"اسلام کے زریں اصول: ایفائے عہد کی اہمیت، مقاصدِ جہاد اور حقیقی سکون"
درس نمبر 311، سورہ التوبۃ 4 تا 12 اشاعتِ اول: 11 ،12 اور 13 نومبر، 2022، بمطابق 15 ،16 اور 17 ربیع الثانی ، 1444 ہجری
- ہر حج عمرہ کے مقابلے میں حج اکبر ہے۔
- جنگ میں عہد نبھانا عام وعدوں کو لازمی بناتا ہے۔
- پناہ مانگنے والے کو اطمینان سے اللہ کا کلام سنائیں۔
- بظاہر دنیاوی فائدے سے دل کا چین لٹتا ہے۔
- اسلام قبول کرنے سے پچھلے سارے گناہ مٹ جاتے ہیں۔
- جنگ کا مقصد دشمن کو ظلم سے روکنا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَيْـًٔا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (4) فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (5) وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ (6)
کل کی تشریح میں ایک چیز رہ گئی تھی، وہ حج اکبر کے بارے میں۔ چونکہ اس میں آ گیا تھا حج اکبر کا، تو اس کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ
حاشیہ: واضح رہے کہ ”حج اکبر“ ہر حج کو اس لئے کہتے ہیں کہ عمرہ چھوٹا حج ہے، اور اس کے مقابلے میں حج بڑا حج ہے۔ اور یہ جو لوگوں میں مشہور ہے کہ اگر حج جمعہ کے دن آجائے تو وہ ”حج اکبر“ ہوتا ہے، اُس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ جمعہ کے دن حج ہو تو بیشک دو فضیلتیں جمع ہو جاتی ہیں، لیکن صرف اُسی کو ”حج اکبر“ قرار دینا درست نہیں ہے، بلکہ یہ لقب ہر حج کا ہے، چاہے وہ کسی بھی دن ہو۔
ایک غلط فہمی ہے تو اس کو دور کرنا ضروری ہے۔
ترجمہ: البتہ (مسلمانو!) جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا، پھر ان لوگوں نے تمہارے ساتھ عہد میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اور تمہارے خلاف کسی کی مدد بھی نہیں کی، تو اُن کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کی مدت کو پورا کرو۔ بیشک اللہ احتیاط کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ﴿4﴾
حاشیہ: یعنی معاہدے کی مدت پوری احتیاط کے ساتھ پوری کی جائے، اور اس میں کوئی شک باقی نہ رکھا جائے۔
اس سے عہد کو پورا کرنے کا لازم ہونا کتنا آتا ہے، اس کو سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ وہ عہد، جس میں کوئی معاملہ ہو۔ یا اپنے آپ کو کسی تکلیف کا امکان ہو، ایسی صورت میں اس عہد کو پورا کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہے جنگ میں جو ہے، مطلب یہ سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ تو اگر اس میں اتنا زیادہ خیال رکھا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ باقی جو ہم عہد کرتے ہیں وہ تو بہت ہی ضروری ہو جاتے ہیں۔
ترجمہ: چنانچہ جب حرمت والے مہینے گذر جائیں تو ان مشرکین کو (جنہوں نے تمہارے ساتھ بد عہدی کی تھی) جہاں بھی پاؤ، قتل کر ڈالو، اور انہیں پکڑو، انہیں گھیرو، اور انہیں پکڑنے کے لئے ہر گھات کی جگہ تاک لگا کر بیٹھو۔
حاشیہ: یہ تیسری قسم کے مشرکین کا ذکر ہے جنہوں نے بد عہدی کی تھی۔
ان کے ساتھ پھر ایسا معاملہ ہوگا۔ یعنی جو ان کے لیے پیریڈ ہے، یعنی امن کی، اس کے گزرنے کے بعد پھر مطلب ان کو مزید ڈھیل نہ دو۔
ترجمہ: ہاں اگر وہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں تو اُن کا راستہ چھوڑ دو۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿5﴾ اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے تو اُسے اُس وقت تک پناہ دو جب تک وہ اللہ کا کلام سن لے،
حاشیہ: مشرکین کی مذکورہ بالا چاروں قسموں کو اس آیت نے اپنی اپنی مہلت کے علاوہ یہ مزید سہولت عطا فرمائی کہ اگر ان میں سے کوئی مزید مہلت مانگے، اور وہ اسلام کی دعوت پر غور کرنا چاہتا ہو تو اُسے پناہ دی جائے، اور اللہ کا کلام سنایا جائے، یعنی اسلام کی حقانیت کے دلائل سمجھائے جائیں۔
ترجمہ: پھر اُسے اُس کی امن کی جگہ پہنچادو۔
