سفرِ حج کے روحانی مشاہدات، آدابِ حرم اور جذب و معرفت کی منظوم کیفیات

کتاب: ہوش دیوانگی، درس 22، اشاعت اول:منگل، 19 نومبر، 2013 بمطابق 16 محرم، 1434 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حج کے ممنوعات (رفث، فسق، جدال) اور نگاہ و دل کی حفاظت

عشق و عقل کا باہمی تعلق اور "ہوشِ دیوانگی" کا فلسفہ

مشقتِ حج، طوافِ کعبہ اور اخلاص و رضائے الٰہی

فتنۂ محبتِ دنیا اور تذلیلِ نفس بمقابلہ تواضعِ للہ

حرم شریف کے مزدوروں کے احوال اور طہارت و حفظِ مراتب کی ضرورت

اعمال و عبادات میں بے ادبی کے نقصانات اور شیطان کا فریب

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

اس وقت الحمدللہ محفلِ شعر و شاعری جذب جو ہمارا معمول ہے منگل کے دن کا، وہ جاری ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ

بہرحال چلتے رہے، اللہ تعالی نے پہنچا دیا وہاں پر مکہ مکرمہ میں۔ مکہ مکرمہ یہ عجیب جگہ ہے۔ برکتوں کی جگہ ہے اور ابراہیم علیہ السلام کی اس کے لیے دعا ہے اور اللہ پاک کی بہت ساری نشانیاں ہیں۔

تو اس میں تین چیزوں کی طرف بتایا گیا ہے کہ تین چیزیں نہیں کرنی حج میں۔ ایک رفث نہیں کرنا، ایک فسق نہیں کرنا اور ایک جدال نہیں کرنا۔ کیونکہ ان تین چیزوں کے ذریعے سے آزمایا جاتا ہے حاجی کو۔ کیونکہ وہاں پر ظاہر ہے عورتیں بھی طواف کریں گی مرد بھی طواف کریں گے۔ قریب قریب ہوتے ہیں۔ تو اس لحاظ سے اپنی آنکھ کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ مواقع ہوتے ہیں اس وجہ سے فسق کی طرف انسان جا سکتا ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ بہت ٹینشن ہوتی ہے اعمال ایک ہی وقت میں بہت سارے لوگوں نے کرنے ہوتے ہیں لہذا جدال کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔

تو ان تین چیزوں سے اگر کوئی رک گیا تو پھر ان شاء اللہ وہ حج کا لطف بھی پا لے گا اور حج کا فائدہ بھی حاصل ہوگا۔ تو اس میں سے ایک چیز پر میں نے یہ نظم کہی تھی۔

دل پاک نہیں ہے گر نگاہ پاک نہیں ہے
غیر محرم دیکھنے سے اگر باک نہیں ہے

پتھر کی طرح سخت ہے پاکی نہیں اس میں
جس دل کے پاس حبِ شاہِ لولاک نہیں ہے

دل پاک نہیں ہے گر نگاہ پاک نہیں ہے

معمور محبت سے دل کسی کا اس کا ہو
دنیا میں رہنا اس کا خطرناک نہیں ہے

دل پاک نہیں ہے گر نگاہ پاک نہیں ہے

وہ نفس کے اثر سے عقل کیسے چھڑائے
دریائے محبت کا جو تیراک نہیں ہے

دل پاک نہیں ہے گر نگاہ پاک نہیں ہے
غیر محرم دیکھنے سے اگر باک نہیں ہے

وہ اہلِ رفعتوں کا بنے کیسے اے شبیرؔ
جو اس کی محبت میں ہوا خاک نہیں ہے

وہ کہتے ہیں نا کہ:

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہو
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

