حقیقتِ شہود، کشف و اجتہاد کا فرق اور ممکن و واجب کے مراتبِ وجود (حصہ اول)
مکتوب نمبر 272، اشاعت اول: 4 اپریل، 2018، بمطابق: 18 رجب، 1439 ھ
ممکنات میں حق تعالیٰ کا شہود اور تشبیہ و تنزیہ کی حقیقت
کشف و الہام اور قیاس و اجتہاد کی شرعی حیثیت میں فرق
صوفیہ کے شطحیات و الہامی امور کے متعلق افراط و تفریط سے خالی مؤقف
دنیا میں رؤیتِ باری تعالیٰ (دیدارِ الٰہی) کے باطل دعاوی کی تردید
کلامِ الٰہی (نفسی و لفظی) اور بندے سے مکالمے کی شرعی تحقیق
واجب الوجود اور ممکن الوجود (حقیقی اور مجازی وجود) کا فرق
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ۔
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالی حضرت کے درجات بہت بلند فرمائے، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔
فقیر کے نزدیک ممکنات کے آئینوں میں حق جل و علا کا جو شہود جس کو صوفیہ کی ایک جماعت کمال جانتی ہے اور تشبیہ و تنزیہ کے درمیان جمع ہونا خیال کرتی ہے وہ در حقیقت حق جل و علا کا شہود نہیں ہے، ان آئینوں میں اس کا مشہود ان کے خيالی اور من گھڑت (تصور) کے سوا اور کچھ نہیں ہے کیوں کہ جو کچھ وہ ممکن میں دیکھتے ہیں وہ واجب تعالی و تقدس نہیں ہے
حضرت اصل میں تشبیہ سے تنزیہ کی طرف ہمیں لے جا رہے ہیں اور ہر شیخ کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ تشبیہ سے تنزیہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ اصل میں واجب الوجود اور ممکن الوجود ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ میں کیسے سمجھاؤں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے حضرت نے ایک مکتوب شریف، اس میں ارشاد فرمایا تھا، مکتوب نمبر 234، کہ اللہ جل شانہ کا وجود ہی اصل وجود ہے اور باقی سب کچھ عدم ہے۔ جب اللہ تعالی کے وجود کی تجلی جو تنزل ہے وہ جب اس عدم کے اوپر پڑتی ہے تو وہ ترقی کرتی ہے عروج کے طور پر وہ وجود میں آ جاتا ہے۔ تو یہ جو وجود ہے یہ مطلب اصل نہیں ہے بلکہ اللہ پاک کے وجود کی تجلی سے ظہور میں آنے والا ہے۔ لہذا جو اصل وجود ہے اور جو تجلی سے ظہور میں آیا ہے ان دونوں کو کیسے ایک کیا جا سکتا ہے؟ ممکن نہیں ہے۔
تو اس وجہ سے جو ممکن الوجود ہے وہ اگر کسی کو نظر آ رہا ہو تو اس میں اللہ جل شانہ کے ساتھ جو اس کا خالق اور مخلوق کا تعلق ہے وہ مشہود ہوتا ہے۔ وہ مشہود ہوتا ہے۔ خالق و مخلوق کا جو تعلق ہے وہ مشہود ہوتا ہے۔ ان ممکنات کے اندر غور کرنے سے ہمیں اللہ پاک یعنی خالق کی طرف توجہ ہو جاتی ہے۔ تو یہ اصل میں گویا کہ یعنی اللہ جل شانہ کے تصور کی طرف انتقال ہے، اللہ جل شانہ کو تو کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ وہ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ جیسے اللہ نظر آ رہے ہیں جیسے کہ مطالبہ بھی ہے: أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ۔ تو ایسے عبادت کر جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے اور اگر خدا کو تو دیکھ نہیں پا رہا تو بے شک وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔
اب یہ انگریزی کا جو لفظ ہے as if اور اردو کا لفظ ہے جیسے، اس پر غور کر لیں کہ کیا چیزیں ہیں؟ یوں کہہ سکتے ہیں یہ جو تشبیہ ہے جیسے، اور as if کا، یہ اصل ہے۔ اور یہ جس چیز کی طرف اشارہ ہے یہ یعنی وہ نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی نا بات؟ اشارہ تو ہے اصل کی طرف لیکن اصل نہیں ہے۔ اور ہم اتنے ہی کے مکلف ہیں۔ اس سے زیادہ کے مکلف ہی نہیں۔ کیونکہ جب اللہ پاک نے فرما دیا موسیٰ علیہ السلام سے لن ترانی تو اور کون ہے جو دعویٰ کر سکے کہ ہم اللہ پاک کو دیکھ سکتے ہیں؟ لہذا یہ as if اور جیسے کا جو لفظ ہے اس میں تشبیہ نظر آرہی ہے نا کہ تشبیہ ہے نا۔ تو تشبیہ تنزیہ تو نہیں ہوا کرتی۔
لیکن تشبیہ کو آپ تشبیہ سمجھ لیں تو تنزیہ تک پہنچ جاؤ گے۔ میری بات نہیں سمجھ آئی؟ تشبیہ کو اگر تشبیہ سمجھ لیں تو تنزیہ تک پہنچ جاؤ گے۔ تشبیہ کو جب آپ تشبیہ سمجھتے ہیں تو اس کو اصل تو نہیں مانتے آپ تو تنزیہ تک پہنچ گئے نا۔ یعنی تشبیہ کو اگر تشبیہ مان لیا تو پھر۔۔۔ اور اگر اس تشبیہ کو تنزیہ سمجھ لیا تو بس گئے۔ آگے ساری بات حضرت یہی فرما رہے ہیں۔
ان آئینوں میں اس کا مشہود ان کے خيالی اور من گھڑت (تصور) کے سوا اور کچھ نہیں ہے کیوں کہ جو کچھ وہ ممکن میں دیکھتے ہیں وہ واجب تعالی و تقدس نہیں ہے اور جو کچھ وہ حادث میں پاتے ہیں وہ قدیم نہیں ہے اور جو کچھ (ان کو) تشبیہ میں ظاہر ہوتا ہے وہ تنزیہ نہیں ہے
کیوں؟ وہ تنزیہ نہیں ہے کیوں وہ وہ وہ تو as if میں آتا ہے وہ تو تشبیہ میں آتا ہے۔ جیسے والی بات ہے۔
ہرگز ہرگز صوفیہ کی اس قسم کی ترہات (یعنی باطل و خلاف شرع باتوں) پر فریفتہ نہ ہونا چاہیے اور حق جل سلطانہٗ کے غیر کو حق نہ جاننا چاہیے۔
یعنی غیر کو حق نہیں سمجھنا چاہیے۔ غیر غیر ہے اور حق حق ہے۔
اگرچہ یہ لوگ غلبۂ حال کی وجہ سے معذور ہیں اور خطا کار مجتہد کی طرح مواخذے سے بری ہیں لیکن ان کے مقلدوں کے ساتھ (قیامت کے روز) معلوم نہیں کہ کس طرح معاملہ کریں گے۔ کاش کہ مجتہد مخطی کے مقلدوں کی طرح ہی ہوتے،
مجتہد مخطی سے مراد یہ ہے کہ جو اجتہاد میں غلطی کرتا ہے۔ اس کو مجتہد مخطی کہتے ہیں تو ان کے جو مقلدوں کے ساتھ معاملہ ہوگا تو وہ تو ان کے ساتھ تو۔۔۔ کیونکہ معذور ہیں۔ تو ان کو بھی معاف کیا جائے گا۔ لیکن اب آگے جا کے بہت اصول کی بات کر رہے ہیں۔ اصول کی بات کر رہے ہیں
اور اگر ان کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کیا گیا تو پھر ان کے لیے بہت مشکل ہے۔
قیاس تو اجتہاد اصول شریعہ میں سے ایک اصل ہے۔ یعنی مجتہد تو کر سکتا ہے نا قیاس۔ یہ اصول شریعہ کی ایک اصل ہے۔ یعنی چار اصول ہیں نا چار۔ ایک ہے قرآن دوسرا ہے سنت تیسرا ہے اجماع صحابہ چوتھا ہے قیاس مجتہد۔ تو ایک اصل ہو گیا نا چوتھا اصل ہے۔ چار اصول ہیں تو ان میں سے ایک اصل ہے یہ۔ لہذا وہ تو ایک اصل ہے
جس کی تقلید پر ہم کو مامور کیا گیا ہے۔ بخلاف کشف و الہام کے کہ اس کی تقلید کا ہم کو امر نہیں فرمایا گیا۔
وہ ظنی ہے۔
اور الہام دوسروں پر حجت نہیں ہے۔
ایک دفعہ ایسا ہوا ہمارے حضرت حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے فرمایا کہ مجھے خواب میں کہتے ہیں جس وقت عبدالحمید ہرمزی رحمۃ اللہ علیہ فوت ہوئے میں ان کے پاس گیا تھا۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے محبوب خلیفہ تھے وزیرستان میں۔ اور کہتے ہیں ان تک پہنچنے میں بھی بڑا عجیب واقعہ ہوا تھا۔ کہ میں گیا ہوں چونکہ ان کی ڈیوٹی تھی سرکاری۔ تو مسجد میں گئے تو تسبیح پڑی ہوئی تھی۔ تو تسبیح انہوں نے ہاتھ میں لی تو چپک گئی ان کو۔ تو انہوں نے پوچھا کہ تسبیح کس کی ہے؟ انہوں نے کہا یہ تو حضرت کی ہے حضرت مولانا عبدالحمید ہرمزی جو یہاں پر تھے ہرمز میں تھے نا۔ تو یہ ان کی ہے انہوں نے کہا مجھے ان کے پاس لے جاؤ۔ اچھا یہ تو مجھے بلا رہے ہیں۔ تو ان کے پاس لے گئے۔ جب لے گئے تو حضرت نے پوچھا ووچھا سارا کچھ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد لوگ مجھ سے ملنے لگے اور سب میرے ہاتھ چومنے لگے۔ تو کہتے ہیں میں حیران تھا کہ کیا کر رہے ہیں حضرت بیٹھے ہوئے ہیں میرے ہاتھ یہ لوگ چوم رہے ہیں کمال کی بات ہے کیا کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ بھئی کیا کر رہے ہو حضرت بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا حضرت ہی تو کہہ رہے ہیں۔ خیر پھر میں خاموش ہو گیا میں نے کہا اب حضرت کہتے ہیں تو میں کیا سمجھوں۔ اور کہتے ہیں کہ کوئی بات کی کہ جا میں نے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا کچھ اس طرح بات کی۔ تو وہ جب آ گئے تو بعد میں ان کو پتہ چل گیا کہ حضرت فوت ہو گئے۔
