حقیقی ایمان کا معیار: رسول اللہ ﷺ کی کامل اطاعت اور دلی تسلیم و رضا

بَابٌ فِيْ وُجُوبِ الْإِنْقِيَادِ لِحُكْمِ اللَّهِ، درس نمبر: 249، اشاعتِ اول: 4 اپریل، 2023 بمطابق 13 رمضان المبارک، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

دنیا ہی میں آپ ﷺ کا فیصلہ مل جانا دراصل آخرت کی رسوائی سے بچنے کے لیے بہت بڑی نعمت ہے

"آمَنَّا وَصَدَّقْنَا" اور "سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا" کے تحت احکام کو بوجھ سمجھے بغیر خوشی سے ماننا

کہ دل میں نبی کریم ﷺ کی سچی محبت ہو تو ہر حکم پر عمل کرنا آسان اور فطری بن جاتا ہے

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

بَابٌ فِيْ وُجُوبِ الْإِنْقِيَادِ لِحُكْمِ اللهِ وَ مَا يَقُولُهُ مَنْ دُعِيَ إِلَىٰ ذٰلِكَ وَ أُمِرَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ نُهِيَ عَنْ مُّنْكَرٍ

اللہ کے حکم کی اطاعت کے واجب ہونے کے بیان میں اور اطاعت کی طرف بلانے والا، نیز امر بالمعروف، نہی عن المنکر کرنے والا کیا کہے

قَالَ اللهُ تَعَالَى: ﴿فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (النساء: 65)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کر دو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مؤمن نہیں ہوں گے۔“

اصل میں یہاں پر ایک بات ہے۔ کچھ ہیں اخبارات وہاں کی زندگی کے متعلق کہ وہاں پر یہ ہوگا، وہاں پر یہ ہوگا، وہاں پر یہ ہوگا۔ اور یہاں کی زندگی کے بارے میں کہ اس میں یہ کرنا ہے، یہ کرنا ہے، یہ کرنا ہے، یہ کرے گا تو وہ ہو جائے گا، یہ کریں گے تو یہ ہو جائے گا۔ اب یہ ہمیں معلوم ہے کہ ایسا ہوگا۔ اب اس میں پھر انسان نپا تلا کام کرنا چاہے گا کہ میں وہ کام کروں جو وہاں فائدہ دے، اس کام سے بچوں جو وہاں نقصان کرے۔ مطلب یہی اس کا لازمی نتیجہ ہوگا۔ اب یہ نتیجہ اگر کوئی حاصل کر چکا، تو اب اس کے لیے انتہائی درجے کی خوشی کی بات ہوگی، یا اس کو اپنے لیے انتہائی ضروری سمجھتا ہوگا کہ وہ یہیں اس کو بتا دے کہ میں کون سا کام کروں، کون سا کام نہ کروں۔ مثال کے طور پر دو آدمیوں کے درمیان لڑائی ہے۔ اب اس کو قیامت میں پتہ چلتا ہے کہ تو نے زیادتی کی۔ تو پھر اس وقت کیا ہو سکتا ہے؟ اس وقت تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ تو نقصان ہی اٹھائے گا۔ اب یہیں سے اگر فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیں کہ کام اس طرح کرنا چاہیے، تو اس کے لیے خوشی کی بات ہوگی یا نہیں ہوگی؟ یعنی بہت آسانی کی بات ہو گی، مطلب ہے اس کو سمجھ آ رہی ہو گی کہ یہی تو میرے لیے مفید چیز ہے۔ تو جو اس چیز کو دل سے مان لیتے ہیں، دیکھو نا تین چیزیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں، صحابہ کرام کے ہاں۔ ایک یہ بات تھی آمَنَّا وَصَدَّقْنَا، تو یہ پہلی والی بات ہے۔ ان تمام چیزوں کو مان لیا اور تصدیق کر لی، ٹھیک ہے نا؟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، یہ دوسری بات ہے، جو یہاں پر ہوئی ہے۔ کہ مطلب یہ ہے کہ جو ہم نے سن لیا اس کو ہم نے مان لیا، اور خوشی سے مان لیا۔ مطلب اس کے درمیان دل پہ تنگی نہیں ہے، بلکہ خوشی سے مطلب ہم نے مان لیا۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللّٰهِ۔ اب یہ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں يَا رَسُولَ اللّٰهِ۔ یہ اصل میں ان دونوں کے پورا کرنے کا محرک ہے، یعنی آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کا اور سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہو گی تو یہ دونوں آسان ہو جائیں گے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نہیں ہو گی تو عقلی، اگر ہے محبت، تو وہ کام آ جائے گی۔ مطلب انسان اپنے اوپر جبر کرے گا اور کہے گا کہ بھئی ٹھیک ہے بات تو یہی صحیح ہے۔ تو عقلی طور پر کم ازکم وہ Convince ہوگا، لیکن اگر ایسا بھی نہیں ہے تو پھر تو بڑا مسئلہ ہے۔ پھر تو بڑا خطرناک مسئلہ ہے۔ تو اس وجہ سے دل تنگ نہ ہونا یہ اس طرف جا رہا ہے۔ آدمی کو وہ حیثیت حاصل ہو کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو اپنے لیے انتہائی مفید سمجھے، عقلاً، اور محبت کے طور پر اس پر عمل کرے اور مطلب ظاہر ہے اس کے اندر کوئی درمیان میں بات نہ لائے۔ یہ بات ہو گی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان چیزوں کی سمجھ عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

حقیقی ایمان کا معیار: رسول اللہ ﷺ کی کامل اطاعت اور دلی تسلیم و رضا - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور