معرکہِ حق و باطل: ثابت قدمی، اللہ کی مدد اور شیطان کا فریب
درس نمبر 306، سورہ الانفال آیات 42 تا 48، اشاعتِ اول: 2 اور 3 نومبر، 2022، بمطابق 6 اور 7 ربیع الثانی ، 1444 ہجری
- تکوینی اسباب سے اللہ نے حق کو واضح فرمایا۔
- دشمن کے سامنے ثابت قدمی اور ذکر کامیابی دلاتے ہیں۔
- باہمی جھگڑے سے کمزوری آتی اور رعب ختم ہوتا ہے۔
- انسان کو اپنی نیت میں کبھی کھوٹ نہیں لانا چاہیے۔
- شیطان اعمال مزین کر کے بیچ منجدھار چھوڑ جاتا ہے۔
- عاجلہ سے سب جبکہ آجلہ سے ایمان والے ڈرتے ہیں۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ ۙ وَ لٰـكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ (42) اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (43) وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (44)
ترجمہ: وہ وقت یاد کرو جب تم لوگ وادی کے قریب والے کنارے پر تھے، اور وہ لوگ دُور والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف۔
حاشیہ: یہ میدانِ جنگ کا نقشہ بتایا جا رہا ہے۔ ”بدر“ ایک وادی کا نام ہے، اُس کا وہ کنارہ جو مدینہ منورہ سے قریب تر ہے، اس پر مسلمانوں کا لشکر فروکش تھا، اور جو کنارہ مدینہ منورہ سے نسبۃً دُور ہے، اُس پر کفار کا لشکر تھا۔ اور قافلے سے مراد ابوسفیان کا قافلہ ہے جو اس وادی کے نیچے کی جانب ساحلِ سمندر کی طرف بچ کر نکل گیا تھا۔ تفصیل اس سورت کے شروع میں بیان ہوچکی ہے۔
ترجمہ: اور اگر تم پہلے سے (لڑائی کا) وقت آپس میں طے کرتے تو وقت طے کرنے میں تمہارے درمیان ضرور اختلاف ہوجاتا، لیکن یہ واقعہ (کہ پہلے سے طے کئے بغیر لشکر ٹکرا گئے) اس لئے ہوا کہ جو کام ہوکر رہنا تھا، اللہ اُسے پورا کر دکھائے، تاکہ جسے برباد ہونا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر برباد ہو، اور جسے زندہ رہنا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر زندہ رہے،
حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب ایسے پیدا فرما دیئے کہ کفارِ مکہ سے باقاعدہ جنگ ٹھن گئی، ورنہ اگر دونوں فریق پہلے سے جنگ کے لئے کوئی وقت طے کرنا چاہتے تو اختلاف ہو جاتا، مسلمان چونکہ بے سرو سامان تھے، اس لئے باقاعدہ جنگ سے کتراتے، اور مشرکین کے دلوں پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت تھی، اس لئے وہ بھی خواہش کے باوجود جنگ کو ٹلانا چاہتے۔ لیکن جب انہیں اپنا تجارتی قافلہ خطرے میں نظر آیا تو ان کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، اور مسلمانوں کے سامنے جب لشکر آ ہی گیا تو وہ بھی لڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ اسباب ہم نے اس لئے پیدا کئے کہ ایک مرتبہ فیصلہ کن معرکہ ہوجائے، اور اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی فتح و نصرت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کھل کر سامنے آ جائے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص کفر کر کے بربادی کا راستہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کے واضح ہونے کے بعد اختیار کرے، اور جو شخص اسلام لا کر باعزت زندگی اختیار کرے، وہ بھی اس واضح دلیل کی روشنی میں کرے۔
یعنی اللہ پاک نے تکوینی طور پر وہ اسباب پیدا فرما دیے کہ جس کے ذریعے سے مقابلہ ہو ہی گیا۔ اور مقابلہ ہونے کی وجہ سے جو بے سر و سامانی کی کیفیت میں مسلمانوں کی حالت تھی، وہ سب کے اوپر کھلی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود جب وہ جنگ یہ جیتے تو پتا چل گیا کہ اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہے۔ اور کفار اپنے زور شور سے آئے ہوئے تھے، باقاعدہ پلاننگ کر کے۔ ان کو نقصان ہوا، ان کو بہت سخت ہزیمت کا سامنا ہوا۔ تو اب یہ کہ جو مسلمان ہو گا، وہ بھی جانتا ہو گا کہ یہ کیا ہوا۔ اور جو کافر ہیں، وہ بھی جان رہے ہوں گے کہ یہ کیا ہے، تباہ ہو رہے ہیں تو خود اس کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں، اپنی شامتِ اعمال کی وجہ سے۔
ترجمہ: اور اللہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے ﴿42﴾ اور (اے پیغمبر!) وہ وقت یاد کرو جب اللہ خواب میں تمہیں اُن (دشمنوں) کی تعداد کم دکھا رہا تھا،
یعنی اللہ جل شانہ نے تکوینی طور پر ایسی صورت پیدا کی کہ خواب میں۔ وہ دشمن کم تعداد میں نظر آ رہے تھے۔
حاشیہ: آپ نے وہ خواب صحابہ کرامؓ سے بیان فرمایا، جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے۔ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی کا خواب چونکہ واقعے کے خلاف نہیں ہوسکتا، اس لئے بظاہر آپ کو لشکر کا ایک حصہ دکھایا گیا تھا، آپ نے اسی حصے کے بارے میں لوگوں کو بتایا کہ وہ تھوڑے لوگ ہیں۔ اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خواب میں جو چیز دکھائی جاتی ہے، وہ عالمِ مثال سے تعلق رکھتی ہے، عین وہ چیز مراد نہیں ہوتی جو خواب میں نظر آ رہی ہو، اسی لئے خواب میں تعبیر کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہٰذا خواب میں سارے لشکر کی تعداد اگرچہ واقعی کم دکھائی گئی، لیکن اس کی اصل تعبیر یہ تھی کہ یہ سارا لشکر بے حیثیت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تعبیر کا علم تھا، اور آپ نے یہ خواب صحابہؓ کے سامنے اس لئے بیان فرمایا تا کہ ان کے حوصلے بڑھ جائیں۔
بہرحال اس میں جو اصل بات ہے، وہ تو یہ ہے کہ اللہ پاک نے ایسا نظام بنا دیا کہ خواب میں کم دکھا دیا۔ تاکہ مسلمانوں کا حوصلہ بڑھے۔ تو یہ بات۔
ترجمہ: اور اگر تمہیں اُن کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو (اے مسلمانو!) تم ہمت ہار جاتے، اور تمہارے درمیان اس معاملے میں اختلاف پیدا ہو جاتا، لیکن اللہ نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ یقیناً وہ سینوں میں چھپی باتیں خوب جانتا ہے ﴿43﴾ اور وہ وقت یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے تو اللہ تمہاری نگاہوں میں اُن کی تعداد کم دکھا رہا تھا، اور اُن کی نگاہوں میں تمہیں کم کر کے دکھا رہا تھا
حاشیہ: یہ اُس خواب کے علاوہ بیداری کا واقعہ ہے جو عین اُس وقت پیش آیا جب دونوں لشکر آمنے سامنے آ گئے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کچھ ایسی کیفیت طاری فرما دی کہ کفار کا وہ لشکرِ جرار ان کو بہت معمولی محسوس ہوا۔
اور دوسری طرف جو کفار تھے۔ ان کو بھی کم، مطلب، تعداد مطلب، نظر آ رہے تھے تو وہ ظاہر ہے، ورنہ بھاگ جاتے۔ تو ان کو مروانا تھا۔
ترجمہ: تا کہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اُسے پورا کر دکھائے۔ اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ﴿44﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو اللہ پاک کی یہ تمام حکمتوں کو سمجھنے کی اور جو اللہ پاک سمجھانا چاہتا ہے، اور اس کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (45) وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ (46) وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (47) وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (48)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو، تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو ﴿45﴾ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے، اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ اور صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ﴿46﴾
