حضرت ہود علیہ السلام کی دعوتِ حق، قومِ عاد کا تکبر اور عبرت ناک انجام

درس نمبر 285، سورہ الاعراف آیات 65 تا 72، اشاعتِ اول: 25 اور 26 ستمبر، 2022، بمطابق 28 اور 29 مصفرالمظفر، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

لوگ آباؤ اجداد کی خاطر پیغمبروں کو جھٹلاتے رہے۔

پیغمبر انسانوں کی تربیت کے لیے خود انسان ہوتا ہے۔

عبداللہ بن سلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دیکھ کر ایمان لائے۔

بڑے ڈیل ڈول والی قوم عاد آندھی سے تباہ ہوئی۔

آباؤ اجداد کی غلط بات چھوڑ کر صحیح لینی چاہیے۔

نفس اور شیطان کے شر سے خود کو بچانا چاہیے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ (65) قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ (66) قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (67) اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ (68) اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (69)

ترجمہ: اور قومِ عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔

یہ سورہ ہود میں پورا واقعہ آنے والا ہے۔

ترجمہ: انہوں نے کہا: ”اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اُس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا پھر بھی تم اللہ سے نہیں ڈرو گے؟“ ﴿65﴾ اُن کی قوم کے سردار جنہوں نے کفر اپنا رکھا تھا، کہنے لگے: ”ہم تو یقینی طور پر دیکھ رہے ہیں کہ تم بے وقوفی میں مبتلا ہو، اور بیشک ہمارا گمان یہ ہے کہ تم ایک جھوٹے آدمی ہو“ ﴿66﴾ ہود نے کہا: ”اے میری قوم! مجھے کوئی بے وقوفی لاحق نہیں ہوئی، بلکہ میں ربّ العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا پیغمبر ہوں ﴿67﴾میں اپنے پروردگار کے پیغامات تم تک پہنچاتا ہوں، اور میں تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر تم اطمینان کر سکتے ہو (68) بھلا کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے ربّ کی نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعے تم تک پہنچی ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے؟ اور وہ وقت یاد کرو جب اُس نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد تمہیں جانشین بنایا، اور جسم کی ڈیل ڈول میں تمہیں (دوسروں سے) بڑھا چڑھا کر رکھا۔لہٰذا اللہ کی نعمتوں پر دھیان دو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو“ (69)

