"غزوہِ حنین کے اسباق، توکل علی اللہ اور اسلامی ریاست کے اہم احکام"
درس نمبر 313، سورہ التوبۃ آیات 25 تا 29 اشاعتِ اول: 17 اور 18 نومبر، 2022، بمطابق ،20 اور 21 ربیع الثانی ، 1444 ہجری
- غزوہ حنین میں کثرت کے بجائے اللہ کی مدد ملی۔
- عقائد کی ناپاکی کے سبب مشرکین کا حج ممنوع ہے۔
- شریعت پر عمل کرنے سے رزق میں کمی نہیں ہوتی۔
- اہلِ کتاب کو جزیرہ عرب سے نکالنے کی وصیت ہے۔
- جزیہ غیر مسلموں سے حفاظت کے عوض لیا جاتا ہے۔
- ہمیں شریعت پر صحیح نیت سے مکمل عمل کرنا چاہیے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْـًٔا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ (25) ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ (26) ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (27)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت سے مقامات پر مدد کی ہے، اور (خاص طور پر) حنین کے دن جب تمہاری تعداد کی کثرت نے تمہیں مگن کر دیا تھا، مگر وہ کثرتِ تعداد تمہارے کچھ کام نہ آئی، اور زمین اپنی ساری وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم نے پیٹھ دکھا کر میدان سے رُخ موڑ لیا ﴿25﴾
حاشیہ: حنین کی جنگ کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کر لیا تو آپ کو یہ اطلاع ملی کہ عرب کا ایک مشہور قبیلہ بنو ہوازن اپنے سردار مالک بن عوف کی سرکردگی میں آپ پر حملہ کرنے کے لئے ایک بڑا لشکر جمع کر رہا ہے۔ ہوازن ایک بڑا قبیلہ تھا جس کی کئی شاخیں تھیں، اور طائف کا قبیلہ ثقیف بھی اسی کا ایک حصہ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاسوس بھیج کر خبر کی تصدیق فرمائی، اور معلوم ہوا کہ خبر صحیح ہے، اور وہ لوگ بڑے جوش وخروش سے تیاری میں مصروف ہیں۔ ہوازن کے لوگوں کی تعداد حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کے مطابق چوبیس ہزار سے اٹھائیس ہزار تک تھی، چنانچہ آپ چودہ ہزار صحابہ کرام پر مشتمل ایک لشکر لے کر روانہ ہوئے، اور یہ جنگ حنین کے مقام پر لڑی گئی، جو مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان مکہ مکرمہ سے تقریباً دس میل کے فاصلے پر واقع ایک وادی کا نام ہے۔ چونکہ مسلمانوں کی تعداد اس موقع پر چودہ ہزار تھی، جبکہ اس سے پہلے اتنی بڑی تعداد کسی باقاعدہ جنگ میں نہیں ہوئی تھی، اور ہمیشہ مسلمان اپنی کم تعداد کے باوجود فتح پاتے آئے تھے، اس لئے بعض مسلمانوں کے منہ سے یہ نکل گیا کہ آج تو ہماری تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہم کسی سے مغلوب ہو ہی نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہیں آئی کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کے بجائے اپنی تعداد پر اتنا بھروسہ کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ جس وقت مسلمان ایک تنگ گھاٹی سے گزر رہے تھے، ہوازن کے تیر اندازوں نے اچانک اُن پر اس زور کا حملہ کیا کہ بہت سے مسلمانوں کے پاؤں اُکھڑ گئے، اور وہ میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس موقع پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند جانباز صحابہ کے ساتھ ثابت قدم رہے، اور آپ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے ہٹنے والوں کو آواز دے کر بلائیں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی آواز بہت تیز تھی، وہ ایک بجلی کی طرح مسلمانوں کے لشکر میں پھیل گئی، اور جو لوگ میدان چھوڑ چکے تھے، وہ نئے ولولے کے ساتھ واپس آئے، اور کچھ ہی دیر میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ ہوازن کے ستر سردار مارے گئے، مالک بن عوف اپنے اہل و عیال اور مال و دولت کو چھوڑ کر فرار ہوا، اور طائف کے قلعے میں جا کر پناہ لی۔ چھ ہزار افراد جنگی قیدی بنائے گئے، اور بڑی تعداد میں مویشی اور چار ہزار اوقیہ چاندی مال غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ لگی۔
ترجمہ: پھر اللہ نے اپنے رسول پر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل کی، اور ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آئے، اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا تھا، اللہ نے اُن کو سزا دی، اور ایسے کافروں کا یہی بدلہ ہے ﴿26﴾
حاشیہ: یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب میدان چھوڑنے والے مسلمان حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی آواز سن کر واپس آئے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں میں ایسی تسکین پیدا فرمادی کہ اُن پر دشمن کا جو رُعب وقتی طور پر چھا گیا تھا، وہ دُور ہو گیا۔
ترجمہ: پھر اللہ جس کو چاہے اس کے بعد توبہ نصیب کر دے ،
حاشیہ: اس آیت میں اشارہ فرمادیا گیا کہ ہوازن کے جو لوگ بڑے جوش وخروش کے ساتھ لڑنے کے لئے آئے تھے، اُن میں سے بہت سے لوگوں کو ایمان اور توبہ کی توفیق ہو جائے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا، اور ہوازن اور ثقیف کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد بعد میں مسلمان ہوئی۔ خود مالک بن عوف جو ہوازن کے سب سے بڑے سردار تھے، مسلمان ہوئے، اور اسلام کے بڑے علم برداروں میں اُن کا شمار ہوا۔ آج انہیں حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ترجمہ: اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿27﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنے احکامات پر صحیح طریقے سے صحیح نیت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور کسی قسم کے فتنے اور شر سے ہمیں محفوظ فرمائے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ (28) قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ (29)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! مشرک لوگ تو سراپا ناپاکی ہیں،
حاشیہ: اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اُن کے جسم بذاتِ خود ناپاک ہیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اُن کے عقائد ناپاک ہیں جو اُن کے وجود میں سرایت کرچکے ہیں۔
یعنی اگر وہ سو مرتبہ نہائیں، تو وہ پاک نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ نجاست جو کفر اور شرک کی ہے، وہ ان کے اندر سرایت کر چکی ہے۔
ترجمہ: لہٰذا وہ اس سال کے بعد مسجدِ حرام کے قریب بھی نہ آنے پائیں۔
حاشیہ: یہ اعلانِ براءت کا تکملہ ہے۔ اور اس کے ذریعے مشرکین کو مسجدِ حرام کے قریب آنے سے منع فرما دیا گیا ہے۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ مشرکین کو اگلے سال سے حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ اس آیتِ کریمہ کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے جو اعلان کروایا اُس کے الفاظ یہ تھے کہ: "لا يحجن بعد هذا العام مشرك" یعنی اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکے گا (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ براءۃ)۔ اس سے معلوم ہوا کہ ”مسجدِ حرام کے قریب نہ آنے“ کے معنی یہ ہیں کہ وہ حج نہ کریں، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے مردوں سے کہا گیا ہے کہ وہ حیض کی حالت میں عورتوں کے قریب بھی نہ جائیں، اور مراد یہ ہے کہ اُن سے جماع نہ کریں، چنانچہ اُن کے قریب جانا ممنوع نہیں ہے۔ اسی طرح کفار حج تو نہیں کر سکتے، لیکن کسی اور ضرورت سے مسجدِ حرام یا کسی اور مسجد میں اُن کا داخلہ بالکلیہ ممنوع نہیں ہے، کیونکہ کئی مواقع پر یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کو مسجدِ نبوی میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ البتہ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت کی رُو سے مسجدِ حرام بلکہ پوری حدودِ حرم میں کفار کا داخلہ ممنوع ہے۔ بلکہ امام مالکؒ کے نزدیک کسی دوسری مسجد میں بھی کسی کافر کا داخلہ جائز نہیں ہے۔
یہ واقعی اہم بات ہے سمجھنے کی۔
ترجمہ: اور (مسلمانو!) اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اگر اللہ چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے (مشرکین سے) بےنیاز کر دے گا۔
حاشیہ: غیر مسلموں کو حج سے منع کرنے کا ایک نتیجہ ظاہری طور پر یہ ہو سکتا تھا کہ مکہ مکرمہ کی تجارت اور معیشت پر بُرا اثر پڑے، کیونکہ مکہ مکرمہ میں اپنی تو کوئی پیداوار نہیں تھی، باہر سے آنے والوں پر ہی اس کی تجارت کا دار و مدار تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس اندیشے کو دُور کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی احتیاج اپنے فضل سے دُور فرمائے گا۔
اس سے ایک نقطہ یہ بھی نکلتا ہے کہ جب اللہ پاک کی طرف سے کسی کام کی ممانعت ہو اور اگر کسی کو خدشہ ہو کہ میرے رزق کی کمی ہو جائے گی، اگر میں اس پر عمل کروں گا، تو وہ توکل علی اللہ چھوڑ دے، اللہ پاک اس کے رزق میں کمی نہیں ہونے دے گا، کسی اور سبب سے اس کو پورا کر دے گا۔ مطلب یہ بات ہے۔
ترجمہ: وہ اہل کتاب جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، نہ یومِ آخرت پر،
حاشیہ: اس سے اوپر کی اٹھائیس آیات عرب کے بت پرستوں کے بارے میں تھیں، اور یہاں سے وہ آیات شروع ہو رہی ہیں جو غزوۂ تبوک کے بارے میں نازل ہوئی ہیں (الدر المنثور بحوالہ مجاہد ج: 3 ص: 153)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیتیں اوپر کی اٹھائیس آیتوں سے پہلے نازل ہوئی تھیں، کیونکہ غزوۂ تبوک اعلانِ براءت سے پہلے پیش آیا ہے، اور اس کا واقعہ ان شاء اللہ آگے قدرے تفصیل کے ساتھ آئے گا۔ چونکہ یہ غزوہ رُوم کی سلطنت کے خلاف ہوا تھا، اور اُن میں اکثریت عیسائیوں کی تھی، اور یہودیوں کی بھی ایک بڑی تعداد رُومی سلطنت کے ماتحت زندگی گزار رہی تھی، اور دونوں کو قرآنِ کریم نے ”اہلِ کتاب“ کا نام دیا ہے، اس لئے ان سے جنگ کرنے کا حکم دینے کے ساتھ اُن کے عقائد اور اعمال کی کچھ خرابیاں ان آیات میں بیان فرمائی گئی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگرچہ ان آیات کا نزول شروع کی اٹھائیس آیتوں سے پہلے ہوا تھا، مگر ان کو موجودہ ترتیب میں ان اٹھائیس آیتوں کے بعد رکھا گیا ہے۔ شاید اس میں یہ اشارہ ہے کہ جزیرۂ عرب کے بت پرستی سے پاک ہونے کے بعد مسلمانوں کو باہر کے اہل کتاب سے سابقہ پیش آنے والا ہے، نیز بت پرستوں کے لئے تو جزیرۂ عرب میں مستقل رہائش ممنوع کر دی گئی تھی، لیکن اہل کتاب کے لئے یہ گنجائش رکھی گئی تھی کہ وہ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری کی حیثیت میں جزیہ ادا کر کے رہ سکتے ہیں۔ یہ رعایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں تو برقرار رہی، لیکن آپ نے وفات سے پہلے یہ وصیت فرمائی تھی کہ یہود اور نصاریٰ کو جزیرۂ عرب سے نکال دو (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 3053)۔ چنانچہ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس وصیت پر عمل فرمایا۔ لیکن یہ حکم صرف جزیرۂ عرب کے ساتھ مخصوص تھا۔ جزیرۂ عرب کے باہر جہاں کہیں اسلامی حکومت قائم ہو، وہاں اب بھی نہ صرف اہل کتاب، بلکہ دوسرے تمام غیر مسلم اسلامی ریاست کے شہری کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں، جہاں انہیں اپنے مذہب پر عمل کی آزادی ہے، بشرطیکہ وہ ملکی قوانین کی پابندی کریں۔ یہاں اگرچہ صرف اہل کتاب کا ہے، لیکن جو وجہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے، وہ چونکہ تمام غیر مسلموں میں پائی جاتی ہے، اس لئے جزیرۂ عرب سے باہر یہ حکم باجماعِ اُمت تمام غیر مسلموں کو شامل ہے۔ واللہ سبحانہ اعلم۔
ترجمہ: اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے، اور نہ دینِ حق کو اپنا دین مانتے ہیں، اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔﴿29﴾
حاشیہ: بظاہر تو اہل کتاب اللہ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے تھے، لیکن چونکہ انہوں نے اس ایمان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت سے غلط عقائد گھڑ رکھے تھے، جن میں سے بعض کا بیان اگلی آیت میں آ رہا ہے، اس لئے اُن کا یہ ایمان کالعدم قرار دے کر یہ فرمایا گیا کہ وہ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے۔ ”جزیہ“ ایک ٹیکس ہے جو مسلمان ریاست کے اُن غیر مسلم شہریوں سے لیا جاتا ہے جو لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، چنانچہ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور تارک الدنیا مذہبی پیشواؤں سے جزیہ نہیں لیا جاتا۔ یہ درحقیقت اُن کے پرامن طریقے سے اسلامی ریاست میں رہنے اور اسلامی ریاست کے دفاع میں شریک نہ ہونے کا ٹیکس ہے جس کے عوض اسلامی حکومت اُن کی جان و مال کی ذمہ داری لیتی ہے (روح المعانی)۔ اس کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ غیر مسلموں سے مسلمانوں کی طرح زکوٰۃ وصول نہیں کی جاتی، لیکن وہ ریاست کے تمام شہری حقوق میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اس لئے بھی اُن پر یہ خاص نوعیت کا ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اور احادیث میں مسلمان حکمرانوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ غیر مسلم باشندوں کے حقوق کا پورا خیال رکھیں، اور اُن پر اتنا ٹیکس عائد نہ کریں جو اُن کی طاقت سے زیادہ ہو۔ چنانچہ اسلامی تاریخ کے تقریباً ہر دور میں جزیہ کی شرح بہت معمولی رہی ہے۔ اور آیتِ کریمہ میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ: ”وہ خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں“ اس کی تفسیر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے یہ منقول ہے کہ وہ اسلامی ریاست کے قوانین کے تابع ہو کر رہنا منظور کر لیں (روح المعانی ج: 10 ص: 79)۔
اللہ پاک ہم سب کو شریعت پر مکمل عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