تو کہتے ہیں میں بہت رو رہا تھا مطلب ان کی وفات کی وجہ سے بہت غم تھا۔ تو رات کو خواب میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی۔ اور حضرت نے فرمایا کہ اب بٹ خیلہ میں میرا ایک مجازِ صحبت ہے وہ ہیں ان کے پاس چلے جاؤ۔ ان کا نام تھا مولانا عبدالکریم صاحب۔ وہ مجرد تھے۔ تو جو ان کی یعنی خانقاہ تھی۔ اس میں ایک نہر کے کنارے وہ خانقاہ تھی ان کی۔ کوٹھی تھی مطلب وہ چھوٹی سی جھونپڑا سا تھا۔ تو اس میں رہتے تھے اور ہر نماز کے لیے باقاعدہ غسل کرتے تھے۔ بس نہر کے کنارے تھے۔ اور بڑی زاہدانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ تو کہتے ہیں میں پہنچ گیا حضرت کے پاس۔
کہتے ہیں حضرت بڑے جلالی بزرگ تھے۔ تو کہتے ہیں میں نے حضرت سے کہا کہ میں نے اس طرح خواب دیکھا ہے اور آپ کے بارے میں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ حضرت نے فرمایا تیرا خواب مجھ پر حجت نہیں ہے۔ تو نے دیکھا ہے میں نے تو نہیں دیکھا۔ یعنی وہ والی بات کہ الہام کسی اور دوسرے پہ تو حجت نہیں ہے نا۔ تو کہتے ہیں تیرا خواب مجھ پر حجت نہیں ہے۔ کہتے ہیں میں چپ ہو گیا۔ کہتے ہیں کوئی توجہ نہیں فرمائی۔
تو یہ بھی تو ککا خیل تھے۔ باہر آئے اور جو دروازہ تھا نا اس سے باہر آ کر کہتے ہیں میں نے اس طرح چہرہ کر دیا۔ کہتے ہیں جا رہا ہوں۔ لیکن قیامت میں تیرا گریبان پکڑوں گا کہ میں تو آیا تھا تو نے نہیں لیا۔ کہتے ہیں: مجھے کہتے ہیں، گستاخ اندر آ جاؤ۔ ایسی باتیں کرتے ہیں؟ کہتے ہیں خوب دبایا۔ خیر پھر اس کے بعد جب کبھی ضرورت ہوتی تھی تو بات کی۔ تو خود بات نہیں فرماتے۔ مجھے فرماتے ہیں صندوق پڑا ہوا ہے اس میں فلاں جلد نکالو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ کی۔ کہتے ہیں وہ جلد میں نکالتا ہوں کہتے ہیں فلاں صفحہ نکالو۔ وہ صفحہ نکال لیتا اس پہ وہ جواب موجود ہوتا۔ حضرت کا طریقہ یہ تھا۔ تو کہتے ہیں بس میرا پھر ان کے ساتھ یہ سلسلہ چلتا رہا۔
تو کہتے ہیں کہ پھر ایک دن حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے۔ تو کہتے ہیں میرا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ اور پھر یہ آپس میں باتیں کرنے لگے۔ کہتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا کر دیا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ تو حضرت فوت ہو رہے تھے۔ تو بس حضرت فوت ہو گئے تو کہتے ہیں میرا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیا تھا تو پھر میں نے حضرت کے ساتھ رابطہ کیا۔
تو یہ ساری بات میں نے اس لیے کی کہ حضرت نے فرمایا کسی دوسرے پر کسی کا الہام حجت نہیں ہوتا۔ خواب، کشف یا الہام، چونکہ سب ظنی باتیں ہوتی ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ کسی اور کے اوپر حجت نہیں ہوتے۔ لوگوں نے اسی میں گڑبڑ کی ہوئی ہے۔ ان چیزوں کو قرآن اور سنت کی طرح لیتے ہیں۔ حالانکہ نص ہے، نص نص ہوتا ہے، حجت ہوتا ہے۔ چاہے وہ سمجھ میں آئے نہ آئے پھر بھی حجت ہوتا ہے۔ اور الہام اور کشف سمجھ میں بھی آ جائے پھر بھی حجت نہیں ہے۔ کسی اور پہ حجت نہیں ہے۔
لیکن اجتہاد مقلد پر حجت ہے۔ پس علمائے مجتہدین کی تقلید کرنی چاہیے، اور دین کے اصول کو ان کی رائے کے موافق ڈھونڈنا چاہیے، اور صوفیہ جو کچھ علمائے مجتہدین کی آراء کے خلاف کہیں یا کریں، ان کی تقلید نہیں کرنی چاہیے اور ان پر حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے طعن سے اپنے منہ کو بند رکھنا چاہیے
یعنی ان پہ طعن بھی نہیں کریں، لیکن ان کی تقلید بھی نہیں کریں۔
