"اسلام میں اسباب و تدبیر کی اہمیت، توکلِ الی اللہ اور اتحادِ اُمت"

درس نمبر 308، سورہ الانفال آیات 59 تا 64، اشاعتِ اول: 6 نومبر، 2022، بمطابق 10 ربیع الثانی ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اللہ کی پکڑ سے کوئی کافر بچ نہیں سکتا۔
  • اللہ کے تشریعی حکم کے مطابق جائز اسباب اختیار کریں۔
  • انسان بہترین تدبیر کر کے نتیجہ خدا پر چھوڑے۔
  • مسلمانوں کو دیندار ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کی شدید ضرورت ہے۔
  • صلح کے معاہدے میں بھی دشمن کے دھوکے سے بچیں۔
  • دلوں کو آپس میں جوڑنا صرف اللہ کا فضل ہے۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ (59) وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (60) وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (61) وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ۙ (62) وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ (63) یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (64)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور کافر لوگ ہرگز یہ خیال بھی دل میں نہ لائیں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں۔ یہ یقینی بات ہے کہ وہ (اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتے ﴿59﴾

اصل میں واقعتاً یہ لوگ بہت وہ سمجھتے ہیں اپنے آپ کو کہ بس ہم تو آزاد ہو گئے اور مطلب یہ ہے کہ اب ہمارے اوپر کوئی وہ نہیں آئے گا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے، اللہ جل شانہ کی اپنی حکمت ہوتی ہے کہ کس وقت کسی کو پکڑتے ہیں۔ تو جس وقت وہ پکڑنے کا وقت آ جاتا ہے، پھر اس وقت اس سے کوئی بچ کے نہیں جا سکتا۔ یہاں پر

حاشیہ: یہ ان کافروں کی طرف اشارہ ہے جو جنگِ بدر کے موقع پر بھاگ نکلے تھے۔

ترجمہ: اور (مسلمانو!) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں، ان سے مقابلے کے لئے تیار کرو،

اسباب اور مسبب الاسباب، یہ دو باتیں ایک مسلمان کو ذہن میں رکھنی چاہئیں۔ اسباب اللہ پاک کی پیدا کردہ چیزیں ہیں، جو مطلب استعمال ہوتی ہیں۔ مثلاً میں پانی پیتا ہوں پیاس بجھانے کے لیے تو اللہ پاک نے اس کو سبب بنایا ہے۔ اور میں کھانا کھاتا ہوں تو پیٹ بھرنے کے لیے اللہ پاک نے اس کو سبب بنایا ہے۔ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ، اللہ پاک فرماتے ہیں ہم نے پانی سے ساری چیزوں کو پیدا کر لیا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اسباب اللہ نے چونکہ پیدا کیے ہیں۔ تو اللہ جل شانہ کی طرف سے اس قسم کے احکامات ہیں کہ ان اسباب کو استعمال کیا جائے۔ اللہ جل شانہ بغیر اسباب کے بھی کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے کبھی معجزات ہوا کرتے ہیں، کبھی کرامتیں ہوا کرتی ہیں، وہ بغیر اسباب کے ہوا کرتے ہیں۔ اس کے لیے سبب کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ یا بالکل سبب کے خلاف وہ کام ہو جاتا ہے۔ جیسے آگ جلاتی ہے لیکن ابراہیم علیہ السلام کے لیے گلزار بنائی گئی۔ پانی ڈبوتا ہے لیکن موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کے لیے اللہ پاک نے اس کو بچنے کا ذریعہ بنا دیا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اسباب اللہ کے حکم میں ہیں۔ پس اللہ پاک کا حکم ان اسباب کے مقابلے میں نہ آیا ہو۔ اللہ پاک کا تشریعی حکم، یہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیں بہت اہم بات ہے۔ اللہ تعالی کا تشریعی حکم اللہ پاک کے تکوینی حکم کے مقابلے میں اگر نہ ہو، یعنی اسباب کے مقابلے میں نہ آیا ہو۔ اس وقت اسباب کو استعمال کرنا ضروری ہے۔ لیکن اگر اللہ پاک کا حکم آ جائے، یعنی تشریعی حکم، اس وقت پھر پروا نہیں کرنی چاہیے۔ پھر اللہ جل شانہ کی طرف سے بات ہوتی ہے، وہمی باتوں کو ذہن میں نہیں لانا چاہیے۔ وہمی باتیں یہ ہوتی ہیں جیسے مثال کے طور پر میں اگر یہ کروں گا تو کیسے کھاؤں گا، میں یہ مطلب، اس طرح مطلب جو باتیں ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر سود کھانے سے ممانعت ہے، یہ اللہ کا حکم ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ سود نہ کھاؤ۔ تو اب یہ ہے کہ کوئی کہتا ہے کہ اس کے ذریعے سے مجھے پیسے ملتے ہیں، پیسوں کے ذریعے سے میں کھاتا ہوں اور یہ سبب ہے۔ تو میں سبب کو استعمال کیوں نہ کروں؟ ٹھیک ہے نا، مطلب ظاہر ہے یہ باتیں تو لوگ کرتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں چونکہ اللہ کا حکم آیا ہے کہ یہ سبب استعمال نہیں کرنا، یہ منع ہے۔ تو جب منع ہے تو اس وقت پھر میں اس سبب کو استعمال نہیں کروں گا، یعنی اللہ پاک کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح رشوت ہے۔ اس طرح یہ مطلب یہ ہے کہ اور اسباب ہیں بہت سارے۔ تو جن اسباب کا استعمال ناجائز ہے۔ یعنی اللہ پاک نے اس کو روکا ہے شریعت کے ذریعے سے، تو ان کو ہم استعمال نہیں کر سکتے۔ اور جن اسباب کو اللہ پاک نے جائز قرار دیا ہے،یا اس کا حکم دیا ہے۔ تو پھر ان کو تو استعمال کرنا ضروری ہے۔ پھر ضروری ہے۔ تو یہاں وہ ضروری اسباب ہیں جن کا ذکر آ گیا۔ ٹھیک ہے نا، مطلب یہاں پر یہ والی بات نہیں کہ اچھا کر لو تو اچھی بات ہے، نہیں وہ والی بات نہیں، یہاں یہ ضروری ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کا حکم بھی ہے یعنی ایک تو سبب کے طور پر اور ایک پھر اللہ پاک کے تشریعی حکم کے طور پر۔ یہ دونوں باتیں اکٹھی ہو گئیں۔ تو جب اکٹھی ہو گئیں تو ظاہر ہے اس کی ضرورت پھر اور زیادہ بڑھ گئی۔ تو یہاں پر دیکھیں اللہ پاک فرماتے ہیں:

ترجمہ: اور (مسلمانو!) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں، ان سے مقابلے کے لئے تیار کرو، (42) جن کے ذریعے تم اللہ کے دُشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کر سکو،

یہ حکمت بتا دی۔

ترجمہ: اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے،

یعنی اور اسباب بھی، جو ایسی چیزوں کے لیے ضروری ہیں۔ گھوڑے تو اس وقت کے لحاظ سے تھے نا، تو اس وقت تو کلاشنکوف نہیں تھی، اس وقت تو مطلب جہاز نہیں تھے۔ F-16 نہیں تھے۔ اس وقت تو مطلب اور بہت سارے وسائل جو اس وقت آج کل ہیں وہ نہیں تھے۔ تو اللہ پاک نے اس کا یعنی قیامت تک کے لیے ایک فقرہ رکھ دیا

ترجمہ: اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جنہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔

یہ وہ بات، اہم بات آ گئی۔

حاشیہ: (42) یہ پوری اُمتِ مسلمہ کے لئے ایک ابدی حکم ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شوکت قائم کرنے کے لئے ہر قسم کی دفاعی طاقت جمع کرنے کا اہتمام کرے۔ قرآن کریم نے ”طاقت“ کا عام لفظ استعمال کر کے بتا دیا ہے کہ جنگ کی تیاری کسی ایک ہتھیار پر موقوف نہیں، بلکہ جس وقت جس قسم کی دفاعی قوت کارآمد ہو، اُس وقت اُسی طاقت کا حصول مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ لہٰذا اس میں تمام جدید ترین ہتھیار اور آلات بھی داخل ہیں، اور وہ تمام اسباب و وسائل بھی جو مسلمانوں کی اجتماعی، معاشی اور دفاعی ترقی کے لئے ضروری ہوں۔

