مکائد شیطان (حصہ سوم)
مکائد شیطان: اشاعت اول: 24 نومبر، 2007، بمطابق: 14 ذو القعدہ، 1428 ھ
جذبات، عقل اور شریعت کی درست باہمی ترتیب
وسائلِ ہدایت کو بگاڑنے کی شیطانی چالیں (علمائے سوء اور بدعات کا فتنہ)
ذرائع کو مقاصد بنانے سے سلسلوں کی تباہی اور انحراف
شریعت کی پابندی اور حقیقی فیض: کامل شیخ کی نشانیاں
علمِ ظاہر اور تصوف (مفتی اور شیخ) کے دائرہ کار کا فرق
توحیدِ مطلب کی اہمیت اور شیخ سے تعلق کی برکات
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ اَمَّا بَعْدُ۔ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۔ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔
رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
ایک موضوع چل رہا ہے۔ اور وہ موضوع یہ ہے کہ شیطان ہمارے ساتھ کیا کرتا ہے۔ شیطان کے جو مکائد ہیں، شیطان کے جو جال اور چالیں ہیں، اس کے ذریعے سب کیسے پھنستے ہیں، کیا طریقہ کار ہے، اور اس سے بچنے کے راستے کون سے ہو سکتے ہیں۔ یہ بہت ضروری چیز ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تین چیزیں ہیں، اگر ان کو ایک خاص ترتیب پہ رکھا جائے تو پھر انسان گمراہ نہیں ہوتا۔ ایک یہ کہ انسان کے جذبات ہیں۔ جس سے انکار نہیں۔ جذبات اچھے بھی ہو سکتے ہیں، برے بھی ہو سکتے ہیں۔ پھر اللہ جل شانہٗ نے انسان کو عقل دی ہے۔ اور اس عقل کے ذریعے سے جذبات کو کنٹرول کر سکتا ہے اگر کرنا چاہے۔ جذبات سطحی ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ فوری اثر ہوتا ہے اور عقل گہرائی میں دیکھتی ہے۔ بنیادوں کے اوپر چلتی ہے۔
لہذا جذبات کی اصلاح عقل کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ اور تیسری چیز شریعت ہے جس کو ہم ہدایت کہہ سکتے ہیں۔ اور یہ من جانب اللہ ہوتی ہے، وحی الہی سے ہمیں ملتی ہے۔ جہاں عقل کی سرحد تمام ہو گئی وہاں سے شریعت شروع ہو گئی۔ جہاں عقل کام کرتی ہے وہاں شریعت کے مطابق عقل کو استعمال کرنا ہوتا ہے۔ یعنی بلکہ وہاں پر عقل پہ چھوڑا گیا ہوتا ہے۔ وہاں پر شریعت بات نہیں کرتی جہاں عقل چلتی ہے۔ جہاں عقل بالکل نہیں چل سکتی وہاں شریعت کا حکم آتا ہے۔ اس وجہ سے عقل کبھی بھی شریعت کی کسی بات کا جائزہ نہیں لے سکتی، کیوں؟ عقل وہاں ختم ہے۔ وہاں تو عقل کی چلتی نہیں ہے۔ کیونکہ شریعت ہے غیب پر ایمان کے ساتھ۔
اس لیے تقویٰ کی بنیاد کو ایمان بالغیب قرار دیا گیا ہے۔ آپ قرآن پاک کو پڑھیں: الم ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۔ اب آپ دیکھ لیں، هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ فرمایا اس میں ہدایت ہے متقین کے لیے لیکن ساتھ فرمایا متقین کون لوگ ہیں؟ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ جو ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تقویٰ کی جڑ ایمان بالغیب کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ عقلی ڈر کو تقویٰ نہیں کہتے۔ عقلی ڈر کو تقویٰ نہیں کہتے۔ تقویٰ وہ ہوتا ہے جو وحی الہی سے متعلق ہو۔ وہ تقویٰ قرار دیا جاتا ہے۔
اس لحاظ سے اگر ہم لوگ اپنے جذبات کو عقل کے ذریعے سے یعنی دیکھیں اور پھر اس میں جو غلط ہو مطلب اس پہ عمل نہ کریں، مثلاً غصہ ہے۔ غصہ ایک فوری اثر دیکھتا ہے۔ اس وقت اگر کوئی چیز سامنے آ گئی تو عین ممکن ہے کہ اتنی بڑی سے بڑی حرکت انسان سے ہو جائے کہ پھر بعد میں انسان پچھتانے لگے۔ اس وقت تھوڑا سا ٹائم چاہیے ہوتا ہے، تاکہ انسان سوچ سکے۔
اس وقت کمال کی بات یہ ہے کہ اس کو تھوڑا سا، اس کو ہٹا دو تاکہ اس کو سوچنے کا، اس کو وقت مل جائے، جب سوچنے کا وقت اس کو مل گیا تو بس پھر ٹھیک ہے۔ کیوں کہ جس قاتل کو پہلے سے پتا ہو کہ میں قتل کروں گا تو اس کے کیا کیا نتائج آئیں گے وہ کبھی قتل نہیں کرے گا۔ اب اندازہ کر لیں جو انسان غصے کی وجہ سے قتل کرتا ہے اس وقت ذرہ بھر کسی کے سامنے نیچے نہیں جاتا، پھر بعد میں ہر چوکی پر، ہر پولیس والے، ہر جج، ہر چودھری ان کے سامنے وہ اپنی انا کو ختم کرتا رہتا ہے۔ تو اگر اس وقت وہ ختم کر لیتا تو اچھا نہیں تھا؟ مطلب ہے تھوڑا سا کم اپنے آپ کو کر لیتا تو سب معاملہ ختم ہو جاتا، مطلب ہے ایسا نہ ہوتا۔ لیکن اس کو سوچنے کا موقع کب ملتا ہے؟ اس کو سوچنے کا موقع نہیں ملتا، نتیجتاً بڑی سے بڑی غلطی انسان سے ہو جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے عقل کو جذبات پہ حکمران ہونا چاہیے اور عقل پر شریعت کو حکمران ہونا چاہیے۔ ٹھیک ہے نا، یہ بڑی بات ہے۔ اگر ایسا ہو تو پھر مسئلہ نہیں ہوگا۔
اب شیطان اس ترتیب کو توڑے گا۔ سب سے پہلے اس کی یہ بات ہے۔ اس ترتیب کو توڑے گا۔ وہ آپ کی عقل کو شریعت پر حکمران بنائے گا۔ اور شریعت کے اندر آپ کی عقل کو دوڑائے گا کہ یہ چیز عقل کے مطابق نہیں، یہ چیز عقل کے مطابق... تاکہ آپ کٹ جائیں شریعت سے۔ اور پھر عقل پہ جذبات کی حکمرانی کروائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ممکن ہے وہ آپ سے اس وقت وہ ایسے کام کروا دے جو کہ بعد میں آپ بہت پچھتا رہے ہوں لیکن بہرحال اس وقت آپ کی عقل کو اس طرف نہیں آنے دے گا، سوچنے آپ کو نہیں دے گا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ شیطان کا راستہ اگر باندھنا ہو تو اس ترتیب کو بالکل تبدیل نہیں کرنا۔
اب ہوتا یہ ہے سب سے پہلے کہ شیطان کی پوری نظر اس بات پر ہوتی ہے کہ جہاں سے ہمیں فائدہ ہو، ہمیں ان سے کاٹ دے۔ اور جہاں ہمیں نقصان ہوتا ہو وہاں سے ہمیں جوڑ لے۔ ایک تو یہ کام کرے گا۔ دوسری طرف جہاں سے فائدہ ہوتا ہو، ان کو خراب کر دے۔ ایک محنت ہمارے اوپر ہے نا۔ ایک محنت ہمارے اوپر ہے۔ ایک محنت ان کے اوپر ہے۔ ایک محنت اُن کے اوپر ہے کہ وہ جو لوگ ہدایت کا ذریعہ بنتے ہیں ان کو خراب کر لے۔ پھر وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ تو اب کیا ہو سکتا ہے؟ دیکھیں اللہ کی طرف سے ہمیں کیسے ملتا ہے؟ سب سے پہلے وحی الہی کا علم ہے۔ جس کا واسطہ ہمارے پاس قرآن اور سنت اور اس کے علماء ہیں۔ یعنی وحی الہی کا علم، یہ ہمارے پاس ہدایت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اور دوسرا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہمارا تعلق اور رابطہ جو ہدایت کا منبع ہیں، ذریعہ ہے ہمارے لیے ہدایت کا سب سے بڑا۔ تو جو واسطہ در واسطہ ہمارے ساتھ تعلق ہے، ان سے ہمیں کاٹ دے۔ تو اب یہ ہے کہ جس طریقے سے ہمارے اوپر محنت کر رہا ہے، اس طرح ان واسطوں کے اوپر بھی محنت کرے گا۔ علماء کے اوپر بھی محنت کرے گا، کہ علماء کو بگاڑ دے۔ اور جو واسطے بن رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیں ملانے کے، ان کے اوپر بھی محنت کرے گا۔ ان کو بھی خراب کرے گا۔
