نعمتوں کا شکر، محبت الہی، تقویٰ کی برکات اور عذابِ الٰہی سے بچاؤ کا قرآنی نسخہ

درس نمبر 304، سورہ الانفال آیات 26 تا 33، اشاعتِ اول: 29 اور 30 اکتوبر، 2022، بمطابق 2 اور 3 ربیع الثانی ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اللہ کی مدد اور نعمتوں پر شکر گزاری، اللہ، رسولؐ اور امانتوں میں خیانت کی ممانعت

تقویٰ کی طاقت: حق اور باطل میں فرق کرنے والی بصیرت کا حصول

کفار کی سازش اور اللہ کی تدبیر: ہجرتِ مدینہ کا پس منظر

گناہ کی نحوست: انسان کی سوچ اور سمجھ بوجھ کا ختم ہو جانا

عذاب کو روکنے والی دو ڈھالیں: نبی کریم ﷺ کی موجودگی اور استغفار

مصیبتوں کا حل: کثرتِ درود شریف، ذکرِ سیرتِ النبی ﷺ اور استغفار

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (26) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (27) وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ (28)

ترجمہ: اور وہ وقت یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے ، تمہیں لوگوں نے (تمہاری) سرزمین میں دبا کر رکھا ہوا تھا ، تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اُچک کر لے جائیں گے ۔ پھر اللہ نے تمہیں ٹھکانا دیا ، اور اپنی مدد سے تمہیں مضبوط بنا دیا ، اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا ، تاکہ تم شکر کرو ﴿26﴾ اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے بے وفائی نہ کرنا ، اور نہ جانتے بوجھتے اپنی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہونا ﴿27﴾ اور یہ بات سمجھ لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں،

حاشیہ: مال اور اولاد کی محبت تو انسان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے ، اور معقول حد تک ہو تو بری بھی نہیں ہے ۔ لیکن آزمائش یہ ہے کہ یہ محبت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر تو آمادہ نہیں کر رہی ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے ساتھ یہ محبت ہوگی تو نہ صرف جائز ، بلکہ باعثِ ثواب ہے ، لیکن اگر وہ نافرمانی تک لے جائے تو ایک وبال ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی اس سے حفاظت فرمائیں ۔ آمین

آزمائش ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس میں دونوں صورتیں ممکن ہوں۔ یعنی مثبت بھی، منفی بھی۔ تو چونکہ جو مال اور اولاد ہے، ان میں مثبت صورت بھی ہے، اگر آپ اس کو صحیح طریقے سے استعمال کر لیں تو ثواب ہے۔ اور اولاد کو اگر اچھے کاموں پر لگا دیں، تو ظاہر ہے، ثواب ہے۔ اور ان کی جو محبت ہے، وہ ان کا حق ہے۔ اور مال کی جو حفاظت ہے یہ، سبحان اللہ، یعنی مطلب اللہ کو پسند ہے۔ اب یہ ساری چیزوں کو اگر مثبت انداز میں کیا جائے تو یہ سب چیزیں باعثِ ثواب ہیں۔ لیکن اگر منفی طریقے سے ہو جائے تو پھر یہ باعثِ عذاب ہیں۔ اب مثبت سے منفی کب ہوتا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ کی محبت جو ہے، یہ مثبت ہے۔ اس کے مقابلے میں جو بھی محبت ہو گی، مقابلے میں، اس کے حق میں نہیں۔ مثلاً اللہ پاک نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کریں۔ تو یہ منفی نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے مطلب اللہ پاک کے منشا کے مطابق ہے۔ سارے پیغمبروں کی محبت، سارے صحابہ کی محبت، بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں سارے اولیاء کی محبت۔ کیونکہ اللہ پاک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا ہے، اَللَّهُمَّ اِنِّي اَسْاَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ۔ تو یہ محبتیں تو چونکہ اللہ پاک سے مانگی گئی ہیں اور اللہ پاک اس پر خوش ہے اور راضی ہوتا ہے۔ تو یہ مثبت ہے۔ لیکن وہ محبت جو اللہ کے حکم سے روکے۔ تو ظاہر ہے، وہ محبت پھر اللہ کی محبت سے بڑھ گئی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تو یہ نقصان کی بات ہے۔ وہاں پر معاملہ خراب ہوتا ہے۔ تو اگر اللہ کی محبت کی وجہ سے محبت ہے تو پھر تو مثبت ہے، اور اگر اللہ کی محبت کے مقابلے میں محبت ہے تو پھر وہ منفی ہے۔ تو یہ آزمائش ہے، یہ مطلب پرچہ ہے ہمارا، اس میں دیکھا جائے گا کہ کون کس طرف جا رہا ہے۔

ترجمہ: اور یہ کہ عظیم انعام اللہ ہی کے پاس ہے ﴿28﴾

تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج کل مطلب ایسی چیزیں، دیکھتے ہیں کہ جب انسان کسی غلط سائیڈ کی طرف چلا جاتا ہے تو پھر کیا ہے؟ پھر وہ اس میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ پھر اس کے مقابلے میں جو شریعت کے احکامات ہوتے ہیں وہ سمجھ میں نہیں آتے۔ حالانکہ شریعت کے احکامات بڑے کھلے ہوتے ہیں۔ اور کمال کی بات یہ ہے کہ دوسروں کو جب بتاتے ہیں تو بالکل صحیح بتاتے ہیں۔ اپنے طور پر جب ہوتا ہے تو پھر وہ غلط ہوتا ہے۔ اور اس سے بھی آگے superlative degree یہ ہے کہ پھر دوسروں کو بھی غلط بتاتے ہیں۔ تو پھر شیطان کے آلہ کار ہو جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو محفوظ فرما دے اس قسم کے نقصانات سے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ (29) وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ (30) وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ (31) وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ (32) وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (33)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے ساتھ تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو وہ تمہیں (حق و باطل کی) تمیز عطا کر دے گا،

حاشیہ: تقویٰ کی یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو ایسی سمجھ عطا کر دیتا ہے جو حق اور ناحق میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ، اور گناہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل خراب کر دیتا ہے جس سے وہ اچھے کو بُرا اور بُرے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے ۔

تو تقویٰ میں انسان کو بصیرت ملتی ہے۔ اور جو گناہ ہے اس سے انسان کی بصیرت ختم ہوتی ہے۔

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) وہ وقت یاد کرو جب کافر لوگ تمہارے خلاف منصوبے بنا رہے تھے کہ تمہیں گرفتار کر لیں ، یا تمہیں قتل کر دیں ، یا تمہیں (وطن سے) نکال دیں ۔ وہ اپنے منصوبے بنا رہے تھے ، اور اللہ اپنا منصوبہ بنا رہا تھا ، اور اللہ سب سے بہتر منصوبہ بنانے والا ہے۔﴿30﴾

حاشیہ: یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ کر رہی ہے ۔ کفارِ مکہ نے جب یہ دیکھا کہ اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے ، اور مدینہ منورہ میں بڑی تعداد مسلمان ہوچکی ہے تو انہوں نے ایک مجلسِ مشاورت منعقد کی ، اُس میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں ۔ یہ آیت ان تمام تجویزوں کا ذکر کر رہی ہے ، یعنی گرفتاری ، قتل اور جلا وطنی ۔ آخر میں فیصلہ یہ ہوا تھا کہ مختلف قبیلوں سے ایک ایک نوجوان لے کر سب یکبارگی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر حملہ آور ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ساری باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے بتا دیں ، اور ہجرت کا حکم دے دیا ۔ آپ کے گھر کا محاصرہ ہوچکا تھا ، مگر آپ وہاں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اس طرح نکل آئے کہ وہ آپ کو نہ دیکھ سکے ۔ تفصیلی واقعہ سیرت کی کتابوں میں موجود ہے ، اور ’’معارف القرآن‘‘ میں بھی اس آیت کے تحت بیان ہوا ہے ۔

تو یہ جو ہجرت کا واقعہ تھا یہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ ان کا جو ندوہ تھا، اس میں انہوں نے بڑے منصوبے بنائے تھے اور پھر اس میں شیطان بھی شامل ہوا تھا، یعنی باقاعدہ ایک مرد کی شکل میں۔ تو اس نے پھر اخیر میں یہ منصوبہ بتا دیا کہ اس طرح ہر قبیلے سے ایک نوجوان آ جائے اور یکبارگی حملہ کر لیں تاکہ یہ مسئلہ ہی ختم ہو جائے۔ اب یہ بات ہے کہ اللہ جل شانہٗ کو سب کچھ نظر آ رہا تھا۔ اللہ جل شانہٗ کی قدرت ہے کہ وہ ان کے ذہنوں ہی کو بند کر دیتے، وہ ایسے منصوبے نہ بنا سکتے۔ وہ کوئی اور ایسا کام کرتے جس سے مطلب وہ اس قابل نہ ہوتے۔ لیکن اللہ جل شانہٗ نے یہ نظامِ دنیا کا اس طرح بنایا ہے کہ اس میں امتحان کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ اور اس کو اللہ پاک ختم نہیں ہونے دیتا، لہٰذا اگر مدد بھی کرتے ہیں تو اس طریقے سے کر لیتے ہیں کہ لوگ اس کی اپنی ناسمجھی کی وجہ سے غلط تاویل کر لیتے ہیں، اور وہ امتحان کا عنصر وہ چلا آ رہا ہوتا ہے۔ تو جیسے جادو کا وہ کہہ دیتے ہیں یا کوئی اس قسم کی بات کر لیتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی اللہ پاک نے جو ترتیب بنائی، وہ یہ کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کر دی۔ اور ہجرت کا حکم دیا۔ تو یہ تو اسباب کے دائرے میں وہ تھی۔ اس میں تو کسی کو پتہ نہیں چل سکتا تھا۔ البتہ ایک چیز ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے جب تشریف لا رہے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ مٹھی بھر خاک کافروں کی طرف پھینک دو۔ تو کافروں کی طرف جب انہوں نے پھینکی تو ان کی آنکھوں میں چلی گئی اور سب مطلب وہ نہیں دیکھ سکے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ دیکھیں تو اللہ پاک نے اس طرح مدد فرمائی کہ ان کو پتہ نہیں چل سکا۔ اور ظاہر ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے نکل آئے۔ تاکہ وہ امتحان کا جو عنصر ہے باقی رہے۔