یہ بات ہے، اب میں آپ سے ایک بات عرض کروں گا۔ اللہ کرنے والا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اسباب اختیار کرنے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے۔ اب جہاں پر انسان کے اپنے نفس کی بات آ جاتی ہے نا تو وہاں یہ ترتیب آگے پیچھے ہو جاتی ہے۔ مثلا ڈاکٹر ہے، وہ بیمار کا علاج کرتا ہے۔ اس وقت ڈاکٹر یہ نہیں کہے گا کہ اللہ پاک اس کو ٹھیک کرے۔ یہ اپنے فرض سے وہ بھاگ رہا ہے۔ مطلب یہ اس وقت یہ نہیں کہہ سکتا۔ وہ اسباب کو پورا پورا اختیار کرے گا۔ جائز اسباب،
ناجائز کو نہیں۔ جائز اسباب جتنے بھی ہیں وہ ضرور اختیار کرے گا۔ اور پھر نتیجہ خدا پہ چھوڑے گا۔ یہ والی بات ہے۔ تو وہ اگر مطلب اس کی آڑ لے نا تو وہ اصل میں بات نہیں کیونکہ اللہ پاک نے اس کو مکلف بنایا ہے اس چیز کا۔ بالخصوص وہ اس کے پیسے بھی لے رہا ہے۔ تو یہ اس کے لیے تو ڈیوٹی ہے۔ تو اس میں وہ سستی نہیں کر سکتا۔ وہ یہ نہیں کر سکتا بس اللہ پاک کی مرضی ہے جو۔ بھئی وہ اللہ پاک کی مرضی ہے وہ خود بخود ہو جائے گی، وہ تمہیں پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تو ہو جائے گی۔ صرف یہ بات ہے کہ تمہارا کیا کام ہے۔ تو تمہارا کام یہاں پر تدبیر ہے۔ جو تدبیر تمہارے ذمے ہے وہ تمہیں کرنی پڑے گی، ہاں نتیجہ خدا پر چھوڑو گے۔ بہترین تدبیر کر کے نتیجہ خدا پر چھوڑو۔ اس طرح سکول میں استاد ہے۔ اب بچوں کو سبق پڑھا رہے ہیں۔ تو پہلے کوئی کہہ دے اللہ مالک ہے۔ بھئی وہ اس کی ڈیوٹی جو ہے اس ڈیوٹی کو پورا کرنا پڑے گا، وہ بچوں کو اپنا ٹائم دے گا، وہ صحیح سبق پڑھائے گا۔ اس کے بعد پھر نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس طرح یہ مکانوں کے معمار ہیں یا انجینئر ہیں یا جو بھی ہیں۔ مطلب ہر ایک کے لیے جو طریقہ کار ہے، اسباب ہیں، ان اسباب کو اختیار کرے گا۔ پھر اس کے بعد اللہ پاک تو یہاں پر جیسے فرمایا

حاشیہ: اور وہ تمام اسباب و وسائل بھی جو مسلمانوں کی اجتماعی، معاشی اور دفاعی ترقی کے لئے ضروری ہوں۔ افسوس ہے کہ اس فریضے سے غافل ہو کر آج مسلمان دوسری قوموں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں، اور ان سے مرعوب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس صورتِ حال سے نجات عطا فرمائے۔

ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالی حضرت کے درجات بلند عطا فرمائے، بہت وسیع نظر تھی۔ تو حضرت کے لیے کسی مدرسے کا عالم ہونا جتنا اہم تھا، اس طرح ڈاکٹر بننا، انجینئر بننا، سائنسدان بننا وہ بھی اتنا ہی اہم تھا۔ وہ باقاعدہ یعنی اس کو نہیں دیکھتے تھے کہ بس سارے عالم ہو جائیں۔ نہیں، اللہ تعالی نے جس کے لیے جو راستہ زیادہ بہتر بنایا ہے، وہی اختیار کرے۔ مثلا دین دار ڈاکٹر، دین دار انجینئر، دین دار scientist، اس کی کتنی ضرورت ہے؟ ابھی حضرت نے جیسے فرمایا کیا بات ہے۔ اب اگر ہم ان چیزوں میں، مثال کے طور پر یہ سارے لوگ عالم ہو جائیں۔ عالم سے مراد میں وہ نہیں کہتا ہوں فرض عین درجے کا علم، وہ تو سب کا ہونا چاہیے۔ فرض عین درجے کا علم سب پر فرض ہے۔ فرض کفایہ علم کی بات کرتا ہوں۔ اس کی بات کرتا ہوں۔ اب اگر یہ سارے عالم ہو جائیں اور کوئی بھی ان میں ڈاکٹر، انجینئر، scientist اور اس قسم کے نہ ہوں تو یہ اسباب کی دنیا کی کیا بات ہے؟ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں لکھا تھا کہ یہ مسلمان وہ حکیم نہیں بن رہے تو دیکھو نا ہم عیسائی حکیموں کے محتاج ہیں۔ اس وقت عیسائی بہت زیادہ حکمت۔۔ حکمت تو ویسے بھی ان میں تو تھی نہ، یہ مطلب ظاہر ہے وہ عیسیٰ علیہ السلام کو جو معجزات دیے گئے تھے وہ کون سے دیے گئے تھے؟ وہی حکمت والے تھے نا، وہ اللہ جل شانہ نے ان کو یہ دیے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کو جادو کے خلاف دیے تھے۔ تو یہ حکمت تو ان میں سے چلی آ رہی تھی۔ تو امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ وہ فرماتے تھے کہ ہم۔ یعنی ان کاموں میں جن میں ان کی ضرورت ہوتی ہے ہم ان کے محتاج ہیں۔ تو ہمیں ان چیزوں کو سامنے رکھنا پڑے گا۔ فرمایا کہ

