تزکیۂ نفس، خلوصِ نیت اور ایثار (صحابہ کرامؓ کی روشن زندگی کے آئینے میں)
جمعہ بیان
- انسان کے نفس میں فجور اور تقویٰ دونوں موجود ہیں، تقویٰ سے وہ اللہ کا دوست اور فجور سے برباد ہو جاتا ہے۔
- انسان کی حبِ جاہ، حبِ مال اور لذات کی حرص کبھی ختم نہیں ہوتی اور یہی اسے برائیوں کی طرف دھکیلتی ہے۔
- محدود علم اور وسائل کی وجہ سے انسان اپنی اصلاح خود نہیں کر سکتا بلکہ اسے اللہ کی رہنمائی درکار ہے۔
- دولت جمع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، اس کا حقیقی نفع صرف اسے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے میں ہے۔
- اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیتوں پر ہے، لہٰذا ہر چھوٹا یا بڑا کام خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔
- دکھاوے اور دنیاوی تعریف کے لیے کیے گئے بڑے اعمال بھی رائیگاں جاتے ہیں اور آخرت میں عذاب کا سبب بنتے ہیں۔
- بندوں کے ساتھ کی گئی چھوٹی سی بھلائی بھی اگر خالص اللہ کے لیے ہو تو اس کا بہت بڑا اجر ہے۔
- اللہ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کا واحد راستہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی اتباع ہے۔
- سنت کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے تمام صحابہ کرام، اہل بیت اور امہات المومنین کی زندگیوں کی اتباع لازمی ہے۔
- محض نفسانی خواہشات اور جبلت کے تابع زندگی گزارنے والا انسان جانوروں کی سطح سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔
- اپنی ضرورت پر دوسروں کو مقدم رکھنا ایثار ہے اور نفس کی حرص سے بچ کر مال خرچ کرنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَأَنْفِقُوا خَيْرًا لِأَنْفُسِكُمْ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
معزز خواتین و حضرات، انسان بہت کمزور ہے۔ لیکن اگر کچھ محنت کر لے تو اس کی قوتِ پرواز بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر یہ اللہ کا بننا چاہے تو تمام مخلوقات سے مستغنی ہو کر اللہ کا بن جاتا ہے اور اللہ تعالی پھر اس کو وہ کچھ عطا فرماتے ہیں جس کا کوئی اور تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر یہ اپنے نفس کی ماننا شروع کر لیتا ہے تو نفس اس کو ایسی جگہ پر پہنچا سکتا ہے جو اسفل سافلین ہوتا ہے۔ ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ تو یہ انسان کے اندر یہ دونوں چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ اللہ جل شانہ نے سورہ شمس کے اندر انتہائی واضح طور پر سات قسمیں کھا کر ارشاد فرمایا کہ اس نفس کے اندر میں نے دونوں چیزیں رکھی ہیں۔ فجور اور اس کا تقویٰ دونوں۔ اس وجہ سے اگر یہ فجور کے پیچھے چلا جائے تو فاجر اور فاسق بن جاتا ہے۔ اور اگر ایمان چلا جائے تو کافر بن جاتا ہے۔ اور اگر یہ تقویٰ کا راستہ اختیار کر لیتا ہے تو متقی بن جاتا ہے، ولی اللہ بن جاتا ہے، اللہ کا دوست بن جاتا ہے۔ ایسا بن جاتا ہے کہ اس کو چھیڑنا ایسا ہے جیسے اللہ پاک کے ساتھ جنگ۔ تو گویا کہ یہ دونوں چیزیں اس کے اندر بدرجہ اتم موجود ہیں۔
تو جو چیزیں اس کو خراب کرتی ہیں، ان کے بارے میں ہمیں پتہ ہونا چاہیے۔ اور جن چیزوں سے قوتِ پرواز اس کی بڑھتی ہے، اللہ پاک کا بنتا ہے، اس کا بھی اس کو علم ہونا چاہیے۔ اب وہ دو چیزیں ہیں، جو کہ ایک اس کو روکتی ہے اچھے کاموں سے اور ایک چیز یہ ہے جو کہ اس کو بری چیزوں پر ابھارتی ہے۔ اب جو چیز اس کو روکتی ہے اچھے کاموں سے، اس کا دبانا بھی ضروری ہے تاکہ رکے نہیں۔ اور جو اس کو ابھارتی ہے برائیوں پہ، اس کو بھی دبانا ضروری ہے تاکہ ان برائیوں تک یہ پہنچ نہ سکے۔ تو یوں سمجھ لیجیے کہ اس کی جو اصلاح ہے وہ انہی دو چیزوں پر منحصر ہے۔
اب جو چیز اس کو برائیوں کی طرف لے جاتی ہے وہ اس کی حرص ہے۔ حبِ جاہ، حبِ باہ، حبِ مال، تین چیزوں کی حرص۔ بڑا بننے کی حرص، اوہو کیا بتاؤں۔ انسان مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ طلب بڑھتی رہتی ہے، بڑھتی رہتی ہے، بڑھتی رہتی ہے اور اس کے ساتھ مسائل بھی بڑھتے رہتے ہیں۔ کوئی گھر میں حاکم بننا چاہتا ہے، تو پھر محلے میں حاکم بننا چاہتا ہے، تو پھر شہر میں حاکم بننا چاہتا ہے، پھر علاقے میں حاکم بننا چاہتا ہے، پھر ملک پہ حاکم بننا چاہتا ہے، پھر آگے پوری دنیا فتح کرنا، سلسلہ چلتا رہتا ہے، رکتا نہیں ہے۔ اس کو حبِ جاہ کہتے ہیں۔ بڑے بڑے لوگوں کو خراب کر دیتی ہے۔
