سورۂ انفال: معرکۂ بدر کا پس منظر، احکامِ غنیمت اور فہمِ قرآن کے بنیادی اصول
درس نمبر 301، سورہ الانفال آیات 1 تا 5، اشاعتِ اول: 23 اور 24 اکتوبر، 2022، بمطابق 26 اور 27 ربیع الاول ، 1444 ہجری
سورۂ انفال غزوۂ بدر کے احکام پر مشتمل ہے۔
قافلے پر حملہ جنگی حالت کا دفاعی تقاضا تھا۔
اللہ نے معرکۂ بدر میں مسلمانوں کو فتح بخشی۔
مالِ غنیمت کا فیصلہ اللہ اور رسول کے سپرد ہے۔
قرآن کو احادیث اور شانِ نزول سے سمجھنا چاہیے۔
ناپسندیدہ حالات میں بھی مومن کے لیے خیر ہے
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
معزز خواتین و حضرات، آج ان شاء اللہ سورۂ انفال شروع کی جا رہی ہے۔ اس سورت کا تعارف یہ ہے کہ
تعارف یہ سورت تقریباً 2 ہجری کے آس پاس مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے، اور اس کے بیشتر مضامین جنگِ بدر اور اس کے واقعات اور مسائل سے متعلق ہیں۔ یہ جنگ اسلام اور کفر کے درمیان پہلے باقاعدہ معرکے کی حیثیت رکھتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح مبین عطا فرمائی، اور قریشِ مکہ کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔ چنانچہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات بھی یاد دلائے ہیں، اور مسلمانوں نے جس جاں نثاری کے ساتھ یہ جنگ لڑی اس کی ہمت افزائی کے ساتھ بعض اُن کمزوریوں کی بھی نشان دہی فرمائی ہے جو اس جنگ میں سامنے آئیں۔ اور آئندہ کے لئے وہ ہدایات بھی دی گئی ہیں جو ہمیشہ مسلمانوں کی کامیابی اور فتح و نصرت کا سبب بن سکتی ہیں۔ جہاد اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے بہت سے احکام بھی بیان ہوئے ہیں، اور چونکہ جنگِ بدر اصل میں کفارِ مکہ کے ظلم و ستم کے پس منظر میں پیش آئی تھی، اس لئے ان حالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ نیز جو مسلمان مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے، ان کے لئے بھی ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ جائیں۔ ہجرت کی وجہ سے میراث کی تقسیم سے متعلق کچھ احکام عارضی طور پر نافذ کئے گئے تھے۔ سورت کے آخر میں اسی وجہ سے میراث کے کچھ مستقل احکام دیئے گئے ہیں۔
جنگ بدر جو ہے، یہ جیسا کہ ابھی کہا گیا کہ یہ پہلی پہلا معرکہ ہے۔ جو قریش مکہ کے ساتھ آیا تھا۔
اس لئے ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے اس جنگ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات یہاں پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، تاکہ اس سے متعلق آیات کو اُن کے صحیح پس منظر میں سمجھا جاسکے۔
ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام، یہ جیسے قرآن تدریج سے آیا ہے۔ یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے، تھوڑا تھوڑا کر کے، اس طرح پورے اسلامی احکامات بھی بڑی تدریج کے ساتھ آئے ہیں۔ واقعات آتے تھے، واقعات کے مطابق وہ احکامات آتے تھے۔ تو تربیت ظاہر ہے، اس میں ساتھ ساتھ ہوتی تھی صحابہ کرام کی۔ اس میں وہ یکبارگی سارے احکامات نہیں آئے، بلکہ جتنی جتنی جگہ بنتی گئی اتنے اتنے احکامات آتے گئے۔ اور تکوینی جو حالات ہوتے ہیں ان کے مطابق جو احکامات آتے ہیں، تو وہ اصل میں تربیت کا حصہ ہوتے ہیں۔ یعنی جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے، صلاحیت بڑھتی جاتی ہے، احکامات میں مزید ہے تفصیل آتی جاتی ہے، اور اس کے مطابق تربیت ہو رہی ہوتی ہے۔
