"غزوہ بدر: نصرتِ خداوندی، حکمتِ الٰہی اور اسباب و توکل کا حسین توازن"

درس نمبر 302، سورہ الانفال آیات 6 تا 16، اشاعتِ اول: 25 اور 26 اکتوبر، 2022، بمطابق 28 اور 29 ربیع الاول ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

بڑے لشکر سے مقابلے کا مقصد حق ثابت کرنا تھا۔

میدان جنگ میں اونگھ اور بارش اللہ کی مدد تھی۔

اسباب اختیار کرنا اور نظر مسبب الاسباب پر رکھنا ضروری ہے۔

طبعی اسباب اختیار کرنا بھی اللہ کا عمومی حکم ہے۔

کسی جنگی حکمت عملی کے بغیر میدان چھوڑنا ممنوع ہے۔

طالبان کی پسپائی قرآنی ہدایات کے مطابق جنگی چال تھی۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ (6) وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآىٕفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ (7) لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ (8) اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ (9) وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَىٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ ۚ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ (10)

ترجمہ: وہ تم سے حق کے معاملے میں اس کے واضح ہوجانے کے باوجود اس طرح بحث کر رہے تھے جیسے اُن کو موت کی طرف ہنکا کر لے جایا جا رہا ہو، اور وہ (اُسے) آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں ﴿6﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ تم سے یہ وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک تمہارا ہوگا، اور تمہاری خواہش تھی کہ جس گروہ میں (خطرے کا) کوئی کانٹا نہیں تھا، وہ تمہیں ملے، اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کو حق کر دکھائے، اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے ﴿7﴾ تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کر دے، چاہے مجرم لوگوں کو یہ بات کتنی ناگوار ہو ﴿8﴾ یاد کرو جب تم اپنے ربّ سے فریاد کر رہے تھے، تو اُس نے تمہاری فریاد کا جواب دیا کہ میں تمہاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتوں کی کمک بھیجنے والا ہوں جو لگا تار آئیں گے ﴿9﴾ اور یہ وعدہ اللہ نے کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ صرف اس لئے کیا کہ وہ خوشخبری بنے، اور تا کہ تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو، ورنہ مدد کسی اور کے پاس سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے۔ یقیناً اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ﴿10﴾

یہاں پر جو چیز سامنے آ رہی ہے وہ ہمیں ذرا سمجھنی چاہیے۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ دو گروہوں میں،

حاشیہ: اس سے مراد ابوسفیان کا قافلہ ہے، اور ’’کانٹے‘‘ سے مراد خطرہ ہے۔ قافلے میں مسلح افراد کی تعداد کل چالیس تھی۔ لہٰذا اس پر حملہ کرنے میں کوئی بڑا خطرہ نہیں تھا۔ لہٰذا طبعی طور پر اس پر حملہ کرنا آسان تھا۔

