فکرِ آخرت اور اصلاح و محاسبۂ نفس کے بنیادی اصول
خطبات الاحکام، خطبہ نمبر: 36، مراقبہ و محاسبہ وغیرہ کے بیان میں، اشاعت اول: 28 مئی، 2021 بمطابق 16 شوال، 1442 ھ
- آخرت میں کامیابی اور عذاب جہنم سے نجات کے لیے غفلت سے نکل کر نفس کا کڑا محاسبہ کرنا لازمی ہے۔
- دنیا دار العمل ہے جہاں انسان جو بھی کام کر رہا ہے اس کا اصل اور حتمی نتیجہ آخرت میں ظاہر ہوگا۔
- انسان کو اپنی destination کا واضح علم ہونا چاہیے تاکہ وہ جان سکے کہ اس کے اعمال سے اللہ خوش ہو رہا ہے یا نفس۔
- ایمان کو خراب کرنے والے مخفی دجالی پروگراموں سے بچنے کے لیے غفلت سے نکل کر عقل اور ہمت کو استعمال کرنا لازمی ہے۔
- کائنات کی نشانیوں میں ذکر اور فکر کرنے سے انسان کو زندگی کے مقاصد اور عذاب جہنم سے بچنے کی سمجھ حاصل ہو جاتی ہے۔
- منزل کے حصول کے لیے انسان کو مرابطہ کے تحت خود کو پابند کر کے نفس پر مشارطہ کی صورت کڑی شرائط عائد کرنی پڑتی ہیں۔
- نفس کو گناہوں سے بچانے کے لیے اس کی مستقل نگرانی مراقبہ ہے اور وقت مقررہ پر اپنے اعمال کا حساب لینا محاسبہ ہے۔
- کوتاہی پر نفس کو مشقت میں ڈال کر سزا دینا معاقبہ ہے اور گزشتہ کی تلافی کے لیے دائمی وظیفہ مقرر کرنا مجاہدہ ہے۔
- آخرت کے اٹل قوانین اور حساب کتاب سے قبل انسان کو دنیا میں ہی اپنے اعمال کا کڑا جائزہ لے کر انہیں تول لینا چاہیے۔
- نفسانی خواہشات ایمان کی جانچ ہیں اور اللہ کے خوف سے نفس کو ان سے روکنا ہی جنت میں داخلے کی ضمانت ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
﴿يٰاَيُّهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَّ اتَّقُوا اللهَ ۚ إِنَّ اللهَ خَبِيْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴾ (الحشر: 18)
وَ قَالَ تَعَالٰی: ﴿وَ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْـهَـوٰى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى﴾ (النازعات: 40-41)
قَالَ اللهُ تَعَالٰى: ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾ (غافر: 19)
وَ قَالَ تَعَالٰی: ﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ﴾ (القصص: 50)
وَ عَنْ اَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ دَخَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَ ھُوَ یَجْبِذُ لِسَانَهٗ، فَقَالَ عُمَرُ: ''مَهْ، غَفَرَ اللهُ لَكَ، فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ: إِنَّ ھٰذَا أَوْرَدَنِيَ الْمَوَارِدَ''۔ (موطأ مالک، رقم الحدیث: 3621)
وَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ''وَ الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاہَدَ نَفْسَهٗ فِيْ طَاعَةِ اللہِ''۔(شعب الإيمان للبیھقي، رقم الحديث: 10611)
وَ قَالَ عُمَرُ: ''حَاسِبُوْا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا، وَ زِنُوْا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوْزَنُوْا''۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم الحدیث: 34459)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
بزرگو اور دوستو! اور معزز خواتین و حضرات۔ اس وقت ہم دار العمل میں ہیں، یعنی جو کام بھی ہم کر رہے ہیں اس کا صلہ ہمیں وہاں پر ملے گا، یہاں پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے لیکن اس کا جو اصل اثر ہے وہ وہاں پر ہو گا۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اس کا اثر وہاں کیا پڑ رہا ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ اسی سے فقاہت کے راستے نکلتے ہیں۔