لیکن یہ خاک میں ملنا اپنی دنیا کے لیے نہ ہو۔ دنیا کے لیے انسان بہت گر جاتا ہے اس کو تذلیلِ نفس کہتے ہیں۔ وہ تو اچھی بات نہیں ہے۔ یہ ڈوم جیسے لوگ جو ہو جاتے ہیں۔ پیسوں کے لیے کتنے گر جاتے ہیں۔ تو وہ نہیں بننا، تذلیلِ نفس کرنا نہیں ہے۔ ہاں البتہ، اللہ کے لیے اپنے آپ کو مٹانا۔ اللہ کے لیے اپنے آپ کو مٹانا، اس پر یہ ہے، مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰهِ فَقَدْ رَفَعَهُ اللَّهُ۔ جس نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے پست کر دیا، اس کو اللہ تعالی اٹھاتا ہے۔ تو یہ ہے:

وہ اہلِ رفعتوں کا بنے کیسے اے شبیرؔ
جو اس کی محبت میں ہوا خاک نہیں ہے

دل پاک نہیں ہے گر نگاہ پاک نہیں ہے
غیر محرم دیکھنے سے اگر باک نہیں ہے

ہوشِ دىوانگى کىا ہے؟

کسی نے پوچھا کہ ہوشِ دیوانگی کیا ہے
عرض کیا میں نے، عبدیت سپردگی کیا ہے

یہ فلسفہ ہے وہ حاصل جو عشقِ سے عاشق کو
اس کو معلوم ہے اس سے کہ بندگی کیا ہے

عشق نے اس کو کائنات سے کیا غافل

یہی دیوانگی ہے نا۔

عشق نے اس کو کائنات سے کیا غافل
کون جانے حال اس کا عالمِ مستی کیا ہے

کسی نے پوچھا کہ ہوشِ دیوانگی کیا ہے

قلب جب درست ہو تو عقل کرے کام صحیح
جان لے دل سے کہ غلط کیا صحیح کیا ہے

اس کو ہوش نہیں کہیں گے تو پھر کیا کہیں گے۔

جان لے دل سے کہ غلط کیا صحیح کیا ہے
کسی نے پوچھا کہ ہوشِ دیوانگی کیا ہے

دل میں اللہ ہو، اللہ کے لیے کام ہو شبیر
تب سمجھ آئے ضرورت ایسے ہوش کی کیا ہے

کسی نے پوچھا کہ ہوشِ دیوانگی کیا ہے
عرض کیا میں نے عبدیت سپردگی کیا ہے

حج میں الحمد للہ، کیفیات بھی آتی ہیں، مشکلات بھی آتی ہیں۔ مشکلات کے حل بھی آتے ہیں، تسلیاں بھی آتی ہیں۔ بڑی مزے مزے کی چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے اللہ تعالی نے بہت اچھا رکھا لیکن ظاہر ہے چلنے سے پاؤں ساتھیوں کے کچھ زخمی ہو گئے۔ تو اس پر کچھ بات آ گئی۔

حج کی اک کیفیت

زخمی پاؤں سے حج تیرے کرنے پہ پیار اس کو حاجی سنو کتنا آیا ہوگا

ہو مبارک تجھے یہ سفر عاشقانہ
اس کی توفیق سے ہو گیا تیرا آنا
اس کی منزل اگر ہے تو ہے اس کا پانا

یہ مشقت چلن میں چبھے نہ تجھے اس پہ نہ جانے تو نے کیا پایا ہوگا

زخمی پاؤں سے حج تیرے کرنے پہ پیار اس کو حاجی سنو کتنا آیا ہوگا

یہ گلے کی خرابی اور تیری تھکن
اس سے آسان ہو تیرا اس سے ملن
تو تجارت نہ کر اس کا عاشق تو بن

اس کو یہ نہیں کہ میں نے یہ کیا تو تو یہ کر دے۔ یہ کس کو کہہ رہے ہو؟

تو تجارت نہ کر اس کا عاشق تو بن

عشق میں تو یہ تکالیف دیکھے یہاں، دل میں کچھ بھی تو اس نے بتایا ہوگا

زخمی پاؤں سے حج تیرے کرنے پہ پیار اس کو حاجی سنو کتنا آیا ہوگا

یہ چکر خانۂ کعبہ ہوا جب نصیب
اس کے دل پر اثر ہوتے ہیں کچھ عجیب
اس سے ہوتے ہو تم اس کے کتنے قریب

کتنوں نے اس چکر کے لگانے سے یوں جانے کیا کیا یہاں پر کمایا ہوگا

زخمی پاؤں سے حج تیرے کرنے پہ پیار اس کو حاجی سنو کتنا آیا ہوگا

یہ رمی سے ذلیل کرنا شیطان کا
ہے سبب راضی ہونے کا رحمن کا

رِضًا لِلرَّحْمٰنِ۔ اس میں ہے نا بِسْمِ اللهِ اللهُ اَكْبَرُ۔ ہاں رَغْمًا لِلشَّيْطَانِ وَرِضًا لِلرَّحْمَانِ۔

یہ رمی سے ذلیل کرنا شیطان کا
ہے سبب راضی ہونے کا رحمن کا
ایک دن اور ٹھہرنا ہے مہمان کا

تیرہویں ذی الحج کو۔

ایک دن اور ٹھہرنا یہ مہمان کا
یہ طلب کی بڑھوتری سے شبیر سن

یعنی بارہ کو نہیں جا رہے تیرہ کو جا رہے ہیں۔

یہ طلب کی بڑھوتری سے شبیر سن راستہ کتنوں کو اس نے دکھایا ہوگا

زخمی پاؤں سے حج تیرے کرنے پہ پیار اس کو حاجی سنو کتنا آیا ہوگا

حج اىک البىلى عبادت

حج اک البیلی عبادت ہے مگر
چند باتوں پہ اگر ہووے نظر

جان لے اس کے مسائل پورے
اور نظر رکھیں ہم اپنے دل پر

عقل کو کر لیں اس کے تابع ہم
توڑ دیں اس میں اپنے نفس کا مکر

آنکھ کا بند کریں غلط استعمال
اپنے محبوب کی یاد میں گم ہو کر

چھوڑ دے اس میں فسق دل سے شبیرؔ
دیکھ لیں پھر اس کا جو ہوگا اثر

سبحان اللہ۔ یہ اللہ جل شانہ کی معرفت کے اشعار۔

اىک ہى

ایک ہی ہے کہ جو کھلاتا ہے
حق کا وہ راستہ دکھاتا ہے

جو کہ دشمن ہے ازلی اپنا
اس سے جو چاہے وہ بچاتا ہے

ہم اگر راستے سے بھٹک جائیں
وہ ہمیں راستے پہ لاتا ہے

اس کو آنکھوں سے کوئی دیکھ نہ سکے
اپنے عاشق کے دل میں آتا ہے

حسنِ دنیا پہ جو دھوکہ کھائے
ان کو بھی وہ ہی تو سمجھاتا ہے

یہ بھی اس کا ہی فضل ہے اے شبیر
یہ جو تو لوگوں کو بتاتا ہے

ایک ہی ہے جو کھلاتا ہے
حق کا وہ راستہ دکھاتا ہے

دىوانہ بن جائے

دل چاہے کہ بس اس کا ہی دیوانہ بن جائے
جو شمعِ حق ہے اس کا ہی پروانہ بن جائے

جو یاد سے خالی ہے اس کا دل کہاں ہے دل
وہ دل تو کچھ ہی دیر میں ویرانہ بن جائے

دل چاہے کہ بس اس کا ہی دیوانہ بن جائے

کچلے جو نفس کو دل تو کرے ذکر سے آباد
وہ دل تو معرفت کا اک خزانہ بن جائے

دل چاہے کہ بس اس کا ہی دیوانہ بن جائے
جو شمعِ حق ہے اس کا ہی پروانہ بن جائے

حسنِ ازل کا عشق جب بیان کرو شبیر
تیری یہ غزل عشق کا پیمانہ بن جائے

دل چاہے کہ بس اس کا ہی دیوانہ بن جائے

گرما ہى دىا

گرمیٔ دل نے تو گرما ہی دیا
اس کی محفل میں جو پہنچا ہی دیا

مجھ کو دیوانگی کے اس ہوش نے
رستہ محبوب کا سمجھا ہی دیا

فَاذْكُرُونِي کا جواب أَذْكُرْكُمْ
اس نے بھی یاد تو فرما ہی دیا

ہاتھ جوڑنے نے چشمِ پرنم نے
آخرش آگ سے بچا ہی دیا

گرمیٔ دل نے تو گرما ہی دیا

یعنی انسان ہاتھ جوڑے، اللہ تعالی سے توبہ کرے اور آنسو بہائے۔ تو یہ مغفرت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

ہاتھ جوڑنے نے، چشمۂِ چشم نے آخرش آگ سے بچا ہى دىا

گرمیٔ دل نے تو گرما ہی دیا

عقل کونے میں کھڑی حیران تھی
عشق نے راستہ بتا ہی دیا

گرمیِ دل نے تو گرما ہی دیا

سامعین کو شبیر غزل نے تیری
کشتۂ نور اک کھلا ہی دیا

گرمیٔ دل نے تو گرما ہی دیا
اس کی محفل میں پہنچا ہی دیا

میرے دل کی تپش کو جان لو نا

میرے دل کی تپش کو جان لو نا جو بات کروں وہ مان لو نا
کب تک بھلائے رکھو گے اسے اب رب اپنا پہچان لو نا

دل کب تک ویراں رکھو گے کر ذکر سے اب آباد اسے
جب نفس کرے کچھ زور تو اس پہ جہد کا چاقو تان لینا

دنیا کے بکھیڑے لاؤ نہیں جب شیخ کے حضور میں بیٹھے ہو
اس سے تو اگر ہوشیار ہے تو کیفیتِ احسان لو نا

دنیا کے لیے تو در در تو جب ہاتھ پھیلائے رکھتے ہو
تو نفس و شیطاں کے مقابل بھی اس جہد میں کچھ خاک چھان لو نا

میرے دل کی تپش کو جان لو نا جو بات کروں وہ مان لو نا

اس جگ میں کب تک بسنا ہے، ایک دن تجھے جانا ہے شبیر اس جگ کے واسطے پیارے بھائی کچھ اچھا سا سامان لو نا

میرے دل کی تپش کو جان لو نا جو بات کروں وہ مان لو نا

دنیا کھیتی ہے آخرت کی مگر پر محبت ہے پرخطر اس کی

یہ حدیث شریف میں آتا ہے نا۔ الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ۔ اور حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ۔

دنیا کھیتی ہے آخرت کی مگر پر محبت ہے پرخطر اس کی
کیونکہ مطلوب نفس کی ہے یہ ہر عضو پر جو ہے اثر اس کی

دل میں یہ ہو تو پھر تباہ ہے دل اور سارے جسم کا بادشاہ ہے دل
زندگانی کے سارے مقاموں میں حال ہوتی ہے معتبر اس کی

کیسے نکلیں ہم اس کے دام سے پھر جال چاروں طرف محبت کے
جو حوصلہ چھوڑ دے عالی حوصلہ زور دیکھے جو اس قدر اس کی

مطلب اس کے دام اتنے سخت ہیں، جال اتنے سخت ہیں کہ حوصلہ مند لوگ بھی اپنا حوصلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ مطلب۔

حوصلہ چھوڑ دے عالی حوصلہ زور دیکھے جو اس قدر اس کی

ہاں مگر ایک طریقہ ہے جس میں ہم بھی اللہ کے دیوانے بنیں

وہی ہوشِ دیوانگی والی بات۔

ہاں مگر ایک طریقہ ہے جس میں ہم بھی اللہ کے دیوانے بنیں
اس سے انجانے بنیں عشق میں اس کے، بے خودی کر دے برابر اس کی

ہے دیوانگی مطلوب شبیر أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ سے ماخوذ
اس لیے یہی ہے جو ہوش کہلائے جس کو بھی مل جائے اثر اس کی

دنیا کھیتی ہے آخرت کی مگر پر محبت ہے پرخطر اس کی

طواف کے دوران۔

اللہ اکبر، وہاں سب سے بڑا عمل خانۂ کعبہ کے پاس طواف ہے۔ پھر اس کے بعد نماز ہے۔ پھر اس کے بعد اس کو دیکھنا ہے۔ یقینا طواف میں چلنا ہوتا ہے اور آج کل کا طواف تو لمبا بھی ہوتا ہے۔ رش میں بہت زیادہ مطلب ظاہر ہے چلنا پڑتا ہے۔ یعنی ایک طواف ستر اسی منٹ میں ہوتا ہے جب اوپر کرنا ہوتا ہے۔ وہ بھی اگر رش زیادہ نہ ہو تو۔ اور اگر رش زیادہ ہو تو پھر گھنٹوں پر بھی محیط ہو سکتا ہے نا۔ اس وجہ سے تھکن کا انسان خیال کر کے پھر، تو اس پر ہے۔

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو
پروانہ وار گھومنا ہی تیرا ہی حال ہو

اس گھر کے ساتھ دل کا لگانا اسے مطلوب
دیکھے اسے یہاں کوئی کس کی مجال ہو

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو
پروانہ وار گھومنا ہی بس تیرا حال ہو

چکر ہم اس کے گھر کے لگا سکتے ہیں جب آج
دیکھنا اُس کو اِس زندگی میں گر محال ہو

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو
پروانہ وار گھومنا ہی تیرا حال ہو

وہ ىاں کے حسىنوں مىں لگائے گا کىسے دل
ایماں سے اس کا جس کو مستحضرِ جمال ہو

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو

تم کس کے کمالات کے دلدادہ بنے ہو
اس نے ہی دیا ہے شبیر جو بھی کمال ہو

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو
پروانہ وار گھومنا ہی تیرا حال ہو

عشق اور عقل مىں تعلق

عشق دیوانگی سکھائے ہے
عقل کچھ راستہ بتائے ہے

عشق اور عقل میں تعلق ہو
ہوشِ دیوانگی پھر آئے ہے

گردِ کعبہ کے خوب گھوم جانا
یاد اس کی اگر ستائے ہے

راستہ یہ دل کا ہے اس پر جانا
تجھے محبوب سے ملائے ہے

وہ یہاں جی لگا سکے کیسے
خیال اس کا کوئی جمائے ہے

عشق دیوانگی سکھائے ہے
عقل کچھ راستہ بتائے ہے

تیرے اشعار تو موتی ہیں شبیرؔ
کون قلم پہ تیرے یہ لائے ہے

عشق دیوانگی سکھائے ہے
عقل کچھ راستہ بتائے ہے

عشق چھپا کر دىکھىں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں
اور اس میں کوشش خوب اپنا کر دیکھیں

عشق چھپائے کوئی کیسے ناداں
خیال اس کا بھی ذرا کر دیکھیں

عشق عاشق کے دل کی ہے آواز
کبھی تو اس کو سنا کر دیکھیں

عشق کے بول میں عشق پنہاں ہے
بول پیارے یہ ادا کر دیکھیں

عشق معشوق کا ہو منشا معلوم
پھر ذرا اس کو بھلا کر دیکھیں

مطلب یہ دیکھیں جب یہ بات سمجھ میں آ جائے کہ اللہ تم سے یہ چاہتا ہے۔ پھر اس کو آپ کیسے بھولیں گے اور آپ اس کے عاشق ہوں؟ عاشق تو معشوق کی بات نہیں بھول سکتا۔ تو جب تک اللہ کے ساتھ محبت نہیں ہو تو شریعت کے مسائل سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ اور جب یہ ہو جائے پھر اس کے بعد سبحان اللہ پھر آپ کو نہیں کوئی بتائے گا آپ خود ہی تلاش کریں گے۔

کسی نے کہا کہ شیخ کے ساتھ محبت کیسے ہوتی ہے؟ میں نے کہا اگر محبت ہو تو یہ خود ہی سکھا دے گی۔ اگر محبت ہو تو وہ خود ہی اس کے آداب سکھا دے گی۔

عشق سے معشوق کا ہو منشا معلوم
پھر ذرا اس کو بھلا کر دیکھیں

یہی ادراک ہوشِ دیوانگی ہے
شبیرؔ اس کو تو لا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

کچھ مزدور وہاں پر جو کام کر رہے ہیں حرم شریف میں، تو وہ ظاہر ہے لیٹے ہوئے تھے، وہ جو باہر صحن ہوتے ہیں۔ صبح یا نماز سے آ رہے تھے۔ ان کو دیکھا تو اس پہ یہ اشعار آئے۔

آج مزدور حرم کے دیکھے
کچھ تو جاگے اور کچھ لیٹے

تھکے ہارے بوٹ اتارے سب نے
کچھ سو رہے تھے اور تھے کچھ بیٹھے

کچھ ناشتہ کر رہے تھے باجماعت
اور کچھ کو دیکھا کہ وہ تنہا تھے

ایک رنگ کپڑے ایک ماحول میں سب
جدا جدا تھے سب کے رنگ اپنے

کاش ان کو قریب کر لیں ہم
کہ ہر ایک ان میں صحیح دین پر چلے

کہ ہر ایک ان میں اصل میں وہ پاکی ناپاکی کا بالکل پروا نہیں کر رہے تھے، اس طرح لیٹے ہوئے تھے، کپڑے ان کے گندے ہو رہے تھے۔ تھکے ہوئے بے شک تھے لیکن ظاہر ہے ان تمام چیزوں کا خیال تو رکھنا ہوتا ہے نا۔ دین تو مطلب آزادی کا نام نہیں ہے، پابندی کا نام ہے۔ تو یہ اس پر یہ بات آئی تھی۔

کاش ان کو قریب کر لیں ہم
کہ ہر ایک ان میں صحیح دین پہ چلے

ہاتھ مزدور کا جو چوما ہے آپ نے
کیوں سنتیں نہ اپنائیں آپ کے

حرمِ پاک کی اس قربت میں
کوئی مزدور بھی محروم نہ رہے

راہِ ادب کی حرم کی جانب ہو
اور مطابق اس کے سب کام کریں

یہاں کے قرب کی نماز کے لیے
پاکی ناپاکی کو بھی خوب جانیں

ان کے یہاں رہنے پہ شبیرؔ پھر تو
بلاشبہ سب کو رشک ہو جائے

اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کا قرب ضروری نہیں کہ سب کے لیے ٹھیک ہو۔ جب تک عشق نہیں ہو گا، محبت نہیں ہو گی قرب سے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے بے ادبی ہو گی، بے پروائی ہو گی، غفلت ہو گی، مسائل ہوں گے۔ کسی سے اگر ایک روپیہ کا نوٹ گر گیا نقصان ہے۔ پانچ کا گر گیا پھر بھی نقصان ہے۔ دس کا گر گیا پھر بھی نقصان ہے۔ ڈالر گر گیا پھر بھی نقصان ہے۔ پاؤنڈ گر گیا پھر بھی نقصان ہے۔ دینار گر گیا پھر بھی نقصان ہے۔ لیکن کیا یہ سارے نقصان برابر ہیں؟

تو کسی کی ستائیس نمازیں خراب ہو گئیں۔ کسی کی ایک لاکھ نمازیں خراب ہو گئیں۔ کسی کی ستائیس لاکھ نمازیں خراب ہوئیں، بتاؤ نقصان سب کا برابر ہے؟

تو شیطان پیچھے لگا ہوتا ہے وہ ان کی اتنی بڑی چیز کو ضائع کروا دیتا ہے۔ تو صرف وہاں پہنچنا ہی نہیں ہے، نہیں ہے بلکہ وہاں پہنچ کر صحیح طور پہ کام بھی کرنا ہے۔ تو یہ مطلب ان کیفیات کے ساتھ تھی۔

جاری ہے ان شاء اللہ