بچوں کا حج: شرعی حیثیت، طریقہ کار اور احکام
بَابٌ فِى التَّعَاوُنِ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوىٰ، درس نمبر: 272، اشاعتِ اول: 28 اپریل، 2023 بمطابق 7 شوال المکرم، 1444 ہجری
- بچے کے حج کا جواز اور والدین کے لیے اجر و ثواب
- سمجھدار اور کمسن (شیر خوار) بچے کے حج کا طریقہ
- بچے کے حج پر ائمہ کا اتفاق اور ایک غلط فہمی کا ازالہ
- بلوغت کے بعد فرض حج کی ادائیگی کا شرعی حکم
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
کیا بچہ حج کرسکتا ہے؟
(179) وَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ قَالُوْا: الْمُسْلِمُوْنَ، فَقَالُوْا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: رَسُوْلُ اللّٰهِ فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: أَلِهٰذَا حَجٌّ؟ قَالَ: نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ“ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ روحا (مقام) میں رسول اللہ ﷺ کو ایک قافلہ ملا، آپ ﷺ نے پوچھا کون لوگ ہیں؟ انہوں نے عرض کیا مسلمان ہیں۔ انہوں نے پوچھا آپ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں، پھر ایک عورت نے آپ کی طرف بچہ اٹھاتے ہوئے کہا کیا اس کا حج ہوسکتا ہے؟ فرمایا ہاں اور تجھے اس کا ثواب ملے گا۔“
تشریح: علماء کا اتفاق ہے کہ بچہ اگر حج کرے تو اس کا حج ہوجاتا ہے۔ اگر وہ محظورات احرام میں سے کسی چیز کا ارتکاب کرے تو دم یا فدیہ نہ بچہ پر واجب ہوتا ہے اور نہ اس کے ولی پر۔ اگر بچہ ممیز ہے تو وہ ارکان حج خود ادا کرے گا اور اگر غیر ممیز ہے تو اس کا ولی اس کی طرف سے نیت اور اس کے افعال کی نیابت کرے گا اور احرام کی ابتداء میں اس کے سلے ہوئے کپڑے اتار کر احرام پہنائے گا۔
تشریح: امام نووی رحمہ اللہ کا تسامح
تشریح: علامہ نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں کہا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بچہ کا حج درست نہیں ہے بچہ کا حج تو صرف ایک مشق ہے اس قول کی نسبت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی طرف بالکل صحیح نہیں۔
تشریح: بچہ کے حج کا ثواب اس کے ولی کو ہوگا
تشریح: بچہ نے حج کیا تو اب اس کا ثواب اس کے ولی کو ہوگا۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ شافعی ہیں نا، تو ان کا قول تو احناف کے لیے ہو بھی نہیں سکتا، ان کی طرف سے نمائندہ نہیں ہے۔
تشریح: بچہ نے حج کیا تو اب اس کا ثواب اس کے ولی کو ہوگا۔ اس پر بھی اتفاق ہے کہ بالغ ہونے کے بعد اگر صاحب نصاب ہے تو اب اس بچہ کو دوبارہ حج کرنا ہوگا۔ صرف داؤد ظاہریؒ کے نزدیک بچپن والا حج کافی ہوجاتا ہے۔
تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب الحج (باب صحة حج الصبی و اجر من حج به)، و امام مالک فی موطاه و احمد 1898/1 والنسائی و ابن حبان 3798 والحمیدی 504 ابوداؤد، ابن خزیمه 3049، والبیهقی 950/5 والطحاوی 256/2۔
تو بچہ جو ہے، جو حج کے لیے اگر کوئی لے جائے، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر وہ سمجھ دار ہے۔ اتنا کر سکتا ہے کہ نیت کر سکتا ہے اور یعنی اعمال وہ اس طرح کر سکے۔ تو خود وہ اپنی طرف سے کرے گا۔ یعنی مطلب ان کو بتایا جائے گا تو اس طرح کرے گا۔ جیسے ہم بچے کو نماز سکھاتے ہیں۔ تو اس طریقے سے حج کے افعال سکھائیں گے تو اس طریقے سے وہ کرے گا۔ لیکن اگر چھوٹا بچہ ہے infant ہے۔ وہ تو بالکل ہی مطلب ظاہر ہے کوئی نہیں جانتا۔ تو ایسی صورت میں والدین ان کی طرف سے نیت کریں گے۔ والدین ان کے وہ اعمال یعنی احرام وغیرہ پہنائیں گے۔ اور مطلب یہ ہے کہ سارے افعال ان کے، جو عرفات جانا اور مزدلفہ جانا وہ سب ظاہر ہے ان کے ساتھ ہی ہوگا۔ تو ان کی طرف سے کرے گا۔ لیکن وہ یہ ہے کہ اس کا جو اجر ہے وہ بھی ماشاءاللہ ان کے والدین کو ملے گا۔ تو یہ ماشاءاللہ اجر کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اور یہ بات ہے کہ اس کا جو حج ہے وہ صرف اور صرف مطلب اس کے لیے ہے۔ یعنی اجر کے لحاظ سے والدین کے لیے برکت ہے۔ لیکن یہ ہے کہ اگر وہ بالغ ہو جائے گا تو پھر اس کے اوپر اپنا حج فرض ہوگا۔ ہاں، داؤد ظاہری جو ایک امام ہے ظاہری، اس کے مسلک کا، تو ان کے نزدیک وہ ان کی طرف سے وہ حج ہو جاتا ہے، مطلب پھر دوبارہ نہیں کرنا پڑے گا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