"اسلامی اخوت و میراث کے احکام اور مشرکین سے براءت کا تاریخی اعلان"

درس نمبر 310، سورہ الانفال آیات 73 تا 75، سورہ التوبۃ 1 تا 3 اشاعتِ اول: 9 اور 10 نومبر، 2022، بمطابق 13 اور 14 ربیع الثانی ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • مظلوم مسلمانوں کی مدد نہ کرنے سے فساد پھیلتا ہے۔
  • دارالاسلام کے مسلمان دارالحرب کے ورثاء سے میراث نہیں لیتے۔
  • سورۂ توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہیں لکھی گئی۔
  • جزیرۂ عرب کو اسلام کا بنیادی مرکز قرار دیا گیا۔
  • ان آیات میں تمام مشرکین سے دستبرداری کا اعلان ہے۔
  • حج اکبر پر حضرت علی نے دستبرداری کا اعلان فرمایا۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ (73) وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ (74) وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ مِنْكُمْ ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ (75)

ترجمہ: اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے، وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔﴿73﴾

حاشیہ: مذکورہ بالا احکام بھی داخل ہیں اور غیر مہاجر مسلمانوں کی مدد کے احکام بھی۔مذکورہ بالا احکام بھی داخل ہیں، اور غیر مہاجر مسلمانوں کی مدد کے احکام بھی۔ تنبیہ یہ کی جا رہی ہے کہ ان احکام کی خلاف ورزی سے زمین میں فتنہ اور فساد پھیلے گا۔ مثلاً اگر وہ مسلمان جو کفار کے ہاتھوں ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں، اُن کی مدد نہ کی جائے تو فساد پھیلنا ظاہر ہے، اور اگر ان کی مدد کی وجہ سے غیر مسلموں کے ساتھ بدعہدی کی جائے تب بھی وہ تمام مصلحتیں پامال ہوں گی جن کی خاطر وہ معاہدہ کیا گیا تھا۔

یعنی اس میں ہمیں دونوں طرف کی حکمتوں کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔ یہ بات اس میں عملاً سمجھائی گئی۔

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آئے، اور انہوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا، وہ اور جنہوں نے انہیں آباد کیا، اور ان کی مدد کی، وہ سب صحیح معنی میں مؤمن ہیں۔

حاشیہ: یعنی جن مسلمانوں نے ابھی تک ہجرت نہیں کی ہے، اگرچہ مؤمن وہ بھی ہیں، لیکن اُن میں ابھی یہ کسر ہے کہ انہوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ دوسری طرف مہاجرین اور انصار میں یہ کسر نہیں ہے۔ اس لئے وہ صحیح معنی میں مؤمن کہلانے کے مستحق ہیں۔

مثلاً جس پر حج فرض ہوتا ہے اور حج نہ کرے تو ظاہر ہے وہ اسی کے حساب سے ہے، کیونکہ ہجرت اس وقت فرض تھی۔ تو اگر ہجرت ابھی نہیں کی تو اس کا مطلب ہے ان کے ذمے وہ فرض باقی تھا۔

ترجمہ: ایسے لوگ مغفرت اور باعزت رزق کے مستحق ہیں ﴿74﴾ اور جنہوں نے بعد میں ایمان قبول کیا، اور ہجرت کی، اور تمہارے ساتھ جہاد کیا، تو وہ بھی تم میں شامل ہیں۔ اور (ان میں سے) جو لوگ (پرانے مہاجرین کے) رشتہ دار ہیں، وہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے (کی میراث کے دوسروں سے) زیادہ حق دار ہیں۔