حبِ باہ لذتوں کی حرص، لذات کی حرص، کھانے پینے، سامان، مکان، cars مطلب یہ ہے کہ کیا کیا چیزیں، طلب بڑھتی رہتی ہے، حرص بڑھتی رہتی ہے۔ جتنا اس کو دو، مزید چاہے گا۔ تھوڑا سا آپ غور کر لیں، میرے خیال میں جو بوڑھے بوڑھے لوگ ہیں، ان سے تو آپ پوچھ ہی سکتے ہیں کہ پہلے، جو آج کل جو چیزیں ہیں، کیا ان کا کوئی مطلب وہ سامان تھا پہلے؟ یعنی بادشاہ جو ہوتا تھا نا بڑا بادشاہ، اس کے پاس بھی رات کو اتنی روشنی نہیں ہوتی جو آج کل ایک مطلب کٹیا میں ہوتی ہے یا کسی کمرے میں ہوتی ہے، اتنی روشنی اس کے پاس نہیں ہوتی تھی۔ کیوں بھئی، فانوس سے، مطلب وہ جو اس میں لالٹین ٹائپ چیزیں ہوتی تھیں یا شمع ہوتی تھی، اس سے کتنی روشنی ہوتی؟ اب تصور کر لیں، تو اتنی روشنی نہیں ہوتی تھی۔ ہمارے جو کپڑے ہیں، سبحان اللہ، پہلے کوئی تصور کر سکتا تھا اس طرح کے کپڑوں کا؟ نہیں۔ سخت گرمی میں ٹھنڈا شربت، پہلے کہاں تھا؟ ایسی ٹھنڈی چیزیں کہاں تھیں؟ اس طرح ہر موسم کا پھل، سبحان اللہ، پہلے کہاں تھا؟ نہیں تھیں یہ چیزیں۔ لیکن اب بتاؤ پہلے لوگ خوش تھے یا اب خوش ہیں؟ دیکھ لیں، پوچھ لیں ان سے۔ گرمیوں میں کیا کرتے تھے؟ کوئی AC وغیرہ تو نہیں ہوتا تھا۔ درختوں کے نیچے بیٹھے ہوتے تھے۔ سائبان کے نیچے بیٹھے ہوتے تھے۔ پنکھا، یہ جو نہیں ہوتے، وہ جھل رہے ہوتے تھے۔ کپڑے کا پنکھا ہوتا تھا، مطلب اس کو کوئی اور جھل رہا ہوتا تھا۔ یہی چیزیں ہوتی تھیں۔ اب سبحان اللہ، پنکھا آیا، پنکھے کے بعد پھر ceiling fan آ گیا، ceiling fan کے بعد پھر cooler آ گیا، اس کے بعد AC آ گیا، اس کے بعد اب پتہ نہیں کیا کیا چیزیں ہیں لیکن کیا لوگ مطمئن ہو گئے؟ نہیں۔ تو حبِ باہ، لذات کی طلب، never ending۔
پھر اس کے بعد مال کی طلب، مال کی حرص، اتنی زیادہ حرص کہ بینک بھرے ہوں گے لیکن سمجھتے ہوں گے، اف یہ کیا ہو گا، اگر یہ ہو گیا تو پھر کیا ہو گا، اگر یہ ہو گا تو پھر یہ کیا ہو گا، assumptions کے اوپر ڈر رہے ہوتے ہیں۔ اگر یہ ایسا ہو جائے تو پھر کیا ہو گا، اگر ایسا ہو جائے۔ جبکہ پہلے جو غریب لوگ ہوا کرتے تھے نا، ایک وقت کا کھانا ہوتا تھا اور کہتے تھے دوسرے وقت کا اللہ مالک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ والی بات نہیں ہوا کرتی تھی کہ اتنے زیادہ وافر۔ بھئی سٹور کی چیزیں تھیں ہی نہیں، سٹور میں کیسے رکھتے؟ تو وقت کے ساتھ ساتھ خرچ ہو جاتی تھیں۔ لیکن اب مال، توبہ، توبہ، توبہ۔ مطلب آپ تصور کر لیں جو ارب پتی ہیں، ان کا ذاتی خرچ، ان کے گھر کا خرچ، جو صحیح جائز خرچ ہے، وہ کتنا ہو سکتا ہے، جائز خرچ کی بات کر رہا ہوں، ناجائز کی تو کوئی limit ہی نہیں ہے نا۔ ناجائز کی تو کوئی limit ہی نہیں۔ جائز خرچ کتنا ہو سکتا ہے ایک person کا؟ لیکن صورتحال کیا ہے؟ صورتحال یہ ہے کہ مسلسل مزید کی طلب، مزید کی طلب، مزید کی طلب، مزید کی طلب۔
اچھا کمال کی بات ہے، ان چیزوں کے اندر ایسی عجیب وہ ہے، کہ یہ جو دولت ہے نا، یہ اس کا فائدہ اس وقت ہے جب یہ خرچ کریں۔ خرچ نہ کرو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اور جو دولت جمع کرنے کا خوگر ہوتا ہے وہ خرچ کر نہیں سکتا۔ تو مجھے بتاؤ اس کا فائدہ کب لے گا؟ فائدہ اس کو کیسے ملے گا؟ آپ لوگوں نے سنا ہو گا نا، چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اتنے زیادہ بخیل ہوتے ہیں، اپنے اوپر بھی خرچ نہیں کر سکتے، اپنے اوپر۔ کہتے ہیں ایک بنیے کا، ویسے لطیفہ سا ہی ہے، لطیفے ہی ہوتے ہیں اس قسم کی چیزیں، لیکن بہرحال میسج تو اس میں ہوتا ہے کہ بیمار ہو گیا۔ تو بچوں نے کہا جی آپ کا علاج کرتے ہیں۔ کہتے ہیں جی حساب جوڑ لو کتنا خرچ آئے گا؟ حساب جوڑا گیا، جی اتنا خرچ آئے گا۔ اچھا اگر میں مر جاؤں تو کتنا خرچ ہو گا؟ تو انہوں نے حساب جوڑ لیا تو مرنے پہ، کریا کرم پہ، کچھ کم ہی خرچ آیا۔ کہتا ہے چلو جی مرنا منظور ہے۔ تو میں اکثر یہ دیکھتا ہوں کہ یہ جو لوگ بخیل ہوتے ہیں، یہ نہ اپنے ہوتے ہیں نہ دوسروں کے ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں کس کے ہوتے ہیں۔ تو یہ انسان کی حالت ہے۔
اب انسان اپنی اصلاح خود نہیں کر سکتا۔ کیا خیال ہے! خود نہیں کر سکتا۔ کیوں! اول تو علم مکمل نہیں۔ مستقبل کا علم کس کے پاس ہے؟ نہیں ہے۔ ابھی حال، میرے پاس کیا، مطلب اس دیوار کے پیچھے کیا ہے، ادھر کیا ہے، چھت کے اوپر کیا ہے، نہیں معلوم۔ میرے ساتھ کوئی شخص کیا کرنے والا ہے، مجھے نہیں معلوم۔
تو اول تو علم مکمل نہیں۔ پھر اس کے بعد وسائل انسان کے پاس جو ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ اس چیز کے لیے ہوں۔ جو کرنا چاہتا ہے۔ تو اب یہ، اس لیے عرض کرتا ہوں، انسان اپنی اصلاح خود نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہے کسی خیر خواہ کی، اور اس شخص کی جو کہ آپ کے احوال جانتا ہو، اور آپ کے بارے میں صحیح رائے رکھ سکتا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کے احوال کے بارے میں۔
تو انسان کی طرف تو بعد میں آئیں گے نا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ جل شانہ سے زیادہ ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ ہم خود نہیں کر سکتے، جو اللہ تعالی ہمیں دے سکتا ہے، ہم خود وہ چیز نہیں حاصل کر سکتے۔ تو اللہ جل شانہ ہمارے تمام احوال کو جانتا ہے اور ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے، لہٰذا جو چیز اللہ نے ہم پر لازم کی ہے وہ ہمارے لیے بہترین چیز ہوگی۔ جو ہم پر اللہ پاک نے لازم کیا، وہ ہمارے لیے بہترین چیز ہوگی۔ مثلاً دیکھیں ادھر سارا کچھ میں خود کھا جاؤں یا ضائع کر لوں۔ تو میری سوچ تو یہاں تک ہے۔ وہ حدیث شریف میں آتا ہے نا کہ بھئی، کسی کے پاس ہوتا ہے تو یا کھا لیا، یا اوڑھ لیا اور پرانا کر دیا۔ اور تیسری چیز یہ ہے کہ آگے بھیج دیا۔ تو بہترین وہ جس نے آگے بھیج دیا۔ تو اب یہ ہے کہ ہم لوگ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ ہمارے limited ذہن کے مطابق ہے، سوچ کے مطابق ہے، ہم لوگ اپنے بارے میں بھی زیادہ نہیں جانتے۔ لیکن اللہ جل شانہ ہمارے بارے میں جانتا ہے کہ اللہ نے ہمارے لیے کون کون سی چیزیں تیار رکھی ہیں۔ اور اللہ پاک نے ان کو دینے کے لیے کن چیزوں پر منحصر رکھا ہے۔ تو اللہ تعالی ہم سے وہ کروانا چاہتا ہے تاکہ وہ چیزیں ہمیں وہاں دے دے۔
قانون اللہ پاک کا بڑا زبردست ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ لیکن آپ اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ مثلا دیکھو، وقت کو کوئی آگے پیچھے کر سکتا ہے؟ نہیں کر سکتا۔ بے شک اچھلے کودے جو بھی کرے۔ اپنے وقت کو نہیں روک سکتا، وقت جائے گا۔ جس کا جتنا لکھا ہوا ہے۔ اتنے وقت کے لئے رہے گا اور جب وہ وقت آ جائے گا تو ذرہ برابر بھی۔ اس میں تبدیلی نہیں کر سکے گا۔ اب ان اوقات کے اندر اندر اس کو کیا کرنا چاہیے؟ تاکہ اس کے بعد جو unlimited life شروع ہو جائے گی۔ اس میں پھر اس کا حال کیا ہو گا؟ اس کے بارے میں اللہ جل شانہ نے ہمیں guide کیا ہے۔
اب دیکھیں۔ ابھی جو میں نے آیت کریمہ پڑھی ہے، سب سے پہلے تو میں۔ آپ کو اس کے بارے میں عرض کرنا چاہوں گا کہ اس میں اللہ پاک نے کیا فرمایا ہے۔ ابھی میں نے آیت کریمہ جو پہلے تلاوت کی ہے۔
اور طبیعتوں میں حرص دھری ہے۔ اگر تم احسان کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی ساری خبر ہے۔
یعنی ہمارے اندر حرص ہے اور اللہ کو پتہ ہے۔ اور پھر یہ ہے کہ ہمیں احسان کرنا چاہیے۔ ہاں، اور تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ دو چیزیں اللہ پاک کو پسند ہیں۔ تو اللہ پاک کو سارے کاموں کا پتہ ہے۔ لہذا اللہ پاک جو فرما رہے ہیں، یہی ہمارے لیے بہترین ہے۔
اور یہ فرمایا ہے، دوسری آیت کریمہ،
اور خرچ کرو اپنے لیے، بھلائی کرو، اور جو اپنے جی کی حرص سے بچ گیا وہی کامیاب ہے۔
میں نے آپ سے عرض کیا نا کہ، پیسہ جس کے پاس ہوتا ہے، تو اس کا فائدہ اس وقت ہے جب اس کو خرچ کیا جائے گا۔ اگر خرچ نہیں کیا جائے گا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، بے شک آپ کے پاس اربوں کھربوں ہوں۔ کیا فائدہ ہے؟ اگر بینک میں ہیں تو بینک والوں کے ہیں۔ اگر کسی اور کے پاس ہے تو ان کے ہیں، تمہارے پاس اس وقت ہے جب تم اس کو خرچ کرو گے۔ مثلاً اگر ہوں آپ کے پیسے اور آپ کو خرچ نہ کرنے دیا جائے، تو آپ کے کس کام کے؟ بھئی بینک ملازمین جو ہوتے ہیں، ان کے پاس کتنے سارے پیسے پڑے ہوتے ہیں تو کیا اس پہ خوش ہوتے ہیں وہ؟ ظاہر ہے ان کے ہیں ہی نہیں۔ تو لہٰذا وہ کہتے ہیں کسی مائی نے اپنے بیٹے کو دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تیرے آگے پیچھے گاڑیاں ہی گاڑیاں کر دے، یعنی بہت زیادہ مالدار ہو جائے۔ تو وہ ٹریفک کا سپاہی ہو گیا۔ اب ظاہر ہے گاڑیاں ہی گاڑیاں آگے پیچھے تو تھیں لیکن اس کی تو نہیں تھیں نا۔ تو اسی طریقے سے اگر آپ کے آگے پیچھے سارے پیسے ہی پیسے ہوں تو کیا! اگر آپ اس کو خرچ نہ کر سکیں؟ یہ تو اس صورت میں جب آپ خرچ نہ کر سکیں، اور آپ خرچ کر سکیں لیکن وہ خرچ نہ کریں جس کا آپ کا فائدہ ہے۔ تو پھر بھی آپ کو کوئی فائدہ نہیں۔