یہاں پر یہ جو حکم دیے گئے ہیں کہ کس طرح یعنی انسان کو مختلف حالات میں رہنا چاہیے۔ تو ایمان والوں سے خطاب ہے کہ اگر مقابلہ ہو جائے کسی گروہ سے تو ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے۔ لیکن صرف یہ کافی نہیں ہے بلکہ اللہ پاک کا کثرت سے ذکر بھی کرنا چاہیے کیونکہ اس سے للہیت قائم رہے گی اور وہ ثابت قدمی اللہ کے لیے ہوگی۔ تو اس کے ذریعے سے کامیابی حاصل ہوگی۔ اور اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے کیونکہ یہی ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ اور اس کو نقصان دینے والی چیز یعنی آپس میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے کمزوری آتی ہے اور انسان کا رعب ختم ہوتا ہے۔ اور استقامت یعنی صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ترجمہ: اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے، اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے تھے، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روک رہے تھے۔
حاشیہ: اس سے مراد کفارِ قریش کا وہ لشکر ہے جو جنگِ بدر کے موقع پر بڑا اکڑتا اتراتا اور اپنی شان و شوکت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نکلا تھا۔ سبق یہ دینا ہے کہ جنگی طاقت کتنی بھی ہو، اُس پر بھروسہ کر کے تکبر میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے، بلکہ بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر رکھنا چاہئے۔
ترجمہ: اور اللہ نے لوگوں کے سارے اعمال کو (اپنے علم کے) احاطے میں لیا ہوا ہے۔
حاشیہ: بظاہر اخلاص سے کام کرتا نظر آتا ہے، لیکن اُس کی نیت دکھاوے کی ہوتی ہے، یا اس کے برعکس بعض مرتبہ کسی شخص کا انداز بظاہر دکھاوے کا ہوتا ہے (جیسے دشمن کو مرعوب کرنے کے لئے کبھی طاقت کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے) لیکن وہ اخلاص کے ساتھ بھروسہ اللہ ہی پر کرتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو تمام اعمال کی اصل حقیقت کا پورا پورا علم ہے، اس لئے وہ ان کی جزا یا سزا کا فیصلہ اپنے اسی علمِ محیط کی بنیاد پر فرمائے گا، محض ظاہری حالت کی بنیاد پر نہیں
یعنی انسان جو بھی کرتا ہے تو اس کی جو اصل نیت ہے وہ اللہ کو معلوم ہوتی ہے۔ تو اس کو وہ خیال میں رکھنا چاہیے کہ کبھی بھی اپنی نیت میں کھوٹ نہیں لانا چاہیے۔
ترجمہ: اور وہ وقت (بھی قابلِ ذکر ہے) جب شیطان نے ان (کافروں) کو یہ سمجھایا تھا کہ ان کے اعمال بڑے خوشنما ہیں، اور یہ کہا تھا کہ: ”آج انسانوں میں کوئی نہیں ہے جو تم پر غالب آسکے، اور میں تمہارا محافظ ہوں“ ۔
یعنی دیکھیں شیطان ظالم جو ہے وہ انسان کو بیچ منجدھار جا کے چھوڑتا ہے۔ کیوں کر تو کچھ نہیں سکتا، یہ تو صرف وسوسہ ڈال سکتا ہے نا۔ تو وسوسہ مختلف طریقوں سے ہوتا ہے، کبھی مایوس کر کے، کبھی اپنے اوپر زیادہ ناز کر کے اور اپنے کاموں کو اچھا سمجھ کر، مختلف طریقوں سے وسوسہ۔ تو یہ بھی ایک وسوسہ ہی تھا۔ لیکن ظاہری طور پر وہ سامنے آئے تھے۔ تو کیونکہ شیطان کا بڑا کام یہ ہے وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ یعنی شیطان ان کے اعمال ان کے لیے مزین کر لیتا ہے۔ تو پہلے تو ان کو بتایا کہ تمہارے یہ کام بہت اچھے ہیں اور آج انسانوں میں کوئی ایسا نہیں جو تم پر غالب آ سکے اور میں ساتھ تمہارا محافظ بھی ہوں۔ تو یہ مطلب ہے کہ
حاشیہ: شیطان کی طرف سے یہ یقین دہانی اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ اس نے مشرکین کے دل میں یہ خیال ڈالا ہو، لیکن اگلے جملے میں جو واقعہ ذکر فرمایا گیا ہے، اس سے ظاہر یہی ہے کہ اُس نے کسی انسانی شکل میں آکر مشرکین کو اکسایا تھا۔ چنانچہ حافظ ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جب مشرکینِ مکہ جنگ کے ارادے سے روانہ ہونے لگے تو انہیں یہ خطرہ لاحق ہوا کہ ان کے پیچھے ان کے گھروں پر قبیلہ بکر کے لوگ حملہ نہ کر دیں جن سے ان کی پرانی دشمنی چلی آتی تھی۔ اس موقع پر شیطان اس قبیلے کے ایک سردار سراقہ کے رُوپ میں ان کے سامنے آیا، اور اس نے اطمینان دلایا کہ تمہارے لشکر کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کوئی تم پر غالب نہیں آسکے گا، اور دوسرے یہ کہ تم ہمارے قبیلے کی طرف سے بے فکر رہو، میں خود تمہارا محافظ ہوں، اور تمہارے ساتھ چلوں گا۔ مشرکین مکہ اس کی بات سے مطمئن ہو گئے۔ لیکن جب بدر کے میدان میں فرشتوں کا لشکر سامنے آیا تو شیطان جو سراقہ کی شکل میں ان کے ساتھ تھا، یہ کہہ کر بھاگ کھڑا ہوا کہ میں تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتا، اور مجھے وہ فوج نظر آرہی ہے جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ بعد میں جب مشرکین کا لشکر شکست کھا کر مکہ مکرمہ لوٹا تو انہوں نے سراقہ سے شکایت کی کہ تم نے ہمیں بڑا دھوکا دیا۔ سراقہ نے جواب میں کہا کہ مجھے تو اس قصے کا ذرا بھی پتہ نہیں، اور نہ میں نے ایسی کوئی بات کہی تھی۔
تو شیطان تو ہے ہی دھوکے باز، مطلب اس کا کام کیا ہے؟ وہ تو دھوکہ ہی دینا ہوتا ہے نا، تو دھوکہ کسی بھی صورت میں دے سکتا ہے۔ تو special condition میں مطلب اس نے بالکل وہی رخ اختیار کر لیا ہو۔ تو یہ کوئی بعید تو نہیں ہے۔ تو یہ بات اس میں اس کے ساتھ ہے۔
ترجمہ: پھر جب دونوں گروہ آمنے سامنے آئے تو وہ ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹا، اور کہنے لگا: ”میں تمہاری کوئی ذمہ داری نہیں لے سکتا، مجھے جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ تمہیں نظر نہیں آرہا۔ مجھے اللہ سے ڈر لگ رہا ہے، اور اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔“ ﴿48﴾
دیکھیں ڈر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ڈر جو ہوتا ہے وہ جس کو عاجلہ کہتے ہیں۔ ایک ڈر ہوتا ہے عاجلہ، تو آخرت میں جو ڈر ہے وہ تو ظاہر ہے یعنی بعد میں آئے گا تو اس سے تو جیسے شیطان بے خوف ہے اس طرح شیطانی لوگ بھی بے خوف ہیں۔ وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ لیکن جو عاجلہ ہوتا ہے نا جیسے انسان کے فوراً سر کے اوپر آ جاتا ہے تو اس سے سارے لوگ ڈرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی سانپ آ جائے، کوئی شیر آ جائے، یا کوئی اور تو یہ عاجلہ والا ڈر ہوتا ہے، تو عاجلہ سے سب لوگ ڈرتے ہیں۔ البتہ آجلہ سے مثلاً جہنم سے اور وہاں کی رسوائی سے، اس سے سارے لوگ نہیں ڈرتے۔ اس سے وہ ڈرتے ہیں جو ایمان والے ہوتے ہیں۔ اب شیطان تو ایمان والا ہے نہیں، وہ تو اس سے نہیں ڈر رہا۔ لیکن وہ جو فرشتے آ گئے نا، وہ عاجلہ والی بات، وہ سامنے کی بات تھی۔ تو اس نے کہا کہ میں جو دیکھ رہا ہوں وہ تمہیں نظر نہیں آ رہا۔ تو ایڑیوں کے بل وہ واپس ہو گیا۔ ورنہ اس کو تو ظاہر ہے اگر ڈر ہو تو آج توبہ کر لے اور سارا کچھ معاف کروا دے، لیکن یہ ہے کہ وہ چیز تو اس کو ہے نہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسے برے انجام سے محفوظ فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