حضرت جریر رضی اللہ عنہ کی بیعت: عبادات کا اہتمام اور مسلمانوں کی خیر خواہی
بَابٌ فِی النَّصِيحَةِ، درس نمبر: 278، اشاعتِ اول: 4 مئی، 2023 بمطابق 13شوال المکرم، 1444 ہجری
- بدنی اور مالی عبادات (نماز اور زکوٰۃ) کی اہمیت
- دین میں انسانی استطاعت کی رعایت اور فرائض کی ترتیب
- تمام مسلمانوں کی خیر خواہی اور بھلائی چاہنا (النصح لكل مسلم)
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبۂ خیر خواہی اور ہمارا لائحہ عمل
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت
(182) ﴿الثَّانِيْ : عَنْ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: ”بَايَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَلَى اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَاءِ الزَّكٰوةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ“﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ: ”حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز ادا کرنے زکوٰۃ ادا کرنے اور تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کرنے کی بیعت کی۔“ تشریح: حدیث کے مختلف طرق ”بَايَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَلَى اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَاءِ الزَّكٰوةِ“ بیعت کی رسول اللہ ﷺ سے نماز کے ادا کرنے پر اور زکوٰۃ کے ادا کرنے پر۔ ایک دوسری روایت میں ”بَايَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَلَى شَهَادَةِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِيْتَاءِ الزَّكٰوةِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ“ کے الفاظ آئے ہیں۔ مسلم شریف میں اسی روایت میں ”فِيْمَا اسْتَطَعْتُ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ“ کے الفاظ نقل کئے گئے ہیں۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی جتنی طاقت ہے اتنی طاقت تو ان اعمال میں استعمال کرے اور اگر آدمی مجبور ہو گیا تو وہ قابل معافی ہے۔ محدثین نے فرمایا کہ تمام عبادات دو قسم کی ہیں: (1) بدنی (2) مالی۔ بدنی میں سے اہم عبادت نماز کو اور مالی میں سے اہم عبادت زکوٰۃ کو بیان کر کے تمام ہی دین کو جمع کر دیا۔ سوال: اس روایت میں روزہ اور حج کا ذکر نہیں ہے۔ جواب: اس وقت تک روزہ اور حج فرض نہیں ہوئے تھے۔ تمام مسلمانوں سے خیر خواہی کرنا وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ تمام مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا۔ کہ ہر مسلمان کی بھلائی چاہنا کسی کو بھی نقصان نہ پہنچانا۔ علامہ نووی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ یہی حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑا خریدنے گئے۔ گھوڑے والے نے گھوڑے کی قیمت تین سو درہم بتائی، انہوں نے کہا کہ تین سو کم ہیں چار سو لوگے؟ اس نے کہا کہ جیسے آپ پسند فرمائیں پھر فرمایا کہ پانچ سو لوگے؟ چھ سو لوگے یہاں تک کہ اس کو آٹھ سو درہم دے دیئے۔ بعد میں کسی نے پوچھا کہ تین سو درہم کا جب وہ دے رہا تھا تو آپ نے اتنی زیادہ رقم کیوں دی؟ فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی کہ ہر مسلمان سے خیر خواہی کروں گا، اسی خیر خواہی کے پیش نظر میں نے اس کو اس کی صحیح قیمت ادا کی۔
اپنی بیعت کا اتنا خیال رکھنا، یہ صحابہ کرام کا ہی طریقہ ہے۔
تخریج حدیث: اخرجه صحیح بخاری کتاب الایمان (باب قول النبی صلی الله عليه وسلم الدین النصيحة لله و لرسوله ولائمة المسلمين و عامتهم) و صحيح مسلم كتاب الايمان (باب بيان ان الدين النصيحة) احمد 48/7، 192، الحميدى 795، و ترمذی و ابن حبان 4545، والطبراني و البيهقي 145/8 والنسائی۔
مطلب یہ ہے کہ مسلمان کی خیر خواہی کرنا، یہ بہت اہم بات ہے۔ اور اللہ جل شانہ اس پر بہت خوش ہوتے ہیں۔ تو صحابہ کرام نے اس کا حق ادا کر دیا۔ یعنی مطلب اتنے پہ دینا چاہتے تھے لیکن انہوں نے بڑھایا، بڑھایا، بڑھایا اور اتنا اس کو دے دیا۔ تو یہ ہے کہ ان کی نظر میں اس کی قیمت اتنی تھی۔ تو اگرچہ وہ مجبور ہوگا، کسی وجہ سے کم پہ دے رہا تھا۔ لیکن انہوں نے خود ہی بڑھا دیا۔ تو اللہ جل شانہ ہمیں بھی ایسا دل عطا فرمائے جو خیر کے کاموں میں آگے بڑھنے والا ہو۔ اللہ پاک نصیب فرمائے۔