"تبدیلی کا قرآنی اصول: جب تک خود کو نہ بدلو، حالات نہیں بدلتے"
درس نمبر 307، سورہ الانفال آیات 49 تا 58، اشاعتِ اول: 4 اور 5 نومبر، 2022، بمطابق 8 اور 9 ربیع الثانی ، 1444 ہجری
- منافقین مسلمانوں کے اللہ پر بھروسے کو دھوکا سمجھتے تھے۔
- قوم اپنی حالت بدلے تو اللہ نعمت بدل دیتا ہے۔
- انسان کا خود کو بدلنے کا ارادہ کرنا لازمی ہے۔
- نفس کی خواہشات تباہی اور احکام پر عمل فائدہ ہے۔
- عقلمند نفس پر قابو پاتا اور بیوقوف تمنائیں کرتا ہے۔
- ملک کے موجودہ حالات ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہیں۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ (49) وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا ۙ الْمَلٰٓىٕكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ (50) ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ (51) كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِم ْؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (52) ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ (53) كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ (54)
ترجمہ: اور یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا، یہ کہہ رہے تھے کہ: ”ان (مسلمانوں) کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے“۔
حاشیہ: جب مسلمانوں نے بے سروسامانی کی حالت میں اتنے بڑے لشکر سے ٹکر لے لی تو منافقین نے کہا تھا کہ یہ اپنے دین کے گھمنڈ میں بڑا دھوکا کھا رہے ہیں، ان میں کفار مکہ کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔
ترجمہ: حالانکہ جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ سب پر غالب ہے، بڑی حکمت والا ہے ﴿49﴾ اور اگر تم دیکھتے (تو وہ عجیب منظر تھا) جب فرشتے ان کافروں کی روح قبض کر رہے تھے، اُن کے چہروں اور پشت پر مارتے جاتے تھے، (اور کہتے جاتے تھے کہ:) ”اب جلنے کے عذاب کا مزہ (بھی) چکھو! ﴿50﴾
ترجمہ: یہ سب کچھ اُن اعمال کا بدلہ ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیج رکھے تھے، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔“ ﴿51﴾ (ان لوگوں کا حال ایسا ہی ہوا) جیسا فرعون کی قوم اور ان سے پہلے لوگوں کا حال ہوا تھا۔ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو ماننے سے انکار کیا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔ یقیناً اللہ کی طاقت بڑی ہے (اور) عذاب بڑا سخت! ﴿52﴾ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ اُس نے جو نعمت کسی قوم کو دی ہو، اُسے اُس وقت تک بدلنا گوارا نہیں کرتا جب تک وہ لوگ خود اپنی حالت تبدیل نہ کر لیں ،
حاشیہ: یعنی اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کو عذاب سے اسی وقت بدلتا ہے جب کوئی قوم اپنی حالت کو خود بدل لیتی ہے۔ کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی نعمتیں عطا فرمائی تھیں جن میں سب سے بڑی نعمت یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کے درمیان مبعوث کیا گیا۔ اگر وہ اس وقت ضد سے کام لینے کے بجائے حق طلبی اور انصاف سے کام لیتے تو ان کے لئے اسلام قبول کرنا کچھ مشکل نہیں تھا، لیکن انہوں نے اس نعمت کی ناشکری کر کے اور ضد سے کام لے کر اپنی حالت کو بدل لیا، اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسلام قبول کرنے کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا، جس سے حق کو قبول کرنا ان کے لئے مشکل ہو گیا۔ جب انہوں نے اپنی حالت اس طرح بدل لی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی نعمتوں کو عذاب سے تبدیل کر دیا۔