فقاہت کہتے ہیں اصلی سمجھ کو یعنی انسان یہ جانتا ہو کہ اس کو کس چیز سے نفع ہوتا ہے اور کس چیز سے اس کو نقصان ہوتا ہے۔ اور پھر اس کی تفصیلات بھی وہ جانتا ہے کہ نقصان سے بچنا کیسے ہے اور فائدہ کیسے حاصل کرنا ہے، یہ فقاہت ہے۔ تو ظاہر ہے پہلے جب تک انسان کو destination کا پتا نہیں ہو گا اپنے مقصد کا پتا نہیں ہو گا اپنی منزل کا پتا نہیں ہو گا تو کیسے یہ سوچ سکتا ہے کیسے جان سکتا ہے کہ میں جو کر رہا ہوں وہ اچھا ہے یا برا ہے۔ کیونکہ ہر چیز کا اپنا اپنا نتیجہ ہوتا ہے، مثلاً: میں جو بھی کام کر رہا ہوں تو یا اس سے اللہ خوش ہو گا یا میرا نفس اور شیطان خوش ہو گا۔ اب خوش ہونے میں تو دونوں یکساں ہیں، مطلب میں کہتا ہوں اب اگر مقصد اللہ کو خوش کرنا ہو گا تو نتیجہ بھی الگ ہے اور راستہ بھی الگ ہو گا۔ اور اگر مقصد نفس اور شیطان کو خوش کرنا ہو گا تو نتیجہ بھی الگ ہو گا اور راستہ بھی الگ ہو گا۔ تو اس وجہ سے سب سے پہلے ہمیں اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ ہم چاہتے کیا ہیں۔
اب ظاہر ہے یہ جو بات ہے اس بات کو سمجھنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہے اور غفلت سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ بعض دفعہ انسان کے پاس عقل ہوتی ہے لیکن وہ غافل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے اس کے پاس ہی سانپ پڑا ہوا ہے اور اس کو ڈسنے کو قریب ہے لیکن یہ غافل ہے اس کو پتا نہیں کہ سانپ میرے قریب اتنا آ گیا ہے۔ تو اپنی غفلت کی وجہ سے مارا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اس کو اور عقلمند بھی ہے اگر وہ اس کو پتا چل جائے تو بچ جائے گا، jump لگا دے گا یا سانپ کو مار دے گا یا کچھ اور کر لے گا لیکن بہرحال اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ لیکن غافل نہیں ہو گا تو بچا سکے گا نا، غافل ہو گا تو کیا اس کو پتا ہی نہیں ہو گا۔
اب اس وقت میں کیا کہوں۔ یعنی پورے عالم میں، پوری دنیا میں، مسلمانوں کے خلاف دجالی پروگرام بن رہے ہیں۔ جو ایمان کو ڈسنے والے ہیں، ایمانوں کو خراب کرنے والے ہیں۔ اور وہ بہت ہی جس کو کہتے ہیں مخفی طریقے سے آتے ہیں، باقاعدہ plannings بنتی ہیں، ان کے approvals ہوتے ہیں، ان کے لیے funds جاری ہوتے ہیں، ان کے لیے plannings ہوتی ہیں، ان کے لیے آپس میں coordinations ہوتی ہیں، یہ ساری چیزیں ہیں لیکن ہمیں پتا نہیں چل رہا۔ کیونکہ ہم غافل ہیں۔ تو ہم لوگوں کو پہلے غفلت سے نکلنا ہو گا۔
جب غفلت سے انسان نکل جائے پھر اس کے بعد عقل کو استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اور جب عقل استعمال ہو جائے تو پھر اس کے بعد ہمت کرنی پڑتی ہے۔ یعنی انسان اگر عقل استعمال بھی کر لے، راستہ معلوم بھی ہو جائے، طریقہ معلوم بھی ہو جائے، لیکن ہمت ہی نہ کرے، تو کیا کرے! تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ نتیجہ اس وقت تک برآمد نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس مطلوبہ چیز پر ہمت نہ استعمال کی جائے۔ تو اس کے لیے پھر ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
تو اب یہاں پر ہماری تمام چیزیں سامنے آ جاتی ہیں کہ عقل کے استعمال کے لیے کہ ہمیں منزل معلوم ہو، اور منزل معلوم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم غافل نہ ہوں۔ اور ہمیں ہر وقت یہ معلوم ہوتا رہے کہ کوئی ہمارے خلاف کیا کر رہا ہے۔ ہمیں منزل سے دور لے جا رہا ہے یا منزل کے قریب کر رہا ہے، اس کے بارے میں ہمیں انفارمیشن ہو۔ ہم الرٹ ہوں۔ اور پھر اس کے بعد پھر یہ ہے کہ ہم اپنی عقل کو استعمال کر لیں کہ اس سے ہمیں کیسے نمٹنا ہے۔ اور پھر جس وقت سمجھ میں آ جائے عقل کی، تو پھر اس کے بعد اس پر ہمت بھی کرنی ہو گی اور وہ کام کرنا ہو گا تاکہ وہ نتیجہ حاصل ہو جائے۔