مثلاً دیکھو آپ نے بہترین لباس پہن لیا، پرانا ہو گیا بس ختم ہو گیا۔ آپ نے بہترین کھانا کھا لیا، بس کھا لیا، بول براز میں تبدیل ہو گیا۔ کوئی سیر سپاٹا کر لیا بس ختم ہو گیا، وقت کے ساتھ گیا۔ لیکن اگر آپ نے کسی غریب کو دو وقت کا کھانا کھلایا، یہ آپ کے لیے سٹور ہو گیا۔ آپ نے کسی مسجد کی تعمیر میں دے دیا، یہ آپ کے لیے سٹور ہو گیا۔ آپ نے کسی معصوم یتیم، ان کے سر پر ہاتھ رکھا، ان کی ضرورت کو پورا کیا، آپ کے لیے سٹور ہو گیا۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ اس مال کے ساتھ کر رہے ہیں جس کا تعلق اللہ کی رضا کے ساتھ ہے، وہ آپ کے لیے سٹور ہو گیا۔ اب اس کے لیے قانون ہے، بہت زبردست قانون ہے۔ اور وہ قانون کیا ہے؟ وہ قانون یہ ہے کہ جس چیز کی نسبت جو ہوتی ہے وہ اس نسبت سے پکاری جاتی ہے اور اس کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے۔ پس جو کام اللہ کے لیے کیا جائے، تو اللہ پاک باقی ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ اللہ پاک کے ساتھ ہمارا ہمیشہ کا معاملہ ہے۔ لہذا ہمیشہ کے لیے وہ چیز ہمارے کام آئے گی، جو اللہ کے لیے ہے۔
اور اگر ہم نے دنیا کے لیے کیا، یعنی دنیا کے فائدے کے لیے۔ ایک تو ہوتا ہے نا دنیا سے مراد یہ نہیں کہ کسی یتیم کی آپ نے مدد کی تو وہ تو اللہ کے لیے کی نا، وہ تو اس کی نسبت اللہ کے ساتھ ہے، اس کی نسبت اس کے ساتھ نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ نے اس وجہ سے کیا، یتیم کے سر پہ ہاتھ رکھا کہ لوگ کہیں کہ کتنا زبردست مطلب وہ ہے، رحم کرنے والا ہے، اب یہ دنیا کے لیے ہو گیا۔ بے شک عمل وہی ہے، عمل وہی ہے، لیکن نیت تبدیل ہو گئی۔ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ تمام اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ لہذا اب وہ دنیا کے لیے ہو گیا۔ اب وہ ختم ہو گیا یہیں پر۔
حدیث شریف میں تین لوگوں کا ذکر آتا ہے۔ اور یہ انتہائی ڈرانے والی حدیث شریف ہے۔ اس کو جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یعنی بیان کر رہے تھے تو تین دفعہ ان پہ غشی طاری ہو گئی۔ یعنی بیان نہیں کر سکتے تھے۔ اتنی وہ ڈرانے والی حدیث ہے۔
تین لوگوں کو جہنم میں سب سے پہلے پھینکا جائے گا۔ تین لوگوں کو جہنم میں، جہنم کا ایندھن بنایا جائے گا۔ ایک عالم ہوگا، ایک سخی ہوگا، ایک شہید ہوگا۔ اندازہ کریں۔ کن کا نام میں لے رہا ہوں۔ ایک عالم ہوگا، ایک سخی ہوگا، ایک شہید ہوگا۔ تینوں کا جرم ایک ہوگا۔ domain مختلف ہوگا، لیکن تینوں کا جرم ایک ہوگا۔
عالم سے کہا جائے گا کہ تجھے میں نے علم کی دولت سے نوازا تھا تو نے کیا کیا اس کے ساتھ؟ کہے گا میں روز و شب لوگوں کو تیرے دین کی طرف بلاتا رہا اور تیرا دین سمجھاتا رہا اور یہ کرتا رہا وہ کرتا رہا۔ اللہ پاک پہ تو ساری چیزیں کھلی ہیں۔ اللہ پاک کے سامنے تو کوئی وہ نہیں کر سکتا change۔ اللہ پاک فرمائیں گے تو نے اس لیے کہ لوگ تجھے عالم کہیں۔ سو عالم کہا گیا اب تیرا میرے پاس کچھ نہیں۔ پھینکو اس کو جہنم میں۔ فرشتے بھی یہی کہیں گے اور جہنم پھینک دیا جائے گا۔
سخی، سخی سے پوچھا جائے گا تجھے میں نے مال کی دولت سے نوازا تھا تو نے کیا کیا؟ کہے گا یا اللہ دن اور رات تیرے لیے خرچ کرتا رہا۔ اللہ پاک فرمائیں گے میرے لیے نہیں، اس لیے کہ لوگ تجھے سخی کہیں۔ تو میرے پاس تیرا کچھ نہیں، تجھے سخی کہا گیا۔ اور فرشتے بھی یہی کہیں گے، اور بس اس کے بعد پھر اس کو بھی۔
اس طرح شہید جو ہوگا اس سے بھی پوچھا جائے گا کہ میں نے تجھے یہ دیا تھا، یہ دیا تھا تو نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا یا اللہ میں نے تو اپنی جان بھی تیرے راستے میں قربان کی۔ اللہ پاک فرمائیں گے نہیں، میرے لیے نہیں، اس لیے کہ لوگ تجھے بہادر کہیں۔ تجھے بہادر کہا گیا، اب تیرا یہاں پر کچھ نہیں ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو نیت ہے نا، اِنَّمَا الاعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، اس کو بہت زیادہ راسخ کرنا چاہیے اپنے اندر کہ کسی حالت میں بھی ہماری نیت بدل نہ جائے۔ کسی حالت میں بھی ہماری نیت نہ بدل جائے۔ مطلب میں کہتا ہوں اس پر جتنی محنت کی جائے کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اثر تمام چیزوں پر ہے تمام چیزوں پر۔ لہذا ہماری نیت خَالِصَةً لِوَجْهِ اللّٰهِ ہونی چاہیے، اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔
صحابہ کرام کی جو تعریف اللہ پاک نے فرمائی ہے قرآن پاک میں، اس میں ایک لفظ یہ بھی ہے، يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وہ اس کی رضا چاہتے ہیں۔ وہ اللہ پاک کی رضا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ، ان کا کوئی مطلب دوسرا نہیں ہوتا، صرف ان کا ایک ہی ہوتا ہے وہ مطلب کہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ان کے لیے پھر یہ نام اللہ پاک نے بتا دیا۔ اس وجہ سے میں عرض کر رہا ہوں۔ کہ یہ چیز تو بالکل ہمارے مطلب اس سے یعنی جدا نہیں ہونی چاہیے کہ ہر ایک، ہر کام اللہ کی رضا کے لیے، چھوٹا سا کام کیوں نہ ہو۔
مثلا دیکھو میں راستے میں ایک، کوئی پتھر راستے سے ہٹا دوں۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا آپ نے ہٹا دیا، بس ٹھیک ہے۔ لیکن جس کے لیے ہٹایا اس کو پتہ چل گیا۔ اگر آپ نے اس کے لیے ہٹایا ہے، تو اللہ کو پتہ چل گیا، کسی کو پتہ چلا یا نہیں پتہ چلا۔ آپ نے صرف کسی کے لیے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ میں اس کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ اس کو پتہ بھی نہیں چلا جس کے بارے میں سوچا۔ لیکن اللہ کو پتہ چل گیا، آپ کا کام ہو گیا۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ پاک فرمائیں گے اے میرے بندے میں بیمار ہو گیا تھا تو نے میری عیادت نہیں کی۔ کہا یا اللہ یہ کیسے ہو سکتا ہے، تو کیسے بیمار ہو سکتا ہے، تو تو اللہ ہے؟ اللہ پاک فرمائے گا میرا فلاں بندہ بیمار تھا، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے وہاں پاتے۔ پھر فرمائے گا: میں بھوکا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ تو وہ کہے گا یا اللہ تو کیسے بھوکا ہو سکتا تھا تو تو اللہ ہے۔ اللہ پاک فرمائے گا کہ میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، اگر تو اس کو کھلاتا تو مجھے ادھر پاتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو بندوں کے ساتھ کام اللہ کے لیے کرنا چاہتے ہیں، اللہ اس کو اپنے لیے note کر رہا ہے، مطلب اللہ پاک کے ہاں اس کی باقاعدہ entry ہو رہی ہے۔ بے شک ہمیں یاد ہو یا یاد نہ ہو، اللہ کو یاد ہو گا۔ بے شک کسی کو پتہ ہو یا نہ ہو، اللہ کو پتہ ہو گا۔
اس وجہ سے کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ کام کیوں نہ ہو، ایک تو اس کو ادنیٰ نہیں سمجھنا چاہیے اگر اللہ کے لیے ہے۔ اگر اللہ کے لیے ہے تو یہ بہت بڑی چیز ہے۔ کیونکہ اس کی نسبت بہت بڑی ہے۔ اس کی نسبت بہت بڑی ہے۔ تو اس وجہ سے ادنیٰ سے ادنیٰ کام بھی اللہ کے لیے کیا جائے۔ اور جو بھی ہم کام کریں تو اس سے پہلے ہم سوچیں کہ کس کے لیے ہے۔ اگر اللہ کے لیے ہے شکر کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر درمیان میں پھر درمیان میں سوچیں۔ اگر اللہ کے لیے ہے شکر کرنا چاہیے، نہیں ہے تو change کرنا چاہیے، دعا کرنا چاہیے، استغفار کرنا چاہیے۔ پھر اخیر میں بھی اس طرح کرنا چاہیے۔ مطلب یہ کہ پہلے اپنے کاموں کی نیت ہم بہتر کر لیں۔ ٹھیک ہے نا۔
اور پھر اس کام کو حضور کے طریقے پہ کریں، صلی اللہ علیہ وسلم۔ اس کے طریقے پہ کر لیں۔ کیونکہ حضور کا طریقہ اللہ کو پسند ہے۔ سارے راستے بند ہو چکے ہیں، صرف ایک ہی راستہ کھلا ہے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے، اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا۔ لہذا حضور کے طریقے پر اس کو کریں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پہ ارشاد فرمایا کہ یہود میں اکہتر فرقے تھے، نصاریٰ میں بہتّر ہو گئے اور میری امت میں عنقریب تہتر ہو جائیں گے۔ لیکن ایک نجات پائے گا۔ تو صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ کون نجات پائے گا؟ فرمایا مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي، جس پر میں چلا اور جس پر میرے صحابہ چلے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رہنما اصول دے دیا کہ میرے طریقے کی اتباع کرو؛ کیونکہ اللہ پاک نے فَاتَّبِعُونِي کا فرمایا ہے۔
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔
البتہ بالتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ تو ہے تو مقصود کون سا طریقہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا طریقہ اللہ کو پسند ہے، اللہ پاک کو محبوب ہے، اللہ پاک کو مطلوب ہے۔
لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہم کیسے اختیار کریں؟ تو اس کے لیے جو case studies ہیں وہ صحابہ کے طریقے ہیں۔ اب دیکھو غریب لوگ بھی ہوتے ہیں، مالدار لوگ بھی ہوتے ہیں، طاقتور لوگ بھی ہوتے ہیں، کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں، پہاڑی بھی ہوتے ہیں، صحرائی بھی ہوتے ہیں۔ مطلب مرد بھی ہوتے ہیں عورتیں بھی ہوتی ہیں، ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اب ہر قسم کے لیے کوئی نمونہ چاہیے نا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ انہوں نے کیسے اختیار کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ انہوں نے کیسے اختیار کیا، تو جو مضبوط لوگ ہیں، طاقتور لوگ ہیں۔ تو ان میں صحابہ میں دیکھو طاقتوروں نے کیسا طریقہ اختیار کیا۔ آپ کو case study معلوم ہو گیا۔ کمزور لوگ ہیں بالکل، مطلب کچھ بھی پوزیشن میں نہیں ہیں، انہوں نے کیسا طریقہ اختیار کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں؟ عورتوں نے کیا کیا تھا؟ مردوں نے کیا کیا تھا؟ مالداروں نے کیا کیا تھا؟ غریب لوگوں نے کیا کیا تھا؟
اب دیکھو مالدار لوگ سبحان اللہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھو، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھو، زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھو۔ آپ کو پتہ چل جائے کہ انہوں نے اپنا مال کیسے خرچ کیا۔ کیسے کمایا کیسے خرچ کیا۔ غریب لوگ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھو، کیسے انہوں نے زندگی گزاری۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھو۔ انہوں نے کیسی زندگی گزاری۔ اس طریقے سے اور بہت سارے۔ غریب صحابہ، اکثر صحابہ غریب تھے، صحابہ اکثر غریب تھے، مالدار ان میں کم تھے۔ اچھا وہ انہوں نے کیسے زندگی گزاری؟ عورتوں میں کیسے عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیسے زندگی گزاری؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیسے زندگی گزاری؟ اس طرح زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیسے زندگی گزاری؟ تو یہ ہمارے لیے یہ نمونے ہیں۔
تو اس وجہ سے اگر ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نہیں study کرتے تو سنت سمجھ ہی نہیں آ سکتی۔ اگر ہم صحابہ کرام کی زندگی کو نہیں study کرتے، سنت سمجھ ہی نہیں آ سکتی۔ اور سنت، سبحان اللہ، سبحان اللہ، یعنی اللہ جل شانہٗ کو راضی نہیں کر سکتے اگر سنت پہ نہیں چلیں گے۔ تو اس کا مطلب ہے اللہ کو راضی کرنے کے لیے سنت پہ چلنا ہے اور سنت پہ چلنے کے لیے صحابہ کرام کے طریقے کو لینا ہے۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي۔ جس پر میں چلا ہوں، جس پر میرے صحابہ چلے ہیں۔ سبحان اللہ۔
پھر صحابہ تین قسم کے ہیں۔ صحابہ تین قسم کے ہیں۔ ایک ہے امہات المومنین، اللہ تعالی ان کے درجات بہت بلند فرمائے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا، خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا۔ اور اس طرح زینب رضی اللہ تعالی عنہا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور سب، جتنی بھی ہماری امہات ہیں۔ اور پھر عام صحابہ، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، عمر رضی اللہ تعالی عنہ، عثمان رضی اللہ تعالی عنہ، اس طرح جو اور صحابہ کرام ہیں۔ اور اہل بیت۔ تینوں محترم ہیں، تینوں محترم ہیں، تینوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی اونچی اونچی باتیں ہیں۔ تینوں کے بارے میں۔
اب ہوتا کیا ہے انسان کا نفس درمیان میں آ جاتا ہے۔ کچھ لوگ صحابہ کے حق میں باتیں کرتے ہیں اہل بیت کے بارے میں کمزوری دکھاتے ہیں۔ کچھ لوگ اہل بیت کے حق میں باتیں کرتے ہیں صحابہ کے بارے میں کمزوری دکھاتے ہیں۔ کچھ لوگ امہات المومنین کے بارے میں۔ خدا کے بندو! یہ سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت والے ہیں۔ ان سب کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ہے، اس وجہ سے اس میں کوئی فرق نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی فرق نہیں کرنا چاہیے، سب کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے۔ تو بس ہم لوگوں کو اگر یہ بات سمجھ آ گئی تو میرے خیال میں پھر ہمیں زندگی گزارنے کا سلیقہ آ جائے گا۔ اور ہم لوگ صحابہ کرام کے طریقے پر اگر چلیں گے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ زندگی ہے کیا؟