حاشیہ: یعنی صرف اللہ کا کلام سنانے پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اُسے ایسی امن کی جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ اطمینان کے ساتھ کسی دباؤ کے بغیر اسلام کی حقانیت پر غور کر سکے۔
ترجمہ: یہ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں علم نہیں ہے ﴿6﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو اسلام کے ان زریں اصولوں پر اچھی طرح عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (7) كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ (8)
ترجمہ: ان مشرکین سے اللہ اور اُس کے رسول کے ساتھ کوئی معاہدہ کیسے باقی رہ سکتا ہے؟ البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجدِ حرام کے قریب معاہدہ کیا ہے، جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں، تم بھی اُن کے ساتھ سیدھے رہو۔
حاشیہ: آیت نمبر 7 سے لے کر آیت نمبر 16 تک اتنی بات تو واضح ہے کہ اس میں کفارِ قریش کا ذکر ہے، اور اُن کی بد عہدی کا ذکر کیا گیا ہے، اور مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اُن کے قول و قرار پر بھروسہ نہ کریں، اور اگر وہ بد عہدی کریں تو اُن کے ساتھ جنگ کی جائے۔ لیکن اس معاملے میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں کہ یہ آیات کب نازل ہوئی تھیں۔ مفسرین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ آیتیں فتح مکہ سے پہلے اُس وقت نازل ہوئی تھیں جب کفارِ قریش کے ساتھ مسلمانوں نے حدیبیہ میں جو معاہدہ کیا تھا، وہ باقی تھا۔ اور ان آیتوں میں یہ پیشینگوئی کی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنے معاہدے پر قائم نہیں رہیں گے، لہٰذا اگر وہ عہد شکنی کریں تو اُن کے ساتھ جنگ کرو، اور اگر وہ دوبارہ عہد کریں تو اب اُن کی باتوں کا اعتبار نہ کیا جائے، کیونکہ وہ زبان سے کچھ کہتے ہیں، اور اُن کے دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔ اور جب تم اُن سے جنگ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کر کے اُنہیں رُسوا کرے گا، اور اُن مسلمانوں کے دل ٹھنڈے ہوں گے جو اُن کے مظالم کا شکار رہے ہیں۔ اس تفسیر کے مطابق یہ آیتیں براءت کے اُس اعلان سے پہلے کی ہیں جو آیت نمبر 1 سے آیت نمبر 6 تک بیان کیا گیا ہے، اور جو فتح مکہ کے ایک سال دو ماہ کے بعد سن 9ھ کے حج کے موقع پر کیا گیا تھا۔ مفسرین کی دوسری جماعت کا کہنا یہ ہے کہ یہ آیتیں براءت کے اعلان سے پہلے کی نہیں ہیں، بلکہ آیت نمبر 1 سے براءت کے اعلان کا جو مضمون چلا آرہا ہے، یہ اُسی کا حصہ ہیں، اور ان میں براءت کے اعلان کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ پہلے ہی معاہدہ توڑ چکے ہیں، اور اب ان سے کوئی امید نہیں ہے کہ اگر اُن سے کوئی نیا معاہدہ کریں تو اُس کی پابندی کریں گے، کیونکہ ان کو مسلمانوں سے جو دشمنی ہے، اُس کی وجہ سے یہ نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہیں، نہ کسی معاہدے کا۔ چونکہ فتح مکہ کے موقع پر اور اُس کے بعد قریش کے بہت سے لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، اور ان کی کفارِ قریش کے ساتھ رشتہ داریاں تھیں، اس لئے اُن کے دل میں قریش کے بارے میں کوئی نرم گوشہ ہو سکتا تھا۔ ان آیات نے انہیں متنبہ کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کی باتوں سے دھوکا نہ کھائیں، اور دل میں یہ عزم رکھیں کہ اگر ان سے لڑنا پڑا تو وہ پوری قوت سے اُن کا مقابلہ کریں گے۔ راقم کو یہ تفسیر متعدد دلائل کی وجہ سے زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے۔ اول تو اس لئے کہ آیت نمبر 7 سے 16 تک کا نظمِ قرآن ایک ہی سلسلۂ کلام نظر آتا ہے، اور آیت نمبر 7 کے بارے میں یہ تصور نظم کے اعتبار سے مشکل لگتا ہے کہ وہ پہلی چھ آیتوں سے نزول میں بہت مقدم ہو۔ دوسرے حضرت علیؓ نے اعلان کے وقت قرآن کریم کی جو آیات لوگوں کو سنائیں، اُن کی تعداد روایات میں کم سے کم دس اور زیادہ سے زیادہ چالیس آئی ہے۔ (دیکھئے الدر المنثور ج: 4 ص: 112 و نظم الدرر للبقاعی ج: 8 ص: 366) اور نسائی (کتاب الحج، باب الخطبۃ یوم الترویۃ حدیث نمبر 2994) کی ایک روایت میں جو یہ آیا ہے کہ ”انہوں نے اُسے ختم تک پڑھا، اُس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی آیات دے کر انہیں بھیجا گیا تھا، ان کے ختم تک پڑھا“۔ تیسرے حافظ ابن جریر طبری، علامہ سیوطی، علامہ بقاعی، قاضی ابو السعود اور بڑے جلیل القدر محدثین اور مفسرین نے ان آیات کو براءت ہی کا ایک حصہ اور اُس کی توجیہ و تعلیل قرار دیا ہے۔
جبکہ یہاں پر جو فرمایا گیا ہے کہ،
ترجمہ: البتہ جن لوگوں سے تم نے مسجدِ حرام کے قریب معاہدہ کیا ہے، جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں، تم بھی اُن کے ساتھ سیدھے رہو۔
تو یہاں پر جو بات چلی ہے، وہ یہ ہے کہ
حاشیہ: اس سے مراد مشرکین کی وہ چوتھی قسم ہے جس کا ذکر اُوپر حاشیہ نمبر 1 (د) میں آیا ہے۔ ان کو ان کے معاہدے کی مدت پوری ہونے تک مہلت دی گئی تھی، اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مدت میں اُس وقت نو مہینے باقی تھے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اس مدت کے دوران اگر وہ سیدھے چلتے رہیں تو تم بھی اُن کے ساتھ سیدھے چلو۔ اور اگر وہ بھی عہد شکنی کریں تو پھر اس مدت کے انتظار کی بھی ضرورت نہیں ہے (تفسیر ابن جریر ج: 10 ص: 84)۔
ترجمہ: بیشک اللہ متقی لوگوں کو پسند کرتا ہے ﴿7﴾ (لیکن دوسرے مشرکین کے ساتھ) کیسے معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے جبکہ اُن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی تم پر غالب آجائیں تو تمہارے معاملے میں نہ کسی رشتہ داری کا خیال کریں، اور نہ کسی معاہدے کا؟ یہ تمہیں اپنی زبانی باتوں سے راضی کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ اُن کے دل انکار کرتے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں ﴿8﴾ 4 اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (9) لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً ؕ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ (10) فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (11) وَ اِنْ نَّكَثُـوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُـوْۤا اَىٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ (12)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے (دنیا کی) تھوڑی سی قیمت لے لینا پسند کر لیا ہے ،
حاشیہ: یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل کرنے کے بجائے دنیا کے حقیر فوائد حاصل کرنے کو ترجیح دی ہے۔
یہ جو priority کا جو ہے، مسئلہ، یہ تقریباً ہر وقت ہوتا ہے، اس وقت بھی یہی ہے۔ مثلاً اگر کسی کو شریعت پر عمل کرنے میں دنیا کا فائدہ ہوتا ہو تو اس کے بڑے گن گاتا ہے اور شریعت پر عمل کرنے کی بات کرتا ہے۔ لیکن جہاں شریعت پر عمل کرنے میں انسان کو دنیا کا کوئی نقصان بظاہر نظر آتا ہو، حالانکہ وہ نقصان نہیں ہوتا جیسے سود ہے۔ اب سود کھانا جو ہے، یہ اس میں دنیا کا بھی نقصان ہے۔ لیکن اس کے لیے بہت عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے، اس کا رزلٹ بعد میں آتا ہے لہٰذا اس وقت فوری طور پر اس کا پتا نہیں چلتا۔ نتیجتاً اس کے لیے عاجلہ یہ ہوتا ہے کہ جو پیسے مل رہے ہیں وہ اس کو لے لیتے ہیں۔ اس طرح رشوت ہے، اس طرح مطلب چور بازاری ہے، دھوکا دہی ہے، مطلب یہ ساری باتیں جو ہیں وہ فوری طور پر فائدہ بظاہر اس میں دنیا کا نظر آتا ہے، حالانکہ اس میں حقیقتاً دنیا کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ سب سے بڑا نقصان جو دنیا کا ہے وہ انسان کے دل کے چین کا ختم ہو جانا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان سارا کچھ آرام کے لیے کرتا ہے نا، چین کے لیے کرتا ہے۔ اولاد کی بھی ضرورت اسی کے لیے ہوتی ہے، مطلب اچھے پڑوس کی بھی ضرورت اسی کے لیے ہوتی ہے، پیسے کی بھی ضرورت اسی کے لیے ہوتی ہے۔ تو سب چیزوں کے لیے محنت، ساری جو چیزوں کی محنت ہے وہ اصل میں اس کے لیے محنت ہے۔ لیکن یہ چیز جب لٹ جائے اور یہ چیز جب تباہ ہو جائے تو پھر کس چیز کے لیے کام کر رہے ہیں؟ وہ ساری دولت کو کیا کرے گا؟ بینک بھرے ہوں لیکن آپ پریشان ہوں تو آپ کو کیا فائدہ؟ اس صورت میں اگر کسی کے پاس کچھ بھی نہ ہو لیکن وہ خوش ہو۔ تو اس کو تو فائدہ ہے لیکن بہرحال یہ بات سمجھانا چونکہ بڑا مشکل ہے، لہٰذا یہ جو priorities والی بات ہے نا وہ چلتی ہے۔
ترجمہ: انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے (دنیا کی) تھوڑی سی قیمت لے لینا پسند کر لیا ہے،
یہ تو کفار کے لیے ہے لیکن چونکہ حکمِ عام ہے لہٰذا ہمارے لیے بھی ہے۔
ترجمہ: اور اس کے نتیجے میں لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے کرتوت بہت برے ہیں ﴿9﴾ یہ کسی بھی مومن کے معاملے میں کسی رشتہ داری یا معاہدے کا پاس نہیں کرتے، اور یہی ہیں جو حدیں توڑنے والے ہیں ﴿10﴾ لہٰذا اگر یہ توبہ کرلیں، اور نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، تو یہ تمہارے دینی بھائی بن جائیں گے ۔
حاشیہ: یہاں یہ واضح کر دیا گیا کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے توبہ کر لے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ اُس سے بھائیوں کا سا سلوک کریں، اور جو تکلیفیں اُس نے اسلام لانے سے پہلے پہنچائی ہیں، اُن کو بھلا دیں، کیونکہ اسلام اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں اور زیادتیوں کو مٹا دیتا ہے۔
اب دیکھیں توبہ بھی انسان کے سارے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ تو ایمان تو ظاہر ہے اس سے بھی آگے کی چیز ہے۔ یعنی انسان اپنے کفر سے توبہ کر لیتا ہے۔ مطلب جس کو کہتے ہیں نا، یعنی انسان عام توبہ جو کرتا ہے وہ اعمالِ بد سے توبہ ہے۔ اور جو ایمان لانا ہے وہ کفر سے توبہ ہے۔ کفر اور برے اعمال کے درمیان میں جو ratio ہے، وہ سارا وہ اسی کے اندر میں بھی ہے۔ تو جب اسلام کوئی لے آتا ہے تو اس میں ساری چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔
ترجمہ: اور ہم احکام کی یہ تفصیل ان لوگوں کے لئے بیان کر رہے ہیں جو جاننا چاہیں ﴿11﴾ اور اگر ان لوگوں نے اپنا عہد دے دینے کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالی ہوں، اور تمہارے دین کو طعنے دیئے ہوں، تو ایسے کفر کے سربراہوں سے اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں،
حاشیہ: پچھلی آیت کی روشنی میں قسمیں توڑنے سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہو جائیں، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بعض قبائل مرتد ہوئے، اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اُن سے جہاد کیا، اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ تھا، اور وہ پہلے ہی عہد توڑ چکے، یا جن سے معاہدہ نو مہینے تک باقی ہے، وہ اس دوران معاہدہ توڑیں، اُن سے جہاد کرو۔ اور یہ جو فرمایا گیا ہے کہ: ”اس نیت سے جنگ کرو کہ وہ باز آجائیں“ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری طرف سے جنگ کا مقصد ملک گیری کے بجائے یہ ہونا چاہئے کہ تمہارا دشمن اپنے کفر اور ظلم سے باز آجائے۔
یہ بات وہ بہت ضروری ہے سمجھنا۔ کیونکہ مطلب بعض لوگ صرف جگہ بڑھانے کی اور فتح کرنے کے لیے لڑائی کرتے ہیں، نہیں ایسی بات نہیں ہے۔
ترجمہ: کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی قسموں کی کوئی حقیقت نہیں ﴿12﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