"اسلام میں جنگ و امن کے اصول، قیدیوں کے احکام اور معاہدات کی پاسداری"

درس نمبر 309، سورہ الانفال آیات 65 تا 73، اشاعتِ اول: 7 اور 8 نومبر، 2022، بمطابق 11 اور 12 ربیع الثانی ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • مسلمانوں کی کمزوری پر جنگی احکام میں تخفیف ہوئی۔
  • جنگِ بدر میں کفار کی شوکت توڑنا مقصود تھا۔
  • امت کی تربیت کے لیے نئے احکامات آتے گئے۔
  • مسلمان ہونے والے قیدیوں کو بہتر بدلہ دیا جائے گا۔
  • مسلمان کی مدد کے لیے بھی بدعہدی ناجائز ہے۔
  • شرعاً جائز تمام مصلحتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ (65) اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (66) مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ (67) لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (68) فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (69)

ترجمہ: اے نبی! مؤمنوں کو جنگ پر اُبھارو۔ اگر تمہارے بیس آدمی ایسے ہوں گے جو ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دوسو پر غالب آجائیں گے۔ اور اگر تمہارے سو آدمی ہوں گے تو وہ کافروں کے ایک ہزار پر غالب آجائیں گے، کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔﴿65﴾

حاشیہ: چونکہ صحیح سمجھ نہیں رکھتے، اس لئے ایمان نہیں لاتے، اور چونکہ ایمان نہیں لاتے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے محروم رہتے ہیں، اور اپنی دس گنی زیادہ تعداد کے باوجود مسلمانوں سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ اس آیت نے ضمنی طور پر یہ حکم بھی دے دیا کہ اگر کافروں کی تعداد مسلمانوں سے دس گنی زیادہ ہو تب بھی مسلمانوں کے لئے مقابلے سے پیچھے ہٹنا جائز نہیں ہے۔ لیکن اگلی آیت بعد میں نازل ہوئی جس نے اس حکم میں تخفیف کر دی۔

ترجمہ: لو اب اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کر دیا، اور اُس کے علم میں ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزوری ہے۔ لہٰذا (اب حکم یہ ہے کہ) اگر تمہارے ثابت قدم رہنے والے سو آدمی ہوں تو وہ دوسو پر غالب آجائیں گے، اور اگر تمہارے ایک ہزار آدمی ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آجائیں گے، اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔﴿66﴾

حاشیہ: یہ حکم بعد میں آیا، اور اس نے یہ تخفیف کر دی کہ اگر دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی تک ہو تو پیچھے ہٹنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر تعداد اس سے زیادہ ہو تو پیچھے ہٹنے کی گنجائش ہے۔ اس طرح اس آیت نے اس حکم کی تفصیل بیان فرمادی ہے جو پیچھے آیت نمبر 15 اور 16 میں دیا گیا تھا۔

ترجمہ: یہ بات کسی نبی کے شایانِ شان نہیں ہے کہ اُس کے پاس قیدی رہیں،

حاشیہ: جنگ بدر میں ستر قریشی افراد گرفتار ہوئے تھے۔ ان لوگوں کو جنگی قیدی کے طور پر مدینہ منورہ لایا گیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرمایا کہ ان سے کیا سلوک کیا جائے؟ بعض صحابہ کرام، مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ، کی رائے یہ تھی کہ ان کو قتل کر دیا جائے، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں، ان کی بنا پر ان کا عبرت ناک انجام ہونا چاہئے۔ دوسرے حضرات کی رائے یہ تھی کہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ (”فدیہ“ اُس مال کو کہا جاتا ہے جو کسی جنگی قیدی سے اُس کی آزادی کے بدلے طلب کیا جائے) چونکہ زیادہ تر صحابہ اس دوسری رائے کے حق میں تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا، اور ان سب قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا گیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا، اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جنگ بدر کا سارا مقصد یہ تھا کہ ایک مرتبہ کفار کی طاقت اور شوکت کا زور اچھی طرح ٹوٹ جائے، اور جن لوگوں نے سالہا سال تک دین حق کا نہ صرف راستہ روکنے کی کوشش کی ہے، بلکہ مسلمانوں پر وحشیانہ ظلم ڈھائے ہیں، اُن پر ایک مرتبہ مسلمانوں کی دھاک بیٹھ جائے۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی کا معاملہ کرنے کے بجائے ان سب کو قتل کیا جاتا، تا کہ یہ واپس جا کر مسلمانوں کے لئے خطرہ بھی نہ بن سکتے، اور ان کے عبرت ناک انجام سے دوسروں کو بھی سبق ملتا۔ یہاں یہ واضح رہے کہ جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے پر ناپسندیدگی کا یہ اظہار جنگ بدر کے وقت مذکورہ مصلحت کی بنا پر کیا گیا تھا۔ بعد میں سورہ محمد کی آیت نمبر 4 میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اب چونکہ کفار کی جنگی طاقت ٹوٹ چکی ہے، اس لئے اب نہ صرف فدیہ لے کر، بلکہ بغیر فدیہ کے، محض احسان کے طور پر بھی جنگی قیدیوں کو آزاد کیا جاسکتا ہے۔

