توبہ و استغفار، حفاظتِ ایمان اور فکرِ آخرت

خطبات الاحکام، خطبہ 29: توبہ کے واجب ہونے اور اس کی فضیلت میں، اشاعت اول: 11 فروری، 2022 بمطابق: 10 رجب، 1443 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. آخرت پر یقین اور اعمال کے وزن کے مطابق جنت یا دوزخ کا فیصلہ اسلام کی بنیادی حقیقت ہے۔
  2. ایمان دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے جس کا لمحہ بھر کے لیے چھن جانا تمام گزشتہ نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔
  3. موجودہ دور میں کفر کی طرف پھسلنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، اس لیے ایمان کی حفاظت ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
  4. معاشرے کے برے اثرات کو wash کرنے کے لیے صحبتِ صالحین اور نیک مجالس کے ساتھ in contact رہنا انتہائی ضروری ہے۔
  5. شیطان مستحبات کو بنیاد بنا کر انسان کو اللہ والوں سے detach کروا دیتا ہے تاکہ ایمان خطرے میں پڑ جائے۔
  6. اپنی اصلاح کے لیے ماضی کے گناہوں سے تعلق کاٹ کر سچی توبہ کرنا اور مستقبل میں خیر کا اہتمام کرنا پہلا لازمی قدم ہے۔
  7. مقامِ توبہ روحانی منازل کا محض دروازہ ہے، اللہ کی بے پایاں رحمتیں پانے کے لیے اس سفر میں کبھی رکنا نہیں چاہیے۔
  8. خطرناک گناہوں کے باوجود انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ جلدی توبہ کرنے والوں کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔
  9. حقوق العباد کی معافی دنیا ہی میں لازم ہے، بصورتِ دیگر آخرت میں نیک اعمال دے کر یا گناہ اٹھا کر حساب چکانا ہوگا۔
  10. مردوں کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب بہترین ہدیہ ہے، اور فضائل کے باب میں اللہ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَاصْلَحَ فَاِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ اِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: و﴿وَ الَّـذِيْنَ إِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوْا أَنْفُسَهُـمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُـوْبِهِـمْۖ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُـوْبَ إِلَّا اللهُۖ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلىٰ مَا فَعَلُوْا وَ هُـمْ يَعْلَمُوْنَ أُولٰٮِٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا‌ ؕ وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَؕ﴾ (آل عمران: 135-136)

وَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: ''فَإِنَّ الْعَبدَ إِذَا اعْتَرَفَ ثُمَّ تَابَ، تَابَ اللهُ عَلَيْهِ''۔ (بخاری، رقم الحدیث:4141) وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''كُلُّ بَنِيْ اٰدَمَ خَطَّاءٌ وَّ خَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ''۔ (ترمذی، رقم الحدیث: 2499، ابن ماجہ، رقم الحدیث:4251) وَ قَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''إِنَّ اللهَ یَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِرْ''۔ (ترمذی، رقم الحدیث:3537) وَ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَّضِیَ اللہُ عَنْہُ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ''اَلنَّدَمُ تَوْبَةٌ''۔ (ابن ماجہ، رقم الحدیث:4252) وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''وَ التَّائِبُ مِنَ الذَّۢنْبِ كَمَنْ لَّا ذَۢنْبَ لَهٗ''۔ (ابن ماجہ، رقم الحدیث:4250) وَقَالَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ: ''مَنْ كَانَتْ لَهُۥ مَظْلَمَةٌ لِّأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِۦٓ أَوْ شَىْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ ٱلْيَوْمَ قَبْلَ أَن لَّا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ۖ إِن كَانَ لَهُۥ عَمَلٌ صَٰلِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِۦ ۖ وَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُۥ حَسَنَٰتٌ أُخِذَ مِن سَيِّـَٔاتِ صَاحِبِهِۦ فَحُمِلَ عَلَيْهِ''۔ (بخاری، رقم الحدیث:2449)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

معزز خواتین و حضرات! ہم اس دنیا میں آئے ہیں، یہ ایک حقیقت ہے اور ہم اس دنیا سے جائیں گے، یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ دونوں حقیقتوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پہلی حقیقت تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اور دوسری حقیقت، اس کی ہمیں خبر دی گئی ہے اور خبر دینے والے انتہائی سچے ہیں۔ اگرچہ اس دنیا سے جانے والی بات یہ تو سب مانتے ہیں، کافر بھی مانتے ہیں، جو نہیں مانتے وہ بھی مانتے ہیں۔ لیکن وہاں پر پھر کیا ہوگا؟ اس میں پھر لوگوں کی باتیں اپنی اپنی ہیں۔ لیکن ہمارا دین جو ہے، اسلام کا ہے۔ لہٰذا اسلام میں ایک ہی بات ہے: وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ تو ہمارا آخرت پر یقین ہے، اور آخرت میں ساری چیزوں کی پوچھ ہوگی۔ اور فیصلہ بالکل واضح ہوگا، اللہ پاک نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے: فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَاُمُّهُ هَاوِيَةٌ. جس کی نیکی کے اعمال کا پلڑا بھاری ہو گیا، وہ ہمیشہ کے لیے مزوں میں ہوں گے۔ اور جس کے نیکی کا پلڑا ہلکا ہو گیا تو وہ جہنم جائیں گے۔ یہ مسلمانوں کی بات ہے، جو غیر مسلم ہیں وہ تو سیدھے دوزخ میں جائیں گے ہمیشہ کے لیے۔ البتہ مسلمان اپنے اعمال کی سزا بھگتنے کے بعد وہ جنت جائیں گے ان شاء اللہ، اور جنت سے نہیں نکالے جائیں گے۔ اور پھر جنت کے سارے مزے ان کے ہاتھ ہوں گے۔