مکہ مکرمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال مقیم رہے۔ اس دوران مکہ مکرمہ کے کفار نے آپ اور آپ کے جاں نثار صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو طرح طرح سے ستانے اور ناقابلِ برداشت تکلیفیں پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہاں تک کہ ہجرت سے ذرا پہلے آپ کو قتل کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا گیا، جس کا ذکر اسی سورت میں آنے والا ہے۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو کفارِ مکہ مسلسل اس فکر میں رہے کہ آپ کو وہاں بھی چین سے بیٹھنے نہ دیا جائے۔ انہوں نے عبد اللہ بن اُبی کو مدینہ منورہ میں خط لکھا کہ تم لوگوں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کو پناہ دی ہے، اب یا تو تم انہیں پناہ دینے سے ہاتھ اٹھالو، ورنہ ہم تم پر حملہ کریں گے۔ (دیکھئے سنن ابوداؤد، کتاب الخراج، باب 23، حدیث نمبر: 3004) انصار میں سے اوس کے قبیلے کے سردار حضرت سعد بن معاذؓ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ گئے، تو عین طواف کے دوران ابوجہل نے ان سے کہا کہ تم نے ہمارے دشمنوں کو پناہ دے رکھی ہے، اور اگر تم ہمارے ایک سردار کی پناہ میں نہ ہوتے تو زندہ واپس نہیں جاسکتے تھے، جس کا مطلب یہ تھا کہ آئندہ اگر مدینہ منورہ کا کوئی آدمی مکہ مکرمہ آئے گا تو اُسے قتل کردیا جائے گا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں ابوجہل سے کہہ دیا کہ اگر تم ہمارے آدمیوں کو مکہ مکرمہ آنے سے روکو گے تو ہم تمہارے لئے اس سے بھی بڑی رکاوٹ کھڑی کردیں گے، یعنی تم تجارتی قافلے لے کر جب شام جاتے ہو تو تمہارا راستہ مدینہ منورہ کے قریب سے گذرتا ہے۔ اب ہم تمہارے قافلوں کو روکنے اور ان پر حملہ کرنے میں آزاد ہوں گے۔ (دیکھئے صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب 2، حدیث نمبر: 3950) اس کے بعد کفارِ مکہ کے کچھ دستے مدینہ منورہ کے آس پاس آئے، اور مسلمانوں کے مویشی لوٹ کر لے گئے۔ حالات کے اس پس منظر میں ابوسفیان (جو اُس وقت کفارِ مکہ کا سردار تھا) ایک بڑا بھاری تجارتی قافلہ لے کر شام گیا۔ اس قافلے میں مکہ مکرمہ کے ہر مرد وعورت نے سونا چاندی جمع کر کے تجارت میں شرکت کی غرض سے بھیجا تھا۔ یہ قافلہ شام سے سونی صد نفع کما کر واپس آ رہا تھا۔ یہ قافلہ ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل تھا، اور پچاس ہزار دینار (گنیوں) کا سامان لا رہا تھا، اور اس کے ساتھ چالیس مسلح افراد اس کی حفاظت پر متعین تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قافلے کی واپسی کا پتہ چلا تو حضرت سعد بن معاذؓ کے چیلنج کے مطابق آپ نے اس قافلے پر حملہ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس کے لئے باقاعدہ سپاہیوں کی بھرتی کا موقع نہیں تھا، اس لئے وقت پر جتنے صحابہ تیار ہو سکے، ان کی تعداد تین سو تیرہ تھی، کل ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے، ساٹھ زرہیں تھیں۔ اس مختصر سامان کے ساتھ آپ مدینہ منورہ سے نکلے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بعض غیر مسلم مصنفین نے اس واقعے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ایک پُر امن تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ہمارے زمانے کے بعض مسلمان مصنفین نے اس اعتراض سے مرعوب ہو کر یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ قافلے پر حملہ کرنے کا نہیں تھا، بلکہ ابوسفیان نے اپنے طور پر خطرہ محسوس کر کے ابوجہل کے لشکر کو دعوت دی تھی۔ لیکن واقعے کی یہ تشریح صحیح احادیث اور قرآنی اشارات کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ درحقیقت یہ اعتراض اُس وقت کے حالات اور اُس دور کے سیاسی، دفاعی اور معاشرتی ڈھانچے سے بے خبری پر مبنی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو واقعات ہم نے اوپر بیان کئے ہیں، اُن کی روشنی میں فریقین کے درمیان ایک مسلسل جنگ کی حالت موجود تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو نہ صرف چیلنج دے رکھے تھے، بلکہ کفار کی طرف سے عملی طور پر چھیڑ چھاڑ بھی شروع ہو چکی تھی۔ دوسرے حضرت سعد بن معاذؓ پہلے سے انہیں متنبہ کر آئے تھے کہ وہ ان کے قافلوں پر حملہ کرنے کے لئے آزاد ہوں گے۔ تیسرے اُس دور میں شہری اور فوجی افراد کی کوئی تفریق نہیں ہوتی تھی۔ کسی معاشرے کے تمام بالغ مرد "مقاتلہ" یعنی لڑنے والے کہلاتے تھے۔ چنانچہ قافلے کی سرکردگی ابوسفیان کے ہاتھ میں تھی جو اُس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کھلا دشمن تھا، اور اُس کے ساتھ چالیس مسلح افراد میں سے ہر ایک قریش کے اُن لوگوں میں سے تھا جو مسلمانوں کو ستانے میں پیش پیش رہے تھے، اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کر رہے تھے، اور یہ قافلہ بھی اگر کامیابی سے مکہ مکرمہ پہنچ جاتا تو قریش کی جنگی طاقت میں بڑے اضافے کا سبب بنتا۔ ان حالات میں اس کو ایک پُر امن تجارتی قافلے پر حملہ قرار دینا اُس وقت کے حالات سے ناواقفیت یا محض عناد کا کرشمہ ہے، اور اس کی وجہ سے ان واقعات کا انکار کرنا کسی طرح درست نہیں ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔ بہر حال! جب ابوسفیان کو آپ کے ارادے کا اندازہ ہوا تو اُس نے ایک طرف تو ایک تیز رفتار ایلچی ابوجہل کے پاس بھیج کر اس واقعے کی اطلاع دی، اور اسے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آپ پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا، اور دوسری طرف اپنے قافلے کا راستہ بدل کر بحرِ احمر کے ساحل کی طرف نکل گیا تاکہ وہاں سے چکر کاٹ کر مکہ مکرمہ پہنچ سکے۔ ابوجہل نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر ایک بڑا لشکر تیار کیا، اور لوہے میں غرق ہو کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب پتہ چلا کہ ابوسفیان تو قافلہ لے کر نکل چکا ہے، اور ابوجہل کا لشکر آ رہا ہے تو آپ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ سب نے یہی رائے دی کہ اب ابوجہل سے ایک فیصلہ کن معرکہ ہو جانا چاہئے۔ چنانچہ بدر کے مقام پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد اور ساز و سامان ابوجہل کے لشکر کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔ ابوجہل سمیت قریش کے ستر سردار جو مسلمانوں کی دشمنی میں پیش پیش تھے، مارے گئے، اور دوسرے ستر افراد گرفتار ہوئے، اور باقی لوگ میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھیں، واقعتاً اگر حالات کا پتا نہ ہو، تو پھر تاریخی روایات سے صحیح اندازے لگانے مشکل ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ایسے موقعے پہ یا تو بات نہیں کرنی چاہیے، یا پوری تحقیق کر کے بات کرنی چاہیے۔ تاکہ مطلب صحیح بات انسان کر سکے۔ تو ان شاء اللہ العزیز اس موضوع پر مزید بات ہوگی، کیونکہ سورت ہی اس کے لیے ہے۔ تو اس میں ساتھ ساتھ اس کے بارے میں بات ہوگی۔ آج کے لیے اس میں یہ کافی ہے۔
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ ۪وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (1) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ (2) الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ (3) اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ؕ لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ (4) كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ ۪ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَ (5)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
سورۂ انفال جو مدنی سورت ہے۔ 75 آیات پر مشتمل اور 10 رکوعات پر۔
وہ آج شروع ہو رہی ہے۔
ترجمہ: شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے (اے پیغمبر!) لوگ تم سے مالِ غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو کہ مالِ غنیمت (کے بارے میں فیصلے) کا اختیار اللہ اور رسول کو حاصل ہے۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو، اور آپس کے تعلقات درست کرلو، اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم واقعی مؤمن ہو ﴿1﴾
