شیطانی وسوسوں کا علاج، آدابِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کی اہمیت
درس نمبر 300، سورہ الاعراف آیات 195 تا 206، اشاعتِ اول: 21 اور 22 اکتوبر، 2022، بمطابق 24 اور 25 ربیع الاول ، 1444 ہجری
دیوتاؤں کی کوئی طاقت نہیں، اللہ ہی حقیقی رکھوالا ہے۔
شیطانی وسوسوں کا علاج اللہ کی پناہ اور ذکر ہے۔
پیغمبر کوئی کام خود سے نہیں کرتے، وحی مانتے ہیں۔
تلاوت خاموشی سے سنیں اور مشغول لوگوں کا خیال رکھیں۔
صبح شام اللہ کا ذکر کریں تاکہ غفلت سے بچیں۔
علاج مقصود ہو تو ضرب اور ذکر بالجہر درست ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ (195) اِنَّ وَلِیِّ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ (196) وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ (197) وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ (198) خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ (199) وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (200) اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَ (201) وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ (202)
ترجمہ: بھلا کیا اُن کے پاس پاؤں ہیں جن سے وہ چلیں؟ یا اُن کے پاس ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑیں؟ یا اُن کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھیں؟ یا اُن کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنیں؟ (ان سے کہہ دو کہ:) ”تم اُن سب دیوتاؤں کو بلا لاؤ جنہیں تم نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، پھر میرے خلاف کوئی سازش کرو، اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو۔ ﴿195﴾
حاشیہ: کفارِ مکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرایا کرتے تھے کہ آپ ہمارے دیوتاؤں کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں کہ ان میں کچھ بھی طاقت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے ہمارے دیوتا آپ کو (معاذ اللہ) سزا دیں گے۔ یہ آیت اس کا جواب دے رہی ہے۔
یہاں پر دیکھیے دو باتیں، اصل میں ان لوگوں نے سمجھا کہ سزا دیں گے۔ دینا، دینا ایک عمل ہے۔ تو جو ظاہری عمل ہے وہ تو کر ہی نہیں سکتے، یعنی آنکھیں وہ نہیں ہیں، آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے، کانوں سے سن نہیں سکتے۔ زبان سے بول نہیں سکتے، پاؤں ہلا نہیں سکتے، ہاتھ ہلا نہیں سکتے، تو پھر یہ کیسے سزا دیں گے؟ مطلب یہ ان کو ایک لاجیکل جواب ہے۔ تو یہ پھر فرمایا کہ اچھا اگر تم ایسے سمجھتے ہو تو پھر لے آؤ سب کو۔ اور پھر مجھے جو سزا بھی دینا چاہتے ہو دے دو، مجھے ذرا برابر بھی مہلت نہ دو۔
ترجمہ: میرا رکھوالا تو اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی ہے، اور وہ نیک لوگوں کی رکھوالی کرتا ہے ﴿196﴾ اور تم اُس کو چھوڑ کر جن جن کو پکارتے ہو، وہ نہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں، نہ اپنی مدد کرتے ہیں ﴿197﴾ اور اگر تم انہیں صحیح راستے کی طرف بلاؤ تو وہ سنیں گے بھی نہیں۔ وہ تمہیں نظر تو اس طرح آتے ہیں جیسے تمہیں دیکھ رہے ہوں، لیکن حقیقت میں انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا“ ﴿198﴾
مطلب دیکھیے نا، وہ آنکھیں تو ان کی بنائی گئی ہیں۔ یعنی انسان نے بنائی ہوئی ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ وہ اس سے دیکھ تو نہیں سکتے، پیچھے بینائی تو نہیں ہے۔
