوں پھنسی؟ کس چیز میں پھنسی؟ نفس میں پھنسی نا۔ نفس کی وجہ سے تو مطلب وہ دوبارہ وہ بھول گئی۔ تو کیا وہ دوبارہ نہیں بھول سکتی؟ مطلب یہ کہ اگر آپ نے نفس کا علاج نہیں کیا، اس کو کنٹرول نہیں کیا، تو پھر دوبارہ بھی تو وہی ہو سکتا ہے، دیکھو نا وہاں سے تو پورا پرفیکٹ عاشق ہو کے آئی تھی، یہاں بالکل بری طرح پھنس گئی کہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اب دوبارہ آپ یہ کہ وہ ہے کہ وہ چیزیں ٹھیک نہیں کرتے جس نے اس کو غلام بنایا تھا۔ آپ اس کو وہ یعنی وہ کام نہیں کرتے کہ وہ آپ سلوک طے کر کے نفس کے ہاتھ پیر باندھ لیں۔ اگر یہ آپ نہیں کرتے اور اس کو آزاد چھوڑا ہوا ہے، تو جیسے مطلب پہلے غلام بنایا تھا اب بھی غلام بنا لے گا۔ اور اب غلام بنانا زیادہ خطرناک ہو گا۔ تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔
اب میں ذرا تھوڑے سے اقتباسات سناتا ہوں حضرت کے میں نے تو اپنی طرف سے کی لیکن بہرحال یہ ہے کہ کوشش میں کرتا ہوں کہ حضرت کے الفاظ میں بھی یہ چیزیں آ جائیں۔ اور یہ ضروری ہے۔ اصل میں افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ چیزیں لوگ نہیں دیکھ رہے۔ ان چیزوں کو دیکھنا پڑے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے سلوک طے اتنا۔۔۔تھا اہم لیکن شاید آسان تھا، آج کل بہت مشکل ہے، وجہ کیا ہے؟ آج کل نفس کی جو پسندیدہ چیزیں ہیں وہ بڑھ رہی ہیں۔ پہلے موبائل تھا؟ پہلے موبائل نہیں تھا، پہلے انٹرنیٹ نہیں تھا، پہلے ٹیلی ویژن نہیں تھا، پہلے جو خرافات جو اس قسم کی آج کل ہو رہی ہیں قدم قدم پر وہ نہیں تھیں۔ وہ نفس کے لیے جو جاذب نظر چیزیں ہیں، وہ چیزیں نہیں تھیں۔ اب تو وہ بے تحاشا بڑھ رہی ہیں، اب اگر آپ نے نفس کو کھلا چھوڑ دیا، پھر آپ کیا کر سکتے ہیں؟ اللہ پاک معاف فرمائے ہم نے تو ایسے ایسے حالات سنے ہیں اور دیکھے ہیں اور خود لوگ بتاتے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ کیا سے کیا ہو رہا ہے۔ اور پتہ نہیں میں تو ہمارے پشتو میں کہتے ہیں ہاتی پہ خوب اودہ دے، یعنی ہاتھی کے کان میں سونا۔ پتہ نہیں ان کو یہ چیزیں نظر نہیں آ رہیں یا کیا وجہ ہے کہ ان کو یہ چیزیں سمجھ نہیں آ رہیں۔
بے شک جذب تیز ہے، سلوک وہ سست ہے کیونکہ طویل ہے۔ لیکن سلوک مجبوری ہے، اس کو کرنا پڑے گا۔ اب اس مجبوری کی وجہ سے اللہ پاک مدد فرما دے اور اس کو تیز کرا دے تو یہ اس کا کام ہو گا۔ لیکن آپ اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے کہ بس وہ پہلے والا جو جذب ہے اور سپیڈ لگا دی اس نے وہ سلوک بھی طے کرا دیا۔ نہیں ایسا نہیں ہوتا، وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا ہے۔ وہ موجود ہے، اس کو آپ ختم نہیں کرسکتے، اس کے بعد لَنَھدِیَنَّھُم سُبُلَنَا آئے گا ان شاء اللہ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے گا، لیکن بہرحال ہم لوگوں کو کم از کم ابتدا کرنی پڑے گی، اور وہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو پہلے سلوک طے کرنے کا بندوبست کرنا پڑے گا۔ اور خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے یہی بندوبست ہی تو کیا تھا کہ پہلے اتنا جذب لایا جائے کہ سلوک کے لیے آدمی تیار ہو جائے، یہی والی بات تھی۔
اس جگہ ایک نکتہ ہے جس کو جاننا ضروری ہے،
یہ میں تشریح نہیں سنا رہا، یہ میں حضرت سید زوار حسین شاہ صاحب کا ترجمہ براہ راست سنا رہا ہوں تاکہ کوئی میرے اوپر یہ اعتراض نہ کر لے کہ اپنی طرف سے بات کر رہا ہے۔
اس جگہ ایک نکتہ ہے جس کو جاننا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ روح کو بدن کے ساتھ تعلق ہونے سے پہلے اپنے مقصود کی طرف ایک قسم کی توجہ حاصل تھی، اور جب روح بدن کے ساتھ متعلق ہو گئی تو وہ توجہ بھی زائل ہو گئی۔
یہی بات میں نے عرض کی۔
اس سلسلہ عالیہ کے اکابرين نے اس سابقہ توجہ کے ظہور کے لیے ایک طریقہ وضع کیا ہے، لیکن چونکہ روح کا تعلق بدن کے ساتھ ہے اس لیے توجہ قلبی موجود رہتی ہے، جو نفس اور روح کی توجہ کی جامع ہے۔
یعنی دونوں کی موجود ہے۔
اس میں شک نہیں کہ توجہ روحی توجہ قلبی میں مندرج ہے لیکن وہ توجہ روحی جو منتہیوں کو فنا کے بعد حاصل ہوتی ہے اُس کی بقا حقانی وجود کے ساتھ ہے۔ جس کو ہم بقا باللہ کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ اور توجہ روحی جو قلبی توجہ کے ضمن میں ہے بلکہ روح کی توجہ جو بدن کے ساتھ متعلق ہونے سے پہلے تھی وہ ایسی توجہ ہے جو با وجود ہستئ روح ہونے کے فنا نے اس کی طرف راہ نہیں پائی۔ روح کی ہستی کے وجود کے ساتھ روح کی توجہ کے درمیان اور روح کے فنا کے ساتھ روح کی توجہ کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔
کیونکہ پہلے والے کی اور بات ہے، دوسرے والے کی اور بات ہے۔
لہذا اس توجہ روحی مندرجہ کو نہایت کہنا اس اعتبار سے کہ وہ روح ہی کی توجہ ہے کیونکہ نہایت میں صرف یہی توجہ باقی ہے اور بس۔ لہذا بدایت میں نہایت کے اندراج سے مراد یہ ہے کہ نہا یت کی صورت بدایت میں مندرج ہے نہ کہ نہایت کی حقیقت،
صاف بالکل صاف صاف بات ہے۔ صرف صورت موجود ہے، حقیقت نہیں۔
کیونکہ اس کا بدایت میں اندراج محال ہے۔
محال کس کو کہتے ہیں؟ ناممکن ہے۔
محال ہے، ہو سکتا ہے کہ لفظِ صورت
حضرت اپنی طرف سے فرما رہے ہیں،
ہو سکتا ہے کہ لفظِ صورت اس لیے لایا ہو کہ اس راہ کے طالبوں میں ترغیب و شوق پیدا ہو۔
کیونکہ شوق ہی کے لیے تو یہ چیز کی گئی ہے، تو شوق کو زائل تو کرنا مقصود نہیں تھا۔
حقیت یہی ہے جو میں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بیان کی ہے۔
اور وہ سابقین (سبقت کرنے والے) جن کا انجذاب بے تعمل و بے کسب (یعنی بغیر عملی تکلیف اور بغیر ظاہری کسب کے) ہے، بلکہ وہ توجہ و حضور کے ذریعے آئے ہیں، ان کا انجذاب بھی قلبی ہے، اور روح کی توجہ اس سابقہ توجہ کا اثر ہے جس کا تعلق بدن سے بالکلیہ زائل نہیں ہوا ہے (بلکہ باقی ہے) لہٰذا سابقہ توجہ (روحی) کے ظہور کے لیے کسب و عمل کی ضرورت اس جماعت کے لیے ہے جس نے (بدنی تعلق کی وجہ سے) اس سابقہ توجہ کو فراموش کر دیا ہے۔ گویا کہ کسب، توجہِ سابق کے لیے ایک تنبیہ ہے، اور اس گم شدہ دولت کے لیے یاد دہانی ہے۔ لیکن سابقہ توجہ کے فراموش کرنے والے، سابقانِ مذکورہ سے زیادہ لطیف استعداد رکھنے والے ہیں۔ کیونکہ توجۂ سابق کو بالکلیہ فراموش کر دینا متوجہ الیہ کی طرف بالفعل توجہ کے ساتھ گم ہونے کی خبر دیتا ہے اور توجہ کا عدم نسیان ایسا نہیں ہے۔ غایۃ ما فی الباب (خلاصۂ کلام یہ ہے) کہ سابقین میں وہ توجہ کلی طور پر شمول (عموم) اور سَرَیان (سرایت کر جانا) پیدا کر لیتی ہے اور ان کا بدن بھی روح کی شان کا حکم پیدا کر لیتا ہے جیسا کہ محبوبین اور مرادین کی شان ہے، لیکن شمولِ محبوبان (محبوبوں کی سرايت) اور شمولِ سابقان کے درمیان ایسا ہی فرق ہے جیسا کہ حقیقتِ شئ اور صورتِ شئ میں ہوتا ہے، جس طرح کہ اس کے جاننے والوں پر ظاہر ہے۔ ھاں، محبانِ واصل اور مریدانِ کامل کو بھی اس قسم کے شمول کا تحقق حاصل ہو جاتا ہے، لیکن وہ کالبرق۔۔۔
یہ تو میرے خیال میں بہت تفصیل چاہتی ہے۔ یہ تو آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی، وہ تو اس کی تشریح کتاب میں موجود ہے۔
مجذوبانِ اربابِ قلوب جب مقامِ قلب میں متمکن ہو کر رسوخ (ثبات) پیدا کر لیتے ہیں اور ایک قسم کی معرفت و صحو (عقل و ہوش) جو اس مقام کے مناسب ہے ان کو میسر ہو جاتا ہے، تو وہ بھی طالبوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور ان کی صحبت میں طالبوں کو انجذاب و محبت قلبی حاصل ہو جاتی ہے، لیکن کمال تک نہیں پہنچ سکتے، کیونکہ وہ خود بھی حدِ کمال تک نہیں پہنچ سکے ہیں
یعنی جو خود حاصل ہو گیا وہی دوسرے کو دے سکتے ہیں۔
اس لیے دوسروں کے لیے کمال حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتے۔ مشہور ہے کہ ناقص کے ذریعے کوئی بھی کامل نہیں بن سکتا۔ البتہ ان کی فیض رسانی جس قدر بھی ہو ان اربابِ سلوک کے افادے سے زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کتنا ہی سلوک کی انتہا کو پہنچ جائیں اور منتہیوں والا جذب پیدا کر لیں لیکن وہ مقامِ قلب میں سیر عن اللہ باللہ کے طریق سے نیچے نہیں آئیں گے،
اثر ان کا زیادہ ہوتا ہے، کمال نہیں ہوتا۔
وہ کتنا ہی سلوک کی انتہا کو پہنچ جائیں اور منتہیوں والا جذب پیدا کر لیں لیکن وہ مقامِ قلب میں سیر عن اللہ باللہ کے طریق سے نیچے نہیں آئیں گے، کیونکہ وہ منتہی جس نے ابھی عالَم (مخلوق) کی طرف رجوع نہیں کیا وہ تکمیل و افادے کا مرتبہ نہیں رکھتا،
اچھا یہ تو یہاں پر یہ بات ہو گئی۔ اب ذرا تھوڑا سا اور آگے چلتے ہیں۔ آخر میں کہتے ہیں:
شیخِ مقتدا کو چاہیے کہ اس قسم کے مجذوبِ متمکن کو افادۂ عام کی اجازت نہ دے اور اس کو تکمیل و پیری کے مقام پر نہ بٹھائے، کیونکہ طالبوں میں بعض ایسے ہوتے ہیں جن کی استعداد بلند ہوتی ہے اور وہ کمال و تکمیل کی قابلیت اپنے اندر بدرجۂ اتم رکھتے ہیں۔ اس مجذوب کی صحبت میں اگر آ جائیں تو احتمال ہے کہ ان کی استعداد ضائع ہو جائے اور قابلیت بھی ختم ہو جائے۔
اب تو افسوس کی بات ہے کہ ایسے لوگوں کو اجازت دی جا رہی ہے جن کو سلوک کا سرے سے پتہ ہی نہیں۔ جنہوں نے شروع ہی نہیں کیا۔ ان کو خلافت دے دی جاتی ہے افسوس کی بات ہے، اللہ پاک ہم سب کو معاف فرمائے اور اس ابتلاء سے بچائے۔ یہ دور بہت ابتلاء کا ہے۔ مطلب ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچانا بہت ضروری ہے، لیکن کیا کریں؟ مطلب اس وقت بہت زیادہ مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
مثلًا وہ زمین جس میں گندم کی کاشت کی عمدہ قابلیت ہے اگر اس میں گندم کا اچھا بیج ڈالا جائے تو بیج کی استعداد کے اندازے کے مطابق پیداوار اچھی ہو گی اور اگر اس زمین میں خراب گندم یا چنے کا بیج ڈال دیا جائے تو اچھی کاشت تو کجا، اس کی پیداوار کی استعداد بھی مسلوب و ضائع ہو جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ، ایسی صورت میں نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔
کیونکہ تزکیۂ نفس نہ ہونے کی وجہ سے اس سے ہوائے نفسانی زائل نہیں ہوئی ہے۔ جب اس (مجذوبِ متمکن کو) معلوم ہو جائے کہ طالب اس سے انتہائی فائدہ حاصل کر چکا ہے اور اس طالب کی استعداد میں ابھی ترقی کی قابلیت موجود ہے تو اس کو چاہیے کہ اس پر اس معنیٰ کو ظاہر کر کے رخصت کر دے تاکہ وہ اپنا کام کسی دوسرے شیخ سے مکمل اور پورا کر لے، اور اپنے آپ کو منتہی نہ جانے اور اس حیلہ و بہانہ سے لوگوں کی رہ زنی نہ کرے۔ اسی طرح کی اور شرائط جو اس کے وقت اور حال کے مناسب ہوں، اس کے سامنے بیان کر دے اور ان باتوں کی وصیت کر کے اس کو اجازت دے دے۔ لیکن منتہی مرجوع (الی الخلق) فائدہ اور تکمیل میں ان قیود و شرائط کا محتاج نہیں ہے،
یہ فرمایا کہ یہ تو ان لوگوں کو بتایا گیا جو مجذوب متمکن ہیں، اگر وہ دین کا کام کرنا چاہتے ہیں تو یہ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کرنا چاہتے ہیں تو۔ وہ یہ کر سکتے ہیں۔ لیکن فرمایا کہ جو اصل جن کو اللہ جل شانہٗ نے واقعی مرجوع الی الخلق وہ بنا دیا ہو، یعنی ان کو اللہ تعالیٰ نے کمال نصیب فرما دیا ہو، تو ان کے اوپر یہ پابندی نہیں۔
لیکن منتہی مرجوع (الی الخلق) فائدہ اور تکمیل میں ان قیود و شرائط کا محتاج نہیں ہے، کیونکہ اس کو جامعیت کی وجہ سے تمام طریقوں کی استعداد اور مناسبت حاصل ہے لہٰذا ہر شخص اس سے اپنی استعداد اور مناسبت کے لحاظ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگرچہ شیوخ اور مقتداؤں کی صحبت میں مناسبت کے قوی یا ضعیف ہونے کے اعتبار سے جلدی یا دیر میں (فیض یاب ہونے میں) فرق ہے، لیکن اصل فائدہ پہنچانے میں جملہ مشائخ مساوی الاقدام (برابر) ہیں۔
جاری ہے ان شاء اللہ