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ خواہش تو یہ تھی کہ قافلے کے ساتھ مڈبھیڑ ہو نا، جبکہ دوسرا گروہ جو تھا وہ جو لوگ آرہے تھے وہ جو ابو جہل کے اس میں، تو اس میں خطرہ زیادہ تھا۔ تو اصل بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے اپنی طرف سے انتظام کیا تھا کہ ان کی مڈبھیڑ ہو بڑے لشکر کے ساتھ اور حق حق ظاہر ہو جائے۔ کیونکہ ایسی حالت میں جبکہ مسلمانوں کی حالت صرف ایک قافلے کے ساتھ مقابلے کی تھی۔ تو ان کے سامنے ایک بڑا لشکر آ جائے جو ان سے کئی گنا زیادہ ہو۔ اور مسلح بھی ہو، ارادے سے بھی آئے ہوں لڑائی کے۔ تو ایسی صورت میں پھر مطلب بظاہر جو اسباب کے رخ سے جیتنے کا امکان تو نہیں ہوتا۔ لیکن اگر اس کے باوجود بھی جیت جائے تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ کوئی اور ہے۔ تو اب دیکھ لیں یہاں پر ایک اور بات بھی سامنے آئی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے ہزار فرشتوں کا وعدہ فرمایا کہ میں بھیجوں گا اور لگاتار آئیں گے۔ تو اللہ پاک نے وعدہ تو فرما لیا لیکن حقیقت بھی اللہ پاک نے بتا دی کہ صرف اطمینان کے لیے تھا۔ ورنہ مدد تو اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ مدد جو اللہ کی طرف سے آتی ہے اس کے لیے کوئی dimension متعین ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ آپ کے ہاتھ میں قوت لا سکتا ہے۔ وہ دشمن پر رعب ڈال کے کر سکتا ہے۔ وہ کسی اور ذریعے سے کر سکتا ہے، مطلب وہ اس کے لیے کچھ ظاہری اسباب اتنے زیادہ اہم نہیں ہوتے۔ لیکن بہر حال اللہ پاک چونکہ اسباب کے ذریعے سے کام کرواتے ہیں لہٰذا اطمینان دلانا تھا، خوشخبری بھیجنی تھی۔ اس کے لیے ہزار فرشتوں کا یہ وعدہ ہو گیا۔ یہ مطلب اس میں بڑی بات ہے۔ ورنہ یہ بات حقیقتاً یہی ہے کہ اللہ پاک اقتدار کا بھی مالک ہے اور حکمت کا بھی مالک ہے۔ اقتدار ایسا کہ کوئی اس کے سامنے پر بھی نہیں مار سکتا۔ اور حکمت ایسی کہ کسی کو اس کا پتا ہی نہیں چل سکتا کہ اللہ پاک کی اس کام میں کیا مطلب وہ ہے، وہ ایسی عجیب حکمت ہوتی ہے۔ کہ انسان سمجھتا ہے کہ کام ختم ہو رہا ہے اور وہ اللہ پاک باقی رکھتا ہے۔ اور جس چیز کو بہت زیادہ لوگ سمجھتے ہیں وہ چیز ختم ہو جاتی ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے اور قرآن پاک کے اندر غور کرنے کی، قرآن کے مضامین کو سمجھنے کی۔ اور پھر جو احکامات ہیں اس میں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک کو راضی کرنے کا جو سامان ہو سکتا ہے وہ کرے اور اللہ پاک ہم سے راضی ہو جائے۔

اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ (11) اِذْ یُوْحِیْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰٓىٕكَةِ اَنِّیْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ؕ سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ (12) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ ۚ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (13) ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ (14) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ (15) وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَىٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ (16)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

ترجمہ: یاد کرو جب تم پر سے گھبراہٹ دُور کرنے کے لئے وہ اپنے حکم سے تم پر غنودگی طاری کر رہا تھا

اللہ اکبر، اللہ پاک کی حکمتیں ہوتی ہیں۔

حاشیہ: اتنے بڑے لشکر کے ساتھ تقریباً نہتے آدمیوں کا معرکہ پیش آنے والا ہو تو گھبراہٹ ایک طبعی امر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھبراہٹ کا علاج یہ فرمایا کہ صحابہ پر نیند طاری کردی، جس کی ایک تاثیر یہ ہوتی ہے کہ اس سے گھبراہٹ دُور ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ جنگ سے پہلی رات جی بھر کر سوئے جس سے وہ تازہ دم ہو گئے۔ نیز جنگ کے دوران بھی ان پر وقفے وقفے سے اونگھ طاری ہوتی رہی جس سے انہیں سکون ملتا رہا۔

جنگ میں اور اونگھ آنا، یہ تو من جانب اللہ ہی ہو سکتا ہے، ورنہ آدمی کیسے وہ اونگھ اس کو آ سکتی ہے؟ وہ تو نیند اس سے دور بھاگ جاتی ہے۔ لیکن یہ کہ چونکہ من جانب اللہ تھا، اس لیے مطلب اس کو کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ یہ ہمارے خواطر کا جو باب ہے نا تصوف میں۔ تو اس میں جو خاطر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، اس کو کوئی روک نہیں سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہوتا رہتا ہے۔ تو یہ نعاس یعنی جو اونگھ ہے۔ مطلب اس کو اللہ پاک نے وہ ذریعہ بنایا۔

ترجمہ: اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا،

یہ بھی ایک دوسری نعمت۔

حاشیہ: مسلمانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کفار نے بدر کے میدان میں پہلے پہنچ کر بہترین جگہ پر قبضہ کرلیا تھا جہاں پانی بھی کافی تھا، اور زمین بھی سخت تھی۔ مسلمانوں کو جو جگہ ملی وہ رتیلی جگہ تھی جس پر پاؤں جمتے نہیں تھے، اور نقل وحرکت میں دُشواری پیش آتی تھی، اور وہاں پانی بھی نہیں تھا، تھوڑا بہت پانی ایک حوض بنا کر اس میں جمع کیا گیا تھا جو جلد ہی ختم ہونے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں مسئلوں کے حل کے لئے بارش برسا دی جس سے ریت بھی جم گئی، اور قدم بھی جمنے لگے، اور پانی کا بھی اچھا ذخیرہ جمع ہو گیا۔

