قرآنی اصولِ فلاح: نیکی میں تعاون، دعوتِ حق اور صبر
بَابٌ فِى التَّعَاوُنِ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوىٰ، درس نمبر: 269، اشاعتِ اول: 25 اپریل، 2023 بمطابق 4 شوال المکرم، 1444 ہجری
نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں باہمی تعاون کا حکم
سورۃ العصر کی روشنی میں انسانی خسارے سے نجات کے چار اصول
دعوتِ الی اللہ (امر بالمعروف) کی اہمیت اور اس کی مختلف صورتیں
راہِ حق میں آنے والی تکالیف اور حکمت و صبر کی تاکید
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
بَابٌ فِى التَّعَاوُنِ عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوىٰ
نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بیان میں
قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ﴿وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى﴾ (المائدة: 3)
ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔“
وَقَالَ تَعَالٰى: ﴿وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ إِلَّا الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾ (العصر: 1-2)
ترجمہ: اور فرمایا: ”عصر کی قسم کہ انسان نقصان میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔“
قَالَ الْإِمَامُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ كَلَامًا مَعْنَاهُ: ”إِنَّ النَّاسَ أَوْ أَكْثَرَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ عَنْ تَدَبُّرِ هٰذِهِ السُّوْرَةِ.“
ترجمہ: ”امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکثر لوگ اس سورت کے معانی میں غور و فکر کرنے سے غافل ہیں۔“
تشریح: ”عصر“ سے مراد حسن بصری رحمہ اللہ کے نزدیک زوال سے غروب تک کا وقت ہے۔ علامہ قتادہ رحمہ اللہ کے نزدیک دن کی آخری گھڑی، مقاتل رحمہ اللہ کے نزدیک نماز عصر، عام مفسرین کے نزدیک زمانہ مراد ہے کہ انسان کے تمام حالات اس کے نشوونما اس کی حرکات و سکنات سب زمانے میں ہی ہیں۔
جیسے ہم کہتے ہیں، زمانہ گواہ ہے۔ مطلب یہ چیز بالکل ایسے نظر آ رہی ہے کہ ایسا ہوتا رہا ہے، یعنی یہ بات یعنی اس میں۔
”إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ“ ”خسر“ کا معنی ہے اصل پونجی ضائع ہوجانا، کہ اگر آدمی اپنی زندگی کو آخرت کے اعمال میں نہیں لگاتا تو اس کی اصل پونجی جو عمر ہے وہ ضائع ہوجاتی ہے۔ اس خسران سے بچنے کا راستہ ایک ہے کہ آدمی میں چار صفات ہوں۔ (1) ایمان لانا (2) اعمال صالحہ کرنا (3) دوسرے کو بھی اس کی وصیت کرنا (4) ہر تکلیف پر صبر کی تاکید کرنا۔ ”تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ“ تواصی وصیت سے ہے ”وصیت“ کہتے ہیں کہ کسی کو تاکید اور موثر انداز میں نصیحت کرنا، اسی وجہ سے مرنے والا مرتے وقت جو کچھ کہتا ہے اس کو بھی وصیت کہتے ہیں۔ پہلے دو جز کا تعلق اپنی ذات سے ہے اور آخر کے دو جز کا تعلق عام مسلمانوں کی ہدایت و اصلاح سے ہے۔ ”تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ“ ”صبر“ کے معنی ہوتے ہیں اپنے نفس کو روکنا، تو تمام اعمال صالحہ کی خود بھی پابندی کرنا اور گناہوں سے بچنا بھی ہے
یعنی دیکھیں نا، یہ جو فرمایا نا کہ تَوَاصِي بِالْحَقِّ۔ تو دوسروں کو حق کے لیے کہیں گے اور اپنے آپ کو چھوڑیں گے؟ وہ اس کے اندر گویا کہ بطور سب سیٹ موجود ہے۔ کہ جب دوسروں کو جو چیز کہی جاتی ہے، تو پھر وہ خود اپنے لیے بھی مطلب یہ ہوتی ہے، ڈیو ہوتی ہے۔ یہ علٰیحدہ بات ہے، کوئی نہ کرے، تو پھر اس میں وہ چیزیں ہوگی نہیں۔ لیکن بہرحال یعنی عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ جو آدمی دوسرے کو آگ سے بچا رہا ہے، تو کیا وہ خود آگ میں پڑے گا؟