حاشیہ: جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن کو شکست ہوگئی تو صحابہ کرامؓ تین حصوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے آپ کے ساتھ رہا۔ دوسرا حصہ دشمن کے تعاقب میں روانہ ہو گیا، اور تیسرا حصہ دشمن کے چھوڑے ہوئے مالِ غنیمت کو جمع کرنے میں مشغول ہو گیا۔ یہ چونکہ پہلی جنگ تھی، اور مالِ غنیمت کے بارے میں مفصل ہدایات نہیں آئی تھیں، اس لئے اس تیسرے حصے نے یہ سمجھا کہ جو مال اُنہوں نے اکٹھا کیا ہے، وہ انہی کا ہے۔ (اور شاید زمانہ جاہلیت میں معمول ایسا ہی رہا ہوگا) لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد پہلے دو گروہوں کو یہ خیال ہوا کہ وہ بھی جنگ میں برابر کے شریک تھے، بلکہ مالِ غنیمت اکٹھا ہونے کے وقت زیادہ اہم خدمات انجام دے رہے تھے، اس لئے اُن کو بھی اس مال میں حصہ دار ہونا چاہئے۔ یہ ایک فطری تقاضا تھا جس کی بنا پر ان حضرات کے درمیان بحث کی بھی نوبت آئی۔ جب معاملہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو یہ آیات نازل ہوئیں جن میں بتا دیا گیا کہ مالِ غنیمت کے بارے میں فیصلے کا مکمل اختیار اللہ اور اُس کے رسول کو ہے۔ چنانچہ بعد میں اسی سورت کی آیت نمبر 41 میں مالِ غنیمت کی تقسیم کے بارے میں مفصل احکام آگئے۔ زیر نظر آیت نے ہدایت دی کہ اگر مسلمانوں کے درمیان کوئی رنجش ہوئی ہے تو اس وضاحت کے بعد اُسے دُور کر کے باہمی تعلقات دُرست کر لینے چاہئیں۔
اب دیکھیے اگر کسی کو شانِ نزول کا پتا نہ ہو قرآن پاک کے، یعنی یہ پتا نہ ہو کہ کس موقع پر یہ آیت اتری ہے تو اس کا صحیح معلوم کرنا بڑا مشکل ہے۔ کیونکہ دیکھیے نا اب یہ بظاہر آپ دیکھیں
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ؕ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ۔
اب مالِ غنیمت کی بات ہو رہی ہے۔ تو مالِ غنیمت کے بارے میں تو ظاہر ہے پوچھتے ہیں تو
ترجمہ: کہہ دو کہ مالِ غنیمت (کے بارے میں فیصلے) کا اختیار اللہ اور رسول کو حاصل ہے۔
یہاں بات پوری ہو گئی۔
ترجمہ: لہٰذا تم اللہ سے ڈرو، اور آپس کے تعلقات درست کرلو ،
یہ کیسے سمجھ میں آئے گا؟ مطلب اب جب آپ نے سیاق و سباق پڑھ لیا تو پھر فوراً پتا چل گیا کہ چونکہ اس پر ان کا آپس میں اختلاف ہو گیا تھا اور اس اختلاف کو دور کرنے کے لیے یہ بات فرما دی گئی۔ اس وقت صرف اتنا کہنا کافی تھا کہ فیصلہ تم لوگ نہیں کرو گے، فیصلہ اللہ اور رسول کریں گے۔ یعنی تم اپنی بحث کو چھوڑ دو کہ تمہارا کام نہیں ہے۔ کہ جس کا کام ہے وہ کر لے گا۔ تو یہ بات مطلب گویا کہ پکی ٹکی ہو گئی۔ کہ شانِ نزول کے بغیر قرآن کا سمجھنا بہت مشکل ہے۔ تو اس وجہ سے یہ جو لوگ براہِ راست عربی سے سارا کچھ احکام نکالتے ہیں نا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ احادیث شریف کو درمیان سے نکال کے اگر کوئی معلوم کرنا چاہے تو یہ کام ٹھیک نہیں ہے۔ بغیر ۔۔۔کیونکہ شانِ نزول آپ کو احادیث شریف سے معلوم ہوگا، وہ تو قرآن میں نہیں آئے گا۔ اب دیکھو یہاں پر کیا قرآن میں یہ واقعہ آیا ہوا ہے کہ اس طرح وہ ہو گیا؟ نہیں، یہ تو احادیث شریف سے پتا چلا ہے۔ تو بغیر احادیث شریف کے سمجھے، بغیر احادیث شریف کو پڑھے، سیاق و سباق کو سمجھے قرآن کو سمجھا نہیں جا سکتا۔
ترجمہ: مؤمن تو وہ لوگ ہیں کہ جب اُن کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو اُن کے دِل ڈر جاتے ہیں، اور جب اُن کے سامنے اُس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ آیتیں اُن کے ایمان کو اور ترقی دیتی ہیں، اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں ﴿2﴾ جو نماز قائم کرتے ہیں، اور ہم نے اُن کو جو رزق دیا ہے، اُس میں سے (فی سبیل اللہ) خرچ کرتے ہیں ﴿3﴾ یہی لوگ ہیں جو حقیقت میں مؤمن ہیں۔ اُن کے لئے اُن کے رَبّ کے پاس بڑے درجے ہیں، مغفرت ہے، اور باعزت رزق ہے ﴿4﴾ (مالِ غنیمت کی تقسیم کا) یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے ربّ نے تمہیں اپنے گھر سے حق کی خاطر نکالا، جبکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی ﴿5﴾
حاشیہ: جن لوگوں نے مالِ غنیمت جمع کیا تھا، اُن کی خواہش یہ تھی کہ یہ مال انہی کے پاس رہے، لیکن فیصلہ اُس کے برعکس ہوا، اب اُن کو تسلی دی جا رہی ہے کہ انسان کی ہر خواہش انجام کے اعتبار سے درست نہیں ہوتی۔ اُسے بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو واقعہ اُس کی خواہش کے خلاف ہوا، بہتری اُسی میں تھی۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ابوجہل سے جنگ کرنے کے معاملے میں ہوا۔ مدینہ منورہ سے نکلتے وقت چونکہ صرف ابوسفیان کے قافلے پر حملہ کرنا پیش نظر تھا، اور کوئی باقاعدہ لشکر تیار نہیں کیا گیا تھا، اس لئے جب یہ بات سامنے آئی کہ ابوجہل ایک بڑا لشکر لے کر مقابلے پر آگیا ہے تو بعض صحابہؓ کی خواہش یہ تھی کہ ابوجہل سے جنگ کرنے کے بجائے فی الحال واپس چلے جائیں، کیونکہ اس بے سروسامانی کی حالت میں ایک مسلح فوج کا مقابلہ موت کے منہ میں جانے کے مرادف ہوگا۔ لیکن دوسرے صحابہ نے بڑی پرجوش تقریریں کیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے، اور جب آپ کی مرضی معلوم ہوگئی تو سب نے جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کرلیا، اور بعد میں ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا عظیم فائدہ اسی میں تھا کہ اس طرح کفر کی کمر توڑ دی گئی۔
مطلب یہ ہے کہ یہ سمجھایا گیا کہ ضروری نہیں ہے کہ تم جس چیز کو مفید سمجھو وہ تمہارے لیے مفید ہو۔ بلکہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ یہ قرآن پاک کی ایک اور جگہ پر بڑے سے واضح انداز میں فرمایا گیا ہے، عَسَى اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى اَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ بارہا تم سمجھتے ہو، کسی چیز سے کراہت کرتے ہو وہ تمہارے لیے خیر ہوتا ہے اس میں۔ اور بارہا تم مطلب کسی چیز میں خیر سمجھتے ہو وہ تمہارے لیے اس میں نقصان ہوتا ہے۔ اللہ کو پتا ہے اور تمہیں پتا نہیں۔ تو یہاں پر بھی اس قسم کی بات ہے۔ کہ جو لوگ حق مطلب یعنی ڈھونڈنا چاہتے ہیں، معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب اللہ اور اللہ کا حکم اگر معلوم ہو تو بس اس پہ عمل کرنا چاہیے۔ اپنے justification، اپنے وہ interrogation اور اس قسم کی چیزوں پہ پھر وہ نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اگر معلوم نہ ہو اور اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے تو پھر خوب تلاش کر لو پھر صحیح ہے۔ مطلب اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن اگر اللہ کا حکم موجود ہو تو پھر اس کے بعد پھر درمیان میں کوئی اور بات نہیں کرنی چاہیے۔ اور مومنوں کی جو شان کی باتیں بتائی گئیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں، رزق میں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہوتا ہے خرچ کرتے ہیں۔ تو ان کے بارے میں فرمایا کہ ان کے رب کے پاس ان کے بڑے درجات ہیں۔ اور مغفرت ہے۔ اور باعزت رزق ہے۔ جو
ترجمہ: (مالِ غنیمت کی تقسیم کا) یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے تمہارے ربّ نے تمہیں اپنے گھر سے حق کی خاطر نکالا، جبکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ بات ناپسند تھی۔
یعنی وہ گروہ جو کہ سمجھتا تھا اور اخلاص کے ساتھ کر رہا تھا، یہ نہیں کہ مطلب، مثلاً ان کی observation یہ تھی کہ اتنے سارے لوگ مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور خواہ مخواہ موت کے منہ میں جانے کی بات ہوگی۔ تو ابھی چلے جائیں پھر طاقت کو اکٹھا کر کے وہ کر لیا جائے۔ لیکن اس وقت اللہ پاک کا فیصلہ تھا کہ نہیں، مڈبھیڑ اب ہو جائے۔ تاکہ کفر پر بات کھل جائے کہ اس حالت میں اگر تمہیں شکست دے تو پھر بعد میں تم کیا کر سکو گے۔ صحیح ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