یہ دیکھیں ہم نے دیکھا ہے کہ جو کمزور ہوتا ہے تو وہ یہ زیادہ تر شو کرتا ہے کہ میں معاہدات کی پاسداری زیادہ کرتا ہوں، اور وہ اپنی طرف سے بڑا نرم رویہ وہ شو کرتا ہے۔ اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے اپنی خفت مٹانے کے لیے کہ یہ ہماری کمزوری نہیں سمجھی جائے یہ اس طرح ہے اس طرح ہے۔ مطلب اس قسم کی باتیں آج کل بھی ہم دیکھتے ہیں۔ اور جو طاقتور ہوتا ہے وہ پروا نہیں کرتا۔ وہ ہر قانون کو توڑتے جاتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ پروا نہیں کرتے، جیسے انڈیا ہے یا اسرائیل ہے۔ انڈیا جو کشمیر کے ساتھ جو کرتا ہے، یا اسرائیل وہ عربوں کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ پروا نہیں کرتا۔ تو یہ گویا کہ ان لوگوں کی طرف سے اپنی شان و شوکت کا اظہار ہوتا ہے۔ تو اس شان و شوکت کو توڑنا لازمی ہوتا ہے۔ تو جنگِ بدر کی صورتحال اس طرح تھی کہ اس وقت کفار کی مستی بہت زیادہ تھی، اور وہ بہت آن اور بان میں رہتے تھے اور مسلمانوں پر بڑے مظالم توڑتے تھے اور ساتھ یہ ہے کہ زبان سے بھی اس قسم کی باتیں کرتے تھے۔ تو ان کی شوکت کو توڑنے کے لیے اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ نظام تھا جو بتایا گیا۔ لیکن یہ کہ بعد میں جب مسلمانوں کو شوکت حاصل ہو گئی لوگوں نے مان لیا، تو اس کے بعد پھر مسلمان کی طبعی جو نرمی ہے۔ مطلب بلاوجہ لوگوں کو نہیں مارتے بلکہ ہدایت کو پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں اگر دیکھا جائے تو جیسے سیرت النبی میں بہت تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل جو موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں تھے، تو ان کا طریقہ کار الگ تھا اور عیسائی جو عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں تھے، ان کا طریقہ کار الگ تھا۔ اور جو اسلام ہے، مسلمان ہیں، ان کا طریقہ کار ان دونوں کے اعتدال میں ہے۔ یعنی گویا کہ نہ اتنی سختی جو موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یعنی کرنی تھی، اور نہ اتنی نرمی جتنی کہ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں کرنی تھی۔ تو ان دونوں کے درمیان مطلب نرمی کے وقت نرمی اور سختی کے وقت سختی، تو اس میں بھی یہ چیز سامنے آ رہی ہے۔

ترجمہ: جب تک کہ وہ زمین میں (دشمنوں کا) خون اچھی طرح نہ بہا چکا ہو (جس سے ان کا رُعب پوری طرح ٹوٹ جائے) تم دُنیا کا ساز و سامان چاہتے ہو، اور اللہ (تمہارے لئے) آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے، اور اللہ صاحبِ اقتدار بھی ہے، صاحبِ حکمت بھی ﴿67﴾ اگر اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا حکم پہلے نہ آچکا ہوتا تو جو راستہ تم نے اختیار کیا، اُس کی وجہ سے تم پر کوئی بڑی سزا آجاتی۔﴿68﴾

حاشیہ: پہلے لکھے ہوئے حکم سے مراد بعض مفسرین نے تو وہ حکم لیا ہے جو پیچھے آیت 33 میں گذرا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا کوئی عذاب نہیں آسکتا۔ اور دوسرے مفسرین نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ان قیدیوں میں سے بعض حضرات کا مسلمان ہو جانا اللہ تعالیٰ نے مقدر میں لکھا ہوا تھا، وہ نوشتہ تقدیر مراد ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس فیصلے پر مسلمانوں کو کوئی سزا نہیں دی کہ ان قیدیوں میں سے کچھ لوگ مسلمان ہونے والے تھے، ورنہ فیصلہ اصولی طور پر ناپسندیدہ تھا۔

ترجمہ: لہٰذا اب تم نے جو مالِ غنیمت میں حاصل کیا ہے، اُسے پاکیزہ حلال مال کے طور پر کھاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ ﴿69﴾

حاشیہ: چونکہ جنگی قیدیوں کے بارے میں یہ فیصلہ کثرتِ رائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق سے ہو چکا تھا، اس لئے ناپسندیدگی کے اظہار کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مسلمانوں کی معافی کا بھی اعلان فرمایا، اور یہ بھی اجازت دی کہ جو مال فدیہ میں حاصل ہوا ہے، وہ حلال طیب ہے، اور مسلمان اُسے اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں۔

یعنی یہ والی بات کہ اللہ جل شانہ چونکہ مسلمان امت کی تربیت فرمانے والے تھے۔ لہٰذا احکامات بھی آتے گئے اور ساتھ ساتھ معافی بھی، کیونکہ مسلمان اس وقت مطلب ظاہر ہے ان کے لیے ساری باتیں نئی نئی تھیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے سے تو، ہمارے لیے تو فقہ مرتب ہو چکا ہے۔ اور دین مکمل ہو چکا ہے۔ لیکن صحابہ کرام کے وقت میں تو ابھی احکامات آ رہے تھے۔ جیسے یہ بات ہے کہ پہلے ایک بات اور پھر اس کے بعد دوسری بات، تو حالات، تو اللہ جل شانہ جو اپنے نبی کی تربیت فرماتے ہیں۔ تو وحی کے ذریعے سے بھی احکامات آتے ہیں اور ساتھ ساتھ تکوینی طور پر بھی ایسی چیزیں وجود میں آتی ہیں جس سے پیغمبر کی تربیت ہو رہی ہوتی ہے۔ اور ان کو مطلب جو احکامات اللہ پاک نے دینے ہوتے ہیں اس کے ذریعے سے مل رہے ہوتے ہیں۔ جیسے یہاں پر بھی مستقل۔ ورنہ یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو سارا کچھ تھا۔ یعنی اللہ جل شانہ کے لیے تو یہ لاعلمی کی بات نہیں تھی۔ لیکن یہ والی بات ہے کہ اللہ جل شانہ ان کی جو حکمت ہے وہ ساری چیزیں اپنے اپنے وقت پر اس کا ظہور ہوتا ہے ساری باتوں کا۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (70) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ (71) اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (72) وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ (73)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اے نبی! تم لوگوں کے ہاتھوں میں جو قیدی ہیں، (اور جنہوں نے مسلمان ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ہے) اُن سے کہہ دو کہ: ”اگر اللہ تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھے گا تو جو مال تم سے (فدیہ میں) لیا گیا ہے، اُس سے بہتر تمہیں دیدے گا ، اور تمہاری بخشش کر دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔“ ﴿70﴾ اور اگر ان لوگوں نے (اے نبی!) تم سے خیانت کرنے کا ارادہ کیا، تو یہ اس سے پہلے اللہ کے ساتھ خیانت کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ نے انہیں تمہارے قابو میں دے دیا، اور اللہ کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل ﴿71﴾