اب علماء کی خرابی تو حدیث شریف سے ثابت ہے کہ جو ان کو خراب کر لیتا ہے جیسے علمائے سوء کا لفظ ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، یا رسول اللہ، کون خراب لوگ ہیں سب سے زیادہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھی باتیں پوچھا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا برے لوگ، علمائے سوء ہیں۔ جو کہ دین کو بیچیں گے اور دنیا کو کمائیں گے۔ گویا کہ دنیا کی محبت کی وجہ سے علماء دین کو بیچیں گے۔ دین کا خیال نہیں کریں گے، دنیا کا خیال کریں گے۔ مثلاً ان کو جس چیز کے اندر دنیا کا نقصان ہوتا ہو گا، وہاں نہیں بولیں گے۔ تو علمائے سوء کے بارے میں یہ فرمایا کہ دنیا کی محبت کی وجہ سے وہ صحیح بات نہیں بتائیں گے۔ اور ممکن ہے کہ غلط باتیں بتانا شروع کر لیں۔
اب جیسے آج جاوید احمد غامدی ہے۔ وہ عالم ہے۔ لیکن وہ عالم ایسا ہے کہ وہ اپنے دنیاوی نفع کے لیے دین کی باتوں کو چھپا رہا ہے۔ بلکہ غلط باتیں بتاتا ہے۔ ناجائز کو جائز بتا رہا ہے، جائز کو ناجائز بتا رہا ہے۔ ٹھیک ہے نا، روشن خیالی کا جو وہ موضوع چل رہا ہے، اس کے مطابق حکمرانوں کی مدد کر رہا ہے۔ بلکہ امریکہ کی مدد۔۔۔ اس طرح اور بہت سارے لوگ مل جائیں گے ان کو، جو ایسا کریں گے، ان کو دنیاوی فائدہ ہو گا نا۔ مطلب یہاں دنیا میں، مطلب ان کو اب اسلامی نظریاتی کونسل میں رکھا ہوا ہے۔ ہاں؟ اس طرح اور بھی ان کو مطلب دنیاوی فائدے ہو سکتے ہیں، جو ہوں گے، تو اب یہ دنیا کے فائدے کے لیے دین کو بیچتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ تو علمائے سوء مطلب ان کو کہتے ہیں۔
ایک تو یہ بات ہو گئی کہ وہ علم کو pollute کر دیا۔ اب صحیح بات لوگوں تک نہیں پہنچے گی۔ یہ میں نے صرف ایک مثال دی ہے اس طرح بہت سارے ہوں گے۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب یہ میں نے صرف مثال دی آپ کو چونکہ ظاہر مثال ہے اس کو سب لوگ جانتے ہیں۔ تو علم کو pollute کر لیا، اب جو اللہ پاک کی طرف سے ہدایت کا نظام تھا وحی الہی تھی وہی اسی کے لیے حجاب بنا دیا۔ اب جس کا دل خود دنیا کے ساتھ محبت کر رہا ہو اس کو تو جاوید احمد غامدی کی باتیں صحیح لگیں گی نا؟ کیونکہ ادھر طلب ہے ادھر رسد ہے۔ تو لہذا بات ان کی سمجھ میں آئے گی۔ بے شک صحیح علماء ان کو کتنے بتائیں لیکن صحیح علماء کی بات تو نہیں نہ سنیں گے۔ ان کو تو صرف ایک بہانہ چاہیے تھا، ایک دلیل چاہیے تھی، ایک بات چاہیے تھی، وہ ان کو مل گئی بس۔ وہ اب اس کے بعد جو صحیح بات کر رہا ہو گا تو وہ کہتے ہیں نہیں یہ بھی تو عالم ہے۔ حالانکہ یہ تو ہر جگہ ہوتا ہے کہ صحیح لوگ بھی ہوتے ہیں غلط لوگ بھی ہوتے ہیں۔ تو وہ غلط لوگوں کے پیچھے نہیں جاتے صحیح لوگوں کو تلاش کرتے ہیں لیکن یہاں پر چونکہ نفس کے چور ہیں۔ لہٰذا وہ ان کی بات کو پکڑیں گے۔ تو لوگوں کے لیے ہدایت کا ایک راستہ وہ مخدوش ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ تو ہو گیا ایک طرف۔
دوسری طرف جو صحبت کا سلسلہ ہے، جس کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے انوارات ہم تک پہنچ رہے ہیں۔ جو کہ ہدایت کا بہت بڑا سرمایہ ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے بات ہو رہی تھی۔ صحبت صالحین کے بارے میں۔ اب اس کو بھی شیطان pollute کرے گا۔ تو شیطان اس کو کیسے pollute کرے گا؟ ایک تو ہم لوگوں کے دماغ سے شریعت کے جو پہچاننے کے جو راستے ہیں وہ خراب کروا دیں گے۔ یعنی صحیح اور غلط کی پہچان نہیں ہو گی۔ وہ شخص جو کہ خود دین پر عمل نہیں کر رہا ہو، وہ کیسے آپ کے لیے دین کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟ اور خود جو شریعت پر عمل نہیں کر رہا ہو۔ وہ آپ کو شریعت کی کیسے مطلب تلقین کر سکتے ہیں؟ ایک ہوتے ہیں شریعت کے الفاظ اور ایک ہوتی ہے شریعت کی حقیقت۔ تو بزرگ جو اللہ والے صحبت والے وہ تو شریعت کی حقیقت کی بات کرتے ہیں نا؟ وہ الفاظ کی بات تھوڑی، وہ الفاظ کی تو میں نے بات کر لی۔ یا تو حقیقت والی بات ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہاں تو صرف الفاظ کی بات تو ہے نہیں اگر الفاظ کی بات ہو تو ایک clean shave بھی آپ کو صحیح بات تو بتا سکتا ہے۔ لیکن ایک clean shave سے آپ شریعت کی حقیقت نہیں حاصل کر سکتے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ وہ چیز نہیں حاصل کر سکتے۔ تو یہ چیز، یہ ہے کہ وہ اول تو یہ بات ہے کہ آپ سے صحیح بات کی جو پہچان ہے وہ ختم کروائے گا شیطان۔ یہ پہلا اس کا کام ہو گا۔
دوسری طرف وہاں کے جو لوگ ہوں گے اس میں ان کے اندر رسومات ڈالے گا، رسمی باتیں۔ آپ دیکھ لیں، ایک چیز ہے ذریعہ اور ایک ہے مقصد۔ مقصد کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۔ مکمل بات ہے، دین میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ دین کے اندر نہ زیادتی ہو سکتی ہے، نہ کمی ہو سکتی ہے۔ یہ ہمیشہ کے لیے مہر لگ گئی اب اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ جب یہ بات سمجھ میں آ گئی تو اب جتنے بھی مقاصد ہیں ان کے اندر تو تبدیلی نہیں ہوگی نا۔ ذرائع بدلے جا سکتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اب اگر کسی ذریعے کو مقصد بنا لیا گیا، تو یہ دین کے اندر تبدیلی ہے۔ اگر کسی مطلب یہ ہے کہ ذریعے کو مقصد بنا لیا گیا تو یہ کیا ہو گیا؟ یہ اس دین کے اندر تبدیلی ہو گئی کیونکہ اس کو مقصد بنا لیا گیا۔ لہٰذا اب یہ ہے کہ وہ جو ہدایت والا نظام ہے وہ متاثر ہو گیا اب وہ ہدایت نہیں رہا، اب وہ گمراہی بن گئی۔ تو اب جو ذرائع ہیں صحبت کے راستوں میں جو ذرائع ہیں۔ اگر ان کے اوپر اتنی محنت وہ کرنے میں قابل ہو گیا اس کا کہ وہ ذرائع نہ رہے، وہ مقاصد بنا دیے ان کے لیے، تو بس وہ کامیاب ہو گیا۔ اب اس کا راستہ سد ہو گیا۔