اس وجہ سے ایمان بہت بڑی دولت ہے، ایمان، اس کے برابر کوئی چیز نہیں ہے۔ تو ہم لوگوں کو سب سے زیادہ فکر ایمان کی ہونی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان کے اندر ایک تو آسانی ہے اور ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ آسانی تو اس میں یہ ہے کہ جو ایمان لایا، اس کو دوبارہ کرنے کے لیے کچھ نہیں کہا جائے گا جب تک وہ غیر ایمان کی بات کوئی نہیں ہوگی۔ جب تک غیر ایمان کی کوئی بات نہیں ہوگی، یعنی کوئی ایسی بات اس کی زبان سے نہیں نکلے گی جو اس کو کافر بنا دے، چاہے وہ ایک لمحے کے لیے کیوں نہ ہو۔ چاہے وہ ایک لمحے کے لیے کیوں نہ ہو تو اس کا ایمان وہ موجود رہے گا۔ لیکن ایک لمحے کے لیے بھی اگر ایمان چلا گیا، اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، اب اس میں دو صورتیں ہو سکتی ہیں: یا اس کے بعد ایمان نصیب نہ ہو اور مر جائے تو وہ تو پھر کافروں کے ساتھ ہی ہوگا ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ اور یا پھر یہ ہے کہ ایمان نصیب ہو جائے، اور یہ بھی بہت بڑی قسمت ہوتی ہے، تو اس کے بھی گزشتہ جتنے اعمال اس نے سارے کیے تھے، نمازیں پڑھی تھیں، روزے رکھے تھے زکاۃ دی تھی، حج کیے تھے، نیک اعمال جتنے بھی، سارے کے سارے ضائع ہو گئے۔ بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے، پھر دوبارہ نکاح کرنا پڑتا ہے اگر وہ دوبارہ اس کو مل جائے، ایمان۔ اب بتائیں کتنا بڑا نقصان ہے۔ اور ایمان جانے میں کچھ وقت نہیں لگتا۔ کوئی بات کلمۂ کفر کی زبان سے چاہے مذاق میں نکلے چاہے قصداً نکلے۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا، جیسے خواب میں یا پاگل ہو یا بچہ ہو، ان تینوں پر وہ نہیں ہے۔ لیکن اس کے علاوہ چاہے مذاق میں ہو چاہے صحیح ہو، وہ گیا۔ اب یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

اور اس وقت اس چیلنج کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے کیونکہ کفریہ باتیں، اس کے لیے بنیادیں آج کل بنائی جا رہی ہیں۔ یعنی جیسے کسی چیز کے لیے پھسلن بنائی جا رہی ہو نا کہ مطلب پھسلن ہو، وہ خود بخود پھسل کے اس طرف آ جائے۔ بالکل اسی طریقے سے سوشل میڈیا پر، اخبارات میں، ٹی وی پر، مختلف چیزوں میں یہ اس قسم کے debates، اس قسم کی باتیں float کی جا رہی ہیں کہ جیسے خود بخود پھسل کر انسان کفر کی طرف چلا جائے۔ ایسی حالت ہے آج کل۔ اب اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آدمی ان چیزوں سے بالکل ہی اپنے آپ کو بے خبر کر دے۔ ایک solution تو یہ ہے۔ لیکن کیا اس solution پہ عمل کیا جا سکتا ہے؟ کیا جا سکتا ہے؟ سبحان اللہ! بہت مبارک ہے، کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہ اس کو follow کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کا بائیکاٹ۔ مطلب یہ کہ کچھ بھی نہیں ہے اس سے اور بری محفلوں سے بچنا، بری کتابوں کو پڑھنے سے بچنا، یہ ایک بات ہے۔ اور کوئی کر سکے تو بہت زبردست solution ہے۔ لیکن ایسا بہت مشکل ہے۔ ایسا بہت مشکل ہے۔ ایسی صورت میں پھر یہ والی بات ہے کہ شر اگر exposed ہے تو اپنے آپ کو خیر کے لیے expose کرنا چاہیے۔ یعنی ایسی مجلسوں میں، ایسی صحبتوں میں انسان کو in contact رہنا چاہیے، in contact رہنا چاہیے، جو ساتھ ساتھ چیزیں wash کرتی جائیں۔ غلط باتیں آئیں تو wash ہوتی جائیں۔ یہ بات بہت اہم ہے۔

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے ایک صاحب نے کہا کہ حضرت کیا کریں؟ ہم خانقاہ جاتے ہیں، ٹھیک ہو جاتے ہیں، پھر باہر چلے جاتے ہیں، پھر خراب ہو جاتے ہیں، پھر خانقاہ جاتے ہیں، ٹھیک، پھر باہر چلے جاتے ہیں، خراب ہو جاتے ہیں، کیسے ہم مکمل ٹھیک ہوں گے؟ question تھا practical۔ حضرت نے فرمایا: کپڑے آپ پہن لیتے ہیں، میلے ہو جاتے ہیں، دھوبی دھو لیتا ہے، پھر اس کے بعد آپ اس کو پہن لیتے ہیں، پھر وہ میلے ہو جاتے ہیں، پھر دھوبی دھو لیتا ہے۔ تو اس میں کیا مسئلہ ہے آپ کو؟ کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا، پھر یہی کرو۔ ظاہر ہے اثرات تو ہوں گے۔