حاشیہ: بھلائی دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے مسلمان ہونے کا اعلان کیا ہے، وہ خلوصِ دل کے ساتھ ہو، کوئی شرارت نہ ہو۔ اس صورت میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی آزادی کے لئے فدیہ میں جو کچھ خرچ کیا ہے، اس سے بہتر بدلہ انہیں دُنیا یا آخرت میں دے دیا جائے گا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور بدر کی جنگ میں قید ہو گئے تھے، انہوں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا تھا، مگر میرے قبیلے کے لوگوں نے مجھے جنگ میں آنے پر مجبور کر دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہرحال! جو فدیہ طے ہوا ہے، وہ تو تمہیں دینا ہوگا، اور اپنے بھتیجوں عقیل اور نوفل کا فدیہ بھی تم دو۔ انہوں نے کہا کہ اتنی رقم میں کہاں سے لاؤں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ رقم کہاں ہے جو تم اپنی اہلیہ اُم الفضل کے پاس خفیہ طور پر چھوڑ کر آئے ہو؟ حضرت عباسؓ نے یہ سنا تو ہکا بکا رہ گئے، کیونکہ اس بات کا علم ان کے اور ان کی اہلیہ کے سوا کسی کو نہیں تھا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ بعد میں حضرت عباسؓ فرمایا کرتے تھے کہ جتنا کچھ میں نے فدیہ میں دیا تھا، واقعی اُس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دے دیا ہے۔

ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے ہیں، اور انہوں نے ہجرت کی ہے، اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے، وہ اور جنہوں نے ان کو (مدینہ میں) آباد کیا، اور ان کی مدد کی، یہ سب لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، (مگر) انہوں نے ہجرت نہیں کی، جب تک وہ ہجرت نہ کر لیں، (اے مسلمانو!) تمہارا اُن سے وراثت کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔

حاشیہ: سورۃ انفال کی ان آخری آیات میں میراث کے کچھ وہ احکام بیان فرمائے گئے ہیں جو مسلمانوں کی مکہ مکرمہ سے ہجرت کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اُصول شروع سے طے فرما دیا تھا کہ مسلمان اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے۔ اب صورت حال یہ تھی کہ جو صحابہ کرامؓ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے تھے، ان میں سے بہت سے ایسے تھے کہ ان کے رشتہ دار جو ان کے وارث ہو سکتے تھے، سب مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے۔ ان میں سے اکثر تو وہ تھے جو کافر تھے، اور مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے، وہ مسلمانوں کے اس لئے وارث نہیں ہو سکتے تھے کہ ان کے درمیان کفر اور ایمان کا فاصلہ حائل تھا۔ چنانچہ ان آیات نے واضح طور پر بتا دیا کہ نہ وہ مسلمانوں کے وارث ہو سکتے ہیں، اور نہ مسلمان اُن کے وارث ہو سکتے ہیں۔ اور مہاجرین کے کچھ ایسے رشتہ دار بھی تھے جو مسلمان تو ہو گئے تھے، لیکن انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی۔ ان کے بارے میں بھی اس آیت نے یہ حکم دیا ہے کہ مہاجر مسلمانوں کا اُن سے بھی وراثت کا کوئی رشتہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ اُس وقت تمام مسلمانوں کے ذمے فرض تھا کہ وہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کریں، اور انہوں نے ہجرت نہ کر کے اس فریضے کو ابھی تک ادا نہیں کیا تھا، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ مہاجر مسلمان مدینہ منورہ میں تھے جو دارالاسلام تھا، اور وہ حضرات مکہ مکرمہ میں تھے جو اُس وقت دارالحرب تھا، اور دونوں کے درمیان بڑی رکاوٹیں حائل تھیں۔ بہر صورت! مہاجر مسلمانوں کے جو رشتہ دار مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، ان کے ساتھ مہاجرین کا وراثت کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ اگر اُن کا کوئی رشتہ دار مکہ مکرمہ میں فوت ہوتا تو اُس کے ترکے میں ان مہاجرین کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا، اور اگر ان مہاجرین میں سے کوئی مدینہ منورہ میں فوت ہوتا تو اُس کی میراث میں اُس کے مکی رشتہ داروں کا کوئی حصہ نہیں ہوتا تھا۔ دوسری طرف جو مہاجرین مدینہ منورہ آکر آباد ہوئے تھے، اُن کو انصارِ مدینہ نے اپنے گھروں میں ٹھہرایا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مہاجر صحابی کا کسی انصاری صحابی سے بھائی چارہ قائم کر دیا تھا جسے ”مواخات“ کہا جاتا ہے۔ اس آیت کریمہ نے یہ حکم دیا کہ اب مہاجرین کے وارث اُن کے مکی رشتہ داروں کے بجائے وہ انصاری صحابہ کرامؓ ہوں گے جن کے ساتھ اُن کی مواخات قائم کی گئی ہے۔