ترجمہ: (اے پیغمبر!) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو ﴿199﴾ اور اگر کبھی شیطان کی طرف سے تمہیں کوئی کچوکا لگ جائے تو اللہ کی پناہ مانگ لو۔
حاشیہ: کچوکے سے مراد وسوسہ ہے۔ اور اس آیت نے ہر مسلمان کو یہ تعلیم دی ہے کہ جب کبھی شیطان دل میں کوئی برے خیال کا وسوسہ ڈالے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ اس بات کا ذکر خاص طور پر درگزر کا رویہ اپنانے کے سلسلے میں کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں درگزر کرنے کی فضیلت ہے، وہاں بھی اگر شیطانی اثر سے کبھی کسی کو غصہ آجائے تو اُس کا علاج بھی اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا ہے۔
ترجمہ: یقیناً وہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے ﴿200﴾ جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے، انہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آکر چھوتا بھی ہے تو وہ (اللہ کو) یاد کر لیتے ہیں،
حاشیہ: گناہ کی خواہش نفس اور شیطان کے اثرات سے بڑے بڑے پرہیزگاروں کو بھی ہوتی ہے، لیکن وہ اس کا علاج اس طرح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، اُس سے مدد مانگتے ہیں، دُعائیں کرتے ہیں، اور اُس کی بارگاہ میں حاضری کا دھیان کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں، یعنی ان کو گناہ کی حقیقت نظر آجاتی ہے، اور اُس کے نتیجے میں وہ گناہ سے بچ جاتے ہیں، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے۔
ترجمہ: چنانچہ اچانک اُن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ﴿201﴾ اور جو ان شیاطین کے بھائی ہیں، اُن کو یہ شیاطین گمراہی میں گھسیٹے لے جاتے ہیں، نتیجہ یہ کہ وہ (گمراہی سے) باز نہیں آتے ﴿202﴾
یہ شیاطین کا جو کام ہے نا، یہ بہت ہی کنٹینیوس ہے۔ یہ جس کو گمراہ کرتے ہیں تو اول تو ان کو عاقبت کا سوچنے نہیں دیتے۔ اور اگر کبھی وہ عاقبت کا سوچ لیتے ہیں تو پھر ان کو طفل تسلیاں دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ توبہ کر لو گے یہ ہو جائے گا، فلاں تمہارے ساتھ وہ دعا کر لے گا یہ ہو جائے گا، تم تو فلاں ہو۔ پھر طفل تسلیاں دیتے ہیں۔ اور یہ طفل تسلیاں ان کو آخری دم تک دیتے ہیں، موت تک۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جب بھی کبھی توبہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کو اس قسم کی چیزوں میں لگا دیتے ہیں بھئی ابھی تو وقت ہے، یہ ہے، وہ ہے، پھر بعد میں کر لینا۔ یعنی اس قسم کی باتیں کر کے ان کو، جس کو کہتے ہیں، اپنے ارادے پر عمل نہیں کرنے دیتے۔ جو واپس آنے کا ارادہ ہوتا ہے۔ اور اسی طریقے سے وہ چلے جاتے ہیں۔ اسی کو ڈھیل دینا کہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو ڈھیل دی جاتی ہے۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ میرا کام ہو رہا ہے۔ تو اللہ پاک ہم سب کو ایسی کیفیت سے بچائے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر اس پر قائم رہنے کی اور خیر کے ساتھ ہونے کی، اور اس پر جمنے کی اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اپنا بندہ، خالص بندہ بنائے۔
وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِـعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ ۚ هٰذَا بَصَآىٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (203) وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (204) وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ (205) اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ (206)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! ابھی میں نے جو قرآن پاک کی آیاتِ مبارکہ تلاوت کی ہیں، اس کا ترجمہ یہ ہے:
ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) جب تم ان کے سامنے (ان کا منہ مانگا) معجزہ پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ: ”تم نے یہ معجزہ خود اپنی پسند سے کیوں نہ پیش کر دیا؟“ کہہ دو کہ: ”میں تو اُسی بات کا اتباع کرتا ہوں جو میرے رَبّ کی طرف سے وحی کے ذریعے مجھ تک پہنچائی جاتی ہے۔
حاشیہ:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے معجزے ان لوگوں کے سامنے آچکے تھے، لیکن وہ ضد میں آکر نئے نئے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ اس کا جواب ہے کہ میں اپنی طرف سے کوئی کام نہیں کر سکتا۔ میں تو ہر بات میں وحی الٰہی کا اتباع کرتا ہوں۔
پیغمبر اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے بلکہ جو اس کو بتایا جاتا ہے تو وہ کرتے ہیں۔
ترجمہ: یہ (قرآن) تمہارے رَبّ کی طرف سے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ ایمان لائیں اُن کے لئے ہدایت اور رحمت!“﴿203﴾
حاشیہ: یعنی قرآن کریم بذاتِ خود ایک معجزہ ہے، اس میں جو بصیرتیں ہیں، وہ ایک اُمّی کی زبان پر جاری ہو رہی ہیں جس نے کبھی لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ اس کے بعد کس معجزے کی ضرورت ہے؟
ترجمہ: یہ (قرآن) تمہارے رَبّ کی طرف سے بصیرتوں کا مجموعہ ہے، اور جو لوگ ایمان لائیں اُن کے لئے ہدایت اور رحمت!“﴿203﴾ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اُس کو کان لگا کر سنو، اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحمت ہو۔ ﴿204﴾
حاشیہ: اس آیت نے بتا دیا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت ہو رہی ہو تو اُسے سننے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ البتہ تلاوت کرنے والے کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے مقامات پر بلند آواز سے تلاوت نہ کرے جہاں لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہوں۔ ایسی صورت میں اگر لوگ تلاوت کی طرف دھیان نہیں دیں گے تو اس کا گناہ تلاوت کرنے والے کو ہوگا۔
یہ اصل میں چونکہ اللہ پاک سب کے ہیں، کسی کے ساتھ رشتہ داری نہیں ہے۔ لہٰذا ہر شخص کا اللہ پاک نے وہ رکھا ہے کہ مطلب اس کو کوئی نقصان نہ ہو اور فائدہ ہو۔ اب تو فائدے کے لحاظ سے فرمایا کہ جب قرآن پڑھا جائے تو چونکہ اللہ کا کلام ہے، تو لازم ہے کہ اس کو محبت کے ساتھ اور ادب کے ساتھ خاموش ہو کر سنا جائے۔ اس وقت اپنے کسی اور کام کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ اور جو قرآن پاک کی تلاوت کرنے والا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے موقع پہ نہ پڑھے جب لوگ مشغول ہوں۔ کیونکہ ایسی صورت میں ان کے گنہگار ہونے کا اندیشہ ہے۔ تو ان کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے وقت میں قرآن پاک کی تلاوت نہ کی جائے جب لوگ مشغول ہوں تاکہ ان کو نقصان نہ ہو۔ تو اگر کوئی اس پر اس کی پروا نہیں کرتا تو اس نے چونکہ دوسرے کا نقصان کیا، خیال نہیں کیا، اس کو نہیں بچایا، تو پھر یہ گناہ اس کو ہو سکتا ہے۔ اس مسئلے میں کافی ہمیں غور کرنا ہو گا، اج کل یہ مسائل بہت زیادہ ہیں۔ مثلاً یہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک کی محافل ہوتی ہیں، یہ تو اچھی بات ہے۔ مثلاً کسی بچے نے قرآن حفظ کیا ہے یا کوئی قاری صاحب اگیا ہے، تو یا کوئی قراءت کا مقابلہ ہے، تو اس میں لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جو قاری صاحبان ہیں وہ خود قرآن پاک کے ادب کی پروا نہیں کرتے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ یہ اس وقت چونکہ مجلس ہوتی ہے، لوگ آ رہے ہوتے ہیں، مہمان آ رہے ہوتے ہیں، یا کچھ لوگ جا رہے ہوتے ہیں، تو کسی کو گلے لگ کے مل رہے ہیں، کسی کو رخصت کر رہے ہیں، آپس میں باتیں ہو رہی ہیں، اور قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی ہے اور لائیو ہو رہی ہے، مطلب یعنی سامنے ہو رہی ہے۔ تو اب کوئی مطلب اس کو کیا کہے کہ اگر خود ہی انسان، مطلب جس کو کہتے ہیں نا اس کا ادب نہ کرے تو دوسرے کو کیا کہے گا؟ تو قرآن پاک کا ادب بہت ضروری ہے۔ اور جس وقت قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی ہو تو خاموش ہونا چاہیے۔ اور یہ ہے کہ جو دوسرے قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے ہیں ان کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔
ترجمہ:اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہو جانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ﴿205﴾
یہاں سے ذکر کے اہتمام کا یہ مطلب آ گیا، قرآن بھی ذکر ہے۔ تو اس میں یہ ہے کہ اپنے رب کا صبح و شام ذکر کیا جائے۔ اپنے دل میں بھی، جو بعض لوگ ذکر دل میں کرتے ہیں۔
ترجمہ: عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہو جانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ﴿205﴾
یہ تو غفلت سے نکلنے کا راستہ ہے۔ البتہ یہاں پر ذرا تھوڑا سا ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ بہت آواز بلند کیے بغیر، کیا اس سے بعض لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ جو ذکر بالجہر ہے یہ نہیں ہونا چاہیے، ذکر بالسر ہونا چاہیے۔ وہ اصل میں ذکر جو ہے دو قسم کا ہے۔ ایک ذکر ہے جو ثواب کے لیے کیا جائے۔ وہ تو چونکہ اللہ پاک سنتا ہے، اس میں مقصد اللہ کے لیے پڑھنا ہوتا ہے، اللہ کے لیے کرنا ہوتا ہے، تو اللہ پاک تو خاموش کو بھی سنتا ہے، کم آواز والے بھی سنتا ہے۔ طبیعت کی بات ہوتی ہے۔ اب عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہری تلاوت کرتے تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سری کرتے تھے۔ تو طبیعت کی بات ہے، دونوں ثابت ہو گئیں۔ تو وہ ثوابی کام ہے، ثوابی کام میں یہ ہوتا ہے۔ لیکن جو ذکر کیا جائے علاج کے لیے، تو اس میں علاج کو سامنے رکھا جائے گا کہ علاج کس چیز سے ہو رہا ہے۔ تو اس وقت جو ضرب و جہر ہے، یہ علاجاً ہے، یہ کوئی ثوابی طور پہ نہیں ہے، اور نہ اس میں ثواب کی نیت کی جاتی ہے۔ لہٰذا وہ جس سے یہ کام اچھا ہوتا ہو، جس کے لیے کیا جا رہا ہے، تو اس کو خیال میں رکھنا چاہیے۔ تو اس کا جو ذکر بالجہر ہے اس پر یہ پابندی نہیں ہے۔ ہاں البتہ بہت زیادہ اس کو بلند، اس کو بھی نہیں کرنا چاہیے کہ کہیں انسان کا دماغ ہی نہ پھٹ جائے۔ مطلب یہ ہے نا کہ وہ انسان ہے، کمزور ہے۔ جوش میں آ کر وہ پتا نہیں بہت چیخ کر کر سکتا ہے، لیکن اس سے اعصاب پر، اس کے وہ دماغ پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تو اپنی حالت کو دیکھ کر وہ جس حد تک ہو سکتا ہے تو وہ ٹھیک ہے لیکن اس میں مقصد فوت نہیں ہونا چاہیے۔ وہ مقصد جو اس کو ہو اس کو پورا ہونا چاہیے۔
ترجمہ: یاد رکھو کہ جو (فرشتے) تمہارے رَبّ کے پاس ہیں، وہ اُس کی عبادت سے تکبر کر کے منہ نہیں موڑتے، اور اُس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اُسی کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔﴿206﴾
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