دعوتِ حق، تکبر کی رکاوٹ اور قومِ نوحؑ کا عبرتناک انجام
درس نمبر 284، سورہ الاعراف آیات 56 تا 64، اشاعتِ اول: 23 اور 24 ستمبر، 2022، بمطابق 26 اور 27 مصفرالمظفر، 1444 ہجری
زمین میں نافرمانی نہ پھیلانا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے بھی اس کے فضل کی امید رکھنا
"قدرت کی نشانی: مردہ زمین کا زندہ ہونا اور عقیدۂ آخرت کا ثبوت"
اچھی زمین کی طرح دل کو صاف رکھنا تاکہ قرآنی نصیحت اور نیک صحبت دل پر اثر کرے
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56) وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِ جُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ (57) وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُ جُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُ جُ اِلَّا نَكِدًا ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ (58)
ترجمہ: اور زمین میں اُس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو،
حاشیہ: زمین پر اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو بھیجا تو شروع میں نافرمانی کا کوئی تصور نہیں تھا، اور اس طرح زمین کی اصلاح ہو چکی تھی۔ جن جن لوگوں نے بعد میں نافرمانی کے بیج بوئے انہوں نے زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد مچایا۔
ترجمہ: اور اُس کی عبادت اس طرح کرو کہ دل میں خوف بھی ہو اور اُمید بھی۔
حاشیہ: یہاں دعاء کا صیغہ اکثر مفسرین کے نزدیک عبادت کے لئے آیا ہے، اسی لئے ہم نے اس کا ترجمہ عبادت سے کیا ہے۔ اور سچی عبادت کی شان اس آیت میں یہ بتائی گئی ہے کہ عبادت کرنے والے کے دل میں اپنی عبادت پر ناز ہونے کے بجائے یہ خوف ہونا چاہئے کہ نہ جانے میں عبادت کا حق ادا کر سکا یا نہیں، اور یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کی مستحق ہے یا نہیں۔ دوسری طرف اسے اپنی عبادت کی کوتاہیوں سے مایوسی کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ اُمید بھی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے اسے قبول فرما ہی لے گا۔ یعنی اپنی کوتاہی کا خوف اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بنیاد پر اُمید، دونوں چیزوں کا امتزاج ہے جو کسی عبادت میں سچائی پیدا کرتا ہے۔
ترجمہ: یقیناً اللہ کی رحمت نیک لوگوں سے قریب ہے ﴿56﴾ اور وہی (اللہ) ہے جو اپنی رحمت (یعنی بارش) کے آگے آگے ہوائیں بھیجتا ہے جو (بارش کی) خوشخبری دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بوجھل بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم انہیں کسی مردہ زمین کی طرف ہنکا لے جاتے ہیں، پھر وہاں پانی برساتے ہیں، اور اُس کے ذریعے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو بھی زندہ کر کے نکالیں گے۔ شاید (ان باتوں پر غور کر کے) تم سبق حاصل کر لو۔﴿57﴾
حاشیہ: یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ایک مردہ زمین میں جان ڈال دیتا ہے، اسی طرح وہ مردہ انسانوں میں بھی جان ڈالنے پر قادر ہے۔ مردہ زمین کے زندہ ہونے کے واقعات تم روزمرہ دیکھتے ہو، اور یہ بھی مانتے ہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوتا ہے۔ اس سے تمہیں سبق لینا چاہئے کہ انسانوں کو دوبارہ زندگی دینے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر سمجھنا کتنی بڑی بے وقوفی ہے۔
ترجمہ: اور جو زمین اچھی ہوتی ہے اُس کی پیداوار تو اپنے ربّ کے حکم سے نکل آتی ہے، اور جو زمین خراب ہو گئی ہو، اُس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیوں کے مختلف رُخ دکھاتے رہتے ہیں، (مگر) اُن لوگوں کے لئے جو قدردانی کریں ﴿58﴾
حاشیہ: اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف ہے کہ جس طرح اچھی زمین کی پیداوار بھی خوب ہوتی ہے، اسی طرح جن لوگوں کے دل میں طلب کی پاکیزگی ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں، اور جس طرح ایک خراب زمین پر بارش پڑنے کے باوجود اُس سے کوئی فائدہ مند پیداوار حاصل نہیں ہوتی، اسی طرح جن لوگوں کے دل ضد اور عناد سے خراب ہو چکے ہیں، اُن کو اللہ تعالیٰ کے کلام سے بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
یعنی انسان اپنے اندر طلب پیدا کرے۔ تو وہ جو طلب ہوتی ہے، اس کے ذریعے سے دل کی زمین صاف ہو جاتی ہے، پاک ہو جاتی ہے، اور پھر اس پر اللہ جل شانہ کا کلام بہت اثر کرتا ہے اور نیک لوگوں کی صحبت بھی بہت اثر کرتی ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ، کوئی گستاخی کر کے اپنے آپ کو اور بھی خراب کر لیتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (59) قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ (60) قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ (61) اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (62) اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (63) فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ (64)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: ہم نے نوح کو اُن کی قوم کے پاس بھیجا۔
یعنی نوح علیہ السلام کو اپنی قوم کی پاس بھیجا تھا تو
حاشیہ: اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی پیدائش اور حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے درمیان ایک ہزار سال سے کچھ زیادہ کا فاصلہ ہے، لیکن محقق علماء نے ان روایات کو مستند نہیں سمجھا۔ حقیقی فاصلے کا یقینی علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ البتہ اتنی بات قرآن کریم سے واضح ہوتی ہے کہ اس طویل عرصے کے دوران بت پرستی کا رواج بہت بڑھ گیا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی بہت سے بت بنا رکھے تھے، جن کے نام سورۂ نوح میں مذکور ہیں۔ سورۂ عنکبوت (29: 14) میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک اس قوم کو حق کی تبلیغ فرمائی، اور سمجھانے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا۔ کچھ نیک بخت ساتھی جو زیادہ تر غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے، ان پر ایمان لائے، لیکن قوم کی اکثریت نے کفر ہی کا راستہ اختیار کئے رکھا۔ حضرت نوح علیہ السلام اُن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے رہے، لیکن جب وہ نہ مانے، تو انہوں نے بددُعا دی، اور پھر انہیں ایک شدید طوفان میں غرق کر دیا گیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے واقعے اور ان کی قوم پر آنے والے طوفان کی سب سے زیادہ تفصیل سورۂ ہود (11: 25 تا 49) اور سورۂ نوح (سورت نمبر 71) میں آئے گی۔ اس کے علاوہ سورۂ مؤمنون (23: 23)، سورۂ شعراء (26: 105)، اور سورۂ قمر (54: 9) میں بھی ان کا واقعہ اختصار سے بیان ہوا ہے۔ دوسرے مقامات پر ان کا صرف حوالہ دیا گیا ہے۔
تو یہ اصل میں نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کو تبلیغ کے بارے میں بات تھی۔ تو نوح علیہ السلام نے فرمایا اپنی امت سے،
ترجمہ: چنانچہ انہوں نے کہا: ”اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو۔ اُس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ یقین جانو مجھے سخت اندیشہ ہے کہ تم پر ایک زبردست دن کا عذاب نہ آ کھڑا ہو۔“ (59) اُن کی قوم کے سرداروں نے کہا: ”ہم تو یقینی طور پر دیکھ رہے ہیں کہ تم کھلی گمراہی میں مبتلا ہو“ (60) نوح نے جواب دیا: ”اے میری قوم! مجھے کوئی گمراہی نہیں لگی، مگر میں ربّ العالمین کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں (61) میں تمہیں اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا بھلا چاہتا ہوں۔ مجھے اللہ کی طرف سے ایسی باتوں کا علم ہے جن کا تمہیں پتہ نہیں ہے (62) بھلا کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے ربّ کی نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعے تم تک پہنچی ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے، اور تم بدعملی سے بچ کر رہو، اور تاکہ تم پر (اللہ کی) رحمت ہو؟“ (63)
یہ اصل میں ایک بڑا حجاب بن جاتا ہے کہ انسان اپنے جیسے کسی آدمی کو اپنے آپ کو نصیحت کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ وہ اندرونی تکبر کی وجہ سے اس کو نہیں قبول کرتا۔ مطلب ایسا کیوں ہے، ہم ایسا کیوں نہیں، مطلب اس قسم کی بات ہوتی ہے۔ تو اس سے ہے کہ پھر بعد میں بڑا نقصان ہوتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اس طرح بات تھی کہ وہ لوگ نوح علیہ السلام کو چونکہ اپنے آپ میں سے سمجھتے تھے۔ اب بھی دیکھتے، رشتہ داروں کو جو مسئلہ ہوتا ہے وہ یہی ہوتا ہے۔ اور قریب ترین جو پڑوسی ہوتے ہیں، ان میں بھی یہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ہاں، دور کے جو لوگ ہوتے ہیں وہ لے لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو چونکہ اپنے میں سے نہیں سمجھتے، لہذا ان کی ان باتوں کو بغیر کسی تنقید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ جبکہ اپنے لوگ ان کو اس لحاظ سے دیکھتے ہیں کہ یہ مطلب ہم میں ایسا ہے، جیسے جب ابو جہل نے کہا تھا کہ فلاں، ان کی قوم نے یہ کیا، ہم نے یہ کیا، انہوں نے یہ کیا، ہم نے یہ کیا، انہوں نے، اب ان کا ایک آدمی کہتا ہے کہ ہم میں پیغمبر آیا ہوا ہے، تو کیسے ہم اس کو مان لیں۔ تو گویا کہ یہی مسابقت اور معاصرت والا جو مسئلہ ہے، یہ انسان کو خراب کرتا ہے۔ تو یہاں پر بھی اس قسم کی بات تھی کہ نوح علیہ السلام اپنی قوم سے کہہ رہا ہے کہ
ترجمہ: بھلا کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے ربّ کی نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعے تم تک پہنچی ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، پھر بھی انہوں نے نوح کو جھٹلایا، چنانچہ ہم نے اُن کو اور کشتی میں اُن کے ساتھیوں کو نجات دی،
یہ نوح علیہ السلام کا جو واقعہ ہے کشتی اور طوفان کا، یہ تو بہت تفصیل کے ساتھ مطلب دوسرے اس میں آیا ہوا ہے، سورۃ ہود میں آیا ہوا ہے۔ تو یہ ویسے جو یعنی تفصیلات ہیں اس میں اتنی سی عرض کر لوں کہ نوح علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک کشتی بنا دی۔ اور جو قوم تھی، جب وہ خشکی پر وہ کشتی بناتے ہوئے دیکھ رہے تھے تو حیران ہو رہے تھے کہ خشکی پر کشتی کیوں بنا رہے ہیں۔ تو جب وہ اس قسم کی بات، تو وہ نہیں مانتے تھے۔ اخیر میں جس وقت طوفان آیا اور پانی اوپر چڑھنے لگا، تو نوح علیہ السلام کو حکم ہوا کہ آپ مطلب اپنے ساتھ جو مسلمان ہیں وہ، اور ہر جانور کا ایک جوڑا اپنے ساتھ کشتی میں رکھ لو۔ تو مطلب رکھ لیا گیا، تو کشتی تو پانی کے ساتھ اوپر جا رہی تھی اور باقی لوگ ڈوب رہے تھے۔ تو نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ تم میرے پاس آ جاؤ، یعنی اس مسلمان ہو جاؤ، تو اس نے کہا کہ میں پہاڑ پر چڑھ کے اپنے آپ کو بچا لوں گا۔ تو بس پھر موج درمیان میں آئی اور غرق ہو گیا، تو یہ کشتی والی جو بات ہے۔ ہائے ہائے،
ترجمہ: اور اُن سب لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا۔ یقیناً وہ اندھے لوگ تھے۔ ﴿64﴾
یعنی دیکھ نہیں رہے تھے، اللہ تعالی کی نشانیوں کو دیکھ نہیں رہے تھے، اندھے اس طرح تھے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں نا لَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا۔ یعنی ان کی آنکھیں ہیں، لیکن وہ اس سے دیکھتے نہیں۔ تو اسی طریقے سے ان کے بارے میں فرمایا کہ اندھے لوگ تھے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسے انجام سے محفوظ فرما دے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ۔ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ۔ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