حقیقتِ شہود، کشف و اجتہاد کا فرق اور ممکن و واجب کے مراتبِ وجود (حصہ دوم)
مکتوب نمبر 272، اشاعت اول: 4 اپریل، 2018، بمطابق: 18 رجب، 1439 ھ
وجودِ ممکنات، انوارِ واجب تعالیٰ اور آفتاب و ستاروں کی تمثیل
کائنات کی تخلیق میں سائنسی دریافتیں اور عظمتِ الٰہی کا ادراک
معرفتِ الٰہی کی راہ میں "انا" (نفس) کی رکاوٹ اور تصوف کا کردار
اکابرین و علماء کا اپنے مشائخ کے سامنے کمالِ عجز اور فنائیت
اربابِ علم اور اربابِ دید (بصارت و بصیرت) کا فرق
خواص اور عوام کے ظاہری اشتراک میں باطنی نیت اور نفسانی حجابات کی حقیقت
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ۔
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالی حضرت کے درجات بہت بلند فرمائے، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔
اور ایک متوسط جماعت جو عوام سے ایک قدم آگے رکھتی ہے اور اخصِ خواص کے کمالات تک نہیں پہنچی، درمیان میں ہے، اخصِ خواص کے کمالات تک نہیں پہنچی اس کے لئے مشکل ہے کہ وہ ممکنات کے وجود کی جائے اور ممکن کے وجود پر حقیقت کے طریق سے وجود کا اطلاق کرے۔ اسی وجہ سے (متوسطین) کہتے ہیں کہ ممکن کو موجود اس تعلق کی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کی نسبت وجود کے ساتھ ہے، جیسے کہتے ہیں مَاءٌ مُّشَمَّسٌ (آفتاب کی حرارت سے گرم شدہ پانی) اس لئے نہیں کہ اس کا وجود اس (آفتاب) کے ساتھ قائم ہے تاکہ حقیقت کے طریقے پر موجود ہو۔ اس جماعت کے بعض لوگ وجودِ ممکن کے بارے میں خاموش ہیں اور نفی و اثبات کے ساتھ اس کی تصریح نہیں کرتے، اور بعض دوسرے ممکن سے وجود کی نفی کرتے ہیں اور واجب تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کو موجود نہیں جانتے۔ ان میں سے ایک گروہ ممکن کے وجود کو جس طرح واجب تعالیٰ کے وجود کا عین نہیں جانتا اسی طرح واجب تعالیٰ کے وجود کا غیر بھی نہیں جانتا،
یعنی وہ نہ اس کو عین کہتے ہیں نہ اس کو غیر کہتے ہیں۔ یعنی اس پر فیصلہ نہیں کرتے
اور ان میں سے ایک گروہ نے اس کی تصریح کی ہے کہ جس وجود کے ساتھ واجب تعالیٰ کا وجود موجود ہے اور ممکن بھی اسی وجود کے ساتھ موجود ہے اور یہ عبارت بھی وجودِ ممکن کی نفی کرتی ہے، مختصر یہ کہ ممکن کا وجود ثابت کرنے کے لئے تیز بینی کی ضرورت ہے تاکہ وجودِ واجب تعالیٰ کے انوار کی روشنی میں اس کو دیکھا جا سکے۔ تیز نظر والے دن میں بھی آفتاب کی تیز روشنی کے با وجود ستاروں کو دیکھ لیتے ہیں اور جو تیز بیں نہیں ہیں وہ نہیں دیکھ سکتے، لہذا ممکنات کا وجود دن میں ستاروں کے وجود کے مانند ہے کہ جو تیز بین ہیں وہ دیکھ سکتے ہیں اور ضعیف البصر اس دید سے محروم ہیں۔
اب ذرا بات زبردست آ گئی -ماشاءاللہ- مطلب یہ ہے کہ جو کائنات ہے، کائنات کا جو وجود ہے، وہ تو ہے تو ہے۔ اس طرح وجود ہے کہ اللہ پاک نے فرمایا "مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا" لہذا آپ کو ماننا پڑے گا۔ لیکن کس فارمیٹ میں؟ آیا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کے وجود کا عین ہے یا اس کا غیر ہے، اسی کے اوپر وہ لوگ اپنے اپنے طور پہ بات کرتے ہیں۔ تو حضرت فرماتے ہیں کہ جیسے آفتاب کی موجودگی میں ستارے نظر نہیں آتے۔ آفتاب کی موجودگی میں، سورج کی موجودگی میں ستارے نظر نہیں آتے۔ لہذا اللہ جل شانہ کے وجود کے مقابلے میں ان کا وجود محسوس نہیں ہوتا۔
لہذا ان لوگوں نے جو انکار کر لیا اس کا، ان کے وجود کا، وہ اسی وجہ سے ہوا ہے۔ کہ نظر نہیں آتا ان کو۔ ٹھیک ہے نا، ان کو نظر نہیں آتا۔ لیکن ان کو علم ہوتا ہے کہ ہیں۔ ہمیں نظر نہیں آتا۔ علم ہوتا ہے کہ وہ ہیں لیکن نظر نہیں آتا۔ لیکن جیسے کہ تیز بین لوگ ہوتے ہیں، تیز نظر والے۔ Six by six سے بھی ذرا آگے کے لوگ۔ تو وہ کہتے ہیں دن میں بھی تارے دیکھ لیتے ہیں کچھ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ان کا ادراک اتنا قوی ہوتا ہے کہ وہ اس کو پا لیتے ہیں۔ لہذا اس کے وجود کے قائل ہوتے ہیں اللہ تعالی جو واجب الوجود کے وجود کے ادراک میں۔ وہ قائل، کہ مطلب وہ اس کی، تو وہ اس کی تیز بینی کی وجہ سے ہے۔ اور ضعیف البصر اس دید سے محروم ہیں، یعنی جو نظر کی کمی کے ہیں وہ تو نہیں کر سکتے۔