حاشیہ: یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب وہ مسلمان بھی بالآخر ہجرت کر آئے تھے جنہوں نے شروع میں ہجرت نہیں کی تھی۔ اس آیت نے ان کے بارے میں دو حکم بیان فرمائے ہیں۔ ایک یہ کہ اب انہوں نے چونکہ وہ کسر پوری کر دی ہے جس کی وجہ سے اُن کا درجہ مہاجرین اور انصار سے کم تھا، اس لئے اب وہ بھی ان میں شامل ہو گئے ہیں۔ اور دوسرا حکم یہ کہ اب تک وہ اپنے اُن رشتہ داروں کے وارث نہیں ہوتے تھے جو ہجرت کر چکے تھے۔ اب چونکہ وہ بھی ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے ہیں، اس لئے اب اُن کے وارث ہونے کی اصل رکاوٹ دُور ہوگئی ہے۔ اب وہ اپنے ان مسلمان رشتہ داروں کے وارث ہوں گے جو اُن سے پہلے ہجرت کر چکے تھے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انصاری صحابہ کو اُن مہاجرین کا جو وارث بنایا گیا تھا، اب وہ حکم منسوخ ہو گیا، کیونکہ وہ ایک عارضی حکم تھا جو اس وجہ سے دیا گیا تھا کہ ان مہاجرین کے رشتہ دار مدینہ منورہ میں موجود نہیں تھے۔ اب چونکہ وہ آگئے ہیں، اس لئے میراث کا اصل حکم کہ وہ قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہوتی ہے، واپس آ گیا۔

اصل میں یہ خصوصی احکامات تھے اس وقت، لیکن اس میں ہمیں جو ابھی تک جو چیز ملحوظ رکھنی ہے اور یہ ہے کہ دارالاسلام میں اگر کوئی ہے تو اگر کوئی اس کے ورثاء دارالحرب میں ہیں تو وہ ان سے میراث نہیں لے سکیں گے۔ اور وہ ان سے نہیں لے سکیں گے۔ یعنی دارالحرب جو وطن کی جو مطلب تبدیلی ہے، وہ جو ہے مثال کے طور پر ہمارے انڈیا کے ساتھ لڑائی ہو جائے۔ تو اس میں ایسی صورت میں اب وہاں کے جو مسلمان ہیں، یہاں کے جو مسلمان ہیں، وہ اگر آپس میں رشتہ دار ہیں تو ایک دوسرے کی میراث کے حقدار نہیں ہوں گے۔

حاشیہ: الحمد للّٰہ! سورۃ انفال کا ترجمہ اور تفسیری حواشی آج مورخہ 27 ربیع الاول 1427ھ مطابق 27 اپریل 2006ء کو مکہ مکرمہ میں تکمیل کو پہنچے۔ اس سورت کا ترجمہ لندن میں شروع ہوا تھا، اور کچھ حصہ کراچی میں ہوا، اور آج مکہ مکرمہ زاد ہا اللہ شرفا میں مابین عصر و مغرب اس کی تکمیل ہوئی۔ والحمد للّٰہ الذی بنعمته تتم الصالحات۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبول عطا فرما کر اسے اُمت کے لئے نافع بنا دیں، اور باقی سورتوں کے ترجمے اور حواشی کا کام بھی اپنے فضل و کرم سے اپنی رضا کے مطابق صدق و اخلاص سے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔

معزز خواتین و حضرات، سورۂ توبہ کی ابتدا ہو رہی ہے۔

تعارف یہ بھی مدنی سورت ہے، اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔ اپنے مضامین کے اعتبار سے یہ پچھلی سورت یعنی سورۂ انفال کا تکملہ ہے۔ غالباً اسی لئے عام سورتوں کے برخلاف اس سورت کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ نازل ہوئی، نہ لکھی گئی۔ اور اس کی تلاوت کا بھی قاعدہ یہ ہے کہ جو شخص پیچھے سورۂ انفال سے تلاوت کرتا چلا آرہا ہو، اُسے یہاں بسم اللہ نہیں پڑھنی چاہئے، البتہ اگر کوئی شخص اسی سورت سے تلاوت شروع کر رہا ہو تو اُس کو بسم اللہ پڑھنی چاہئے۔ اور بعض لوگوں نے اس سورت کے شروع میں بسم اللہ کے بجائے کچھ اور جملے پڑھنے کے لئے بنارکھے ہیں، وہ بے بنیاد ہیں۔ اُوپر جو طریقہ لکھا گیا ہے، وہی سلفِ صالحین کا طریقہ رہا ہے۔ یہ سورت فتحِ مکہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ عرب کے بہت سے قبائل اس انتظار میں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفارِ قریش کی جنگ کا انجام کیا ہوتا ہے۔ جب قریش نے حدیبیہ والا معاہدہ توڑ دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ پر حملہ کیا، اور کسی خاص خونریزی کے بغیر اُسے فتح کر لیا۔ اس موقع پر کفار کی کمر ٹوٹ چکی تھی، البتہ آخری تدبیر کے طور پر قبیلہ ہوازن نے ایک بڑا لشکر مسلمانوں سے مقابلے کے لئے جمع کیا جس سے حنین کی وادی میں آخری بڑی جنگ ہوئی، اور شروع میں معمولی ہزیمت کے بعد مسلمانوں کو اس میں بھی فتح ہوئی۔ اس جنگ کے بعض واقعات بھی اس سورت میں بیان ہوئے ہیں۔ اب عرب کے جو قبائل قریش کی وجہ سے اسلام قبول کرنے سے ڈرتے تھے، یا ان کی جنگوں کے آخری انجام کے منتظر تھے، ان کے دل سے اسلام کے خلاف ہر رکاوٹ دُور ہوگئی، اور وہ جوق در جوق مدینہ منورہ آکر مسلمان ہوئے، اور اس طرح جزیرۂ عرب کے بیشتر علاقے پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزیرۂ عرب کو اسلام اور مسلمانوں کا بنیادی مرکز قرار دے دیا گیا۔ اصل منشا تو یہ تھا کہ پورے جزیرۂ عرب میں کوئی بھی غیر مسلم مستقل باشندے کی حیثیت میں باقی نہ رہے، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ جزیرۂ عرب میں دو دین باقی نہ رہنے پائیں۔ (موطأ امام مالک، کتاب الجامع ومسند احمد ج: 6 ص: 57) لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے تدریج کا طریقہ اختیار فرمایا گیا۔ سب سے پہلا ہدف یہ مقرر فرمایا گیا کہ جزیرۂ عرب کو بت پرستوں سے خالی کرایا جائے۔ چنانچہ جو بچے کھچے بت پرست عرب میں رہ گئے تھے، اور جنہوں نے بیس سال سے زیادہ مدت تک مسلمانوں کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا تھا، اُن کو اس سورت کے شروع میں مختلف مدتوں کی مہلت دی گئی جس میں اگر وہ اسلام قبول نہ کریں تو انہیں جزیرۂ عرب چھوڑنے، ورنہ جنگ کا سامنا کرنے کے احکام دیئے گئے ہیں، اور مسجد حرام کو بت پرستی کی ہر نشانی سے پاک کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس ہدف کے پورا ہونے کے بعد جزیرۂ عرب کی مکمل صفائی کا دوسرا مرحلہ یہود و نصاریٰ کو وہاں سے نکالنے کا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں یہ مرحلہ مکمل نہیں ہو سکا تھا، لیکن آپ نے اس کی وصیت فرمادی تھی، جیسا کہ آیت نمبر 29 کے تحت اس کی وضاحت آنے والی ہے۔ اس سے پہلے رُوم کے بادشاہ نے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر ان پر حملہ کرنے کے لئے ایک بڑی فوج جمع کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیش قدمی کر کے اُس کے مقابلے کے لئے تبوک تک تشریف لے گئے۔ اس سورت کا بہت بڑا حصہ اس مہم کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔ منافقین کی معاندانہ کارروائیاں مسلسل جاری تھیں۔ اس سورت میں ان کی بدعنوانیوں کو بھی طشت از بام کیا گیا ہے۔ اس سورت کو سورۂ توبہ بھی کہا جاتا ہے، اور سورۂ براءت بھی۔ براءت اس لئے کہ اس کے شروع میں مشرکین سے براءت اور دستبرداری کا اعلان کیا گیا ہے، اور توبہ اس لئے کہ اس میں بعض ان صحابہ کرام کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے جنہوں نے تبوک کی مہم میں حصہ نہیں لیا تھا، اور بعد میں اپنی اس غلطی پر توبہ کی تھی۔

