شرک: عقل کا زوال اور بزرگوں کی تعظیم میں غلو کی حقیقت

درس نمبر 299، سورہ الاعراف آیات 182 تا 194، اشاعتِ اول: 19 اور 20 اکتوبر، 2022، بمطابق 22 اور 23 ربیع الاول ، 1444 ہجری

خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

نافرمانی کے ساتھ دنیاوی عیش ملنا اللہ کی ڈھیل ہے۔

قیامت کا وقت اور علمِ غیب صرف اللہ جانتا ہے۔

صالح اولاد کی نعمت پاکر لوگوں نے شرک اختیار کیا۔

بزرگوں سے مانگنا دین سے فرار کا شارٹ کٹ ہے۔

تمام باطل معبود خود مخلوق اور بالکل بے بس ہیں۔

عقل استعمال نہ کر کے شرک کرنا ظلمِ عظیم ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ

فَاعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ(182) وَ اُمْلِیْ لَهُمْ ؕ ِانَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ(183) اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(184) اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ(185) مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(186) یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً ؕ یَسْــٴَـلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(187) قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ ۚ ۛ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ ۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (188)

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، انہیں ہم اس طرح دھیرے دھیرے پکڑ میں لیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا ﴿182﴾ اور میں اُن کو ڈھیل دیتا ہوں، یقین جانو کہ میری خفیہ تدبیر بڑی مضبوط ہے۔ ﴿183﴾

حاشیہ: یہ اُن لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے جو مسلسل نافرمانی کئے جارہے ہوں، اور پھر بھی دُنیا کے عیش وعشرت سے لطف اندوز ہورہے ہوں، اور جنہیں کبھی یہ خیال بھی نہ آتا ہو کہ انہیں کسی دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ کیونکہ ایسی نافرمانیوں اور ایسی غفلت کے ساتھ جو دُنیوی عیش وعشرت میسر آتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہوتی ہے، جس کو قرآن کریم نے ”استدراج“ کا نام دیا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ ایسا شخص اچانک پکڑ لیا جاتا ہے، کبھی تو یہ پکڑ دُنیا ہی میں ہوجاتی ہے، اور اگر یہاں نہ ہوئی تو آخرت میں تو ہونی ہی ہونی ہے۔

یہاں جو لفظ ہے نا "سَنَسْتَدْرِجُهُمْ"، یہ اصل میں وہی استدراج کا لفظ ہے جو کہ قرآن میں آیا ہے۔

ترجمہ: بھلا کیا ان لوگوں نے سوچا نہیں کہ یہ صاحب جن سے ان کا سابقہ ہے، (یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) ان میں جنون کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ وہ کچھ اور نہیں، بلکہ صاف صاف طریقے سے لوگوں کو متنبہ کرنے والے ہیں۔

اصل میں جن لوگوں نے کوئی بات نہیں ماننی ہوتی نا، تو وہ اپنے لیے کوئی بہانہ بناتے ہیں۔ تو وہ معاذ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون قرار دے کر یا شاعر یا جادوگر کہہ کر اپنی جان چھڑانا چاہتے تھے۔ یا دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ متاثر ہوتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، تو ان کے اس تأثر کو دور کرنے کے لیے اس قسم کی باتیں بنائی جاتی تھیں۔

حاشیہ: یہ آیت بتارہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسے بے سروپا تبصرے وہی کرسکتا ہے جو بے سوچے سمجھے بات کرنے کا عادی ہو۔ اگر یہ لوگ ذرا بھی غور کرلیں تو اُن پر اپنے ان الزامات کی حقیقت واضح ہوجائے۔

ترجمہ: اور کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پر اور اللہ نے جو جو چیزیں پیدا کی ہیں اُن پر غور نہیں کیا، اور یہ (نہیں سوچا) کہ شاید اِن کا مقررہ وقت قریب ہی آپہنچا ہو؟ اب اس کے بعد آخر وہ کونسی بات ہے جس پر یہ ایمان لائیں گے؟ ﴿185﴾ جس کو اللہ گمراہ کردے، اُس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور ایسے لوگوں کو اللہ (بے یار ومددگار) چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں ﴿186﴾ (اے رسول!) لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب برپا ہوگی؟ کہہ دو کہ: ”اُس کا علم تو صرف میرے ربّ کے پاس ہے۔ وہی اُسے اپنے وقت پر کھول کر دکھائے گا، کوئی اور نہیں۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری چیز ہے، جب آئے گی تو تمہارے پاس اچانک آجائے گی۔“

