تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر
اشاعت اول: منگل، 16 جنوری، 2012، بمطابق: 23 صفر، 1433 ھ
۔ کشف و کرامات کی حقیقت
۔ ذکر کا اصل مقصد اور کشف بطور سائیڈ ایفیکٹ
۔ اپنے شیخ کے علاوہ دیگر مشائخ سے استفادے کا حکم
۔ فقہی مسائل پوچھنے اور روحانی تربیت حاصل کرنے میں فرق
۔ شیخ کو ہدیہ دینے کے مقاصد، آداب اور شرائط
۔ ہدیے کے معاملے میں مشتبہ امور اور غلط فہمیوں سے پرہیز
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے اور پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات دیئے جاتے ہیں اور ساتھ احوال کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔
سوال نمبر 4: کشف و کرامات جو ہوتی ہیں، ہر بزرگ کے ساتھ ہوتی ہیں؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: نہیں۔ یہ کشف اور کرامت جو ہے، یہ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ انسان کے بس میں نہیں ہوتی، یہ اللہ کا فعل ہوتا ہے، انسان کا فعل نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس کو انسان کا فعل سمجھتے ہیں وہ پریشان ہو جاتے ہیں، ان کو پھر سمجھ میں نہیں آتی چیزیں، اس وجہ سے گڑبڑ ہو جاتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔
کشف ایک ایسی چیز ہے جیسے میری نظر کم ہے، +2.5 ہے۔ اور لوگوں کی اچھی نظر ہوتی ہے، صحیح بالکل، یعنی بالکل ٹھیک نظر بھی ہوتی ہے، six by six نظر ہوتی ہے۔ تو اب six by six نظر والی نظر زیادہ بزرگ ہے؟ Six by six نظر والا آدمی زیادہ بزرگ ہے؟ آپ کیا اس کو بزرگ مانتے ہیں؟ یعنی اس کا بزرگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے نا، بس ٹھیک ہے اللہ پاک نے اس کو ایک چیز دی ہوئی ہے، اس کو زیادہ بہتر نظر آتا ہے۔ تو اس طرح جو ہم سے چھپی ہوئی چیزیں اگر کسی کو نظر آتی ہیں، تو یہ بزرگی کی علامت نہیں ہے، بس اس کو ایک چیز ملی ہوئی ہے، اور وہ امتحان ہے اس کا۔ وہ اس کا امتحان ہے کہ آیا وہ اس کو صحیح طور پہ استعمال کرتا ہے یا غلط طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ اس کو ایک extra چیز ملی ہوئی ہے۔
اور اس چیز کے دینے کے لیے ہم لوگوں کو فکر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جب اللہ کراتا ہے تو اس کو وہ چیز دے دیتے ہیں جس طریقے سے بھی ہو۔ اس کو وہ چیز نظر آنے لگتی ہے۔ تو یہ باتیں مطلب ہوتی ہیں کہ بعض دفعہ بچوں کو کشف ہوتا ہے اور بڑوں کو نہیں ہوتا۔ مثلاً بچوں کو جنات نظر آنے لگتے ہیں، بڑا ساتھ ہی بیٹھا ہوتا ہے، وہ اس کو نظر نہیں آ رہا ہوتا ہے، کہتا ہے یہ ہے۔۔ لیکن وہ اس کو نظر نہیں آتے، میں ادھر ہی مولانا کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک بچہ آیا تو ان کے استاد نے کہہ دیا کہ یہ جنات اس کو تنگ کر رہے ہیں۔ تو مولانا نے اس کو بلایا، سامنے بٹھایا تو اس نے کہا: ادھر ہے، کہتے ہیں: کدھر ہے؟ اس کے پیچھے ہو گیا۔ وہ اس طرح باقاعدہ بتا رہا ہے ادھر ہے۔ اب ظاہر ہے ہم سب بیٹھے ہوئے تھے ہمیں تو نظر نہیں آ رہا تھا۔ تو یہ کشف ہے۔