اور ان کی اس قسم کی باتوں کو شطحیات میں سے شمار کرنا چاہیے اور ظاہر کی طرف سے مصروف و پھرا ہوا خیال کرنا چاہیے۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ ان میں سے بعض صوفیہ عام لوگوں کو اپنے کشفیہ اور الہامیہ امور مثلًا وحدت الوجود پر ایمان لانے کی رہنمائی کرتے ہیں اور ان کی تقلید پر ترغیب دیتے ہیں اور ان کے عدم (یعنی ایسا عقیدہ نہ رکھنے) پر سر زنش کرتے ہیں۔ کاش یہ لوگ ان امور کے عدم انکار پر دلالت کرتے اور ان کے منکر پر تھدید اور تنبیہ فرماتے کیونکہ ایمان اور چیز ہے اور عدم انکار اور چیز۔
دیکھو نا ان کا کشف ہے یا ان کا الہام ہے۔ میرا اس کے اوپر ایمان تو نہیں ہے۔ کیوں، حجت نہیں ہے تو ایمان کیسے ہوا؟ لیکن میں انکار بھی نہیں کرتا۔ انکار بھی نہیں کریں، انکار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں یہ بات ہے کہ میں اعمال تو شریعت پہ کروں گا۔ ٹھیک ہے نا۔ تو اس میں جو صواب کی راہ ہے وہ یہی ہے کہ انکار نہ کریں۔ کہتے ہیں: نہ انکار میکنم، نہ ایں کار میکنم۔ نہ میں انکار کرتا ہوں نہ اقرار کرتا ہوں۔ لوگ کہتے ہیں نا نہ ایں کار میکنم، نہ انکار میکنم
ایسا نہ ہو کہ ان امور کا انکار ان امور والوں کے انکار تک پہنچا دے اور حق جل و علا کے اولیاء کے ساتھ بغض و عداوت پیدا کر دے۔ علماء اہل حق کی آراء کے موافق عمل کرنا چاہیے اور صوفیہ کی کشفی باتوں سے حُسنِ ظن کے ساتھ سکوت اختیار کرنا چاہیے
کیا بات ہے!
اور "لَا وَ نَعَمْ" پر جرأت نہ کرنی چاہیے: ھٰذَا ھُوَا الْحَقُّ الْمُتَوَسِطُ بَیْنَ الْإِفْرَاطِ وَ التَّفْرِیْطِ وَ اللّٰہُ سُبْحَانَہُ الْمَلْھِمُ لِلصَّوَابِ (یہی وہ حق ہے جو افراط و تفریط کے درمیان ہے اور اللہ تعالٰی بہتری کی طرف الہام کرنے والا ہے)۔
عجب کاروبار ہے کہ ان لوگوں میں سے بہت سے اس راہ کے مدعی اس شہود و مشاہدے پر بھی قناعت نہیں کرتے بلکہ اس شہود کو تنزل خیال کر کے اس جہان میں رؤیتِ بصری کے بھی قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم واجب الوجود جل سلطانہٗ کی ذات بے چون کو دیکھتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ دولت جو ہمارے پیغمبر علیہ الصلٰوۃ و السلام کو شب معراج میں ایک دفعہ حاصل ہوئی تھی ہم کو ہر روز میسر ہے اور وہ نور جو اُن کے دیکھنے میں آتا ہے اس کو صبح کی سفیدی سے تشبیہ دیتے ہیں اور اس نور کو مرتبۂ بے کیفی خیال کرتے ہیں، اور مراتبِ عروج کی نہایت اس نور کے ظہور تک تصور کرتے ہیں: تَعَالَی اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ عَمَّا یَقُوْلُ الظَّالِمُوْنَ عُلُوّا کَبِیرًا (اللہ تعالٰی سبحانہٗ اس بات سے جو ظالم کہتے ہیں بہت بڑا ہے)۔
اور نیز حضرت حق جل شانہٗ کے ساتھ اپنا کلام و مکالمہ کرنا ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حق تعالٰی نے ایسا ایسا فرمایا ہے، کبھی اپنے دشمنوں کے حق میں حضرت عز سبحانہٗ کی طرف سے کئی کئی قسم کی وعیدیں (یعنی بہت سے عذاب) نقل کرتے ہیں، اور کبھی اپنے دوستوں کو بشارتیں دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض اس طرح کہتے ہیں کہ رات کے بقیہ تہائی یا چوتھائی حصے سے لے کر صبح کی نماز تک میں حق سبحانہٗ و تعالٰی کے ساتھ کلام کرتا رہا اور ہر طرح کی باتیں پوچھتا رہا اور جواب لیتا رہا، ﴿لَقَدِ اسْتَكْـبَـرُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيْـرًا﴾ (الفرقان: 21) ترجمہ: ”ان لوگوں نے اپنے آپ میں تکبر کیا اور بڑی سرکشی کی“۔ ان لوگوں کی باتوں سے مفہوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس نورِ مرئی کو عین جل سلطانہٗ سمجھتے ہیں اور اس نور کو حق تعالیٰ کی ذات تصور کرتے ہیں، نہ یہ کہ اس کے ظہورات میں سے کوئی ظہور یا اس کے ظلال میں سے کوئی ظل جانتے ہوں۔
تجلی ہو سکتی ہے لیکن یہ تو نہیں کہ مطلب وہ اللہ ہوں گے۔ تجلی اور چیز ہے اور اللہ تعالی کی ذات اور ہے۔ دونوں باتیں۔۔۔ اب پہاڑ کے اوپر تجلی ہوئی تو خدا تو نہیں تھے۔ موسی علیہ السلام کو جب کہا تو تجلی کا تو ثابت ہے قرآن سے ثابت ہے۔ لیکن وہ تجلی خدا تو نہیں ہے، ٹھیک ہے نا؟