یہاں پر ایک بات جو کہ سارے انبیاء کے ساتھ تقریباً ہو رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ قوم وہ اپنے جو نفس کی جو خواہشات کے مطابق جو چیزیں ہیں ان کو چھوڑنے پہ تیار نہیں ہوتی۔ اور بجائے اس کے کہ ان کی بات مان لے، ان کو ہی جھوٹا کہہ دیتے ہیں۔ اور سب سے بڑی ان کی جو یعنی ہوتی ہے، دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد اس پر چلے آ رہے ہیں۔ حالانکہ آباؤ اجداد کا صحیح ہونا ضروری ہوتا ہے کہ مطلب وہ صحیح دین پر ہیں۔ یعنی تو یہ کفر اور شرک میں ظاہر ہے وہ بڑھتے چلے جا رہے ہوتے ہیں۔ اب دیکھیں مثال کے طور پر تھوڑا سا شرک آ گیا۔ تو ان کی اولاد نے ان کے شرک کو اپنے لیے ایک مطلب سمجھا۔ یعنی مطلب روٹین سمجھا۔ یعنی وہ شرک تو اس کو کہتے نہیں ہیں لیکن میں نے کہا کہ وہ اس سے اثر لیتے ہیں، وہ روٹین سمجھا۔ تو خود اس میں اور آگے بڑھ گئے۔ پھر اس کے بعد ان کی اولاد نے پھر اس کو روٹین سمجھا اسی حد تک اور پھر اس سے اور آگے بڑھ گئے، اس طریقے سے بڑھتے چلے جا رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ بات جو ہوتی ہے اس طرح مطلب کہ یہ لوگ پیغمبروں کے اوپر الزام لگا لیتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو اور خود اپنے آپ کو بدلتے نہیں۔ اور پیغمبر ان کو یہی کہتا ہے کہ مطلب کہ کیا تم اس بات پر حیران ہو کہ تمہارے اندر میں سے کوئی آدمی ہے جن کو اللہ پاک نے ذریعہ بنایا ہے، تم تک پیغامات پہنچا رہا ہے۔ بعض لوگ تو کہہ بھی دیتے ہیں نا کہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا، کوئی اس طرح نہیں۔ حالانکہ فرشتہ جو ہوتا ہے وہ تو انسانوں کی تربیت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ فرشتوں کو ان چیزوں کا احساس نہیں ہوتا جو انسان کے ساتھ ہے۔ تو جس چیز کا احساس کسی کو ہو تو بس وہی اس کی وہ تربیت کر سکتا ہے۔ تو پیغمبر بھی اللہ پاک وہ یعنی انسانوں میں سے بناتے ہیں۔ اور انسان انسان ہی ہوتے ہیں لہٰذا جو انسان کام کرتے ہیں وہ سب کرتے ہیں۔ مثلاً اکثر لوگ وہ کہتے ہیں کیسے پیغمبر ہیں کہ بازاروں میں چلتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں اور اس طریقے سے۔ تو ان کو بتایا جاتا ہے کہ ہاں یہ انسان ہیں اور انسان کھانا بھی کھاتا ہے، بازاروں میں بھی چلتے ہیں، شادیاں بھی کرتے ہیں۔ تو وہ ان چیزوں سے وہ سمجھتے ہیں کہ جو پیغمبر ہونا چاہیے وہ ان چیزوں سے پاک ہونا چاہیے۔ حالانکہ انسانی چیزیں ہیں، ضروریات ہیں، یہ خواہشات نہیں ہیں۔ خواہشات کی حد تک بات ہوتی کہ خواہشات کی کوئی حد نہیں ہوتی اور ضروریات limited ہوتی ہیں۔ تو جو ضروریات اللہ پاک نے انسان کی بنائی ہوتی ہیں وہ پیغمبر کی بھی ضروریات ہوتی ہیں۔ تو یہ پھر اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ تو جو لوگ سمجھدار ہوتے ہیں وہ اس سے جان لیتے ہیں کہ نہیں۔ جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھا۔ فرمایا یہ چہرہ جھوٹے کا نہیں ہو سکتا اور ایمان لے آئے۔ تو جو سمجھدار ہوتے ہیں وہ تو اس طرح کرتے ہیں، جو ناسمجھ ہوتے ہیں۔ جیسے اللہ پاک نے فرمایا کہ اندھے تھے۔ تو اندھے سمجھ کے لحاظ سے اندھے تھے۔ سمجھ کے لحاظ سے اندھے تھے کہ وہ سمجھ نہیں رہے تھے۔ یہ جو قوم عاد کے لوگ تھے یہ بہت لمبے چوڑے قد و قامت کے لحاظ سے یعنی ہوتے تھے، ڈیل ڈول میں بہت بڑے تھے۔ اور فرماتے ہیں کہ

حاشیہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان جیسی قوم کسی بھی ملک میں پیدا نہیں کی گئی۔

بہت بڑے ڈیل ڈول کے تھے۔ لیکن آپ کو پتہ ہے نا کہ جس وقت زلزلہ آتا ہے۔ یا طوفان آتا ہے تو سب سے زیادہ خطرہ اونچی بلڈنگ کو ہوتا ہے۔ جتنی اونچی بلڈنگ ہوتی ہے تو اس کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے کیونکہ cantilever action ہو جاتا ہے نا۔ تو وہ ہے کہ وہ ٹک نہیں سکتی اپنی جگہ پہ۔ جبکہ جو چھوٹی بلڈنگیں ہیں ان کو کچھ نہیں ہوتا۔ تو اسی طریقے سے ان پہ عذاب جو آیا وہ آندھی کا آیا۔ بہت تیز آندھی۔ اس تیز آندھی کی وجہ سے یہ ہے بالکل کہتے ہیں کھجور کے تنوں کی طرح گرے پڑے ہوئے تھے۔ اور وہ تباہ حال تھے۔ تو بس اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ کیونکہ اللہ پاک نے پیدا بھی فرمایا، اللہ پاک تباہ بھی کر سکتا ہے۔ اللہ جل شانہ بچا بھی سکتے ہیں۔ تو اللہ پاک کی طرف خیر کے لیے متوجہ ہونا چاہیے اور شر سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے اور ہمارا شر ہمارے نفس کی طرف سے شیطان کی طرف سے آتا ہے۔ اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (70) قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ (71) فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ (72)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: انہوں نے کہا: ”کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ کی عبادت کریں، اور جن (بتوں) کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں، انہیں چھوڑ بیٹھیں؟ اچھا اگر تم سچے ہو تو لے آؤ ہمارے سامنے وہ (عذاب) جس کی ہمیں دھمکی دے رہے ہو!“ ﴿70﴾ ہود نے کہا: ”اب تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور قہر کا آنا طے ہوچکا ہے۔ کیا تم مجھ سے (مختلف بتوں کے) اُن ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں، جن کی تائید میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی؟ بس تو اب تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں“ ﴿71﴾ چنانچہ ہم نے اُن کو (یعنی ہود علیہ السلام کو) اور اُن کے ساتھیوں کو اپنی رحمت کے ذریعے نجات دی، اور اُن لوگوں کی جڑ کاٹ ڈالی جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، اور مؤمن نہیں ہوئے تھے ﴿72﴾

یہ اصل میں قوم عاد اس کے بارے میں جو بات تھی۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کے پاس آئے۔ اور ان کو دعوت دی۔ تو انہوں نے وہی چیز جو کہ کافر لوگ کرتے آ رہے ہیں۔ کہ وہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اس چیز پر دیکھا ہے۔ تو ہم تمہارے کہنے سے کیوں اس کو چھوڑ دیں؟ مطلب یہ والی بات سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔ تو ہود علیہ السلام نے ان سے پھر وہ یہی بات کی کہ مطلب تم کیوں اس طرح، تو اس پر وہ انہوں نے کہا، ٹھیک ہے اگر تم عذاب کی بات کر رہے ہو تو وہ عذاب ہمارے اوپر لے آؤ۔ تو پھر ہود علیہ السلام نے ان سے کہا کہ وہ عذاب تمہارے لیے طے ہو چکا ہے۔ یہ بات ہے کہ مطلب کفار جو ہیں جتنے بھی ہیں۔ وہ یعنی اپنی زندگی کے جو مزوں میں ہیں۔ یا اپنی عادتوں میں ہیں۔ یا اپنی خواہشات کو پورا کرنے میں اتنے مست ہوتے ہیں۔ کہ وہ اس کو تبدیل نہیں ہونے دینا چاہتے۔ اور جو چیزیں ان کے آباؤ اجداد کی طرف سے آ رہی ہوتی ہیں۔ ان کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ اصل میں واقعتاً ایسے ہی ہوتا ہے کہ جو لوگ مطلب اپنے آباؤ اجداد کے اوپر فخر کرتے ہیں کہ ہم ایسے ہیں اور ہمارے آباؤ اجداد ایسے تھے۔ تو پھر وہ ان کی ہر غلط اور صحیح چیز کو لے لیتے ہیں۔ صحیح چیز کو بھی لیتے ہیں، غلط چیز کو بھی لیتے ہیں۔ حالانکہ طریقہ کار یہ ہے کہ جو غلط چیز ہے وہ کسی کی نہ لی جائے اور صحیح چیز لے لی جائے۔ تو لوگ اس بات کی پروا نہیں کرتے، وہ ہر ایک چیز لیتے ہیں، تو چونکہ ان کے ہاں بتوں کی عبادت جاری تھی۔ تو وہ کہتے تھے کہ ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اس پر پایا، ہم اس کو کیوں چھوڑیں؟ اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسے انجام سے بچائے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ اس کے بعد جو آتا ہے ثمود کا واقعہ۔ تو ثمود کا واقعہ کافی تفصیلی ہے، ان شاء اللہ اس کو پھر کل بات کریں گے۔