یہ اصل میں اس وقت دو چیزوں، اللہ تعالیٰ نے اس کو ویسے بھی دو چیزیں جمع ہوتی ہیں پورے ہر وقت۔ کہ اسباب جو اللہ نے بنائے ہوتے ہیں، یہ اللہ پاک کا ایک عمومی حکم ہوتا ہے اسباب کا۔ اور ایک خصوصی حکم ہوتا ہے جو صرف خاص طور پر وہ ہوتا ہے، چیزوں کو جس میں خوارق بھی آتے ہیں، معجزات آتے ہیں۔ یا اس قسم کی تدبیریں جو کہ مطلب خصوصی طور پر ہوتی ہیں۔ تو یہ اللہ جل شانہ کا یعنی وہ ہے، مطلب نظام ہے۔ کہ بالکل اسباب کو ختم نہیں کرتے کیونکہ اس سے امتحان ختم ہو جاتا ہے۔ بالکل اسباب پر نہیں چلاتے کیونکہ اس سے اسباب ہی کو لوگ سمجھنے لگیں گے۔ تو کچھ حصہ اس کا ایسا ہوتا ہے جو اسباب سے ماورا ہوتا ہے۔ اور کچھ حصہ وہ اسباب کا ہوتا ہے، عمومی طور پر اسباب ہی چلتے ہیں۔ اس وجہ سے جو atheist لوگ ہوتے ہیں، جو دہریے ہوتے ہیں، وہ اسباب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسباب ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے جب ان کے اسباب ختم ہو جاتے ہیں، تو ان کے پاس کوئی تسلی کی چیز نہیں رہتی۔ جبکہ مسلمان کے پاس چونکہ دونوں چیزوں کا ہوتا ہے۔ کہ اسباب کو بھی اختیار کرنا ہوتا ہے اور ساتھ مسبب الاسباب پر بھی نظر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے ان کی تسلی جاری رہتی ہے، البتہ شیطان اپنا کام کر کے مسلمانوں کے اوپر یہ محنت کرتا ہے۔ کہ یا ان کو اسباب کی طرف بالکل لے جاتا ہے؟ مسبب الاسباب سے نظریں ہٹا دیتا ہے۔ تو یہ بھی وہ غلطی ہے، مطلب ظاہر ہے نقصان ہو جاتا ہے اس سے۔ یہ معتزلہ اور اس قسم کے لوگ اسی سے پیدا ہوئے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بالکل ہی وہ کرامات اور اس پر وہ چلے جاتے ہیں۔ یعنی جو مابعد الطبیعیات والی بات ہوتی ہے، اس کے اوپر چلے جاتے ہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ بھی، وہ پھر اسباب کو اختیار نہیں کرتے۔ یا ان اسباب کو اختیار کرتے ہیں جو کہ مطلب اس وقت نہیں، اس وقت دوسری قسم کے اسباب کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً جہاد میں تلوار چلانا۔ یہ ایک سبب ہے عمومی۔ اور ایک یہ ہے کہ آپ بخاری شریف کے ختم کر لیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یہ عمومی سبب نہیں ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اب عمومی سبب کا، عمومی سبب کے ساتھ مقابلہ ہو جائے۔ تو اب بخاری شریف کے ختم کی توہین کرا دیں گے۔ مطلب ظاہر ہے کہ وہ تو کرنا ہی ہے لیکن اس کے ساتھ کرو۔ یعنی عمومی اسباب اختیار کر کے اس پر مزید یہ اسباب اختیار کر لو، تو پھر ٹھیک ہے۔ مطلب یہ بات ہے۔ یہ تاریخ نے یہ واقعہ دیکھا ہے۔ کہ مسلمان جس وقت عیسائیوں پہ، حملہ کر رہے تھے، تو اس وقت مسلمان صحیح تھے۔ تو اس وجہ سے ان کے پاس اسباب بھی تھے اور یہ چیزیں بھی تھیں۔ تو وہ جب حملہ کیا تو وہ جو تھے، وہ مطلب ظاہر ہے انجیلوں کو رکھے ہوئے تھے اور وہ۔ تو ان پر مسلمانوں نے فتح حاصل کر لی۔ دوسری طرف یہ بخارا جو سمرقند وغیرہ جب فتح ہو رہا تھا۔ تو اس وقت یہ بخاری شریف کے ختم کر رہے تھے۔ وہ جو اسباب وغیرہ جو تھے نا، اس کی طرف متوجہ نہیں تھے۔ تو روسیوں نے قبضہ کر لیا۔ اب یہ جو چیزیں ہوتی ہیں، اس کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ یہ جو شیخ کامل ہوتا ہے یا جو اولو العزم علماء ہوتے ہیں۔ وہ ان دونوں چیزوں کو جمع کرتے ہیں۔ اور جو اس قسم کے ٹوٹکے باز ٹائپ لوگ ہوتے ہیں نا، تو وہ پھر انہی ٹوٹکوں میں چلتے رہتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ہے کہ ان دونوں کے درمیان، درمیان میں جانا ہوتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ نے پورے، اب دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر وہی طبعی اسباب جتنے بھی، سارے استعمال کیے، لیکن اللہ پاک نے ادھر سے بھی مدد فرمائی۔ اور مدد کیا فرمائی؟ اونگھ کے ذریعے سے مدد فرمائی، اب اونگھ کسی کو کیا پتا ہے کہ اونگھ کے ذریعے سے کیا مدد ہو سکتی ہے۔ اور نہ ہی انسان کے اپنے قبضے میں ہے۔ اور دوسری طرف بارش کے ذریعے سے مدد فرمائی، بارش تو انسان برسا ہی نہیں سکتا۔ مطلب وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ نے بارش ایسے موقع پہ برسا کر وہ دونوں باتوں کو صحیح کروا دیا، جو مخالف سمت چل رہی تھیں۔ ہمارے اٹامک انرجی کمیشن کی جو بات، کچھ ساتھیوں نے بتایا تھا کہ جب یہ سارا کچھ ہو گیا تھا، تو ہوا مخالف سمت میں چل رہی تھی۔ تو یہ کام ظاہر ہے ان کے بس میں نہیں تھا، تو وہ سارے لوگ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے، نماز پڑھ کے بڑے الحاح اور خشوع خضوع سے جو دعا مانگی، کہ یا اللہ! اس میں ہم کچھ نہیں کر سکتے، اس میں تو تو ہی مدد کر سکتا ہے۔ اب اسباب کتنے عرصے سے چل رہے تھے، وہ چل رہے تھے نا؟ اب یہ مسبب الاسباب کی طرف رجوع تھا۔ تو اللہ پاک نے چھ گھنٹے کے لیے صحیح سمت میں ہوا چلا دی۔ اب یہ کسی کے بس میں تھا؟ یہ مسلمانوں کا کام ہوتا ہے۔ تو چھ گھنٹے کے لیے ماشاءاللہ صحیح سمت میں ہوا چلی، اسی میں سارا کام ہو گیا، اس کے بعد پھر دوبارہ ہوا وہی اس سمت میں چلنے لگی۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ جو چیز ہوتی ہے، انسان کو اللہ پاک کی طرف سے متوجہ تو ہر وقت ہونا ہوتا ہے لیکن اسباب طبعی کو استعمال کرتے ہوئے، کیونکہ وہ بھی اللہ کا حکم ہے۔ اور عمومی حکم ہے۔ اب مثال کے طور پر دیکھو نا یہ کھانا کھانا۔ اب ایک آدمی کہتا ہے نہیں، میں تو کھانا نہیں کھاتا، بس مجھے اللہ تعالیٰ ویسے ہی میرا پیٹ بھر رکھے۔ تو یہ توہین ہے۔ مطلب اپنے عقیدے کی توہین ہے کہ تو کیوں اس طرح کر رہا ہے، اللہ پاک سب کچھ کر سکتا ہے لیکن اللہ جب چاہے تو کر سکتا ہے، وہ تو اللہ کی چاہت تیری مرضی کے مطابق تو نہیں ہے۔ وہ تو اللہ پاک تو مختار کل ہے۔ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ کام وہ خود اس کا ہے۔ تو اس سے مانگو، لیکن تمہارے بس میں جو طبعی اسباب ہیں ان اسباب کو اختیار کر لو۔ یہ دونوں باتیں بیک وقت ضروری ہیں۔