اب مثال کے طور پر ایک سٹوڈنٹ ہے۔ وہ اس کا کوئی دشمن ہے، لیکن دوست کی صورت میں ہے۔ اس کے سامنے مختلف چیزیں لاتا ہے گپ شپ کی۔ اور وہ گپ شپ میں اس کو لا کے اس کو study سے ہٹانا چاہتا ہے۔ تو وہ غافل ہے۔ اس کو پتا نہیں ہے۔ اب اگر وہ اس کو پتا چل جائے تو اب اس کو اس دشمن سے نمٹنے کے لیے تاکہ لڑائی بھی نہ ہو اور انسان بچ بھی جائے، عقل استعمال کرنی ہو گی۔ اور عقل جب استعمال ہو گئی تو پھر ہمت کرنی پڑے گی، اس سے بچنا پڑے گا اور پھر پڑھنا بھی پڑے گا، یہ تمام کام مطلب ظاہر ہے ہمارے سامنے۔
تو اس لحاظ سے اگر ہم دیکھیں، تو ہم لوگوں کو بہت اچھی طرح یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہماری منزل کیا ہے۔ تو ہماری منزل کیا ہے؟ وہ آخرت میں کامیابی ہے۔ آخرت میں کامیابی ہے۔
اللہ جل شانہ نے قرآن پاک میں اس کو ارشاد فرمایا:
اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِاُولِي الْاَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّٰهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
بیشک اس کائنات کے اندر اور دن رات کے تبدیل ہونے میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور یہ عقلمند کون لوگ ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرنے والے ہیں اور کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے والے ہیں۔ اور پھر ان کے دل سے نعرہ نکلتا ہے: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا، اے رب ہمارے! تو نے ان تمام چیزوں کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا، یہ سمجھ ہے۔ ذکر و فکر سے سمجھ آ گئی۔ ذکر اور فکر سے سمجھ آ گئی۔ یعنی گویا کہ ان نشانیوں کے اندر ماشاءاللہ عقلمندوں کے لیے ایک راستہ ہے۔ پھر اس کے بعد وہ ذکر و فکر کرتا ہے اور ذکر و فکر کے ذریعے سے وہ اس منزل کو پا لیتے ہیں، یعنی سمجھ حاصل کر لیتا ہے۔ اور سمجھ کیا ہے؟ یہ ہر چیز کا باقاعدہ ایک پورا اثر ہے، اور اس کے فوائد ہیں، اس کے مسائل ہیں، یہ ساری چیزیں ان کو معلوم ہو گئیں۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا، یہ تمام چیزیں اس کو بے فائدہ نہیں، سورج کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا، چاند کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا۔ پیسے کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا، اس طرح یہ تمام جتنی بھی چیزیں ہیں ان تمام چیزوں کی یعنی اصل مقاصد اور ضرورتیں سمجھ میں آ جاتی ہیں۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا، سُبْحَانَكَ، تو پاک ہے، ان تمام چیزوں سے تو پاک ہے۔ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، پیدا تو نے کی ہیں لیکن پاک تو ہے اس سے، تجھ پر یہ کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ پس ہمیں عذاب جہنم سے نجات عطا فرما، یہ اصل میں ہمارا ٹارگٹ ہے کہ ہم عذاب جہنم سے بچ جائیں۔
تو اس کے لیے ہمیں وہ راستے اختیار کرنے پڑیں گے جو کہ ہمیں عذاب جہنم سے بچا دیں اور اللہ تعالی کا بنا دیں۔ تو اللہ جل شانہ نے اس کے لیے ہمیں ارشاد فرمایا ہے۔
يَا اَيُّهَا الَّذِينَ اَمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ۔
اے مومنو! اللہ سے ڈرو۔
وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰهَ۔
اور چاہیے کہ ہر شخص اس کی دیکھ بھال کرتا رہے کہ اس نے کل یعنی قیامت کے واسطے کیا بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔
إِنَّ اللّٰهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ،
بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی خوب خبر رکھتا ہے۔