ترجمہ: یہ لوگ تم سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے تم نے اس کی پوری تحقیق کررکھی ہو۔ کہہ دو کہ: ”اُس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن اکثر لوگ (اس بات کو) نہیں جانتے۔“ ﴿187﴾ کہہ دو کہ: ”جب تک اللہ نہ چاہے، میں خود اپنے آپ کو بھی کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اچھی اچھی چیزیں خوب جمع کرتا، اور مجھے کبھی کوئی تکلیف ہی نہ پہنچتی۔

یہ اچھی اچھی چیزیں اس طرح ہیں کہ جو دنیا میں تکلیفیں ہیں، برداشت جو نہیں ہوتیں مطلب تکلیفیں۔ تو کوئی قصداً تو تکلیف نہیں جان بوجھ کر اٹھاتا نا، کیونکہ وہ تو پھر مطلب یہ ہے کہ "وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ" ان کے خلاف ہوتا ہے۔ تو یہ صرف اور صرف جو اضطراری تکلیف آتی ہے، اس کو برداشت کرنا ہوتا ہے، اس کو صبر کی definition میں لے آتے ہیں۔ لیکن یہ بات ہے کہ کوئی قصداً تو، تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں اپنے لیے تکلیف کو چنتے؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اللہ پاک لائے ہے تو اس پر صبر۔ یعنی کھانا نہیں ہوتا تھا، فرمایا میرا روزہ ہے، ہوتا تو کھا لیتے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز جو تھی وہ تفویض والی بات مطلب جو تھی۔ باقی یہ ہے کہ علم غیب کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصوصی طور پر فرمایا، اگر مجھے علم غیب ہوتا۔ تو مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی، اور میں اپنے لیے اچھی اچھی چیزیں ڈھونڈ لیتا،

ترجمہ: میں تو بس ایک ہوشیار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں، اُن لوگوں کے لئے جو میری بات مانیں۔“ ﴿188﴾

یہ اصل میں بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بنایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور پیغمبر بنانے کے لیے یہ تھا کہ وہ بشارت بھی دے، یعنی motivation، اور مطلب انذار بھی کرے۔ یعنی جو تنبیہ ہوتی ہے وہ بھی، تو یہ ترغیب و ترہیب جس کو ہم کہتے ہیں، تو یہ پیغمبر کا منصب ہوتا ہے کہ وہ صرف بتاتا ہے، باقی جو کوئی عمل نہیں کرتا تو اس پر کوئی زور نہیں کرتا۔ ہاں البتہ اگر کوئی اور کسی کا حق مارتا ہے، تو پھر وہ معاشرے کو قائم کر رکھنے کے لیے جب اس کے پاس طاقت ہوتی تو اس طاقت کو استعمال کرتا ہے، فیصلے صحیح کرتا ہے، اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو جائے اور صحیح طریقے سے قرآن پاک کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے،

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىٕنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ (189) فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ (190) اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَيْـًٔا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ (191) وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ (192) وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ (193) اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (194)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اُسی سے اُس کی بیوی بنائی، تاکہ وہ اُس کے پاس آکر تسکین حاصل کرے۔

حاشیہ: ”ایک جان“ سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں، اور ان کی بیوی سے مراد حضرت حواء علیہا السلام۔

ترجمہ: پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو عورت نے حمل کا ایک ہلکا سا بوجھ اٹھا لیا، جسے لے کر وہ چلتی پھرتی رہی۔

حاشیہ: اب یہاں سے حضرت آدم علیہ السلام کی ایسی اولاد کا ذکر ہو رہا ہے جس نے بعد میں شرک کا راستہ اختیار کیا۔

ترجمہ: پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں (میاں بیوی) نے اپنے پروردگار اللہ سے دُعا کی کہ: ”اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم ضرور بالضرور تیرا شکر ادا کریں گے۔“﴿189﴾ لیکن جب اللہ نے ان کو ایک تندرست بچہ دے دیا تو ان دونوں نے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ ان کی مشرکانہ باتوں سے کہیں بلند اور برتر ہے ﴿190﴾ کیا وہ ایسی چیزوں کو (اللہ کے ساتھ خدائی میں) شریک مانتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود اُن کو پیدا کیا جاتا ہے؟ ﴿191﴾ اور جو نہ ان لوگوں کی کوئی مدد کر سکتے ہیں، اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں ﴿192﴾ اور اگر تم انہیں کسی صحیح راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری بات نہ مانیں، (بلکہ) تم انہیں پکارو یا خاموش رہو، اُن کے لئے دونوں باتیں برابر ہیں ﴿193﴾ یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو تم پکارتے ہو، وہ سب تمہاری طرح (اللہ کے) بندے ہیں۔ اب ذرا ان سے دُعا مانگو، پھر اگر تم سچے ہو تو انہیں تمہاری دُعا قبول کرنی چاہئے ﴿194﴾

یہاں پر شرک کی ابتدا کی بات شروع ہو گئی۔ اصل میں تھوڑا سا اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیں تو ماحول میں جو لوگ دین والے ہوتے ہیں، ان کی مخالفت کی جاتی ہے۔ لیکن جس وقت ان کے اوپر کوئی افتاد آتی ہے، پریشانی آتی ہے، کوئی مصیبت آتی ہے تو ان کے پاس آتے ہیں، ان سے دعا کے لیے کہتے ہیں۔ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اصل میں ان کو ہی حق پر مانتے ہیں۔ ہاں نفس کی وجہ سے عارضی طور پر۔ وہ شر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور اپنی من مانی کرتے ہیں۔ یہ بات ہے۔ دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت، اولیاء اللہ کے ساتھ محبت صحیح معنوں میں ایسی ہونی چاہیے کہ ان کی بات مان لی جائے۔ یہی ان کی محبت کا صحیح وہ ہے، مظہر ہے۔ لیکن لوگ کیا کرتے ہیں؟ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور کرتے ہیں اپنی بات، من مانی کرتے ہیں۔ اولیاء اللہ کی بات کرتے ہیں لیکن اولیاء اللہ کی بات سنتے نہیں ہیں۔ ان کی بات پر عمل نہیں کرتے۔ تو یہ جو شرک کی ابتدا ہوئی تھی نا ابتدا وہ اسی طرح ہوئی تھی کہ جو بزرگ لوگ ہوتے تھے۔ اللہ والے ہوتے تھے۔ تو ان کے لیے۔ ان کی تعظیم کرتے تھے۔ وہ جب فوت ہو گئے تو پھر ان کی مطلب تصویریں بنا لیں۔ اور ان کے سامنے۔ جھکنے لگے اسی طریقے سے، جیسے زندگی میں ہوتے تھے۔ اب چونکہ۔ صحیح راستے سے جب انسان ہٹتا ہے۔ تو پھر اس پر قائم نہیں رہتا بلکہ اور مزید ہٹتا جاتا ہے۔ تو وہ چیز بڑھتے بڑھتے بڑھتے ان کے بت بنانے۔ شروع کر لیے۔ اور پھر ان کو پوجنے لگے۔ اب جب ان کو پوجنے لگے تو ان کے ساتھ ان کے شیطان نے۔ یعنی یہ کر لیا کہ اگر ہم یہ کریں گے تو۔ جیسے وہ اچھے لوگ اس وقت تھے۔ تو ان کی بات سنی جاتی تھی۔ دعا قبول ہوتی تھی تو اب بھی ہماری دعائیں قبول ہوں گی اب یہ بات مطلب انہوں نے، آہستہ آہستہ پھر انہوں نے خود ہی کہا کہ خود ہی قبول کریں گے۔ جیسے ہمارے اولیاء اللہ سے لوگ کہتے ہیں۔ کہ مطلب یہ اس طرح کرتے ہیں۔ ہمارے پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف رحمۃ اللہ علیہ، یہ ان کے پاس، یہ ان کے بڑے پڑپوتے سے سنا ہے، خود ہی سنا ہے۔ کہتے ہیں ایک صاحب آئے اور ہمارے حضرت کو کہا کہ تسی دیسی۔ تو کہتے ہیں حضرت نے کہا کہ اللہ دیسی۔ تو پھر کہتے ہیں تسی دیسی، انہوں نے کہا اللہ دیسی، ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے ہوتے۔ یہاں تک وہ حضرت نے فرمایا کہ اچھا پھر نیچے ان کے سر کو لے گئے، سر کو لے گئے، ہوتے ہوتے وہاں بالکل جب نیچے پہنچ گیا تو حضرت نے پوچھا کی نظر آ رہا ہے؟ انہوں نے کہا ککھ نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا اللہ دے سامنے تو میں ککھ بھی نہیں۔ اب یہ بات حضرت خود کہہ رہے ہیں لیکن اس کے سامنے وہ ایسے کرتے ہیں بات، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ لوگ اب کرتے ہیں اپنی مرضی سے۔ ہم دیکھیں ولی اللہ اس کو کہہ رہا ہے کہ میں نہیں کر رہا، لیکن یہ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں تو نے کرنا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ اگر اللہ کی بات مانتے ہیں تو پھر پورے دین کو مانیں گے۔ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تو شارٹ کٹ لگانا چاہتے ہیں۔ اب شارٹ کٹ لگانے میں پھر یہی مسائل ہوں گے۔ تو یہ سلسلہ اسی طرح شروع ہوا ہے۔ اور اب اس میں اللہ پاک نے جیسے ان آیات کریمہ میں صاف صاف فرمایا ہے کہ۔ دیکھو یہ،

ترجمہ: کیا وہ ایسی چیزوں کو (اللہ کے ساتھ خدائی میں) شریک مانتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود اُن کو پیدا کیا جاتا ہے؟ ﴿191﴾ اور جو نہ ان لوگوں کی کوئی مدد کر سکتے ہیں، اور نہ خود اپنی مدد کرتے ہیں ﴿192﴾ اور اگر تم انہیں کسی صحیح راستے کی طرف دعوت دو تو وہ تمہاری بات نہ مانیں، (بلکہ) تم انہیں پکارو یا خاموش رہو، اُن کے لئے دونوں باتیں برابر ہیں ﴿193﴾یقین جانو کہ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو تم پکارتے ہو، وہ سب تمہاری طرح (اللہ کے) بندے ہیں۔ اب ذرا ان سے دُعا مانگو، پھر اگر تم سچے ہو تو انہیں تمہاری دُعا قبول کرنی چاہئے ﴿194﴾

وہ اپنی زبان بھی نہیں ہلا سکتے، اپنے ہاتھ نہیں ہلا سکتے، اپنے تو کیسے وہ۔ تو یہ ایک بیوقوفی کی ایک انتہا ہوتی ہے شرک۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عقل عطا فرمائی ہے نا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو عقل عطا فرمائی ہے۔ اب یہ عقل اس کو استعمال کرنا چاہیے۔ تو اب یہ ہے کہ اگر کسی میں اتنی بھی عقل نہ ہو کہ اس چیز کو ہی خدا مانے جو کہ خود مخلوق ہے اور وہ جو ہل بھی نہیں سکتا ان سے چیزیں مانگتے ہیں، تو یہ بیوقوفی کی انتہا ہے۔ اس نے اپنی عقل کو ضائع کر دیا۔ جب اپنی عقل کو ضائع کر دیا تو یہ عقل کو صحیح استعمال نہ کرنا یہ ظلم ہے عقل کا۔ تو اس لیے جو شرک ہے نا یہ ظلم عظیم ہے، اس کو فرمایا اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۔ ایک تو یہ بات ہے کہ مخلوق کو خالق بنا دیا خالق کو چھوڑ کر، یہ ظلم ہے۔ یعنی اللہ کی شان میں ظلم ہے، ایک اپنے اوپر ظلم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ یعنی انسان اپنی عقل کو ضائع کر لیتا ہے اور اس کے ذریعے سے انسان خود وہ جو سوچ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے وہ نہیں سمجھتا۔ تو دونوں طرح یہ ظلم ہے۔ اس وجہ سے اس کو ظلم عظیم کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ظلم عظیم سے بچائے اور ہمیں صحیح معنوں میں توحید پر رکھے۔ جو رسالت سے سمجھ میں آتا ہے، جو آخرت پر ایمان رکھنے سے وہ تازہ ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو یہی صحیح عقیدے نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ بِرَحْمَتِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔

شرک: عقل کا زوال اور بزرگوں کی تعظیم میں غلو کی حقیقت - درسِ قرآن - دوسرا دور