حقیقتِ جبر و اختیار اور اصلاحِ باطن میں عمل و محبت کا توازن

انفاس عیسی، درس: 3، (مسئلہ اختیار اور تصرف اور ہمت و اعمال کے اثر کا فرق ) اشاعت اول: بدھ 5 مئی 2007 بمطابق: 18 ربیع الثانی 1428 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. انسانی اختیار نہ خالص جبر ہے اور نہ خالص اختیار، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے تکوینی نظام کے ماتحت ہے۔
  2. انسان اپنے اندر صفتِ اختیار کو وجداناً محسوس کرتا ہے اور گناہ پر ہونے والی خجالت اسی اختیار کی دلیل ہے۔
  3. وقت گزرنے کے ساتھ دین کے صحیح تصورات پر پڑنے والے گرد و غبار کو ہٹا کر اصل بات سامنے لانا مجدد کا کام ہے۔
  4. اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اسی حد تک احکامات کا پابند کیا ہے جتنی اسے طاقت اور اختیار دیا گیا ہے۔
  5. جن معاملات میں انسان بے بس ہے وہاں اسے دعا کا حکم ہے، اور جہاں اسے اختیار ملا ہے وہاں عمل کرنا ضروری ہے۔
  6. باطنی رذائل کی اصلاح محض ذکر و شغل یا شیخ کی دعا و توجہ سے نہیں ہوتی بلکہ نفس کی مقاومت لازمی ہے۔
  7. روحانی ترقی کے لیے اسباب اور ہمت کو اختیار کرنا اور پھر نتائج کو اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر چھوڑ دینا شرط ہے۔
  8. سلوک اور تصوف کے راستے میں معمولات کی حیثیت ایک آنے کی جبکہ شیخ سے سچی محبت اور وابستگی کی حیثیت سولہ آنے کی ہے۔
  9. شیخ کی محبت کو بنیاد بنا کر معمولات کو ترک کرنا غلط ہے کیونکہ معمولات ہی روحانی ترقی کا زینہ بنتے ہیں۔
  10. تصوف میں شیخ کے سامنے مکمل سرینڈر ہونا پڑتا ہے اور ان سے برابری کا معاملہ کرنا شدید روحانی زوال کا سبب بنتا ہے۔
  11. محض بزرگوں کے روحانی تصرف سے ہونے والی اصلاح عارضی ہوتی ہے، جبکہ اپنی ہمت اور اعمال سے پیدا ہونے والا اثر دیرپا رہتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

یہ ضروری ملفوظات شریف ہیں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے۔ اس کو بہت غور کے ساتھ سننا ہے۔ اور جو اس میں ہمارے فائدے کی بات ہے اس کو سمجھنا ہے۔ اور اس کے اوپر عمل کرنے کی نیت بھی کرنا ہے، عمل کی نیت سے اس کو سننا ہے۔

مسئلہ اختیار:

مسئلہ اختیار کا اس قدر ظاہر ہے ہر شخص اپنے اندر صفت اختیار کو وجداناً اور طبعاً محسوس کرتا ہے چنانچہ جب وہ کوئی ناشائستہ حرکت کرتا ہے تو خجلت ہوتی ہے اگر وہ اپنے کو مجبور سمجھتا تو خجلت کیوں ہوتی۔ انسان تو انسان جانوروں تک کو اس اختیار کا ادراک ہوتا ہے۔ دیکھیے اگر کسی کتے کو لکڑی ماری جائے تو مارنے والے پر حملہ کرتا ہے نہ کہ لکڑی پر۔ اس کو بھی یہ امتیاز ہوتا ہے کہ کون مختار ہے اور کون مجبور۔ حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت سادہ اور سہل عنوان سے اس مسئلہ جبر و اختیار کو بیان فرمایا ہے۔

زارئی ما شد دلیل اضطرار
خجلت ما شد دلیل اختیار

غرض نہ خالص جبر ہے نہ خالص اختیار ہے۔ اختیار خالص نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ماتحت ہے اختیار حق کے، مستقل اختیار نہیں ہے۔ غرض کہ سالک جب تک صفت اختیار کو استعمال نہ کرے گا۔ اصلاح ممکن نہ ہو گی، مثلًا کسی میں بخل ہے تو نرے ذکر و شغل یا شیخ کی دعا و توجہ و برکت سے یہ رذیلہ ہرگز زائل نہ ہو گا۔ بلکہ نفس کی مقاومت ہی سے زائل ہو گا گو ذکر و شغل وغیرہ معین ضرور ہو جائیں گے مگر کافی ہرگز نہیں ہو سکتے اس طریقہ میں تو کام ہی سے کام چلتا ہے نری تمناؤں یا نری دعاؤں سے کچھ نہیں ہوتا۔

کار کن کار بگذر از گفتار
کاندریں راہ کار باید کار

بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو کہ سنتے سنتے لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ جاتی ہیں۔ اور پھر وہ اتنی پکی ہو جاتی ہیں کہ جب حق کی بات ان کے سامنے کی جائے تو ان کو وہ حق کی بات کمزور نظر آتی ہے۔ حالانکہ وہ بات بڑی پکی ہوتی ہے۔ مثلاً اب ایک طرف آپ کسی بزرگ کا قول رکھیں اور دوسری طرف آپ اللہ پاک کے کلام کی کوئی آیت رکھیں۔ تو کس کو ترجیح ہو گی؟ ظاہر ہے اللہ پاک کے کلام کو ترجیح ہو گی کیونکہ اللہ پاک کا کلام وہ کامل ہے۔ باقی تو کوئی کامل نہیں ہو سکتا۔ اب اول تو ضروری نہیں کہ بزرگ کا قول جو آپ نے سنا وہ وہی ہے جو کہ آپ نے سنا۔ درمیان میں اس میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے، تو یہ بات ہے۔ دوسری بات جو آپ نے سنا کیا وہ اس کا واقعی وہی مطلب ہے جو آپ نے سمجھ لیا؟ اب اس میں ہزاروں باتیں آ سکتی ہیں۔ قرآن مستقل ہے، لہٰذا اس کے اندر کوئی درمیان میں نہیں ہے۔ تو اب یہ مسئلہ قرآن پاک میں بالکل وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ دو آیاتِ کریمہ کو لے لیں۔ ساری باتیں کلیئر ہو جائیں گی۔ ایک لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ اللہ جل شانہٗ کسی کے اوپر کوئی ایسی چیز نہیں لازم کرتے جس میں اس کو طاقت نہ دی ہو۔ ہے نا بات؟ اس میں درمیان میں کوئی اور بات تو نہیں ہے۔ اور إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمام چیزوں پر قادر ہے۔ اس کے اندر ساری باتیں فکس ہو جاتی ہیں۔

یہ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ میں ہماری اضطراری کیفیت ہے کہ اللہ جل شانہٗ کو سارے اختیارات حاصل ہیں۔ ہمارے تمام اختیارات اس کے اندر ہیں۔ اور لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں جتنا اختیار ہمیں دیا ہے اس کے بارے میں بیان ہے۔ تو یہی بات حضرت نے بھی بیان فرمائی ہے۔

اب اتنی پکی باتیں ہیں لیکن کیا کریں؟ جب سنتے سنتے سنتے سنتے سنتے سنتے وہ بات ذہن میں بیٹھ جائے۔ تو پھر اس کا نکلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کو مختلف طریقوں سے پھر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تو مجدد کا کام ہوتا یہی ہے کہ وہ جو گرد و غبار پڑا ہوتا ہے بہت ساری چیزوں پہ۔ وہ گرد و غبار کو ہٹا کے صحیح چیز کو سامنے لے آتا ہے۔ تو تصوف میں جتنا گرد و غبار پڑا ہوا تھا۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس گرد و غبار کو ہٹا دیا۔ اور بالکل پھر سے وہی چیز جو کہ دین کی صحیح چیز تھی اس کو سامنے لے آئے۔ اس وجہ سے ہمارے اوپر ان کا بڑا احسان ہے کہ انہوں نے وہ باتیں جو کہ پکی باتیں تھیں لیکن گرد و غبار کی وجہ سے چھپ گئی تھیں وہ دوبارہ ان کو سامنے لے آئے اور ہم نے اس کا فائدہ اٹھا لیا۔

اب یہ جو میں نے آپ کو آیتِ کریمہ کا بتایا، یہ پہلے سے بھی آیتِ کریمہ موجود تھی۔ لیکن اتنا پورا ایک ذخیرہ موجود تھا کہ اس کے اندر اس کی جو صحیح manifestation تھا وہ دب گیا تھا۔ لہذا صحیح بات تک لوگ نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ اب حضرت نے یہ کام کیا ہے تو ہمارے لیے بہت آسان ہو گیا۔ اب ہم جو بیان کرتے ہیں لوگوں کی بھی سمجھ میں آ جاتا ہے، یہ برکت حضرت کی ہے۔ اگر یہ باتیں ہم اس وقت پہلے بتاتے تو شاید لوگ نہ سمجھتے، عوام تو عوام، مولوی لوگ بھی نہ سمجھتے۔ جو یعنی مطلب ظاہر ہے اسی کام کے لیے ہوتے ہیں۔ ان میں بھی ہزاروں اس قسم کی باتیں درمیان میں سنتے سنتے آ گئی تھیں۔ اب ان کے لیے ایک بہت بڑی ہستی کی ضرورت تھی کہ ان تمام چیزوں کی اصلاح کرے۔ تو حضرت نے یہ کام کر دیا الحمد للہ، اب ہمارے لیے یہ بہت آسان ہے، ہم بھی بیان کر لیتے ہیں اور حضرت کی برکت سے بیان فرما، کر لیتے ہیں۔

تو یہاں پر حضرت فرماتے ہیں کہ:

مسئلہ اختیار کا اس قدر ظاہر ہے ہر شخص اپنے اندر صفت اختیار کو وجداناً اور طبعاً محسوس کرتا ہے

مجھ سے جب بھی کوئی غلطی ہو جاتی ہے مجھے اس پر افسوس ہوتا ہے۔ یہ افسوس جو ہے تو اس کا مطلب میں اس کا اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہوں کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے ایسا کیوں کیا؟ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ یہ والی بات، اگر میں نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ اپنے بیٹے کا علاج کر سکتا تھا، نہیں کیا، اس کی وجہ سے چلا گیا تو اپنے آپ کو ملامت کرتا رہوں گا، اوہو، میں نے اس کا علاج نہیں کیا، یہ نہیں کیا، وہ نہیں کیا۔ حالانکہ جانا جو تھا وہ تو جانا تھا۔ اس کا تو پہلے سے طے تھا۔ ہاں، مطلب ظاہر ہے، اگر میں لے بھی جاتا ڈاکٹروں کے پاس تو جانا تو تھا، وہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ٹھہر تو نہیں سکتا تھا۔ ڈاکٹر ہی کوئی غلطی کر لیتے۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ افسوس ہوتا ہے۔ تو یہ افسوس جو ہے یہ کس چیز کا اظہار کر رہا ہے؟ کہ میں اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھ رہا ہوں۔

چنانچہ جب وہ کوئی ناشائستہ حرکت کرتا ہے تو خجلت ہوتی ہے اگر وہ اپنے کو مجبور سمجھتا تو خجلت کیوں ہوتی۔ انسان تو انسان جانوروں تک کو اس اختیار کا ادراک ہوتا ہے۔ دیکھیے اگر کسی کتے کو لکڑی ماری جائے تو مارنے والے پر حملہ کرتا ہے نہ کہ لکڑی پہ

آپ پتھر پھینکیں تو پتھر کو ایک نظر دیکھتا بھی نہیں۔ کتا پتھر کو ایک نظر دیکھتا بھی نہیں، وہ فوراً پتھر پھینکنے والے پہ حملہ کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب اس کو بھی پتا ہے کہ کون مجبور ہے اور کون مختار ہے۔ ارادہ کس کا ہے؟ جس نے ارادہ کیا ہے اس کے ساتھ وہ نمٹتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ بات یہ کہ کتوں کو بھی۔۔۔

وہ کہتے ہیں کہ کیل کو ٹھونکا جا رہا تھا نا، دیوار میں۔ تو دیوار نے اس سے شکایت کی، ظالم، کیوں مجھے چیر رہے ہو؟ آخر تیرے میرے ساتھ کیوں دشمنی ہے؟ کہتی ہے، سر پر کس کی پڑ رہی ہے، یہ بھی تو پوچھو نا۔ جس کے سر پر پڑ رہی ہے، وہ جو سر پر ہے، اس سے وہ کیا کر سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے، کیل کے سر پہ پڑ رہی ہے، تو ظاہر ہے، مطلب یہ ہے، وہ آگے جا رہی ہے۔ اب دیوار کا تو نظر آرہا ہے کیل کا۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان تو انسان، تو کتا جانور بھی مطلب اس کا ادراک کر لیتا ہے کہ کون مجبور ہے، کون سا مختار ہے۔

حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت سادہ اور سہل عنوان سے اس مسئلہ جبر و اختیار کو بیان فرمایا ہے۔

اب یہ مشکل باتیں تھیں، لیکن ان حضرات نے بہت آسانی کے ساتھ یہ بیان فرمائی ہیں۔ یہی ہمارے اوپر ان حضرات کا احسان ہے۔ فرمایا:

زارئی ما شد دلیل اضطرار

میں جب زاری کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے سامنے تو یہ میرے اضطرار کی دلیل ہے کہ میرا فیصلہ کرنے والا کوئی اور ہے۔ میرا فیصلہ کرنے والا کوئی اور ہے، میں چاہے جتنا ہی کوشش کر لوں، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ ادھر سے، ادھر سے گرین سگنل نہ آ جائے۔

تو زاری ما شد دلیل اضطرار
خجالت ما شد دلیل اختیار

اور جب میں کسی چیز پر شرمندہ ہوتا ہوں، تو یہ میرے اختیار کی دلیل ہے کہ میں اپنے آپ کو مجبورِ محض نہیں سمجھ رہا بلکہ اپنے آپ کو مختار سمجھ رہا ہوں اور اس کی وجہ سے پھر میں استغفار بھی کرتا ہوں، توبہ بھی کرتا ہوں۔ اور میں وہ اپنے اندر کیا، وہ ایک محسوس کرتا ہوں، خجالت۔

غرض نہ خالص جبر ہے نہ خالص اختیار ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ انسان کتنا مختار ہے اور کتنا مجبور ہے؟ اس نے کہا کہ تم ایک پیر اٹھا لو۔ اس نے ایک پیر اٹھا لیا۔ اس نے کہا دوسرا بھی ساتھ اٹھا لو۔ کہتے یہ تو نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا بس اتنا اختیار ہے اتنا مجبور ہے۔ یعنی جو پہلا پیر اٹھانا، یہ تو اس کے اختیار ہے، لیکن ساتھ ہی دوسرا پیر اٹھانا یہ مجبور ہے۔ یہ نہیں کر سکتا۔ زمین اس کو کھینچ رہی ہے اللہ پاک نے جو قانون بنایا ہے اس کا یہ پابند ہے۔ تو یہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ ضرور جو کچھ کر سکتا ہے اسی کے اندر پوچھا جائے گا۔ تو اللہ پاک کبھی بھی اس کو یہ حکم نہیں دے گا کہ تم دونوں پیر ایک وقت میں اٹھا لو۔ کبھی بھی اللہ پاک اس کو ایسا حکم نہیں دے گا کہ تم دونوں پیر ایک وقت میں اٹھا لو۔ اللہ پاک اس کو اتنا ہی زیادہ سے زیادہ دے گا کہ ایک پیر اٹھا لو۔ تو اللہ پاک کے جتنے بھی احکامات ہیں وہ وہ اسی رینج کے اندر اندر آتے ہیں۔ بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ ہماری رینج کا پتا ہی ان احکامات سے چلتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک تو تمام چیزوں کو جانتا ہے تو اس نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ ہمارے اختیار میں ہو گا تبھی دیا ہو گا۔ ہماری رینج سے باہر ہو گا ہی نہیں۔

اب اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے تو کیا اس کے اوپر وہ ہاتھ دھونا واجب ہے وضو میں؟ کٹنے کے بعد؟ کون سا مفتی کہتا ہے؟ حتیٰ کہ اگر کوئی گونگا ہے تو اس کے اوپر نماز کے اندر وہ نماز کا سبق وغیرہ پڑھنا واجب ہی نہیں۔ بس وہ تصور ہی تصور میں رکھے گا سب کچھ کیونکہ تصور اس کے اختیار میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان جتنا کر سکتا ہے اللہ پاک کا اس کا اتنا حکم ہے۔ اس سے زیادہ نہیں ہے۔

تو اللہ جل شانہٗ نے ہمیں اختیار و بے بس کا سکھایا ہے۔ جن چیزوں کے اندر ہمارا کچھ بس نہیں چلتا اس کے بارے میں تو ہمیں حکم دیا ہے دعا کا کہ اس میں مجھ سے مانگو۔ اور جس چیز میں اللہ پاک نے ہمیں اختیار دیا ہوا ہے اس میں اللہ پاک نے ہمیں کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس میں کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر کوئی ان کاموں کو چھوڑ کر دعا کرنے لگ جائے تو وہاں اس کی گردن ناپی جا سکتی ہے۔ اور جہاں دعا کرنے کی جگہ ہے وہاں پر یہ کام کا سوچے گا تو تکوینی نظام اس کو جکڑ لے گا۔ تکوینی نظام اس کو جکڑ لے گا، وہ کچھ کر تو سکے گا نہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب خود خراب ہی ہو گا نا۔ جیسے مثال کے طور پر کسی کا لکھا ہوا ہے تو اس کو تو کوئی روک نہیں سکتا وہاں دعا ہی کر سکتا ہے نا۔ ڈاکٹر لوگ بھی جب فیل ہو جاتے ہیں اور تمام سکیمیں فیل ہو جاتی ہیں اور وہ کہتے ہیں انجیکشن بھی اب نہیں چڑھتا، خون بھی مطلب نہیں چلتا تو پھر وہ سب لوگوں سے کہتے ہیں اب دعا کرو۔ اب دعا کرو مطلب ظاہر ہے پھر وہاں پر ان کو بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اب ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ کہتے ہیں دعا کرو۔ پائلٹ بھی جب پھنس جاتا ہے، وہاں سارے instruments فیل ہو جاتے ہیں نہ تو پھر کہتے ہیں دعا کرو۔ مسئلہ ہو گیا کیا کریں، اب دعا کریں۔ اب دعا ہی کی بات ہو سکتی ہے نا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ جب بھی کبھی اس قسم کی بات آ جائے۔۔۔ یہ جتنے بھی لوگ ہیں چاہے بحری جہاز میں اگر طوفان آ جاتا ہے تو کیپٹن باقاعدہ اعلان کرتا ہے کہ دعا کریں۔ کیونکہ طوفان جو ہے نا وہ ان کے حتیٰ کہ وہ غیر مسلم بھی کہتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ان کو پتہ چل جاتا ہے اب ہماری ساری سکیمیں فیل ہیں جتنا ہمارے بس میں ہے وہ ہم کر چکے وہ نہیں ہو رہا تو اب دعا ہی کریں۔ ایک ایسی ہستی سے جو کہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ تو یہاں پر یہ والی بات ہے کہ رینج کو دیکھنا چاہیے کہ ہماری رینج کیا ہے۔

غرض کہ سالک جب تک صفت اختیار کو استعمال نہ کرے گا۔ اصلاح ممکن نہ ہو گی، مثلًا کسی میں بخل ہے تو نرے ذکر و شغل یا شیخ کی دعا و توجہ و برکت سے یہ رذیلہ ہرگز زائل نہ ہو گا۔

اب یہاں پر بھی دو چیزیں ہیں ایک ہے ہمت، کوشش، سبب اختیار کرنا، طریقے سے کام کرنا جس طرح کہا جائے اس طرح کرنا، یہ ہمارے اختیار کی چیز ہے۔ اس میں کوئی سستی کرے گا اور کہے گا کہ شیخ کی توجہ سے ہمارا کام ہو جائے گا۔ اور ساری چیزیں ہمارے لئے bypass ہو جائیں گی۔ ایسا تو نہیں ہے۔ اللہ پاک نے جو قانون جس طرح پینے کے ساتھ پیاس بجھتی ہے کھانے کے ساتھ سیر ہوتا ہے آدمی، اس طرح اس کے بھی قوانین بنائے ہیں۔ وہ قوانین آپ اختیار کریں گے تو کچھ ہو گا۔ اب اگر لوگ اس کو دعاؤں پہ چھوڑ دیں تو وہاں پر یہ معاملہ گڑبڑ ہو جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود جب آپ سب کچھ کریں تو اس کے اوپر نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہاں پر شیخ کی دعا اور وہاں پر برکت اور وہاں پر یہ تمام چیزیں آ جائیں گی۔ اب اگر آدمی کہتا ہے میں تو کام کر رہا ہوں مجھے کس چیز کی ضرورت ہے وہاں پر وہ مارا جائے گا۔ بات سمجھ آرہی ہے نا، مطلب دونوں چیزیں بیک وقت ہونی چاہیئں۔ ہمت کرو پھر اللہ پہ فیصلہ چھوڑ دو۔ اس کے اندر جو اللہ جل شانہٗ نے برکت کی چیزیں رکھی ہوئی ہیں وہ اللہ جل شانہٗ اپنے طور پہ کر لیتے ہیں اگر وہ موجود ہوں گی تو اس کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا۔ تو وہاں پر یہ تمام چیزیں ذکر اور جو دعائیں ہم کرتے ہیں یا جو مطلب مشائخ کی توجّہات ہوتی ہیں، ساری چیزیں پھر وہاں پر استعمال ہو جاتی ہیں۔ کوشش ہر ایک کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ جب یہ دوسری چیز بھی ہوتی ہے تو فائدہ ان کو ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کے ہاں تو دونوں نظام چلتے ہیں نا، دونوں نظام ساتھ ساتھ چلتے ہیں نا کچھ اختیاری ہے کچھ غیر اختیاری ہے۔ تو جو اختیاری ہے تم کر لو، اور غیر اختیاری کا راستہ نہ روکو۔ اس طرح سے نہ روکو کیونکہ وہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہاں پر اگر خدانخواستہ وہاں معاملہ گڑبڑ ہے۔ تو پھر صرف ہماری کوشش سے تو کچھ نہیں ہوگا۔ ہماری کوششیں بلاک ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک پورا نظام ہے اس کے اندر سب کچھ بند ہے۔ تو اس سے آگے بات جائے گی نہیں۔

اس سے آگے بات جائے گی نہیں، جیسے حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے کہا کہ حضرت جو کچھ آپ کرتے ہیں وہ ہم بھی کرتے ہیں ہمیں فائدہ نہیں ہوتا آپ کو فائدہ ہوتا ہے کیا وجہ ہے؟ حضرت نے فرمایا ابھی تک جتنا آپ لوگوں نے کیا وہ آپ کا نفس کھا چکا۔ اب وہ آدمی کیا سمجھے کہ بھئی نفس کیسے کھا چکا؟ میں نے کہا جو انسان پوچھ پوچھ کے چلتا ہے۔ تو پھر معاملہ ہوتا ہے مطلب وہ جو برکت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ پھر یہ بات ہوتی ہے کریں گے پھر بھی وہی، وہ بھی وہی کرے گا جو آپ کریں گے۔ لیکن وہاں برکت ہوگی وہاں کام چلے گا یہاں نہیں ہوگی۔ ضروری نہیں ہے۔ مطلب ضروری نہیں ہے۔ تو

اب ایک تو یہ بات ہے جیسے وہ بزرگ والی بات تو اس نے بِسْمِ اللَّهِ پڑھ لیا تھا اور پانی پہ دم کر لیا تھا تو وہ شہد بن گیا تھا۔ اب وہ بچے جو ہیں نا وہ کہتے ہیں بِسْمِ اللَّهِ تو ہمیں بھی آتی ہے۔ تو اتنی بات تو ان کے اختیار میں تھی نا لیکن شہد بننا تو ان کے اختیار میں نہیں تھا نا۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا عام قانون تھوڑی تھا۔ وہ تو خاص قانون تھا تو خاص قانون تو خاص لوگوں کے لیے ہوتا ہے نا۔ لیکن عام قانون بھی تو اس کے لیے استعمال تو ہو رہا تھا نا۔ بِسْمِ اللَّهِ تو اس نے بھی پڑھ لیا تھا۔ تو اب اگر سمجھیں ہم کہ نہیں بھئی ٹھیک ہے جی بس میں بھی تو اس چیز کو جانتا ہوں میں کر لیتا ہوں تو وہ پھر معاملہ گڑبڑ ہو جاتا ہے۔ وہاں پر معاملہ گڑبڑ ہو جاتا ہے ان چیزوں کو ذرا اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔

یہ میں نے کل پتہ نہیں ابھی اس دفعہ اخلاص کا رسالہ جو آیا تھا۔ اس دفعہ جو آیا تھا۔ اس میں حضرت امیر شاہ صاحب کا۔۔۔ اس میں حضرت زبیر صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو تھے حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ۔ ان کی وہ سوانح عمری تھوڑی سی دی ہوئی تھی کسی نے میرے خیال میں۔ اس میں انہوں نے یہ باتیں لکھی ہیں، یہ ہمارے سارے اکابر نے لکھا ہے لیکن بہرحال انہوں نے ذرا اور انداز میں لکھی، ہر ایک کا اپنا انداز ہوتا ہے بیان کرنے کا۔ تو وہ حضرت نے فرمایا کہ بالکل آخری وقت میں فرمایا۔ یعنی آخری رات کہتے ہیں میں ساتھ تھا حضرت کے، حضرت نے فرمایا کہ ہمارے ہاں سلوک بذریعہ جذب طے ہوتا ہے۔ طریقہ سلوک نہیں۔ سلوک کا طریقہ جذب طے ہوتا ہے۔ بطریقہ سلوک نہیں۔ سلوک کا طریقہ جذب سے ہوتا ہے۔ بطریقہ سلوک نہیں۔ تو اس میں فرما دیا کہ ہمارے ہاں جو معمولات ہیں وہ ایک آنہ ہیں۔ یہ میں آپ کو بہت سارا بیان، میرے خیال میں کافی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔ اور شیخ کی جو محبت ہے وہ سولہ آنے ہے۔ مطلب یہ یہ وہ والی بات ہے۔ اب یہ بات عموماً سمجھ میں نہیں آتی لوگوں کو۔ عموماً یہ چیز نا سمجھ میں نہیں آتی تو اس سے کمزوری ہو جاتی ہے۔ معمولات کو لوگ چھوڑ دیتے ہیں بعض دفعہ۔ کہ شیخ کی محبت سب کچھ ہے تو پھر معمولات بھی چھوڑ دو۔ تو حضرت نے اس کے لیے فوراً فرمایا کہ بھئی معمولات تو ترقی کا زینہ ہیں ہی۔ ترقی کا زینہ ہیں ہی۔ وہ تو بات حضرت نے بیان فرما دی ساتھ۔

تو کچھ لوگ یوں کرتے ہیں کہ معمولات کو چھوڑ دیتے ہیں شیخ کی محبت کے لیے، کہتے ہیں بس جی بس شیخ سے توجّہ ہو جائے گی سب کچھ ہو جائے گا، یہ بھی غلط ہے۔ کیونکہ معمولات کے اندر یوں سمجھیں جیسے میں نے آپ حضرات سے کہا سگنل۔ سگنل چاہیے ہوتا ہے، لیکن سگنل کی امپلیفیکیشن جتنی بھی ہو۔ اب میں جو بات کر رہا ہوں تو اگر میرے سامنے مائیک ہو تو مائیک میں اس کو امپلیفائی کروں تو امپلیفائی کروں اتنا کہ پورے گھر میں سنی جائے، اور اتنا امپلیفائی کروں کہ پورے محلے میں سنی جائے۔ اور اگر ساتھ میرے ریڈیو اسٹیشن کا مائیک ہو تو پوری دنیا میں سنی جائے۔ اور اگر میرے پاس کوئی سیٹلائٹ ٹرانسمیٹر ہو تو ممکن ہے چاند پر بھی سنی جائے۔ مریخ پر بھی سنی جائے، ٹھیک ہے نا مطلب یہ تو ڈیپینڈ کرتا ہے کہ امپلیفائر کیا ہے۔ کتنا امپلیفائر ہے۔ تو اسی طریقے سے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بس شیخ کی محبت ہونی چاہیے، اس کے علاوہ معمولات کی ضرورت نہیں ہے، یہ بھی غلط ہے۔ اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے معمولات کر رہے ہیں تو پھر شیخ کی کیا ضرورت، مطلب زبان سے نہیں کہتے لیکن دل میں ان کا یعنی یہ مسئلہ ایسا ہوتا ہے۔ تو وہ امپلیفائر کو کاٹ دیتے ہیں۔ مطلب امپلیفائر رہ جاتا ہے۔ اب جب امپلیفائر رہ جاتا ہے تو ٹھیک ہے جتنی ان کی بس ہے وہ تو کر ہی لے گا نا۔ لیکن وہ امپلیفائر والی بات تو اللہ پاک نے جو رکھی ہے وہ تو نہیں ہو گی نا۔ وہ تو کٹ گئی۔ اس کا معاملہ رہ گیا۔

اب یہ جو بات ہے کہ حضرت نے جو فرمایا کہ ایک آنہ معمولات کا ہے اور سولہ آنے شیخ کی محبت کا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معمولات انسان کرے گا لیکن یہاں پر اکثر حصہ جو طے ہوتا ہے طریقہ اس کے ساتھ ساتھ۔ اس پر اتنا فائدہ نہیں ہوتا جتنا کہ انسان معمولات کا کرتا ہے۔ اصل فائدہ وہ شیخ کی محبت کا ہوتا ہے۔ مطلب یوں سمجھیں اصل زور اس میں، اس میں وہی کا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارے معمولات بالکل تھوڑے سے ہیں۔ تو ہم نے دیکھا ہے واقعی کہ جن کو شیخ کے ساتھ محبت ہوتی ہے، ان کا بہت تھوڑے تھوڑے تھوڑے تھوڑے کام میں بہت زیادہ ترقی ہوتی ہے۔ وہ بہت جلدی آگے چلے جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں نے جو اسے ضابطے کا تعلق رکھا ہوتا ہے، تو ان کا یہ معاملہ نہیں ہوتا۔ ان کو مطلب ظاہر ہے، ٹھیک ہے، محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ پھر بھی بعض دفعہ مسئلہ ہو جاتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ مسئلہ اس لیے ہو جاتا ہے کہ چونکہ ان کو شیخ کی محبت حاصل نہیں ہوتی صحیح معنوں میں، تو بعض دفعہ وہ شیخ کے ساتھ برابری کا معاملہ کر لیتے ہیں۔ جیسے ہوتا ہے مطلب باقی لوگوں کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے برابری کا، وہ شیخ کے ساتھ برابری کا معاملہ کر لیتے ہیں۔ اب برابری کا معاملہ اس میں چلتا نہیں۔ یہ بالکل وہی معاملہ ہے جو صحابہ کا حضور کے ساتھ تھا۔ کیا صحابہ حضور کے ساتھ برابری کا معاملہ کر سکتے تھے؟

ان کا تو پہلے بات ہی ہوتی تھی فِدَاكَ أُمِّي وَ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ

اس سے اندازہ کر لیں، باپ اور ماں سے کوئی زیادہ نہیں ہوتا۔ لیکن وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ فِدَاكَ أُمِّي وَ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، ہمارے ماں باپ آپ کے اوپر قربان ہوں۔ یہ ایسی statement ہے کہ جس سے یہی وہ والی بات صحیح ہو گئی۔

فرماتے تھے کہ ہمارے ہاں ترقی بطریقِ جذب ہوتا ہے۔ بطورِ سلوک نہیں ہوتا۔ سلوک میں انسان شاید اتنے آسمان تک پہنچ جائے، جذب نہ ہو تو آدمی ادھر کا ادھر رہ جاتا ہے۔ اور خدانخواستہ اگر ایسی بات ہو کہ برابری کے معاملے کی وجہ سے ذرا توہین کا پہلو آ جائے، تو پھر devaluation شروع ہو جاتا ہے، زوال شروع ہو جاتا ہے۔ وہ بڑا خطرناک کام ہے۔ وہ بہت ہی خطرناک کام ہے۔ آسمان سے انسان پٹک دیا جاتا ہے، بلکہ آسمان، ایسا ہے، ہم نے دیکھا ہے بعض۔ آسمان سے اٹھا کر گرا دیا جاتا ہے۔ ہمارے جتنے بھی دیکھیں نا، ہمارے اوپر برابر کے مشائخ جو ہیں نا، بڑے بڑے جو مشائخ ہیں، ان کی ہسٹریوں میں، تو آپ ایسے لوگوں کو بھی دیکھیں گے جن کو بہت کچھ ملا۔ اور ایسے بھی لوگ دیکھیں گے جن کو بالکل ہی، حالانکہ محنت انہوں نے بہت کی تھی، انہیں نہیں ملا۔ وہاں پر درمیان میں کچھ ایسی بات آ جاتی ہے جس کے ساتھ کچھ ایسا مسئلہ ہو جاتا ہے۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ یہ قریبی مثال دیتا ہوں، قریبی مثال ذرا سمجھ میں آ جاتی ہے۔ قریبی مثال آسان ہوتی ہے سمجھنے میں۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، جس کی کتاب ہم پڑھ رہے ہیں نا۔ ان کے بارے میں کبھی ہمارے ذہن میں ہو سکتا ہے کہ جذبات میں آتے تھے؟ حضرت تو جذبات میں نہیں آتے تھے نا۔ ان کے بارے میں تو پوری ہسٹری جو ان کی ہے، کہ ان کو تو بالکل عین جذبات کے وقت میں بھی جذبات میں نہیں آتے تھے۔ اتنے زیادہ مطلب careful۔ ان کا واقعہ ہے۔ بیٹھے ہوئے ہیں، یہ خلافت کے دور کا مسئلہ ہے۔ خلافت، نہیں ہوتی مطلب یہ تحریکِ خلافت وغیرہ جو چلتی تھی۔ ایک عالم تھے، حضرت کے مرید تھے۔ وہ علماء کی اپنی ایسی فیلنگ ہوتی ہے۔ تو ایک عالم نے باتوں باتوں میں کہا کہ حضرت آپ کا وجود جو ہے ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ اگر آپ خلافت کی تحریک کی حمایت کرتے، اس سے امت کو بہت فائدہ ہوتا۔ کیونکہ جس قدر، جو اس وقت امت کے اندر ایک انتشار ہے خلافت کی تحریک پر، یہ ختم ہو جاتا۔ اور امت میں ایک زور کی صورت پیدا ہو جاتی۔ تو حضرت کوئی مخالفت ہوتی تو زیادہ فائدہ تھا۔ رائے دے دی۔ رائے دے دی، رائے سے کیا مطلب رائے دے دی نا۔ اب حضرت کی اعلیٰ ظرفی دیکھیں۔ فرمایا، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ بہت اچھی بات آپ نے کہی، بہت اچھی بات آپ نے کہی، بہت اچھی بات آپ نے کہی۔ اور آپ کی امت کے بہت خیر خواہ ہیں۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی آپ کی بات سے کہ دیکھیں آپ نے امت کی خیر کے لیے کتنا زبردست سوچا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور بھی ترقیاں عطا فرمائے، خوب دعائیں دیں ان کو۔ اور اخیر میں صرف چھوٹا سا فقرہ کہا کہ بھئی اب آپ کا مجھ سے فائدہ نہیں ہے۔ اب آپ کا مجھ سے فائدہ نہیں ہے۔

اب پہلے تو روانی میں نہیں کہا تھا، اس کو تو اندازہ نہیں ہوا نا کہ کیا یہ بات کہہ گئے ہیں۔ جب ان کو تھوڑا سا احساس ہو گیا، انہوں نے کہا حضرت کیا؟ کہا بھئی میں مجبور ہوں میں آپ کو دھوکہ نہیں دے سکتا۔ اب چونکہ اب آپ کو مجھ پر وہ اعتماد نہیں رہا، جو اس مقصد کے لیے ضروری ہے۔ اب آپ کے مسئلے پر آ جاتے ہیں۔ میں آپ کی یہ خدمت تو کر سکتا ہوں کہ میں آپ کو کسی اور کے بارے میں بتا دوں، جو آپ کے لیے زیادہ بہتر ہے اگر آپ چاہیں تو۔ ویسے مجھ سے آپ کو فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ رونے لگ گئے کہتے نہیں جی نہیں میں نے آپ کے ساتھ ہی بیعت کرنی ہے۔ میں تو آپ کی دوستی کے لیے کہہ رہا ہوں۔ میں تو آپ کے فائدے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ یہ نہیں کہ میں آپ کو یہ میں کوئی آپ کو غلط سمجھ رہا ہوں یا کوئی آپ نے گناہ کیا ہے یا کوئی غلط کام کیا ہے۔ نہیں بھائی۔ یہ بات آپ کی نہیں ہے ماشاءاللہ میں تو آپ سے بڑا خوش ہوں۔ لیکن جس چیز کے لیے سرینڈر ہوتا ہے مطلب مکمل۔ کسی کے سامنے تو مکمل سرینڈر ہونا پڑتا ہے نا۔ تو اگر نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بس۔ ظاہر ہے اب جہاں پر آپ کو ہو سکتا ہے تو وہاں پر آپ کر لیں۔ تو یہ ناممکن ہے۔ اب اندازہ کریں۔ اللہ پاک ہمیں معاف کر دے اتنے بڑے آدمی اتنے بغیر کسی جذبات والے آدمی کے ساتھ ساتھ اگر ایسی بات ہو سکتی ہے تو باقی تو پھر کیا ہے۔

اسی طرح حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھی تھے۔ ان کے ایک ساتھی تھے۔ حضرت چونکہ بہت زیادہ عالی ظرف تھے۔ اور سٹوڈنٹس میں کام کرتے تھے، سٹوڈنٹس ہوتے ہی جذباتی ہیں۔ لہٰذا بہت کچھ چھوڑ دیتے تھے۔ معاف کر دیتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے اوپر ایک قسم کا قابو کر لیتے تھے۔ ظاہر ہے یہ معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کو نقصان نہیں ہوتا تھا۔ نقصان تو ان کو یقیناً ہو جاتا تھا۔ کیونکہ جو سرینڈر کرتے تھے ان کو زیادہ فائدہ ہوتا تھا یقیناً۔ جو نہیں کرتے تھے ان کو فائدہ کم ہو جاتا تھا۔ لیکن اخیر تک چونکہ کیفیت ایمان والی بات پہ حضرت نے ان کو فرمایا تھا کہ آپ بیعت کرنا، ایمان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے یار آپ بیعت کر لیا کریں۔ تو کم از کم اس حد تک بھی لوگ جاتے چلے جاتے تھے۔ اس وجہ سے جلدی کسی کو فارغ نہیں کرتے تھے۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ تو بالکل فوری پہلی بات پہ فارغ کر دیا نا۔ کیونکہ وہ تو بیعت ہی بہت مشکل سے کرتے تھے۔ تو جیسے ہی درمیان میں کوئی تھوڑی سی بات خلاف سمجھی تو روک بھی دیا، بھئی تم مجھے خط نہ لکھو، تم یہ کرو تم وہ کرو۔ چھوڑ دیتے تھے اس کو۔ لیکن حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ جو تھے۔ وہ اس nature کے نہیں تھے۔ لہٰذا حضرت تو بہت زیادہ نرم مزاج تھا ان کا اور وہ adjust کرتے تھے۔

تو ایک ساتھی نے ان سے کہا کہ حضرت آپ میرے لیے دعا کریں۔ دو ساتھی تھے۔ دونوں کے لیے اب دونوں میں سے کسی ایک کا کام ہو گیا کسی کا نہیں ہوا۔ تو ساتھی تو ظاہر ہے دعائیں تو اللہ تعالیٰ ہی قبول کرتے ہیں جس کے لیے قبول فرما لے جس کے لیے نہ قبول فرمائے۔ کیونکہ ناز کا معاملہ تھا ان کا۔ مولانا صاحب کے ساتھ۔ تو مولانا صاحب سے کہا مولانا صاحب آپ نے فلاں کے لیے دعا کی وہ تو قبول ہو گئی اور میرے لیے دعا نہیں کی۔ انہوں نے کہا بیٹا آپ کے لیے دعا کی تھی لیکن میں تو خدا کے ساتھ نہیں تھا۔ اس نے کہا نہیں جی آپ نے میرے لیے دعا نہیں کی۔ بھئی میں نے آپ کے لیے دعا کی ہے۔ اللہ پاک سب، حکمت سے سب چیزیں کرتا ہے۔ دعا کی ہے میں نے۔ پھر اس نے کہا نہیں حضرت آپ نے میرے لیے دعا نہیں کی۔ اس طرح کچھ دس دفعہ اس طرح ہوا۔ اس کے بعد حضرت نے یہ کہنا چھوڑ دیا۔ کہ نہیں میں نے آپ کے لیے کی ہے تو خاموش۔ اب آ کے وہ جتنی مرتبہ کہہ رہا ہے حضرت خاموش، کچھ بھی نہیں کہہ رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اس کو ذرا احساس ہو گیا کہ معاملہ کچھ غلط سا نظر آ رہا ہے حضرت رسپانس ہی نہیں کر رہے مسئلہ کیا ہے۔ تو اس کو کچھ اندازہ ہوا کہ زیادتی مجھ سے ہوئی ہے۔ میں نے بار بار حضرت کو یہ کہا ہے۔ تو محبت تو تھی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مجھ سے غلطی ہوئی، میں نے آپ کو تنگ کر دیا۔ حضرت اس پہ بھی خاموش۔ اس نے کہا حضرت میں معافی چاہتا ہوں، حضرت اس پر بھی خاموش۔ پھر اس نے کہا حضرت غلطی ہو گئی، حضرت اس پر بھی خاموش۔ حتیٰ کہ رونے لگ گیا۔ حضرت اس پر بھی خاموش۔ پھر اس نے کہا حضرت غلطی ہو گئی ہے حضرت اس پر بھی خاموش۔ حتیٰ کہ رونے لگ گیا۔ حضرت اس پر بھی خاموش۔ پھر جب کچھ اور حضرات نے بھی حضرت سے کہنا شروع کیا حضرت نے فرمایا اب میرے بس میں نہیں ہے بیٹا۔ میرے بس میں نہیں ہے فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔ اب میرے بس میں نہیں ہے۔ اب میں مجبور ہوں۔ اب یہ فیصلہ کون کرتا ہے؟ فیصلہ تو خدا کی طرف سے ہوتا ہے نا۔ اس پر حضرت نے فرمایا اب میں مجبور ہوں بیٹا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے اب میں کچھ نہیں کر سکتا۔ مطلب جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ ہونا نہیں چاہیے تھا لیکن ہو گیا۔

میں نے دو مثالیں آپ کو دی ہیں۔ ایک مثال انتہائی درجے انتظامی شخص کی جس کا ہر کام انتظام سے ہوتا تھا جذبات میں نہیں آتے تھے۔ ان کی یہ بات بتا دی اور ایک ایسے شخص جو انتہائی شفیق تھے۔ انتہائی شفیق اللہ پاک نے جو ہمیں اپنے شیخ دیے تھے انتہائی شفیق۔ شفقت ان کے اوپر تمام تھی۔ ان کا واقعہ بھی ایسا ہوا ہے۔ اب اندازہ کر لیں کہ صورتحال کیا ہے۔ یہ معاملہ بڑا ہی نازک ہوتا ہے۔ بڑا ہی نازک ہوتا ہے۔ دونوں باتوں کو مستقل طور پر رکھنا چاہیے۔ ایک یہ بات ہے کہ محض دعاؤں پر انسان کو چھوڑنا نہیں چاہیے، معمولات اور اعمال اور تمام احتیاط اور ساری چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ فقط اس انتظار میں نہیں ہو کہ بزرگوں سے ہوگا تو ہو جائے گا نہیں، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور دوسری طرف بھلے یہ والی بات کہ اس کو کافی نہ سمجھا جائے۔ اس کو کافی نہ سمجھا جائے کیونکہ اس دور کے اندر یہ جو طریقہ ہے یہی سب سے زیادہ چلتا ہے۔ یہ جذب والا۔ سب سے مختصر طریقہ یہی ہے۔ کام کرو، لیکن محبت کے ساتھ کرو۔ محبت کے ساتھ کرو۔ جب محبت ہو گی تو راستہ بنے گا۔ محبت نہیں ہو گی تو راستہ نہیں بنے گا، راستہ کٹ جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ رک جاتا ہے جیسے انسان بلاک ہو جاتا ہے نا کسی چیز میں۔

فرمایا اگرچہ خیال ہو کہ بعض بزرگوں کی توجہ سے بڑے بڑے بدکاروں کی خود بخود اصلاح ہو گئی، یہ تو ایک قسم کا تصرف ہے اور ایسا تصرف نہ اختیاری ہے نہ بزرگی کے لیے لازم ہے۔ بہت سارے بزرگوں میں تصرف مطلق نہیں ہوتا۔ نیز تصرف کے اثر کو بقا بھی نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص تنور کے پاس بیٹھ جائے تو جب تک وہاں بیٹھا ہوا ہے تمام بدن گرم ہے، مگر جیسے ہی وہاں سے ہٹا، پھر ٹھنڈا کا ٹھنڈا۔ بخلاف اس کے کہ جو ہمت اور اعمال کے ذریعے سے اثر ہوتا ہے وہ باقی رہتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کشتہ طلا کھا کر اپنے اندر حرارت عزیزی پیدا کر لی۔ تو اگر وہ شملہ پہاڑ پر بھی چلا جائے تب بھی وہ حرارت باقی رہے گی۔

یہ حضرت نے تصرف والی بات جو مشہور تھی نا، بس نظر سے سب کچھ کر لیں۔ یہ تو نظر، کئی دفعہ مجھے کسی نے فون کیا کہ اپنی نظر میں رکھ لینا۔ یہ اپنی نظر میں پتا نہیں کیسے کس طرح کے الفاظ ہیں اپنی نظر میں رکھ لینا۔ میں نے کہا، ہماری نظر تو دعا ہے، کہ دعا تو میں ابھی آپ کے لیے کر لیتا ہوں۔ اب پتا نہیں وہ نظر سے کس چیز کو طلب کر رہا تھا تو وہ میں نے کہا کہ بھئی ہماری نظر میں، نظر میں رکھنا تو دعا ہے۔ میں آپ کے لیے دعا کرتا رہتا ہوں، اور کرتا ہوں، میں ابھی کرتا ہوں۔ لیکن یہ، اگر میں کسی کے حق میں آپ کے لیے دعا کرتا ہوں، اس کو اتنا کافی نہیں سمجھتے۔ اس کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ شاید ٹال رہے ہیں۔ حالاں کہ ٹالنے کی کیا بات ہے بھئی، جب اس ذات سے مانگ رہا ہے جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ تو اور اس کا اور کچھ کیا چاہیے؟ ہیں جی۔

تو تصرف، مطلب یہ والی بات، آتی ہے کہ مَامُور مِنَ اللَّهِ بعض لوگ ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ وہ سب کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوتا، جیسے شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا۔ ایک اسٹیج پر وہ مامور مِنَ اللَّهِ تھے، ان کی زبان سے یہ بات نکل گئی تھی کہ میرا قدم سارے اولیاء کی گردنوں پر۔ اس وقت جس میں تقریباً جتنے بھی اولیاء تھے سب کو یہ بات سنوائی گئی۔ جس نے کہا ہاں، میری گردن پر، وہ بچ گئے۔ جنہوں نے کہا کہ نہیں، ان کا معاملہ گڑبڑ ہو گیا۔ سو میں سے ایک آدھ ایسا ہوتا ہے، اور وہ کبھی کبھی ہوتا ہے، وہ کوئی عارف تھوڑا ہوتا ہے۔ تو من جانب اللہ اس کو ایک ایسی شان عطا ہو گئی کہ وہ، اس نے وہ بات کر دی۔ حتیٰ کہ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا۔ وہ کتنے عرصے کے بعد آئے ہیں، مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ۔ ان سے پوچھا کہ حضرت، یہ جو شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ میرا قدم سارے اولیاء کی گردنوں پر، یہ اس وقت کے اولیاء کے لیے تھا یا بعد کے لیے بھی ہو گا؟ یہ نہیں کہا کہ صحیح کہا ہے یا غلط کہا ہے۔ نہ حضرت نے اس سے انکار کیا۔ یہ نہیں، یہ بات تو ویسے مشہور ہے۔ ایسی بات نہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ نہیں بعد والوں کے لیے تو نہیں ہو گا، نہ پہلے والوں کے لیے کہا۔ کیونکہ پہلے والوں میں صحابہ کرام ہیں۔ اور بعد والوں میں امام مہدی علیہ السلام آ رہے ہیں۔ تو ان کے لیے تو نہیں، نہ پہلے والوں کے لیے۔ میں اپنے فرماتا ہوں۔ اور ان کو کہتے ہیں کہ میں اپنے فرماتا ہوں۔ یعنی اپنے آپ کو مطلب بتانے کے لیے کہ میں اپنے پر مانتا ہوں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ ریر کیسز ہوتے ہیں اس قسم کے۔ ورنہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ جب میوہ پک جاتا ہے۔ تو اتارنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں ان میں سے اتارنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے۔ ایسی بات نہیں۔ حضرت نے فرمایا کہ نہیں، بعد والوں کے لیے تو نہیں ہو گا، نہ پہلے والوں کے لیے تھا۔ کیوں کہ پہلے والوں میں صحابہ کرام ہیں اور بعد والوں میں مهدی علیہ السلام آ رہے ہیں۔ تو ان کا مقام تو ظاہر ہے ان سے ہے ہی۔ تو ان کے لیے تو نہیں، نہ پہلے والوں کے لیے ہے نہ بعد، میں اپنا فرماتا ہوں۔ اور یہ کہتے ہیں، میں اپنا فرماتا ہوں۔ یعنی اپنے آپ کو بچانے کے لیے نا، کہ میں اپنا فرماتا ہوں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ یہ رئیر کیسز ہوتے ہیں اس قسم کے۔ ورنہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ جب میوہ پک جاتا ہے تو اترتا ہے، کئی طریقے ہوتے ہیں ان میں سے اتارنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے۔ وہاں کسی کی نظر ظاہر ہو جاتی ہے۔ تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ نظر سے ہو گیا، اصل میں وہ نظر سے نہیں، وہ پہلے سے میوہ پک گیا تھا۔ وہ پہلے سے اس نے مجاہدہ، محنت، تمام چیزیں کی تھیں۔ اب کسی کو اس کے لیے ذریعہ بنایا جا رہا ہے، اس کے ذریعے اس چیز کو سامنے لایا جا رہا ہے۔

