"اللہ کی قدرت، اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ہماری معاشرتی ذمہ داریاں"
درس نمبر 303، سورہ الانفال آیات 17 تا 25، اشاعتِ اول: 27 اور 28 اکتوبر، 2022، بمطابق 30 ربیع الاول اور 1 ربیع الثانی ، 1444 ہجری
اللہ ظاہری کمزوروں کے ذریعے اپنی قدرت دکھاتا ہے۔
زیادہ تعداد کافروں کے کچھ کام نہیں آ سکتی۔
حق کی طلب رکھنے والے کو توفیق ملتی ہے۔
خوشگوار زندگی صرف اسلامی احکام کی پیروی میں ہے۔
نیکی کا خیال آتے ہی فوراً کر گزرنا چاہیے۔
معاشرے میں برائی نہ روکنا سب کے لیے وبال ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ۪ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ۚ وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (17) ذٰلِكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَیْدِ الْكٰفِرِیْنَ (18) اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَكُمُ الْفَتْحُ ۚ وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ ۚ وَ اِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ۚ وَ لَنْ تُغْنِیَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًٔا وَّ لَوْ كَثُرَتْ ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ (19)
ترجمہ: چنانچہ (مسلمانو! حقیقت میں) تم نے ان (کافروں کو) قتل نہیں کیا تھا ، بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا تھا ، اور (اے پیغمبر!) جب تم نے ان پر (مٹی) پھینکی تھی تو وہ تم نے نہیں ، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی (9) ، اور (تمہارے ہاتھوں یہ کام اس لئے کرایا تھا) تاکہ اس کے ذریعے اللہ مؤمنوں کو بہترین اجر عطا کرے ۔ بیشک اللہ ہر بات کو سننے والا ، ہر چیز کو جاننے والا ہے ﴿17﴾ یہ سب کچھ تو اپنی جگہ ، اس کے علاوہ یہ بات بھی تھی کہ اللہ کو کافروں کی ہر سازش کو کمزور کرنا تھا ۔ ﴿18﴾
حاشیہ: یہ در حقیقت ایک سوال کا جواب ہے ۔ سوال یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی قدرت سے دشمن کو براہِ راست ہلاک کرسکتا تھا ، پھر اُس نے مسلمانوں کو کیوں استعمال کیا ، اور کنکریاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے کیوں پھنکوائیں ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ اوّل تو اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ وہ تکوینی اُمور بھی کسی ظاہری سبب کے ذریعے انجام دلواتا ہے ، اور یہاں مسلمانوں کو اس لئے ذریعہ بنایا گیا کہ ان کو اجر و ثواب حاصل ہو ، اور دوسرے وہ کافروں کو بھی یہ دکھانا چاہتا تھا کہ جن سازشوں اور وسائل پر انہیں ناز ہے ، وہ سب اُن لوگوں کے ہاتھوں خاک میں مل سکتے ہیں جنہیں تم کمزور سمجھتے رہے ہو ۔
دیکھیں۔ بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن سے عقلمند لوگوں کو کم از کم ساری چیز معلوم ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل امی محض تھے۔ یعنی ان پڑھ تھے، کسی سے نہیں پڑھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن، مطلب اس پر اتار کے اور پھر قرآن کے مفاہیم اور پھر ایسے وہ یعنی علم کے جو وہ دریا بہا دیے کہ بعد میں لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ سے کتنے علوم نکالے، تو اب یہ جو بات ہے کہ اگر ایک پڑھے لکھے شخص سے یہ چیز ظاہر ہو جاتی نا، تو یہ اللہ تعالی کی جو قدرت ہے، اس کا ظہور اتنا نہ ہوتا۔ پھر بھی اللہ ہی کرتا، کیونکہ ظاہر ہے جو پڑھا لکھا ہے اس کو بھی اللہ پاک ہی دیتا ہے۔ لیکن لوگوں کی سمجھ کے مطابق لوگ اس سے دوسرا اندازہ لگا سکتے تھے۔ تو اللہ پاک نے ایک امی سے وہ کروایا۔ دوسرا، قرآن عربی میں اتارا گیا اور چیلنج عربوں کو دیا گیا، کہ اس کے مقابل کا کوئی سورت بنا لو، تو وہ اس سے عاجز، ابھی تک عاجز، نہیں کر سکتے۔ تو پتہ چلا کہ اللہ پاک کی قدرت جو ہے وہ ساری چیزوں پہ حاوی ہے۔ تو اللہ تعالی اگر ایک مضبوط لڑاکا قوم سے قریش کو لڑواتے اور پھر ان کو شکست دلواتے، تو لوگوں کا اندازہ یہ ہوتا کہ وہ تو بہت ہی تگڑے لوگ ہیں، بہت ہی مضبوط لوگ ہیں۔ تو یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالی نے طاقت پہلے سے دی ہوئی ہو نا، تو اس وقت یہ بات نہیں کھلتی۔ لیکن جو ظاہری وسائل سے کمزور لوگ ہیں، جن کے بارے میں یہ گمان نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ ہمیں شکست دے سکتے ہیں۔ ان سے شکست دلوائیں تو پھر بڑی بات ہے۔ مطلب یہ تو اس سے ظاہر ہو جاتا ہے، اللہ جل شانہ کی وہ جو قدرت ہے، ظاہر ہو جاتی ہے۔ تو اللہ پاک نے اپنی قدرت کا ظہور ان کے ذریعے سے کروایا کہ اللہ تعالی ہی سب کچھ کرتے ہیں۔ لیکن دیکھیں کہاں سے کروا لیا۔ تو اس سے وہ ظاہر ہو گیا، اب اگر کسی کو پھر بھی پتہ نہیں لگتا تو پھر یہ ان کی بہت ہی زیادہ یعنی بیوقوفی کی علامت ہے۔ اچھا، تو
ترجمہ: (اے کافرو!) اگر تم فیصلہ چاہتے تھے ، تو لو! اب فیصلہ تمہارے سامنے آگیا ۔ اب اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہوگا ، اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے (جو اب تک کرتے رہے ہو) تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے (جو اب کیا ہے) ۔ اور تمہارا جتھہ تمہارے کچھ کام نہیں آئے گا ، چاہے وہ کتنا زیادہ ہو ، اور یاد رکھو کہ اللہ مؤمنوں کے ساتھ ہے ﴿19﴾
تو مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنی قدرت دکھا دی۔ اور کافروں کو یہ بتا دیا کہ تم اب باز آ جاؤ اور یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا۔ اور اگر تم ایسا نہیں کرتے، یعنی پھر وہی کام کرتے ہو جو کہ پہلے کیا ہے، تو جیسے ہم نے پہلے کیا، ہم وہی کام پھر دوبارہ بھی کر سکتے ہیں۔ اور یہ زیادہ والی بات پہ آپ نہ جاؤ کہ مطلب ہم زیادہ ہیں تو ہم جیت جائیں گے۔ نہیں، اللہ پاک جن کو جتوانا چاہے گا تو انہی کو جتوائے گا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو عقلمندی کے ساتھ ساری چیزیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ (20) وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ (21) اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ (22) وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ؕ وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ (23) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ (24) وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةً ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (25)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اُس کے رسول کی تابع داری کرو ، اور اس (تابعداری) سے منہ نہ موڑو ، جبکہ تم (اللہ اور رسول کے احکام) سن رہے ہو ﴿20﴾ اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو کہتے تو ہیں کہ ہم نے سن لیا ، مگر وہ (حقیقت میں) سنتے نہیں ہیں ﴿21﴾ یقین رکھو کہ اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔﴿22﴾
حاشیہ: پچھلی آیت میں سننے سے مراد سمجھنا ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ کانوں سے تو سننے کا دعویٰ کرتے ہیں ، مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اس لحاظ سے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ، کیونکہ بے زبان جانور اگر کسی کی بات کو نہ سمجھیں تو اتنی بری بات نہیں ہے ۔ اُن میں یہ صلاحیت پیدا ہی نہیں کی گئی ، اور نہ اُن سے یہ مطالبہ ہے ۔ لیکن انسانوں میں تو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے ، اور اُن سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی راستہ اپنائیں ۔ اگر وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
ترجمہ: اور اگر اللہ کے علم میں ان کے اندر کوئی بھلائی ہوتی تو وہ اُن کو سننے کی توفیق دے دیتا ، لیکن اب (جبکہ ان میں بھلائی نہیں ہے) اگر اُن کو سننے کی توفیق دے بھی دے تو وہ منہ موڑ کر بھاگ جائیں گے ۔﴿23﴾
