قومِ ثمود کی سرکشی، عارضی طاقت کا زعم اور انسانی غفلت کے عبرتناک اسباق
درس نمبر 286، سورہ الاعراف آیات 73 تا 79، اشاعتِ اول: 27 اور 28 ستمبر، 2022، بمطابق 30 مصفرالمظفر اور 1 ربیع الاول ، 1444 ہجری
حضرت صالح نے قوم ثمود کو معجزاتی اونٹنی دکھائی۔
بدبخت قدار نے نفسانی خواہش پر اونٹنی قتل کی۔
قوم ثمود شدید زلزلے اور آسمانی چیخ سے ہلاک ہوئی۔
انسان کی عارضی طاقت اللہ کے سامنے کام نہیں آتی۔
انسان وقتی فائدے میں ماضی اور آخرت بھول جاتا ہے۔
انسان تکلیف دور ہوتے ہی اپنے وعدے بھول جاتا ہے
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (73) وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (74)
ترجمہ: اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو بھیجا۔
حاشیہ: ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے پیدا ہوئی تھی، اور ظاہر یہ ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے مؤمن ساتھی جو عذاب سے بچ گئے تھے، یہ ان کی اولاد تھی، اور ثمود اُن کے دادا کا نام تھا۔ اسی لئے ان کو عادِ ثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قوم عرب اور شام کے درمیان اُس علاقے میں آباد تھی جس کو اُس وقت ”حجر“ کہا جاتا تھا، اور آج کل اُسے ”مدائن صالح“ کہتے ہیں، اور آج بھی ان کے گھروں اور محلات کے کھنڈر موجود ہیں، اور پہاڑوں سے تراشی ہوئی عمارتوں کے آثار جن کا ذکر آیت 74 میں ہے، آج بھی وہاں دیکھے جاسکتے ہیں۔ عرب کے مشرکین جب تجارتی سفر پر شام جاتے تو یہ کھنڈر ایک نشان عبرت کے طور پر ان کے راستے میں پڑتے تھے، اور قرآن کریم نے کئی مقامات پر انہیں اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس قوم میں بھی رفتہ رفتہ بت پرستی کی بیماری پیدا ہوگئی تھی، اور اس کے نتیجے میں بہت سی عملی خرابیاں پھیل گئی تھیں۔ حضرت صالح علیہ السلام اسی قوم کے ایک فرد تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کو راہِ راست دکھانے کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا۔ لیکن یہاں بھی وہی صورت پیش آئی کہ قوم کی اکثریت نے ان کی بات نہیں مانی۔ حضرت صالح علیہ السلام نے جوانی سے بڑھاپے تک مسلسل اُن کو تبلیغ جاری رکھی۔ آخر کار ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آپ ہمارے سامنے کے پہاڑ سے کوئی اُونٹنی نکال کر دکھا دیں گے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے دُعا فرمائی، اور اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سے اُونٹنی بھی نکال کر دکھا دی۔ اس پر کچھ لوگ تو ایمان لے آئے، مگر بڑے بڑے سردار اپنے عہد سے پھر گئے، اور نہ صرف یہ کہ اپنی ضد پر اڑے رہے، بلکہ جو دوسرے لوگ ایمان لانے کا ارادہ کر رہے تھے انہیں بھی روک دیا۔ حضرت صالح علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آجائے گا، اس لئے انہوں نے فرمایا کہ کم از کم اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اس اُونٹنی کو تم آزاد چھوڑے رکھو، اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ۔ اور اُونٹنی کو چونکہ پورے کنویں کا پانی درکار ہوتا تھا اس لئے اس کی باری مقرر کر دی کہ ایک دن اُونٹنی کنویں کا پانی پیئے گی اور دوسرے دن آبادی کے لوگ پانی لیں گے۔ لیکن ہوا یہ کہ قوم کے کچھ لوگوں نے اُونٹنی کو مار ڈالنے کا ارادہ کیا، اور آخر کار ایک شخص نے جس کا نام قدار تھا، اس کو قتل کرڈالا۔ اس موقع پر حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں متنبہ کیا کہ اب ان کی زندگی کے صرف تین دن باقی رہ گئے ہیں، جس کے بعد وہ عذاب سے ہلاک کر دیئے جائیں گے۔ بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ ان تین دنوں میں سے ہر دن اُن کے چہروں کا رنگ بدل جائے گا۔ یعنی پہلے دن رنگ پیلا، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن کالا ہوجائے گا۔ اس کے باوجود اس ضدی قوم نے توبہ اور استغفار کرنے کے بجائے خود حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کا ذکر قرآن کریم نے سورۃ نمل (27:48 و 49) میں فرمایا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں راستے ہی میں ہلاک کر دیا، اور ان کا منصوبہ دھرا رہ گیا۔ آخر کار تین دن اسی طرح گزرے جیسے حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا تھا، اسی حالت میں شدید زلزلہ آیا، اور آسمان سے ایک ہیبت ناک چیخ کی آواز نے ان سب کو ہلاک کرڈالا۔ حضرت صالح علیہ السلام اور اُن کی قوم کا تفصیلی ذکر سورۂ ہود (11:61)، سورۂ شعراء (26:141)، سورۂ نمل (27:45) اور سورۂ قمر (54:23) میں آیا ہے۔ نیز سورۂ حجر، سورۂ ذاریات، سورۂ نجم، سورۂ الحاقہ اور سورۂ شمس میں بھی ان کے مختصر حوالے آئے ہیں۔