تو جیسے شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ والا واقعہ میں اکثر آپ کو بیان کرتا ہوں۔ کہ شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ، تو ظاہر ہے وہ جو خدمت اور محنت جو انہوں نے کی تھی۔ وہاں بھی تو خدمت کے ذریعے سارا مل گیا نا۔ ایک تو یہ ہے کہ یہ جس طرح سلسلہ شاذلیہ کے جو بزرگ ہیں، لیکن بہرحال ہوتا رہا ہوتا رہا ہوتا رہا حتیٰ کہ وہ وقت آ گیا۔ جنہیں نکال دیا تھا۔ اس نکالنے کے باوجود آج کل کسی کو نکال کے تو دیکھو۔ پھر رخ کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ اس کو نکال دیا تھا، ایسی حالت میں دیکھیں اتنا محبت کرنے والا مرید کہ وہ یہ کہ پہلے پہلے وہ جاتا ہے لوگوں کے ساتھ کمٹمنٹ کرتا ہے کہ آپ نے دو کا کھانا تیار نہیں کرنا چار کا کرنا ہے، کیوں کہ حضرت کی بیوی بھی ہے اور حضرت کا بیٹا بھی ہیں ان کے لیے بھی لے جاؤں گا۔ ان سے پہلے کمٹمنٹ لیتا ہے، پھر حضرت کو سلاتا ہے اس کو اطلاع بھی نہیں کرتا۔ حضرت کو سلا کے وہیں سے کھانا لے کے بھاگا بھاگا بھاگا بھاگا مائی کے پاس جاتا ہے اور اس کو کھانا دیتا ہے، پھر برتن خالی کر کے واپس برتن لے جاتا ہے پھر حضرت کے ساتھ وہیں آرام فرماتا ہے تاکہ حضرت کو کوئی شبہ نہ ہو کہ میں کہیں گیا تھا۔ اتنے محبت کرنے والے مرید، اس کو حضرت نے نکال دیا۔ وہ کہتے جی میں نے تو یہ کیا تھا میں نے تو یہ کیا تھا میں نے تو یہ کیا تھا آپ نے مجھے نکال دیا۔ آج کل جیسے سیاسی مرید ہوتے ہیں، تو وہ تو سارا کچھ تمام کر لیتے تو وہ کچھ نہیں وہ اِدھر اُدھر پھر رہا ہے، کہ جب بھی مجھے بلائیں تو میں حاضر ہوں کہیں میں دور نہ جاؤں۔ اب اللہ کی طرف سے مدد آ جاتی ہے کہ وہ بارش ہو جاتی ہے۔ بارش میں حضرت کا چھت ٹپکنے لگتا ہے۔ تو مائی کہتی ہے کہ حضرت ایک تو آپ کا مرید تھا صحیح، اس کو تو نے نکال دیا، اب دیکھ لو اگر یہ ہوتا تو آج کم از کم مٹی تو ڈال دیتا چھت پہ۔ حضرت نے فرمایا کہ میں نے نکالا ہے تو نے تو نہیں نکالا۔ اس کا مطلب اجازت دے دی، تو اطلاع کروا دی کہ بھئی ہماری چھت پہ مٹی ڈلواؤ۔ اب وہ ہے کہ چھت پہ مٹی ڈالنے کے لیے پیچھے سے چڑھ آیا۔ پیچھے سے چڑھا کہ اس کے اوپر مٹی ڈالی اور مٹی ڈال کے وہ یہ ہوا کہ آواز آئی تو حضرت کھانا کھا رہے تھے۔ بس وہ وقت لمحہ آ چکا تھا۔ تو وہ باہر آئے اور نوالہ ہاتھ میں تو دیکھا کہ شاہ بھیک ہے، انہوں نے کہا آؤ شاہ بھیک کھا لو۔ وہ تو اس موقع کے انتظار میں تھے، اوپر سے چھلانگ لگائی سیڑھیوں کے بغیر۔ اوپر سے چھلانگ لگائی اور وہ نوالہ کھا لیا اور بس اللہ پاک نے سب کچھ دے دیا۔ اس کی تکمیل ہو گئی۔ اور ایسی تکمیل کہ دیکھیں شیخ ان کا فاقہ کش ہے۔ لیکن اس کے دسترخوان پہ پانچ ہزار تک لوگ روزانہ کھا رہے ہوتے تھے۔ یہ تو بعض لوگ ہوتے ہیں نا اللہ تعالیٰ نے ان کا بڑا کھلا دسترخوان رکھا ہوتا ہے۔ پانچ ہزار کے لگ بھگ افراد روزانہ حضرت کے دسترخوان سے کھایا کرتے تھے۔ یہ اللہ پاک نے ان کو کس حد تک کھلا ہوا دے دیا تھا۔ تو یہ میں عرض کرتا ہوں کہ اب لوگ سمجھتے ہیں شاہ بھیک رحمۃ اللہ علیہ نے ایک نوالہ کھا لیا اور سارا کام ہو گیا۔ نہیں، پیچھے پورا نیٹ ورک بنا ہوا تھا۔ سرکٹ تھا تو بجلی دوڑنے کی دیر تھی۔ بجلی دوڑنے کا وق ت آ گیا سارا سرکٹ آن ہو گیا اور بس معاملہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ یہ والی بات ہوتی ہے۔

یہ واقعہ ہمیں کس نے سنایا ہے یہ بھی بتاؤں، یہ اگرچہ حضرت کے مواعظ میں بھی ہے۔ لیکن حضرت کے مواعظ کے علاوہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اجل حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے یہ واقعہ ہمیں خود سنایا۔ اور اسی بات پر سنایا، کہ توجہ اور تصرف کیا ہوتا ہے۔ تو ہم لوگوں کو ذرا بس معاملہ ذرا ایسے ہی ہوتا ہے۔

فرمایا کہ یہ شبہ ہو کہ جب جبلت تو کسی کی بدل نہیں سکتی پھر جبلت صفات رذیلہ کی اصلاح کیوں کر کی جاسکتی ہے؟ تو خوب سمجھ لو کہ مادہ جبلی ہوتا ہے مگر فعل اختیار میں ہے۔ پس بے شک مادہ زائل نہ ہو مگر اس کے مقتضاء پر عمل کرنا نہ کرنا تو اختیار میں ہے۔ اور اسی کا انسان مکلف ہے اور بار بار اس مقتضاء کی مخالفت کرنے سے وہ مادہ ضعیف ہی ہوجاتا ہے۔ یہ بھی حضرت نے ایک بڑی عجیب بات، اگرچہ اس کو فلسفہ نہ کہیں یا جو بھی کہیں لیکن بہرحال اس کی اصلاح فرمائی حضرت نے۔

کہ انسان کا جس طرح structure بنا ہوا ہے جسم کا، کہ اس کی آنکھوں کی ایک ساخت ہے، اس کی زبان کی ہے، اس کے کانوں کی ہے، اس کے تمام جسم کی ایک ساخت ہے۔ کسی کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، کسی کا کیسا ہوتا ہے، کسی کے fingerprints کیسے ہوتے ہیں، کسی کے کیسے ہوتے ہیں، کسی کی آواز بھاری کسی کی کم، کسی میں غصہ زیادہ کسی میں کم۔ یہ سب چیزیں مختلف جسم میں جیسے ہوتی ہیں۔ لیکن اور اسی طریقے سے انسان کے اندرونی صفات بھی مختلف ہیں۔ بعض میں شہوت کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بعض میں غصے کا مادہ بہت زیادہ ہوتا ہے، غضب کا، بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بعض میں عقل بہت تیز ہوتی ہے، رسا ہوتی ہے۔ بعض کی عقل کافی کم ہوتی ہے۔ مطلب مختلف variety یعنی انسانوں کے اندر ہے combination کے اندر۔ تو اللہ تعالیٰ کا ہر ایک کے ساتھ اپنا اپنا معاملہ ہے۔

اب اس سٹرکچر کے اندر جتنا کچھ چینج ہو سکتا تھا وہ اللہ کو پتا ہے۔ یعنی اس کے ہوتے ہوئے انسان کتنا کچھ کر سکتا ہے وہ اللہ کو پتا ہے۔ تو انسان اتنے کا مکلف ہے۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نرم تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ سخت تھے۔ تو نہ سختی عمر رضی اللہ عنہ کی گئی نہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نرمی گئی۔ لیکن ہم نے دیکھا یعنی تاریخ میں کہ جہاں نرمی کی ضرورت تھی وہاں عمر رضی اللہ عنہ کو بھی نرم ہونا پڑا، اگرچہ طبیعت سخت تھی۔ نرم ہونا پڑا نا؟ اور جہاں سخت ہونا پڑا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی سخت ہونا پڑا اگرچہ طبیعت میں نرمی تھی۔ ہے نا یہ بات؟ دیکھیں نا ہم نے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے بارے میں خود فرمایا تھا کہ انبیاء میں فلاں ایسے تھے فلاں ایسے تھے، اور میرے اصحاب میں فلاں اس طرح، یہ ساری چیزیں تھیں۔ لیکن دیکھیں اتنا مجاہدہ انہوں نے کیا تھا اور اتنا ان لوگوں نے اپنے اوپر قابو پایا تھا کہ باوجود اپنی طبیعت کی نرمی کے، جہاں سختی کی ضرورت تھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سخت ہو جاتے۔ اور ایسے سخت ہو جاتے کہ اور اتنے زیادہ سخت نہیں۔ منکرین زکوٰۃ کے خلاف اور بعض مسائل میں ان کا اپنا وہ تھا۔ تو وہاں پر بہت سخت۔ لشکر جو جا رہا تھا اس کے بارے میں بھی۔

اور نرمی کی بات کہ عمر رضی اللہ عنہ جیسے سخت آدمی کھانا کھلا رہے ہیں اور ایک صاحب بائیں ہاتھ سے کھا رہے ہیں۔ ان سے کہتے ہیں دائیں سے کھاؤ۔ اس نے کہا بس اب جب دائیں سے کھا رہا ہو گا تو پھر جب واپس آئے تو پھر بائیں ہاتھ سے کھا رہا ہے تو پھر میں نے کہا بھئی میں نے کہا تھا دائیں سے کھاؤ۔ پھر یہ کہ وہ دیکھا گیا کہ بائیں سے پھر میں بار بار تمہیں ٹوکتا ہوں یہ کیا بات ہے؟ اس نے دوسرا ہاتھ نکال کر حضرت کو یہ کر کے دکھایا کہ یہ اس میں تو میرا کٹا ہوا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ اوہو۔ میں نے آپ پر سختی کی، حالانکہ میں نے بہت غلط کیا۔ آپ فلاں کام کیسے کرتے ہوں گے، آپ فلاں کام کیسے کرتے ہوں گے، آپ فلاں کام کیسے کرتے ہوں گے، ساتھ ساتھ روتے جاتے۔ پھر ان کے لیے وظیفہ بھی مقرر کیا، اس کا حصہ بھی بنا دیا۔ ٹھیک ہے نا؟ اب دیکھ لیں یہاں نرمی کا موقع تھا تو عمر رضی اللہ عنہ اس سختی کے باوجود بھی نرم پڑ گئے۔

تو یہ چیز ہے کہ یہ والی بات ہوتی ہے کہ جبلت تبدیل نہیں ہوتی لیکن اس کے مادے پر عمل کرنا نہ کرنا یہ اختیار ہے۔ اب عمر رضی اللہ عنہ کو نرمی کرنے میں مجاہدہ کرنا پڑتا تھا۔ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سختی کرنے میں مجاہدہ کرنا پڑتا تھا۔ لیکن بہرحال کرتے تھے اور اپنی طبیعت کے خلاف وہ کام کرتے تھے۔ تو طبیعت تب نہیں بدلتی لیکن طبیعت کے استعمال کو بدلا جاسکتا ہے۔

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ایک شخص ہے وہ افلاطون کے زمانے میں، ایک حکیم تھا افلاطون وہ کسی کی تصویر دیکھ کر ہی وہ ملاقات کرتے تھے وہ ہر ایک سے ملاقات نہیں کرتے تھے، بڑا protocol تھا۔ تو ایک شخص کی تصویر ان کو دکھائی گئی تو اس نے کہا میں اس سے نہیں ملتا اس میں تو فلاں فلاں فلاں عیب ہے، جو مردوں میں ہوتا ہے۔ دادا، اچھا، بہرحال یہ ہے کہ وہ اس کو کہا گیا کہ افلاطون تو یہ کہتا ہے، کہتا ہے ہاں مجھ میں وہ مادہ ہے لیکن میں نے مجاہدہ کر کے اس کو control کر دیا ہے۔ لہٰذا اس کے مقتضاء پر عمل نہیں کرتا۔ لہٰذا اس کے مقتضاء پر عمل نہیں کرتا۔ وہ کہہ بھی صحیح رہا ہے لیکن بہرحال بات وہ ہے۔ دیکھیں۔ اس کا کشف صحیح تھا۔ لیکن اس کا جواب بھی صحیح تھا۔ تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک انسان ہے وہ اگر ایک انسان اپنی جبلت کے مقتضاء پر عمل نہ کرے تو بچ گیا۔ اگر غلط مقتضاء ہے۔ بچ گیا۔ لیکن اس کے لیے تو انسان کو مجاہدہ کرنا پڑتا ہے کہ اپنی طبیعت کے خلاف کام تو کر سکے نا۔ اپنی طبیعت کے خلاف کام تو کر سکے۔

فرمایا شیخ کی دعا اور برکت کو بھی بڑا دخل ہے اصلاح میں۔ لیکن اس کا درجہ محض اعانت کا ہے نہ کہ کفایت کا۔ جیسے عرق سونف کا مرتبہ مسہل میں کہ محض عرق سونف بلا مسہل کے کارآمد نہیں ہوتا۔ یا طبیب اور مریض کی مثال لو اگر مریض دوا نہ پیے تو محض طبیب کی شفقت و توجہ سے مریض ہرگز اچھا نہیں ہوگا۔ یا استاد اور شاگرد کی مثال لو تو محض استاد کی توجہ سے سبق یاد نہیں ہو سکتا۔ بلکہ شاگرد کے یاد کرنے ہی سے ہوگا۔ شیخ کا اصل کام تو راستہ بتانا ہے۔ باقی راستہ کا طے کرنا تو سالک ہی کا کام ہے۔ جیسے اندھے کو سوجھا راستہ بتاتا ہے گود میں اٹھا کر اس کو نہیں لے جاتا۔ راستہ تو خود اس کے چلنے ہی سے طے ہوگا۔

بہت ہی اہم ملفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم ہم اس کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ حضرت نے اس میں یہاں یہ بات فرمائی ہے کہ اصلاح کے اندر شیخ کی دعا اور برکت۔۔ اس کو بہت بڑا دخل ہے۔ یعنی۔۔ جیسے آپ حضرات پہلے پہلی بات سن چکے ہوں گے یا یہاں پر یہ بات بہت بار بار یعنی کہی جاتی ہے۔ کہ ایک ہے فن۔ کسی چیز کا جاننا۔ اور ایک ہے برکت۔ فن کے لحاظ سے تو سب برابر ہیں۔ کوئی بھی شخص ایک چیز کو سیکھ لیتا ہے تو ٹھیک ہے جی وہ اس کا ماہر ہو جائے گا۔ فن فن کا ماہر ہو جائے گا۔ experience جیسے ہوتا ہے مطلب اس کو experience حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن برکت جو ہے یہ ایسی چیز ہے۔ کہ اللہ جل شانہ ان لوگوں کے اندر جو کہ اس کے اہل ہوتے ہیں برکت رکھ لیتے ہیں۔

مثلاً ڈاکٹر تو بہت سارے ہوتے ہیں لیکن شفا اللہ تعالیٰ کسی کسی کے ہاتھ میں رکھ لیتا ہے۔ اب وہ جو شفا ہے وہ تو انسان کے بس میں نہیں ہے۔ ہمارے، مثلاً، اس میں بہت قابل ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹر عارف خان، قابلیت اس پر ختم ہے لیکن اس کے ہاتھ سے مریض شفا یاب نہیں ہوتا۔ بس کوئی پتا نہیں اب واللہ اعلم کیا بات ہے، بالکل صحیح بات بتاتا ہے اور بالکل غلط ہو جاتی ہے۔ تو ایسی بات ہوتی ہے، مطلب کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔ تو وہ وہ یہ بات ہے کہ اس میں فن جو ہے، وہ تو سب اس کے لیے برابر ہیں کہ انسان فن جو ہے، وہ تو حاصل کرے گا اور فن کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔ لیکن جو برکت ہے یہ اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے، جس کے لیے بھی اللہ پاک اس برکت کو رکھ لے۔ اب ڈاکٹروں میں چونکہ زیادہ تر جو اس کا تعلق ہے ظاہر کے ساتھ ہے، لہٰذا یہاں پر یہ شفا والی بات میں لوگوں کو اتنی زیادہ سمجھ نہیں آتی، اگرچہ experience اس کا ہوتا ہے۔ وہ نہ اتنا زیادہ ہوتا ہے جتنا سلسلوں میں ہے۔ مطلب سلسلے کے ساتھ پھر سمجھنے کے لیے میں نے بات کی ورنہ سلسلے میں برکت کا دخل بہت زیادہ ہے۔ یعنی اس لحاظ سے، جناب، مطلب یہ ہے کہ ایک، ایک ہی بات کوئی وہ، ایک بتاتا ہے اور دوسرا بھی بتاتا ہے، ایک کے اس میں فائدہ ہوتا ہے دوسرے کے اس میں فائدہ نہیں ہوتا۔

جیسے دم ہوتا ہے، دم۔ دم کی مثال میں اکثر دیتا ہوں، کہ جو دم کرتا ہے، وہ صحیح حدیث سے ہم کہتے ہیں، وہ دم جو ہے ایک عام آدمی بھی کرتا ہے، اور جس کو اجازت ہوتی ہے، جس نے اس پر محنت کی ہوتی ہے، وہ بھی کرتا ہے، اب اس کا دم اثر کر لیتا ہے، دوسرے کا اثر نہیں کرتا۔

وہ کہتے ہیں ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ ایک بزرگ تشریف لا رہے تھے۔ تو راستے میں، مدرسہ تھا۔ جو مسجد مدرسہ ہوتا ہے نا، مسجد، مسجد میں بچے ہوتے ہیں، پڑھتے ہیں، وہ کوئی باقاعدہ یعنی اس کے لیے عمارت نہیں بنی ہوتی، مسجد کے اندر ابتدائی صفوں کے لیے، پہلے یہی ہوتا تھا۔ اب بیچارے ان کی کوئی فتوحات نہیں تھیں، لہٰذا گھڑے، پانی کا رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے۔ تو بزرگ نے ان سے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا ہم پانی کے ساتھ روٹی کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کیوں کھا رہے ہو کہا ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں ہم کیا کریں؟ انہوں نے کہا اچھا لے آؤ گھڑے کو۔ گھڑے کو لے آیا تو اس کے اوپر دم کر لیا بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تھو وہ شہد بن گیا۔ شہد بن گیا تو اب ظاہر ہے مطلب وہ تو شیخ کہتے ہیں اچھا ایک ہفتے کے لیے آپ کے لیے کافی ہے میں ان شاء اللہ اگلے ہفتے آؤں گا۔ تو پھر دم کر لوں گا۔

اچھا اب وہ وہ آگے گئے تو بچے تو بچے ہوتے ہیں انہوں نے کہا یہ تو بڑا اچھا طریقہ ہاتھ آ گیا۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کس کو نہیں آتا؟ چلو ٹھیک ہے جی وہ ایک ہی دن میں سارا شہد کھا گئے۔ سارا شہد چٹ کر گئے۔ اب اس کے بعد یہ ہوا کہ وہ اگلے دن گھڑا رکھ لیا اور آتا ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تھو پانی کا پانی۔ پھر دوسرا آتا ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تھو پانی کا پانی۔ اس طریقے سے سب نے پورا زور پورا زور مارا پتا نہیں کس کس طریقے سے ان لوگوں نے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پڑھا لیکن پانی کا پانی رہ گیا۔ اب چھ دن پورا انہوں نے پھر پانی کے ساتھ روٹی کھائی۔ اب اگلے ہفتے جب حضرت آئے تو انہوں نے پھر پانی کے ساتھ روٹی کھائی انہوں نے کہا بھئی میں نے تو دم کیا تھا۔ کہتے ہیں وہ تو ایک ہفتے ایک دن میں کھا پی گئے تھے اور ہم تو پھر بعد میں کرتے رہے لیکن۔۔ وہ تو نہیں ہوتا نا۔ نہیں تو خدائی کا بندوبست ہے۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تو سب کو آتی ہے لیکن اس کے لیے زبان بھی تو چاہیے ہوتی ہے نا۔ تو آپ لوگوں نے کہا نہیں ہے کہ زبان کس کے لیے ہوتی ہے۔

اب یہ والی بات ہے عجیب نہیں ہے ویسے ہم تو دیکھتے ہیں اب جیسے یہ نہیں ہوتے جو بچھو کے کاٹے کا دم کرنے والے جو ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے والد صاحب کو دیکھا ہے نظر اتارتے ہوئے نا۔ والد صاحب کو جب پہلی دفعہ میں نے دیکھا مجھے ساری چیزیں خود بخود سمجھ میں آ گئیں۔ بس صرف ایک ہی چیز مجھے سمجھ میں نہیں آئی۔ کہ والد صاحب وہ اس طرح کرتے تھے کہ وہ وہ کسی کو بچھو نے کاٹا تھا۔ اور حضرت نے وہ نہیں بکائن کے جو پتے ہوتے ہیں۔ وہ ٹہنی سی کاٹ کے اس کے اوپر اس طرح کرتے تھے۔ اور وہ دم پڑھتے جاتے تھے اور باقاعدہ مریض کہتا تھا اب ادھر آ گیا، اب ادھر آ گیا، اب ادھر آ گیا۔ آخر میں اتر جاتا تھا۔ اب جب میں نے دیکھ لیا میں نے کہا یہ تو واقعی بڑی عجیب چیز ہے۔ زہر کوئی ایسی چیز تو نہیں ہے نا یہ تو physical چیز ہے۔ آخر جسم کے اندر چلا جاتا ہے نا، اس طرح تو نہیں ہوتا کہ بھئی یہ ہوائی چیز ہے ہوا چلی گئی۔ ایک physical چیز ہے۔ اور باقاعدہ اس کا اپنا اگر کوئی ڈاکٹر علاج کرنا چاہتا ہے تو کیا لگائے گا ڈاکٹر؟ اس کے لیے بچھو کے کاٹے کے لیے، بچھو نے جس کو کاٹا ہو اس کے لیے کیا کرتے ہیں ڈاکٹر؟

AUDIENCE

FIXME

SPEAKER

مطلب Avil type اس قسم کی چیزیں جو allergy کو دور کرتی ہیں نا۔ اور تو کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اب یہ بات تو نہ Avil کا injection لگایا نہ کوئی اور چیز۔ اب صرف اور صرف دم کر رہے ہیں، دم کے ساتھ وہ زہر نیچے جا رہا ہے، یہ کیا؟ یہاں سے مجھے مضمرات کی بات ہے نا جس کو بھی آتا ہے تو اس کا پتا چل جاتا ہے۔

تو اب یہ جو دم ہے اس میں کیا ہے؟ اللہ پاک نے برکت رکھی ہوئی ہے اور وہ برکت اوپر سے چلی آ رہی ہوتی ہے اذن کے ذریعے سے۔ اذن کے ذریعے سے چلی آ رہی ہوتی ہے۔ اب ہم لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ اس طرح ہوتا ہے۔ تو اگر یہ بات ہمیں سمجھ میں آتی ہے تو باقی جو سلاسل کی جو برکت ہے یہ تو اذن کے ساتھ ہی چلتی ہے نا۔ معاملہ تو اب اس میں اس کے اندر فن بھی ہے experience بھی ہے، ساری چیزیں ہیں لیکن اذن بھی ہے۔ بغیر اذن کے وہ چیز نہیں ہوتی۔ بغیر اذن کے وہ چیز نہیں ہوتی۔

اب یہ جو بات ہے یہ تو اس میں برکت ہے۔ تو برکت والی بات تو سمجھ میں آ گئی۔ اب اس کے بعد بات فن کی ہے۔ اللہ جل شانہ نے اس دنیا کو دارالاسباب بنایا ہوا ہے۔ اب ایک آدمی اگر وہ کہہ دے کہ بھئی ٹھیک ہے جی میں تو کھانا نہیں کھاتا میں تو نیک آدمی ہوں۔ اب میں تو صرف ذکر کروں گا ذکر سے میرا پیٹ بھر جائے۔ تو اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہیں، قادر ہے۔ لیکن اللہ پاک نے اس کو عمومی جہت سے سبب بنایا ہوا ہے۔ ہاں خصوصی طور پہ بطور کرامت یا بطور معجزہ، وہ اور چیز ہے اس کے لیے معجزہ کرامت ہر ایک کے لیے تو نہیں ہوتا۔ وہ تو اللہ جل شانہ نے کسی کسی کے لیے رکھا ہوتا ہے۔ ہر ایک سر بتراشد قلندری داند، وہ یہ تو نہیں کہ ہر ایک سر کے بال منڈوا لے تو قلندر بن جائے۔ مطلب وہ تو ظاہر ہے کوئی ایسی چیز ہوتی ہے۔ اب یہ والی بات ہے کہ اسباب کو اور برکت دونوں کو اکٹھا کرنا یہ ہوتا ہے کام۔ اسباب کو اور برکت کو۔

اللہ جل شانہ اپنا دست قدرت کو اسباب میں چھپا دیتے ہیں یہ اللہ پاک کی سنت عادیہ ہے۔ اگر آپ حضرات دیکھ لیں تو جو معجزہ یا کرامت بھی ہوتا ہے اس کے اندر بھی کچھ خفیف قسم کے اسباب ہوتے ہیں۔ آخر دیکھ لیں موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ لاٹھی کو پانی پہ مارو۔ ویسے پانی میں بارہ راستے تو نہیں بنے۔ اس کے لیے اللہ پاک نے اس لاٹھی مارنے کو کوئی سبب بنایا۔ بارہ راستے، پھر کچھ نہ کچھ اسباب، مطلب وہ جو بڑا سبب نہیں تھا، وہ تو ختم کر دیا، لیکن وہ جو چھوٹا سبب تھا، اس کو تو اختیار کروا دیا نا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں مبارک سے وہ آ رہے ہیں، وہ پانی کے چشمے۔ وہ ابل پڑا، ٹھیک ہے جی، مطلب ظاہر ہے اللہ جل شانہ اس پر قادر ہے۔ ہاں اس طریقے سے مطلب ظاہر ہے جتنے بھی معجزے ہوئے مکڑی نے جالا بنا دیا۔ مکڑی کا جالا ذریعہ بن گیا، وہ سبب بن گیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو اسباب ہیں یہ بھی چونکہ اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں، تو یہ تو ہو سکتا ہے کہ اسباب کے اندر تخفیف کر دی جائے۔ اسباب کے اندر تخفیف۔ لیکن اسباب کا بالکل سرے سے اڑانا یہ نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ اپنا دست قدرت کو اسباب کے اندر چھپا دیتا ہے، برکت اسی کو کہتے ہیں۔ دیکھیں آپ بھی کما رہے ہیں، وہ بھی کما رہے ہیں، اس کی کمائی میں برکت ہے، اس کی کمائی میں برکت نہیں ہے۔ نظر آتا ہے لوگوں کو۔ جس کی کمائی میں برکت ہوتی ہے وہ بھی لوگوں کو نظر آتا ہے، جس کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی وہ بھی لوگوں کو نظر آتا ہے۔ لیکن نہ یہ جان سکتا ہے نہ یہ جان سکتا ہے۔ دونوں نہیں جان سکتے، مطلب وہ جس کی کمائی میں برکت نہیں ہے نہ وہ یہ سمجھ سکتا ہے کہ کیسے نہیں ہے۔ Out of subject ہے تو اس کو پتا ہے، لیکن اس کے mechanism کا پتا نہیں ہے۔ اور جس کی کمائی میں برکت ہے اس کا بھی پتا نہیں چلتا کہ یہ کیسے ہے۔

وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ وہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ فاقہ تھا۔ گھر میں کچھ نہیں تھا۔ تو اب اللہ والے تھے تو اب۔ چلے گئے وہاں پر، مسجد میں چلے گئے، مسجد میں جا کر صلوٰۃ حاجت پڑھی۔ پھر آ گئے اور بڑے زبردست، سادہ تعلق تھا اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔ سادہ تعلق اس کو کہتے ہیں جس میں ذرا ایسی ویسی پیچ مروڑیں نہیں ہوتیں۔ سادہ تعلق تھا، آئے اپنی بیوی سے کہا کہ کچھ ہوا ہے؟ اس نے کہا نہیں ابھی تک تو نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا اچھا ہم میں ہی کچھ کسر رہ گئی ہے، چلو میں دوبارہ جاتا ہوں۔ پھر مسجد میں گئے، پھر صلوٰۃ الحاجت پڑھی۔ پھر صلوٰۃ الحاجت پڑھی اب پھر آ گئے، انہوں نے کہا کچھ ہوا ہے؟ انہوں نے کہا ابھی تک تو نہیں ہوا۔ اچھا، پھر کچھ گڑبڑ رہ گئی، چلو میں پھر جاتا ہوں۔ پھر چلے گئے، مسجد چلے گئے، پھر صلوٰۃ حاجت پڑھی۔

اب جب آئے تو دیکھا کہ وہ چکی جو گھر میں پڑی ہوئی تھی آٹے کی وہ خود بخود چل رہی ہے۔ چل رہی ہے۔ اب اس سے آٹا نکل رہا ہے۔ اب جتنے برتن ان کے پاس تھے، اب ان کے پاس برتن بھی تو بہت زیادہ نہیں ہوں گے نا۔ جب ان کے پاس اور چیزیں نہیں تھیں تو برتن کتنے زیادہ ہوں گے۔ بہرحال یہ کہ جتنے برتن ان کے پاس تھے سارے کے سارے آٹے سے بھر دیے۔ اب اس کے بعد پھر یہ ہوا کہ اس کے بعد مسئلہ رہ گیا کہ جب برتن ختم ہو گئے، تو انہوں نے دیکھا کہ اچھا دیکھتے ہیں کہ آخر اس کے نیچے کہاں سے آٹا آ رہا ہے۔ جیسے اٹھایا تو آٹا آنا بند۔ آٹا آنا بند ہو گیا۔ اب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر آپ یہ چکی کا پاٹ نہ اٹھاتے تو قیامت تک یہ چکی چلتی اور اس سے آٹا نکلتا رہتا۔ بس قسمت، جتنا مقدر ہوتا ہے، وہ جو تقدیر ہے، جو ہماری وہ غالب آ جاتی ہے۔ ٹھیک ہے نا؟

تو میں عرض کر رہا تھا کہ اسباب جو ہوتے ہیں یہ کم تو کر لیے جاتے ہیں لیکن بالکل اسباب ختم نہیں ہوتے، کسی طریقے سے، مشائخ میں بھی دیکھتے ہیں۔ کسی میں فن زیادہ ہوتا ہے، کسی میں برکت زیادہ ہوتی ہے۔ کسی میں دونوں زیادہ ہوتے ہیں، کسی میں دونوں کم ہوتے ہیں۔ مطلب یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں۔ اب یہ بات ہے کہ آپ نے دیکھا کہ جہاں پر برکت ہے وہاں اسباب کافی کم ہو جاتے ہیں۔ اور جہاں پر یہ ہے کہ وہ فن ہے تو وہاں پر فن بڑا نظر آتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے کہ جہاں برکت زیادہ ہوتی ہے وہاں اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں زیادہ ہوتی ہیں، کام پھر بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ نہیں کہ کام نہیں کرنا پڑتا لیکن وہ کام کی نوعیت ذرا مختلف ہو جاتی ہے۔

تو اب حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا جیسے وہی والی بات ہے کہ حضرت حاجی صاحب مہاجر مکی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے پاس گئے، انہوں نے کہا تھا کہ حضرت میں نے ذکر نہیں کرنا اور میں نے تہجد نہیں پڑھنی۔ بیعت ہوتے وقت شرط لگا لی۔ اب اللہ پاک نے ان سے کام لینا تھا، اللہ پاک نے اس کے لیے ایسے ذریعے بنا دیے۔ تو گئے تھے اصل میں مناظرہ کرنے کے لیے۔ عالم کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے گئے تھے تو وہ حاجی صاحب کے ساتھی تھے تو حاجی صاحب نے ان کو روک دیا بھئی یہ تو ہمارے ساتھی ہیں اب اس کے ساتھ مناظرہ کیوں کریں گے؟ آئے۔ تو جب ٹھہر گئے، ان کے ساتھ جب ٹھہر گئے تو لوگ بیعت ہو رہے تھے تو انہوں نے کہا کہ حضرت میں بھی بیعت ہوتا ہوں لیکن نہ تو مجھ سے ذکر ہو گا، نہ میں تہجد کے لیے اٹھوں گا۔ انہوں نے کہا کوئی بات نہیں، ہم نہ تہجد کے لیے اٹھیں، نہ ہی ذکر کریں۔

اس کے بعد اب اللہ پاک نے جو ان کو قبول کرنا تھا تو رات کو دو، ڈھائی بجے حضرت کو اٹھنا تھا، اور ان کی بھی آنکھ کھل گئی۔ اب اس کے بعد یہ لاکھ کوشش کر رہے ہیں کہ میری آنکھ بند ہو جائے اور نیند آ جائے، نیند آ نہیں رہی تھی۔ آخر میں اس کے دل میں آیا کہ میں نے کوئی قسم تو نہیں کھائی نا کہ میں نے آج تہجد، میں نے تہجد نہیں پڑھنی، چلو آج پڑھ ہی لیتا ہوں، اگر اٹھ ہی گیا ہوں، جاگ ہی رہا ہوں، چلو تہجد پڑھ ہی لیتا ہوں۔ تہجد پڑھ لی، پھر اس کے بعد تہجد کے بعد حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مصلے کے اوپر وہ بہت دردناک قسم کے ساتھ وہ ذکر بالجہر شروع کر دیا۔ تو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا میں نے کوئی قسم تو نہیں کھائی کہ میں نے ذکر نہیں کرنا، ٹھیک ہے انہوں نے تو بات مان لی لیکن چلو آج ان کے ساتھ کر ہی لیتا ہوں۔ تو حاجی صاحب کے ساتھ حضرت... بس وہ کرنا تھا کہ پھر بعد میں جب اس کی ضرورت نہیں رہتی اور اس کو چھڑا دیا جاتا ہے، حضرت نے اس وقت بھی نہیں چھوڑا۔ اخیر عمر تک یہ ذکر بالجہر کرتے رہے۔

تو یہ کون سی بات ہے؟ یہ برکت ہے۔ ٹھیک ہے نا تو ایسے برکات کے کبھی ظہور ہوا کرتے ہیں، لیکن یہ اللہ جل شانہ کی شان ہے اور اللہ جل شانہ کے فیصلے ہیں کہ آپ کو اس چیز کے ذریعے دے رہے ہیں، اس چیز کے ذریعے دے رہے ہیں۔ ہم لوگوں کو کوئی کرنے کا وہ نہیں ہے، حق نہیں ہے۔ لہٰذا ہمیں تو جو ملے، اور جیسے ملے، جیسے کہا جائے، اسی طریقے سے کرنا چاہیے، ہم لوگ اپنی طرف سے کوئی بات نہ کریں۔ یہی ادب ہے اور یہی اصل طریقہ ہے کہ ہم لوگ اپنی طرف سے کوئی وہ اہتمام نہ کریں، بس جو جیسے کہا جائے اس طریقے سے ہم کرتے جائیں۔

اب اس میں ایک بات حضرت نے یہ بات فرما دی کہ جو فن کے لحاظ سے بات ہے وہ اتنی ہے کہ جو کہا جائے اس طرح کیا جائے، یہ نہ کیا جائے کہ بس مجھے... مجھے چونکہ کہا گیا، بس، یہ کافی ہے۔ نہیں کہ کوئی دم تھوڑا ہے۔ ہاں دم تو نہیں ہے، یہ تو ایک اصلاح کی ایک ترتیب ہے۔ اب اس صورت میں اگر آپ کو کہا جائے، فلاں ذکر کرنا ہے، تو پھر کرنا ہے۔ اور اگر آپ کو کہا جائے کہ بھئی فلاں چیز سے پرہیز کرنی ہے، تو پرہیز کرنی ہے۔ ہاں اگر کہا جائے کہ بھئی یہ یہ اس طریقے سے کرنا ہے، تو پھر اس طریقے سے کرنا ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ اللہ جل شانہ نے شیخ کو جو بصیرت دی ہوتی ہے، اس بصیرت سے بھی فائدہ اٹھانا ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ عام حالت میں آپ ایک... اندھا آدمی جو ہوتا ہے، وہ ایک بینا آدمی کے پیچھے جو چلتا ہے، تو اس سے بصارت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہاں پر بصارت کی بات نہیں یہاں بصیرت کی بات ہے۔ یہاں بصیرت کا فائدہ اٹھاتا ہے۔ وہ شیخ اپنی بصیرت سے دیکھ دیکھ کر اس کو بتاتا ہے کہ اب یہ کرو، اب یہ کرو، اب یہ کرو، اب یہ کرو، اسی طریقے سے وہ کرتا ہے، اور ماشاءاللہ وہ کامیاب ہوتا جاتا ہے۔ خوش نصیب جو لوگ ہوتے ہیں ان کو اللہ پاک اسی طرح پار کر لیتے ہیں۔ بہر حال اگر کوئی شخص ایسا نہیں کرتا تو اپنا ہی نقصان ہے۔

میرے خیال میں یہ بات تو ہم سب کو سمجھ میں آتی ہے کہ ایک ڈاکٹر سے اگر کسی نے نسخہ لکھوایا ہے، اور ہفتے کے بعد جب وہ چلا جائے اس کے پاس، فرض کر لیں ہفتے کے بعد چلا جائے، ڈاکٹر اس سے پوچھتا ہے، کہتے ہیں کہ میں نے جو آپ کو کہا تھا تو آپ نے، مطلب، استعمال کیا ہے؟ اب یہ ڈاکٹر کے پیروں پر گر جائے، میرے، معاف کیجیے جی، میں معافی چاہتا ہوں، وہ تو مجھ سے نہیں ہوا۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دیں۔ مجھے آپ بتا دیں اگر ڈاکٹر صاحب اس کو ایک ہزار مرتبہ معاف کر دے، تو کیا اس کی، اس کا علاج ہو جائے گا؟ وہ جو نقصان ہوا ہے کیا اس کی تلافی ہو جائے گی؟ نہیں ہو گی۔ ہے نا یہ بات؟

تو یہاں معافی تلافی کوئی بات نہیں ہے۔ ڈاکٹر صرف افسوس ہی کر سکتا ہے، وہ کہتا ہے میں کیا کروں جی بس، ٹھیک ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہو سکتا ہے آئندہ ایسا نہ کرے۔ اس سے زیادہ وہ کیا کہہ سکتا ہے، مطلب وہ تو کچھ نہیں کہہ سکتا اس مسئلے میں۔ تو یہ جو بات ہوتی ہے کہ معافی تلافی والی جو بات ہے نا، یہ، یہ والی بات نہیں چلے گی۔ اس میں کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اور جو کرتا ہے، اس کو اللہ پاک نوازتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مطلب وہ چیز چلتی رہتی ہے۔

ہاں، یہ بات الگ ہے کہ extra کے لیے پھر extra چیز ہوتی ہے۔ extra کے لیے، ایک اور extra چیز ہوتی ہے، کہ جن سے اللہ پاک نے شیخ کا دل خوش کروایا ہوتا ہے، تو اس کے اسباب کے اندر اللہ پاک پتا نہیں کتنے multiplication دے دیتا ہے۔ وہ، اس کا فائدہ بڑے جلدی جلدی ہو جاتا ہے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو ٹھیک ہے فن والی بات تو ختم نہیں ہوتی ہے، فن تو پھر بھی کام کرتا ہے۔ کیونکہ فن کے قانون الگ ہیں، برکت کا قانون الگ ہے، فن کا قانون الگ ہے۔ اب فن کا قانون تو یہ ہے کہ اگر صحیح بات بتائی اور صحیح اس نے عمل کر لیا تو اس کا فائدہ ہو گا چاہے آپ کو کوئی کافر ہی کیوں نہ بتائے۔ کافر بھی بتائے گا، تو آپ کو فائدہ ہو گا یا نہیں، آخر یہ ڈاکٹروں میں کافر ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے؟ ڈاکٹر کافروں سے بھی تو علاج لوگ کراتے ہیں نا، تو اگر کافر بھی بتائے تو وہ فن کے لحاظ سے تو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ والی بات نہیں، وہ جو برکت والی بات ہے وہ، وہ گناہ کے ساتھ نہیں آتا۔ معاصی کے ساتھ نہیں آتا۔ اس لیے جو متقی مشائخ ہوتے ہیں ان کی، تعلیم میں برکت ہوتی ہے۔ لہٰذا، یہ والی بات کرنی چاہیے کہ جو مشائخ ہوتے ہیں، ان کے ساتھ محبت کے ذریعے سے، ان کے ساتھ تعلق کے ذریعے سے، ان کی تعلیم پر عمل کرنے کے ذریعے سے انسان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

دونوں چیزیں ہیں نا، دونوں چیزیں ہوں۔ ایک چیز کافی نہیں ہوتی۔ محض برکت حاصل کرنا یہ بھی کافی نہیں کہ انسان ادب تو بہت کرے لیکن مانے کچھ بھی نہیں۔ ادب میں تو ایسا ہو کہ بس بالکل کٹے ہوئے مرغ ہو۔ لیکن عمل کے لحاظ سے کچھ بھی نہ ہو وہاں معافی تلافی کی بات آجائے۔ اور دوسری صورت میں یہ کہ جو جو کہا جائے اس پر تو عمل کرتے جائیں لیکن وہ دل والا تعلق نہ ہو۔ تو بس یہ دونوں چیزوں کو جمع کرنا پڑے گا۔ جن نے دونوں چیزوں کو جمع کیا ان کا ہو گیا فائدہ۔ جو دونوں چیزوں کو جمع نہیں کر سکے ان کے بات الگ ہے۔

فرمایا اخلاص اور ہمت خلاصہ تصوف ہے، ان دونوں میں بھی اصل چیز ہمت ہے۔ کیونکہ اخلاص پیدا کرنے کے لیے بھی ہمت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور ہمت کا معین استحضار ہے، اور استحضار کی صورتیں مختلف ہیں، جو صورت بھی شیخ تجویز کر دے اس پر عمل کرے۔ مثلاً ہر کوتاہی پر دس رکعت یا کم و بیش نفل بطور جرمانہ ادا کرنا، کہ جب دوسرا موقع کوتاہی کا پیش آئے تو جرمانہ کے خوف سے استحضار کی کیفیت پیدا ہو جائے، اور جب استحضار ہو جائے، فوراً ہمت سے کام لے، اور تقاضائے نفس کو مغلوب کر لے۔ اگر استحضار اور ہمت سے کام لے گا تو ان شاء اللہ کوتاہیوں سے محفوظ رہے گا۔ اور رفتہ رفتہ اصلاح ہو جائے گی، اور ہر روز مطالعہ قصد السبیل سے بھی قوت استحضار و ہمت کو پہنچتی ہے۔ جو گُر حضرت نے فرمایا استحضار اور ہمت کا سراسر نسخہ اکسیر ہے اصلاح امت کا۔

فرمایا کہ دیکھو دونوں چیزیں ہیں، ایک اخلاص ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دل کو صاف کرنے والی بات ہے۔ اور دوسرا ہمت ہے، ایک، یعنی انسان وہ جو، جو کرے اس میں اس میں کمی نہ کریں۔ اب ایک انسان ہے اس کو سیڑھیوں پہ چڑھنا ہے اور وہ کہتا ہے جی میں تو نہیں چڑھ سکتا۔ ٹھیک ہے نہیں چڑھ سکتا تو نہیں چڑھے گا وہ۔ ٹھیک ہے نا، اب دونوں باتیں ہیں کہ اخلاص بھی ہو کہ اللہ کی رضا کے لیے ہو، اور ساتھ ساتھ ہمت بھی ہو۔ دونوں چیزوں کو جمع کرنا پڑے گا۔

تو اب یہ بات ہے کہ اخلاص پیدا کرنے کے لیے بھی جو ہے وہ ہمت کی ضرورت ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ انسان کو ویسے مفت میں اخلاص مل جائے گا۔ اس کو بھی، اس کے لیے بھی ہمت کی ضرورت ہو گی کیونکہ ہمت سے ہی انسان اخلاص پیدا کر سکتا ہے۔ اور وہ یہی بات ہے کہ وہ صرف قلبی ہمت ہے۔ اور اس میں جوارح کی بھی ہمت ہے باقی چیزوں میں۔ اخلاص میں قلبی ہمت ہے۔ مثلاً اس میں یہ بات ہوتی ہے کہ انسان اپنے قلب کو یکسو کر لے اللہ کی طرف۔ ادھر ادھر نہ ہونے دے۔ نہ ادھر دیکھے نہ ادھر دیکھے۔

نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کے لیے میں خدا چاہتا ہوں

یہ اس میں ذرا آپ غور فرمائیں، اس میں جو آخری مصرعہ ہے نا، دوسرا مصرعہ، یہ بہت اہم ہے اور اس کو سمجھنے کی بھی بہت ضرورت ہے، خدا کے لیے میں خدا چاہتا ہوں۔ بعض لوگ دنیا کے لیے بھی خدا چاہتے ہیں، آپ کو پتا ہے؟ دنیا کے لیے کیسے خدا چاہتے ہیں؟ میں نماز پڑھوں تاکہ میرے کاروبار میں ترقی ہو جائے۔ میں نماز پڑھوں تاکہ … ہاں! اس کو پتا ہوتا ہے کہ بھئی ان چیزوں سے یہ فائدہ ہوتا ہے۔ ہاں! تو یہ بات خدا کے لیے تو خدا چاہنا نہیں ہوا نا۔ یہ تو دنیا کے لیے چاہنا ہوا۔ تو میں نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں۔ نہ تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں تکلیف میں ہوں اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ نہ تعریف میری ضرورت، نہ آہ و فغاں میری ضرورت، میں تو صرف ایک ہی چیز چاہتا ہوں کہ خدا مجھے مل جائے۔ اور میں یہ بھی خدا کے لیے چاہتا ہوں۔ یہ نہیں کہ میں دنیا کے لیے چاہتا ہوں۔ کیونکہ بعض لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ وہ خدا مجھے مل جائے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ میرے دنیا کے کام کرے۔ کرتے ہیں نا لوگ، دنیا کے کام کرے، تو وہ خدا کے لیے تو خدا چاہنا نہ ہوا نا، دنیا کے لیے خدا کا چاہنا ہوا۔

تو یہ والی بات ہے کہ اس میں دونوں چیزیں، اخلاص کے لیے بھی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اخلاص کے لیے جس ہمت کی ضرورت ہے وہ قلبی ہمت ہے۔ اور جو باقی کاموں کے لیے ہے وہ جوارح کی ہمت بھی اس میں چاہیے ہوتی ہے، کیونکہ آپ ہاتھ بھی ہلائیں گے، پیر بھی ہلائیں گے، ذہن پر بھی بوجھ ڈالیں گے۔ اور بہت ساری چیز، آنکھوں کو بھی استعمال کریں گے اور اپنے کانوں کو بھی استعمال کریں گے۔ ہاں؟ یہ ساری باتیں وہ موجود ہوں گی، سب وہ کام …

تو فرمایا اس کے لیے ہمت کا جو معین ہے وہ استحضار ہے کہ آپ کو یاد رہے کہ میں نے کیا کرنا ہے۔ ایک student ہے، وہ اس کو exam دینا ہے اس کا۔ اب exam دینا ہے، اب اس صورت میں وہ اس کو کیا کرنا چاہیے؟ پڑھنا چاہیے نا۔ تو کیسے پڑھے گا؟ پڑھنے میں ہمت اختیار کرنی چاہیے تو کیسے پڑھے گا؟ اس کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر میں پڑھوں گا نہیں تو فیل ہو جاؤں گا۔ اور یہ تو میرا ایک ایک وقت گزر رہا ہے، ایک ایک لمحہ گزر رہا ہے، دیکھیں نا میں نے اس لمحے میں کچھ نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مجھے اتنا نقصان ہو گیا۔

یہ اخبار وغیرہ لوگ دیکھتے ہیں نا، students جو ہوتے ہیں جو اچھے students، وہ چلتے چلتے بعض دفعہ اخبار پہ نظر پڑ جاتی ہے تو پڑھ لیتے ہیں، پانچ چھ منٹ لگ جاتے ہیں پھر بڑا افسوس کرتے ہیں اوہو یہ میں نے کیوں اس میں وقت لگا دیا۔ یہ تو دیکھیں نا میں نے اپنا … کبھی جاتے جاتے کسی کے ساتھ گپ شپ شروع ہو جاتی ہے تو اس میں دس پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ میں نے ایسے کیوں کیا۔ کیونکہ ان کو استحضار ہوتا ہے۔ ان کو پتا ہوتا ہے کہ اوہو یہ تو میرا وقت ضائع ہو رہا ہے میرا وقت ضائع ہو گا۔ تو اس صورت میں، تو اس کا مطلب استحضار کیا چیز ہے؟ استحضار، یہ عربی کا لفظ ہے استفعال کا صیغہ ہے۔ یعنی اس میں یہ ہوتا ہے کہ میں ایک حاضر، حاضر، یعنی زبردستی اپنی کسی چیز کو میں حاضر کروں ذہن میں، زبردستی۔ اپنی ہمت سے اپنی کوشش سے میں اپنی ایک چیز کو ذہن میں حاضر رکھوں۔

اس کے لیے بعض لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ کوئی چیز گرہ وغیرہ لگا دیتے ہیں، یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ بعض لوگ ہوتے ہیں کہ ہم سے جھوٹ، نہیں چھوٹتا جھوٹ بول لیتے ہیں بات چیت میں۔ تو ان کو کہتے ہیں اچھا بھئی کوئی ایسی نشانی رکھ لو کہ اس سے کم از کم آپ کو وعدہ یاد آ جائے کہ میں نے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کیا تھا۔ تو کوئی چیز سامنے آ جائے تو کہتا ہے ٹھیک ہے آپ کو وعدہ یاد آ گیا اس طرح آئندہ نہیں کریں گے۔ اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ یا پھر کبھی یہ بات ہوتی ہے کہ جرمانہ۔ کیونکہ ایک ہوتا ہے مشارطہ۔ مشارطہ اس کو کہتے ہیں کہ آپ ایک عہد کر لیں کہ میں نے یہ کام کرنا ہے اس طریقے سے کرنا ہے، یہ مشارطہ ہے۔ پھر آپ خود اس کا جائزہ لیں کہ میں نے آیا اس طریقے سے کیا نہیں کیا جو میں نے خود سوچا تھا کرنے کا، وہ ایسا ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا۔ اس کو کہتے ہیں محاسبہ۔ اور پھر اگر نہیں کیا تو پھر اب کیا کرنا ہے؟ اس پہ جرمانہ لگانا ہے اس کو کہتے ہیں معاقبہ۔ یعنی آپ اس کا تعاقب کرتے ہیں کہ یہ ہے کہ اس طرح کرو۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ یہ ساری چیزیں اسی مقصد کے لیے ہیں کہ آپ کو، آپ کو alert رکھیں۔ alert رہیے گا۔

اس کا میرے خیال میں ہمیں دو چیزوں میں اس کی training دی جاتی ہے۔ دو چیزوں میں۔ ایک احرام کی حالت میں ہمیں training دی جاتی ہے اس قسم کی چیز کی اور ایک اعتکاف کی صورت میں ہمیں training دی جاتی ہے۔ احرام میں غلطی سے بھی اگر آپ کا یعنی آپ سے کوئی ایسا عمل ہوا جس میں دم آتا ہے تو دم آ جائے گا۔ یہ کوئی excuse نہیں ہے کہ غلطی سے ہوا۔ کوئی excuse نہیں ہے، اگر غلطی سے بھی آپ کو خوشبو پہ پہ آ جائے چاہے کسی اور کی غلطی کیوں نہ ہو۔ آ گیا تو آپ کو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے دوسروں سے بھی اپنے آپ کو بچانا ہے۔ اب مثال کے طور پر دوسروں کی غلطی کی وجہ سے accident ہو جائے تو آپ نہیں مریں گے؟ اگر خطرناک accident ہو جائے تو کیا اس صورت میں بچ جائیں گے آپ؟ لو جی مجھ سے تو یہ تو دوسرے کی غلطی تھی میری غلطی تو نہیں تھی کہ میں غلطی سے سڑک پہ آ گیا تھا، تو کیا نقصان نہیں ہوگا؟ نقصان تو ہو جائے گا نا۔ بالکل یہی چیز ہے کہ ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا ہے کہ بھئی میں اگر alert نہیں رہوں گا تو کسی اور کی غلطی مجھے لے ڈوب سکتی ہے۔ یعنی جس کو ہم over alert کہتے ہیں۔ کہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ یعنی وہ alert رکھنا کہ کسی طریقے سے بھی آپ سے وہ غلطی نہ ہونے پائے۔

تو ایک تو training احرام میں دی جاتی ہے۔ دوسری training اعتکاف میں دی جاتی ہے۔ اعتکاف میں بھی اگر غلطی سے آپ مسجد سے باہر نکل گئے مسجد کی حدود سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ کئی لوگوں کا ٹوٹ جاتا ہے۔ کئی لوگوں کا، پہلے دن تو بہت سارے لوگوں کا ٹوٹتا ہے۔ پہلے دن میں یہ ہوتا ہے نا کہ چونکہ پتا نہیں ہوتا ہدایات وغیرہ، صحیح پوری طرح سمجھ نہیں آ رہی ہوتی۔ اب اس طرح ہوتا ہے کلی کا لوگوں کو عموماً عادت ہوتی ہے۔ کلی کرنے کی۔ تو اب یہ ہے کہ وہ جیسے ہی مطلب وہ روزہ افطار کر لیتے ہیں کلی کے لیے اچانک باہر نکل جاتے ہیں ان کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ میں نے تو نہیں نکلنا، بس وہ کلی کے لیے نکلے اعتکاف ٹوٹ گیا۔ روزہ نہیں ٹوٹتا اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دو چیزوں میں ہمیں training دی جاتی ہے over alert ہونے کی۔ کہ تاکہ ہم سے وہ چیز رہ نہ جائے۔

ابھی ایک صاحب مجھ سے بات کر رہے تھے۔ تو وہ یہ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ مطلب یہ تو مطلب مجھ سے معمولات کے اوپر پابندی یا اس قسم کی چیزیں وہ بڑا مشکل ہے۔ تو میں نے ان سے ایک بات کی، میں نے کہا دیکھو یہ تو بالکل ایسی بات ہے کہ جیسے کوئی کہہ دے کہ میں زندہ تو رہنا چاہتا ہوں لیکن کیا کروں جی بڑا مشکل یہ ہے کہ اس میں کھانا پڑتا ہے۔ مطلب مجھے کھانا پڑے گا، یہ تو بڑا مشکل کام ہے یہ تو مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ باقی وہ ٹھیک ہے کام ہے، اچھا زندہ رہنا بہت مشکل کام ہے۔ اب اگر کسی کو زندہ رہنا ہے تو کھانا تو پڑے گا۔ پھر تو کھانا تو پڑے گا۔ تو کھانا تو پڑے گا۔ اسی طریقے سے ہم لوگوں کو بھی اس کے جو لوازمات ہیں وہ پورے کرنے پڑیں گے۔ چاہے ہم اس کو مانیں یا نہ مانیں۔ لیکن جو لوازمات ہیں وہ لوازمات پورے کرنے پڑیں گے، وہ لوازمات پورے کرنے پڑیں گے۔

تو وہ لوازمات کیا ہیں؟ وہ لوازمات یہی ہیں کہ جو معمولات ہیں اور جو رابطہ ہے۔ دو چیزیں اس میں بہت ضروری ہیں۔ معمولات کا یعنی وہ کرنا اور ساتھ ساتھ یہ ہے کہ رابطہ رکھنا۔ ان دو چیزوں کا وہ زیادہ ضرورت ہے۔ بغیر اس کے تو انسان ترقی کر ہی نہیں سکتا۔ بغیر اس کے ترقی کا تصور کرنا یہ ایسا ہے جیسا کہ مطلب بغیر کھانے کے آدمی زندہ رہنے کی نیت کر لے۔ کہ میں نے کھانا نہیں ہے لیکن میں نے زندہ رہنا ہے، تو اس کا مطلب اس نے نہیں زندہ رہنا۔ ہمارے پشتو میں ایک ضرب المثل ہے۔ پشتو کی ضرب الامثال بڑے harsh قسم کے ہوتے ہیں۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ وہ اس میں مفہوم بہت ہی naked ہوتا ہے، ہر ایک کو سمجھ آ جاتی ہے کہ بھئی یہ کیا کہا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں ننگی گئی حجرے میں اور کہا اے اللہ میری عزت رکھو۔ ننگی گئی حجرے میں اور اس نے کہا اے اللہ میری عزت رکھو۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بس ٹھیک ہے اس نے تو خود جو تو کرنا تھا وہ تو کر لیا۔ اب کیسے مطلب اس کی عزت رہے گی، ٹھیک ہے نا۔

تو یہی بات ہوتی ہے کہ اگر ایک انسان نہیں مطلب اس کے لوازمات جو ہیں وہ پورے کرے گا۔ تو نتیجہ کیا ہوگا؟ نتیجہ یہ ہوگا کہ مقصود حاصل نہیں ہوگا۔ تو یہاں پر یہ فرمایا کہ اس کا استحضار رکھنا ہے۔ استحضار، اور استحضار کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک تو یہ بات ہے کہ کوئی چیز انسان اپنے لیے ایسا symbolic بنا دے جس کے ساتھ اس کو وہ یاد آ جائے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ جب اس سے غلطی ہو جائے تو جرمانہ۔

الحمد للہ ہمارے بعض ساتھیوں کو اس سے بڑا فائدہ ہوا۔ ان سے بعض نمازیں رہ جاتی تھیں فجر کی یا ادھر ادھر کی۔ تو مجھے کہا تو میں نے کہا کہ دو روزے رکھنے ہیں فرض نماز کے چھوڑنے پر اگر رہ جائے۔ اور وتر اگر صرف رہ جائے، بعض لوگوں کا صرف وتر رہ جاتا ہے۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں بس وتر بعد میں پڑھ لیں گے اور پھر وہ رہ جاتے ہیں۔ تو وتر رہنے سے آپ نے وہ اور وتر رہنے پر ایک روزہ رکھنا ہے۔ ماشاءاللہ بہت جلدی افاقہ ہوا۔ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔

میں آپ کو ایک اس کی مثال دیتا ہوں۔ ہمارے ایک دوست، مطلب کلاس فیلو تھے۔ اس نے خود اپنا آپ کا دیکھا حالے، کسی اور سے پوچھنے والی بات اس میں کوئی نہیں۔ ہم پتا نہیں کون سی جماعت میں تھے، پانچویں جماعت میں تھے یا چھٹی جماعت میں تھے، مجھے پکا یاد نہیں۔ دلچسپ کا لفظ اس کی زبان سے نہیں آ رہا تھا۔ اس کی زبان سے نکلتا دلچپس۔ تو استاد نے اسے کہا کہ کیا ہے؟ اس نے کہا دلچپس۔ اس نے کہا بھئی کیا ہے؟ بتاؤ، غور سے دیکھو۔ اس نے کہا دلچپس۔ پھر اس نے کہا بتاؤ، دلچپس۔ جتنی بار اس نے کہا، اس کے منہ سے دلچپس نکلا۔ اس نے کہا ہاتھ نکالو۔ ہاتھ نکالا اور اس کو کوئی بیس بائیس ڈنڈے لگا دیے۔ اس نے کہا اب بتاؤ، اس نے کہا دلچسپ۔ کہتے ہیں اب کیا ہوا دلچسپ؟ اب کہو نا۔ کیسے دلچسپ نظر آ گیا آپ کو؟ یہ اس نے اپنے آپ کو دیکھا حال ہے۔ کسی اور کی بات نہیں ہے۔ ٹھیک ہے نا، تو اس میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ انسان کی جو اتنی energy ہوتی ہے نا وہ ساری کی ساری، جیسے سانپ نہیں ہوتا سانپ۔ سانپ کے خوف سے بعض دفعہ انسان اتنا جمپ لگا لیتا ہے جتنا عام وقت میں نہیں لگا سکتا۔ مطلب بے شک بعد میں چاہے کچھ بھی کر لے، وہ نہیں لگاتا۔ لیکن جب اچانک کوئی instant خوف آتا ہے اس میں انسان اتنا جمپ بھی لگا لیتا ہے۔ ٹھیک ہے نا، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک انسان کے اندر جتنی energy ہوتی ہے وہ full utilize، مطلب ہو جاتی ہے۔

تو ایک تو یہ بات کرنا ہے کہ جو جرمانہ ہے یہ اس کو واقعی utilize کرنا چاہیے، شریعت میں، شریعت میں بھی جرمانے کا ہے۔ دم کیا چیز ہے؟ حج میں، جرمانہ ہے نا۔ اس کو جنایات کہتے ہیں نا، جنایات کا لفظ کیا ہے، جرمانے کو کہتے ہیں عربی میں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی سے احرام کے اندر غلطی ہو گئی تو جرمانہ دینا پڑے گا۔ دم دینا پڑے گا، اور نماز کے اندر غلطی ہوتی ہے تو کیا کرتے ہیں؟ سجدہ سہو۔ یعنی یہ بھی جرمانہ ہوتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ جرمانے کا concept شریعت میں بھی ہے، اور طریقت میں بھی اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔

فرمایا کہ حال کی دو قسمیں ہیں۔ تصوف میں رسوخ اعمال اختیاریہ مطلوب ہے، نیز مامور بہ محبت عقلی ہے نہ کہ طبعی۔ حال کے دو معنی ہیں، ایک تو کیفیت غیر اختیاریہ۔ دوسرے رسوخ اعمال اختیاریہ۔ دوسرے معنی میں حال کا ترتب لازم ہے کیونکہ وہ موعود ہے فَفِی الْحَدِیْثِ: كَذٰلِكَ الْاِيْمَانُ اِذَا خَالَطَتْ بَشَاشَتُهُ الْقُلُوْبَ۔ وَفِيْ كَلَامِ اللّٰهِ: ﴿فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ﴾۔ اور تصوف میں یہی حال مطلوب ہے، جب کوئی شخص اعمال صالحہ بتکلف اختیار کرتا ہے تو رفتہ رفتہ ان اعمال میں سہولت ہونے لگتی ہے۔ اور کیفیت راسخہ پیدا ہو جاتی ہے۔ اور گویا کیفیت رسوخ بذاتہ غیر اختیاری ہے، لیکن بہ ایں معنی اختیاری ہے کہ اس کے اسباب اختیاری ہیں۔ یعنی اعمال صالحہ، مثلاً محبت حق تعالیٰ کے ساتھ پیدا کرنا واجب ہے، کیونکہ نصوص میں اس کی تحصیل کا امر ہے۔ بخلاف شوق و ذوق کے، کہ ان کی تحصیل کا کہیں بھی امر نہیں۔ جس محبت کی تحصیل مامور بہ ہے وہ عقلی ہے، اور محبت عقلی اختیاری ہے۔ بخلاف محبت طبعی کے کہ وہ غیر اختیاری ہے، اس لیے مامور بہ نہیں۔

حضرت نے بہت ہی دقیق مضمون کو بہت ہی، اس کی خاطر آسان کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مجھے بتائیں آپ میں سے کتنوں کو سمجھ آئی؟ واقعتاً حضرت نے اس کو بہت آسان کرنے کی کوشش کی ہے، انتہائی دقیق مضمون ہے۔ لیکن آپ کو، آپ میں سے کتنوں کو سمجھ آیا؟ اس کو کہتے ہیں صرف کتابوں سے نہیں ہوتا۔ صرف کتابوں سے نہیں ہوتا کتابیں پڑھنے سے، ورنہ صحیح بات ہے حضرت نے تو میرا خیال میں پوری کوشش کی۔ ہاں کہ وہ اس کو زیادہ، کیونکہ اصل کتابیں دیکھیں گے نا جو حضرت کا اس میں help نہ لیا جائے۔ پھر دیکھیں کہ کیسی ہے یہ۔ یہ chapter جو انہوں نے، حضرت نے conclude کیا ہے۔

حضرت اس میں یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ، تصوف کے اندر۔ جو اعمال اختیاری ہیں۔ اعمال اختیاری کیا ہیں؟ جو آپ کر سکتے ہیں اپنے ارادے سے۔ وہ اعمال اختیاری ہیں۔ جو آپ نہ کر سکیں، وہ کیا ہیں؟ اپنے اختیار سے نہ کر سکیں، وہ اعمال غیر اختیاریہ ہیں۔ جنت میں داخل ہونا اختیاری ہے یا غیر اختیاری؟ غیر اختیاری۔ حدیث شریف میں خود ہی فرمایا کوئی بھی اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا، صرف فضل سے جائے گا، اور فضل غیر اختیاری ہے۔ تو کیا خیال ہے لیٹ جائیں ہم؟ کیونکہ اختیاری نہیں ہے تو پھر کیا کریں؟ لیٹ جائیں۔ کوئی بات نہیں، جائے گا یا نہیں جائے گا، اب کیا کریں۔ اختیاری تو ہے نہیں۔ دکان ڈالنا اختیاری ہے، دکان کا چلنا اختیاری نہیں ہے۔ صاف صاف بات عرض کر رہا ہوں، سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ دکان ڈالنا اختیاری ہے۔ دکان کا چلنا اختیاری نہیں ہے۔ ہے نا یہ بات؟ شادی کرنا اختیاری ہے، اولاد کا ہونا اختیاری نہیں۔ ہے نا یہ بات؟

تو جب ان کو پتا ہے کہ یہ چیزیں غیر اختیاری ہیں پھر ان اختیاری اعمال کو کیوں اختیار کیا جاتا ہے؟ جب اس کا پتا ہے کہ یہ اختیاری نہیں ہے، پھر ان اعمال کو بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ تو اس کا مطلب کیا ہے؟ کہ لوگ اسی امید پر اختیار کر لیتے ہیں کہ ممکن ہے اسی سے ہو جائے۔ وہ ممکن ہے بھی بہت بڑی بات ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ کیونکہ سلیکشن تو انہی میں ہوتی ہے نا۔ بھئی اولاد تو ان کی ہو گی جن نے شادی کی ہو۔ بغیر شادی کے تو اولاد اب تو میرے خیال میں نہیں ہو گا نا کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کا وقت تو گزر گیا۔ تو وہ تو پیغمبر تھے نا۔ ہاں؟ اب تو شادی کے ساتھ ہی وہ مطلب لیکن آپ کو پتا ہے کہ شادی کے ساتھ بھی اولاد کا ہونا یہ یہ اختیاری نہیں ہے۔ غیر اختیاری ہے۔ لیکن آپ کو پتا ہے کہ شادی کے ساتھ بھی اولاد کا ہونا یہ یہ اختیاری نہیں ہے۔ غیر اختیاری ہے۔ لیکن لوگ جو شادی کریں گے انہی کی اولاد ہو گی نا۔ تو اس کا مطلب ہے جو جو عمل کریں گے انہی میں سے کسی کے عمل کو قبول کیا جائے گا۔ اور فضل ہو جائے گا تو وہ چلے جائیں گے۔ لہٰذا اس امید پر انسان کو عمل کرنا چاہیے۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسوخ جو ہے رسوخِ اعمالِ اختیاریہ مطلوب ہے۔ جو اختیاری اعمال ہیں اس کا رسوخ مطلوب ہے کہ غیر اختیاری میں آپ رسوخ کر لیں گے تو کیا ہو گا؟ وہ تو آپ کے اختیار میں ہی نہیں ہے تو رسوخ کی کیا بات ہے؟ وہ سٹارٹ ہی اختیار میں نہیں تو اس کا رسوخ کیسے اختیار میں ہو گا؟ رقت رونا، یہ غیر اختیاری چیز ہے۔ غیر اختیاری چیز ہے۔ اور اس کا بہت بڑا ثبوت یہ ہے۔ مجھے خود اپنے طور پر پتا ہے جب سب لوگ رو رہے ہوتے ہیں مجھے نہیں آ رہا ہوتا رونا۔ جب کوئی نہیں رو رہا ہوتا مجھے آ رہا ہوتا ہے۔ اب اس کا مطلب کیا ہے؟ اگر ماحول پہ ہوتا تو جب سب لوگ رو رہے ہیں تو اس وقت مجھے رونا چاہیے نا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ جب سب لوگ رو رہے ہیں تو اگر ماحول پہ منحصر ہے تو مجھے تو اس وقت آنا چاہیے، اس وقت مجھے نہیں آتا۔ لیکن جب کوئی نہیں رو رہا ہوتا اس وقت مجھے آ، تو اس کا مطلب ہے کہ اختیار میں نہیں ہے۔ غیر اختیاری چیز ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو غیر اختیاری چیز ہے اس کا تو رسوخ کیا، اس کی تو ابتدا بھی آپ کے بس میں نہیں ہے۔ تو آپ کو تصوف میں صرف اختیاری اعمال کی رسوخ چاہیے۔ اختیاری اعمال۔ اس کا رسوخ چاہیے۔ وہ تصوف کے اندر مطلوب ہے۔

اور دوسری بات کہ چونکہ محبتِ طبعی غیر اختیاری ہے۔ اور محبتِ عقلی اختیاری ہے۔ لہٰذا آپ سے محبت بھی عقلی مطلوب ہے۔ عقلی محبت۔ عقلی محبت analysis اور اس کی یہ ہے کہ understanding پر موقوف ہوتی ہے۔ کہ آپ کی understanding کیا ہے اور آپ نے کیسے analysis کی ہے۔ اس کے حساب سے آپ جس کو باکمال سمجھتے ہیں اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں، یا جس کو حسن و جمال والا سمجھتے ہیں اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ اختیاری طور پر آپ کر سکتے ہیں۔ اب اس میں یہ بات ہے کہ یہ والی بات وہ طبعی والی بات وہ آپ کے بس میں نہیں ہے۔ لہٰذا وہ آپ اس آپ سے مطلوب بھی نہیں۔

دوسرے معنی میں حال کا ترتب لازم ہے کیونکہ موعود ہے۔ یہ مطلب یہ ہے کہ حال جو ہے اس کے لیے جو ذرائع ہیں اس کا اختیار کرنا ہے، باقی اس کے بعد اللہ جل شانہ کا وعدہ ہے۔ ﴿وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا﴾ جو میرے راستے میں جدوجہد، مشقت اٹھائے گا، مجھ تک پہنچنے کے لیے، ان کو میں ضرور بہ ضرور ہدایت کے راستے سجھاؤں گا۔ تو وہ موعود ہے۔ لہٰذا اس چیز کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لینا یہ کیا ہے؟ یہ مطلوب ہے۔