حاشیہ: بھلائی سے یہاں مراد حق کی طلب اور جستجو ہے ، اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ، سننے سے مراد سمجھنا ہے ۔ اس طرح اس آیت میں یہ اہم نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق اُس کو دیتا ہے جس کے دل میں حق کی طلب ہو ۔ اگر کسی میں حق کی طلب ہی نہ ہو ، اور وہ غفلت کی حالت میں اس طرح زندگی گزار رہا ہو کہ بس جو کچھ میں کر رہا ہوں ، ٹھیک کر رہا ہوں ، اور مجھے کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ، تو اوّل تو وہ حق بات کو سمجھنے ہی سے محروم رہتا ہے ، اور اگر سمجھ بھی جائے تو اُس کا نوٹس ہی نہیں لیتا ، اور حق سے بدستور منہ موڑے رہتا ہے ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی دعوت قبول کرو ، جب رسول تمہیں اُس بات کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے ۔
حاشیہ: اس مختصر جملے میں بڑی عظیم حقیقت بیان فرمائی گئی ہے ۔ اوّل تو اسلام کی دعوت اور اُس کے احکام ایسے ہیں کہ اگر اُن پر تمام انسان پوری طرح عمل کرنے لگیں تو اسی دُنیا میں وہ پُرسکون زندگی کی ضمانت دیتے ہیں ۔ عبادات کے علاوہ ، جو روحانی سکون کا بہترین ذریعہ ہیں ، اسلام کے تمام معاشرتی ، معاشی اور سیاسی احکام دُنیا کو نہایت خوشگوار زندگی فراہم کر سکتے ہیں ۔ دوسری طرف زندگی تو اصل میں آخرت کی ابدی زندگی ہے ، اور اُس کی خوشگواری تمام تر اسلامی احکام کی پیروی پر موقوف ہے ۔ لہٰذا اگر کسی کو اسلام کا کوئی حکم مشکل بھی محسوس ہو ، تو اُسے یہ سوچنا چاہئے کہ میری خوشگوار زندگی کا دارو مدار اس پر ہے ۔ جس طرح انسان زندگی کی خاطر بڑے سے بڑے اور مشکل آپریشن کو منظور کر لیتا ہے ، اسی طرح شریعت کا ہر وہ حکم جس میں محنت یا مشقت معلوم ہوتی ہو ، یا نفسانی خواہشات کی قربانی دینی پڑتی ہو ، اُس کو بھی خندہ پیشانی سے منظور کرنا چاہئے ، کیونکہ اس کی حقیقی زندگی کا دارو مدار اس پر ہے ۔
ترجمہ: اور یہ بات جان رکھو کہ اللہ انسان اور اُس کے دل کے درمیان آڑ بن جاتا ہے ،
حاشیہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں حق کی طلب ہوتی ہے ، اگر اُس کے دل میں کبھی گناہ کا تقاضا پیدا ہو ، اور وہ طالب حق کی طرح اللہ تعالیٰ سے رجوع کر کے اُس سے مدد مانگے تو اللہ تعالیٰ اُس کے اور گناہ کے درمیان آڑ بن جاتے ہیں ، اور وہ گناہ کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے ، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو اُسے توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح اگر کسی کے دل میں حق کی طلب نہ ہو ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کرتا ہو تو اگر کبھی اُس کے دل میں نیک خیال آ بھی جائے ، اور وہ اُسے ٹلاتا چلا جائے تو اُسے نیکی کی توفیق نہیں ملتی ، کچھ نہ کچھ اسباب ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ اُس کے دل میں جو خیال آیا تھا ، وہ کمزور پڑ جاتا ہے ، یا اُس پر عمل کا موقع نہیں ملتا ۔ اسی لئے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جب کسی نیکی کا خیال آئے تو اُسے فوراً کر گزرنا چاہئے ، ٹالنا خطرناک ہے ۔
ترجمہ: اور یہ کہ تم سب کو اسی کی طرف اکٹھا کر کے لے جایا جائے گا ﴿24﴾ اور ڈرو اُس وبال سے جو تم میں سے صرف اُن لوگوں پر نہیں پڑے گا جنہوں نے ظلم کیا ہوگا ،
حاشیہ: اس آیت کریمہ میں ایک اور اہم حکم بیان فرمایا گیا ہے ۔ اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کی حد تک شریعت پر عمل کرلے ۔ اُس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اپنی طاقت کی حد تک اُس کو روکنے کی کوشش کرے ۔ اگر لوگ اپنے اس فریضے میں کوتاہی کریں اور اُس برائی کا کوئی وبال آئے تو وہ وبال صرف اُن لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہے گا جو اُس بُرائی میں براہِ راست ملوث تھے ، بلکہ جو لوگ اُس برائی کا خود تو ارتکاب نہیں کر رہے تھے ، مگر دوسروں کو اُس سے روکتے بھی نہیں تھے ، وہ بھی اُس وبال کا شکار ہوں گے ۔
ترجمہ: اور جان رکھو کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿25﴾
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے عذاب سے محفوظ فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