پس ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں دیکھ بھال کرتے رہنا چاہیے اپنے اعمال کی۔ اپنے اعمال کو ٹٹولنا چاہیے۔ اپنے دل کو ٹٹولنا چاہیے کہ اس میں کیا ہے۔ کس چیز سے محبت ہے، کس چیز سے دشمنی ہے۔ اپنے دماغ کو ٹٹولنا چاہیے کہ کیا سوچ رہا ہے۔ اپنے ہاتھ پاؤں کو دیکھنا چاہیے کہ کیا کر رہے ہیں۔ نماز کو دیکھنا چاہیے کہ میں کیسے پڑھ رہا ہوں۔ اور لوگوں کے ساتھ میرے تعلقات کیسے ہیں۔ آیا مجھے گناہ گار بنا رہے ہیں یا میرے لیے مفید ہیں۔ ان تمام باتوں کی دیکھ بھال کرنی ہوگی، معمولات کی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔ کیونکہ اللہ کو پتا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں، اللہ پاک کو in details پتا ہے۔ direct بھی پتا ہے۔ اور پورا ایک نظام اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے ثابت کرنے کے لیے تاکہ لوگوں کے اوپر ثابت ہو جائے۔ تو اس کے لیے اللہ پاک نے کراماً کاتبین کا ایک نظام بنایا ہوا ہے۔ اور اللہ جل شانہ نے، ماشاءاللہ ہمارے جو جسم کے اعضاء ہیں وہ record کر رہے ہیں ساری چیزیں۔ تو ہمیں اس کا حساب دینا ہوگا۔
تو اس کو مزید تفصیل سے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتایا ہے اور اللہ جل شانہ نے مختلف آیات کریمہ میں قرآن پاک کی اس کو بتایا ہے۔ تو اس کے لیے ایک پورا ایک سسٹم chalk out کرنا پڑے گا، طریقہ کار متعین کرنا پڑے گا۔ غور و فکر کا اور اس چیز کو حاصل کرنے کا ایک پورا طریقہ کار مرتب کرنا پڑے گا۔ تو اگر ہم شروع سے دیکھ لیں کہ جب تک ہم باقاعدہ اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند نہ کریں تو اس وقت تک وہ کام نہیں ہو سکتا۔ یعنی پہلے determine کرنا ہوتا ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے اپنا ذہن تیار کرنا ہوتا ہے۔ اور پھر ہم اپنے آپ کو اس کے لیے پابند کر لیتے ہیں کہ میں نے فلاں وقت میں فلاں کام کرنا ہے۔ ٹائم ٹیبل جیسے ہوتا ہے ہم بنا لیتے ہیں، اپنے آپ کو پابند کر لیتے ہیں کہ ہم نے یہ کام کرنا ہے۔
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ ہم لوگ یہاں پر اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں تو کوئی آ کر کہتا ہے جی ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ اب اس وقت ہم ملاقات کے لیے وقت نہیں دے سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو پابند کر لیا ہے وہ جو کام کرنا ہے، اگر وہ ہم اس طرح ملاقاتیں درمیان درمیان میں کرنی ہوں گی تو پھر وہ کام نہیں ہو سکے گا۔ اب لوگوں کو اس کا پتا نہیں ہوتا ناراض بھی ہو جاتے ہیں کہ دیکھو نا کہ ہم اتنی دور سے آئے ہمیں ملے بھی نہیں۔ بھئی کیسے ملیں، اگر اس طرح ملتے رہیں تو پھر کام کیسے ہوگا۔ تو اس کے لیے ظاہر ہے، ماشاءاللہ پہلے سے ہی اگر آنا ہے تو دو دن پہلے سے appointment لے لیں۔ تو پھر اس کے لیے طے کر لیں گے ٹائم دے دیں گے ان کو، جب ٹائم دے دیں گے تو اس کے لیے ہم اپنے آپ کو پابند کر لیں گے۔
اب یہاں پر یہ ہوتا ہے کہ ہم سے تو ٹائم لے لیتے ہیں بعض لوگ، ہمیں پابند کر لیتے ہیں خود پھر نہیں آتے جی اوہ جی فلاں یہ کام ہو گیا، یہ کام ہو گیا۔ تو ایسے آدمی کو پھر میں دوبارہ کبھی ٹائم نہیں دیتا، میں اسے کہتا ہوں بس ٹھیک ہے، اب آپ کی قسمت ہے جب آئیں گے اور شاید اگر موقع مل گیا تو ٹھیک ہے، نہیں تو بس آپ نے اپنا ٹائم miss کر لیا، اب کیسے ہو سکتا ہے۔ اب آپ اس قابل نہیں ہیں کہ آپ کو ٹائم دیا جائے، کم از کم اطلاع تو کر لو کہ میں نہیں آ رہا۔ یہ کوئی طریقہ ہے کہ مطلب آپ کسی کو پابند کر لیں اور پھر خود اپنے طور پہ آپ اس کو چھوڑ دیں۔ یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کے آپ کے کام کو کام ہی نہیں سمجھ رہا۔ آپ کے وقت کو وقت ہی نہیں سمجھ رہا اس کو صرف اپنی غرض ہے۔ اپنی بات سے غرض ہے کہ میرا یہ کام ہونا چاہیے۔ اس کے لیے وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کر رہا ہے۔ تو یہ بات صحیح نہیں ہے کسی اور کے کام میں آپ حرج نہیں ڈال سکتے۔ کسی اور کے کام میں آپ وہ نہیں وہ کر سکتے تصرف۔ خیر بہرحال اپنے آپ کو پابند کرنا پڑتا ہے کسی کام کا تب کام ہوتا ہے۔