اب ہوتا یہ ہے کہ جو صحیح سلسلے ہیں وہ بھی اگر اس چیز کا خیال نہیں رکھیں گے تو آہستہ آہستہ ان سے وہ صحیح چیز اٹھ جائے گی۔ آخر مجھے آپ بتا دیں کون سا بزرگ اتنا بڑا ہے جو عیسیٰ علیہ السلام سے بڑا ہو؟ کوئی بزرگ اتنا بڑا ہے جو عیسیٰ علیہ السلام سے بڑے ہوں؟ کون سا بزرگ اتنا بڑا ہے جو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بڑا ہو؟ اب مجھے بتائیں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ماننے والوں میں گمراہ ہو گئے یا نہیں ہوئے؟ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں میں گمراہ آئے یا نہیں آئے؟ اور یہ بتدریج آئے ایک دم تو نہیں آئے۔ اب جن کو ہم عیسائی کہتے ہیں آخر عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے ہیں نا؟ وہ تو پیغمبر ہیں۔ اتنی ان میں گمراہی آئی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے انکار کر دیا جن کو سمجھانے کے لیے، جن کا مقام بتانے کے لیے عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے تھے۔ اتنی تبدیلی چھ سو سال میں لے آئے کہ وہ عیسائی جو عیسیٰ علیہ السلام کو مان رہے تھے عیسیٰ علیہ السلام کی اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ورنہ ماننے کے لیے تو اس کے لیے تیار ہو گئے۔ اتنی بڑی غلطی ہو گئی ان سے۔ اب اس وقت عیسائی دنیا میں اکثریت میں ہیں۔ لیکن ہدایت پر کوئی نہیں۔ تو اس سے پتہ چلا کہ ان کو نہ دیکھو کہ جن کے ساتھ وہ connected ہیں بلکہ دیکھو کہ وہ ہدایت پر قائم بھی رہے یا نہیں رہے۔ اصل چیز اس کو دیکھنا چاہیے کہ وہ ہدایت پر قائم بھی رہے یا نہیں رہے۔ اس وجہ سے معیار کے اندر تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔ جب معیار کے اندر لوگ تبدیلی کرنے لگ جاتے ہیں تو پھر شیطان کے لیے ان کو دھوکہ دینا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ پھر ان کو کسی سے بھی دھوکہ دلوایا جا سکتا ہے۔
تو جتنے بھی مبارک سلسلے تھے، صحیح سلسلے تھے مثلاً قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ سارے سلسلے صحیح سلسلے تھے۔ لیکن بعد میں جو اپنی ترتیب پہ نہ رہے، اور ان لوگوں نے اس معیار کو برقرار نہیں رکھا اور ذرائع کو مقاصد بنانے لگے۔ ذرائع کو مقاصد بنانے لگے، اور اصل کی جگہ رسوم نے پکڑ لی۔ تو ان سے ہدایت ختم ہو گئی، ہدایت ان سے کٹ گئی۔ کیونکہ یہ ہر چیز کی اپنی اصل ہے۔ جب وہ اپنی اصل سے ہٹ جائے تو پھر اس پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
میں آپ کو دوسری مثال دوں۔ جو اللہ والے ہیں اور ان کی اولاد، ان کا فائدہ تو ہوتا ہے۔ وَكَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا قرآن پاک سے ثابت ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے آبا کے نقش قدم پہ نہ رہے تو کیا وہ چیز پھر بھی ان کے ساتھ رہے گی؟ وہ تو نہیں رہے گی۔ اب یہی وجہ ہے کہ خود ہماری فیملی کے دو بزرگ ہیں۔ ایک کا نام محمد رحمۃ اللہ علیہ، ایک کا نام علی رحمۃ اللہ علیہ۔ علی رحمۃ اللہ علیہ عالم بھی تھے، درویش بھی تھے۔ بادشاہ وہ بن گئے۔ اس نے اپنی بادشاہت کو چھوڑ دیا، اپنی درویشی لے لی اور علمی لائن اختیار کر لی۔ تو ان کی اولاد میں پھر یہ فقراء آنے لگے۔ درویش، اور یہ وہ۔ بادشاہی کو انہوں نے کبھی بھی نہیں لیا، چلتے آ رہے تھے۔ دوسری طرف بادشاہی کا سلسلہ وہ شروع ہو گیا، اب کچھ پشتوں تک تو ٹھیک رہے، اس کے بعد بادشاہت جو لوگوں کے ساتھ جو کرتی ہے، وہ کر لیا۔ اور ہوتے ہوتے ہوتے وہ آغا خانی بن گئے۔ یہ آغا خانی وہ۔۔۔ یہ ہمارا ایک ہی tribe ہے اوپر جا کے وہ دونوں آپس میں ملتے ہیں۔ ایک سے آغا خانی بن گئے، ایک سے یہ ہمارا والا سلسلہ۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ دونوں اولادِ رسول ہیں۔ دونوں اولادِ رسول ہیں۔ لیکن ایک اپنے اس پہ نہیں رہا، دوسرے رہ گیا۔ تو ظاہر ہے، مطلب یہ ہے کہ الحمد للہ، حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ تک وہ کم از کم ولایت تسلسل کے ساتھ چلی آ رہی تھی۔ تسلسل کے ساتھ، ایک سے ہو کر دوسرے، وہ چلی آ رہی تھی۔ تو یہ والی بات ہے کہ وہ یہاں تک تو الحمدللہ پہنچ گئی۔
اور دوسری طرف یہ ہے کہ بس گم ہو گیا۔ اب آغا خان کو آپ کیا سمجھیں گے؟ جن کا عقیدہ یہ ہو کہ نعوذ باللہ من ذالک خدا تعالی نے علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اندر حلول کر دیا، اور پھر علی رضی اللہ تعالی عنہ نے پھر اور اماموں کے نیچے، مطلب یہ کہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ، پھر وہ پھر سے وہی جو اپنا ہمارا سلسلہ ہے، اس پہ سب ابھی تک آتے ہیں، پھر اس کے بعد ابھی تک یہ کریم آغا خان میں ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ دین پر بھی نہیں رہے، کافر ہو گئے۔ تو اگر یہ سلسلہ خراب ہو سکتا ہے تو یہ کیوں نہیں خراب ہو سکتا؟ بات سمجھ میں آرہی ہے نا؟ تو صرف یہ ہے کہ سلسلے کو نہیں لینا ہوتا، سلسلۂ ہدایت کو لینا ہوتا ہے۔ سلسلۂ ہدایت کو لینا ہوتا ہے کہ جس سلسلے میں ہدایت چلی آ رہی ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بارے میں لکھا ہے۔ بہت سارے لوگ ایسی جگہوں پہ ڈیرے ڈالے ہوئے ہوتے ہیں، ان چشموں پہ جو خشک ہو چکے ہوتے ہیں۔ اور وہ چشمہ کہیں اور نکلا ہوتا ہے۔ بہت سارے چشمے خشک ہو چکے ہوتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے ہیں۔ یہی وہ المیہ ہے، جس کو لوگ نہیں سمجھتے تو ڈیرے جمائے ہوتے ہیں مطلب یہ کہ لگے ہوتے ہیں۔