یہ بہت، یعنی جس کو کہتے ہیں نا، سمجھانے والی آیت ہے ایک بات کی، کہ جب تک انسان خود اپنے آپ کو نہیں بدلنا چاہتا، یعنی ارادہ نہیں کرتا بدلنے کا، اس وقت تک ان کو اللہ بھی نہیں بدلتا۔ ارادہ اصل میں لازمی ہے۔ ہمارے پشتو میں بڑی عجیب و غریب ضرب الامثال ہیں۔ لیکن وہ پرحکمت ہیں، اگرچہ الفاظ ان کے اچھے نہیں ہیں لیکن پرحکمت ہیں۔ ان میں ایک ضرب المثل یہ بھی ہے کہ بربنډه په حجره ننوته نو ویل یې چې ای الله زما حیا وساتې۔ یعنی ننگی عورت حجرے کے اندر گھس گئی اور کہا یا اللہ میری حیا رکھ لینا۔ مطلب یہ ہے کہ جو عمل تو نے کیا ہے، اس میں حیا کیسے بچے گی۔ مطلب ایسی بات ہے۔ تو اس طرح بعض لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ وہ جو اپنے بدلنے کے احکام ہوتے ہیں، اس پر عمل نہیں کرتے اور پھر کہتے ہیں بس اللہ ہی ہمارے لیے سارا کچھ کر لے۔ تو اللہ پاک تو کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔ اس وجہ سے chances ہر ایک کے لیے ہیں۔ ہر ایک کو chances دیتا ہے لیکن یہ کہ جو avail کرے۔ تو اب اس میں یہ ہے کہ دیکھیں، سب سے بڑی بات انسان کی اپنے نفس کی خواہش۔ دوسرا اللہ پاک کا حکم، یہ دونوں ہر وقت مقابلے میں ہوتے ہیں۔ نفس کی خواہشات کا جو نتیجہ ہے وہ تباہی ہے عقلاً۔ اور اللہ پاک کے احکامات پر عمل کرنا ایمان والے کے لیے یہ سُبْحَانَ اللّٰهِ فائدہ ہی فائدہ ہے۔ عقل والے کے لیے۔ اب جب تک عقل موجود ہے، تو ہی انسان مکلف ہے۔ اگر عقل زائل ہو جائے، تو پھر انسان مکلف نہیں رہتا۔ تو لہٰذا سب سے بڑی بات ایمان لانے اور نہ لانے پر ہے، تو یہ بہت بڑا ارادہ ہوتا ہے۔ تو جو ایمان نہیں لاتا، اس کا ذمہ دار۔ جو لاتا ہے، اس کا اس کو فائدہ۔ اور پھر جب ایمان لاتا ہے، تو اس کے پھر تقاضے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ احکامات ہیں۔ تو جو ان احکامات پر عمل کرتا ہے، ان کے لیے فائدے کے وعدے ہیں۔ اور جو اپنے نفس کی خواہشات وہ کرتا ہے، تو ظاہر ہے، مطلب ہے کہ وہ تباہی ہے۔ اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ نے جو فرمایا ہے، عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بیوقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا، جو کرنا چاہتا تھا کرتا رہا، پھر بعد میں محض تمنائیں کرتا رہا۔ یہ تمناؤں پہ مسئلہ تبدیل نہیں ہوتا۔ اب اس وقت پورا ملک جل رہا ہے، لیکن جو لوگ اس کے جلنے پر خوش ہیں تو اس کو اللہ تعالیٰ کیوں تبدیل کرے گا۔ اور ظاہر ہے، مطلب ہے کہ جب تک انسان خود اپنا ارادہ نہ بدلے، اس وقت تک کیسے، مطلب یہ بات ہے۔ قانون تو یہی ہے۔ ہاں اللہ کا فضل ہو جائے تو علیحدہ بات ہے۔ تو اللہ کے فضل کے لیے بھی ارادہ اور دعا چاہیے نا۔ مطلب دعا تو کریں گے نا کم از کم، پھر اللہ پاک فضل، تو جو مانگتا بھی نہیں ہے تو پھر مجھے بتاؤ پھر کیا ہے۔ تو یہی اصل میں ہمیں ان چیزوں کو سیکھنا پڑے گا اور سمجھنا پڑے گا کہ یہ جو حالات ہیں، ہمارے خود اپنے اعمال کی وجہ سے ہم آگے پیچھے وہ لگ رہے ہیں۔ اللہ جَلَّ شانہ ہم سب کو ان حالات سے نکالے اور ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرمائے، اور اپنے ان ارادوں کو صحیح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو جائے۔
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (55) اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ (56) فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ (57) وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآىٕنِیْنَ (58)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: یقین جانو کہ اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والے جان داروں میں بدترین لوگ وہ ہیں جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لاتے ۔﴿55﴾