اس عمل کو کہتے ہیں "مرابطہ" یعنی آدمی کو گویا کہ طے کرنا ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے اور اس وقت میں، میں کس کام کے لیے ہوں۔ بیضاوی کے جیسے تفسیر میں بھی "رَابِطُوا" وہ اس کی ہے کہ یعنی "وَاظِبُوا"۔ یعنی اس میں باقاعدہ پابندی کی ضرورت ہے۔ تو اس پابندی کے لیے ضروری ہے کہ نفس کو پہلے سے بتا دیا جائے کہ یہ کام کرنا پڑے گا اور فلاں فلاں کام سے پرہیز کرنا ہوگا۔ مثلاً میں نے یہی بات بتائی کہ میں یہ کام کروں گا اور اگر درمیان میں کوئی آیا تو اس کو ٹائم نہیں دوں گا۔ یہ اپنے آپ کو پابند کرنا پڑے گا، ورنہ پھر یہ اس طرح ہی اڑتا رہے گا۔ آپ صرف ہوائی قلعے بناتے رہیں گے، وہ کام ہوگا نہیں کیونکہ ظاہر ہے اس پر عمل نہیں ہوگا۔
نفس کو اوّل متنبہ کر دیا جاوے کہ کام کرنا پڑے گا اور فلاں فلاں کام سے پرہیز کرنا ہو گا، اس تنبیہ کو ’’مُشارَطہ‘‘ (یعنی شرط و قرار داد) کہتے ہیں۔
اور پھر اس process کی کہ یہ ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا، اس کی نگرانی کرنی ہوگی۔ اس نگرانی کو "مراقبہ" کہتے ہیں۔ یعنی وہ کام ہو رہا ہے یا نہیں۔ یعنی میں اپنے destination کی طرف جا رہا ہوں یا نہیں جا رہا ہوں۔ جو کرنا ہے وہ کر رہا ہوں یا نہیں اور جس سے بچنا ہے اس سے بچ رہا ہوں یا نہیں۔ یہ "مراقبہ" کہلاتا ہے۔
اب بعض لوگ مراقبہ کس کو کہتے ہیں؟ بعض لوگ مراقبہ صرف سر جھکانے کو کہتے ہیں۔ بس سر جھکا لیا اور سوچنا شروع کر لیا یہ مراقبہ، نہیں نہیں نہیں۔ مراقبہ اصل میں یہ اپنے اعمال کی نگہبانی ہے۔ دیکھو قرآن پاک میں ہے وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰهَ۔ چاہیے کہ ہر شخص دیکھ بھال لے کہ کل کے لیے کیا بھیج رہا ہے۔ یعنی مثبت بھیج رہا ہے یا منفی بھیج رہا ہے۔ اچھا بھیج رہا ہے برا بھیج رہا ہے۔ اپنے آپ کو خراب کر رہا ہے یا اپنے آپ کو ٹھیک کر رہا ہے۔ تو یہ بات ابھی لازم ہو گئی کہ سمجھ لیں کہ مراقبہ اصل میں نگرانی کا نام ہے۔
نفس کو گناہوں سے بچاوے اور نیک اعمال پر پابندی کرے اور اس کا ہر وقت خیال رکھے، یہ نگہداشت اصل ’’مُراقَبہ‘‘ ہے،
مطلب یہ کہ نگاہ کہتے ہیں نظر کو، داشت، اس کا خیال رکھنا۔ مطلب اس کا خیال رکھنا کہ میں کیا کر رہا ہوں، ایک چیز کے اوپر نظر ہو۔
پھر کسی وقت اس کا حساب بھی لیا جائے کہ یہ کام صحیح ہوا یا نہیں ہوا۔ اس کو "محاسبہ" کہتے ہیں۔ جیسے ہم کہتے ہیں نا بھئی ہم نے اتنا کام کرنا تھا، یہاں ہوا یا نہیں ہوا، اتنا ہوا یا نہیں ہوا۔ اگر ہوا تو ٹھیک ہے لیکن نہیں ہوا تو کیوں نہیں ہوا؟ یہ کہاں سے گڑبڑ ہے؟
اگر گڑبڑ نفس کی وجہ سے ہے کہ نفس نے شرط پوری نہیں کی تو پھر اس کو سبق سکھانا پڑے گا۔ اور سبق سکھانے کے لیے یہ ہے کہ اس کو کسی مشقت میں ڈال کر اس کا علاج کیا جائے کہ وہ نفس مشقت سے گھبراتا ہے۔ اس پہ بوجھ ڈالو۔ کیونکہ بوجھ اگر اس پہ پڑتا ہے، پھر یہ تیار ہوتا ہے، کام کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں نا یہ ڈنڈے کا آدمی ہے۔ یعنی جب تک اس پہ ڈنڈا رکھیں گے تو یہ ٹھیک ہوگا اور ڈنڈا نہیں رکھیں گے، ہٹا دیا تو بس یہ پھر بگڑ جاتا ہے۔ تو نفس ہمارا یہ ڈنڈے کی چیز ہے۔ جب تک اس پہ ڈنڈا رکھو گے تو یہ چلے گا۔ نہیں ڈنڈا رکھو گے تو پھر آگے بگڑ جائے گا۔ یعنی یہ اس کی بات ایسی ہے کہ اگر آپ نے اس کی بات مان لی تو یہ مزید مانگے گا۔ اس پہ مطمئن نہیں ہوگا کیونکہ اس میں حرص کا لامتناہی سمندر موجود ہے۔ حرص کا لامتناہی سمندر اس کے اندر موجود ہے۔ اور اگر آپ نے اس پہ بوجھ ڈال دیا، دبا دیا، تو مان جائے گا۔