اگر کوئی پوچھے کہ عوام ضعف بصر اور کوری بصیرت کے باوجود ممکنات کے وجود کو کیسے دیکھ سکتے ہیں حالانکہ وجود واجب تعالی کے انوار کی روشنی اس کی دید کے لیے مانع ہے۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ عوام ارباب علم سے تعلق رکھتے ہیں نہ کہ ارباب دید سے۔
جانتے تو ہیں کہ ہیں۔ لیکن ان کو نظر تو نہیں آتا۔ جانتے تو ہیں، اس وقت ہمیں پتہ ہے دن کی روشنی میں ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ستارے ہیں۔ لیکن کیا ہمیں نظر آتا ہے؟ بلکہ ہم تو جو چاند کو دیکھتے تھے رؤیت ہلال کمیٹی میں تو ہمیں تو پتہ ہوتا تھا کہ چاند ادھر ہی ہو گا لیکن نظر نہیں آتا تھا۔ اور جس کو پتہ نہیں ہوتا تھا اس کو نظر آ جاتا تھا۔ کیونکہ نظر تیز ہوتی تھی۔ اب اگر کوئی سائنٹسٹ ہے اور کمپیوٹر کیلکولیشن کے ذریعے سے باقاعدہ exact location جانتا ہے کہ چاند ادھر ہے۔ لیکن اس کی نظر کمزور ہے۔ تو اس کو تو نظر نہیں آئے گا، دوسروں کو بتا دے گا کہ بھائی اس طرف دیکھو۔ چاند نظر آئے۔
آپ کو حیرانی ہو گی یہ جو پلوٹو سیارہ دریافت ہوا ہے، پلوٹو سیارہ یہ بڑے عجیب طریقے سے دریافت ہوا ہے۔ کیونکہ یورینس تک تو لوگوں کے دیکھنے کی کوشش سے دریافت ہوئے ہیں یورینس تک۔ البتہ نیپچون جو تھا وہ اس طریقے سے دریافت ہوا ہے کہ باقاعدہ calculation model جو بنائے گئے تھے اس کے مطابق جو سولر سسٹم تھا وہ بیلنس نہیں تھا۔ یہ بیلنس نہیں ہے مطلب some planet اور ہو گا جو اس کو بیلنس کر رہا ہو گا۔ وہ سائنسدانوں نے مطلب یہ کہا تھا کہ کوئی اور planet ضرور ہونا چاہیے ورنہ یہ سولر سسٹم بیلنس نہیں ہے۔ اس کو باقاعدہ مشاہدہ کر کر کے کر کر کے وہ بالآخر دریافت کر لیا نیپچون کو۔
لیکن جو پلوٹو دریافت ہوا ہے یہ بالکل عجیب طریقے سے ہوا ہے۔ کیونکہ اس وقت ایک تو پلوٹو بہت دور ہے۔ یعنی زمین سے بہت زیادہ دور ہے۔ سورج سے بھی دور ہے۔ سورج سے دور ہونے کی وجہ سے لائٹ کم ہے۔ اور زمین سے دور ہونے کی وجہ سے ظاہر ہے مطلب اور ہے بھی چھوٹے سائز کا نسبتاً۔ تو اس کا عام تاروں کے اندر نظر آنا یہ ناممکنات میں سے تھا پہلے دور میں۔ لیکن اس کے وقت تک مشین دریافت ہوئی تھی ستاروں کو گننے کی۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ باقاعدہ picture لی جاتی ہے۔ اس picture میں باقاعدہ سٹارز کو گنتے ہیں کہ کتنے ہیں یا پلینٹس جو بھی ہیں وہ گنتے ہیں۔ تو گننے کے وقت اس میں فرق پڑ سکتا ہے کہ پہلے یہ تھا اب نہیں ہے یا نہیں تھا اب ہے۔ اس سے فرق پتہ چل سکتا ہے۔ یا جو پوزیشن چینج ہوتی ہے اس سے بھی پتہ چلتا ہے۔
لہٰذا کیلکولیشن میں تو یہ تھا کہ ایک اور سیارہ ہے لیکن کیسے ہے پتہ نہیں چل رہا تھا۔ تو باقاعدہ ایک سٹوڈنٹ نے غالباً calculate کر لیا تھا جرمنی کا سٹوڈنٹ تھا کوئی۔ اس نے calculate کیا کہ اگر دوربین کو فلاں constellation کی طرف اس کا رخ کیا جائے، تو اس میں اس قدر کا کوئی وہ نظر آئے گا۔ تو انہوں نے London Observatory کو بھی لکھا تھا لیکن انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ سٹوڈنٹ کی بات تھی ظاہر ہے انہوں نے پرواہ نہیں کی۔ تو ایک اور جگہ میرے خیال میں اس کا مجھے ایگزیکٹ یاد نہیں ہے کہ کس نے، اس نے باقاعدہ دوربین کو اس طرف کر دیا۔ کر دیا تو اس کو نظر آ گیا۔
اب یہ سائنس کے دور کا بھی کمال ہے کہ کیلکولیشن کی بنیاد پر ایک سیارہ کو اتنے سارے ستاروں کی جھرمٹ میں دریافت کرنا یہ سائنس کا بھی کمال ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ لیں۔ کیا یہ بات حجت قائم نہیں کر رہی ہے کہ اللہ کا سسٹم اتنا پرفیکٹ ہے۔ کہ اس کا کوئی بھی حصہ حساب سے باہر نہیں ہے۔ آپ نے تو صرف حساب کر لیا اللہ نے تو بنایا ہوا ہے۔ تم اس کو تو دیکھ رہے ہو کہ میں نے دیکھنے میں کتنا exactness follow کی ہے۔ اس کو نہیں دیکھ رہے کہ اللہ پاک نے کتنا ایگزیکٹ بنایا ہے۔ یہی ان گدھوں کو نہیں سمجھ آتا۔ یہ سائنسدان جو گدھے ہیں ان کو یہ سمجھ نہیں آتا۔ ان کو صرف یہ نظر آتا ہے کہ ہم نے اتنا کام کر دیا اور ہم نے ایک چیز کو دریافت کر لیا۔ بھئی دریافت کرنا اور ہے بنانا اور ہے۔ جتنے پریسائز کیلکولیشن سے دریافت ہوا ہے وہ کتنا پریسائزلی بنایا گیا ہے۔
آپ جائیں طول و عرض میں، کائنات کو دیکھیں۔ تو آپ حیرت در حیرت در حیرت در حیرت میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اور باریکی میں چلے جائیں۔ کہ پہلے ایٹم سمجھا جاتا تھا کہ unbreakable ہے۔ پھر اس کے بعد ایٹمز میں نیوٹرانز اور پروٹانز اور وہ الیکٹرانز۔ پھر اس سے پروٹانز اور نیوٹرانز کے پھر مطلب حصے quarks اور پتہ نہیں کہاں کہاں تک بات پہنچ گئی۔ اور ابھی تک سلسلہ جا رہا ہے۔ تو باریکی میں جاتے ہیں تو اس حد تک۔ اور وسعت میں جاتے ہیں تو اس حد تک۔ تو یہ تو اللہ جل شانہ کی قدرت ہے نا۔ فَتَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ۔ کہ اللہ تعالی احسن الخالقین ہے۔
تو یہ جو چیز ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی قدرت نے دکھا دیا سائنس کو اتنی ترقی دی کہ اس چیز کو خود دریافت کر لے۔ یہ قرآن میں لفظ نہیں اتارا گیا۔ سائنس نے خود دریافت کیا وہی چیز ہے جو قرآن بتا رہا ہے۔ فَتَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ۔ اللہ پاک نے تو یہ بتا دیا۔ اب سائنس دان خود اگر دریافت کر کے پھر بھی نہیں مانتا۔ تو ان کو گدھا کہنا چاہیے نہیں کہنا چاہیے؟ پھر ان کو گدھا کہلانے میں کون سی چیز مانع ہے؟ تو اصل میں یہی والی بات ہے جن کے دلوں پہ مہر لگی ہوتی ہے ان کو ہدایت نہیں ملتی۔ خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوْبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔
اب یہ جو ابھی سائنس دان فوت ہوا ہے۔ Hawking۔ اس کو اللہ پاک نے اس حد تک پہنچا دیا کہ سائنس وہاں تک پہنچ جائے اور مان جائے کہ دیکھو اللہ پاک نے کتنی باریکی سے چیزیں بنائی ہیں۔ کہ muscles move کرنے سے وہ لفظ جنریٹ کر رہا ہے۔ تو muscle کے اندر وہ چیز اللہ نے رکھی تھی نا تبھی کیا ہے نا۔ آپ نے تو صرف دریافت کر لیا ہے۔ ابھی ڈاکٹرز لوگ آپریشن کرتے ہیں ہارٹ کا۔ اوپن ہارٹ سرجری کرتے ہیں۔ تو نکال لیتے ہیں ادھر سے وہ کیا ہوتے ہیں رگ۔ تو اللہ نے رکھا ہے نا سٹور کیا ہوا ہے نا ادھر۔ اس کا کوئی اور کام تو نہیں ہے۔ اسی کے لیے تو رکھا ہے۔ آپ نے تو دریافت کر لیا ہے۔ رکھا کس نے ہے۔ ان چیزوں کو سمجھنا چاہیے نا۔
یہی فرق ہوتا ہے مسلمان سائنس دان میں اور غیر مسلم سائنس دان میں۔ مسلمان سائنس دان چونکہ ایمان کے نور سے منور ہوتا ہے۔ تو اس کا سائنس سے ایمان اور بڑھتا ہے۔ اس کا سائنس سے ایمان اور بڑھتا ہے۔ اور جو مسلمان نہیں ہیں ان کا الحاد اور بڑھتا ہے۔ ان کا الحاد اور بڑھتا ہے۔ وہ اپنے آپ پر زیادہ ڈیپنڈ کرنے لگتا ہے۔ دیکھو میں اتنا بڑا ہو گیا میں یہ کر چکا ہوں میں یہ کر چکا ہوں میں یہ کر چکا ہوں میں یہ کر چکا ہوں۔ اپنی "میں" کی طرف۔
یہ اپنی میں سے نکلنا بہت مشکل کام ہے۔ حتی کہ مسلمان ہونے کے لیے بھی بڑا مشکل کام ہے۔ دیکھو ایمان تو مسلمان میں ہے الحمدللہ۔ مسلمان میں ہے۔ اس میں تو سارے مسلمان مشترک ہیں۔ لیکن آگے معرفت، یہ ہر مسلمان کا ایک جیسا نہیں ہے۔ ایمان تو ہے لیکن معرفت تو ہر مسلمان کی ایک جیسی نہیں ہے۔ وہ تو معرفت آپ کو حاصل ہو گی اپنے نفس کو کنٹرول کرنے کے بعد۔ کیونکہ آپ کا نفس ہر چیز کے درمیان حائل ہے۔ آپ کی آنکھ کے درمیان حائل ہے آپ کے کان کے درمیان حائل ہے آپ کی زبان کے درمیان حائل ہے آپ کے دماغ کے درمیان حائل ہے۔ ہر جگہ پر نفس حائل ہے۔ اس نفس کو کنٹرول کرو گے تو تمہیں پھر صحیح چیز نظر آئے گی۔ جتنے پردے آپ ہٹائیں گے اپنی آنکھوں سے آپ کو صحیح چیز نظر آئے گی۔
تو وہ جو نفس کے پردے ہیں وہ جو آنکھوں کے اوپر پڑے ہیں جو کانوں کے اوپر پڑے ہوئے ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں: وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا وَلَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا۔ مطلب ظاہر ہے کہ وہ ان کی آنکھوں کا تو اللہ پاک فرماتے ہیں۔ لیکن اس سے دیکھتے نہیں۔ ان کے کان ہیں لیکن سنتے نہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔ یہ تو اللہ پاک فرما رہا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حجابات ہیں۔ تو ان حجابات کو دور کرنا ہوتا ہے۔ تو یہ حجابات جو نفس کے جب انسان ان کو دور کرتا ہے پھر ان کو حقیقت نظر آتی ہے یہ معرفت ہے۔