یہ 22 کے حاشیے میں اس کا جواب آگیا ہے۔
ترجمہ: یہ لوگ وہ ہیں جن سے تم نے عہد لے رکھا ہے، اس کے باوجود یہ ہر مرتبہ اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں، اور ذرا نہیں ڈرتے۔﴿56﴾
حاشیہ: اس سے مراد وہ یہودی ہیں جو مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معاہدہ فرمایا تھا کہ وہ اور مسلمان آپس میں امن کے ساتھ رہیں گے، اور ایک دوسرے کے دشمن کا ساتھ نہیں دیں گے۔ یہودیوں نے بار بار اس عہد کی خلاف ورزی کی تھی، اور خفیہ طور پر کفارِ مکہ کے ساتھ ساز باز کرتے رہتے تھے۔
ترجمہ: لہٰذا اگر کبھی یہ لوگ جنگ میں تمہارے ہاتھ لگ جائیں، تو ان کو سامانِ عبرت بنا کر اُن لوگوں کو بھی تتر بتر کر ڈالو جو ان کے پیچھے ہیں، تاکہ وہ یاد رکھیں ۔﴿57﴾
حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ اگر وہ کسی جنگ میں کھل کر مسلمانوں کے مقابلے پر آجائیں تو انہیں ایسا سبق سکھایا جائے کہ نہ صرف ان کو بدعہدی کا انجام پتہ لگ جائے، بلکہ جو کفار مکہ اُن کو پیچھے سے اُکساتے رہتے ہیں، ان کو بھی ایسی عبرت ہو کہ ان کے منصوبے تتر بتر ہوکر رہ جائیں۔
اور اگر تمہیں کسی قوم سے بدعہدی کا اندیشہ ہو تو تم وہ معاہدہ اُن کی طرف صاف سیدھے طریقے سے پھینک دو۔
حاشیہ: یہ اس صورت کا حکم بیان ہو رہا ہے جب ان لوگوں کی طرف سے کھلی بدعہدی تو نہ ہوئی ہو، لیکن اندیشہ ہو کہ کسی وقت وہ بد عہدی کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچا دیں گے۔ ایسے موقع کے لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واضح طور پر معاہدے کے ختم کرنے کا اعلان کر دیں، اور انہیں بتا دیں کہ اب ہم میں سے کوئی معاہدے کا پابند نہیں ہے، اور ہر فریق دوسرے کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے آزاد ہے۔ اسی بات کو معاہدہ ان کی طرف پھینکنے سے تعبیر کیا گیا ہے جو عربی محاورے میں اسی معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تاکید یہ کی گئی ہے کہ صرف دُشمن کی بدعہدی کے اندیشے کی بنا پر مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اعلان کے بغیر معاہدے کی خلاف ورزی کریں، کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
یعنی اَوْفُوا بِالْعُقُودِ، اپنے عہدوں کا پاس رکھو۔ تو مطلب یہ ہے کہ اگر عہد کیا ہے تو پھر اس کا پاس رکھنا چاہیے۔ اور اس کو توڑنا نہیں چاہیے اپنی طرف سے لیکن اگر ان کی طرف سے توڑے جانے کا اندیشہ ہو تو پھر اعلان کیا جائے کہ اب تمہارے ساتھ ہمارا معاہدہ نہیں ہے، تم بھی آزاد ہم بھی آزاد، تو وہ یہ اس قسم کی بات ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ جو بدعہد ہوتے ہیں، شرارتی ہوتے ہیں، تو وہ چونکہ اندرونی شرارتوں کے ذریعے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، تو پھر ان کو کھلے عام جب کہا جائے تو پھر وہ بزدل ہوتے ہیں پھر وہ کر نہیں سکتے۔ لیکن یہ ہے کہ اندر ہی اندر وہ چھپ چھپ کے وار کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان کے شرور سے محفوظ فرمائے۔ ابھی تک ہم اس کو بھگت رہے ہیں مطلب یہ جو ان کی شرارتیں ہیں، ان کے جو نقصانات ہیں اس وقت جو پاکستان میں ہو رہے ہیں یہ بھی انہی کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔
وَاخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعلَمِينَ