"یومِ الفرقان: حق و باطل کا فیصلہ، مالِ غنیمت کے احکام اور اللہ کی حکمتیں"
درس نمبر 305، سورہ الانفال آیات 34 تا 41، اشاعتِ اول: 31 اکتوبر اور 1 نومبر، 2022، بمطابق 4 اور 5 ربیع الثانی ، 1444 ہجری
- متقی اور ایمان والے خانہ کعبہ کے متولی ہیں۔
- دین سے روکنے والا مال ہمیشہ حسرت بنے گا۔
- اسلام قبول کرنے پر پچھلے تمام گناہ معاف ہیں۔
- ظاہری اسلام لانے والے کا دل ٹٹولنا منع ہے۔
- خمس کی تقسیم سربراہ حکومت کے اختیار میں ہے۔
- جنگ بدر کو یوم الفرقان قرار دیا گیا ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (34) وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًؕ-فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ(35) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ (36) لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ ؕ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (37)
ترجمہ: اور بھلا ان میں کیا خوبی ہے کہ اللہ ان کو عذاب نہ دے جبکہ وہ لوگوں کو مسجدِ حرام سے روکتے ہیں،
حاشیہ: یعنی اگرچہ مذکورہ بالا دو وجہ سے ان پر دُنیا میں کوئی عام عذاب تو نہیں آیا ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ کفر و شرک کے علاوہ ان کی ایک خرابی یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کو مسجدِ حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں ، جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعے میں پیچھے گذر چکا ہے ۔ (دیکھئے اس سورت کا ابتدائی تعارف) لہٰذا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے صحابہ مکہ مکرمہ سے نکل جائیں گے تو ان پر جزوی عذاب آئے گا ، جو بعد میں فتح مکہ کی صورت میں سامنے آیا ، اور پھر آخرت میں ان کو مکمل عذاب ہوگا ۔
ترجمہ: حالانکہ وہ اُس کے متولی نہیں ہیں ۔ متقی لوگوں کے سوا کسی قسم کے لوگ اُس کے متولی نہیں ہو سکتے ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے ﴿34﴾
اصل میں جیسے ہوتا ہے نا کہ ایک ہوتی ہے ظاہری چیز اور ایک ہوتی ہے اصل چیز، بعض دفعہ ظاہر میں جو کچھ نظر آتا ہے، اصل میں وہ کچھ نہیں ہوتا۔ مطلب جیسے مستحق خانہ کعبہ کی خدمت کے وہ لوگ تھے جو متقی تھے، ایمان والے تھے، کیونکہ خانہ کعبہ خدا کا گھر ہے۔ تو جو خدا کو پوجتے ہیں اور بتوں کو نہیں پوجتے، تو وہ اس کے متولی ہو سکتے ہیں اور اس کے مستحق ہو سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان لوگوں نے اس کو آبا و اجداد کے ساتھ جوڑا تھا، تو جو چیزیں انہوں نے مطلب کیں، تو اس کے لحاظ سے وہ بن گئے تھے، اور وہ لوگوں کو روکتے تھے۔ تو فرمایا کہ یہ ان کا بہت بڑا مطلب وہ ہے، عذاب کے مستحق ہیں اس وجہ سے۔ لیکن وہ ظاہری عذاب ان کے اوپر، یعنی کھلم کھلا، اس لیے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان تھے۔ لہٰذا جب یہ حضرات نکل جائیں گے تو پھر اس کے بعد ان پر عذابِ جزوی آ سکتا ہے، پھر بعد میں کلی بھی آ سکتا ہے۔
ترجمہ: اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ لہٰذا (اے کافرو!) جو کافرانہ باتیں تم کرتے رہے ہو ، ان کی وجہ سے اب عذاب کا مزہ چکھو ﴿35﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ اپنے مال اس کام کے لئے خرچ کر رہے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکیں ۔
حاشیہ: جنگ بدر کے بعد قریش کے بچے کھچے سرداروں نے چندہ جمع کرنا شروع کیا تھا کہ اس سے ایک بڑی جنگ کی تیاری کریں ۔ یہ آیت اس موقع پر نازل ہوئی ۔
ترجمہ: نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ خرچ تو کریں گے ، مگر پھر یہ سب کچھ ان کے لئے حسرت کا سبب بن جائے گا ، اور آخر کار یہ مغلوب ہو جائیں گے ۔ اور (آخرت میں) ان کافر لوگوں کو جہنم کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا ﴿36﴾ تاکہ اللہ ناپاک (لوگوں) کو پاک (لوگوں) سے الگ کر دے ، اور ایک ناپاک کو دوسرے ناپاک پر رکھ کر سب کا ایک ڈھیر بنائے ، اور اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے ۔ یہی لوگ ہیں جو سراسر خسارے میں ہیں ﴿37﴾
یعنی اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمتیں لوگوں کو سمجھ نہیں آتیں۔ اللہ تعالیٰ ڈھیل بھی دیتے ہیں، گرفت بھی فرماتے ہیں، کب ڈھیل دیتے ہیں، کب گرفت فرماتے ہیں، اللہ پاک نے اپنے پاس رکھا ہوتا ہے۔ لہٰذا لوگ سمجھ نہیں رہے ہوتے کہ ہمیں ڈھیل دی جا رہی ہے یا ہمیں پکڑا جا رہا ہے، یا ہم اپنی مرضی کے مطابق کام کر سکتے ہیں۔ ہاں البتہ جو، یعنی خبر ہے، یعنی اخبارِ صادقہ جو پیغمبر دیتا ہے، جو اس پر یقین کر لیں اور اس کے مطابق عمل کر لیں، وہ اپنے آپ کو بچا دیتے ہیں اور اللہ پاک ان کو نواز دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ پورے قرآن میں اس طرح ہی چلتا رہا ہے۔
قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ (38) وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(39) وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ(40) وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (41)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
ترجمہ: (اے پیغمبر!) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ، ان سے کہہ دو کہ : ’’اگر وہ باز آجائیں تو پہلے ان سے جو کچھ ہوا ہے ، اُسے معاف کر دیا جائے گا ۔ ‘‘
حاشیہ: اس آیت نے یہ اُصول بتا دیا ہے کہ جب کوئی شخص ایمان لے آئے تو کفر کی حالت میں اس نے جتنے بھی گناہ کئے ہوں وہ سب معاف ہو جاتے ہیں ، یہاں تک کہ پچھلی نمازوں ، روزوں اور دوسری عبادتوں کی قضا بھی اُس کے ذمے لازم نہیں ہوتی ۔
کیونکہ اب وہ ایمان کی حالت میں آ گیا ہے، تو ایمان کی حالت میں آنے کے بعد اس سے ایمان کے بعد کے اعمال کا پوچھا جائے گا۔ اس سے پہلے والی باتیں ساری کی ساری ختم ہو جاتی ہیں۔
ترجمہ: اور اگر وہ پھر وہی کام کریں گے تو پچھلے لوگوں کے ساتھ جو معاملہ ہوا ، وہ (ان کے سامنے) گذر ہی چکا ہے ۔﴿38﴾
حاشیہ: اس سے ان کافروں کی طرف بھی اشارہ ہے جو جنگ بدر میں مارے گئے ، اور اُن پچھلی اُمّتوں کی طرف بھی جن پر عذاب نازل ہوا ۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا انجام تمہارے سامنے گذر چکا ہے ۔ اگر تم اپنی ضد سے باز نہ آئے تو ویسا ہی انجام تمہارا بھی ہو سکتا ہے ۔
ترجمہ: اور (مسلمانو!) ان کافروں سے لڑتے رہو ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے ، اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہو جائے ۔
حاشیہ: جیسا کہ آگے سورۂ توبہ میں آئے گا ، جزیرۂ عرب کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کا مرکز بنایا ہے ، اس لئے یہاں حکم یہ ہے کہ کوئی کافر یا مشرک مستقل طور پر نہیں رہ سکتا ۔ یا اسلام لائے ، یا کہیں اور چلا جائے ۔ اس لئے جزیرۂ عرب میں کافروں سے اُس وقت تک جنگ کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات اختیار نہ کر لیں ۔ البتہ جزیرۂ عرب سے باہر کا حکم مختلف ہے ۔ وہاں غیر مسلموں کے ساتھ مختلف قسم کے معاہدے ہو سکتے ہیں ۔ آیت کے تقریبا یہی الفاظ سورۂ بقرہ (2:193) میں بھی گذرے ہیں ۔ وہاں ہم نے جو حاشیہ لکھا ہے ، اُسے بھی ملاحظہ فرما لیا جائے ۔
ترجمہ: پھر اگر یہ باز آجائیں تو اُن کے اعمال کو اللہ خوب دیکھ رہا ہے﴿39﴾
حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی کافر ظاہری طور پر اسلام لے آئے تو مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ وہ اُسے مسلمان سمجھیں ، اور دل کو ٹٹولنے کی کوشش نہ کریں ، کیونکہ دل کا حال اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، وہی اُن کے اعمال کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے ، اور آخرت میں اسی کے مطابق فیصلہ کرے گا ۔
ترجمہ: اور اگر یہ منہ موڑے رکھیں ، تو یقین جانو کہ اللہ تمہارا رکھوالا ہے ، بہترین رکھوالا ، اور بہترین مددگار! ﴿40﴾ اور (مسلمانو!) یہ بات اپنے علم میں لے آؤ کہ تم جو کچھ مالِ غنیمت حاصل کرو، اُس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور اُن کے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے
اس کو خمس کہتے ہیں۔
حاشیہ: دُشمن کا جو مال جہاد کے دوران مجاہدین کے ہاتھ آیا ہو، وہ مالِ غنیمت کہلاتا ہے۔ اس آیت میں اس کی تقسیم کا اُصول بیان فرمایا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنا مال اس طرح حاصل ہو، اُس کے پانچ حصے کئے جائیں گے۔ ان میں سے چار حصے تو مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوں گے، اور پانچواں حصہ بیت المال میں داخل کیا جائے گا۔ پھر بیت المال کے اس پانچویں حصے (خمس) کو کس طرح خرچ کیا جائے گا؟ اس کی تفصیل کرتے ہوئے اس آیت نے اوّل تو یہ بتلایا ہے کہ یہ مال اصل میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اور اسی کے حکم کے تحت تقسیم ہوگا۔ اس کے بعد اس کے پانچ مصارف بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، دوسرا حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں کا ہے، کیونکہ انہوں نے آپ کی اور اسلام کی نصرت میں بڑی قربانیاں دی تھیں، اور اُن کے لئے زکوٰۃ کا مال بھی حرام قرار دے دیا گیا تھا۔ اور باقی تین حصے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ تھا، وہ جمہور فقہاء کے نزدیک آپ کی وفات کے بعد ختم ہوگیا۔ آپ کے رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں فقہاء کے درمیان کچھ اختلاف ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ حصہ اب بھی باقی ہے، اور بنو ہاشم اور بنو المطلب کو بطورِ استحقاق دینا ضروری ہے، چاہے وہ حاجت مند ہوں، یا مال دار۔ لیکن دوسرے تمام فقہائے اہل سنت یہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ حاجت مند ہوں تب تو انہیں دوسرے حاجت مندوں پر ترجیح دے کر اس خُمس میں سے دیا جائے گا، اور اگر وہ حاجت مند نہ ہوں تو ان کا کوئی مستقل حصہ نہیں ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خُمس میں سے حصہ دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فرما کر لینے سے انکار کر دیا کہ اس سال ہمارے خاندان کو ضرورت نہیں ہے۔ (ابوداؤد، حدیث نمبر 2984) چنانچہ حضرت علیؓ سمیت چاروں خلفائے راشدین کا عمل یہی رہا کہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کے حضرات اگر حاجت مند ہوتے تو ان کو خُمس میں سے حصہ دینے میں دوسروں پر مقدم رکھتے تھے، اور اگر حاجت مند نہ ہوتے تو نہیں دیتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر فقہاء اور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں جو پانچ مصارف بیان کئے گئے ہیں، ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سب کو ضرور دیا جائے، اور سب کو برابر دیا جائے، بلکہ یہ مصرف زکوٰۃ کے آٹھ مصارف کی طرح ہیں (جن کا ذکر سورۃ توبہ 60:9 میں آنے والا ہے) کہ امام یعنی سربراہِ حکومت کو اختیار ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق ان مصارف میں سے جس مصرف میں جتنا مناسب سمجھے تقسیم کرے۔ اس مسئلے کی مکمل تحقیق بندہ نے اپنی صحیح مسلم کی شرح تکملہ فتح الملہم (ج: 3، ص: 254 تا 258) میں بیان کی ہے۔
ترجمہ: (جس کی ادائیگی تم پر واجب ہے،) اگر تم اللہ پر اور اُس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلے کے دن نازل کی تھی
حاشیہ: اس سے مراد جنگِ بدر کا دن ہے، اس کو آیت میں ”یوم الفرقان“ فرمایا گیا ہے، یعنی وہ دن جس میں حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہو گیا کہ تین سو تیرہ بے سرو سامان لوگ ایک ہزار مسلح فوج پر معجزانہ طور سے غالب آگئے۔ اور جو چیز اُس دن نازل کی گئی تھی اُس سے مراد فرشتوں کی مدد اور قرآن کریم کی وہ آیات ہیں جو اُس دن مسلمانوں کی تسلی کے لئے نازل کی گئیں۔
ترجمہ :جس دن دو جماعتیں باہم ٹکرائی تھیں۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿41﴾
اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کی صحیح سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