ترجمہ: تا کہ اُس کے ذریعے تمہیں پاک کرے، تم سے شیطان کی گندگی دُور کرے،

حاشیہ: ”گندگی“ سے یہاں مراد وسوسے ہیں جو ایسے مواقع پر جب اتنے بڑے دشمن کا مقابلہ ہو، آیا ہی کرتے ہیں۔

"اب مر گئے، اور اب مر گئے۔" بس وسوسے جو ہیں نا، وہ آتے ہیں نا، تو وہ پھر یہ ہے کہ اللہ پاک نے مدد فرمائی۔

ترجمہ: تمہارے دِلوں کی ڈھارس بندھائے، اور اُس کے ذریعے (تمہارے) پاؤں اچھی طرح جمادے ﴿11﴾ وہ وقت جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی کے ذریعے حکم دے رہا تھا کہ : ’’میں تمہارے ساتھ ہوں ، اب تم مؤمنوں کے قدم جماؤ ، میں کافروں کے دلوں میں رُعب طاری کر دوں گا ، پھر تم گردنوں کے اوپر وار کرو ، اور ان کی انگلیوں کے ہر ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ ۔ ‘‘ ﴿12﴾ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی مول لی ہے ، اور اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی مول لیتا ہے تو یقیناً اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿13﴾ یہ سب تو (اب) چکھ لو ، اس کے علاوہ حقیقت یہ ہے کہ کافروں کے لئے (اصل) عذاب دوزخ کا ہے ﴿14﴾ اے ایمان والو! جب کافروں سے تمہارا آمنا سامنا ہو جائے ، جبکہ وہ چڑھائی کر کے آ رہے ہوں ، تو اُن کو پیٹھ مت دکھاؤ ﴿15﴾ اور اگر کوئی شخص کسی جنگی چال کی وجہ سے ایسا کر رہا ہو ، یا اپنی کسی جماعت سے جا ملنا چاہتا ہو ، اُس کی بات تو اور ہے ، مگر اس کے سوا جو شخص ایسے دن اپنی پیٹھ پھیرے گا تو وہ اللہ کی طرف سے غضب لے کر لوٹے گا ، اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہوگا ، اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے ۔﴿16﴾

حاشیہ: یہاں دشمن کے مقابلے سے پیٹھ پھیرنے کو ہر حالت میں ناجائز قرار دیا گیا ہے ، چاہے دشمن کی تعداد کتنی زیادہ ہو ، اور جنگ بدر کے وقت صورت حال یہی تھی ۔ البتہ بعد میں اس حکم کی تفصیل اسی سورت کی آیت 65 اور 66 میں بیان فرمائی گئی ہے جس کی رُو سے اب حکم یہ ہے کہ دشمن کی تعداد اگر دگنی یا اس سے کم ہو ، تب تو میدان چھوڑنا حرام ہے ، لیکن اگر اُن کی تعداد اس سے زیادہ ہو تو میدان چھوڑنے کی اجازت ہے ۔ پھر جس وقت دشمن کو پیٹھ دکھانا ناجائز ہوتا ہے ، اُس میں بھی اس آیت نے دو صورتوں کو مستثنیٰ رکھا ہے ۔ ایک یہ کہ بعض اوقات جنگ ہی کی کسی حکمت عملی کے طور پر پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ، مقصد میدان سے بھاگنا نہیں ہوتا ۔ ایسے میں پیچھے ہٹنا جائز ہے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ پیچھے ہٹ کر اپنی فوج کے پاس جانا اس لئے مقصود ہو کہ اُن کی مدد لے کر دوبارہ حملہ کیا جائے ۔ یہ صورت بھی جائز ہے ۔

اور اس کی صورت ہم نے افغانستان میں دیکھ لی۔ کہ افغانستان میں جب بم مارے جا رہے تھے سیدھے سیدھے، تو جو طالبان کی حکومت تھی وہ پہاڑوں میں چلی گئی۔ اور لوگ جو ہیں نا، پہاڑوں میں پناہ لینے لگے موقع کا انتظار کرنے کے لیے۔ جب ان کے پاس موقع ہو گا تو پھر چھاپہ مار جنگ شروع ہو گئی۔ اب دیکھو یہ ظاہر ہے وہ ایک ترکیب کے لیے وہ چلے گئے۔ تو اس میں بھاگنا مسئلہ نہیں تھا۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے قرآن پاک نے ہدایات دی ہیں، ان ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔

"غزوہ بدر: نصرتِ خداوندی، حکمتِ الٰہی اور اسباب و توکل کا حسین توازن" - درسِ قرآن - دوسرا دور