ترجمہ: اور جب ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ : ’’(بس!) ہم نے سن لیا ، اگر ہم چاہیں تو اس جیسی باتیں ہم بھی کہہ لائیں ۔ یہ (قرآن) اور کچھ نہیں ، صرف پچھلے لوگوں کے افسانے ہیں ۔ ‘‘ ﴿31﴾ (اور ایک وقت وہ تھا) جب انہوں نے کہا تھا کہ : ’’یا اللہ! اگر یہ (قرآن) ہی وہ حق ہے جو تیری طرف سے آیا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے ، یا ہم پر کوئی اور تکلیف دہ عذاب ڈال دے ۔‘‘ ﴿32﴾

یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں ابھی قرآن میں ابھی گزرا ہے ابھی۔ کہ ان کی سمجھ وہ ختم ہو جاتی ہے۔ یعنی اب دیکھیں اگر وہ مثال کے طور پر نہیں بھی مان رہے تھے تو یہ اپنے عذاب کے لیے دعا کرنا، یہ کون سی عقلمندی کی بات ہے؟ اگر وہ اللہ کو نہیں مان رہے تھے تو پھر تو دعا کرنے کی بات ہی نہیں تھی۔ اور اگر مان رہے تھے تو پھر اپنے لیے بددعا کرنا یہ کون سا تک ہے؟ تو انسان کی جو سمجھ ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ لیکن اللہ پاک نے اپنا قاعدہ بتا دیا۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (33)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان کو اس حالت میں عذاب دے جب تم ان کے درمیان موجود ہو ، اور اللہ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب وہ استغفار کرتے ہوں ۔﴿33﴾

حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر اور شرک کی وجہ سے مستحق تو اسی بات کے تھے کہ ان پر عذاب نازل کیا جائے ، لیکن دو وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل نہیں فرمایا ۔ ایک وجہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں ، اور آپ کے ہوتے ہوئے عذاب نازل نہیں ہوسکتا ، کیونکہ نبی کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتا ، جب نبی بستی سے نکل جاتے ہیں ، تب عذاب آتا ہے ۔ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا ہے ، اس لئے آپ کی برکت سے عذابِ عام اس اُمت پر نہیں آئے گا ۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں بہت سے مسلمان استغفار کرتے رہتے ہیں ۔ ان کے استغفار کی برکت سے عذاب رُکا ہوا ہے ۔ اور بعض مفسرین نے اس کی یہ تشریح بھی کی ہے کہ خود مشرکینِ مکہ بھی اپنے طواف کے دوران کثرت سے ’’غفرانک ، غفرانک‘‘ کہتے رہتے تھے ، جو استغفار ہی کی ایک قسم ہے ۔ اگرچہ کفر و شرک کے ساتھ یہ استغفار آخرت کے عذاب کو دُور کرنے کے لئے تو کافی نہیں تھا ، لیکن اللہ تعالیٰ کافروں کی نیکیوں کا بدلہ اسی دُنیا میں دے دیتے ہیں ، اس لئے اُن کے استغفار کا اثر یہ ہے کہ اُن پر دُنیا میں کوئی اُس طرح کا عذابِ عام نازل نہیں ہوا جیسا عاد و ثمود وغیرہ پر آیا تھا ۔

اب یہاں پر ہمارے لیے ایک بہت بڑے نقطے کی بات ہے۔ یعنی اندازہ لگانے والی بات ہے نا۔ ایک تو ہوتی ہے نا یقینی بات کہ اس کی اس طرح بات کی جائے۔ لیکن ایک ہوتی ہے اندازے کی بات۔ اب یہاں پر دو باتیں فرمائی گئیں۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ ؕ