اشیاء کی معرفت۔ اللہ کی معرفت اس سے پہلے آتی ہے۔ اشیاء کی معرفت اللہ کی کیونکہ اللہ تعالی کی ذات وراء الوراء ہے۔ تو اشیاء کی معرفت وَمَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ اس کے بعد آتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہے یہ معرفت ہر مومن اپنی اپنی معرفت کے مطابق پھر چیز کو دیکھتا ہے۔
تو اس معرفت کو حاصل کرنے میں سب سے حائل "میں" ہوتا ہے "میں"، "انا" یہ درمیان میں حائل ہوتا ہے۔ اس "انا" کو دور کرنے کے لیے تصوف کے علاوہ اور کوئی علاج نہیں ہے۔ کیونکہ جس چیز سے بھی سوچیں گے اس میں آپ کی انا بڑھے گی۔ تصوف ایک ایسی چیز ہے جو سب سے پہلا وار "انا" پہ کرتا ہے۔ اسی کو سٹاپ کرتا ہے۔ اسی "انا" کو روکتا ہے۔
اب کیسے "انا" کو روکتا ہے؟ جب آپ نے کسی شیخ سے بیعت کر لی۔ اب آپ نے تمام اپنی چیزیں سٹاپ کر کے ان کی آنکھوں سے آپ دیکھتے ہیں، ان کے کانوں سے آپ سنتے ہیں، ان کی زبان سے آپ بولتے ہیں، ان کے ذہن سے آپ سوچتے ہیں۔ آپ کی "انا" ہی ختم ہو گئی نا۔ اب آپ کو جو بھی چیز مل رہی ہے آپ کو پتہ چل رہا ہے کہ میں نہیں ہوں یہ تو میرے شیخ کی برکت ہے۔ درمیان میں "انا" ختم ہو گئی نا؟ نکل گئی درمیان میں۔
بڑے بڑے لوگ جتنے بھی گئے ہیں ہمارے بزرگ، علما کے سرتاج تھے۔ یعنی اتنے بڑے عالم ہوتے تھے، لیکن اپنے شیخ کے سامنے بالکل ختم۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہزار کتابوں سے زیادہ لکھنے والے، ہزار کتابوں سے زیادہ لکھنے والے، ان سے کسی نے کہا کہ تو کیسے مکمل ہے؟ تو کیسے نورانی ہے؟ کس طرح آپ کو یہ اللہ تعالی نے مقام دیا ہے؟ تو حضرت نے شعر میں جواب دیا:
من مکمل از کمال حاجیم
من منور از جمال حاجیم
میں اپنے حاجی صاحب کے جمال سے منور ہوں، میں اپنے حاجی صاحب کے کمال سے مکمل ہوں۔ دیکھو خود اپنا نہیں بتایا۔
مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ان سے پوچھا، حالانکہ وہ قاسم العلوم والخیرات سمجھے جاتے ہیں، یعنی علوم کو تقسیم کرنے والے۔ اتنے بڑے عالم تھے۔ زبان میں لکنت تھی بولنے میں، ویسے نہیں ہوتی تھی، بیان میں لکنت آ جاتی تھی۔ لوگوں نے کہا حضرت آپ کے بیان میں لکنت آتی ہے ویسے نہیں ہوتی، کیا وجہ ہے؟ فرمایا میں کیا کروں؟ جب بولتا ہوں اللہ پاک ایک ایک لفظ کے چودہ چودہ پندرہ پندرہ مترادفات لے آتے ہیں۔ اب اس میں سے پھر مجھے چننا ہوتا ہے، تو لکنت تو آ جائے گی۔ اتنے بڑے عالم تھے۔ لیکن کیا کریں؟ کسی نے کہا حضرت آپ کیوں حاجی صاحب کے پاس چلے گئے، آپ تو خود بڑے عالم تھے؟ حضرت نے فرمایا، ہاں ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے ہم عالم تھے۔ کیا ہوا؟ ہمیں نام معلوم تھے، حضرت حاجی صاحب کو نام معلوم نہیں تھے۔ وہ حاجی صاحب چیزیں دے رہے تھے اور ہم لے رہے تھے، ہمیں پتہ چلتا کہ یہ تو فلاں چیز دے رہے ہیں، حاجی صاحب کو پتہ نہیں تھا لیکن حاجی صاحب کے پاس تو تھی۔
یہ لوگ اس کو مبالغہ سمجھتے ہیں نا، یہ مبالغہ نہیں ہے، کیسے؟ مجھے بتاؤ احادیث شریف کی کتابیں بھری پڑی ہیں صبر کے بارے میں احادیث شریف سے، شکر کے بارے میں احادیث شریف سے، اخلاص کے بارے میں احادیث شریف سے، بھری پڑی ہیں نا؟ کیا خیال ہے؟ ان احادیث شریف کے پڑھنے سے آپ کو اخلاص نصیب ہو جائے گا؟ صبر نصیب ہو جائے گا؟ شکر نصیب ہو جائے گا؟ صرف پڑھنے سے۔ اس کے لیے کچھ اور محنت ہے نا۔ اب حاجی صاحب نے وہ محنت کی تھی، ان کو صبر بھی حاصل تھا، ان کو شکر بھی حاصل تھا، ان کو اخلاص بھی حاصل تھا، ان کو توکل بھی حاصل تھا، اور ان کو معلومات تھیں۔ وہ یہی بات فرما رہے تھے، کہ ان کے پاس چیزیں تھیں، نام نہیں یاد تھے، اور ہمارے پاس چیزیں نہیں تھیں، نام یاد تھے۔ یہ اب بتاؤ "انا" نکل رہی ہے یا نہیں نکل رہی ہے؟ یہی وہ چیز ہے، اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ تصوف کے بغیر "انا" کا نکلنا بڑا مشکل کام ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی اگر نہیں نکلی تو تمہاری کیسے نکلے گی؟ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ سب کو جانا پڑا اس پر۔ خود اپنا واقعہ بتاتا ہے کہ مجھے پتہ تھا کہ یہ تصوف کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن کیا کرتا لوگ مجھے چھوڑ نہیں رہے تھے، کہ میں تصوف کی طرف جاؤں۔ کیونکہ ایسی حالت تھی ان کی کہ ان کے ذریعے سے کئی مدرسے چل رہے تھے، اور شیخ وقت تھے یعنی علم کے لحاظ سے۔ اور وقت کا بادشاہ ان کے لیے سواری بھیجتے تھے۔ ایسا مقام تھا ان کا۔ اب کون چھوڑتے ہیں؟