ترجمہ: اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لئے کوئی کمی نہیں کی جائے گی ﴿60﴾ اور اگر وہ لوگ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اُس کی طرف جھک جاؤ،

یہ یہاں پر پھر جہاد والی بات آ گئی۔

حاشیہ: اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو دُشمن سے صلح کرنے کی بھی اجازت دی ہے، بشرطیکہ وہ ایسی شرائط پر ہو جو مسلمانوں کی مصلحت کے مطابق ہوں۔

یہ چیز ہے۔ یعنی اس طرح آنکھیں صلح میں بھی کھلی رکھنی چاہئیں۔ کیونکہ دشمن اس میں بھی دھوکا دے دیتا ہے۔ تو معاہدہ کرنے میں تمام چیزیں وہ خیال میں رکھنا کہ کوئی دھوکا تو نہیں ہو رہا۔ مطلب اس میں وہ۔ جیسے عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں ہے لَا يَخْدَعُ وَلَا يُخْدَعُ۔ نہ دھوکا دیتا ہے نہ دھوکا کھاتا ہے۔ ہر چیز کو اپنی اپنی جگہ پہ رکھنا۔

ترجمہ: اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ یقین جانو وہی ہے جو ہر بات سنتا، سب کچھ جانتا ہے ﴿61﴾ اور اگر وہ تمہیں دھوکا دینے کا ارادہ کریں گے تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کئے ﴿62﴾

اللہ جل شانہ ہم سب کو وہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ پاک ہم سے چاہتا ہے۔

ترجمہ: اور اُن کے دلوں میں ایک دوسرے کی اُلفت پیدا کر دی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کر لیتے تو ان کے دلوں میں یہ اُلفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا۔ وہ یقیناً اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ﴿63﴾

ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ دیکھو لسانی فرق اور طبقاتی فرق اور اس طرح قبائلی فرق، یہ ہوتے ہیں لوگوں میں، اس وقت بھی تھے۔ تو یہ جو اوس و خزرج کے قبائل تھے، آپس میں لڑائیاں ان کی تھیں ساری، قتل و مقاتلے ہوئے تھے، سارا کچھ ہو رہا تھا۔ ان کو جوڑنا کوئی آسان بات تو نہیں تھی۔ یہ ساری چیزیں موجود تھیں نا اس وقت۔ تو جیسے بلوچی، پنجابی، پٹھان، سندھی یہ آپس میں ہماری لگی رہتی ہیں چیزیں۔ تو اگر ہم دیکھیں۔ اس کو اللہ پاک اپنے فضل سے ختم کروا سکتا ہے۔ ظاہری اسباب تو ہم اختیار کریں گے۔ ظاہری اسباب تو ہم اختیار کریں گے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھائی چارہ اخوت کا وہ جو کیا، اس طرح ان کے درمیان مطلب وہ سارے وہ وہ الفت قائم کرنے کے جتنے راستے تھے ظاہری وہ پورے کیے۔ لیکن اللہ پاک نے اس کو اپنے فضل کے طور پر جتایا ہے۔ کہ تم بے شک ساری دنیا کی دولت بھی خرچ کر لیتے تو یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔ یہ صرف اللہ پاک نے کر دیا۔ تو اللہ پاک ہی تکمیل فرماتے ہیں انسان کے ارادوں کی۔

ترجمہ: اے نبی! تمہارے لئے تو بس اللہ اور وہ مؤمن لوگ کافی ہیں جنہوں نے تمہاری پیروی کی ہے ﴿64﴾

رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

"اسلام میں اسباب و تدبیر کی اہمیت، توکلِ الی اللہ اور اتحادِ اُمت" - درسِ قرآن - دوسرا دور