آخر یہ زندگی جو ہے اگر ہم لوگ ویسے گزار دیں، جانوروں کی طرح گزر جائے گی۔ جانوروں کی طرح کیا ہے؟ جانور اپنی جبلت پر چلتے ہیں۔ وہ وہ سوچتے نہیں ہیں، ان میں شعور نہیں ہوتا کہ کس طریقے سے کرنا ہے۔ بس وہ جو ان کی جبلت ہے بس اس کے مطابق چلیں گے۔ سانپ کا کام ڈسنا ہے، بھیڑیے کا کام چیرنا پھاڑنا ہے، کتے کا کام بھونکنا ہے، مطلب اس طرح سب کا اپنا۔ اسی طریقے سے اگر ہم نفس کے مطابق چلیں گے تو اس کا مطلب کیا ہے؟ ان جانوروں کی طرح چل رہے ہیں۔
فرق صرف یہ ہے کہ چونکہ انسان، دیکھو یہاں پر یہ مسجد ہے نا، اس مسجد کے اندر اگر کتا آ گیا تو آپ صرف اس کو بھگا دیں گے۔ اس کے بارے میں آپ کے جذبات وہ نہیں ہوں گے بس کتا ہی ہے نا، کتے کے بارے میں کتا ہی کا سمجھیں گے آپ۔ لیکن یہاں اگر کوئی آدمی بھونکنا شروع کر لے تو آپ کیا کہیں گے؟ کہیں گے تو انسان ہی نہیں، مطلب تو کیا کر رہا ہے، مطلب مسجد کے اندر بھونک رہا ہے؟ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو آپ کے جذبات ان کے لیے کتے جیسے نہیں ہوں گے بلکہ اس سے بھی بدتر ہوں گے۔ اس وجہ سے جب انسان جانوروں کی صفات اختیار کرتا ہے تو اللہ پاک بھی فرماتے ہیں، أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ۔ یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں۔ بَلْ هُمْ أَضَلُّ، بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ لہذا ہم انسان ہیں، اپنی انسانیت کو جان لیں۔ اپنی انسانیت کو پہچان لیں۔
تو پھر انسان کو اللہ پاک نے بہت اونچی پرواز عطا فرمائی ہے۔ دیکھو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی انسان تھے۔ لیکن کیسے انسان تھے؟ خواجہ معین الدین چشتی اجمیر رحمۃ اللہ علیہ بھی انسان ہی تھے۔ دیکھیں کیسے انسان تھے! میں نے دیکھا صحابہ کا نام نہیں لیا۔ کیوں بھئی؟ وہ تو ان کے بارے میں تو ہم پہلے سے جانتے ہیں۔ میں بعد والوں کی باتیں کر رہا ہوں۔ بعد والوں کی باتیں کر رہا ہوں، وہ بھی انسان تھے۔ اس طرح ہمارے قریب ہی بہت سارے اولیاء اللہ گزرے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی گزاری، وہی مشکلات ان کے پاس بھی تھیں۔ یہ نہیں کہ مطلب وہ مشکلات نہیں تھیں۔ بلکہ ممکن ہے ہم سے زیادہ مشکلات ان کے لیے ہوں۔
یہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ مفلوج کر دیے گئے تھے۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کو وہ کھلایا گیا تھا وہ چھپکلی کا وہ تو سارا پورا جسم وہ ہو چکا تھا۔ اس طرح مطلب حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ پہ کوڑے برسائے گئے تھے۔ کوڑے برسائے گئے تھے۔ اور کوڑے کس نے برسائے تھے آپ کو پتا ہے؟ مامون الرشید نے۔ پھر اس کے بعد اور پھر اس کے بعد اور پھر اس کے بعد۔ رمضان شریف میں روزے میں ان کے اوپر کوڑے برسائے گئے۔ تو وہ بھی انسان تھے، وہ بھی انسان تھے۔ لیکن بڑے کامیاب انسان تھے۔ بڑے اولوالعزم انسان تھے۔ اللہ نے ان کو بہت کچھ عطا فرمایا۔
جس وقت حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا جنازہ تھا نا، وہ اتنی کثرت تھی اس میں اتنے زیادہ لوگ تھے کہ وہ جو ان کے مخالفین جو تھے نا، وہ بھی حیران تھے کہ یہ کیا بات ہوئی؟ جب ان کو پتا چلا۔ اچھا اللہ پاک نے ان کو اتنی عزت دے دی۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ مشکلات ہم سے زیادہ ہو سکتی ہیں لیکن ان لوگوں نے اللہ کو اللہ کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھا، صحابہ کو صحابہ سمجھا اور ان کے طریقے پہ چلنے کی جتنی کوشش کر سکتے تھے وہ کوشش کی۔ اور اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ کیا بس۔ یہی ان مطلب ان کی کامیابی کی بات تھی۔
اور الحمدللہ اللہ نے یہ ساری چیزیں ہمیں بھی عطا فرمائی ہیں۔ جو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو دی گئی تھیں وہ ہمیں بھی عطا ہو چکی ہیں، استعمال کرنے کی بات ہے۔ استعمال کرنے کی بات ہے۔ دیکھو یہ نہیں کہ تم کروڑ پتی ہو تو پھر تم یہ کر سکو گے، نہیں۔ آپ کے پاس ایک پیسہ ہے لیکن اگر اللہ کے لیے ہے تو اور ہے۔ اور اللہ کے لیے نہیں ہے تو اور ہے۔ اس پہ نہیں، مثال کے طور پر دیکھو، اکثر میں عرض کرتا ہوں، بہت آسان ہے، غریب لوگ اس لیے تو جیت جاتے ہیں نا۔
اب مثال کے طور پر دیکھیں۔ کسی کے پاس سو روپیہ ہے، اس میں اللہ کے راستے میں پچاس روپیہ دیتا ہے۔ دوسرے کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے۔ وہ پچاس ہزار روپے دیتا ہے؟ دے سکتا ہے؟ دیتا ہے؟ نہیں۔ تو وہ اس غریب تک پہنچ سکتا ہے؟ اس غریب تک نہیں پہنچ سکتا۔ اب یہ جو بات ہے کہ وہ جو غریبوں کے بارے میں فرمایا کہ پانچ سو سال پہلے مالداروں سے جنت میں جائیں گے، آخر کوئی وجہ تو ہے نا۔ کوئی وجہ تو ہے نا۔ اور وجہ یہی ہے، ان کے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کے لیے بس ٹھیک ہے جی پیش کر لیتے ہیں۔
یہ ابھی میں نے آپ کے آگے آیت پڑھی نا کہ بے شک وہ خود اس کو ضرورت ہو لیکن وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ میرا خیال ہے اس پہ ختم کر لیتا ہوں لیکن بس آپ کو یہ سنا دیتا ہوں کیوں کہ یہ میں نے ابھی پڑھ لیا ہے۔ تو میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ آپ کو سنا دوں۔ یہ ابھی میں نے…
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور اپنے اوپر اوروں کو مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود ان کو ضرورت ہو۔ اور جو اپنے جی کے لالچ سے بچایا گیا وہی کامیاب ہیں۔
اسی کا نام ایثار ہے۔
یہ واقعہ کیا تھا آپ کو پتا ہے؟ وہ ایک صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، مہمان آ گئے گھر میں۔ ان کے پاس اتنا کھانا تھا جو صرف ان کے لیے کافی تھا۔ حیران ہو گئے کہ کیا کیا کریں۔ فیصلہ کر لیا، بیوی کو کہا تم کسی وجہ سے بہانے سے چراغ بجھا دو گی۔ اور ہم ہاتھ صرف ماریں گے، مہمان کہے گا کہ شاید یہ بھی کھا رہے ہیں۔ لیکن کھائے گا کون؟ کھائے گا مہمان تاکہ مہمان کا پیٹ بھر جائے۔ اس طرح انہوں نے کیا۔ تو اللہ پاک کو یہ چیز بہت پسند آئی۔ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ۔
تو ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے پاس خود کچھ نہیں ہوتا لیکن جب دوسروں کو ضرورت ہوتی ہے، عثمان رضی اللہ تعالی عنہ، ان کے پاس بہت کچھ تھا لیکن سن لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کی خدمت کر لے گا۔ رات ہونے والی تھی جب پہنچے تو عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اپنے گھر والوں سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ چراغ کیوں بے ضرورت جلاتے ہیں، جب سویا کریں تو اس کو بجھا دیا کریں۔ یہ بات انہوں نے سن لی۔ کہا مجھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس بھیجا ہے یہ تو چراغ میں بھی بخل کرتا ہے، تو مجھے کیا دے گا؟ خیر دروازہ کھٹکھٹایا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ باہر آئے۔ جی کیا؟ جی مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے پاس بھیجا ہے۔۔فرمایا کیوں بھیجا ہے؟ جی اس طرح بات ہے۔ اچھا ٹھیک ہے آپ تشریف رکھیں۔ اب چیزیں لا رہے ہیں، یہ بھی لے لو، پھر یہ بھی لے لو، پھر یہ بھی لے لو، پھر یہ… وہ حیران ہو رہے ہیں کہ یہ کیا، وہی عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ہیں جنہوں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے یہ ایسی بات کی ہے؟ تو انہوں نے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ حضرت مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔ آپ کی بات یہ میں ابھی سن چکا ہوں، اور ابھی آپ مجھے اس طرح بے حساب دے رہے ہیں، کیا، یہ کیا ماجرا ہے؟ فرمایا: میں جو اپنے لیے کہہ رہا تھا اس کا مجھ سے حساب لیا جائے گا، اللہ تعالی مجھ سے حساب لیں گے۔ لہذا اس کے لیے تو مجھے حساب رکھنا ہے۔ لیکن آپ کو جو دے رہا ہوں اس پہ حساب نہیں ہوگا مجھ سے۔ یہ تو میں اللہ کے لیے دے رہا ہوں۔ لہذا اس پر مجھ سے کیا حساب لیا جائے گا؟ اب دیکھو، یہ سوچ تھی۔
عثمان رضی اللہ تعالی عنہ آپ حضرات جانتے ہیں کون ہیں؟ تین دفعہ جنت کو خریدا ہے اپنے مال کے ذریعے سے۔ تین دفعہ جنت کو خریدا ہے بقول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ تین دفعہ جنت خریدی ہے۔ ایسا مال ہونا چاہیے، سبحان اللہ ایسا مالدار ہونا چاہیے۔
اچھا اور پھر سبحان اللہ، ابھی بھی مدینہ منورہ میں ان کا اکاونٹ موجود ہے۔ آپ کو علم ہے؟ مدینہ منورہ میں ان کا اکاونٹ ابھی بھی چل رہا ہے۔ باقاعدہ بینک اکاونٹ ہے وہ جو پیسے آتے ہیں اس میں جمع ہوتے ہیں اور پھر وہ رفاہی کاموں میں خرچ ہوتے ہیں، عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے۔ ایسی قبولیت!
اس وجہ سے اگر ہم لوگ اس کھاتے میں اپنے آپ کو شامل کر لیں، اللہ تعالی مجھے… اپنے لیے سب سے پہلے دعا کرتا ہوں، آپ سب کے لیے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی مجھے ایسا بنا دے اور ہماری جان، مال، وقت، اولاد سب اللہ کے لیے بن جائے۔ بس یہی چیز اللہ تعالی سے مانگنی چاہیے۔ اللہ تعالی مجھے بھی نصیب فرمائے آپ کو بھی۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