تو نتیجتاً انہوں نے توریہ اختیار کیا، توریہ کس طرح اختیار کیا؟ مثلاً اس طرف جانا چاہتے ہیں تو باتیں اس طرف کی پوچھنی شروع کیں، اس کے بعد پھر کیا ہے؟ پھر آگے کوئی گاؤں ہے، وہ کتنے فاصلے پر ہے؟ پوچھنا شروع کیا۔ اب لوگ سمجھیں گے شاید اس طرف جا رہے ہیں۔ اب ان لوگوں کو پتہ چل گیا، وہ خوش ہو گئے کہ حضرت تشریف لائیں گے، ہم مہمانی کریں گے یہ کریں گے وہ کریں گے۔ اور رات کی تاریکی میں اس طرف نکل گئے۔ اب لوگ اس طرف ڈھونڈنے لگے، کہ اس طرف گئے ہوں گے، وہاں ہوتے تو نظر آتے۔ پوری رات تو اس پہ گزر گئی، اگلی صبح انہوں نے کہا جی چلو اس طرف بھی دیکھتے ہیں، اس وقت پھر بہت دور نکل گئے تھے، کہاں ہاتھ آ سکتے تھے؟ غائب ہو گئے۔ چودہ سال غائب رہے، چودہ سال۔ آج کل تو تبلیغ میں کوئی لگتا ہے کہتا ہے چار مہینے لگا دیے، ایک سال لگا دیا، دو سال لگا دیے۔ چودہ سال۔ اور اتنا بڑا علامہ۔ کوئی معمولی بات ہے؟ کوئی چیز تھی نا، ان کو سمجھ تھی نا۔ تو ایسا ہوا جب واپس آئے تو پھر انہوں نے احیاء العلوم لکھی ہے۔ اور اللہ نے اوقات کے اندر اتنی برکت دی، کہتے ہیں کہ اس کی عمر کے تمام دن گھنٹے حساب کیے جائیں تو جتنا اس نے لکھا ہے اتنا وہ لکھا نہیں جا سکتا۔ یہ کیسے لکھا ہے؟
تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ جل شانہ کے غیب میں جو خزانے ہیں وہ پھر اللہ پاک کھولتے ہیں۔ لیکن ہر ایک پہ نہیں، جس میں اہلیت ہوتی ہے ان پہ کھولتے ہیں۔ اور اہلیت میں ہماری ساری جو چیز حائل ہے وہ "انا" حائل ہے، میں۔ جب تک مجھے اپنا آپ نظر آئے، چیزیں نہیں مل سکتیں۔ وہ چیزیں نہیں مل سکتیں۔ ٹھیک ہے اسباب کے دائرے میں جتنا ہے وہ مل جائیں گی۔ لیکن اسباب کے beyond نہیں۔ اور جس وقت آپ اللہ کے بن گئے، یعنی فانی ہو گئے، فنا فی اللہ حاصل کر لیا۔ فنا فی اللہ کے بعد جو اللہ کے ساتھ باقی ہو جاتا ہے، کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ جتنا جتنا آپ اللہ کے لیے اپنے آپ کو فنا کرتے ہیں اتنا اتنا اللہ تعالیٰ آپ کو own کرنے لگتا ہے۔ مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ۔ جو اللہ کا ہو گیا اللہ اس کا ہو گیا۔ لہذا وہ اللہ اس کو own کرنے لگتا ہے۔ نتیجتاً وہ شخص جو اللہ کے لیے فانی ہو چکا ہے وہ اللہ کے نزدیک باقی ہے۔ اب وہ جو باقی ہے اس باقی کے جو کمالات ہیں لوگوں پہ ظاہر ہوتے ہیں تو لوگوں کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ ان حضرات نے جو محنتیں کی ہیں وہ یہ کی ہیں۔ ہم صرف زبانی جمع خرچ کرتے ہیں۔ زبانی جمع خرچ میں علم حاصل ہو جاتا ہے۔ وہ چیز حاصل نہیں ہوتی۔ علم ضرور حاصل ہوتا ہے۔
بہت بڑے بزرگ تھے بوعلی سینا کے دور میں۔ اس نے کہا بوعلی سینا میں اخلاق نہیں ہے۔ وہ بہت بڑے عالم حکیم۔ آج تک اس کا بڑا نام ہے۔ ان کو کسی نے بات بتائی انہوں نے کہا اچھا۔ انہوں نے اخلاق پر پوری کتاب لکھی۔ کتاب لکھ کر ان کے پاس بھیجی کہ حضرت آپ ذرا اس کو دیکھ لیں کیسی کتاب ہے اس کے اوپر کچھ تبصرہ کر لیں، کتاب ان کو مل گئی کتاب الٹ کرتے کرتے پھرتے کرتے کرتے افوہ افسوس۔ میں سمجھتا تھا کہ بوعلی سینا میں اخلاق نہیں ہے اب تو میں کہتا ہوں کہ اس میں علم بھی نہیں ہے جاہل ہے۔ اب لیکن بھئی حضرت یہ کیا وہ تو بہت بڑے علامہ ہیں۔ انہوں نے کہا اس کو اتنی بات کا بھی پتہ نہیں کہ میں نے کہا کیا ہے۔ میں نے کہا اس میں اخلاق ہے نہیں۔ یہ نہیں کہا تھا کہ اخلاق جانتے نہیں۔ میں نے تو یہ کہا تھا اس میں اخلاق ہے نہیں۔ اب جیسے کوئی صبر کے اوپر کتاب لکھے اور صبر اس میں نہ ہو۔ تو جانتا تو ہے لیکن ہے نہیں۔
تو اب یہ جو بات میں عرض کرتا ہوں کہ اگر ہم لوگ زبانی جمع خرچ کریں گے پھر تو یہ ہو گا۔ اور یہ باتیں جو میں آپ کو بتا رہا ہوں۔ صحیح بات میں عرض کرتا ہوں کہ ان کا سمجھ میں بھی آنا بڑا مشکل کام ہے۔ کچھ لوگ تو پوری عمر گزار لیتے ہیں۔ اور ان باتوں تک نہیں پہنچتے۔ کیونکہ انہوں نے کسی کے ساتھ کبھی ایسی مجالس نہیں کی ہوتیں نہ ان کی باتیں سنی ہوتیں نہ انہوں نے کبھی اس قسم کے مجالس attend۔۔۔ جیسے میں ہمارے مشائخ کی تھیں۔ اب یہ جو چیز ہے ان بزرگوں نے جو اپنے احوال بتائے ہیں یا ان کے جو حالات ہیں اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنے جاہل ہیں۔