تو اب یہ جو بات ہے مطلب جو نورِ مرئی ہیں ان کو وہ عین ذات جل شانہ۔۔۔ کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا لن ترانی۔ جب لن ترانی بات ہو گئی تو پھر اس کے بعد پھر کیسے دیکھ سکتے ہیں اللہ تعالی کو؟ ٹھیک ہے نا اور یہ بات تو ثابت ہو گئی نا کہ اللہ پاک کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔
اس میں کچھ شک نہیں کہ اس نور کو حق جل سلطانہٗ کی ذات کہنا محض افترا، صرف الحاد اور خالص زندقہ ہے، یہ اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کا نہایت ہی حلم و تحمل ہے کہ اس قسم کے مفتریوں کے لئے طرح طرح کے عذابوں میں جلدی نہیں کرتا اور ان کی بیخ کنی نہیں فرماتا۔ سُبْحَانَکَ عَلٰی حِلْمِکَ بَعْدَ عِلْمِکَ سُبْحَانَکَ عَلٰی عَفْوِکَ بَعْدَ قُدْرَتِکَ (یا اللہ! تو پاک ہے اور ہماری برائیوں کو جاننے کے با وجود حلم فرماتا ہے اور یا اللہ! تو پاک ہے اور قدرت کے با وجود معاف کرتا ہے)۔
حضرت موسیٰ علیٰ نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کی قوم صرف رؤیت کی طلب ہی کی وجہ سے ہلاک ہو گئی
انہوں نے طلب کیا تھا نا
اور حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے طلبِ رؤیت کے بعد "لَنْ تَرَانِی" کا زخم کھایا اور بے ہوش ہو کر گر پڑے اور اس طلب سے تائب ہوئے۔ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علی آلہ و سلم جو محبوب رب العالمین اور تمام اولین و آخرین موجودات میں سے بہترین ہیں با وجودیکہ معراجِ بدنی سے مشرف ہوئے اور عرش و کرسی سے گزر کر مکان و زمان سے بھی بالا چلے گئے، با وجود قرآنی اشاروں کے آنحضرت علیہ الصلوۃ و السلام کی رؤیت میں بھی علماء کا اختلاف ہے اور اکثر علماء آنحضرت علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام کی عدمِ رؤیت کے قائل ہیں۔ چنانچہ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وَ الْأَصَحُّ أَنَّہٗ عَلَیْہِ وَ عَلٰی آلِہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ مَا رَأٰی رَبَّہٗ سُبْحَانَہٗ لَیْلَۃَ المِعْرَاجِ" (صحیح یہی ہے کہ آنحضرت علیہ و علی آلہ الصلوۃ و السلام نے معراج کی شب میں اپنے رب کو نہیں دیکھا)۔ (لیکن) یہ بے سر و سامان اپنے خیالِ باطل میں ہر روز خدائے جل شانہٗ کو دیکھتے ہیں جب کہ حال یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و علی آلہ و سلم کے ایک مرتبہ کے دیدار میں بھی علما قیل و قال کر رہے ہیں۔ فَضَّحَھُمْ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ مَا أَجْھَلَھُمْ (اللہ تعالی ان کو خوار کرے کہ یہ کس قدر جاہل ہیں)۔
اور اسی طرح اس جماعت کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کلام جس کو یہ سنتے ہیں اس کی نسبت حق سبحانہٗ سے ایسی جانتے ہیں جیسی کلام کی نسبت متکلم سے، یہ عین الحاد ہے۔ حَاشَا وَ کَلَّا (ہرگز ایسا نہیں ہے) کہ حضرت حق سبحانہٗ سے تکلم کے انداز میں کوئی ایسا کلام صادر ہو جس میں تقدیم و تاخیر کی ترتیب ہو کہ وہ حادث (فنا ہونے والا) کلام کی علامت ہے۔ شاید مشائخ کبار کی باتوں نے ان کو غلطی میں ڈال دیا ہے، کیونکہ مشائخ نے بھی حضرت جل سلطانہٗ کے ساتھ کلام اور مکالمہ ثابت کیا ہے۔ لیکن یہ بات جاننی چاہیے کہ مشائخ کے کلام کی نسبت جو وہ حضرت حق سبحانہٗ سے کرتے ہیں ایسی نہیں ہے جو کلام کو اپنے متکلم کے ساتھ ہوتی ہے بلکہ وہ وہی نسبت ثابت کرتے ہیں جو مخلوق کو اپنے خالق کے ساتھ ہے اور اس میں کوئی محظور (رکاوٹ) اور قباحت نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علٰی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے جو شجرۂ مبارکہ سے حق جل شانہٗ کا کلام سنا تو اس کلام کو حق جل سلطانہٗ کے ساتھ وہی نسبت تھی جو مخلوق کو اپنے خالق کے ساتھ ہوتی ہے نہ یہ کہ وہ نسبت جو کلام کو اپنے متکلم کے ساتھ ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ کلام جو حضرت جبرئیل علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے (اللہ تعالٰی) سے سنا اس کلام کی بھی وہی نسبت تھی جو مخلوق کو اپنے خالق کے ساتھ ہے۔
اب دیکھیں ایک بات سنیں، ہم لوگ محتاج ہیں بات کرنے میں زبان کے، اور اللہ پاک محتاج نہیں ہے۔ کسی چیز کے بھی محتاج نہیں ہے۔ ٹھیک ہے نا، تو جب نہیں ہے تو اللہ تعالی اس کو پیدا فرماتے ہیں، کلام کو بغیر اس کے پیدا فرماتے ہیں۔ تو جدا پیدا فرمائے وہ کیا چیز ہو گئی؟ مخلوق ہو گیا۔ تو اب یہ ہے کہ یہ جو پیدا فرمایا اصل میں یہ بغیر کسی سبب کے جو پیدا فرمایا اس کی شان اور ہے۔ اور جو سبب کے ساتھ پیدا فرماتے ہیں اس کی شان اور ہے۔ بس فرق سمجھ میں آ گئی نا بات۔ جو بغیر سبب کے پیدا فرمائے اس کی شان اور ہے۔ پیدا تو اس کو بھی فرمایا۔ لیکن بغیر کسی سبب کے۔ اور جو سبب کے ساتھ فرمایا جیسے مثال کے طور پر آپ زبان سے بات کر رہے ہیں تو یہ سبب ہے۔ آج کل تو کمپیوٹر سے بھی آواز جنریٹ ہو جاتی ہے۔ وہ ہاکنگ جو وہ کمپیوٹر سے بات کرتے تھے۔ تو یہ سب اسباب کی بات ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ وہ کلام بھی کلامِ حق جل سلطانہٗ ہے اور اس کا منکر کافر و زندیق ہے،
کیوں کہ اللہ پاک نے خاص اپنے ارادے سے اس کو۔۔۔
گویا کلامِ حق مشترک ہے کلامِ نفسی اور کلامِ لفظی کے درمیان،
سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کلام نفسی یہ ہے کہ جو میں جیسے بات کر رہا ہوں یہ میرا کلام نفسی ہے۔ اور کلام لفظی یہ ہے کہ مطلب جو اس کے الفاظ ہیں علیحدہ سمجھ میں آ گئی نا بات تو اب اس میں بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے اس چیز کو بغیر سبب کے پیدا فرمایا۔ لیکن اس کو یہ نسبت ایسی نہیں ہو سکتی کہ جیسے اللہ پاک نے خود یہ بات کی ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ مطلب اس کو اس نسبت سے نہیں دے لیکن یہ اس طرح بھی نہیں ہے جس طرح عام لوگ بات کرتے ہیں۔ تو درمیان میں ہو گیا نا۔ مشترک ہو گیا نا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے۔
بات مطلب مشترک ہو گیا نا تو فرمایا کہ
کلام حق مشترک ہے کلام نفسی اور کلام لفظی کے درمیان جن کو بلاواسطہ کسی امر کے حضرت حق سبحانہ و تعالی ایجاد فرماتا ہے۔
بغیر کسی سبب کے اللہ تعالی اس کو ایجاد فرماتا ہے۔
لہذا کلام لفظی بھی حقیقت میں کلام حق جل شانہ ہوا
جو آگے ہوا یعنی وہ جو ہم قرآن میں پڑھتے ہیں۔
ناچار اس کا منکر بھی کافر ہو گیا۔
مطلب یہ ہے کہ مانتے کہ اللہ ہی کا کلام ہے۔ هٰذَا كَلَامُ رَبِّيْ صحابی سے ثابت ہے نا۔ هٰذَا كَلَامُ رَبِّيْ صحابی سے ثابت ہے تو نص سے ثابت ہو گیا۔
فَافْھَمْ فَإِنَّ ھَذَا التَّحْقِیْقَ یَنْفَعُکَ فِيْ کَثِیْرٍ مِنَ الْمَوَاضِعِ وَ اللّٰہُ سُبْحَانَہٗ الْمَوَفِّقُ (پس سمجھ لیں کہ یہ تحقیق آپ کو بہت سے مقامات پر نفع دے گی اور اللہ سبحانہٗ ہی توفیق دینے والا ہے)۔
جاننا چاہیے کہ وہ وجود جس کو ہم ممکنات کے لئے ثابت کرتے ہیں وہ ایسا غیر مستقل اور ضعیف وجود ہے جو ممکن کی تمام صفات کی طرح ہے، جیسے ممکن ایسا ہوتا ہے، کوئی وجود تو نہیں ہوتا۔ بس صرف ایک عروج ہے تجلی کی وجہ سے۔
ممکن کے علم کی (حقیقت) واجب تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں کیا حقیقت ہے اور قدرتِ قدیمہ کے مقابلے میں قدرتِ حادثہ کیا اعتبار رکھتی ہے، اسی طرح ممکن کا وجود، واجب تعالیٰ کے وجود کے مقابلے میں محض لا شے ہے۔ کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ دیکھنے والا ان دونوں وجودوں کے فرق مراتب کے باعث شک میں پڑ جاتا ہے کہ آیا وجود کا اطلاق ان دونوں فردوں پر حقیقت کی وجہ سے ہے، یا ایک فرد پر بطریقِ حقیقت ہے اور دوسرے پر بطریقِ مجاز۔