تشریح: یعنی جس کو آپ نے امر بالمعروف کہا اس نے اس پر جو تکلیف دی اس کو برداشت کرنا۔ مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سورت میں مسلمانوں کو بڑی ہدایت یہ دی کہ آدمی کا اپنے عمل کو قرآن و سنت کے تابع کرلینا جتنا ضروری اور اہم ہے اتنا ہی اہم یہ ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو بھی ایمان اور عمل صالحہ کی طرف دعوت دینے کی کوشش کرے ”ورنہ صرف عمل نجات کے لئے کافی نہ ہوگا“ اسی لئے قرآن و حدیث میں ہر مسلمان پر اپنی اپنی قدرت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کیا گیا ہے۔ اس سورت کی اہمیت امام شافعی رحمہ اللہ کے قول سے ظاہر ہے جو متن میں مذکور ہے، اسی طرح سے ابن کثیر نے نقل کیا ہے۔ صحابہ میں سے دو صحابی ایسے تھے جب وہ آپس میں ملتے تو اس وقت تک جدا نہیں ہوتے جب تک ایک دوسرے کو سورت عصر نہ سنا دیتے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ جو بات یہاں پر ہو رہی ہے، واقعی معنی کے لحاظ سے بہت گہری بات ہے۔ ایک تو یہ کہ خود عمل کرنا، تو اعمالِ صالحہ میں سارے اعمالِ صالحہ آ گئے۔ ایمان کے ساتھ، ایمان کے ساتھ۔ اب اس کے بعد دو باقی رہ گئے ہیں۔ اور وہ دو باقی کیا ہیں؟ وہ یہ ہے کہ نہ صرف خود عمل کرنا، بلکہ دوسروں کو بھی حق بات کی تلقین کرنا۔ اور یہ ہر شخص پر اپنا اپنا ہے۔ ہر شخص پر اپنا اپنا کیسا ہے؟ حاکم پر اپنے طور پر ہے۔ اور علماء پر اپنے طور پر ہے۔ جو سرکردہ لوگ ہیں، ان پر اپنے طور پر ہے۔ اور جو مطلب یعنی پڑوسی ہیں یا جو دوسرے ہیں، مطلب ان کو جب ہم دیکھتے ہیں، ان پر اپنے طور پر ہے۔ یعنی ہر ایک کا اپنا اپنا۔ اب اس میں ایک بات ذرا میں عرض کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس سے تبلیغِ دین ثابت ہوتی ہے۔ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ تبلیغِ دین، دعوت الی اللہ ثابت ہوتی ہے۔ اب دعوت الی اللہ کی جتنی بھی صورتیں ہیں، وہ ساری کی ساری اس میں شامل ہیں۔ کوئی خاص صورت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر کوئی خاص آدمی کہہ دے بھئی اس پر نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ اپنی طرف سے وہ کر لے کہ رائیونڈ جانا ثابت ہے۔ بھئی رائیونڈ جانا تبلیغ ہے، وہ ٹھیک ہے، اس لحاظ سے تو ثابت ہے۔ لیکن جو رائیونڈ نہیں جا کر دوسرے طریقے سے تبلیغ کر رہا ہو، تو وہ بھی اس میں آ جاتا ہے۔ مطلب اس میں صرف یہ والی بات نہیں آتی، مثلاً میں آپ کو ایک بات بتاؤں، یہ علمائے کرام جو دعوت دیتے ہیں اپنے اپنی جگہوں پہ، وہ سب اس میں ثابت ہے۔ بلکہ نص قرآنی کے زیادہ قریب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے علم کے ذریعے سے جو دعوت دیتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو والد اپنے گھر والوں کو جو دعوت دیتا ہے، وہ بھی اس سے ثابت ہے۔ اس طریقے سے مجاہدین، یہ تلوار کے ذریعے، تلوار تو نہیں مجھے، آج کل تو کلاشنکوف یا دوسرا اس کے ذریعے سے دعوت دیتے ہیں۔ اور جو مؤذنین ہیں، ہر مسجد کے اندر مؤذنین ہیں، وہ اذان کے ذریعے سے دعوت دیتے ہیں، اور بہترین دعوت ہے۔ یعنی اذان، اذان بہت بہترین دعوت ہے۔ تو وہ، وہ دعوت دیتے ہیں۔ مشائخ جو اعمالِ قلب کی طرف دعوت دیتے ہیں، وہ بھی اس میں شامل ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا۔ یہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کی جو کتاب فضائلِ اعمال، اس میں فصلِ اول میں پہلی قرآن کی جو آیت ہے، اس کی تشریح میں حضرت نے یہ ساری باتیں بتائی ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ ساری کی ساری باتیں ہم سب کو سمجھنی ہیں۔ اور اس میں وہ دعوت الی اللہ۔ ہاں اب دعوت جو بھی دے گا، تو جو لوگ اس پر مطلب عمل کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں، تو کچھ لوگ تو محض عمل نہیں کریں گے، کچھ کہیں گے نہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ مخالفت بھی کریں گے۔ اور کچھ لوگ مخالفت صرف لفظوں کے ساتھ کریں گے، کچھ تعلقات کاٹنے کے ساتھ کریں گے، کچھ لوگ وہ کچھ اور سٹیپس بھی لے سکتے ہیں غلط۔ تو یہ ساری باتیں جو ہیں، اس پر صبر کرنا۔ اور حکمت کے ساتھ دعوت دینا، یہ سب اس میں شامل ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو اس کا صحیح مفہوم سمجھا دے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