اب دیکھو، مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بزرگ تھے اپنے طور پر خود۔ لیکن خود انہوں نے اپنے اوپر یہ پابندی لگائی تھی کہ اگر گشت کے لیے جاتے، میوات۔ اب گشت ایک دین کا عمل ہے، خیر کا عمل ہے، اس کے لیے جاتے۔ تو چونکہ لوگوں کے پاس جاتے۔ اور یہ لوگوں کے پاس جانا ضروری بھی ہے ان لوگوں کے لیے جن کی ظاہر ہے، اس کے لیے وہ تشکیل ہو چکی ہو۔ لیکن خطرے میں بھی ہے آدمی؛ کیونکہ جو نفسیاتی ماہرین ہیں، انہوں نے بڑا عجیب تبصرہ کیا ہے۔ کہتے ہیں ہر آدمی دوسرے سے چوری کر رہا ہے۔ جب بھی دو آدمی، تین آدمی آپس میں ملتے ہیں تو ہر ایک دوسرے سے چوری کر رہا ہوتا ہے، یعنی اس کی عادتیں، خود بخود اس کے اندر آتی ہیں۔ اگر کوئی اچھا ہے تو بروں کے اس کے ساتھ ملنے سے وہ برے اچھے بنتے جاتے ہیں۔ الا یہ کہ مخالفت نہ کریں، مخالفت تو پھر اور بات ہے نا، پھر تو اور مزید خراب ہوتے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ویسے محبت کے ساتھ ملتے ہیں یا ویسے normal طریقے سے ملتے ہیں تو اچھوں کا اثر بروں پہ پڑتا ہے۔ وہ اچھے ہوتے جاتے ہیں اور بروں کا اثر اچھوں پہ پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ان کے اندر برائیاں آتی ہیں۔ تو اب یہ جو چیز ہے، یہ آئے گی۔ تو حضرت نے اس کے لیے یہ طریقہ کار سوچا تھا کہ حضرت یا سہارنپور شریف کی خانقاہ میں جاتے، یا رائے پور شریف کی خانقاہ میں جاتے، یا پھر مسجد میں اعتکاف کرتے۔ حضرت نے خود ارشاد فرمایا۔ تو پھر یہ طریقہ تو اختیار کرنا چاہیے۔

اب دیکھو وہ گشت کا عمل تھا۔ گشت کا عمل دین کا عمل تھا، دین کی نیت سے ملنا تھا، اس پر یہ اثر تھا۔ تو اب جو آفس میں جا رہے ہیں۔ جو بازاروں میں جا رہے ہیں۔ جو کج بحثوں کے ساتھ بحثیں کر رہے ہیں۔ یہ ساری باتیں ویسے تو نہیں ہیں نا، ان کے اثرات ہیں۔ تو ان اثرات کو دور کرنے کے لیے کوئی نظام تو ہونا چاہیے نا۔ اور وہ نظام بڑا ٹھیک ٹھاک ہونا چاہیے۔ کہ کسی طریقے سے بھی اس میں کمزوری نہ پائی جائے۔ لیکن صحیح بات میں عرض کرتا ہوں کہ ہم لوگ چاہے کتنے ہی ہوشیار ہو جائیں نا، شیطان ہم سے زیادہ ہوشیار ہے اس مسئلے میں۔ اس کو اس کا پتہ ہے۔ اس کو اس توڑ کا پتہ ہے۔ تو لہٰذا وہ اس توڑ کا توڑ کر دیتا ہے۔ اور کیسے توڑتا ہے؟ کوئی چیز بنیاد بنا کر ان سے detach کروا دیتا ہے۔ کوئی بھی چیز، کبھی مستحب چیز، کبھی کوئی اور چیز۔ حالانکہ فقہاء نے معاملے حل کیے ہوئے ہیں، لیکن کوئی پڑھے تو سہی۔ نہیں پڑھیں گے تو کیسے پتہ چلے گا کہ مستحب کی بات ایسی ہے کہ اس پہ کسی کو آپ ملامت نہیں کر سکتے۔ ملامت کرنے والوں کو ملامت کیا جائے گا کہ آپ نے کیوں اس پہ ملامت کی۔ مثلاً کوئی اپنے شیخ کے بارے میں سوچے، یا شیخ نہیں کوئی اور، جن کی صحبتِ صالحین کی نیت سے جن کے پاس جاتا ہے کہ جی یہ پگڑی نہیں پہنتا، چلو چھٹی ہو گئی۔ اب یہ اس کے دل میں آ گیا ہے بھئی یہ پگڑی کیوں نہیں پہنتا۔ تو بس وہ سلسلہ بڑھتا جائے گا۔ کبھی بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے routine میں کوئی کام ایسا ہو جائے، اس کی طرف خیال نہیں جاتا۔ لیکن شیطان کا خیال تو جاتا ہے، وہ اس کے ذہن میں بٹھا دیتا ہے کہ دیکھو نا، یہ یہ بات ہو گئی۔ تو اس قسم کی جو مستحبات کی باتیں ہیں، اس کو بنیاد بنا کر لوگوں کے ایمانوں کو خطرے میں ڈال لیتا ہے۔ یہ شیطان کی کارگزاری ہے۔ تو اس طرح کرتا ہے اسے اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔

ہم دیکھتے تھے اپنے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کہ ان کے پاس لوگ آتے تھے۔ تو پھر باقاعدہ کچھ لوگوں نے پورا ایک بنایا ہوا تھا کہ وہ ان لوگوں کے کان بھرتے تھے کہ مولانا صاحب ایسے، مولانا صاحب ایسے، مولانا صاحب ایسے۔ اکثر پہ تو ان کا کارگر نہیں جاتا، لیکن کچھ پر ہو بھی جاتا۔ پھر پتہ چلتا کہ لوگوں کے کہنے سننے کی وجہ سے۔ بعد میں بڑا افسوس، جب حضرت دنیا سے تشریف لے گئے پھر بڑا افسوس، لیکن پھر اس افسوس کا کیا فائدہ؟ پھر افسوس کا کیا فائدہ؟ وہ تو گیا جی۔ تو یہ چیزیں ہم دیکھتے رہے، ایسا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں عقلمند وہ ہے جو بیوقوفوں سے عقل سیکھے، یعنی بیوقوف جو کام کرے تو اس پر نظر ہو کہ بھئی ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اپنے آپ کو اس سے بچائے۔