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ (1) فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ (2) وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ رَسُوْلُهٗ ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ (3)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

ترجمہ: (مسلمانو!) یہ اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے دستبرداری کا اعلان ہے اُن تمام مشرکین کے خلاف جن سے تم نے معاہدہ کیا ہوا ہے۔ ﴿1﴾

حاشیہ: ان آیتوں کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے وہ پس منظر جاننا ضروری ہے جو اس سورت کے تعارف میں اُوپر بیان کیا گیا ہے۔ جزیرۂ عرب کو اسلام کا مرکز بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ کچھ عرصے کی مہلت کے بعد کوئی بت پرست مستقل طور پر جزیرۂ عرب میں نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ ان آیات میں اُن بچے کھچے مشرکین سے دستبرداری کا اعلان کیا گیا ہے جو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے۔ اگرچہ یہ مشرکین وہ تھے جنہوں نے مسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، اور اُن پر وحشیانہ ظلم ڈھائے تھے، لیکن انہیں جزیرۂ عرب سے نکلنے کے لئے مختلف مہلتیں دی گئی ہیں جن کی تفصیل ان آیتوں میں آئی ہے۔ ان مشرکین کی چار قسمیں تھیں: (الف) پہلی قسم اُن مشرکین کی تھی جن کے ساتھ مسلمانوں نے جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نہیں کیا ہوا تھا۔ ایسے مشرکین کو چار مہینے کی مہلت دی گئی کہ ان چار مہینوں میں وہ اگر اسلام لانا چاہیں تو اسلام لے آئیں، اور اگر جزیرۂ عرب سے باہر کہیں جانا چاہیں تو اُس کا انتظام کر لیں۔ اگر یہ دونوں کام نہ کر سکیں تو اُن کے خلاف ابھی سے اعلان کر دیا گیا ہے کہ ان کو جنگ کا سامنا کرنا ہوگا (ترمذی، کتاب الحج، حدیث نمبر 871)۔ (ب) دوسری قسم اُن مشرکین کی تھی جن کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ تو تھا، لیکن اُس کی کوئی مدت متعین نہیں تھی۔ ان کے بارے میں بھی یہ اعلان کر دیا گیا کہ اب وہ معاہدہ چار مہینے تک جاری رہے گا۔ اس دوران اُن کو بھی وہی کام کرنے ہوں گے جن کا ذکر پہلی قسم کے بارے میں کیا گیا۔ سورۂ توبہ کی پہلی اور دوسری آیت ان دو قسموں سے متعلق ہے۔ (ج) تیسری قسم ان مشرکین کی تھی جن کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدہ تو کیا تھا، لیکن انہوں نے بد عہدی کی، اور وہ معاہدہ توڑ دیا، جیسے کفارِ قریش کے ساتھ حدیبیہ میں معاہدہ ہوا تھا، لیکن انہوں نے اُس کی خلاف ورزی کی، اور اسی کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے اُسے فتح کر لیا تھا۔ ان لوگوں کو کوئی مزید مہلت تو نہیں دی گئی، لیکن چونکہ دست برداری کا یہ اعلان حج کے موقع پر کیا گیا تھا جو خود حرمت والے مہینے میں ہوتا ہے، اور اس کے بعد محرم کا مہینہ بھی حرمت والا ہے، اور اُس میں جنگ کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے ان کو محرم کے آخر تک کی مہلت مل گئی۔ انہی کے بارے میں آیت نمبر 5 میں یہ فرمایا گیا ہے کہ حرمت والے مہینوں کے گذر جانے کے بعد اگر یہ نہ ایمان لائیں، اور نہ جزیرۂ عرب سے باہر جائیں تو ان کو قتل کر دیا جائے۔ (د) چوتھی قسم اُن مشرکین کی تھی جن کے ساتھ کسی خاص مدت تک کے لئے مسلمانوں نے جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا۔ اور انہوں نے کوئی بد عہدی بھی نہیں کی تھی۔ ایسے لوگوں کے بارے میں آیت نمبر 4 میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اُن کے معاہدے کی جتنی بھی مدت باقی ہے، اُس کو پورا کیا جائے، اور اس پوری مدت میں اُن کے ساتھ کسی قسم کا تعرض نہ کیا جائے۔ مثلاً قبیلہ کنانہ کے دو چھوٹے قبیلے بنو ضمرہ اور بنو مدلج کے ساتھ آپ کا ایسا ہی معاہدہ تھا، اور اُن کی طرف سے کوئی بد عہدی سامنے نہیں آئی تھی۔ اُن کے معاہدے کی مدت ختم ہونے میں اس وقت نو مہینے باقی تھے۔ چنانچہ اُن کو نو مہینے کی مہلت دی گئی۔ ان چاروں قسم کے اعلانات کو براءت یا دستبرداری کے اعلانات کہا جاتا ہے۔

