سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا: اتباعِ سنت اور ہمارا طرزِ عمل
بَابٌ فِيْ وُجُوبِ الْإِنْقِيَادِ لِحُكْمِ اللَّهِ، درس نمبر: 250، اشاعتِ اول: 5 اپریل، 2023 بمطابق 14 رمضان المبارک، 1444 ہجری
کامل مؤمن کی پہچان: غیر مشروط اطاعت
سنت تجربے کے لیے نہیں، عمل کے لیے ہے
سنت پر عمل نہ ہونے پر ندامت، اعتراض نہیں
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَنْ يَّقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَ أُولٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ (نور: 51)
ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”مؤمنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“
سُبْحَانَ اللّٰهِ۔ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ۔ آمین۔
تشریح: المؤمنین: سے مراد کامل مؤمن ہے۔ آیت شریفہ کا مطلب یہ ہے مسلمانوں کا قول اس وقت جب کہ ان کو کسی معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے لئے بلایا جاتا ہے تو اس پر مسلمان خوشی خوشی اس بات کو سنتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور تہہ دل سے ہم اس کو مانتے بھی ہیں۔ سوال: بلایا تو آپ ﷺ کی طرف جاتا تھا اللہ کی طرف نسبت کیوں کر دی گئی؟ جواب: آپ ﷺ کا فیصلہ حقیقتاً اللہ جل شانہ کا ہی حکم سے ہوتا تھا اس لئے نسبت اللہ کی طرف بھی کر دی گئی۔
کیونکہ جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور تھے تو وہ کر دیا ہے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر خیر جو ان کی طرف سے پہنچتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور ہر شر سے جو بچنا ہے، وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ۔ اور اسی کی دعوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کی جو صفت ہے وہ کیا ہے؟ سَمِعْنَا، وَاَطَعْنَا۔ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا۔ ہمیں حکم کے سننے کی دیر ہونی چاہیے۔ اس پہ تجربہ نہیں کرنا چاہیے۔ بعض دفعہ انسان لرزتا ہے جب انسان کہتا ہے، بڑا مجرَّب۔ خدا کے بندے، سنت میں مجرب والی کون سی بات آ گئی؟ سنت تو تجربے کے لیے نہیں ہے۔ سنت تو عمل کے لیے ہے۔ مطلب اس میں انسان بس عمل کر لے اور مطمئن ہو جائے کہ سنت ہے تو بس بالکل ٹھیک ہے، اس میں تو اور دوسری بات ہے ہی نہیں۔ لہٰذا اٹوٹ عقیدہ جو سنت کے مطابق ہو، وہ ہونا چاہیے کہ سنت پر چلنے میں خیر ہے۔ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بڑی عجیب بات فرمائی ایک بیان میں، حضرت اکثر بیان نہیں فرماتے تھے۔ لیکن جب فرماتے تھے، تو بہت عجیب بیان ہوتا تھا۔ حضرت نے بیان فرمایا کہ دیکھو، سنتوں پہ ہمیشہ عمل کرو محبت کے ساتھ۔ اور جس سنت پر عمل نہ ہو سکے، تو اس پہ افسوس کریں۔ بعض دفعہ انسان کسی چیز پر عمل نہیں کر سکتا، لیکن اس کو چاہتا ضرور ہے۔ مثلاً شوگر کا بیمار ہے تو وہ ظاہر ہے میٹھا چاہتا ہے نا۔ لیکن کھا نہیں سکتا۔ تو اپنے آپ پر افسوس کرتا ہے کہ دیکھو، اتنی اچھی چیز کو میں نہیں کھا سکتا بیماری کی وجہ سے۔ تو اسی طریقے سے اپنی کمزوری کے پیشِ نظر اگر کوئی کسی سنت پر عمل نہیں کر سکتا، تو اس میں اپنے عذر اور اپنی کمزوری کو سامنے رکھنا چاہیے کہ میں اس پر عمل نہیں کر سکتا، ورنہ عمل تو اس پر ہی ہونا چاہیے تھا۔ نہ کہ نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ اس سنت کے لیے انسان کا دل بند ہو، اور اس کے بارے میں کمزوری کی بات کرے کہ نہیں ایسا ہے اور نہیں ایسا ہے۔ نہیں، ایسا نہیں۔ مثال کے طور پر کوئی داڑھی نہیں رکھ سکتا۔ مثال دے رہا ہوں۔ داڑھی نہیں رکھ سکتا۔ تو اب داڑھی کے اوپر اعتراض نہ کرے، یہ تو معاملہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو مجرم سمجھے۔ اپنے آپ کو مجرم سمجھے کہ میں گناہ کر رہا ہوں۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے تو یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ چلنا چاہیے۔ تو لہٰذا یہ میں نے موٹی سی بات عرض کر لی، ورنہ بے شمار ایسی سنتیں ہیں جن پہ انسان عمل نہیں کر پاتا اپنی کمزوریوں کی وجہ سے، تو اس میں اپنی کمزوری کو سامنے رکھے، سنت پہ اعتراض کی بات نہ ہو۔ سنت سے اعراض کی بات نہ ہو۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