دینی کاموں میں باہمی تعاون اور حقوق کا بہترین توازن
بَابٌ فِى التَّعَاوُنِ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوىٰ، درس نمبر: 271، اشاعتِ اول: 27 اپریل، 2023 بمطابق 6 شوال المکرم، 1444 ہجری
- جہاد میں شرکت اور اجر میں شراکت
- حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بہترین مینجمنٹ *حصولِ علمِ دین میں صحابہ کرامؓ کا باہمی تعاون
- دین کی راہ میں جانے والوں کی اعانت کا ثواب
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
دو آدمیوں میں ایک اللہ کے راستہ میں جائے
(178) وَ عَنْ أَبِيْ سَعِيْدِ ۨالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِيْ لَحْيَانَ مِنْ هُذَيْلٍ فَقَالَ: ”لِيَنْبَعِثْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا وَ الْأَجْرُ بَيْنَهُمَا“ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ترجمہ: ”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہذیل کے بنو لحیان قبیلہ کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا کہ ہر دو آدمیوں سے ایک جہاد میں جائے ثواب میں دونوں شریک ہوں گے۔“
تشریح: کہ جو لوگ جہاد میں جائیں تو ان کو تو جہاد کا ثواب ملے گا ہی لیکن جو لوگ اپنے گھروں پر رہ کر ان مجاہدین کے گھر بار کی نگرانی اور ان کے اہل وعیال کی پرورش ودیکھ بھال کریں گے تو ان کو بھی مجاہدین جیسا ثواب ملے گا۔
اصل میں ہوتا یہ ہے کہ انسان کی اپنی ضروریات بھی ہوتی ہیں اور اللہ تعالی کا حکم بھی ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالی کا کوئی حکم ہمیں اپنی ضروریات میں غفلت پر مجبور نہیں کرتا۔ بلکہ جو حقوق اللہ ہیں، اس کے ساتھ حقوق العباد بھی ہوتے ہیں۔ حقوق العباد کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اگر اس قسم کی management ہو جائے کہ حقوق العباد بھی پورے ہو جائیں اور حقوق اللہ بھی پورے ہو جائیں، تو یہ best management ہے۔ تو اب جیسے جہاد کے لیے جانا تو ضروری ہے۔ تو اب یہ ہے کہ دو آدمی ہیں، دونوں بیک وقت نہیں جا سکتے، لیکن پیچھے مطلب ظاہر ہے نا، وہ family کی ضروریات ہیں اور چیزیں ہیں۔ تو دونوں چونکہ نہیں جا سکتے، تو ایک اگر جاتا ہے اور دوسرے کا وہ یعنی خود اپنے خاندان کا بھی خیال رکھے اور ان کے خاندان کا بھی خیال رکھے۔ یعنی تاکہ ان کو مسئلہ نہ ہو پیچھے۔ تو اس کو پھر چونکہ اس کا خیال رکھ رہا ہے، تو اس کو support کر رہا ہے، تو ایک کو جہاد میں جانے کا اجر مل رہا ہے، دوسرے کو اس کی اعانت کا اجر مل رہا ہے۔ تو اس طریقے سے دونوں کام ہو جاتے ہیں۔
یہی کام صحابہ کرام آپس میں اس طریقے سے بھی کرتے تھے کہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری ہوتی تھی۔ تو اگر دو ہوتے تھے بھائی، تو ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتا اور دوسرا وہ ظاہر ہے، گھر کے کام کاج کرتا۔ تو جب وہ ملتے، تو اب وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتا، وہ پوری کارگزاری سناتا کہ یہ ہو گیا، یہ ہو گیا، یہ ہو گیا۔ ساری بات سنا دیتا تو اس طرح ان کو بھی باتیں پہنچ جاتیں، اور باری باری اس کو تبدیل بھی کر لیتے تھے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو علم دین کے بھی سیکھنے کا مطلب اس طرح کا مسئلہ ہے۔ کہ اگر مطلب کوئی علم دین، فرض کفایہ علم دین کے حاصل کرنے کے لیے، کئی سال کے لیے جاتا ہے۔ تو پیچھے اگر کوئی اور ہے اور ان کا look after کر رہا ہے، تو ظاہر ہے ان کو اللہ پاک اس کا اجر دے گا۔ تو اصل میں بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے بتائے ہوئے طریقے میں تمام چیزوں کا انتظام ہوتا ہے۔ یعنی مطلب ان کا بھی ہوتا ہے جو جا رہا ہے، پیچھے والوں کا بھی ہوتا ہے، حقوق اللہ، حقوق العباد دونوں پورے ہوتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں کے ذریعے سے اس طریقے کو اپنانے کی مکمل توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