جلوۂ حرم اور راہِ محبت: کیفیات، مشاہدات اور مناجات
کتاب: پیغام محبت، درس 19، اشاعت اول: 29 اکتوبر 2013 بمطابق 24 ذو الحجہ، 1434 ہجری
- کعبہ روحانی انوار اور عشق الٰہی کا مہبط ہے، جو مجاز کے راستے سے دلوں کو حقیقت اور امت کی وحدت سے جوڑنے کا ذریعہ ہے۔
- کعبہ کو محبت سے دیکھنا اور دیوانہ وار طواف کرنا محض ظاہری عمل نہیں، بلکہ توحید کے جلووں کو دل میں اتارنے کا راستہ ہے۔
- مقامات مقدسہ کے سفر میں پیش آنے والی تکالیف میں ظاہری اسباب اور دوا کو اختیار کرتے ہوئے مسبب الاسباب سے دعا مانگنا ضروری ہے۔
- حج کے دوران پیش آنے والے مختلف حالات دراصل اللہ کے تکوینی اور تشریعی احکامات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی تربیت ہیں۔
- غار حرا اور غار ثور تنہائی میں یکسوئی، ذکر الٰہی اور ظاہری اسباب کے پردے میں معجزانہ غیبی حفاظت کی عظیم مثالیں ہیں۔
- رب کے حضور سچی حاضری کے لیے دنیاوی خیالات سے کٹ کر نفس کی چالوں سے بچنا اور سچی توبہ کو اپنا مزاج بنانا لازم ہے۔
- مسجد تنعیم سے عمرہ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے عمل سے ثابت ہے، جسے بدعت کہنا صریح جہالت ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں طریقِ جذب کی ترجمان شاعری پڑھی جاتی ہے۔ کیونکہ طریقِ جذب بھی ایک طریقہ ہے اصلاح کا اور طریقِ سلوک بھی ہے۔ اور ان دونوں کو جمع بھی کیا جاتا ہے۔ تو ہمارے ہاں ان دونوں کو جمع کیا جاتا ہے۔ تو آج بھی ان شاء اللہ "شاہرائے محبت" کتاب، اس سے خانہ کعبہ کے بارے میں جو اشعار مبارک ہیں وہ پڑھے جائیں گے۔
کعبہ کی جاذبیت
دل عشق سے بھرپور ہے کعبے پہ نظر ہے
اس عظمتوں کے گھر کا میرے دل پہ اثر ہے
قدمو ذرا خیال کرو بھول نہ جانا
کعبے کی طرف آنا میرا دل بھی ادھر ہے
انوار سے بھرپور ہیں ذرات بھی ان کے
اک مہبط انوار جو مکے کا شہر ہے
دل عشق سے بھرپور ہے کعبے پہ نظر ہے
اس عظمتوں کے گھر کا میرے دل پہ اثر ہے
جو مبدائے معراج نبوی ہے اس سے ہی
تاریکیوں کی رات میں امیدِ سحر ہے
دل عشق سے بھرپور ہے کعبے پہ نظر ہے
دل سجدہ ریز ہے عشق کے سجادہ پہ شبیر
جائے یہاں سے کیسے، کہاں اس کو صبر ہے
دل عشق سے بھرپور ہے کعبے پہ نظر ہے
اس عظمتوں کے گھر کا میرے دل پہ اثر ہے
کعبہ کے زائرین کے بارے میں
حرم شریف میں یہ نظم لکھی گئی۔
کہاں کہاں سے یہ عشاق امڈ آتے ہیں
نظر میں مستی ہے سینے پہ زخم کھاتے ہیں
دلوں کی دنیا کچھ آباد نظر آتی ہے
زباں پہ ذکر ہے ساتھ ہونٹ بھی ہلاتے ہیں
کہاں کہاں سے یہ عشاق امڈ آتے ہیں
امڈتے جاتے ہیں اک رخ میں پانچ وقت یہ سب
بس ایک دھن ہے کہ جس کا یہ مزا پاتے ہیں
کہاں کہاں سے یہ عشاق امڈ آتے ہیں
گرد کعبے کے یہ گھومتے ہیں جو پروانہ وار
خیال ایک کا یہ دل میں اب بساتے ہیں
کہاں کہاں سے یہ عشاق امڈ آتے ہیں
اسی کو دیکھ کر دشمن کرے کیسے آرام
خدا کے عشق میں مست اس کو جب ستاتے ہیں
کہاں کہاں سے یہ عشاق امڈ آتے ہیں
ڈوب کر تو بھی نظارۂ کعبہ میں اے شبیر
وہی کرنا ہے جو عشاق یہاں بتاتے ہیں
کہاں کہاں سے یہ عشاق امڈ آتے ہیں
نظر میں مستی ہے سینے پہ زخم کھاتے ہیں
رہائشِ مکہ کے دوران کی حالت
اس پر یہ غزل لکھی گئی ہے حرم شریف میں۔
شرابِ عشق لے لو دم بدم اب
سبھی کچھ بھول جاؤ کر نہ غم اب
شراب عشق لے لو دم بدم اب
اسے پانا ہی جب مقصود ٹھہرا
کرو پھر ذکرِ دنیا کم سے کم اب
شرابِ عشق لے لو دم بدم اب
سبھی کچھ بھول جاؤ کر نہ غم اب
نظر میں وہ ہے دل اس کا ہوا ہے
بنا ہے مختلف سب زیر و بم اب
شرابِ عشق لے لو دم بدم اب
نظر دل کی طرف کر لو تو دیکھو
وہاں ہے وہ تو لو اس کا کرم اب
شرابِ عشق لے لو دم بدم اب
کوئی چشموں کو کیسے روک دے اب
نہ پوچھو تم بھی ان آنکھوں کی نم اب
شرابِ عشق لے لو دم بدم اب
بس اب تو راستہ سیدھا ہے شبیر
نہیں اس میں جو کوئی پیچ و خم اب
شراب عشق لے لو دم بدم اب
سرورِ کعبہ
کعبہ کے سرور کے بارے میں یہ بھی حرم شریف میں غزل لکھی گئی ہے۔
دیکھنے کا سرور کعبہ کا
لے لو نظروں سے نور کعبہ کا
کیا تقدس کی جگہ ہے یہ حرم
اور کیا ہے ظہور کعبہ کا
دیکھنے کا سرور کعبہ کا
اس کی تعظیم دل میں پاتا ہے
جس کو کچھ ہے شعور کعبہ کا
دیکھنے کا سرور کعبہ کا
لے لو نظروں سے نور کعبہ کا
پاؤں کعبے کے رخ کرے ان سے
مقام ہے مستور کعبہ کا
دیکھنے کا سرور کعبہ کا
دل کے تقویٰ سے بیگانوں کو شبیر
نہیں حاصل حضور کعبہ کا
دیکھنے کا سرور کعبہ کا
لے لو نظروں سے نور کعبہ کا
حرم میں ایک فریاد
حرم میں دعا کی صورت میں ایک فریاد یہ بھی حرم شریف میں غزل لکھی گئی ہے۔
الٰہی بندہ تو خالص اپنا بنانا مجھے
راہ جو پسند ہے تجھے اس پر ہی چلانا مجھے
میں نفس کے دام میں ہر وقت پھڑپھڑاتا ہوں
یہ دامِ مکر ہے اس میں نہیں پھنسانا مجھے
الٰہی بندہ تو خالص اپنا بنانا مجھے
میں دل سے تیرا بنوں تو مجھے اپنا سمجھے
میرے محبوب کا جو راستہ ہے اس پہ لانا مجھے
الٰہی بندہ تو خالص اپنا بنانا مجھے
اب کوئی غیر میرے دل میں کبھی آ نہ سکے
سارے غیروں کی محبت سے اب چھڑانا مجھے
الہی بندہ تو خالص اپنا بنانا مجھے
میں تیری یاد میں مشغول رہوں تیرا رہوں
حلال رزق اپنے فضل سے کھلانا مجھے
الہی بندہ تو خالص اپنا بنانا مجھے
میرا جاں مال وقت اولاد سب قبول ہو اب
فریب دے نہ اب مکان اور نہ زمانہ مجھے
الہی بندہ تو خالص اپنا بنانا مجھے
میرا ہر لمحہ بال بال ہر اک پیسہ شبیر
فدا ہو اس پہ ہو نصیب اس کا پانا مجھے
الہی بندہ تو خالص اپنا بنانا مجھے
مجاز حقیقت اور کعبہ
یہ غزل بھی حرم میں لکھی گئی ہے۔
ہمارے دل کی تسلی کے لیے کعبہ ہے وگرنہ ہم تو سامنے اس کا سجدہ کرتے ہیں
یہ اس کا گھر ہے اس پہ خاص تجلی ہے اک اس تجلی پہ ہم بھی اس کے لیے مرتے ہیں
وہ ذات ہمارے تصور سے ہے بالا بالا اسی نے گھر یہ ہمارے لیے سجایا ہے
اسی کے گرد لگاتے ہیں چکر اس کے لیے دل اس سے جوڑتے ہیں دم بھی اس کا بھرتے ہیں
جب اس کی دید کا وعدہ ہے آخرت میں صرف یہاں تو اس سے ہی آنکھیں کریں ٹھنڈی اپنی
یہی مجاز حقیقت سے ملا دے گا انہیں جو دل کے ساتھ اس کے سامنے گزرتے ہیں
اسی سے تار محبت کا جو ہے دل تک ہے اسی سے بلب اپنا حسنِ عقیدت روشن
اسی میں دیکھتے ہیں ہم بھی حقیقت اپنی راز کھلتے ہیں بندگی کے دل مچلتے ہیں
نور کعبہ کا دل ملے کہ سمجھنا ہے ہمیں کہ سارے ایک ہیں ہم ایک رب ہمارا ہے
یہی ایک نقطہ وحدت ہمیں بتاتا ہے کہ ہم جب ایک ہیں پھر اس سے کیوں نکلتے ہیں
اسی دیوانگی سے ہوش کے در کھلتے ہیں کہ بس ہم ایک کے لیے ایک ہی بن جائیں سب
کاش یہ دیوانگی شبیر کو مل جائے بھی کہ وہی ہوش میں ہیں جو بھی اس پہ چلتے ہیں
کعبہ کے ساتھ ایک والہانہ اظہارِ محبت
یہ ایک نعت شریف ہے جو مولانا جامی رحمۃ اللہ علیہ کی نعت "تنم فرسودہ جاں پارہ ز ہجراں یا رسول اللہ" اس کے طرز پر ہے۔
کہاں ہم اور کہاں یہ گھر خدایا ہے کرم تیرا
یہاں پر فضل سے اپنے بلایا ہے کرم تیرا
کہاں عظمت یہ کعبہ کی کہاں ہم عاجز و مسکیں
بس اک جھونکا تیری رحمت کا پایا ہے کرم تیرا
کہاں ہم اور کہاں یہ گھر خدایا ہے کرم تیرا
بفیضِ کعبہ روشن کر میرا دل ذکر سے اپنے
فضل سے تو نے اپنا نام سکھایا ہے کرم تیرا
کہاں ہم اور کہاں یہ گھر خدایا ہے کرم تیرا
میں اب اس گھر سے باندھوں دل نہ چھوڑوں میں کبھی اس کو
جو نور سے اس کے میرا دل سجایا ہے کرم تیرا
کہاں ہم اور کہاں یہ گھر خدایا ہے کرم تیرا
میں ظلمت کے گڑھے سے کیسے نکلوں ہے شبیر کہتا
فضل سے تو نے مجھ کو ہے جگایا ہے کرم تیرا
کہاں ہم اور کہاں یہ گھر خدایا ہے کرم تیرا
حج میں ایڑی کی تکلیف
تو اس سے جب آرام آیا تو اس سلسلے میں یہ غزل اس کے بعد لکھی گئی ہے۔ یہ اصل میں صرف ایڑی کی بات نہیں، حج میں جو بھی تکالیف آئیں اس کے سلسلے میں یہ ہے۔
خدا کا شکر ہے ایڑی نے کچھ آرام کیا
دعا نے کام کیا تو دوا نے کام کیا
دعا مسبب الاسباب سے تعلق ہے
دوا نے ظاہری سبب کا انتظام کیا
یہ سب اسباب ہیں احکامات خداوندی ہیں
قدرت کو ساتھ رکھا اور ان کو عام کیا
اسی قدرت کے لیے مانگنا اسی سے ہے
اس کا ادْعُونِي کے عنوان سے کلام کیا
جب وہ مانگنے سے ہو راضی تو کیوں نہ مانگے شبیر
دوا کے ساتھ دعا کا جو التزام کیا
خدا کا شکر ہے ایڑی نے جب آرام کیا
دعا نے کام کیا تو دوا نے کام کیا
حج میں مشکل حالات
اس کا یہ جائزہ لیا گیا ہے اس غزل میں۔
یہ جو حالات ہم پر آتے ہیں
اسی سے ہم کو وہ سمجھاتے ہیں
ہو رہا ہوتا ہے کچھ اپنے ساتھ
کچھ حقائق ہمیں سکھاتے ہیں
ہاں نظر اس پہ رکھنا لازم ہے
ورنہ ضائع بھی یہ ہو جاتے ہیں
اس کے احکام ہیں دو قسموں پر
ان کو ساتھ ساتھ وہ چلاتے ہیں
ایک احکامات تو تکوینی ہیں
دنیا کے کام ان سے کراتے ہیں
دوسرے احکام ہیں تشریعی
اپنے بندوں سے وہ منواتے ہیں
انبیاء اس کے لیے آئے ہیں
علماء یہ ہمیں سمجھاتے ہیں
ہم شریعت کے مکلف ہیں شبیر
وہ اس طرف ہمیں بلاتے ہیں
طواف
طواف کے بارے میں ایک رباعی ہے۔
طواف حقیقی ہو صرف ظاہری نہ ہو
چکر لگا رہا ہوں جو یہ آخری نہ ہو
بار بار یہاں آؤں یہ کہتا ہے اب شبیر
بند مجھ پہ تیرے گھر کی کبھی حاضری نہ ہو
غار حرا یہ ایک غار ہے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے جاتے تھے خلوت کے لیے اور اس کا ایک عجیب اسٹرکچر ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف تین پتھروں سے بنی ہوئی ایک کھڑکی ہے۔ اور اگر یہ بلڈنگیں نہ ہوں تو بالکل سیدھی نظر وہاں سے خانہ کعبہ پہ پڑتی ہے۔ کافی بلندی پر ہے اور دشوار گزار راستہ ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلوت کے لیے وہاں تشریف لے جاتے تھے۔ اور توشہ اور پانی اپنے ساتھ لے جاتے تھے، جب وہ ختم ہو جاتا پھر گھر تشریف لے جا کر پھر تشریف لے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی۔
تو یہ غار حرا جو ہے، یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو، جب اللہ پاک کسی بڑی نعمت دینا چاہتا ہو، تو اس کے ساتھ ایسے حالات بنا دیتے ہیں۔ اس کا رخ خلوت کی طرف کر لیتے ہیں یا کوئی اس کو خلوت میں بھیج دیتا ہے۔ اور وہ خلوت سے جو مطلب چیزیں ہیں، ماحول کی برائی کی جو چیزیں ہیں، ان سے جب حفاظت ہو جاتی ہے اور یکسوئی حاصل ہو جاتی ہے تو پھر وہ نعمت مل جاتی ہے۔ تو بہرحال یہ غار حرا کے بارے میں ایک اچھوتا خیال ہے وہ یہاں پر غزل میں پیش کیا گیا ہے۔
غارِ حرا کے بارے میں
اے غار حرا یاد ہے کیا تجھ کو وہ ہستی
جو اس کی یاد میں گم تھی اور تجھ میں تھی بیٹھی
اے غار حرا یاد ہے کیا تجھ کو وہ ہستی
کعبے کی طرف کھڑکی میں کعبہ نظر آتا
کیا یاد ہے رحمت وہ تجھ پہ تھی جو برستی
اے غار حرا یاد ہے کیا تجھ کو وہ ہستی
سب چھوڑ کے آئے تھے تجھے یاد تو ہوگا
ایک یاد جو رکھا تھا وہ تھی اس کی یاد ہی
اے غار حرا یاد ہے کیا تجھ کو وہ ہستی
کیا ان کا تصور تھا تصور میں نہ آئے
ہاں یہ کہ اس کے بعد نبوت انہیں ملی
اے غار حرا یاد ہے کیا تجھ کو وہ ہستی
اب بھی خدا کی یاد میں جو گم ہو اے شبیر
تو رتبہ بلند ملے اس پر اس کو بھی
اے غار حرا یاد ہے کیا تجھ کو وہ ہستی
جو اس کی یاد میں گم تھی اور تجھ میں تھی بیٹھی
ماڈرن لوگوں کو خطاب
یہ ماڈرن لوگوں کو خطاب ہے ان کی زبان میں کہ وہ حج میں کیسے رہے۔
لوگوں سے کٹ کٹا کے ذرا اس کی طرف دیکھ
خیالات جو دل میں ہیں تیرے ان کو ذرا پھینک
موجود ہے دشمن تیرا اس سے ہو خبردار
کر لے نہ تجھ کو یوں ہی اپنے کام سے hijack
دوستوں کو خیرآباد، اصل دوست کو رکھ یاد
آج اس سے بھی کر لے تو hand اپنا ذرا shake
آج مانگ معافی ملے گی تجھ کو یقیناً
اپنے کو گنہگار سمجھ کر نہ یہ کہ نیک
رونا پسند ہے اس کو رو لے نہ تو شرم کر
شبیر بخشے تجھ کو آج وہی خدا ایک
لوگوں سے کٹ کٹا کے ذرا اس کی طرف دیکھ
غار ثور کے بارے میں
وہ پناہ گاہ ہمارے نبی کے ثور کا غار
جو معجزانہ حفاظت کا ایک تھا شاہکار
کبوتری نے دیے انڈے مکڑی نے جالا
عدو کو ان کے نہ آنے کا ہوا تھا اعتبار
اور کبھی قریب ہی پہنچے عدو کے چمچے جب
اللہ ہے ساتھ ہمارے کا ہوا تھا گفتار
ان تین دنوں پر صدیق کے ساتھ ہیں ان کے
چاہتے عمر تھے کریں اپنی ساری نیکیاں نثار
یہ سنگ میل تھا ہجرت کی کامیابی کا
مدینہ پاک میں آئی تھی اسی سے ہی بہار
شبیر اسباب کی دنیا میں تو اسباب ڈھونڈو
پھر ضرورت کے وقت مدد کرے خود ہی کردگار
کعبہ سے استفادہ
حرم شریف میں لکھی گئی۔
کعبہ کو دیکھ دیکھ کر دل اپنا سنواریں
کعبہ کی حقیقت کو ذرا دل میں اتاریں
یہ گھر خدا کا گھر ہے بڑا گھر ہے اس کی شان
خوب جان لے پہچان لے آج اس کی بہاریں
کعبہ کو دیکھ دیکھ کر دل اپنا سنواریں
دیکھ دیکھ اس کو دیکھ اس کے ساتھ دل کو جوڑ
دیکھ دیکھ کر اس کی لینی ہیں آنکھوں سے بلائیں
کعبہ کو دیکھ دیکھ کر دل اپنا سنواریں
توحید کا مظہر ہے اس کو دیکھ کر توحید
مضبوط کرے اس کو اپنے دل میں بسا لیں
کعبہ کو دیکھ دیکھ کر دل اپنا سنواریں
کعبہ کی حقیقت کو ذرا دل میں اتاریں
اس پر پڑی ہے حسن ازل کی جو تجلی
شبیر اس کو جذب کر کے دل کو بنا لیں
کعبہ کو دیکھ دیکھ کر دل اپنا سنواریں
کعبہ کی حقیقت کو ذرا دل میں اتاریں
مکہ مکرمہ میں مختلف لوگوں کی حالت
یہ واقعی بڑی عجیب بات ہے، یہاں پر مختلف لوگ آتے ہیں، مختلف لوگ رہتے ہیں، اور ہر ایک کے اپنے اپنے انداز ہیں۔
نگری عجیب ہے یہ نظارے عجیب ہیں
ہم رب کے در کے پاس اور اس کے قریب ہیں
کچھ اس کو پانے کے لیے آئے ہیں دور سے
کچھ ان کو لوٹتے ہیں یہ ان کے رقیب ہیں
کچھ اس کی محبت میں مست ہیں سر کو جھکائے
لبیک کہنے والے بھی کچھ عندلیب ہیں
دیوانہ وار گھومتے کچھ ہیں طواف میں
کچھ ٹکٹکی باندھے ہوئے بھی خوش نصیب ہیں
کچھ آ رہا ہے جا رہا ہے چل چلاؤ ہے
شبیر مل رہا ہے جس کے جو نصیب ہیں
نگری عجیب ہے یہ نظارے عجیب ہیں
ہم رب کے در کے پاس اور اس کے قریب ہیں
حاضری نصیب ہونے پر شکر
یہ حرم شریف میں لکھی گئی۔
رکھوں بار بار زمیں پر میں یہاں اپنی جبیں
اس بڑے گھر سے میں محروم نہ ہو جاؤں کہیں
اس بڑے گھر کے تو مالک سے ہے امید بہت
اپنے اعمال سے تو کوئی بھی امید نہیں
میرے ہر بال میں سینکڑوں بھی ہوں زبانیں اگر
وہ کرے شکر تو بھی شکر ادا ہو گا نہیں
میرا رب مجھ سے ہے آگاہ کہ ہوں کمزور کتنا
نفس پر زور ہے شیطان بھی ہے میرا قریں
المدد میرے خدایا بھاگتا ہوں تیری طرف
ورنہ شیطان تو کھینچے ہے میرے نیچے سے زمیں
مال و لذات ہیں در پہ جاہ طلبی بھی ساتھ
مدد خدا کی نہ ہو گر تو گرا دے نازنیں
اس بڑے گھر کے وسیلے سے طلبگار ہے شبیر
سامنے مصطفیٰ کے ہووے نہ رسوا وہ وہیں
حرم پاک میں ایک دعا
فضل سے اپنے الٰہی دل بینا دے دے
جو نہ ٹوٹے وہ تعلق مجھے اپنا دے دے
میں تجھے بھول نہ جاؤں کسی لمحے بھی خدا
ذکر سے تر ہو زباں قلب مجلیٰ دے دے
تو میرے دل میں رہے میں تیری نظروں میں رہوں
تو مجھے اپنا کہے اپنا وہ لمحہ دے دے
پورے عالم میں تیرے ذکر کو عام کرتا رہوں
سب تیرے بن جائیں کیسے فکر ایسی دے دے
اب تیرے سامنے سجدے میں پڑا ہوں میں شبیر
کیسے بن جاؤں میں تیرا وہی سجدہ دے دے
بڑے گھر کے سامنے
حرم شریف میں پڑھی گئی۔
بیٹھے ہوئے یہاں ہیں بڑے گھر کے سامنے
کیا حال دل کا ہو اسی منظر کے سامنے
ہم کور باطنوں کو سمجھ آئے اس کی کیا
کیا حال دل کا ہوتا ہے دلبر کے سامنے
بیٹھے ہوئے یہاں ہیں بڑے گھر کے سامنے
دوری اور اس کے قرب میں نسبت کیا ہو گی
قطرے کی جو ہوتی ہے سمندر کے سامنے
بیٹھے ہوئے یہاں ہیں بڑے گھر کے سامنے
جو ہوں گے اہل ذوق ان کا حال کیا ہو گا
دل اپنا مچلتا ہے اس کے در کے سامنے
بیٹھے ہوئے یہاں ہیں بڑے گھر کے سامنے
دل اپنا اس کے نور سے منور کرو شبیر
جانا ہے اس کے بعد نبی سرور کے سامنے
بیٹھے ہوئے یہاں ہیں بڑے گھر کے سامنے
بیٹھے ہوئے یہاں ہیں بڑے گھر کے سامنے
کیا حال دل کا ہو اسی منظر کے سامنے
بڑے گھر میں گناہ ہونا زیادہ خطرناک ہے تو اس میں توبہ زیادہ مفید ہے۔
ساری گڑبڑ کا ہے علاج توبہ
جو بنا لے اپنا مزاج توبہ
غلطیاں ہم سے بہت ہوتی ہیں
لیکن کرتی ہے اس پہ راج توبہ
اپنی کمزوری اس کی عفو کا
کتنا حسیں ہے امتزاج توبہ
جتنا گند دل میں پڑا ہے پہلے سے
سب کا کرتی ہے یہ اخراج توبہ
تائبوں کے لیے خاص در ہے شبیر
عجز گر سر ہے تو ہے تاج توبہ
ساری گڑبڑ کا ہے علاج توبہ
جو بنا لے اپنا مزاج توبہ
عمرہ میں طواف کے بعد جذبات
جس طرح شمع کے گرد گھومتے پروانے ہیں
اس طرح کعبہ کے گرد گھومتے دیوانے ہیں
یہی دیوانگی سو ہوش سے بہتر ہوگی
عشق کے میدان کے کچھ اور ہی پیمانے ہیں
جو کہ محجوب ہیں یہ بات کیا سمجھ پائیں
سمجھ میں آئے صرف ان کی جو مستانے ہیں
اس نے کعبے کی زیارت تو کی نصیب ہمیں
اس کے دیدار کے بھی دل میں تانے بانے ہیں
میرے الٰہ اب شبیر کو پہنچا تو وہاں
جہاں پر تیری معرفت کے آستانے ہیں
مسجد تنعیم کی شان
اے مسجد تنعیم کیا شان ہے تیری
عمرہ کیا ہے تجھ سے مومنوں کی ماں نے بھی
بھائی کے ساتھ بھیج دیا ان کو تیرے پاس
سو ابتدا نبی نے ہی تجھ سے کرائی
تعمیر کی کعبے کی جب ابن زبیر نے
اہل مکہ کے ساتھ کیا عمرہ پھر تجھ سے ہی
احناف کے نزدیک عمرہ تجھ سے تو ہے افضل
کیونکہ پسند نبی کو ہے دین میں جو آسانی
کہنے دے جاہلوں کو کہ بدعت ہے یہ شبیر
محروم ہیں محروم کے لیے سزا کافی
آج کل کچھ لوگ یہ شور مچا رہے ہیں کہ مسجد عائشہ سے یا مسجد تنعیم سے یہ عمرہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ان کی جہالت ہے۔ جب صحابہ نے کیا ہے تو یہ کون ہوتے ہیں اس سے روکنے والے؟
تنعیم سے عمرہ کے بارے میں
عمرہ تنعیم سے بدعت کیسے
کچھ تو سوچو یہ حماقت کیسے
اس سے عمرہ ہماری ماں نے کیا
اس پر بھی ایسی جہالت کیسے
یہ استثنیٰ ہے تو تشریح کے لیے
شان نزول کی ضرورت کیسے
بعد تعمیر کعبہ ابن زبیر نے
پھر اس کی ہو مخالفت کیسے
اہل مکہ بھی ساتھ تھے پیدل
پھر بھی انکار یہ سفاہت کیسے
ہو جو تقلید سے آزادی شبیر
پھر نہ پوچھو کہ یہ حرکت کیسے
کعبہ کے بارے میں اللہ سے فریاد
تیرے کعبے کے حسیں چہرے پر
فدا ہونا نصیب میں لکھ دے
بار بار اس کے ساتھ چمٹ چمٹ کر
خوب رونا نصیب میں لکھ دے
میں اس کے گرد گزرتا ہی رہوں
تیرے خیال میں اور سوچ میں بس
تجھ کو پانے کی کوششوں میں ہمیش
خود کو کھونا نصیب میں لکھ دے
میں تیری یاد میں خود کو بھولوں
تو مجھے یاد رہے ہر دم بس
سبب بنے نہ بھلانے کا کبھی
وہ بچھونا نصیب میں لکھ دے
عشق کی آگ میں جلا دے یا رب
جو رذائل ہیں میرے نفس کے سب
کہتا شبیر ہے نام تیرا دل میں
اب سمونا نصیب میں لکھ دے