اب دیکھ لیں ہمارے پاس ہی گولڑہ شریف ہے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے ولی تھے۔ اور ان کے جو، یہ مفتی ظہیر صاحب کے جو والد تھے نا، ان کے ماموں ان کے وہ تھے یعنی مجلس میں ہوتے تھے۔ تو مجھے انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ قوال، قوالی کر رہے تھے، وہ بغیر مزامیر کے musical instrument نہیں ہوتے تھے ان کے ہاں۔ تو کہتے ہیں کہ اس کا ہاتھ اوپر اٹھ گیا تھا، ہاتھ اوپر اٹھ گیا تھا تو حضرت نے روک دیا۔ سماع کو روک دیا۔ اور پھر اس سے پوچھا کہ تو نے یہ ہاتھ کیوں ڈوموں کی طرح اونچا کر دیا؟ اس نے کہا غلطی ہو گئی۔ اس نے کہا آئندہ تو میرے ہاں قوالی نہیں کرے گا۔ بہت اس نے منت سماجت کی لیکن حضرت تیار نہیں ہوئے اور اس کو نکال دیا اپنی قوالی کی بزم سے۔ کہ تو نے ڈوموں کی طرح حرکت کیوں کی؟ اب جب حضرت اتنی چیز کو بھی نہیں برداشت کرتے تھے، اب وہاں پر کیا کچھ نہیں ہوتا۔ اب جب آپ جائیں گے وہاں پر تو آپ کو ہدایت تو نہیں ملے گی۔ وہ ایک دفعہ ہم گئے تھے پتہ نہیں آپ ہمارے ساتھ تھے یا نہیں، جب ہم گئے تھے وہ چھالیہ جو صاف ہو رہا تھا۔ یاد ہے آپ کو؟ کیا اس میں کسی نے حضرت سے ذکر لیا تھا؟ کہیں اپنا کوئی حال کسی نے بتایا تھا؟ کوئی اس لائین کی بات ہوئی تھی؟ وہ ساری باتیں یہی کہ فلاں جگہ پر جو ہمارے مرید ہیں، فلاں شخص نے مجھ سے بیعت کی ہے۔ اس کو کہہ دو یہ اس کو یہ کر دے، اس کو کہہ دو یہ کر دے بس یہ ساری باتیں ہو رہی تھیں۔ وہ بیٹھک تھی بس مطلب ظاہر ہے وہ جیسے ایک مطلب exchange ہوتا ہے۔ بس اس کے ساتھ ساری چیزیں ہو رہی تھیں۔ جو لوگ ان کے پاس آرہے تھے وہ بھی اسی لیے آرہے تھے۔ اور جن کو وہ بتا رہے تھے وہ بھی یہی تھے۔ تو اصل تو ختم ہو گیا نا۔ اصل تو ختم ہو گیا۔ تو یہ اسی طرح سلسلے ختم ہوتے ہیں۔ اسی طرح سلسلے ختم ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے اصل پہ نہ رہے تو بے شک ان کے اوپر کتنا۔۔۔ پیر مہر علی شاہ گولڑوی صاحب تو بہت بڑے بزرگ ہیں ہمارے لیکن عیسیٰ علیہ السلام سے تو بڑے نہیں ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے تو بڑے نہیں ہیں۔ جب علی رضی اللہ عنہ کے ماننے والے، عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے ایسے ہو سکتے ہیں تو ان کے ماننے والے کیسے نہیں ہو سکتے؟ تو خواہ مخواہ یہ والی بات نہیں کہ ہم وہ والی بات۔۔۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم لوگ ان بنیادی نشانیوں کو دیکھیں۔ درمیان میں ترتیب کو تبدیل نہ کریں۔ شریعت کا جو مزاج ہے اس کو تبدیل نہ کریں۔ اس لیے آج کل ضروری ہے کہ اللہ والوں سے وہ لیا جائے جو اللہ والوں کے پاس ہے۔ اور جو اہل علم ہیں ان سے وہ لیا جائے جو ان کے پاس ہے۔ تاکہ اہل علم سے جو آپ نے لے لیا تو اس کے ذریعے سے آپ اہل اللہ کو پہچان سکیں۔ اور پھر آپ اہل اللہ کی مان سکیں۔ ان کے ساتھ رہ کے اپنی اصلاح کر سکیں۔ دونوں چیزیں۔ علم سے آپ کو شریعت کا حکم معلوم ہو گیا اور بزرگوں کی صحبت سے آپ کو عمل کی توفیق ہو گئی۔ اور اس کے ساتھ مل کے آپ نے عمل کرنا شروع کر دیا۔ یہ ہوتا ہے، ضروری ہے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ یہ جو شعبے جدا جدا ہیں علم کے اور صحبت کے یعنی جس کو ہم تصوف کہیں گے صحبت کے۔ یہ جو شعبے ہیں وہ ایسے ہیں کہ ہم لوگ اگر کسی صوفی کو جو عالم نہ ہو، مفتی کی مسند پہ بٹھا دیں گے تو پھر بھی گڑبڑ ہو جائے گی۔ اور مفتی کو شیخ کی مسند پہ بٹھا دیں گے پھر بھی گڑبڑ ہو جائے گی۔ مفتی کو آپ اپنے احوال نہ بتائیں ان کو صرف شیخ کو بتائیں۔ آپ کا کام ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اب آج کل مفتیوں میں بھی یہ مسئلہ ہے کہ اگر آپ ان سے کوئی اپنا حال بتائیں وہ بھی آپ کو کچھ بتا دے گا۔ یہ نہیں کہے گا کہ میں اس field کا نہیں ہوں۔ ہوتا ہے نا؟ کہے گا؟ حالانکہ اس کا field نہیں ہے۔ اس کو فوراً کہنا چاہیے کہ میرا field نہیں ہے۔ اور صوفی سے آپ فتویٰ پوچھیں گے تو وہ فتویٰ بتا دے گا حالانکہ اس کا field نہیں ہے۔ اُس کو اِس سے انکار کرنا چاہیے اور اِس کو اُس سے انکار کرنا چاہیے تاکہ دونوں کام صحیح طور پہ وہ چلتے رہیں۔ ورنہ پھر مسائل ہوں گے۔ تو یہ ایک ترتیب ہے کہ اس کو سامنے رکھنا چاہیے کہ جو کام جس کو ساجھے وہی کرے۔ تو پھر انسان حق پر رہ سکتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر اپنا راستہ گم کر سکتا ہے۔
اللہ والوں کی پہچان کی جو موٹی موٹی نشانیاں ہیں جو اکثر میں اپنے بیانوں میں بتاتا ہوں وہ اسی لیے بار بار بتاتا ہوں کہ جو انسان تلاش کر رہا ہو کم از کم اس کو صحیح جگہ تو مل سکے۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کے دھوکے میں پڑ جائے۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ لوگ کرامات اور کشفوں کو کچھ بہت ہی زیادہ وزن دے دیتے ہیں۔ نتیجتاً جو لوگ شعبدہ بازیاں دکھاتے ہیں ان کو لوگ بنا لیتے ہیں کرامت۔ ان کو لوگ بنا لیتے ہیں کرامت تو اب یا کشف اس کو بھی لوگ بنا لیں گے کرامت۔ نتیجتاً اب بے شک وہ شریعت پہ چل رہا ہو نہیں چل رہا ہو اس کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ حالانکہ وہ بنیادی چیز ہے۔ جو شریعت پر نہیں چل رہا وہ ولی اللہ تو نہیں ہو سکتا۔ وہ ولی اللہ تو نہیں ہو سکتا۔ ولایت اور اللہ کی نافرمانی یہ جمع نہیں ہوا کرتی۔ یہ ظاہری نافرمانی، ظاہری۔ جو اندرونی چھپ کر ہے اس کے اندر تو مسائل بہت ہیں لیکن جو فوری جس کو فسق کہتے ہیں۔ فسق ظاہری اعلانیہ گناہ کو کہتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص ہے داڑھی کاٹ رہا ہے یہ فاسق ہے۔ تو اس کو آپ کبھی بھی شیخ نہ سمجھیں۔ چاہے وہ ہوا پہ اڑتا ہوا نظر آ جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اعلانیہ اللہ پاک کی نافرمانی کر رہا ہے، کھل کر کے کر رہا ہے اس لیے وہ شرماتا بھی نہیں۔ جو چھپ کے کر رہا ہے وہ شرماتا تو ہے نا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ وہ شرماتا تو ہے نا۔ تو جو کھل کے کر رہا ہے وہ شرماتا نہیں ہے۔ یا اس کی داڑھی چھوٹی ہو۔ اب یہ ہمارے جو یہ مشہور سلسلہ ہے وہ سوات کا، بابا جی، بابا جی، بابا جی کہتے ہیں۔ جو اچھلتے ہیں بہت زیادہ مطلب اس میں وہ نمازوں کے اندر ہائے بابا جی ہائے بابا جی اس قسم کا۔ یہ ان کا یہ ڈھوک مستقیم کے پاس ان کا وہ بھی ہے، شلبانڈی، شلبانڈی بابا جی۔ اب وہ شلبانڈی بابا جی کی داڑھی چھوٹی تھی یا نہیں تھی؟ داڑھی چھوٹی تھی۔ لیکن لوگ اس کے مرید ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟ اور بعض کی تو بالکل داڑھی نہیں تھی۔ لیکن وہ بزرگ ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ لوگوں نے معیار ہی تبدیل کر لیا۔ دیکھیں ایک آدمی خود داڑھی نہ رکھے۔ گناہ تو ہے لیکن اس کو مسئلہ اس لیے نہیں ہو رہا کہ وہ مقتدا نہیں ہے۔ لیکن جو مقتدا ہے اس کے لیے تو ایک آدھ چیزیں کم از کم ضروری ہیں۔ مقتدا کی بات اور ہے۔ مقتدا نہیں چھوڑ سکتا۔ ٹھیک ہے ایک انسان خود بھی کمزور ہے تو ٹھیک ہے لیکن ایسے مقتدا کے پیچھے کیوں جا رہا ہے جو کہ شریعت پہ نہیں چل رہا؟ ایک مسلمان ہونا وہ تو ٹھیک ہے سب مسلمان ہیں الحمد للہ جو جو اہل ایمان ہیں مسلمان ہیں۔ لیکن اگر میں اللہ پاک سے ایک خاص طریقے سے کچھ لینا چاہتا ہوں تو جو اللہ پاک نے جن لوگوں کو ذریعہ بنایا ہے ان سے لوں گا نا۔ تو ایسے لوگوں کا شریعت پر عمل کرنا جو ظاہری شریعت ہے اس کے اوپر کم از کم ضروری ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ پاک ذریعہ نہیں بناتے جو ظاہر شریعت کے اوپر نہیں چلتے۔ ٹھیک ہے نا؟
تو کم از کم یہ بات ہو گئی کہ اس کے پاس علمِ ظاہر ہو۔ اتنا کہ وہ چوبیس گھنٹے شریعت کے مطابق گزار سکے۔ پھر اس کے اوپر وہ عمل کرتا ہو۔ تیسری بات ہے کہ وہ صاحبِ صحبت ہو پھر وہ برکت والی بات آ جائے گی۔ جس کے لیے ہم جاتے ہیں۔ صاحبِ صحبت ہو اور پھر اس کو اس صحبت کے ذریعے سے اجازت ملی ہو، یہ authentication ہے۔ یہ authentication ہے۔ ایک مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو authorize کیا ہو۔ پھر یہ ہے کہ اس کے پاس جو لوگ اٹھتے بیٹھتے ہوں وہ صاحبِ فیض ہوں اس کا فیض ملتا ہو۔ پتہ چلتا ہو کہ دیکھو نا یہ پہلے ایسا تھا اب ایسا ہے اب ایسا ہے اب ایسا ہے۔
اس کو یہ ہے کہ وہ۔۔۔ بعض دفعہ فیض لوگ کس چیز کو سمجھتے ہیں میں آپ کو بتاؤں اس میں بھی لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک آدمی ہے۔ اس کا نماز میں بڑا جی لگتا ہے اور بڑے مست اور مزے میں ہے اور وہ وہ کیفیات میں ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں اس کا فیض ہے۔ لیکن خاموشی کے ساتھ بغیر جی لگے جو دین پہ چلنا شروع ہو جائے اس کو فیض نہیں سمجھتے۔ حالانکہ یہ زیادہ فیض ہے۔ دل نہیں چاہتا پھر بھی چل رہا ہے۔ مضبوط دین کس وقت ہوگا جب دل چاہے گا یا دل نہیں چاہے گا اور پھر بھی چلے گا؟ اس وقت کون سا مضبوط ہے؟ دل نہیں چاہے گا پھر بھی۔
دل نہیں چاہے گا پھر بھی یہ تو یہ زیادہ مضبوط ہے۔ کیونکہ اس کے کٹنے کا امکان نہیں ہے۔ اس دوسرے آدمی کا تو کٹنے کا امکان ہے ابھی تو اس کے اوپر امتحان آیا ہی نہیں۔ وہ تو ابھی خطرے میں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
اچھا تو یہ والی باتیں لوگ عوام کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ وہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔ میرے پاس ایک صاحب آئے کہتے ہیں مجھے نا آپ کے ساتھ اتنا عرصہ ہو گیا مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میں نے کہا آپ کی مرضی۔ میں نے تو آپ کو روکا تو نہیں آپ جس کے پیچھے جانا چاہیں تو آپ چلے جائیں۔ میں آپ کو نہیں روکوں گا۔ لیکن آپ کا دماغ ٹھیک کرنے کے لیے آپ سے ایک بات کرتا ہوں۔ پہلے آپ کو قرآن کچا تھا نا؟ کہتا ہے ہاں۔ میں نے کہا یہ پکا ہو گیا نا؟ میں نے کہا یہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں یہ بات تو ہے۔ پھر میں نے دو تین چیزیں، میں نے کہا یہ، کہتے ہیں ہاں یہ بات تو ہے۔ میں نے کہا خدا کے بندے اگر آپ کو دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہے تو۔۔۔ اسی لیے تو لوگوں کے پاس جاتے ہیں کہ۔۔۔ بس ٹھیک ہو گیا۔ یعنی یہ ان چیزوں کو لوگ چیزیں ہی نہیں سمجھتے۔ مطلب وہ پتہ نہیں ہوا میں اڑنا چاہتا ہو گا یا پتہ نہیں کوئی اور کرنا چاہتا ہو گا۔ تو وہ تو ہمارے پاس نہیں ہے نا اور نہ ہم اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔
جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ان کے پاس دس سال تک ایک شخص رہا۔ تو دس سال کے بعد وہ جانے لگا۔ تو حضرت کو پتہ چل گیا کہ جا رہا ہے تو پوچھا کہ بھئی کیا بات ہے کیوں جا رہے ہو؟ کہتے ہیں حضرت میں تو دس سال آپ کے ساتھ رہا ہوں لیکن مجھے آپ میں کوئی کرامت نظر نہیں آئی۔ حضرت نے فرمایا کہ دس سال میں مجھے خلافِ سنت کام کرتے دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنید کی اس سے بڑھ کے کرامت کیا ہو گی کہ دس سال اس نے اللہ کو ناراض نہیں کیا۔ پھر فرمایا اَلْاِسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ استقامت کرامت سے اونچی بات ہے۔ ہیں؟ تو اصل بات ان چیزوں کو لوگ نہیں دیکھتے۔ دیکھتے ہیں تو کیا؟ شعبدہ بازیاں۔ ایسے کام جو عام لوگ نہیں کرتے، وہ تو ایک آدمی جوگی بھی کر سکتا ہے۔ جوگی ہوا میں اڑ بھی سکتا ہے۔ اڑے نہیں ہیں؟ حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جن کا مقابلہ ہوا تھا وہ ہوا میں اڑ رہا تھا ناں، حضرت نے جوتا بھیج کے جو ہے ناں ان کو نیچے لے آئے۔ ہیں؟ تو ٹھیک ہے، حضرت کی تو بزرگی تھی، لیکن اس کی کیا تھی؟ وہ جو اڑا تھا، پھر وہ بھی تو کوئی بات تھی۔ ہاں، تو ظاہر ہے مطلب ہے کر سکتا ہے نا، تبھی تو کیا۔ تو وہی میں عرض کرتا ہوں کہ یہ جو چیزیں ہوتی ہیں کہ عام لوگ ان چیزوں کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ جو ہوا میں اڑتا ہے، تو مکھی بھی ہوا میں اڑتی ہے۔ اور جو دریا میں چلتا ہے، تو مچھلی بھی دریا میں چلتی ہے۔ تو یہ کیا بات ہے؟ اصل کمال تو انسان بننے میں ہے کہ انسان بن جاؤ اور زمین کے اوپر چلو۔ تو یہی اصل میں بات ہے کہ ان چیزوں کو لوگ وہ نہیں سمجھتے۔