تو بات اس سے چلی تھی کہ اپنے ایمانوں کی حفاظت، اللہ تعالیٰ ہماری فرما دے ایمانوں کی حفاظت، بہت بڑی بات ہے۔ وہ ایک دفعہ میں بار بار اس کا عرض کر چکا ہوں کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں اب کسی کو بیعت نہیں کروں گا، کیونکہ وقت بہت، مطلب مصروفیت بہت زیادہ ہو گئی ہے، اب سب تک پہنچنا مشکل ہے۔ تو جب حق ادا نہیں ہو سکے گا تو پھر خواہ مخواہ ان کو مطلب باندھنا اچھی بات نہیں ہے۔ تو حضرت کی طرف سے ما شاء اللہ وہ آ گئی بشارت، حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے کہ نہیں، بیعت کرنا نہ چھوڑو، کم از کم ایمان تو بچ جائے گا نا۔ اور کچھ نہیں تو ایمان تو بچ جائے گا۔ تو اس وقت ایمان کا بچانا بہت ضرورت ہے، بہت بڑی ضرورت ہے کہ ایمان بچ جائے۔ وجہ یہ ہے کہ اس وقت صورتحال میں آپ کو کیا بتاؤں صورتحال۔ وہ جو حدیث شریف میں آتا ہے نا کہ صبح مسلمان ہو گا تو شام کو کافر ہو چکا ہو گا، شام کو مسلمان ہو گا تو صبح کافر اٹھے گا۔ مطلب یہ کچھ پتہ نہیں ہے، کچھ پتہ نہیں ہے۔ تو اس وقت اپنے آپ کی بڑی حفاظت کریں، اپنی اولادوں کی بڑی حفاظت کرنی چاہیے، اپنے رشتہ داروں کی، یعنی اپنے گھر والوں کی بڑی حفاظت کرنی چاہیے۔ اور محفوظ قلعوں میں پناہ لینی چاہیے۔

دوسری بات ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ نے اعمال کا پورا ایک set رکھا ہوا ہے اسلام کا، جس کو ہم فقہ کہتے ہیں۔ تو اس کے مطابق عمل کرنا۔ اب ظاہر ہے اپنی عمر کے کسی بھی حصے میں کسی کو خیال آ سکتا ہے کہ میں نے تو بہت غلطیاں کی ہیں تو ظاہر ہے اب وہ اچھا بننا چاہتا ہے۔ اور عمل کرنا چاہتا ہے، تو اس کے لیے پھر پہلے دو steps ہیں، وہ لازمی ہیں ہر شخص کے لیے۔ پہلا step یہ ہے کہ گزشتہ سے اپنی جان چھڑائے، یعنی توبہ کرے۔ گزشتہ سے اپنی جان چھڑائے۔ اور آئندہ کے لیے مستقل ارادہ کرے خیر کا، اور اس خیر کو پانے کے جو راستے ہیں۔ ان پہ چلنے کا ارادہ کرے۔ اس میں پہلے کو مقامِ توبہ کہتے ہیں، دوسرے کو مقامِ انابت کہتے ہیں۔ یعنی انسان detach کرے اپنے آپ کو اپنے گناہوں والے ماضی سے اور اپنے لیے مستقبل میں خیر کو پانے کے لیے انتظام کرے۔ اس کے لیے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے، ان کا اہتمام کرے۔ تو یقیناً یہ جو دو steps ہیں، یہ پورے کے پورے تو ادا نہیں ہو پاتے کیونکہ باقی تمام steps انہی کی تکمیل کرنے والے ہوتے ہیں۔ لیکن at that stage whatever the case may be جتنا ہو سکتا ہے، مطلب وہ کرے کیونکہ start یہی ہے۔ بغیر اس کے آدمی چل نہیں سکتا۔

کل مجھے ایک صاحب کا WhatsApp آیا، جواب تو میں نے دیا تھا لیکن میں نے کہا دیکھو کیسے عجیب انسان کے ساتھ اس کی نفسیات کھیلتی ہے اور شیطان کھیلتا ہے۔ بات بڑی simple تھی، کہا کہ دس مقامات ہیں سلوک کے، لیکن اللہ پاک تو وراء الوریٰ ذات ہے۔ اس تک پہنچنا تو ممکن نہیں، اس کا مطلب لامتناہی مقامات طے کرنے ہیں۔ لیکن میرے لیے وہ توبہ والی بھی رہے تو بہت ہے، کیونکہ کم از کم ایمان بچ جائے گا، اور ایمان کے ساتھ چلا گیا تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ اب دیکھیں سادہ سادہ بات ہے نا، اس میں کوئی confusion والی بات تو نہیں ہے۔ لیکن دیکھو اول تو لامتناہی مقامات کا کہہ کر ایک چیز کو ناممکن قرار دیا۔ اور دوسرے میں اپنے لیے first step کو کافی قرار دیا۔ اب سمجھ میں آرہی ہے یا نہیں آرہی؟ اب اگر رہنمائی کی صورت نہ ہو تو پھر مجھے بتائیں کہ انسان کہاں سے کہاں پھنس سکتا ہے؟ تو اس کو میں نے جواب دیا، میں نے کہا کہ یہ جو دس مقامات ہیں نا، یہ باقی تمام مقامات کا دروازہ ہیں۔ یعنی اگر آپ کے یہ طے ہو گئے تو باقی مقامات بھی ہو سکیں گے۔ یہ دروازہ ہے۔ اور جو مقامِ توبہ ہے نا، یہ ان مقامات کا دروازہ ہے۔ لیکن کیا دروازے میں کوئی کھڑا ہوتا ہے؟ دروازہ کس چیز کے لیے ہوتا ہے؟ کھڑے ہونے کے لیے ہوتا ہے؟ دروازہ اندر جانے کے لیے ہوتا ہے۔ تو مقامِ توبہ کیا ہے؟ ماضی سے اپنے تعلق کو کاٹ کر اپنے لیے مستقبل میں خیر کا انتظام اور اہتمام کرتے ہوئے مقامات کو طے کرنا شروع کرنا، یہ بات ہے۔

یہ ہمارے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت کو اللہ تعالیٰ بہت اجر عطا فرمائے۔ یقین جانیے حضرت کے ہمارے اوپر بڑے احسانات ہیں۔ حضرت نے اپنے مریدوں کی جو تربیت فرمائی تھی، جو مکتوبات حضرت نے ان کو لکھے تھے، ان میں ایک چیز بہت واضح ہے کہ حضرت کسی کو کھڑا نہیں ہونے دیتے۔ کوئی بھی آدمی اس قسم کی بات کرتا ہے نا جس میں کھڑا ہونا پایا جاتا ہو، تو حضرت اس کو تنبیہ ہے کہ وہ کچھ الفاظ بھی تھے کہ چھلکے کے لیے گری کو نہ چھوڑیں، اس طرح وہ اخروٹ اور اس کے لیے وہ اصل چیز کو نہ چھوڑیں۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ کہ اللہ بہت، بہت کریم ہے اور بہت دینے والا ہے۔ اس نے سب کچھ ہمیں دینے کے لیے بنایا ہوا ہے، اس کو خود کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اچھا اب اس نے اتنا کچھ بنایا ہوا ہے اور اتنا کچھ دینے کے لیے ارادہ ہے اس کا۔ تو آپ کیوں رکتے ہیں درمیان میں؟ وہ دینے سے نہیں تھکتا تو تم لینے سے کیوں تھکو؟ حضرت کے اوپر اس چیز کا بہت زیادہ غلبہ تھا۔ ایک تو یہ کہ خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی نسبت نہیں ہے، یہ بات بہت وضاحت کے ساتھ کرتے تھے اور بہت زیادہ کرتے تھے۔ اور ایک یہ بات ہے کہ رکنا نہیں ہے۔ کیوں، جب اللہ پاک دے رہا ہے تو پھر کیوں رکتے ہو؟ آگے بڑھو، آگے بڑھو، آگے بڑھو، آگے بڑھو۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

مطلب یہ ہے کہ یہی بات ہے کہ آپ کو رکنا نہیں ہے۔ ہر چیز سے آگے ایک اور منزل ہے، تو چلیں، آگے بڑھیں۔ اور زندگی محدود ہے۔ تو اس محدود زندگی میں آپ جتنا کچھ حاصل کر سکتے ہیں، اس میں رکتے کیوں ہیں؟ تو حضرت ہمت دلانے والوں میں ہیں۔ اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی جو thesis ہے، وہ مایوس نہیں ہونے دیتے۔ حضرت کا مطلب خصوصی جو مطلب وہ ہے کہ مایوس نہیں ہونے دیتے۔ کسی stage پر مایوس نہیں ہونے دیتے۔ تو ان دونوں کے ساتھ اگر کوئی ہو گیا تو سبحان اللہ! بہت بڑا فائدہ ہے۔ اور بڑے ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ چھوٹے ان کو دیکھ کر چلیں۔

تو اس لیے میں عرض کروں گا کہ ہمیں ہر حال میں اللہ پاک کی طرف متوجہ ہونا ہے، ہر حال میں۔ چاہے گناہ کی خطرناک صورت میں بھی ہم کیوں نہ ہوں۔ خطرناک سے خطرناک صورت میں بھی کیوں نہ ہوں۔ پھر بھی ہمیں پتہ ہو کہ اللہ معاف کرنے والا ہے۔ اور اللہ کی طرف جانے کا راستہ موجود ہے۔ یہ ہمارا ہونا چاہیے۔ اور شیطان اس راستے کو بند کرنا چاہتا ہے۔ وہ بہت جلدی مایوسی لاتا ہے کہ تاکہ انسان کا یہ راستہ block ہو جائے۔ اور وہ اپنے اس چیز سے واپس نہ ہو جائے۔ وہ کہتا ہے، بس جو ہونا تھا ہو گیا، اب تو کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ وہ کہتا ہے نا، یہ کر لیا، یہ کر لیا، یہ کر لیا۔ پہلے کہتا ہے کرو کرو کرو کرو، اور جب کر لیتا ہے پھر کہتا ہے، تو نے تو یہ کر لیا، اب تو کچھ نہیں ہو سکتا، اب تو ایسے ہے، اب تو ایسے ہے، اب تو ایسے ہے۔ وسوسے بہت شاندار قسم کے وہ بناتا ہے۔ حالانکہ اللہ پاک کا بھی نظام یہ ہے: اللہ پاک کے قرآن کو دیکھو، تو اس میں بار بار روکنے کا ہے: یہ نہ کرو، یہ نہ کرو، یہ نہ کرو، یہ نہ کرو، ایسا نہ ہو جائے، ایسا نہ ہو، ایسا نہ ہو۔ لیکن اگر کسی سے ہو گیا ہے: جلدی توبہ کرو میں ابھی معاف کرتا ہوں، جلدی توبہ کرو میں ابھی معاف کرتا ہوں۔ سب کچھ معاف۔

اِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا.

میں ایک دفعہ حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بیٹھا تھا تو کچھ اس قسم کی باتیں میں نے شروع کیں، ہم تو ایسے ہیں، ہم تو ایسے ہیں، حضرت نے فرمایا یہ مجھے بتاؤ: لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا. قرآن کی آیت ہے؟ میں نے کہا، جی بالکل۔ تو یہ "جَمِيعًا" کس کا لفظ ہے؟ یہ اللہ پاک کا ہے یا ہمارا ہے؟ کہا، یہ تو اللہ پاک کا ہے، کیوں اللہ پاک فرماتے ہیں؟ تو اللہ پاک کی "جَمِيعًا" سے کوئی چیز بچ بھی سکتی ہے؟ اللہ پاک کی "جَمِيعًا" سے کوئی چیز بچ بھی سکتی ہے؟ میں نے کہا، نہیں۔ انہوں نے کہا، بس یہی بات ہے۔ جب اللہ پاک خود فرماتے ہیں: اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، تو اس بڑے در کے اوپر کیوں نہیں آتے؟ اس بڑے در سے لیتے جاؤ۔ وہ تو دیتا رہتا ہے۔

تو یہ بات ہے کہ مطلب ہمیں مایوسی تو بالکل نہیں ہونی چاہیے، مایوسی کا دروازہ تو توبہ بند کر لیتا ہے۔ اور ہمت سے انسان آگے چلتا ہے۔

"ہمتِ مرداں، مددِ خدا"۔

انسان ہمت کرے، اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور ہوتی ہے۔ اور اس پہ بھی قرآنی نص موجود ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا، جو میرے راستے میں مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم ان کو ضرور بالضرور ہدایت کے راستے سجھائیں گے۔ صرف راستہ نہیں، راستے سجھائیں گے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ گناہوں کی وجہ سے مایوس نہ ہوں اور آگے چلنے کے لیے ہمت سے کام لیں۔ اور ہمت پر سو فیصد کامیابی کا وعدہ سمجھیں۔ سو فیصد کامیابی کا وعدہ سمجھیں۔ اور یہ وعدہ میرا اور آپ کا نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ جل شانہٗ کے ہاں چھوٹی سے چھوٹی نیکی، وہ بھی ختم نہیں ہوتی، وہ بھی اللہ پاک اس کو محفوظ کر لیتا ہے۔ اس پہ نہیں جانا چاہیے یہ تو بہت چھوٹی چیز ہے، بھئی چھوٹی چیز ہے تو اللہ قبول فرمائے، پھر تو چھوٹی نہیں ہے نا۔ کیونکہ اللہ پاک قبول ہی ان سے فرماتے ہیں جو اس کے پسندیدہ ہوتے ہیں، تو جب قبول کر لی، پھر اس کے بعد کیا چیز رہ گئی؟ تو یہ اصل میں بنیادی باتیں ہیں، تو ابھی میں نے جو آپ کے سامنے قرآن پاک کی آیات تلاوت کی ہیں اور احادیث شریفہ، میں صرف جلدی جلدی اس کا ترجمہ آپ کو سنا دوں تاکہ آپ کو اندازہ ہو جائے کہ میں اپنی طرف سے باتیں نہیں کر رہا ہوں۔

اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا:

اور جو لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ کوئی (گناه کر بیٹھتے ہیں مگر ان کی یہ حالت ہے کہ) ایسا کام کر گزرتے ہیں جس میں (دوسروں پر) زیادتی ہو وہ اپنی ذات پر (گناہ کر کے) نقصان اٹھاتے ہیں تو (معًا) اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کر لیتے ہیں، پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہنے لگتے ہیں اور (واقعی) اللّٰہ تعالیٰ کے سِوا اور کون ہے جو گناہوں کو بخشتا ہو اور وہ لوگ اپنے فعلِ (بَد) پر اِصرَار (اور ہَٹ) نہیں کرتے اِس حال میں کہ وہ جانتے ہوں (البتہ اگر ناواقفیت میں ایسا ہو جاوے تو اور بات ہے) یہی لوگ ہیں جن کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے اور بہشت کے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہوں گی، یہ ہمیشہ (ہمیشہ) اسی میں رہیں گے۔ اور (یہ) ان کے کام کرنے والوں کا اچھا بدلہ ہے۔

دیکھیں نا، شروع کہاں سے کیا ہے، جنہوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کیا۔ اور اخیر میں کیا بتایا ہے؟ جنت۔ تو دیکھو کیسے ہے مطلب اللہ پاک نے۔ حدیث شریف:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بندہ جب (گناہوں کا) اِقرار کرے، پھر توبہ کرے٬ الله تعالیٰ اُس کی توبہ قبول کرتا ہے، مسلم شریف کی روایت ہے۔

اور نیز ارشاد فرمایا کہ تمام بَنِی آدم خَطا کرنے والے ہیں اور خَطاکاروں میں توبہ کرنے والے بہتر ہیں۔۔

اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ بندہ کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ خَرْخَرَہ نہ لگے (یعنی حَلق میں جان آ کر خَرْخَر نہ کرنے لگے اور اس خَرْخَره سے چوں کہ موت آ چُکنے کا پورا یقین ہو جاتا ہے اِس واسطے اُس کے بعد توبہ کرنا قابلِ قبول نہیں

اور حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نِدامت توبہ ہے

اور گناہ سے توبہ کرنے والا اُس شخص کے مانند ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔

اس وجہ سے جب کسی چیز کی فضیلت آدمی سنے نا تو اس وقت فوراً اس پہ عمل کرنا چاہیے، اس وقت اس عمل کا نور نصیب ہو جاتا ہے۔ ہمیں اپنے بزرگوں نے یہ بتایا ہے، تو ہمیں فوراً توبہ کرنی چاہیے کہ جب اتنا بڑا وعدہ آ گیا ہے۔ اے اللہ پاک! ہم توبہ کرتے تمام گناہوں سے، چھوٹے گناہوں سے بھی، بڑے گناہوں سے بھی، جو معلوم ہیں، جو معلوم نہیں، جو قصداً ہوئے، جو خطا سے ہوئے، ظاہر کے، باطن کے، اے اللہ! ہم سب کی توبہ قبول فرما، آئندہ کے لیے ہمیں گناہوں سے محفوظ فرما۔

آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس کے ذِمّہ اُس کے بھائی کا کوئی حق آبرُو کا یا اور کسی طرح کا ہو، اُس کو چاہیے کہ آج اُس سے سبکدوش ہو جاوے، یعنی معاف کرا لے (اور اگر حقوقِ مالیات کو وہ معاف نہ کرے تو ادا کرنا ضروری ہے) اُس (دن) اُس سے پیشتر کہ اُس کے پاس نہ دِرہم ہو گا نہ دِینار (بلکہ) اِس طرح حق ادا کیا جاوے گا کہ اگر اُس کے پاس نیک عمل ہو گا تو اُس ظالم سے اُس (مظلوم) کے حق کے موافق لے لیا جاوے گا، اور اگر اُس (ظالم) کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اُس (مظلوم) کے گناہوں میں سے (بہ مقدارِ ظلم) اس پر لاد دیے جاویں گے۔بخاری

اور اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص نے ظلم کے بعد توبہ کی اور عملِ صالح کیا تو اللّٰہ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے، بے شک الله غفور رحیم ہے۔

اس وجہ سے جب انسان سے گناہ ہو جائے تو اول ہوشیاری کی بات تو یہ ہے کہ فوراً توبہ کرے۔ اور پھر اس کی تلافی کے لیے کوئی نیک عمل کرے، کوئی نیک عمل کرے۔ تاکہ اللہ جل شانہٗ اس کے account میں اچھی چیزیں جمع فرمائے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قبر میں مُردہ (ڈوبنے والے) فریاد کرنے والے شخص کے مانند ہوتا ہے، انتظار کرتا ہے دُعا کا جو اس کو باپ یا بھائی یا دوست کی طرف سے پہنچے۔ پس جب دُعا اس کے پاس پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک وہ (دُعا) دنیا اور اس کی سب چیزوں سے زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ اور اللّٰہ تعالیٰ قبر والوں پر زمین والوں کی دُعا کی وجہ سے پہاڑوں کے مانند (ثواب) داخل کرتا ہے اور تحقیق زندوں کا ہَدیہ مُردوں کی طرف اُن کے لئے دُعائے مغفرت کرنا ہے۔

تو اس پر بھی ہم عمل کرتے ہیں، بس ایک دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھ لیں اور سارے مردوں کو بخش دیں۔ اللہ جل شانہٗ ہماری اس تلاوت کو قبول فرمائے، اس کا ثواب اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو، جملہ انبیاء کرام کو، جملہ صحابہ کرام کو اور جتنے بزرگ اولیاء کرام گزرے ہیں، سارے مسلمانوں کو پہنچا دے۔ تو ظاہر ہے ہماری طرف سے یہ ان کی خدمت میں ہدیہ ہے اور اس پر وہ بڑے خوش ہوتے ہیں۔

مجھ سے کسی نے کہا کہ اویسی نسبت کیسے حاصل ہوتی ہے؟ یہ کسی اپنے ساتھی نے سوال کیا۔ میں نے کہا، مجھے نہیں معلوم، البتہ ایک طریقہ ذرا open لگتا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ آپ جس بزرگ سے اویسی نسبت حاصل کرنا چاہ رہے ہیں، ان کے لیے ایصالِ ثواب کرنا شروع کر لیں۔ جب آپ کی طرف سے ہدایا ادھر جانا شروع ہو جائیں گے۔ تو اگر اللہ پاک کو منظور ہوا تو ادھر سے بھی اللہ پاک رشتہ بنا لے گا۔ میں نے کہا، یہ راستہ، کم از کم میں کہہ سکتا ہوں، عقل میں اور سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ یہ آدمی کر لے تو ان شاء اللہ امید کرتے ہیں۔ باقی تو ظاہر ہے یہ تو انسان کے بس میں بات نہیں ہے، بلکہ وہ جہاں سے آ رہے ہیں، ان کے بس میں بھی نہیں ہے۔ ان کے بس میں بھی نہیں ہے، بس میں تو صرف اللہ پاک کے ہے۔ اللہ پاک چاہے گا تو، لیکن ان لوگوں کے، جو اللہ والے ہوتے ہیں نا، ان کے وہ جو چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ ویسا کر دیتے ہیں، فضل سے۔ مجبوری سے نہیں۔ فضل سے ایسا کر دیتے ہیں، اور طریقہ ہے اس کا مطلب، اپنے اپنے نازنین ہوتے ہیں ان کے، ان کا وہ regard ہوتا ہے۔ تو اس regard میں پھر وہ اللہ تعالیٰ نظام چلا دیتے ہیں۔ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ تو یہ جو ایصالِ ثواب والا طریقہ ہے، یہ ایک بہت powerful طریقہ ہے۔

یہ بعض لوگ ایصالِ ثواب نہیں سمجھتے، ٹھیک ہے جی، ان کی ایک علمی تحقیق ہے، نہیں مانتے ہوں گے، ہر ایک کی اپنی اپنی تحقیق ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک صاحب تھے اس طرح جو نہیں مانتے تھے، بڑے عالم تھے۔ لیکن وہ سمجھتے تھے کہ ثواب نہیں پہنچتا۔ تو وہ ویسا ہے کہ جب فوت ہو گئے تو کسی نے ان کو خواب میں دیکھا۔ انہوں نے کہا، حضرت! آپ کا اب کیا خیال ہے کہ ثواب پہنچتا ہے یا نہیں پہنچتا؟ کہتے ہیں، میرا خیال ہے اب پہنچتا ہے۔ مطلب ظاہر ہے وہاں پہنچ کر تو سب کو یقین ہو جاتا ہے نا کہ پتہ چل جاتا ہے، اب دیکھیں نا۔ یہاں پر تو فرمایا ہے نا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تو مطلب یہ ہے کہ وہاں تو پھر سب کو پتہ چل جاتا ہے۔

ویسے میں کہتا ہوں اپنے اوپر دروازے نہیں بند کرنے چاہئیں۔ یہ بھی اللہ پاک کا وہ ہے جو اللہ پاک نے دروازے کھولے ہوئے ہیں، ان دروازوں کو بند نہ کرو۔ اس لیے کہتے ہیں اللہ پاک کے ساتھ اچھی اچھی امیدیں رکھو۔ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، میں بندے کے اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرے ساتھ وہ رکھتا ہے۔ تو ظاہر ہے میں کہتا ہوں اگر ضعیف حدیث بھی ہے، مثال کے طور پر، تو کم از کم آپ کے لیے ایک راستہ تو بن گیا نا۔ تو اسی کو ہی سہارا بنا کر اللہ پاک سے لے لو۔ آپ اس کی علمی بحث میں پڑنے کی بجائے کیا کریں؟ بس اچھا ظن رکھ لو۔ تو اس سے بھی آپ کا کام ہو جائے، کیونکہ یہ ظن والی بات، تو حدیث شریف تو صحیح ہے۔ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، تو اسی بنیاد پر کہہ دو کہ بے شک وہ ضعیف حدیث ہی کیوں نہیں ہے، لیکن آپ اچھا گمان رکھ کر امید ہے کہ اللہ پاک آپ کے ساتھ ایسے ہی معاملہ کر لے۔ آخر حدیثِ غار میں وہ جو بات آئی ہے کہ وہ جو ایک صاحب تھے جس نے اپنے والدین کے لیے وہ کیا تھا کہ میں اپنے والدین کو جب تک دودھ نہ پلاتا تو پھر کسی کو نہیں پینے دیتا، بچوں کو بھی نہیں۔ تو میں آیا تو والدین سو گئے تھے۔ تھکے ہوئے تھے تو سو گئے تھے، تو پھر میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا دودھ کا پیالہ، میرے بچے رو رہے تھے لیکن میں نے ان کو نہیں پلایا۔ اور جب وہ جاگ گئے تو پھر ان کو پہلے پلایا، پھر اس کے بعد اپنے بچوں کو پلایا، اے اللہ! اگر یہ کام میں نے تیرے لیے کیا ہے تو تو یہ چٹان کو ہٹا دے۔ تو چٹان کچھ ہٹ گئی تھی۔ تو اب دیکھیں یہ معاملہ باقاعدہ علمی لحاظ سے غلط تھا۔ بچوں کا حق والدین سے زیادہ ہوتا ہے۔ نابالغ ہیں نا نابالغ، نابالغ ہوتے ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ regard کرتے ہیں، تو وہ ان کا حق زیادہ تھا۔ لیکن اللہ نے ان کی نیت کی وجہ سے منظور فرما لیا۔

تو اگر ہم اچھی نیت کے ساتھ اپنے لیے ایک ضعیف حدیث کو بھی۔۔۔ فضائل میں ضعیف حدیثیں کیوں چلتی ہیں؟ اس کی وجہ بھی یہی ہے۔ فقہاء کرام جو ہیں، اس کو جو فرماتے ہیں کہ فضائل میں ضعیف حدیثوں کا بھی اعتبار ہوتا ہے اور اس پر عمل کیا جا سکتا ہے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ عمل میں کوئی فرق نہیں آتا۔ عمل تو وہی ہوتا ہے، اس سے ہی حدیث اور قرآن کی آیت پر، قرآن آیات پر ہوتا ہے۔ اب صرف یہ کہ ثواب کی بات ہے، ثواب صرف ظَنُّ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ والی بات ہے۔ اس میں، اس میں آ جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ آپ اچھا گمان کر لیتے ہیں، چاہے اس کے لیے آپ کوئی، ابھی انچاس کروڑ نمازوں کا جو ثواب ہے، بھئی آپ خدا کے راستے میں جائیں۔ انچاس کروڑ نمازوں کا ثواب اپنے ذہن میں بے شک رکھ لو، امید ہے کہ آپ کو مل جائے گا۔ نہیں ملے گا تو جو پڑھی ہے وہ تو مل ہی جائے گی نا، وہ تو واپس نہیں ہوگی نا۔ لیکن وہ جو انچاس کروڑ والے کہتے ہیں ہم سے، ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ بھی ضد نہ کریں کہ خانقاہ کے لیے جو آتا ہے نا تو ان کو نہیں ملے گا، اور جو رائیونڈ جاتا ہے ان کو ملے گا۔ ان سے بھی ہم کہتے ہیں، اپنی نیت کو ذرا وسیع کر لو تھوڑا سا، اس میں اور لوگ بھی شامل کر لو۔ یہ اللہ پاک بہت بڑے ہیں۔ تمہاری سوچ سے بہت زیادہ بڑے ہیں۔ تمہاری سوچ ذرا تھوڑی سی تنگ ہے۔ لیکن اس سوچ کو ذرا وسیع کر لو تاکہ سب کو ملے گا، ان شاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو جائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

توبہ و استغفار، حفاظتِ ایمان اور فکرِ آخرت - جمعہ بیان - اشاعت دوم