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ جن کو 'شیخ الہند" کہتے ہیں "شیخ الہند" ہندوستان میں سب سے بڑا عالم شیخ الہند۔ وہ فرماتے ہیں برسوں پڑھتے پڑھاتے جو چیز حاصل ہوئی وہ یہ کہ پہلے ہم جہل مرکب میں مبتلا تھے یعنی یہ نہیں جانتے تھے کہ ہم جاہل ہیں اب جانتے ہیں کہ ہم جاہل ہیں۔ اب جہل بسیط میں آ گئے۔ یہ والی بات ہے۔ تو ظاہر ہے یہ بات تو ہو گی۔
اگر کوئی پوچھے کہ عوام ضعفِ بصر اور کوریٔ بصیرت کے با وجود ممکنات کے وجود کو کس طرح دیکھ سکتے ہیں حالانکہ وجودِ واجب تعالیٰ کے انوار کی روشنی اس کی دید کے لئے مانع ہے۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ عوام اربابِ علم سے تعلق رکھتے ہیں نہ کہ اربابِ دید سے اور ہماری گفتگو اربابِ دید کی نسبت ہے نہ کہ اربابِ علم کی، کیونکہ اربابِ علم اس بحث سے خارج ہیں، لہٰذا وجودِ واجب تعالیٰ کے انوار کا ظہور اُن کے حق میں مفقود ہے، پس ممکنات کے وجود کی دید کے لئے مانع نہ ہو گی۔
چونکہ اصحاب دید ہیں ہی نہیں۔ لہذا وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے انوار بھی ان کو نظر نہیں آ رہے۔ تو جب نظر نہیں آ رہے ہیں تو ان کے لیے ممکنات کے وجود کے لیے کون سی چیز مانع ہو گئی؟ مطلب سورج ان کو نظر نہیں آ رہا تو مطلب کیا مسئلہ ہو گیا؟ جیسے سورج پردے میں ہو تو پھر تو باقی چیزیں نظر آئیں گی نا؟ تو ان کو اللہ تعالی کے وجود کے انوارات کا پتہ نہیں لہذا وہ ان کے لیے یہ مسئلہ نہیں، ان کے لیے ایک علمی گفتگو ہے۔
یا ہم کہتے ہیں کہ انوار کا ظہور وجودِ ممکنات کے شہود کا مانع ہے، نہ کہ وجودِ ممکنات کے علم کا مانع ہے، کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ چیزوں کا علم سننے اور پیروی سے بھی حاصل ہو جاتا ہے اور نظر و استدلال سے بھی متصور ہو سکتا ہے، چنانچہ آفتاب کی روشنی کے ظہور کے با وجود دن میں ستاروں کے وجود کا علم ضعیف نظر والوں کو بھی حاصل ہے، اسی طرح عوام کو ممکنات کے وجود کا علم ہے نہ کہ وجودِ ممکنات کا شہود، کیونکہ شہود بصیرت کی صفات سے ہے اور ان کی بصیرت اندھی ہے۔
بصارت اور بصیرت میں جو فرق ہے۔ بصارت اور چیز ہے بصیرت اور چیز ہے۔
مشہود خواہ مَلَک (فرشتہ) ہو یا ملکوت، جبروت ہو یا لاہوت۔ اے عزیز! جس طرح عوام اس بحث میں اخصِ خواص کے ساتھ شریک ہیں،
عوام بھی یہی کہتے ہیں جو اخص الخواص کہتے ہیں۔ اخص الخواص بھی کہتے ہیں کہ ممکنات کا وجود ہے۔ اور جو عوام ہیں وہ بھی کہتے ہیں۔ لیکن عوام علم کی وجہ سے کہتے ہیں وہ دید کی وجہ سے کہتے ہیں۔ دونوں میں فرق ہے۔ میں اگر اپنے کمپیوٹر کیلکولیشن کی بنیاد پر چاند کو اپنے کمپیوٹر پہ create کر لیتا ہوں اس کی شکل میں کرتا ہوں۔ اور مجھے وہ نظر آ رہا ہو۔ تو وہ اصل چاند تو مجھے نظر نہیں آ رہا۔ بلکہ مجھے تو اپنا علم نظر آ رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
ایک دفعہ کوئٹہ میں ہم چاند دیکھ رہے تھے۔ تو میں نے اپنے laptop پہ وہ پروگرام run کیا تھا تو تصویر اس پہ نظر آ رہی تھی۔ اس دن چاند کافی بلندی پہ نظر آتا تھا مطلب یعنی کافی بڑا تھا۔ تو اوپر بھی چاند نظر آ رہا تھا اور میرے کمپیوٹر پہ تصویر پہ بھی نظر آ رہا تھا۔ تو دو عالم تھے وہ اس طرح اس کو دیکھ رہے ہیں کبھی اوپر دیکھ رہے ہیں آسمان میں اور چاند کو دیکھ رہے ہیں، کبھی ہمارے کمپیوٹر laptop پہ چاند کو دیکھ رہے ہیں۔ کہتے ہیں، ہے تو بالکل اسی طرح۔ ہے تو بالکل اسی طرح، لیکن ساتھ ہی کہہ دیا، ہے دوسرے دن کا چاند، پہلے دن کا نہیں ہے۔ میں نے کہا جی آپ حضرات سے ایک گزارش ہے۔ آپ علماء ہیں؟ کہتے ہیں ہاں۔ میں نے کہا عوام اگر اس قسم کی بات کر لے تو ان کا جواب اور ہے، وہ بھی میرے پاس ہے، اس کا میں جواب دے سکتا ان کو، لیکن آپ چونکہ علماء ہیں لہذا میں آپ کو علمی جواب دیتا ہوں قرآنی اور سنت کے علم کے مطابق۔ کہتے ہیں کیا؟ میں نے کہا کیا آپ نے وہ حدیث شریف نہیں پڑھی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آخر وقت میں چاند بڑے ہو جائیں گے، اور لوگ کہیں گے کہ یہ تو دوسرے دن کا چاند ہے۔ تو اس کے مطابق کیا آپ یہ بات کر سکتے ہیں؟ حالانکہ چاند اسی وقت ہو گا جس وقت دیکھا جائے گا۔ میں نے کہا میرے پاس scientific جواب ہے، لیکن وہ آپ کے لیے نہیں ہے، وہ عوام کے لیے ہے۔ میں آپ کو صرف آپ کے حدیث شریف کے علم کے مطابق۔۔۔ کہتے ہیں آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ بس وہ چلے گئے۔
مقصد میرا یہ ہے کہ اپنے علم کی بنیاد پر تو ہم کر سکتے ہیں نا، علم اور چیز ہے اور مجھے تو اگر۔۔۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ ہم لاہور میں چاند دیکھ رہے تھے تو ہمارے جو وزارت مذہبی امور کے جو کیشیئر تھے، اس نے کہا میں نے چاند دیکھ لیا۔ میں نے کہا آؤ امتحان دے دو۔ تو کہتے ہیں کہ کیا مجھ پر بھی یقین نہیں ہے؟ میں نے کہا کیا پشاور والوں کے ساتھ ہماری لڑائی ہے؟ اصول سب کے لیے ایک ہے آپ بھی امتحان دے دیں، اگر آپ کامیاب ہو گئے تو ٹھیک ہے۔ تو آگے جب میں نے اس سے پوچھا تو جواب نہیں تھا صحیح۔ میں نے کہا بھئی آپ نے چاند نہیں دیکھا، کچھ اور چیز دیکھی ہے۔ چاند آپ نے نہیں دیکھا کم از کم میں کہہ سکتا ہوں۔ خیر، ناراض بھی ہو گئے۔
اتنے میں جو television کے کیمرے والے تھے نا وہ افق کے اوپر کیمرے لگائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک کیمرہ مین اچھلا، کہتے ہیں میں نے چاند دیکھ لیا ہے۔ میں نے کہا آ جاؤ۔ آپ بھی امتحان دے دیں۔ وہ آ گیا اس نے امتحان دیا اور پاس ہوگیا، میں نے کہا بھئی چاند تو دیکھ لیا ہے یہ صحیح کہہ رہے ہیں آپ، چاند ایسا ہی ہے۔ اس نے کہا پھر میں نے کیمرے میں محفوظ بھی کر لیا ہے، یعنی اس کو catch کر لیا ہے۔ میں نے کہا اچھا پھر سب کو دکھاؤ۔ تو وہ جو محفوظ شدہ چاند تھا وہ سب کو دکھایا۔ تو اس وقت میرے کمپیوٹر پہ بھی جو چاند نظر آ رہا تھا اسی کی طرح تھا۔ تو وہ ایک ممبر مجھے کہنے لگا مذاق کے طور پر، شبیر صاحب یہ کہیں آپ کے کمپیوٹر کے چاند تو اس نے نہیں چوری کیا؟
مطلب میرا یہ ہے کہ علمی طور پر تو بہت کچھ ہو سکتا ہے نا۔ میں مجھے نظر تو نہیں آیا تھا۔ نظر تو ان کو آیا تھا۔ لیکن مجھے کمپیوٹر کے علم کی وجہ سے تو پتا تھا کہ چاند ایسا ہے اور تھا۔ لیکن مجھے چونکہ بہت باریک تھا لہذا مجھے نظر نہیں آیا تھا۔ تو میں اس وقت چاند دیکھنے والوں کی طرح تھا، لیکن علم کی بنیاد پر، دیکھنے کی بنیاد پر نہیں۔ تو یہی فرق ہے عوام میں اور خواص میں، بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ جو observe کر رہے ہیں وہ اور ہیں، جو علم رکھتے ہیں کسی چیز کا وہ اور ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات بہت سے احکام میں عوام کی مانند زندگی بسر کرتے تھے اور معاشرتی زندگی میں مخلوق اور اہل و عیال کے ساتھ عوام کی مانند معاملہ فرماتے تھے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسنِ معاشرت سے متعلق حضرت خیر البشر علیہ و علیہم الصلوات و التسلیمات کی بہت سی احادیث مشہور ہیں۔ چنانچہ منقول ہے کہ ایک روز حضرت سید البشر علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام امامین (یعنی حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کی پیشانی کا بوسہ لے رہے تھے اور بہت خوشی و انبساط کے ساتھ ان سے گُھل مِل رہے تھے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے گیارہ لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا۔ حضرت پیغمبر علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا یہ (اللہ تعالیٰ کی) رحمت ہے جو وہ اپنے رحیم (مہربان) بندوں کو عطا فرماتا ہے۔ چونکہ اخصِ خواص بھی بعض اوصاف میں عوام کے ساتھ شریک ہیں اگرچہ وہ شرکت ظاہری صورت کے اعتبار سے ہو، اس لئے عوام اپنی نا رسائی اور قصور فہم کی وجہ سے ان (اخصِ خواص) کے کمالات سے بہت کم حصہ رکھتے ہیں اور ان کو اپنی مثل خیال کرتے ہیں، اور جو شخص ان کے اوصاف و شمائل میں ان سے مختلف ہو، اس کے گرد ہی گھومتے رہتے ہیں اور اس کو بزرگ خیال کرتے ہیں۔