مجاز سے مراد یہ ہے کہ اس کو وجود مجازا کہتے ہیں۔ حقیقتا نہیں ہے۔ حقیقتا تو اللہ پاک کا وجود ہے نا، باقی تو مجازا ہے۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ صوفیہ کا ایک بڑا گروہ شقِ ثانی (طریق مجاز) پر یقین رکھتا ہے، اور وجود کے اطلاق کو ممکن کے وجود پر بطریقِ مجاز سمجھتا ہے اور ممکنات کے وجود کو ثابت نہیں کرتا مگر عوام یا اخصِ خواص جن سے مراد انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السلام ہیں اور ان کے بعض وہ امتی جو ان کی ولایتِ اصلیہ سے مشرف ہوئے ہیں اور دائرۂ ظلال کو کلّی طور پر طے کر چکے ہیں۔ عوام جو ظاہر کے دیکھنے والے ہیں وہ واجب تعالیٰ کے وجود اور ممکن کے وجود کو مطلق وجود کی اقسام سے جانتے ہیں، اور دونوں کو موجود تصور کرتے ہیں، اور اخصِ خواص دوُر بین اور تیز نظر والے ہیں جو ہر دو وجود کو مطلق وجود کے افراد سے جانتے ہیں، افراد وجود کے مراتب کے فرق کو وجود کی صفات و اعتبارات کی طرف راجع کرتے ہیں نہ کہ وجود کی حقیقت اور ذات کی طرف تاکہ ایک حقیقت ہو اور دوسرا مجاز۔
سبحان اللہ، کہ ایک حقیقت ہو اور دوسرا مجاز۔ بڑی گہری بات کی ہے۔ مطلب دیکھیں قرآن ہے نا تو قرآن سے تو انکار کوئی نہیں کر سکتا۔ سُبْحَانَكَ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا۔ تو نے ان تمام چیزوں کو باطل نہیں پیدا کیا۔ سُبْحَانَكَ تو پاک ہے۔ تو پاک ہے میں پھر ظاہر ہے اللہ پاک کے ساتھ کوئی چیز شریک نہیں ہو سکتی۔ اور مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا مطلب وہ چیز باطل نہیں ہے۔ تو اس کے اس طرح کا وجود ثابت کرتے ہیں دونوں کے وجود کو کہ یہ بھی وجود ہے اور یہ بھی وجود ہے۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ اس میں صفات کے لحاظ سے ہے ذات کے لحاظ سے نہیں ہے۔ یعنی وہ ذات کے لحاظ سے ہے اللہ والا اور یہ صفات کے لحاظ سے ہے۔ مطلب اس میں وجودی صفات ہیں۔ وجودی صفات سے مراد یہ ہے کہ باقاعدہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے تمام کام وہ ظاہر ہوتے ہیں۔ تو وجودی صفات تو ہیں۔ آخر سورج چڑھتا ہے غروب ہوتا ہے۔ تو وجودی صفات تو ہیں لیکن ذات نہیں ہے۔ ذاتی وجود نہیں ہے صفاتی وجود ہے۔ اس وجہ سے ایک حقیقت ہے اور دوسرا مجاز ہے۔
میں تو کہتا ہوں کہ اب تو اللہ پاک دکھا رہا ہے۔ اللہ پاک دکھا رہا ہے بہت ساری چیزیں سائنس کی وجہ سے۔ سائنس کو اپنا آبا و اجداد نہیں سمجھنا چاہیے لیکن سائنس کے ذریعے بہت ساری چیزیں ثابت ہو رہی ہیں نا۔ مثلاً آج کل جو holograms آ رہے ہیں۔ اب hologram ایسی عجیب چیز ہے کہ سارے لوگ ہال میں بیٹھے ہوتے ہیں اور درمیان میں بالکل ایک three dimensional چیز حرکت کر رہی ہوتی ہے۔ تو وہ سارا کیمرے کا کمال ہوتا ہے۔ حقیقت میں نہیں ہوتا وہ۔ لیکن وہ ایسا ہوتا ہے جیسے حقیقت ہے۔ تو اب تو مطلب گویا کہ یعنی اس چیز کا جو مجاز ہے وہ بھی نکل آیا ہے۔ مجاز کا مجاز۔ مجاز کا مجاز ہے۔ تو مجاز کے مجاز نے اس مجاز کو سمجھا دیا۔ مجاز کے مجاز نے اس مجاز کو سمجھا دیا کہ جس طرح یہ مجاز ہو سکتا ہے کہ ہے نہیں لیکن ہے۔ ہے نہیں لیکن ہے۔
کیا خیال ہے ملیریا واقعی سردی ہوتی ہے؟ کیوں؟ ملیریا بخار جس کو ہو جائے تو واقعی سردی ہوتی ہے؟ سردی نہیں ہوتی، سردی محسوس ہوتی ہے جیسے کہ سردی ہو، تو مجاز ہے نا۔ بھوک بھی ہوتا ہے جوع البقر بیماری ہے کہ پیٹ پھٹ جائے گا لیکن بھوک ختم نہیں ہوگی۔ اس طرح مرض استسقاء ہے کہ پیٹ پھٹ جائے گا لیکن پیاس نہیں بجھے گی۔ تو یہ کیا ہے، یہ جو انسان کا یہ سینٹر ہے نا، یہ سب اس کے کمالات ہیں۔ اس سینٹر کے اندر کوئی سگنل جنریٹ ہوتا ہے، اسی طرح جس طریقے سے اس سے جنریٹ ہوتا ہے۔