میں اس کی اکثر ایک مثال دیتا ہوں کہ ایک شخص ہے وہ بالکل نماز نہیں پڑھتا۔ جب بھی اس کو کہا جائے نماز کا، وہ کہتا ہے جی بس جی مجھ سے نہیں پڑھی جاتی۔ بہانے کرتا ہے۔ اگر اس کا کوئی جگری دوست آجائے اور اس سے انکار نہ کر سکے، ایسے ہوتے ہیں بعض لوگ جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ نمازی ہو، اس کو کہتا ہے بھئی چلو اٹھو نماز کے لیے، کہتا ہے جی میں تو، بس اٹھ جاؤ۔ کیا کہتا ہے، نہیں جاتا۔ چلو۔ اب اس کو یہ کہہ سکتا ہے، ہر ایک آدمی نہیں کہہ سکتا کسی کو۔ تو خیر اس کے ساتھ چل پڑتا ہے اور اس کے ساتھ ایک نماز پڑھ لیتا ہے۔ اب اس نے جو ایک نماز پڑھ لی اس کے ساتھ، تو کیا آپ اپنے دل سے پوچھیں کہ اس کو اگر دوسری نماز پڑھنی پڑے تو اتنی مشکل ہوگی یا تھوڑی سی آسان ہو جائے گی؟ مقابلتاً۔ سب لوگ کہتے ہیں تھوڑی سی آسان ہو جائے گی۔ جب دو پڑھے گا، پھر تیسری اور بھی آسان ہو جائے گی۔ تین پڑھے گا تو چوتھی اور بھی آسان ہو جائے گی۔ اس طرح یہ آسانی بڑھتی جائے گی۔ تو اگر پانچوں نمازیں چالیس دن تک متواتر یہ بغیر ناغے کے پوری کر لیں تو مشائخ کہتے ہیں یہ پکا نمازی بن جائے گا۔ اب دیکھیں یا تو پڑھ نہیں سکتا تھا، اب چھوڑ نہیں سکتا۔ تو یہ بات ہے کہ نفس کو ٹھیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو زور سے ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔
تو یہ کیا ہے؟ یہ معاقبہ ہے۔ یعنی اس کا تعاقب کرنا۔
اور گزشتہ کی تلافی کے واسطے کوئی ایسا نیک عمل بھی کیا جاوے جو نفس کو گراں ہو اس کو ’’مُجاہَدہ‘‘ کہتے ہیں (وقتی علاج بطور سزا و جرمانہ تو ’’مُعاقَبہ‘‘ ہے اور دائمی وظیفۂ تلافئ مَافَات کے واسطے مقرر کرنا ’’مجاہدہ‘‘ ہے)
یعنی ہم لوگ ان سے ایسا مجاہدہ کروا دیں کہ اس کے لیے وہ عمل دائمی طور پہ آسان ہو جائے۔
پھر اس نفس کو اس کوتاہی پر دهمکائیں اور ملامت کریں اور تلافئ مَافَات پر برانگیختہ کریں، اس کا نام ’’مُعاقَبہ‘‘ ہے،
جیسے کہ پہلے آ گیا۔
یہ سب چھ چیزیں ہیں
یعنی پہلے تو مرابطہ ہے، طے کرنا اور اپنے آپ کو پابند کرنا۔ تو پھر اس کے لیے اس پابند کرنے کے لیے اس کو شرط قرار دیا جائے کہ ہر condition میں کرنا ہوگا، اس کو مشارطہ کہتے ہیں۔ اور پھر اس کے لیے اس کی نگہبانی کرنا کہ شرط پوری کر رہا ہے نفس یا نہیں کر رہا اس کے لیے سوچنا یہ کیا ہے مراقبہ ہے۔ اور پھر اس کو دیکھنا کہ آیا یہ اس نے یہ کام صحیح کیا یا نہیں کیا، یعنی مثلاً سوچ کا نتیجہ کیا نکلا، اس کو محاسبہ کہتے ہیں۔ حساب کرنا۔ اور اگر ایسا نہیں کیا تو پھر اس کے اوپر بوجھ ڈالنا، مشقت میں اس کو ڈالنا، اس کو معاقبہ کہتے ہیں۔ اور آئندہ کے لیے ایسا نہ ہو جائے، اس کو کوئی ایسے عمل کے اندر، اچھے عمل کے اندر involve کرنا یہ مجاہدہ کہلاتا ہے۔ تو اس طریقے سے ہم ماشاءاللہ بچ سکتے ہیں۔
اب دیکھیں ہر شخص یہ بات جان سکتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں فرمایا ہے کہ تم خود (نفس سے) حساب لے لو اس سے قبل کہ تمہارا حساب لیا جاوے اور اس کو جانچ لو اس سے پیشتر کہ تمہاری جانچ کی جائے۔