ترجمہ: لہٰذا (اے مشرکو!) تمہیں چار مہینے تک اجازت ہے کہ تم (عرب کی) سرزمین میں آزادی سے گھومو پھرو، اور یہ بات جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، اور یہ بات بھی کہ اللہ اب کافروں کو رُسوا کرنے والا ہے ﴿2﴾

حاشیہ: دست برداری کا یہ حکم تو آچکا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں سے انصاف کی خاطر ان مختلف مدتوں کی ابتدا اُس وقت سے فرمائی جب اُن کو ان سارے احکام کی اطلاع ہو جائے۔ پورے عرب میں اعلان کا سب سے موثر ذریعہ یہ تھا کہ یہ اعلان حج کے موقع پر کیا جائے، کیونکہ اُس وقت سارے عرب کے لوگ حجاز میں جمع ہوتے تھے، اور اُس وقت تک مشرکین بھی حج کے لئے آتے تھے۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد جو حج 9ھ میں ہوا۔ اُس سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفسِ نفیس تو حج کے لئے تشریف نہیں لے گئے تھے، لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج بنا کر بھیجا تھا۔ اُن کے بعد آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی اسی مقصد سے روانہ فرمایا کہ وہ ان احکام کا سب کے سامنے اعلان کر دیں، وجہ یہ تھی کہ اہلِ عرب میں یہ معمول تھا کہ اگر کسی شخص نے کوئی معاہدہ کیا ہوتا، اور وہ اُسے ختم کرنا چاہتا تو یہ ضروری سمجھا جاتا تھا کہ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان یا تو وہ خود کرے، یا اُس کا کوئی قریبی عزیز ۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا (الدر المنثور ص 114 ج 4، بیروت 1421ھ)۔

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ رَسُوْلُهٗ ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ (3)

ترجمہ: اور حج اکبر کے دن (2) اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے تمام انسانوں کے لئے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اللہ بھی مشرکین سے دست بردار ہو چکا ہے، اور اُس کا رسول بھی۔ اب (اے مشرکو!) اگر تم توبہ کر لو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہوگا، اور اگر تم نے (اب بھی) منہ موڑے رکھا تو یاد رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے، اور تمام کافروں کو ایک دُکھ دینے والے عذاب کی ”خوشخبری“ سنادو ﴿3﴾

تو اللہ جل شانہٗ ہم سب کو شریعت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

"اسلامی اخوت و میراث کے احکام اور مشرکین سے براءت کا تاریخی اعلان" - درسِ قرآن - دوسرا دور