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی درمیان میں موجودگی عذاب سے رکاوٹ ہے۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (33)

اور اللہ پاک عذاب نہیں لاتے جب درمیان میں لوگ استغفار کرتے ہوں۔ اب یہ بات اگر ہم لوگ دیکھیں تو آج کل کے دور میں اگر کوئی عذاب آتا ہے، مثلاً کرونا یا سیلاب یا ڈینگی یا اس قسم کی مصیبتیں، معاشی مسائل، تو اس کا جو حل ہے ہمارے پاس، دو حل مطلب ہو سکتے ہیں آسانی کے ساتھ۔ ایک تو یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمارے درمیان اس وقت نہیں ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد ہمارے درمیان میں ہو۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم یاد کریں۔ بہت زیادہ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف کثرت سے بھیجیں۔ یہ بھی یاد کی بہترین صورت ہے کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد ہوں تو کیونکہ یاد کے ساتھ پھر درود شریف ہے، لازم ہے۔ تو درود شریف زیادہ پڑھیں۔ تو ایک بات تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کو یعنی ہم لوگ پکڑیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ استغفار کریں۔ استغفار کر لیں اور بہت زیادہ بہتر تہجد کے وقت کا استغفار ہے۔ کیونکہ اس کے لیے بھی باقاعدہ especially بات آئی ہے وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ، مطلب سحری کے وقت وہ استغفار کرتے ہیں۔ تو یہ مطلب ہے کہ اگر ہم یہ دو کام اپنے آپ کو، اپنے پکڑیں، مجھے اس کی اصل میں دلیل یہاں سے مل رہی ہے علمائے کرام کی تائید کی۔ کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب طاعون کی بیماری آ گئی ہمارے علاقے میں، یعنی پورے ہندوستان میں آئی تھی، تو طاعون جب آیا۔ تو اس وقت چونکہ ہمیں پتہ تھا کہ ہمارے بزرگ جب کبھی اس قسم کا مسئلہ ہوتا تھا تو سیرت پر کام شروع کر لیتے تھے۔ تو حضرت نے "نَشْرُ الطِّيبِ فِي ذِكْرِ النَّبِيِّ الْحَبِيبِ" یہ اسی دوران لکھی ہے۔ کہ ہم نے بھی یہ کام شروع کیا تاکہ یہ عذاب ٹل جائے۔ فرمایا کہ جتنا جتنا کام اس میں ہوتا تھا، اتنا اتنا وہ چیز رکتی جاتی تھی۔ اسی سے پھر ہم نے سیرت النبی والا سلسلہ شروع کیا تھا، یہ جو ہم الحمدللہ آج کل جمعے کی رات کو اس کی تعلیم کرتے ہیں نا، یہ اصل میں ہم نے اسی وقت شروع کیا تھا جب یہ کرونا شروع ہو گیا تھا۔ کہ ہم ذرا سیرت پر بات کریں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد درمیان میں آئے۔ اور درود شریف کا بھی ہم نے درودِ تنجینا ان دنوں شروع کیا تھا، یہ ہزار مرتبہ جو درودِ تنجینا ہے۔ تو گویا کہ مطلب یہ ایک بہت بڑی سہولت ہے ہمارے لیے کہ ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کیا جائے، سیرت کی بات کے ذریعے سے، نعت شریف کے ذریعے سے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف پڑھا جائے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں، اور درود پاک پہ رحمت نازل ہوتی ہے، اور ظاہر ہے رحمت اور عذاب جمع نہیں ہو سکتے۔ تو عذاب ٹل جاتا ہے۔ تو اس صورت میں ایک تو ہم یہ کام کریں اور دوسرا یہ کہ استغفار۔ استغفار یہ کثرت سے کریں، تو یہ جو مطلب ہے کہ ہم لوگ جو پڑھتے ہیں لَا اِلَهَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، دوسری آیت کریمہ، یہ سب استغفار میں آتے ہیں۔ تو ہم لوگوں کو ان چیزوں کو واقعی پکڑنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ پاک نے ہر چیز کے اندر کوئی خاصیت رکھی ہے۔ تو درود شریف کے اندر خاصیت یہ ہے کہ اس سے رحمت آتی ہے اور عذاب ٹلتا ہے۔ اور استغفار، استغفار سے بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب ٹلتے ہیں۔ اور اللہ پاک کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان چیزوں کی سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس کو استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے زیادہ سے زیادہ قرب کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ ہمیں یہ نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

نعمتوں کا شکر، محبت الہی، تقویٰ کی برکات اور عذابِ الٰہی سے بچاؤ کا قرآنی نسخہ - درسِ قرآن - دوسرا دور