میں آپ کو اس کی مثال بتاؤں۔ اللہ نہ کرے کسی کا بیٹا فوت ہو جائے۔ اور وہ عوام میں سے ہے۔ تو کیا کرے گا وہ؟ روئے گا۔ اور کوئی بہت بڑا بزرگ ہے ان کا بیٹا فوت ہو جائے، وہ بھی روتا ہے۔ درمیان میں متوسط ہے، یعنی ابھی ادھر پہنچا نہیں ہے، وہ نہیں روتا، ہنستا ہے۔ کہتا ہے بس اللہ کا مال تھا لے لیا۔ عوام کس کو بزرگ کہیں گے؟ وہ جو ہنستا ہے۔ حالانکہ وہ بزرگ نہیں ہے۔ بزرگ وہ ہے۔ کیوں، وہ روتے، ان کے رونے کی وجہ الگ ہے۔ ان کے رونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے اس بیٹے کا جو میرے اوپر حق رکھا تھا ان میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ میں اس سے اپنے تعلق کا اظہار کروں۔ اور اس سے اللہ پاک خوش ہوتے ہیں۔ اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں۔ اب وہ اللہ کے لیے رو رہا ہے، دوسرا اپنے نفس کے لیے رو رہا ہے، دونوں میں فرق ہے یا نہیں ہے؟
ایک ہی کام نفس کے لیے بھی ہو سکتا ہے، اللہ کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کھانا کھا رہے ہیں نفس کے لیے، آپ کھانا کھا رہے ہیں اللہ کے لیے، دونوں باتیں ممکن۔ آپ سو رہے ہیں نفس کے لیے، آپ سو رہے ہیں اللہ کے لیے۔ آپ کپڑے اچھے پہن رہے ہیں اللہ کے لیے، اور آپ اچھے کپڑے پہن رہے ہیں اپنے نفس کے لیے۔ یہ کام سارے مشترک ہیں، ایک جیسے ہیں، لیکن نیت میں فرق ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا، کسی اپنے ہم عمر نے پوچھا کہ حضرت آپ بھی وہی اعمال کرتے ہیں جو ہم کرتے ہیں، لیکن آپ آپ ہیں اور ہم ہم ہیں۔ یعنی آپ بھی نماز پڑھتے ہیں ہم بھی پڑھتے ہیں، آپ بھی قرآن کی تلاوت ہم بھی کرتے ہیں، آپ یہ بھی آپ سب۔ لیکن آپ آپ ہیں اور ہم ہم ہیں، ہم آپ جیسے نہیں ہیں۔ فرمایا، ہاں۔ آپ جو کچھ کرتے ہو وہ سب تمہارا نفس کھا جاتا ہے۔ وہ سب تمہارا نفس کھا جاتا ہے۔
اب اندازہ کرو۔ اب ذرا غور کریں، میں نماز پڑھوں اور اس پر میں اپنے آپ کو نمازی کہوں، اس پر فخر کروں، اور لوگوں کو اپنے سے کم سمجھوں، تو نماز کدھر چلی گئی؟ نفس کے لیے چلی گئی نا۔ حج کر لیا، اس پر میں نے اپنی دنیا کی تمام چیزوں کو ذرا سیٹ کرنا شروع کر لیا، حاجی، الحاج اور پتا نہیں کیا کیا کہلوایا۔ اور ادھر سے telephone کیا جی یہ یہ بندوبست کر لو، یہ سونا چاہیے، وہ ہونا چاہیے، تو گیا حج۔ نفس کے لیے چلا گیا نا۔ تو اب یہ جو بات ہے کہ یہ جو اعمال ہمارے ہیں، آیا وہ اللہ کے لیے ہیں یا نفس کے لیے ہیں؟ بس یہی مطلب فرق ہے۔
اگر ان چیزوں کے فرق کو کوئی محسوس کرتا ہے تو ان دونوں کے درمیان فرق کر لیتا ہے، ورنہ کفار نے یہی تو کہا تھا کہ یہ کیسے پیغمبر ہیں؟ یہ کھاتے بھی ہیں، بازاروں میں بھی جاتے ہیں، شادیاں بھی کرتے ہیں، یہ کیسے پیغمبر ہیں؟ یہی کہا تھا نا، قرآن میں ہے نا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام میں اور خواص میں فرق نیت کا ہوتا ہے۔ نیت کمال کی بات ہے، بظاہر جتنی آسان نظر آتی ہے، اتنا آسان نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے ہم حجاب کی وجہ سے دیکھ نہیں سکتے، تو اس حجاب کی وجہ سے صحیح نیت نہیں کر سکتے۔ جب تک وہ حجابات موجود ہیں۔ ان حجابات کو دور کرنا پڑے گا۔ ان حجابات کو دور کرنا پڑے گا۔
دیکھو میرے اندر تین جذبے ہیں نفس کی وجہ سے، نمبر ایک: میں بڑا بننا چاہتا ہوں، اس کو حب جاہ کہتے ہیں۔ میں بڑی لذت والی چیزیں استعمال کرنا چاہتا ہوں، اس کو حب باہ کہتے ہیں۔ میں مال جمع کرنا چاہتا ہوں، اس کو حب مال کہتے ہیں۔ یہ تین بڑے جذبے ہمارے نفس کے ہیں۔ یہ مجھ میں ہیں۔ جب تک یہ تین جذبے ختم نہیں ہوتے، یعنی کنٹرول نہیں ہوتے، اس وقت تک مجھے کوئی چیز صحیح اپنے اصلی form میں چیز نظر آ سکتی ہے؟ نظر نہیں آئے گی۔ صحیح کام میں کر سکوں گا؟ میری ہر چیز ان چیزوں سے ملوث ہوگی۔
یا مال کی محبت کی وجہ سے۔ مثلا میں کسی کو پیسے دیتا ہوں عیدی۔ تو میری نیت میں کیا ہوگا؟ کہ یہ بھی مجھے دے گا۔ بلکہ باقاعدہ بعض دفعہ تو رجسٹر بنتے ہیں، شادی بیاہ کے موقعوں پہ بنتے ہیں نا؟ اس نے یہ دیا اس نے یہ دیا تو اس کے مطابق...
مجھ سے کسی نے کہا صوبہ سرحد میں لڑکیاں بیچی جاتی ہیں۔ میں نے کہا بالکل ٹھیک کہتے ہو، بعض جگہوں پہ اور غلط کام ہے۔ اور پنجاب میں لڑکے بیچے جاتے ہیں۔ یہ بھی غلط کام ہے۔ ہے یا نہیں ہے؟ پنجاب میں لڑکے بیچے جاتے ہیں، وہاں پر لڑکیاں بیچی جاتی ہیں۔ بس دونوں باتیں غلط ہیں۔ وہاں کی وہاں کی غلط ہے، یہاں کی یہاں کی غلط ہے۔ لیکن ہے غلط کس وجہ سے؟ نفس کی وجہ سے نا۔
وما علینا الا البلاغ