ترجمہ: انہوں نے کہا: ”اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو۔ اُس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل آچکی ہے۔ یہ اللہ کی اُونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک نشانی بن کر آئی ہے۔ اس لئے اس کو آزاد چھوڑ دو کہ وہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے، اور اسے کسی برائی کے ارادے سے چھونا بھی نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں ایک دُکھ دینے والا عذاب آپکڑے ﴿73﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قومِ عاد کے بعد جانشین بنایا، اور تمہیں زمین پر اس طرح بسایا کہ تم اُس کے ہموار علاقوں میں محل بناتے ہو، اور پہاڑوں کو تراش کر گھروں کی شکل دے دیتے ہو۔ لہٰذا اللہ کی نعمتوں پر دھیان دو، اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو“ ﴿74﴾
تو یہ اصل میں سورۃ شمس میں بھی اس کا جیسے کہ ابھی ذکر آ گیا کہ آیا ہے ذکر۔ وہاں پر جس انداز میں ایا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا نفس جو ہے، اگر اس کی اصلاح نہ ہو۔ تو اس کی سرکشی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ اللہ کے مقابلے میں آ جاتے ہیں۔ یہاں پر بھی دیکھیں ساری چیز مطلب بتا دی گئی کہ کس طرح وہ اللہ کی نافرمانی میں کتنے آگے بڑھ گئے تھے۔ اور نبی ان کو سمجھاتا رہا۔ لیکن وہاں جس خاص بات کا تذکرہ ہے وہ یہ ہے کہ وہ بدبخت قدار جو تھا وہ جو اٹھا، جس کو اللہ پاک نے سورۃ شمس میں أَشْقَاهَا کہا ہے۔ وہ اپنے نفس کی خواہش یعنی رنڈیوں کی وجہ سے کہ رنڈیوں نے انہیں کہا تھا کہ تم اس کو مارو، تو پھر ہم تمہارے ہو جائیں گے۔ تو اس نے مارنے کا ارادہ کیا۔ اس پر صالح علیہ السلام نے اسے کہا کہ اس کو نہ مارو، یہ اللہ کی اونٹنی ہے۔ تو وہ ظالم نہیں مانا۔ اور عقار کر ڈالا اس کا۔ جب یہ ہو گیا تو پھر چونکہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ تو بس اس کے بعد پھر یہ ہے کہ جیسے ابھی اس میں تفصیل آ گئی ہے کہ تین دن اس کے ان کے رنگ بدلتے گئے اور پھر بعد میں زلزلہ آیا اور چیخ کے ساتھ وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ تو یہ دو قومیں جو تھیں بالکل ساتھ ساتھ جو رہی ہیں یعنی قوم عاد اور قوم ثمود۔ ان کی سرکشی بالکل واضح تھی۔ اور اللہ جل شانہ نے ان کو ان کی سرکشی پر پکڑا اور ان کو ہلاک کر ڈالا۔ یہ دونوں ہنر والے لوگ اور طاقت والے لوگ تھے۔ قوم عاد میں طاقت بہت زیادہ تھی، زراعت کی طرف زیادہ توجہ دیتے تھے۔ اور ان میں ہنر بہت زیادہ تھا، یہ محلات بناتے تھے اور ہے کہ یعنی گھر بناتے تھے پہاڑوں کے اندر۔ تو اس سے پتہ چلا کہ انسان کی جو عارضی طاقت ہے یہ ان کے کچھ کام نہیں آتی اگر اللہ پاک ان کو تباہ کرنا چاہے۔ لیکن انسان اسی زعم میں وہ جس کو ہم کہتے ہیں کہ تھوڑی سی جگہ کو دیکھتے ہیں اور تھوڑے سے ٹائم کو دیکھتے ہیں۔ اس تھوڑی سی جگہ Timing space جس کو ہم کہتے ہیں۔ لوگ اس میں گرفتار ہیں۔مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی جگہ وہ دیکھتے ہیں کہ اس میں ہمیں کیا حاصل ہیں۔ اور تھوڑا سا ٹائم اس میں دیکھتے ہیں کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ بس اسی کی وجہ سے وہ ایک وسیع جہان اور ایک وسیع وقت اس سے غافل ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً پھر ان کو نہ صرف شرمندگی ہوتی ہے بلکہ ایک مستقل عذاب۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسے انجام سے بچائے۔
قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ (75) قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ (76) فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (77) فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ (78) فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰـكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ (79)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اُن کی قوم کے سرداروں نے جو بڑائی کے گھمنڈ میں تھے، اُن کمزوروں سے پوچھا جو ایمان لے آئے تھے کہ: ”کیا تمہیں اِس بات کا یقین ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں؟“ انہوں نے کہا کہ: ”بیشک ہم تو اُس پیغام پر پورا ایمان رکھتے ہیں جو اُن کے ذریعے بھیجا گیا ہے“ ﴿75﴾ وہ مغرور لوگ کہنے لگے: ”جس پیغام پر تم ایمان لائے ہو، اُس کے تو ہم سب منکر ہیں“ ﴿76﴾ چنانچہ انہوں نے اُونٹنی کو مار ڈالا، اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی، اور کہا: ”صالح! اگر تم واقعی ایک پیغمبر ہو تو لے آؤ وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دیتے ہو!“ ﴿77﴾ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں زلزلے نے آپکڑا، اور وہ اپنے گھر میں اوندھے پڑے رہ گئے ﴿78﴾ اس موقع پر صالح اُن سے منہ موڑ کر چل دیئے، اور کہنے لگے: ”اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچایا، اور تمہاری خیر خواہی کی، مگر (افسوس کہ) تم خیر خواہوں کو پسند ہی نہیں کرتے تھے“ ﴿79﴾
اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اصل میں واقعی جب انسان اپنی برائی پہ ڈٹ جائے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ضائع کر دے، تو پھر ان کو نصیحت، ان کے لیے نصیحت بے کار ہو جاتی ہے۔ تو ان لوگوں نے چونکہ فیصلہ کر لیا تھا، حالانکہ اپنے سے پہلے قومِ عاد کے بارے میں ان کو آگاہی ہو گی، لیکن بس انسان وقتی طور پر چیزوں سے زیادہ اثر لیتا ہے، نہ ماضی سے زیادہ اثر لیتا ہے، نہ مستقبل سے زیادہ اثر لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ماضی کو بھول جاتا ہے، مستقبل کی پرواہ نہیں کرتا۔ تو اس کو اللہ پاک نے ایک ہی آیت میں اس چیز کو سامنے واضح فرما دیا، كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْاٰخِرَةَ۔ ہرگز نہیں، بلکہ تم جو فوری چیز ہے اس کو لیتے ہو، اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے وہ چھوڑ دیتے ہو۔ اور یہ جو واقعات جتنے بھی آئے ہوئے ہیں، یہ اس بات پہ گواہ ہیں کہ لوگ اپنے ماضی کا بھی خیال نہیں کرتے۔ جتنی سخت سے سخت تکلیفیں آ چکی ہوں، بلکہ یہی بات ہے کہ ایک شخص ہے بیمار ہے۔ تو بیمار ہے تو بہت زیادہ دعائیں کرتا ہے اور لوگوں سے بھی کہتا ہے، اور بس نیت کر لیتا ہے کہ اب میں ٹھیک ہو گیا تو بالکل صحیح کام کروں گا، یہ نہیں کروں گا، وہ نہیں کروں گا۔ وہ سارا کچھ کرنے کے بعد جس وقت ٹھیک ہو جاتا ہے، بالکل پھر وہی کا وہی ہو جاتا ہے۔ بالکل ہمارے معاشرے میں سامنے کی باتیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح وہ بھول جاتا ہے۔ تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ انسان کو اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں، ہمارے پاس بھی لوگ آتے ہیں۔ بعض دفعہ کوئی لوگ بھیج دیتے ہیں، بعض دفعہ خود ان کو کسی طریقے سے پتا چل جاتا ہے۔ تو وہ جب آتے ہوئے، بڑی ناگفتہ بہ حالت ہوتی ہے، اور پریشان ہوتے ہیں، اور ہر چیز ماننے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ لیکن جب اللہ پاک ان کو صحت عطا فرماتے ہیں، برے حالات سے، یعنی وہ نکل آتے ہیں، تو بس پھر اس کے بعد پرواہ نہیں ہوتی۔ پھر بعد میں جب ان چار پانچ سال کے بعد پھر کوئی دھچکا لگتا ہے، پھر ٹیلی فون کرتے ہیں، جی حضرت! میں نے آپ سے بیعت ہوا تھا، یہ ہو گیا تھا، وہ ہو گیا تھا۔ تو یہ ساری چیزیں مطلب ہمیں بھی نظر آ رہی ہیں، تو جیسے ہمیں نظر آ رہی ہیں ہماری تو بڑی لمٹڈ، یعنی مطلب وہ ہے۔ تو پیغمبروں کی تو بڑی بات تھی، مطلب ظاہر ہے، ان کا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست رابطہ ہوتا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ایسی چیزوں سے بچائے جو کہ ہمیں خطرناک حالات کی طرف لے جائیں۔ ہماری اللہ پاک حفاظت فرمائے ایسی چیزوں سے،
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