یہ ہم لوگ جب foreign وغیرہ جاتے ہیں نا، کوئی دوسرے ملک جاتے ہیں by air، تو اپنا وزن باقاعدہ بہت احتیاط کے ساتھ تول کے لے جاتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں پتا ہوتا ہے کہ اگر ایک کلو بھی زیادہ ہو گیا تو اس کے اتنے پیسے دینے پڑیں گے۔ تو اچھی طرح اس کا حساب کر کے لے جاتے ہیں، باقاعدہ لوگ اس کے لیے balance خرید لیتے ہیں، اپنے سوٹ کیس کا باقاعدہ اس کا وزن کرتے ہیں۔ تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہیں کرے گا تو بعد میں بھگتنا پڑے گا۔ یا ہم لوگ کچھ ضروری کاغذات اپنے ساتھ تیار رکھتے ہیں کہ اگر وہاں immigration والے پوچھیں تو ہمارے پاس یہ سارے ثبوت موجود ہوں۔ کیونکہ عین وقت پر اگر کوئی ایک چیز بھی کم ہو گئی تو بس side پہ۔ اس کا مطلب flight miss ہو گئی۔ پھر کیا کرو گے؟ تو یہ مطلب ظاہر ہے کہ انسان اس کے لیے بہت محتاط رہتا ہے ہر چیز کو اپنے ساتھ وہ رکھتا ہے محفوظ رکھتا ہے۔ کیونکہ معاملہ وہاں پر بڑا مشکل بنتا ہے پھر۔ کوئی کسی کی مدد نہیں کرتا پھر۔ وہ ان کے باقاعدہ calculated process ہوتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں پوری نہیں تو بس side پہ ہو جاؤ۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ وہاں پر بھی ایسا حساب دینا پڑے گا نا۔
میں ایک دفعہ امریکہ جا رہا تھا تو میرے پاس سامان بہت تھوڑا تھا کیونکہ میرا ہرنیا کا operation ہوا تھا۔ تو زیادہ وزن نہیں لے جا سکتا تھا۔ تو صرف کپڑے تھے اور کچھ کاغذات تھے۔ اس کا تین چار کلو وزن ہو گا۔ وہ میں نے counter پہ دے دیا تو انہوں نے کہا کہ اور سامان؟ کیونکہ اور سامان بھی ہوتا ہے جو hand carry ہوتا ہے نا تو باقی سامان تو اس میں جاتا ہے 35 کلو تک۔ تو میں نے کہا اور کچھ نہیں ہے۔ تو مسکرائے، کہتے ہیں: جاؤ۔ یعنی امریکہ جا رہا ہے اس کے پاس اتنا سامان ہے۔ تو مسکرائے کہ جاؤ بس ٹھیک ہے جی، میں آگے چلا گیا۔ تو اس وقت مجھے خیال آیا، میں نے کہا کتنی خوش نصیبی ہو گی کہ قیامت میں بھی مسکرا کے کہا جائے اچھا جاؤ، جاؤ جنت میں۔ تمہارے اوپر کوئی بوجھ نہیں ہے۔ کتنا اچھا ہو گا۔
تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے کہ ہم لوگوں کو اس کے لیے تیاری کرنی ہے وہاں حساب تو ہونا ہے۔ وہاں تو پوچھا جانا ہے۔ یہ تو باقاعدہ طے شدہ باتیں ہیں۔ حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے: اللہ کے قوانین بڑے اٹل ہیں اور ہم بہت غافل ہیں۔ اللہ کے قوانین بہت اٹل ہیں اور ہم بہت غافل ہیں۔ اب اللہ کا قانون ہے کہ آگ ہاتھ جلاتی ہے ذرا اس میں ہاتھ رکھے نا کوئی؟ نہیں رکھ سکتا کیونکہ اس کو پتا ہے کہ قانون اٹل ہے۔ اس میں کوئی گپ شپ کی بات نہیں ہے۔ نہیں رکھتا۔ جس کو زہر کہتے ہیں وہ کوئی اس کو کھا سکتا ہے؟ نہیں کھا سکتا کیونکہ اس کو پتا ہے کہ میں کھاؤں گا تو مر جاؤں گا۔ تو اسی طریقے سے مطلب ہمیں جو بھی عمل کر رہا ہوں مجھے اس کے بارے میں پتا ہو کہ میں اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔
''حَاسِبُوْا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا"
اپنا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔
وَ زِنُوْا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوْزَنُوْا''۔
اپنے اعمال کا وزن کر لو اس سے پہلے کہ اس کا وزن کیا جائے۔
تو یہ بات ہے کہ ہمیں اس کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔ اللہ جل شانہ نے ایک اور قانون بتایا ہے بہت اہم پورا وہ ہے حدیث۔
حَاسِبُوا اَنْفُسَكُمْ قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوا وَزِنُوهَا قَبْلَ اَنْ تُوزَنُوا۔
اپنا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے اور وزن کرو اپنے اعمال کا اس سے پہلے کہ اس کا وزن کیا جائے۔
اور اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى، فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى۔
جو شخص اپنے رب کے پاس حاضر ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشِ نفسانی سے روکا اُس کا ٹھکانہ جنّت ہے۔