تو یہ میں عرض کرتا ہوں کہ فیض کو دیکھنا چاہیے کہ اس کا فیض ہے یا نہیں، اصل فیض۔ اور پھر وہ یہ بات ہے کہ وہ مروت نہ کرتا ہو، اصلاح کرتا ہو۔ مروت سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی ہے، وہ اس کے لیے کوئی دنیاوی لحاظ سے مفید ہے۔ اب اس کی تو بڑی بڑی چیزوں کو بھی ignore کر لیتا ہے۔ اور دوسرا شخص ہے اس کے ساتھ اور۔۔۔ یہ مروت والی بات ہے، مروت نہیں۔ اصلاح کرتا ہو، مروت نہ کرتا ہو۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ ہر ایک کی اصلاح کا ڈھنگ الگ ہوتا ہے۔ ہر ایک کی اصلاح کا ڈھنگ الگ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے پڑھے لکھے لوگوں کی اصلاح کا الگ طریقہ ہو گا، ان پڑھ لوگوں کی اصلاح کا طریقہ الگ ہو گا، شہریوں کا الگ ہو گا۔ دیہاتیوں کا الگ ہو گا۔ جو خاندانی لوگ ہیں ان کا الگ ہو گا۔ جو عام لوگ ہیں ان کا الگ ہو گا۔ مطلب یہ بات تو ہے۔ مطلب اس میں تو، ظاہر ہے جتنے، جتنے مزاج مختلف اتنے طریقے مختلف ہیں۔ وہ بات تو ہوگی، لیکن یہ والی بات نہیں کہ کم از کم ان کے ساتھ کوئی اس طرح بات کر لے کہ مروت کی وجہ سے ان کو نقصان پہنچنے دے، نہیں یہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ جب دیکھتا ہے کہ اس کو نقصان ہو رہا ہے، اور میرے کہنے سے رک سکتا ہے تو کہ دیتا ہے۔
اور آخری بات یہ ہے کہ اس کی مجلس میں بیٹھنے سے خدا یاد آتا ہو، اور اللہ کی طرف توجہ ہوتی ہو، اور دنیا سے بے رغبتی ہوتی ہو۔ یہ بڑی بات ہے۔ یہ بڑی بات ہے۔ اور آخری بات یہ ہے کہ اس کی مجلس میں بیٹھنے سے خدا یاد آتا ہو اور اللہ کی طرف توجہ ہوتی ہو اور دنیا سے بے رغبتی ہوتی ہو۔ یہ بڑی بات ہے۔ یہ بڑی بات ہے۔ صحبت کا اثر انسان محسوس کرے۔
بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ یہ جو راستے ہیں یہ شیطان اس کو pollute کر سکتا ہے۔ تو اگر ایک انسان معیار کو تبدیل نہ کرے، معیار کو۔ تو پھر نقصان نہیں ہوتا۔ معیار کو تبدیل نہ کرے۔ لیکن اگر معیار کو ہلایا، مجھ سے ایک دفعہ ایک شخص نے کہہ دیا: شبیر صاحب آپ ٹیلی ویژن کے خلاف بات کرتے ہیں، اب تو کیبل آ گیا وہ تو اس سے آگے کی چیز ہے۔ تو اب ٹیلی ویژن کا آپ کیا کریں گے؟ میں نے کہا میں پھر بھی مخالفت کروں گا، اور کیبل کا بھی کروں گا۔ کیونکہ معیار تو مجھے تبدیل نہیں کرنا، وہ تو خراب تو ہوں گے۔ اس سے بھی خرابی آئے گی تو کیا یہ باقی چیزوں کو ہم مان لیں گے؟ پھر تو دین تو گیا۔ دین تو وہی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تھا۔ اور قیامت تک وہی دین ہو گا۔ اب یہ علیحدہ بات ہے کہ اس وقت سو فیصد دین پہ چلنے والے موجود تھے، پھر نوے فیصد والے ہو گئے، پھر اسی فیصد والے ہو گئے، پھر ستر فیصد والے ہو گئے۔ اب ممکن ہے دس فیصد والے ہوں، یہ باتیں ہم مانتے ہیں۔ لیکن دین تو وہی ہے۔ دین تو وہی ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں تھا۔ اسی کو ہم دین کہیں گے۔ اور جو بے دینی آئے گی اس کو ہم بے دینی کہیں گے۔ معیار کو نہیں تبدیل کریں گے۔ معیار تبدیل ہونے سے سارا کام خراب ہوتا ہے۔ شیطان کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ معیار تبدیل کروائے ہمارے۔ ہم لوگوں کی سوچ کو بدل دے۔ اب دیکھیں اتنی بڑی سوچ بدل گئی نا لوگوں کی کہ وہ اہل الشیطان کو اہل اللہ سمجھنے لگے۔ اب اس سے بڑی سوچ کی تبدیلی کیا ہے؟ جو شیطان کے پجاری ہیں، ان کو لوگ خدا کے ولی سمجھنے لگے۔ تو اس سے بڑی بات اور کیا ہو گی؟ تو یہ تبھی ممکن ہے کہ جب انسان معیار کو تبدیل کر لے۔ معیار کو تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
اور وہ تیسری ترتیب، جذبات کے اوپر عقل، اور عقل کے اوپر شریعت۔ یہ دو باتیں ہیں۔ اگر کرے، تو شیطان سے اچھی خاصی مطلب بچت ہو جاتی ہے، کم از کم conceptual صورت میں۔ باقی یہ بات ہے کہ اگر اللہ پاک کسی کو کسی شخص کے ساتھ ملا دے تو پھر اس کے ساتھ رہنے ہی میں فائدہ ہوتا ہے۔ کیوں؟ کہ اللہ پاک جس کے لیے کسی کو ہدایت کا راستہ بنا دے، مثلاً شیخ، تو شیطان اس کی صورت میں نہیں آ سکتا۔ بشرطیکہ وہ ہو شیخ۔ شیطان اس کی صورت میں نہیں آ سکتا مطلب خواب میں بھی نہیں آ سکتا۔ کیونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں بھی شیطان نہیں آ سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کی صورت میں بھی نہیں آ سکتا۔ یہ راستہ شیطان پر بند کر دیا گیا ہے۔ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے امداد السلوک میں آپ نے سنا ہو گا۔ کہ شیخ اپنی قوم میں ایسا ہوتا ہے جیسے نبی اپنی امت میں۔ تو اگر ایک انسان کسی صحیح شیخ، باشرع شیخ کے ساتھ وابستہ ہے تو وہ محفوظ ہے۔ محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اللہ جل شانہٗ اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ اگر شیخ کو پتہ بھی نہیں ہو گا لیکن اس کے تعلق کی وجہ سے اللہ پاک اسے بچاتے ہیں۔ اللہ جل شانہٗ ان کو غلطیوں سے بچاتے ہیں اور اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔
بہت سارے لوگ میرے پاس آ جاتے ہیں خواب میں آپ آئے آپ نے ہمیں یہ بتایا۔ مجھے تو پتہ نہیں ہوتا۔ صحیح بات ہے مجھے تو پتہ نہیں ہوتا۔ مجھے تو ظاہر ہے میں میرے پاس تو یہ تصرف نہیں ہے نا کہ میں کسی کے خواب میں جاؤں۔ مجھے تو اس کا پتہ ہے۔ لیکن اللہ پاک اس کی لاج رکھتے ہیں۔ تو لوگوں کے پاس آتے ہیں۔ اور وہ بتاتے بھی ہیں کہ یہ کر لو یہ کر لو یہ کر لو یہ کر لو۔ میں نے تو اس کا بہت آسان حل ڈھونڈا ہے۔ جب بھی میرے پاس کوئی ایسا خواب کوئی لاتا ہے یا مجھے بتاتا ہے میں کہتا ہوں یہ سلسلہ ہے۔ اور یہ یقینی بات ہے کہ سلسلے کی برکت ہے۔ کہتا ہوں بھئی یہ سلسلہ ہے اب سلسلہ آپ سے یہ چاہتا ہے۔ ایک خاتون مجھے بہت فون کرتی تھی دفتر۔ تو تنگ ہو گیا تھا لیکن وہ مسئلہ یہ ہے کہ میں نے کہا کہ اگر میں اس کو سختی سے روکوں گا تو یہ بالکل ہی ان کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو جائے۔ تو میں ذرا تھوڑا سا یعنی اس کے ساتھ نرمی کا پہلو کر رہا تھا۔ اس نے خواب دیکھا۔ خواب میں دیکھتی ہے کہ آپ کو میں نے فون کیا دفتر تو آپ نے مجھے سختی سے ڈانٹا کہ تمہیں پتہ نہیں میں کون ہوں۔ میں تمہارے لیے بیٹھا ہوں۔ آئندہ کے لیے مجھے دفتر فون نہ کرنا کہ سختی کے ساتھ آپ نے مجھے ڈانٹا۔ تو یہ کیا ہے؟ میں نے کہا بس ٹھیک ہے میں تو نہیں روک سکتا تھا اب اللہ پاک نے آپ کو سلسلے کی برکت سے روک دیا۔ اب آپ مجھے فون نہ کیا کریں۔ اب آپ مجھے فون نہ کریں میں نے کہا بس ٹھیک ہے اب میں کیا کر سکتا ہوں۔ بس جو کچھ ہونا تھا وہ ہو گیا۔ بڑی چھٹپٹائی۔ لیکن بہرحال میں نے کہا بھئی یہ حکم ہے جو آپ کو دیا جا چکا ہے۔ ٹھیک ہے نا یہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد۔ اللہ جل شانہٗ کی طرف سے مدد ہوتی ہے۔ تو یہ اللہ پاک کا اپنا ایک غیبی نظام ہے۔ اس کی برکت سے وہ کرتے رہتے ہیں۔ بہت سارے لوگ جو ہیں نا وہ یعنی یہ کہتے ہیں کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے آپ نے وہ باتیں کر دیں، جو ہمارے دل میں تھیں آپ نے وہ ساری باتیں۔ مجھے تو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ بھئی کس کے دل میں کیا بات ہے۔ مجھے تو نہیں معلوم ہوتا۔ لیکن بہرحال اللہ جل شانہٗ اپنا فضل فرما کر، آپ لوگوں کی جو باتیں ہوتی ہیں اس کا جواب میری زبان پر جاری فرما دیتے ہیں اور مجھے اس کا پتہ بھی نہیں ہوتا یہ اللہ پاک کا احسان ہے تو ایسا ہوتا رہتا ہے اس میں کوئی ایسی بات نہیں۔
میں جب اپنے شیخ سے بیعت ہوگیا مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ تین دن تک وہی باتیں ہوتی رہیں جو میری تھیں۔ ہر دن میں کہتا میں نے کہا آج میں بڑا خوش قسمت ہوں۔ دیکھیں نا میں ایسے وقت پر آیا جب اس قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔ دوسرے دن میں گیا میں نے کہا واہ جی واہ آج تو میں بڑا خوش قسمت ہوں دیکھیں نا وہ باتیں ہو رہی ہیں۔ تین دن جب تک ہو گئے تو میں نے کہا میں نے کہا کمال ہے۔ میرے ساتھ تو بڑی عجیب بات ہو گئی۔ انہوں نے مجھے کہا یہ صرف آپ نہیں، ہم سب کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے۔ میں نے کہا اچھا پھر ٹھیک ہے یہ ترتیب ہی یہاں کی ایسی ہے۔ تو یہ بات یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور مجھے بالکل اب تو سو فیصد یقین ہے کہ شاید مولانا صاحب کو بھی پتہ نہیں تھا۔ اگرچہ کسی اور کے بارے میں نہیں انسان کہہ سکتا۔ لیکن وہ اپنے تجربے کو بنیاد بنا کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی شاید ایسا معاملہ تھا۔ کہ حضرت کو پتہ بھی نہیں ہو گا اور اللہ پاک مطلب ان کی ان کی وہ برکت سے ہماری اصلاح فرما رہے تھے۔ تو بہرحال یہ بات ہے کہ اللہ جل شانہٗ اپنا فضل فرما دیں اگر ایسا ہو تو پھر ان کے ساتھ رہنے ہی میں فائدہ ہے۔ مثلاً ان کے attach ہونے میں ہی فائدہ ہے۔ کیونکہ اس کی برکت سے واقعتاً انسان کی وہ بچت ہوتی ہے۔ ہر ہر مرحلے کی بات ہوتی ہے۔
مجھے تو الحمدللہ اللہ پاک نے ایسے کھل کے دکھایا ہے کہ میں تو اس پر قسم بھی کھا سکتا ہوں مطلب باقی لوگوں کا تو میں نہیں convince کر سکتا۔ اس پہ میں قسم بھی کھا سکتا ہوں۔ وہ میں گیا تھا مولانا صاحب کے پاس مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس۔ اور میں نے عرض کیا کہ حضرت میں جرمنی جا رہا ہوں جرمنی مجھے بھیج رہے ہیں۔ تو مجھے پریشانی ہے میں نے کبھی اتنا لمبا سفر نہیں کیا۔ بیمار بھی ہوں۔ انہوں نے فرمایا نہیں جرمنی جاؤ جرمنی ضرور جاؤ۔ اقبال تبھی اقبال بنا تھا جب جرمنی سے ہو کے آیا تھا۔ میں نے کہا حضرت میں کیا کروں اکیلے جا رہا ہوں۔ تو مولانا صاحب نے فرمایا کیسے اکیلے ہو گے اللہ رحیم جو ساتھ ہے۔ اب حضرت نے ایسے انداز میں کہہ دیا کہ وہ میرے دل میں گھس گیا۔ لوگ تو تصور کرتے ہیں نا مجھے تو ایسے تصور کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مولانا صاحب کی برکت سے وہ دل میں ہی بیٹھ گئی بات کہ اللہ میرے ساتھ ہے۔ اب اس کے لیے نہ کسی convincing کی ضرورت تھی نہ کسی lecture سننے کی ضرورت تھی بس ہو گئی بات۔ جب ہو گئی تو اللہ پاک نے اس کی برکت سے ایسا حال میرا کر دیا کہ دو سال میں ادھر رہا ہوں۔ اور جانے اور آنے تک اللہ پاک نے ہر موقعے پہ دکھایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ ایسے اللہ پاک نے انتظام کر دیا۔ خود وہاں کے جرمنی میں جو الفریڈ ہمارا نو مسلم ساتھی ہے ڈیڑھ سال کے بعد اس نے کہا You have landed here so softly, I have never seen a person۔ یہ اس کے الفاظ ہیں میں نے اس میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں کی۔ You have landed here so softly, I have never seen a person۔ اور واقعتًا ہمارے ساتھ یہی بات تھی اللہ پاک کی مدد ہر چیز میں اللہ پاک کی مدد۔ تو ایسے لوگوں کے ساتھ ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ اللہ جل شانہٗ اس کے لیے۔۔۔ کیوں کہ سب کچھ تو اللہ کرتے ہیں۔ ہر ایک ہر چیز اس کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ پاک اپنی مہربانی سے وہ سب کچھ کر لیتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ایسے لوگوں کے ساتھ ہونے میں یہی فائدہ ہے۔ پھر انسان گمراہ نہیں ہوتا۔