تو یہ چیز اس طرح ہے کہ مطلب بچوں کو بعض دفعہ ہو جاتا ہے، پاگلوں کو ہو جاتا ہے، جانوروں کو ہوتا ہے۔ احادیث شریف سے ثابت ہے کہ قبر کا عذاب سوائے جنات کے اور انسانوں کے سب کو سنائی دیتا ہے۔ تو اب ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ کشف ہے نا، کشف القبور کس کو کہتے ہیں؟ تو جانوروں کو ہو رہا ہوتا ہے اور پاگلوں کو ہو رہا ہوتا ہے، تو یہ کوئی اہم بات نہیں۔
ہاں البتہ کبھی کبھی اوراد اذکار جو انسان کرتا ہے، اس کے سائیڈ ایفیکٹ کے طور پر وہ چیز بھی مل جاتی ہے، وہ بھی ہونے لگتا ہے، سائیڈ ایفیکٹ کے طور پہ۔ اب مثلاً مقناطیس رکھا ہوا ہے اور آپ کو پتا نہیں ہے، اور آپ ایک لوہے کو ویسے کسی اور کام کے لیے آگے پیچھے کر رہے ہیں اور وہ مقناطیس کی magnetic field کے ساتھ alignment ہو رہی ہو اور وہ مقناطیس بن جائے۔ تو آپ نے اس کے لیے تو نہیں کیا؟ لیکن اس کے سائیڈ ایفیکٹ کے طور پر وہ چیز بن گئی، وہ بھی مقناطیس بن گیا۔ تو اس طرح بعض دفعہ الائنمنٹ کی وجہ سے یہ کشف ہونے لگتا ہے، اور وہ الائنمنٹ ذکر کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، فکر کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، کسی اور وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
تو دھوکا جو لوگوں کو ہوتا ہے وہ اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ پہلے لوگوں کو کشف نہیں ہوتا، مثال کے طور پر اب اس نے ذکر اذکار شروع کر لیے اور ذکر اذکار کے بعد اس کو کشف ہونے لگا تو کہتا ہے: ہاں ہاں یہ کشف ہے، یہ تو بزرگی ہے۔ حالانکہ ان ہزاروں لوگوں کو نہیں دیکھ رہا ہے جنہوں نے کبھی بھی ذکر نہیں کیا لیکن ان کو کشف ہو رہا ہے، ان کو کشف ہو رہا ہے۔ تو کشف کوئی اس کے ساتھ لازم ملزوم چیز نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، اور اگر اس کے ساتھ بھی ہونے لگے تو یہ کوئی بزرگی کی بات نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ چلو جی ان کو ایک چیز حاصل ہو گئی۔
مثال کے طور پر میں ذکر کر رہا ہوں، ذکر کر رہا ہوں بہترین، اور مجھے بڑی اچھی طرح نیند آ جائے، تو میں اب ذکر نیند کے لیے تو نہیں کروں گا نا کہ میں اس کو tranquilizer کی گولی بنا دوں۔ جو بناؤں گا تو پھر اس ذکر کا وہ اجر نہیں ملے گا۔ پھر تو گولی بس ہو گئی نا، بس ٹھیک ہے اگر آپ نے وہ نہیں کھائی، وہ Valium five نہیں کھائی اور اس کی جگہ ذکر کر لیا تو بس وہ ذکر آپ کے لیے Valium five ہو گیا، وہی چیز آپ کو مل گئی، اور تو آپ کو کچھ نہیں ملا۔ تو ذکر جو کر رہا ہے مطلب ان چیزوں کے لیے، تو وہ اپنے ذکر کا ثمرہ خراب کر رہا ہے۔ ہاں تو ذکر بھی ان چیزوں کے لیے نہیں کرنا چاہیے۔ تو اس طرح ان چیزوں کے لیے وہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہاں اگر سائیڈ میں خود بخود ہو گیا تو بس ٹھیک ہے اللہ پاک کا کام ہے، ہو گیا، ہو گیا۔ تو اس کو نہ تو بزرگی مانیں اور نہ اس مقصد کے لیے کوئی اس کو کرے۔
سوال نمبر 5: شیخ کی اجازت کے بغیر اس کے دور میں جو باقی بزرگان سے استفادہ کس نیت سے کیا جاسکتا ہے؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: بلا ضرورت تو نہیں۔ مثلاً شیخ موجود ہے اور اس کی موجودگی میں کسی اور شیخ کی طرف متوجہ ہو جائے نا تو یہ تو وحدتِ مطلب کے خلاف ہے۔ لیکن مثال کے طور پر یہ آدمی چلا گیا کہیں باہر، یورپ چلا گیا، امریکہ چلا گیا، کراچی چلا گیا، کسی اور جگہ چلا گیا۔ اب اس کے پاس شیخ تو ہے نہیں تو صحبتِ صالحین کی نیت سے وہاں کے مشائخ کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، تاکہ باقی جو غلط اثرات ہیں ماحول کے اس سے بچ جائیں۔ اور اس میں نیت یہ کرے، اور یہ سمجھے اور ہوتا بھی یہی ہے کہ مطلب یہ سمجھے کہ مجھے جو کچھ مل رہا ہے اپنے شیخ کا فیض مل رہا ہے، ہاں ان کے ذریعے سے مل رہا ہے، گویا کہ میرے شیخ کا حصہ یہاں رکھ دیا گیا۔ تو اس طریقے سے مطلب اگر کوئی ملتا ہے تو اس کو پھر نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی آدمی یہ اس کے ذہن میں ہو کہ کوئی اور بھی میرے شیخ کے علاوہ میری تربیت کر سکتا ہے اور میرے اس مطلب کو حاصل کروا سکتا ہے، یہ وحدتِ مطلب کے خلاف ہے، اس کو سخت نقصان ہوتا ہے۔
ہاں اگر وہ فقہی مسئلہ ہے، مثلاً علمی مسئلہ ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، وہ ہر عالم سے پوچھ سکتا ہے۔ کیونکہ شیخ اگر عالم بھی ہے، تو اس کا علم جو ہے وہ تو مختلف نہیں ہے، وہ ایک ہی چیز ہے وہ مسئلہ جہاں سے بھی پوچھے گا تو اس کو جواب وہی ملے گا، کیونکہ مسئلہ تو بدلتا نہیں ہے۔ اب نماز کا مسئلہ پوچھیں گے تو جس مفتی سے پوچھیں گے وہ تو آپ کو وہی جواب ملے گا۔ لیکن تربیت مختلف ہوتی ہے، تربیت مختلف ہوتی ہے۔ وہ ذرا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک آدمی سے ہونی چاہیے۔ کیونکہ اگر کبھی آپ ایک سے پوچھیں، کبھی دوسرے سے پوچھیں، کبھی ایک سے، کبھی دوسرے سے، تو آپ کا بالکل کام نہیں ہوگا، وہ کام خراب ہو جائے گا بالکل جیسے کئی ڈاکٹروں سے علاج بیک وقت کرنے سے نقصان ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے تربیت تو نہیں، وہ کہ مختلف لوگوں سے نہیں، البتہ فیضِ صحبت، صحبتِ صالحین حاصل کرنے کے لیے ٹھیک ہے جا سکتا ہے، اس کے اوپر پابندی نہیں ہے۔ لیکن اپنے شیخ کے علم میں لے آئے، تاکہ ان کی توجہ بھی شامل رہے
اب میں گیا تھا ادھر کراچی، ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضری ہوئی۔ ایک tour پہ گیا تھا تو اللہ کا شکر ہے ان سے ملاقات ہو گئی۔ تو یہاں آکر میں نے پوری کارگزاری حضرت کو سنا دی، تو حضرت بہت خوش ہوئے، فرمایا: کاش مجھے جانے سے پہلے بتاتے میں سلام بھیجتا آپ کے ذریعے سے حضرت کو۔ مطلب ممانعت بھی نہیں فرمائی اور بلکہ خوش ہو گئے۔ کیونکہ ہم بزرگوں میں حضرت کے ان میں تھے۔ تو یہ چیز مطلب ہونی چاہیے تاکہ مطلب ان کی خدمت میں گزارش کر لے تو اس سے ڈبل فائدہ ہو جاتا ہے۔
سوال نمبر 6: شیخ کو ہدیہ دینا کیسا ہے،عام لوگوں میں تو یہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر امیر لوگ دیتے ہیں۔ تو حضرت اس کی حیثیت اور اس کی کیا شرائط ہیں؟
سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3
جواب: ہدیہ اس لیے نہیں دیا جاتا کہ انسان اس کے ذریعے سے نمبر بنائے یا اس کے نمبر بن جاتے ہیں، نہیں۔ اگر اپنے شیخ پر یہ گمان آ گیا کہ ہدیہ سے نمبر بنتے ہیں تو اس کو پھر فائدہ شیخ سے نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے شیخ پہ اعتراض کر لیا، پھر تو فائدہ ہی نہیں ہوگا اس سے۔ تو ہدیہ اس لیے دینا چاہیے کہ آپ کا دل چاہے کہ میں اس کو ہدیہ دوں محبت کی وجہ سے۔ اب مثال کے طور پر ایک آدمی کا دل چاہتا ہے میں شیخ کے پیر کو دبا لوں، اس کی ایک خواہش ہوتی ہے وہ اس کے لیے ترستا ہے، وہ کہتا ہے کبھی مجھے موقع ملے گا کہ میں یہ خدمت کر لوں۔ اب وہ کیا اس سے وہ چاہے گا کہ شیخ مجھے اس کی وجہ سے اچھا کہے یا میرا نمبر اس کے ساتھ بڑھ جائے، وہ تو نہیں ہے۔ وہ ہوگا تو پھر کام خراب۔
اس لیے کہتے ہیں کہ ہدیہ میں ثواب کی نیت بھی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ثواب کی نیت جب آپ کرتے ہیں تو وہ خیرات بن جائے گی، اور جب خیرات بن جائے گی تو خیرات آپ کن کو دیتے ہیں؟ اور خیرات لینے والوں کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہوتے ہیں؟ تو شیخ کے بارے میں پھر آپ کے کیا خیالات ہو جائیں گے؟ تو یہ معاملہ تو خطرناک ہے۔ اس وجہ سے مجھے تو یہ بھی برا لگتا ہے کہ کوئی مجھے ہدیہ دے اور ساتھ ہی کہہ دے کہ میرے لیے دعا کریں۔ اس نے میری توہین کر لی، یعنی اس نے یہ سمجھا کہ یہ دعا میرے لیے تب کرے گا جب میں ہدیہ دوں گا یہ تو اس کی اجرت ہو گئی۔ بھئی دعا تو ہم یوں بھی کرتے ہیں، دعا تو ہر مسلمان کے لیے کرتے ہیں۔ ہاں الگ بات ہے ہدیہ سے محبت بڑھتی ہے۔ حدیث شریف ہے: «تَهَادَوْا تَحَابُّوا»۔ اور محبت کی وجہ سے جو دل سے دعا نکلے گی وہ ہدیہ کے اس میں نہیں نکلے گی، ہدیہ کی وجہ سے نہیں ہوگی، وہ اس محبت کی وجہ سے ہوگی۔ تو تم صرف محبت کی نیت کر لو، محبت کی نیت کر لو باقی ساری نیتیں چھوڑ دو، اور اگر نہیں کر سکتے تو پھر نہ دو ہدیہ۔ ہدیہ دینا ضروری تھوڑی ہے، نہ دے، ہدیہ نہیں دینا چاہیے اگر صحیح نیت کے ساتھ نہیں دے سکتا، تو نہ دے۔
ایک دفعہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی تحصیلدار نے ہدیہ دیا، پچیس روپے۔ پچیس روپے اس وقت بہت بڑی بات تھی۔ حضرت نے اس سے دس روپے لے لیے اور پندرہ روپے واپس کر دیے، اس نے لے لیے۔ راستے میں اپنے ساتھی سے کہتے ہیں کہ میرے ساتھ تو عجیب بات ہو گئی۔ کہتا ہے: کیا؟ کہتا ہے: میرے دل میں دس روپے دینے کی نیت ہی تھی، لیکن دل میں خیال آیا کہ اتنے بڑے آدمی ہیں اس کو میں دس روپے کیسے دوں؟ تو میں نے کہا چلو پندرہ روپے میں اور ملا دیتا ہوں تو میں نے پچیس کر دیے۔ تو حضرت نے پندرہ نہیں لیے۔ تو میں آپ کو بتاؤں کہ دیکھو وہ بڑے مستغنی ہوتے ہیں، الحمد للہ۔ وہ ہدیوں سے مستغنی ہوتے ہیں، وہ ہدیوں پہ نہیں پلتے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پلتے ہیں۔ تو اگر آپ نے ان کو اپنے ہدیے کا محتاج سمجھ لیا تو وہ تو آپ نے بہت زیادہ degrade کر دیا۔ تو اس وجہ سے پھر تو نہیں دینا چاہیے، اس حالت میں تو نہیں دینا چاہیے۔ ہاں اگر محبت ہو باقی اور اس محبت کی وجہ سے کوئی چیز دی جا رہی ہو تو بالکل ٹھیک ہے۔