پھر فرمایا کہ جب کوئی شخص اعمالِ صالحہ بتکلف اختیار کرتا ہے۔ تو یہ بتکلف اختیار کرنا کیا چیز ہے؟ اختیاری ہے۔ لیکن یہ آہستہ آہستہ خود بخود جو غیر اختیاری چیزیں ہیں وہ بھی اس کے لیے آسان ہو جاتی ہیں۔ مثلاً رات کو نماز کے لیے اٹھنا۔ اب یہ تو غیر اختیاری ہے۔ اختیاری تو آپ کے بس میں صرف وہ ہے الارم لگانا اور کسی کو کہنا، یہ چیزیں آپ کے اختیار میں ہیں۔ باقی خود بخود اٹھنا یہ تو آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ لیکن جس کو اللہ جل شانہ نصیب فرما دے تو اس کا سلسلہ چل پڑتا ہے خود بخود ہی، بغیر ان چیزوں کے بھی اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان جس وقت اختیاری اعمال میں کوشش کرتا ہے تو غیر اختیاری چیزیں بھی اس کے لیے آسان ہو جاتی ہیں۔ وہ پھر مشکل نہیں ہوتیں۔

تو اس میں فرماتے ہیں پھر آگے کہ پھر کیفیتِ راسخہ پیدا ہو جاتی ہے۔ اب کیفیت بذات خود حال کی طرف اشارہ ہے۔ کیفیت حال ہوتا ہے نا۔ بلکہ حال ہی کیفیت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ، اور راسخ۔ یعنی مطلب وہ بار بار پھر آپ کو حاصل ہو جائے گی۔ تو ہے تو غیر اختیاری، لیکن اللہ پاک آپ کو دے دیں گے۔ اور یہ ثمرات میں شمار ہو جاتی ہے۔ تو گویا کیفیت رسوخ بذاتہ غیر اختیاری ہے۔ لیکن اس معنی میں اختیاری ہے کہ اس کے اسباب آپ کے اختیاری ہیں۔ آپ اس کے اسباب اختیار کر لیں۔ جو جو اسباب اس کے ہیں اعمال صالحہ وغیرہ یا حق تعالیٰ کے ساتھ محبت پیدا کرنے کے لیے جو ذرائع ہیں۔ یعنی عقلی ذرائع وہ آپ اختیار کریں گے آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ وہ جو غیر اختیاری اثر ہے شوق و ذوق کا وہ زیادہ ہو جائے گا۔ وہ چیزیں بھی حاصل ہو جائیں گی۔ اور اتنی حاصل ہو جائیں گی کہ ممکن ہے کہ بعض دفعہ آپ کو اس پہ بریک لگانے پڑیں گے۔ بعض دفعہ بریک بھی لگائے جاتے ہیں نا کہ بھئی یہ تو آپ کی اب رینج سے باہر ہو گئیں اب آپ اس کو برداشت ہی نہیں کر سکتے۔

تو ایک دفعہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ حاجی صاحب کے پاس گئے حضرت نے فرمایا کہ حضرت لوگ دعاؤں میں روتے ہیں مجھے تو بالکل رونا نہیں آتا۔ حاجی صاحب نے فرمایا میاں رشید احمد تو ان باتوں کو یہ غیر اختیاری چیزیں ہوتی ہیں کبھی رونا آ بھی جاتا ہے چھوڑ دو ان چیزوں کو۔ اس کے بعد حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے اوپر اتنا رونا طاری ہو گیا اتنی رقت طاری ہو گئی کہ پسلیاں ٹوٹنے لگ گئیں۔ اس کے بعد ڈر کے مارے حاجی صاحب کے پاس گئے حضرت پسلیاں ٹوٹنے لگی ہیں۔ فرمایا میاں رشید احمد یہ غیر اختیاری ہیں چھوڑ دو کبھی ختم بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر وہی ویسے کا ویسا جیسے پہلے تھے اب بالکل رونا نہیں آ رہا۔ تھوڑے دنوں کے بعد پھر شکایت کی کہ حضرت وہ تو معاملہ پھر الٹا ہی ہو گیا ویسے ہی ہو گیا۔ فرمایا چھوڑ دو ان باتوں کو یہ غیر اختیاری چیزیں ہیں پھر کہیں پسلیاں ٹوٹنا نہ شروع ہو جائیں۔ ٹھیک ہے نا۔

اب اس میں برکت والی بات تھی لیکن برکت کے لیے جانا تو پڑا نا اس کے پاس۔ وہ تو اختیاری تھا۔ ٹھیک ہے نا۔ تو بہرحال یہ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ یہ والی جو باتیں ہیں۔ ہاں یہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے پشتو میں جیسے میں نے آپ کو بتایا چیزیں بڑی زبردست سامنے سامنے ہوتی ہیں۔ تو ایک نظم ہم نے پڑھی تھی وہ بچپن میں تو اس میں ہمّت کرو۔ اس کے ہمّت کوا ہمّت کوا ہمّت کوا ہمّت کوا۔ ہاں۔

سنگ کار چے درتہ گران شی دغہ کار مہ پریگدہ
سم شے چے درنہ وران شی دغہ وران مہ پریگدہ

جب تو جو کام مشکل ہو جائے تو اس کو مشکل نہ چھوڑو جو کام آپ سے بگڑ جائے تو اس کو اس طرح بگڑا ہوا نہ چھوڑو۔ ہمّت کرو ہمّت کرو ہمّت کرو۔ اور۔ یوں ایک اور شعر آیا ہے کہ۔

روزئی پہ ڈلہ ساندی خو نولئی جوړول غواڑی

کہتا ہے روٹی کھانا اگر آسان ہے تو نوالہ بنانا تو پڑتا ہے۔ مطلب کچھ آپ کو کرنا پڑے گا۔ یہ نہیں کہ آپ بالکل اس طرح ہی آپ سامنے بیٹھ جائیں اور نوالہ خود بخود آئے۔ یہ چیزیں جنت میں ملیں گی۔ جنت والی چیزوں کو آپ دنیا میں ڈیمانڈ کریں گے تو سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ ہاں سب سے بڑی بیوقوفی ہے۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے نابالغ بچہ ان چیزوں کی خواہش کرنے لگے جو بالغوں کو حاصل ہیں۔ مجھے بتاؤ وہ کیا کہے گا؟ ان کو کہتے ہیں بھئی تم بالغ ہو جاؤ پھر خود بخود ہی ساری چیزیں حاصل ہو جائیں گی۔ بس بالکل یہی چیز ہے۔ اگر جنت پہنچ جاؤ پھر خود بخود ہی ساری چیزیں حاصل ہو جائیں گی۔ اب جنت پہنچے نہیں اور جنت کی چیزوں کو یہاں پر حاصل کرنا چاہتے ہو۔ تو کیسے ہوں گی؟ یہاں تک تو ساری چیزیں۔ اسباب کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اسباب کو اختیار کرنا پڑے گا۔

ہاں یہ ایک بات ذرا۔ سمجھ میں آ گئی۔ یاد آ گئی۔ کہ دیکھ لو۔ اسباب جو ہوتے ہیں دنیا کے۔ یہ ایک force ہیں مسلمانوں کے لیے بھی اور کافروں کے لیے بھی۔ مسلمانوں کے لیے بھی کافروں کے لیے بھی۔ جیسے سائنس ہے۔ اسباب کی دنیا ہے نا۔ سائنس تو بالکل اسباب ہی کی analysis ہے نا۔ اسباب کی دنیا ہے۔ اب جو سائنس ہے ایک force ہے کافروں کے لیے بھی مسلمانوں کے لیے بھی۔ اب اس میں جو کوشش اور محنت کرے گا تو۔ اس کا اس سے اتنا فائدہ اٹھا لے گا۔ ٹھیک ہے نا۔

اب ایک آدمی کہتا ہے میں مسلمان ہوں میں نے تو محنت نہیں کرنی مجھے تو اللہ تعالیٰ ویسے ہی دے دے۔ دے تو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن دیتا نہیں ہے۔ دیتا نہیں مطلب دے تو سکتا ہے لیکن دیتا نہیں ہے۔ لیکن جو ہمّت کرتے ہیں تو پھر ناکافی اسباب سے وہ کام کرا دیتے ہیں جو کافی سے بھی۔ ویسے نہیں ہوتے۔ جب اللہ تعالیٰ اس کے وہ۔ وہ ہم نے دیکھا ہے کہ جو لوگ جہاد وغیرہ میں جو لوگ۔ شامل ہو چکے ہیں۔ ان کے بڑے ناکافی ناکافی اسباب سے بھی اللہ پاک نے بہت سارے کام کروائے ہیں۔ اور یہی کرامت ہوتی ہے۔ یہی کرامت ہوتی ہے۔

یہ ہمارے جو حضرت شیخ عبداللہ عزام رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی۔ مجاہدین کی کرامتیں۔ افغانستان کے اندر جو لڑائی ہوئی تھی اس میں مجاہدین کی کرامتوں پہ انہوں نے کتاب لکھی۔ اور یہ ہم نے حضرت سے خود سنی۔ وہ رسالپور میں تشریف لائے تھے۔ تو کہتے ہیں کہ ایک دفعہ۔ ایسے مطلب آئے تھے دشمن۔ تو دشمن نے مطلب ایک مجاہد کے۔ پیٹ کے اوپر جو۔ ہاں اس کے اوپر گولیاں لگی ہوتی ہیں نا۔ اس کے اوپر کلاشنکوف رکھ کے پوری برسٹ ماری۔ اس کی گولیاں اس کی پٹیاں۔ تار تار ہو گئیں اور وہ بچ گیا۔ اب بتاؤ۔ کیسے بچا؟ یعنی سوال نہیں پیدا ہو سکتا نہ عام۔ مطلب اس میں تو یہ possible نہیں تھا۔ لیکن دیکھیں پوری برسٹ ماری اس کے پیٹ کے اوپر کلاشنکوف رکھ کر۔ اور۔ اور چلی بھی۔ تبھی تو اس کے جو پٹیاں ہیں وہ ساری کی ساری تار گولیاں تار تار ہو گئیں۔ لیکن لیکن وہ خود بچ گیا۔ اب کیسے بچا؟ یہ اللہ کو پتا ہے۔ تو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ ایسا کر لیتے ہیں اب قدرت دکھا دیتے ہیں۔ لیکن یہ قدرت ضروری تو نہیں کہ ہر دفعہ ہی دکھاتا پھرے۔ وہ اس طرح تو نہیں ہوتا نا۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے دکھاتا ہے کہ دیکھو۔ تم کچھ کام شروع کر لو آگے میرا کام ہے۔ میں ناکافی اسباب سے بھی کام کام نکلوا دوں گا۔ لیکن کام کرو تو سہی نا ایسا تو نہ ہو کہ آپ آپ بیٹھ جاؤ جی مجھ سے تو کام نہیں ہوتا۔

آخر موسیٰ علیہ السلام کو کہا گیا تھا کہ تم اپنی قوم کو یہ عمالقہ کے اس میں داخل کر لو فتح تمہاری ہوگی۔ وعدہ پہلے سے تھا۔ چوتھا سا امتحان لیا۔ اور امتحان لیا تھا یہ لیا تھا کہ جب یہ وہ دریا کے پار جا رہے تھے تو ان سے کہا کہ جو یہاں پانی پی لیں گے وہ ہمارے سے نہیں ہوں گے۔ اور جو پانی نہیں پیئے گا اِلَّا غُرْفَۃً ہاں تھوڑا سا مطلب تو ٹھیک ہے وہ ہمارے ہوں گے۔ اب جو لوگ تھے ایسے ہی ڈاڈھے قسم کے نہ ماننے والے ان سب نے پانی پی لیا الگ ہو گئے وہاں سے۔ ہمت ہی ختم ہو گئی۔ اس میں ایسی عجیب چیز تھی کہ وہ ہمت ہی ختم ہو گئی۔ وہ بیٹھ گئے۔ اور جن لوگوں نے تھوڑا سا پیا تھا حکم کے مطابق تو وہ آگے چلے گئے۔ وہ بہت تھوڑے تھے۔ تو اب یہ یہاں ان لوگوں نے تو کہا کہ ہم تو آگے نہیں جاتے۔ ان لوگوں نے کہا ان میں سے چند نے کہا کہ بعض دفعہ اللہ جل شانہ تھوڑوں کو بھی زیادہ لوگوں پہ وہ دے دیتے ہیں۔ ﴿كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةً﴾۔ کبھی اس طرح بھی ہو جاتا ہے اور واقعی اللہ پاک نے ان کو فتح دے دی۔ ہاں۔ تو یہ جو اللہ پاک دکھاتا ہے کہ میرا حکم مان کے چلو تو میری کائنات کی جو قوتیں ہیں وہ تمہارے ساتھ چلیں گی۔ وہ چلیں گی۔

لیکن مان کے چلو بھئی یہ نہیں ہے کہ صرف نماز پڑھو روزہ رکھو زکوٰۃ دو حج کر لو اور باقی گھر پہ بیٹھ جاؤ تسبیح رولتے رہو اور کہو کہ سارے کام اب اس سے ہو جائیں گے تو یہ ماننے والی بات نہیں ہے اگر یہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ اتنے سارے مطلب وہ جو ہے نہ وہ غزوات میں شامل نہ ہوتے۔ کیونکہ وظائف بظاہر جو ہے نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہتر وظائف کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ وظائف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زیادہ اچھے بتائے بھی تھے اور کر بھی سکتے تھے۔ لیکن نہیں بدر کے موقع پہ ہے۔ اب خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صف بندی بھی کر رہے ہیں تمام پوزیشنیں بھی بتا رہے ہیں سب کچھ کرنے کے بعد پھر دعا بھی مانگ رہے ہو دعا بھی اس طرح والہانہ کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو ہے نہ وہ ترس آ گیا۔ ایسی دعائیں مطلب وہ مانگیں۔ پھر اللہ پاک کی مدد بھی آ گئی۔ اسی وقت بتا دیا کہ میں تین ہزار فرشتوں سے مدد کرتا ہوں پھر کہتے ہیں اچھا ﴿خَمْسَةِ اٰلَافٍ﴾۔ ہاں۔ اس کے ذریعے سے مدد کرتا ہوں۔ تو وہ جو سارے مطلب اللہ جل شانہ کی اب قدرتیں ہیں۔

شیطان نے جب دیکھا کہ وہ چیز تو آ گئی۔ جس کا ڈر تھا وہ تو آ گئی تو وہ بھاگنے لگا پیچھے تو انہوں نے کہا کہ تم تو ہمارے ساتھ تھے وہ ایک سراقہ کی صورت میں تھے۔ تو کافروں نے کہا تم تو ہمارے ساتھ تھے تم تو یہ کہتے تھے کہتے ہیں نہیں جو مجھے نظر آتا ہے وہ تمہیں نظر نہیں آتا۔ اور بھاگنے لگے۔ اب یہ والی بات ہے کہ یہ اللہ جل شانہ کی مدد آ جاتی ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اس مدد کو حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں۔ جتنا آپ کے بس ہے اتنا کر لو۔ جہاں آپ بے بس ہیں وہاں اللہ مدد کرے گا۔ وہاں اللہ مدد کرے گا۔ مطلب یہ والی بات وہ اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔

تصوف کے اندر بھی یہی ہے۔ تصوف کے اندر بھی یہی ہے۔ جتنا آپ کے بس ہے اتنا کر لو۔ جہاں پر آپ کی بے بسی شروع ہو جائے گی وہاں پر اللہ تعالیٰ کی مدد آئے گی۔ وہ آپ کو پوری انکھوں سے نظر بھی آ جائے گا اللہ جل شانہ آپ کو اس سے نواز دے گا اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ واخر دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ اَللّٰہُمَّ اَعِنَّا عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبَنَا عَلٰی دِیْنِکَ یَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ۔ اَللّٰہُمَّ اِغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ۔ رَبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا۔ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ۔ اے اللہ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادات کو قبول فرما۔ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جینا مرنا نصیب فرما۔ اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیں یوں ہی اتباع کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ اپنا دیدار پاک نصیب فرما۔ اور اے اللہ جل شانہ جب تو ہم سے راضی ہو تو کبھی ناراض نہ ہونا۔ اے اللہ ہم سب خوش نصیب لوگوں میں ہمیں بھی شامل فرما۔ عمل نامہ دائیں ہاتھ میں نصیب فرما۔ حسن خاتمہ کی عظیم نعمت سے سرفراز فرما۔ موت کی سختی سے عذاب قبر سے پل صراط کی مشکلات سے جہنم کی آگ سے دنیا اور حشر کی رسوائی سے ہم سب کو نجات عطا فرما۔ ہمارے دلوں کے حالات کو اے اللہ تو جانتا ہے۔ اے اللہ جو ہمارے دلوں کے اندر جائز حاجات ہیں ان کو پورا فرما جو ناجائز ہیں ان سے اے اللہ ہمارے دلوں کو فارغ فرما۔ یا رب کریم ہماری پوری پوری دستگیری فرما۔ اے اللہ ہماری سستیوں کو اور غفلتوں کو نہ دیکھ اے اللہ اپنے فضل و کرم سے اے اللہ اے اللہ ہماری پوری پوری مدد فرما۔ اے اللہ جو ہمارے اندر گندگی ہے اس کو دور فرما۔ اے اللہ اے اللہ ہمیں صلاحیتیں نصیب فرما ہمیں قوتیں نصیب فرما۔ اپنی رضا نصیب فرما دے۔ یا اللہ اپنا قرب عطا فرما۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔ وَصَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلٰی خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ اَجْمَعِيْنَ۔