اور ہم لوگ انجینئرنگ کی زبان میں تو اس کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ ہمارے جو reactor simulation ہوتا ہے۔ reactor simulation۔ تو اس میں یعنی simulation سے مراد یہ ہے کہ جس طریقے سے ایک reactor چل رہا ہے اور اس میں پانی چل رہا ہو، اس میں آگ بھی جل رہی ہو، اس میں یہ بھی ہو رہا ہو، اور سارا کچھ ہو رہا ہو۔ اس میں کوئی والو بند ہو جائے، اس والو کے بند ہونے سے باقی تمام چیزوں کے اوپر کیا کیا فرق پڑے گا۔ تو اس سے جس طریقے سے مطلب ہم جو میٹرز ریڈ کرتے ہیں نا کہ فلاں فلاں چیزیں آ گئیں، تو اس کا مطلب ہے والو بند ہو گیا ہے۔ بعینہٖ اسی طریقے سے الیکٹرانک سگنلز کے ذریعے سے وہ simulation کی جا سکتی ہے۔ اس میں آپ electronically جس کو کہتے ہیں مجاز والو، مجازی والو۔ اصل والو نہیں ہوتا، مجازی والو ہوتا ہے، اس مجازی والو کو آپ بند کر دیں۔ تو بالکل تمام سسٹم کے اوپر ایسے اثر پڑے گا جس طریقے سے اصلی والو کا اثر پڑتا ہے۔ کیا خیال ہے، اب مجاز کی بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اس طرح ہمارا جو دماغ ہے، یہ جو ہمارا دماغ ہے، سینٹر ہے برین، یہ باقاعدہ یعنی false signals جنریٹ کرتا ہے۔
ہمارے ایک ڈاکٹر ارشد صاحب ہیں۔ ان کو ایک بیماری ہے۔ ان کو سٹروک ہوا تھا۔ تو وہ سٹروک جو ہوا تھا تو چونکہ خود ڈاکٹر ہیں۔ تو اس نے MRI جو کر لیا تو اس MRI میں یہ آ گیا کہ اس کا جو posterior والا جو ہے مطلب اس میں وہاں پر سٹروک ہوا تھا۔ فرمایا یہ اتنی خطرناک جگہ ہے سٹروک کی کہ اس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً یہ ہو سکتا ہے کہ جیسے یہاں ستون نہیں ہے۔ آپ کو ستون یہاں نظر آئے گا۔ آپ اس سے بچیں گے، ستون ادھر ہے، وہاں آپ کو نظر نہیں آئے گا، ادھر نظر آئے گا۔ تو جو اصل ستون ہے اسے ٹکر ماریں گے اور جہاں ستون نہیں وہاں سے بچیں گے آپ۔ یعنی یہ ایسی بیماری ہے۔
کہتے ہیں صحیح معنوں میں جہل مرکب ہے۔ صحیح معنوں میں انسان جہل مرکب ہو جاتا ہے، کیوں کہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس بیچارے کو کیا پتہ کہ میں جاہل ہوں۔ میں نہیں جانتا۔ فرمایا اللہ پاک نے مجھے اس سے بچا لیا ہے۔ تو اتنا کیا ہے کہ میری آدھی آنکھ کو نظر آتا ہے، آدھی آنکھ کو نظر نہیں آتا دونوں میں۔ آدھی آنکھ کو نظر آتا ہے، آدھی آنکھ کو نظر نہیں آتا۔ اب یہ ایسی بیماری ہے کہ عام لوگ اس کو صحت مند سمجھتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹرز اس کو بیمار کہتے ہیں۔ تو وہ بیچارہ جب بھی کہیں جاتا ہے تو اپنے ساتھ کسی اور کو لے جاتا ہے، کیوں کہ اس کو سپورٹ چاہیے ہوتا ہے، عین ممکن ہے کہ وہ کسی وقت گر پڑے۔ کیوں کہ اس طرح نظر نہیں آ رہا مثلاً۔ سیڑھیوں پر تو بہت مسئلہ ہوتا ہے ان کو۔ تو یہ بیماری ہے۔
تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جو برین سینٹر ہے، اس کے اندر جو کچھ سگنل کے طور پر ہوتا ہے۔ تو آپ کو تو وہ محسوس ہوگا نا، آپ کو تو باہر کی چیز کا پتہ نہیں ہے۔ آپ کو تو وہی محسوس ہوگا۔ تو آپ اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے، فیصلہ غلط ہوگا۔ فیصلہ غلط ہوگا۔ کیونکہ آپ جو اصل کو تو دیکھ نہیں رہے، جو آپ دیکھ رہے ہیں وہ اصل نہیں ہے۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو مطلب مجاز والی بات ہے، تو مجاز تو ایسا ہوتا ہے۔ حقیقت وہ حقیقت ہوتی ہے، مجاز مجاز۔ تو اللہ تعالی کا وجود حقیقت ہے۔ اور کائنات کا وجود مجاز ہے۔ اس انداز میں مجاز ہے کہ اللہ پاک کی قدرت سے وجود میں آیا ہے۔ اور اس کو صفات وجود کے دیے ہوئے ہیں۔ تجلی وجودی کے ذریعے سے ہے۔ اس لیے وہ واجب الوجود ہے، یہ ممکن الوجود ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ اب میرا خیال ہے ممکن الوجود کی سمجھ میں بات آ گئی۔ وہ واجب الوجود ہے، یہ ممکن الوجود ہے۔