شیطان سب سے پہلے کوشش کرے گا کہ شیخ سے کاٹے۔ کیوں اس کو پتا ہے کہ جب تک شیخ کے ساتھ ہو گا اس پر میرا داؤ نہیں چلے گا۔ تو پہلے کیا کرے گا شیخ سے کاٹے گا۔ صحیح شیخ سے۔ صحیح شیخ سے کاٹے گا۔ اب اس کے لیے کیا کرے گا مختلف تاویلات مثلاً اس میں انسان ہے کمزوری تو ہوتی ہے۔ ان کمزوریوں کو بنیاد بنا کر کہے گا دیکھو نا اس نے یہ کیا اس نے یہ کیا اس نے یہ کیا۔ اب آپ کے دل میں شک و شبہات اور یہ اور اس قسم میں ڈال کے بدگمان کر کے آہستہ سے کاٹ دے گا پھر آپ کٹی ہوئی پتنگ کی طرح جہاں بھی آپ کو اڑا کے لے جائے۔ پھر اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ اسی بات کو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفاظ میں فرمایا۔ کہ جو بھی آپ کو اپنے شیخ سے ہٹا رہا ہے اور کسی دوسری طرف لے جا رہا ہے۔ سمجھو کہ شیطان آپ کے اندر تصرف کر رہا ہے۔ اور اچھی جگہ سے نکال رہا ہے اور دوسری غلط جگہ پہ لے جا رہا ہے۔ اور فرمایا اللہ کو بھی پھر اس کی پروا نہیں ہو گی۔ کہ یہ کس وادی میں اور کس گڑھے میں ہلاک ہو جائے۔ الفاظ ہیں حضرت کے کہ کس وادی میں ہلاک ہو جائے۔ بہت خطرناک الفاظ ہیں۔ تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ چوں کہ ایک ناقدری کی نا اس نے۔ اللہ جل شانہٗ نے اس کے اوپر ایک ہدایت کا دروازہ کھولا تھا۔ اور اس نے اس دروازے کو اپنے اوپر بند کر دیا اور چھوڑ دیا اس کو۔ تو پھر اللہ پاک کو پروا نہیں ہوتی پھر جہاں جانا چاہے چلا جائے جدھر گرنا چاہے وہاں گر جائے۔
تو یہ والی بات ہے۔ کہ اگر انسان اللہ والوں کے ساتھ ہے اور اپنے شیخ کے ساتھ ہے۔ تو اللہ پاک کی جو حفاظت کا نظام ہے۔ وہ اس کے لیے مؤثر ہو گا۔ اور اس کی حفاظت ہوتی رہے گی۔ شیطان اس پر راستہ نہیں پا سکے گا۔ بہت گڑبڑ میں ڈالے گا لیکن اخیر میں لائے گا۔ ادھر ادھر ادھر ادھر جو کچھ بھی ادھر ادھر کرے نا اخیر میں لائے گا اس کو واپس۔ اخیر میں لائے گا واپس۔ وہ ایک خاتون تھی اس نے مجھے فون کیا۔ کافی عرصے کے بعد۔ تو اس نے کافی رونا رویا کہ میں تو ایسی ہوں میں تو ایسی ہوں میں تو اپنے آپ کو کافی۔۔ مجھ میں تو یہ عیوب ہیں مجھ میں تو یہ ہیں۔ میں نے کہا خدا کی بندی آپ پر اللہ پاک کا بڑا فضل ہو گیا۔ میں نے کہا لوگ کشفوں کے پیچھے پڑتے ہیں اصل کشف اپنے عیوب کا کشف ہے۔ اور آپ کو اللہ پاک نے مفت میں کرا دیا اور کیا چاہتی ہو۔ یہی تو اصل چیز ہے۔ اگر آپ کو اپنے عیوب نظر آ رہے ہیں تو اس سے زیادہ اچھی بات آپ کے لیے کیا ہے؟ ہمیں تو مسئلہ یہی ہے کہ بزرگی پریشان کرتی ہے۔ اصل چیز تو یہ ہے کہ بزرگی سے نکل کے انسان کو اپنے عیوب نظر آئیں۔ اور یہ آپ کو نظر آ رہے ہیں ماشاءاللہ آپ تو بہت خوش قسمت ہیں اب کام کرو۔ یہ بات تھی اپنے عیوب نظر آنا بہت مشکل کام ہے۔ یہ نصف نصف تو سلوک ہے نا اپنے عیوب کا نظر آنا۔ نصف سلوک ہے۔ اگر اپنے عیوب نظر آ جائیں تو اس سے بڑی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ تو اگر اللہ پاک نے کسی کو یہ چیز دے دی۔ تو اس وجہ سے اب دیکھیں وہ اگر سلسلے سے آگے پیچھے بھی ہو رہی تھی۔ یعنی سلسلے سے کٹی تو نہیں تھی۔ لیکن مطلب کافی دور چلی گئی تھی۔ لیکن اخیر میں اللہ پاک اس کو لے ہی آیا۔
یہ حضرت کی کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے جو علوم ہیں وہ ہمیں نصیب فرمائے۔ اور جن چیزوں سے ہمیں منع فرمایا ہے اور یوں سمجھ لیجیے کہ ہمیں ڈرایا ہے اللہ کرے کہ ان سے ہم رک جائیں۔ تو :
توحیدِ مطلب
اور فرماتے ہیں توحیدِ مطلب اس کو کہتے ہیں کہ اپنے شیخ کے متعلق اس کا یقین رکھے کہ دُنیا میں اس کے علاوہ مجھ کو مطلوب تک کوئی نہیں پہنچا سکتا۔ اور گو اس زمانے میں دوسرے مشائخ بھی ہوں اور انہی اوصافِ کاملہ سے متصف بھی ہوں، مگر میرا منزلِ مقصود پر پہنچنا اسی ایک کی بدولت ہوگا۔ سو توحیدِ مطلب سلوک کا بڑا رکن ہے اور جس کو یہ حاصل نہ ہو گا وہ پراگندہ و پریشان اور ہرجائی بنا پھرے گا۔ اور کسی جنگل میں بھٹکتا ہُوا کیوں نہ ہلاک ہو جائے حق تعالیٰ کو بھی اس کی مطلق پرواہ نہ ہوگی۔ پس مشائخِ زمانہ میں ہر شخص کے متعلق یہ سمجھنا کہ یہ بھی میری پیاس بُجھا کر مطلب تک پہنچا سکتا ہے سلوک کے لئے مضر ہے، بلکہ جس طرح حق ایک اور قبلہ ایک ہے اسی طرح راہبر شیخ بھی ایک ہی کو سمجھے ورنہ بربادی کے سوائے کچھ حاصل نہ ہوگا اور اسی پراگندگی میں بہتیرے تباہ ہو گئے ہیں۔ سو اگر اس کا وسوسہ بھی آیا کہ عالم میں اس شیخ کے علاوہ کوئی دوسرا بھی مجھ کو مطلب پر پہنچا سکتا ہے تو ضرور شیطان اس پر قبضہ جمائے گا اور لغزش میں ڈال دے گا۔
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ شیطان کسی پیر کی صورت بن کر آئے گا اور چونکہ اس کا ضعیف قلب ہر شیخ کی طرف راہبری کا یقین کر لیتا ہے اس لئے شیطان کو پیر بنا ہُوا دیکھ کر اس کی طرف بھی جُھکے گا اور وہ اس پر اپنا رنگ جما کر ایسا تسلط کر لے گا کہ پھر چھٹکارا مشکل ہے، غرض اس کو تباہ کر دے گا اور ایسے شعبدے دکھلائے گا کہ اس کا عقیدہ باطل پر جما دے گا۔ اور چونکہ توحیدِ مطلب حاصل ہونے پر شیطان کو راہ نہیں ملتی اور وہ اس کے شیخ کی صورت بن نہیں سکتا۔ کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ شیخ اپنے مریدوں میں ایسا ہے جیسے نبی اپنی اُمّت میں۔ اس کے علاوہ آپﷺ نے اپنی اُمّت کے عُلماء کو بنی اسرائیل کے انبیاء کے مثل فرمایا ہے۔ پس شیطان لعین جس طرح جناب رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شکل نہیں بن سکتا، چنانچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں :- "جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے واقعی مجھ ہی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل ہرگز نہیں بنا سکتا۔" اسی طرح شیطان متبع شریعتِ محمدیہ شیخ کی صورت بھی نہیں بنا سکتا ۔ پس مرید محفوظ رہتا ہے اور امن کے ساتھ مقامات و منازل طے کرتا رہتا ہے۔
مطلب یہ والی بات کہ بہت اہم ہے کہ حضرت نے اس انداز میں اس کو فرمایا ہے۔ کہ اگر کوئی اپنے شیخ کے ساتھ وابستہ رہے۔ تو شیطان کے لیے بہت سارے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ وہ پھر کچھ نہیں کر سکتا۔ ہاں یہ بات ہے کہ شیخ کی تلاش میں کوشش کر لے ایسا نہ ہو کہ کسی غلط آدمی کے پیچھے چلا جائے۔ اور پھنس جائے۔ اس کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