یہ بہت ہی زیادہ اہم بات ہے۔ نفسانی خواہش یہ اللہ تعالی کے حکم کے مقابلے میں ایک چیز ہے۔ یہی چیز ہے جو ہمیں اللہ تعالی کے حکم سے روکتی ہے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کے حکم پر عمل کرنے کی ہماری جو صلاحیت ہے، اس کے لیے نفسانی خواہش جانچ ہے۔ تو نفس کی خواہش کو رکھنا ضروری تھا یا نہیں تھا؟
دعویٰ تو ہر ایک کرتا ہے جی میں اللہ کا بڑا عاشق ہوں۔ اب سارے لوگ کہہ رہے ہیں جی میں اللہ کا بڑا عاشق۔ کون صحیح عاشق ہے کون صحیح نہیں ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ قصہ ہے، ویسے فرضی بھی ہو سکتا ہے لیکن بہرحال قصہ ہے کہ مجنوں اور لیلیٰ والا واقعہ مشہور ہے۔ تو کہتے ہیں لیلیٰ مجنوں کے لیے دودھ بھیجا کرتی تھی۔ تو راستے میں ایک مجنوں بیٹھا ہوا تھا، مصنوعی۔ تو وہ دودھ پی لیا کرتا تھا کہ میں مجنوں ہوں۔ تو لیلیٰ کو پتا چل گیا کہ یہ تو کوئی گڑبڑ ہو رہی ہے۔ تو اس نے بھیجنے والی سے کہا کہ جس کو بھیجا جا رہا تھا کہ ان سے کہو کہ اس میں جواب میں خون اپنا ایک پیالہ بھر کے دے دو۔ تو جب اس نے دودھ پی لیا تو اس نے کہا کہ جی اس میں پورا اپنا خون۔۔۔ کہتے ہیں وہ تو ادھر بیٹھا ہوا ہے خون والا، میں تو دودھ والا مجنوں ہوں۔ یہ ہر ایک دعویٰ کر سکتا ہے میں اللہ کا عاشق ہوں۔ کون ہے، کون نہیں ہے؟ تو اللہ پاک نے نفسانی خواہشات کا ایک جال رکھ دیا ہمارے اندر۔ اب نفسانی خواہش پر عمل ہوتا ہے یا اللہ کے حکم پر عمل ہوتا ہے، ایک test، every time test ہو رہا ہے۔
تو یہاں پر یہ قانون بتا دیا ہے:
وَ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْـهَـوٰى
جو اس بات سے ڈرے کہ مجھے اللہ کو حساب دینا ہے اس کے سامنے کھڑے ہو کر۔ اور نفسانی خواہشات سے اپنے نفس کو روکا۔ تو پھر اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اس کے لیے ٹھکانہ جنت ہے۔
تو یہ نفسانی خواہشات جو ہے یہ اصل میں گویا ایک test کرنے کی، litmus paper ہوتا ہے نا، وہ test کرتا ہے کہ acid ہے یا وہ ہے۔ تو یہ litmus check ہے۔ اللہ پاک نے یہ جو فرمایا نا: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا کہ اللہ پاک نے الہام کیا اس نفس کو دونوں چیزیں، فجور بھی اور اس کا تقویٰ بھی۔ تو یہ اصل میں check کرنے کے لیے ہے، کہ آیا واقعی عاشق ہے یا نہیں ہے۔
کہتے ہیں جبرائیل علیہ السلام سے ایک دفعہ اللہ پاک نے فرمایا کہ جاؤ جنت کی سیر کرو۔ اب وہ اڑتا رہا، اڑتا رہا، اڑتا رہا، اڑتا رہا، جنت کو پورا نہیں کر سکا۔ کہا یا اللہ یہ تو اتنی شاندار جگہ ہے کہ جو بھی اس کے بارے میں سنے گا سب لوگ اس میں آ جائیں گے۔ میرا تو خیال ہے سارے ادھر ہی آ جائیں گے۔ اللہ پاک نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے۔ اب جا کے دیکھو۔ تو دیکھا تو جنت پر مشقتیں ڈال دی ہیں، نفس کی خواہشات کے خلاف کی مشقتیں۔ وہ ڈال دیں۔ جب وہ ڈال دیں تو پھر اللہ پاک نے پوچھا اب؟ انہوں نے کہا اب تو مجھے ڈر ہے کہ شاید کوئی بھی نہ آ سکے۔
پھر اس کے بعد اللہ پاک نے فرمایا اب دوزخ کی سیر کرو۔ جب دوزخ کی سیر کی، دوزخ اتنی ہولناک اور یہ تمام چیزیں دیکھی، کہا یا اللہ یہ تو بہت زیادہ ہولناک ہے۔ تو یہ تو اتنی زبردست یعنی ہولناک چیزیں ہیں کہ میں کہوں گا کہ کوئی بھی نہیں آئے گا اگر اس کا سنے گا۔ اللہ پاک نے فرمایا اب جاؤ دیکھو۔ تو جا کے اس کے دروازے پہ نفسانی خواہشات کا پورا جال بکھرا ہوا تھا۔ تو اس نے کہا اب تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں سارے لوگ نہ آ جائیں۔
بس اللہ پاک ہمیں ایسے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، جس سے ہم جنتی بن جائیں، اللہ پاک کے اللہ والے بن جائیں۔ اور اس کے لیے جس محنت کی ضرورت ہے اس محنت کو پورا کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
وَمَا عَلَيْنَا اِلَّا الْبَلَاغُ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