عہدِ الست، شیطانی فتنوں سے بچاؤ اور غفلت کا علاج (اسمائے حسنیٰ کی روشنی میں)

درس نمبر 298، سورہ الاعراف آیات 172 تا 181، اشاعتِ اول: 17 اور 18 اکتوبر، 2022، بمطابق 20 اور 21 ربیع الاول ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

عہد الست کا اثر ہر انسانی فطرت میں موجود ہے۔

بلعام کا واقعہ اہل علم کے لیے بڑا سبق ہے۔

نیک نام لوگوں کو شیطانی فتنوں سے محتاط رہنا چاہیے۔

دنیا پرست انسان کتے کی طرح ہمیشہ ہانپتا رہتا ہے۔

غافل انسان چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہو جاتے ہیں۔

غفلت کا اصل علاج مسنون اسمائے حسنیٰ کا ذکر ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ؕ قَالُوْا بَلٰىۚ ۛ شَهِدْنَا ۚ ۛ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَ ۙ (172) اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ (173) وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ(174) وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ (175)

ترجمہ: اور (اے رسول! لوگوں کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب تمہارے پروردگار نے آدم کے بیٹوں کی پشت سے اُن کی ساری اولاد کو نکالا تھا، اور اُن کو خود اپنے اوپر گواہ بنایا تھا، (اور پوچھا تھا کہ:) ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ سب نے جواب دیا تھا کہ: ”کیوں نہیں؟ ہم سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔“

حاشیہ: اس آیت کریمہ میں جس عہد لینے کا ذکر ہے، حدیث میں اُس کی تشریح یہ آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے بعد اُن کی پشت سے جتنے انسان پیدا ہونے والے تھے، ان سب کو ایک جگہ اس طرح جمع فرمایا کہ وہ سب چیونٹیوں کے برابر جسم رکھتے تھے۔ پھر اُن سے یہ عہد لیا کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتے ہیں؟ سب نے اقرار کیا کہ بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا رب تسلیم کرتے ہیں، (روح المعانی بحوالہ نسائی وحاکم وبیہقی وغیرہ) جس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو مان کر ان پر عمل کریں گے، اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو دُنیا میں بھیجنے سے پہلے ہی ان سے اپنی اطاعت کا اقرار لے لیا تھا۔ دُنیا میں ایسے حضرات بھی ہوئے ہیں جن کو یہ واقعہ دُنیا میں آنے کے بعد بھی یاد رہا، مثلاً حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے ان کا یہ ارشاد منقول ہے کہ: ”یہ عہد مجھے ایسا یاد ہے گویا اس وقت سن رہا ہوں۔“ (معارف القرآن ج:4 ص: 115) لیکن یہ دُرست ہے کہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر باقی انسان اس واقعے کو ایک عہد کی شکل میں تو بھول چکے ہیں، مگر کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ یاد نہ رہنے کے باوجود اپنا طبعی اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ اثر آج بھی دُنیا کے اکثر و بیشتر انسانوں میں موجود ہے کہ وہ اس کائنات کے ایک پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتے ہیں، اور اس کی عظمت و کبریائی کے گن گاتے ہیں۔ جو لوگ مادی خواہشات کے گرداب میں پھنس کر اپنی فطرت خراب کرچکے ہوں، اُن کی بات تو اور ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت ہر انسان کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ جب کبھی فطرت سے دُور کرنے والے بیرونی عوامل دُور ہوتے ہیں تو انسان حق کی طرف اس طرح دوڑتا ہے جیسے اُس کو اپنی کھوئی ہوئی پونجی اچانک مل گئی ہو۔

ترجمہ: اور یہ اقرار ہم نے اس لئے لیا تھا) تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ: ”ہم تو اس بات سے بے خبر تھے“ ﴿172﴾ یا یہ نہ کہہ دو کہ شرک کا آغاز تو بہت پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد انہی کی اولاد بنے، تو کیا آپ ہمیں ان کاموں کی وجہ سے ہلاک کر دیں گے جو غلط کار لوگوں نے کیے تھے؟ اور یہ اقرار ہم نے اس لیے لیا تھا تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے۔ یا یہ نہ کہہ دو کہ: ”شرک (کا آغاز) تو بہت پہلے ہمارے باپ دادوں نے کیا تھا، اور ہم اُن کے بعد انہی کی اولاد بنے۔ تو کیا آپ ہمیں اُن کاموں کی وجہ سے ہلاک کردیں گے جو غلط کار لوگوں نے کئے تھے؟“ ﴿173﴾ اور اسی طرح ہم نشانیوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں، تاکہ لوگ (حق کی طرف) پلٹ آئیں ﴿174﴾ اور (اے رسول!) ان کو اُس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں، مگر وہ اُن کو بالکل ہی چھوڑ نکلا، پھر شیطان اُس کے پیچھے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔

حاشیہ: عام طور سے مفسرین نے اس آیت کے بارے میں یہ کہا ہے کہ اس میں بلعام بن باعور کی طرف اشارہ ہے۔ فلسطین کے علاقے موآب میں یہ ایک عابد وزاہد شخص تھا، اور اس کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ اُس کی دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اُس وقت اس علاقے پر بت پرست قوموں کا قبضہ تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل کا لشکر لے کر اس علاقے پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فوجیں موآب کے دروازے تک پہنچ گئیں تو وہاں کے بادشاہ نے بلعام سے کہا کہ وہ ان کے خلاف بددُعا کرے تاکہ وہ ہلاک ہوجائیں، بلعام نے شروع میں انکار کیا، مگر بادشاہ نے اسے رشوت دی تو وہ بددُعا پر راضی ہوگیا۔ مگر جب دُعا کرنی شروع کی تو الفاظ بددُعا کے بجائے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حق میں دُعا کے نکلے۔ بعد میں بلعام نے بادشاہ کے لوگوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنی عورتوں کو بنی اسرائیل کے خیموں میں بھیج دیں، تاکہ وہ بدکاری میں مبتلا ہوجائیں۔ بدکاری کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قہر کا سبب بنتی ہے، اس لئے بنی اسرائیل اپنی بدکاری کی وجہ سے اللہ کی مدد سے محروم ہوجائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، بنی اسرائیل اس فتنے میں مبتلا ہوگئے جس کی وجہ سے ان میں عذاب کے طور پر طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔ یہ قصہ بائبل میں بھی تفصیل کے ساتھ مذکور ہے (دیکھئے گنتی، باب 22 تا 25، اور 31: 16)۔ قرآن کریم نے یہاں اُس شخص کا نام نہیں لیا جس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے، اور نہ یہ بیان فرمایا ہے کہ اُس شخص نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو چھوڑ کر کس طرح اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کی۔ اور جو قصہ اُوپر بیان کیا گیا ہے، وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہے۔ اس لئے یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ ان آیات میں وہی مراد ہے۔ تاہم قرآن کریم کا اصل مقصد اس شخص کی تعیین پر موقوف نہیں ہے۔ سبق یہ دینا مقصود ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم اور عبادت کے شرف سے نوازا ہو، اُس کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط اور تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔ اگر ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی آیات کی خلاف ورزی کر کے ناجائز خواہشات کے پیچھے چل پڑے، تو اس کا انجام دُنیا اور آخرت دونوں میں برا ہوتا ہے۔

اس میں ایک بات میں عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ امتحانات ہوا کرتے ہیں اور شخص پہ تقریباً ہوتے ہیں کہ انسان کو جس وقت اللہ پاک کی طرف راستہ مل جاتا ہے اور اس پہ چلنے لگتا ہے۔ تو دو قسم کی باتیں ہو جاتی ہیں۔ ایک تو لوگوں میں جب یہ مشہور ہوتا ہے تو لوگ اس کی بات ماننے لگتے ہیں۔ لوگ ان کی قدر کرنے لگتے ہیں، گویا کہ دنیا میں اس کے اللہ کے ساتھ تعلق کا، ایک فائدہ ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف شیطان اور شیطانی قوتیں اس کے بارے میں جاننے لگتی ہیں کہ یہ کام تو ظاہر ہے، مطلب، خراب ہو رہا ہے۔ اور یہ ہمارے ہاتھ سے خود بھی نکل رہا ہے، دوسروں کو بھی نکال رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں وہ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ تاکہ اس کو بھی خراب کر لے۔ اور خراب کرنے کے جو ذرائع ہوتے ہیں وہ پھر شیطان کے اپنے اس پر ہیں، مطلب وہ جو تجربہ ہے اور اس کا جو مطلب اس کو اس طرح چیزوں کا پتہ ہے۔ وہ اس کو استعمال میں لاتا ہے، تو لوگوں کو استعمال کرتا ہے، ذرائع بناتے ہیں، ان کے سامنے مختلف شکلوں میں وہ جاتے ہیں کبھی کیا، کبھی کیا۔ مثلاً سب سے بڑی بات یہ نساء والا فتنہ، عورتوں والا فتنہ، یہ بڑا فتنہ ہے۔ تو یہ بڑا فتنہ جو ہے وہ استعمال کرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے مطلب عورتیں رقیق القلب بھی ہوتی ہیں۔ اور یہ بھی ہوتی ہیں کہ وہ نرم دل ہوتی ہیں۔ تو ان پہ اثر زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کے کلام سے، ان کے کاموں سے متاثر ہو کر عورتیں نہ صرف یہ کہ اس لیے آتی ہیں کہ ان سے متاثر ہوں، دوسری اس لیے آتی ہیں کہ ان کے دنیاوی کام کا راستہ مل جاتا ہے۔ مطلب وہ اپنے دنیاوی کام نکالنے کے لیے جوق در جوق آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اب اس میں پھر شیطان اپنا کام چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور عورتوں کی صورت میں مطلب ظاہر ہے، ان کے اوپر وہ ہے کہ اپنے ڈورے ڈالنے لگتا ہے۔ نتیجتاً اگر کوئی ان میں پھسل گیا تو وہ جو اس کی بزرگی یا جو بھی تھی، وہ جو بھی، وہ بھی سارا داؤ پر لگ جاتا ہے۔ کیونکہ لوگوں کو تو اس سے غرض نہیں ہے، وہ لوگوں کو تو اپنی ذاتی چیزوں کی غرض ہوتی ہے۔ وہ جیسے اس کے اندر وہ کمزوری دیکھ لیتے ہیں تو بس وہ سارے کے سب کے سب مخالف ہو جاتے ہیں۔ تو دنیا کا خسارہ بھی ہو جاتا ہے اور آخرت کا خسارہ تو ہو ہی جاتا ہے۔ تو وہ اس وجہ سے حضرت نے جو فرمایا کہ ایسے لوگوں کو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔ کیونکہ شیطان اس پہ حملہ آور ہوتا ہے۔ اور لوگ اس کی مانتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً وہ خطرے میں بڑھتا رہتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ ان باتوں میں وہ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ شیطان وہ فارغ نہیں بیٹھا۔ وہ ہر ایک کی کسی بھی نیکی کو ضائع کر سکتا ہے۔ اور کروا سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے ہم سب کو محتاط رہنا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے۔

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(176) سَآءَ مَثَلَا الْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ(177) مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(178) وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا ؕاُولٰٓىٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(179) وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآىٕهٖ ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(180) وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ (181)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

ترجمہ: اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی بدولت اُسے سربلند کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا رہا، اس لئے اُس کی مثال اُس کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اُس پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان لٹکا کر ہانپے گا، اور اگر اُسے (اُس کے حال پر) چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپے گا۔

حاشیہ: عام جانور اُسی وقت ہانپتے ہیں جب کوئی بوجھ اٹھائیں، یا کوئی اُن پر حملہ کرے۔ لیکن کتا ایسا جانور ہے جسے سانس لینے کے لئے ہر حال میں ہانپنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جن حضرات نے اس واقعے کو بلعام بن باعور کا واقعہ قرار دیا ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اُس کی بدعملی کی سزا میں اُس کی زبان کتے کی طرح باہر نکل پڑی تھی، اس لئے اُسے اس آیت میں کتے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ دراصل یہ تشبیہ اُس شخص کی نفسانی حرص کی ہے۔ اگر کتے پر کوئی چیز پھینکی جائے تو خواہ وہ اُسے مارنے کے لئے پھینکی گئی ہو، کتا اپنی زبان نکال کر اُس پر اس حرص میں لپکتا ہے کہ شاید یہ کوئی کھانے کی چیز ہو۔ اسی طرح جو شخص دُنیا کی حرص میں گرفتار ہو وہ ہر واقعے سے دُنیا کا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اُس کے لئے ہر حال میں ہانپتا ہی رہتا ہے۔

ترجمہ: یہ ہے مثال اُن لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ لہٰذا تم یہ واقعات ان کو سناتے رہو، تاکہ یہ کچھ سوچیں ﴿176﴾ کتنی بُری مثال ہے اُن لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، اور جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں! ﴿177﴾ جسے اللہ ہدایت دے، بس وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے، اور جسے وہ گمراہ کردے، تو ایسے ہی لوگ ہیں جو نقصان اُٹھاتے ہیں ﴿178﴾ اور ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لئے پیدا کئے۔

حاشیہ: یعنی اُن کی تقدیر میں یہ لکھا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ایسے کام کریں گے جو انہیں جہنم تک لے جائیں گے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ تقدیر میں لکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جہنم کے کام کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، بلکہ بلا تشبیہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اُستاد اپنے کسی شاگرد کے حالات کے پیش نظر یہ لکھ کر رکھ دے کہ یہ فیل ہوگا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُستاد نے اُسے فیل ہونے پر مجبور کردیا، بلکہ اُس نے جو کچھ لکھا تھا اُس کا مطلب یہی تھا کہ یہ شاگرد محنت کرنے کے بجائے وقت ضائع کرے گا، اور اس کے نتیجے میں فیل ہوگا۔

ترجمہ: اُن کے پاس دِل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، اُن کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، اور اُن کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ وہ اُن سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ﴿179﴾

یہ بہت مکروہ صورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے۔ یہ انسان کہ علم ہو، لیکن علم سے اس کو پتا نہ چلے کہ حق کیا ہے، باطل کیا ہے۔ اور انہیں آنکھیں ہوں، لیکن نظر نہ آئے، صحیح بات۔ سننے کو کان ہوں، لیکن اس سے حق بات نہ سنے۔ اور دل، دماغ موجود ہو فیصلہ کرنے کے لیے، سوچنے کے لیے، لیکن اس سے سوچے نہیں۔ تو ان کا پھر یہ حال ہو جاتا ہے۔

ترجمہ: اور اسمائے حسنیٰ (اچھے اچھے نام) اللہ ہی کے ہیں۔ لہٰذا اُس کو انہی ناموں سے پکارو

حاشیہ: اس سے پہلی آیت میں نافرمانوں کی بنیادی بیماری یہ بیان کی گئی تھی کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُس کے سامنے جواب دہی کے احساس سے غافل ہیں۔ اور غور کیا جائے تو اس دُنیا میں ہر قسم کی برائی کا اصل سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اس لئے اب اس بیماری کا علاج بتایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے، اور اپنی ہر حاجت اُسی سے مانگی جائے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنے کا جو لفظ یہاں استعمال ہوا ہے، وہ دونوں باتوں کو شامل ہے، اُس کی تسبیح و تقدیس کے ذریعے اُس کا ذکر کرنا، اور اُس سے دُعائیں مانگنا۔ غفلت کے دُور ہونے کا یہی راستہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار کو دونوں طریقوں سے پکارے۔ البتہ اُس کو پکارنے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اچھے اچھے نام (اسمائے حسنیٰ) خود اللہ تعالیٰ نے یا اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیے ہیں، انہی ناموں سے اُس کو پکارا جائے۔ ان اسمائے حسنیٰ کی طرف قرآن کریم نے کئی مقامات پر اشارہ فرمایا ہے صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ یہ ننانوے نام ترمذی اور حاکم نے روایت کئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر انہی اسمائے حسنیٰ میں سے کسی اسم مبارک کے ساتھ کرنا چاہئے، اور اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام نہیں گھڑ لینا چاہئے۔

یہ بات ہے۔

ترجمہ: اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اُس کے ناموں میں ٹیڑھا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

حاشیہ: بہت سے کافروں کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا جو ناقص، ادھورا یا غلط تصور تھا، اُس کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کوئی نام یا کوئی صفت بنالی تھی، یہ آیت متنبہ کررہی ہے کہ مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ اُن لوگوں کی پیروی میں وہ بھی اللہ تعالیٰ کا وہ نام یا صفت استعمال کرنا شروع کردیں۔

ترجمہ: وہ جو کچھ کررہے ہیں، اُس کا بدلہ انہیں دیا جائے گا ﴿180﴾ اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو حق کا راستہ دکھاتی ہے، اور اُسی (حق) کے مطابق انصاف سے کام لیتی ہے ﴿181﴾

تو ہر دو کا ذکر آ گیا، وہ لوگ جو باغی لوگ ہیں، جن کا سننا، دیکھنا اور سوچنا ان کو فائدہ نہیں دیتا۔ اور ایسے بھی لوگ ہیں جو کہ انصاف سے کام لیتے ہیں اور حق پر قائم ہوتے ہیں۔ تو ظاہر ہے، مطلب، انسان کو کوشش کرنی چاہیے اور یہ جو غفلت سے نکلنے کا راستہ اللہ پاک نے بتا دیا ذکر کا، اور ذکر بھی اس طریقے سے جو کہ مسنون ہے، مامور ہے۔ یعنی وہ نام جو کہ اللہ پاک نے اپنے لیے خود بتائے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے، ان ناموں سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا چاہیے۔ مثلاً اللہ، یہ تو اسم ذات ہے۔ رحمٰن، کریم، رحیم، غفور، یہ سب نام جو ہیں نا وہ یعنی اللہ پاک کے ننانوے نام بتائے ہیں۔ تو ان ناموں کے ذریعے سے اللہ پاک کو یاد کرنا چاہیے۔

اور ان کی پھر بڑی فضیلت آئی ہے، ذکر کی، اور جو بہت ساری فضیلتیں ہیں وہ اس میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ذاکرین میں سے کر دے۔ ذکر اتنی بڑی دولت ہے کہ اس میں اللہ پاک فرماتے ہیں، فَاذْكُرُونِي اَذْكُرْكُمْ۔ پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ تو جس کو اللہ یاد رکھے، ان کی بات کیا ہے، بھئی اس کا تو کوئی مطلب ہم نظیر نہیں پا سکتے۔ اللہ پاک ہم سب سے راضی ہو، اور ایسے کاموں کی توفیق عطا فرمائے جس سے اللہ پاک راضی ہوتے ہیں۔

وَاَخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ


اضافی ارشادات

ایک بات یہ بیان ہوئی کہ عہدِ الست کا اثر ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ جیسے بچہ پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ پینا شروع کر دیتا ہے، یہ چیز اس کی فطرت میں ہے۔ بچے کا رونا اور ہنسنا بھی اس کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر کسی کو درد ہوتا ہے تو کسی اور کے بتائے بغیر اسے اس کا احساس ہوتا ہے، اور خوشی کی خبر ملتی ہے تو وہ اچھل پڑتا ہے۔ یہ سب فطرت کے مطابق ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خالق اور رب ہونے کا احساس بھی انسان کی فطرت میں موجود ہے۔

اس کے بعد بلعم بن باعور کا واقعہ ہمارے لیے بڑا سبق ہے، جو بیان میں تفصیل سے آیا ہے۔ پھر یہ بات بھی آئی کہ نیک نام لوگوں کو شیطانی فتنوں سے محتاط رہنا چاہیے۔ جس طرح شیطان انسان کے دل میں وساوس ڈالتا ہے، اسی طرح بعض لوگ بھی ہوتے ہیں جو لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں وساوس پیدا کرتے ہیں۔

پھر یہ بات بیان ہوئی کہ دنیا پرست انسان کتے کی طرح ہمیشہ ہانپتا رہتا ہے۔ لوگوں میں سے بعض اپنی چھپی ہوئی خراب فطرت میں بعض رذیل جانوروں کے مشابہ ہوتے ہیں۔ کوئی کتے، کوئی خنزیر اور کوئی چوہے جیسی عادات رکھتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے۔ غفلت سے بچنے کے لیے ذکر اللہ کی کثرت کرنی چاہیے، صالحین کی صحبت کا اہتمام کرنا چاہیے اور شیخ کے قریب رہنا چاہیے۔ ورنہ پھر شیطان انسان کو استعمال کر کے اسے گمراہ کر دیتا ہے۔

عہدِ الست، شیطانی فتنوں سے بچاؤ اور غفلت کا علاج (اسمائے حسنیٰ کی روشنی میں) - درسِ قرآن - دوسرا دور