ترجمہ: ہاں اگر دین کی وجہ سے وہ تم سے کوئی مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد واجب ہے، سوائے اس صورت کے جبکہ وہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے اچھی طرح دیکھتا ہے ﴿72﴾ اور جن لوگوں نے کفر اپنا رکھا ہے، وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی وارث ہیں۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔﴿73﴾

حاشیہ: یعنی جن مسلمانوں نے ابھی تک ہجرت نہیں کی، اگرچہ وہ مہاجرین کے وارث نہیں ہیں، لیکن چونکہ بہرحال مسلمان ہیں، اس لئے اگر کافروں کے خلاف مسلمانوں سے کوئی مدد مانگیں تو مہاجر مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کی مدد کریں۔ البتہ ایک صورت ایسی بیان کی گئی ہے جس میں اس طرح کی مدد کرنا مہاجر مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔ اور وہ یہ کہ جن کافروں کے خلاف وہ مدد مانگ رہے ہوں، اُن سے مہاجر مسلمانوں کا کوئی جنگ بندی کا معاہدہ ہو چکا ہو۔ ایسی صورت میں اگر وہ اپنے مسلمان بھائیوں کا ساتھ دیتے ہوئے اُن کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے تو یہ بدعہدی ہوگی، اس لئے ایسی مدد کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ جب کوئی معاہدہ ہو جائے تو اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لئے بھی اُس کی خلاف ورزی کو اسلام نے جائز نہیں رکھا۔ چنانچہ صلح حدیبیہ کے موقع پر کئی واقعات ایسے پیش آئے کہ کفار کے ہاتھوں پسے ہوئے مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کفارِ قریش کے خلاف مدد مانگی، اور مسلمانوں کا دل بے تاب تھا کہ ان کی مدد کریں، مگر چونکہ قریش کے لوگوں سے معاہدہ ہو چکا تھا، اس لئے ان کے صبر و ضبط کا بہت کڑا امتحان پیش آیا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت وہ اس امتحان میں ثابت قدم رہے۔

اور یہاں جو فرمایا ہے کہ

حاشیہ: اس جملے کا تعلق اُن تمام احکام سے ہے جو ان آیات میں بیان فرمائے گئے ہیں، جن میں میراث کے مذکورہ بالا احکام بھی داخل ہیں، اور غیر مہاجر مسلمانوں کی مدد کے احکام بھی۔ تنبیہ یہ کی جا رہی ہے کہ ان احکام کی خلاف ورزی سے زمین میں فتنہ اور فساد پھیلے گا۔ مثلاً اگر وہ مسلمان جو کفار کے ہاتھوں ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں، اُن کی مدد نہ کی جائے تو فساد پھیلنا ظاہر ہے، اور اگر ان کی مدد کی وجہ سے غیر مسلموں کے ساتھ بدعہدی کی جائے تب بھی وہ تمام مصلحتیں پامال ہوں گی جن کی خاطر وہ معاہدہ کیا گیا تھا۔

تو اصل میں بات یہ ہے کہ اسلام کے اندر تمام مصلحتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اب یہ مصلحتوں کا خیال رکھا جانا، یہ من جانبِ اللہ یہ قانونی طریقے سے گویا کہ مطلب رکھا گیا ہے۔ لہذا اب ہم آنکھیں بند کر کے اس پر عمل کر لیں، ان میں تمام چیزوں کا یعنی اہتمام ہے اور البتہ اس سے ہمیں پتہ چلا ہے کہ ظاہر ہے مختلف صورتوں میں جو مصلحتیں ہوتی ہیں، ان کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن وہ جو شرعاً جائز ہوں۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