ایک دفعہ میں نے آپ کو واقعہ سنایا تھا کہ میں مولانا شریف ہزاروی صاحب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ تو بے تکلف دوست ہیں میرے، محترم بھی ہیں، بے تکلف دوست بھی ہیں۔ تو اچانک میں نے کہا: مولانا! دل میں ایک بات آ رہی ہے، ناراض نہ ہونا۔ اس نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: دل میں آ رہا ہے کہ آپ کو پانچ روپیہ ہدیہ کر لوں۔ تو اس نے دونوں ہاتھ اس طرح کر لیے۔ میں نے پانچ روپے نکالے، اس کے حوالے کر دیے۔ اس نے بہت محبت کے ساتھ لیے، کہتے ہیں: میں ان شاء اللہ جب عمرہ پہ جاؤں گا تو میں اس میں اس کو خرچ کروں گا۔ انہوں نے بڑی قدر فرمائی۔ تو اب یہ بات ہے کہ محبت کی بات تھی بس اب میرے دل میں آ گیا، اور میں نے بے تکلف حضرت کی خدمت میں پیش کر دیا، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ اس کے ساتھ کچھ اور calculation ملا دوں؟ بس ٹھیک ہے نا، محبت تو مجھے تھی اس کے ساتھ، تو بس محبت کی وجہ سے دے دیے، بس یہ کافی ہے اس سے زیادہ کی کیا ضرورت ہے؟
یہ بہت سارے لوگوں کو اس سے نقصان ہوتا ہے، بہت سارے لوگوں کو اس سے نقصان ہوتا ہے، وہ کیونکہ شیخ کے ساتھ محبت تو لوگوں کو ہوتی ہے، اس میں تو انکار نہیں ہے، بعض لوگوں کو جو ہوتی ہے۔ تو بعض لوگ صاحبِ وسائل بھی ہوتے ہیں تو وہ اپنی محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں، اب اس سے بچنا بڑا مشکل ہے کہ آدمی اس کا دل رکھنے کے لیے وہ لیتا ہے، محبت والا ہدیہ۔ بلکہ میرے خیال میں پتا نہیں کب یہ واقعہ۔۔۔ ہاں درسِ مثنوی میں آیا تھا کہ پوچھا کہ میرے لیے کیا لائے ہو؟ پیغمبر تھے نا، میرے لیے کیا لائے ہو؟ کیا سوغات لائے ہو؟ وہ بے تکلف والی بات تھی۔ تو اس میں تو یہ کوئی مطلب ایسی بات نہیں ہے کہ اس میں وہ محبت کی وجہ سے دیا بھی جاتا ہے اور محبت کی وجہ سے لیا بھی جاتا ہے۔ انکار کرنا بھی ہر وقت مناسب نہیں ہوتا، ہاں اگر آپ کو بالکل یقین ہو جائے کہ بھئی یہ تو گڑبڑ ہے تو پھر انکار بھی کیا جا سکتا ہے۔ کیا ہے لوگوں نے انکار، حضرات کرتے ہیں، اور ہم بھی بعض دفعہ، اب ظاہر ہے ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں، اللہ معاف فرمائے، لیکن دل جب مطمئن نہ ہو تو انکار بھی کر لیتے ہیں، لیکن ہر ایک سے انکار کرنا ممکن نہیں رہتا۔
اب صرف میں ایک چیز پر عمل کرتا ہوں، کوشش کرتا ہوں اس پر عمل کرنے کی، اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی مجھ سے ٹیلی فون پر پوچھے، یا مجھ سے کہیں جاتے ہوئے پوچھے کہ آپ کے لیے کیا لاؤں؟ یا ٹیلی فون پر پوچھے کہ آپ کے لیے کیا لاؤں؟ اس وقت میں کہتا ہوں: بس میرے لیے دعا کریں۔ حالانکہ وہ بڑی محبت کے ساتھ کہہ رہا ہوتا ہے بعض دفعہ، لیکن اس وقت میرا شرحِ صدر نہیں ہوتا کہ میں اس کو کہوں کہ میرے لیے فلاں چیز لاؤ۔ کیونکہ میں نے اپنے لیے اصول بنایا ہے کہ جو خود میں کہوں تو اس کے پیسے دیتا ہوں، اور خود سے کوئی لائے تو، اگر محبت سے لایا تو میں اس کو پھر لیتا ہوں، وہ ظاہر ہے اس کی محبت ہوتی ہے۔ تو اب اگر میں۔۔۔ اس معاملے میں یہ درمیان میں مشتبہ والی بات آ جاتی ہے۔ وہ جو مجھ سے کوئی پوچھے نا، تو یہ مشتبہ والی بات آ جاتی ہے، تو مشتبہ سے بچنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ حدیث شریف میں ہے نا، حلال بھی بیّن ہے اور حرام بھی بیّن ہے اور درمیان میں کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، اور جس نے اپنے آپ کو مشتبہ چیزوں سے بچا لیا تو اس نے اپنے دین کو بچا لیا۔ تو اب یہ ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو نہیں پھر کر سکتا، مطلب یہ مشتبہ مجھے معلوم ہو جاتا ہے۔ ممکن ہے میری غلطی ہو، ظاہر ہے میں ہر بات میں صحیح تو اپنے آپ کو نہیں کہتا، ممکن ہے میری غلطی ہو، لیکن احتیاطاً۔۔۔ احتیاطی غلطی ہے۔ احتیاط کی وجہ سے ہے، کہ کہیں مطلب یہ چینل channel شروع نہ ہو جائے، کیونکہ پھر بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں بھئی، یہ کہ جو شیخ قبلہ کو کچھ نہیں لائے گا تو اس کو تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ ایک سلسلہ لوگ شروع کر لیتے ہیں نا۔
تو اس طرح وہ ایک رسمی کارروائی بن جاتی ہے۔ تو اب یہ ہے کہ اگر کوئی لایا ہے، اور میں نے اس سے لے لیا، اور وہ میرے ساتھ محبت کرتا ہے اور میں اس کی محبت کا خیال رکھوں، تو عین ممکن ہے کہ بہت سارے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال آ جائے کہ شیخ تو مالداروں کا ہی خیال رکھتا ہے، بس یہ تباہی ہے اس کے لیے، یہ اس کے لیے تباہی ہے۔ ایسی صورت میں بہت سارے لوگ اس کی وجہ سے خراب ہو جاتے ہیں، لیکن بس اللہ بچائے۔ کیا کیا جا سکتا ہے؟ دعا کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا۔۔۔ مطلب اس کا اور حل ہی کیا ہے؟ اس کا کوئی حل تو ہمارے پاس نہیں ہے کہ کیا کیا جائے، مطلب اس کو کیا کہیں؟ اس کی اپنے ذہن کی بات ہے۔ اگر اس نے اپنے شیخ کو اس قابل نہیں سمجھا، تو اب یہ اس کے اپنے ذہن کا قصور ہے۔ تو یہ والی بات ہو سکتی ہے، ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے۔
تو اللہ معاف کر دے، یہ چیز جب ذہن میں آ جاتی ہے تو بعض دفعہ مجھے کسی نے میسج کر لیا تھا، اس قسم کا۔ Message کر لیا تھا کہ خلافت جو ہے یہ کون سی کار کے ذریعے سے ملتی ہے؟ میں نے کہا بس اس کا پتا کٹ گیا ہماری طرف سے۔ اب تو اس کو کچھ نہیں ملنا، ہمارا کم از کم ہماری طرف سے تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ میں نے صرف مطلب کہلوا دیا ان کو کہ ظفر کے پاس کون سی کار ہے اور عبید کے پاس کون سی کار ہے؟ فلاں کے پاس کون کون سی کار ہے؟ آپ نے صرف کار والوں کو دیکھا ہے، میرے کار والے کتنے ہوں گے اس میں؟ خلفاء میں کار والے کتنے ہوں گے؟ لیکن ان خلفاء پہ نظر گئی جو کار والے ہیں۔ تو یہ اس کے ذہن کا قصور تھا نا، مطلب اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ تو اس کے ذہن نے اس کو نقصان پہنچا دیا۔ اب وہ بہت معافیاں مانگ رہا ہے لیکن وہ والی بات تو نہیں بنتی نا پھر، پھر معافی تو نہیں ہوتی۔ مطلب معاف کر بھی لوں تو اس سے وہ چیز تو نہیں ملے گی ان کو۔