حج کی تاریخ، تعمیرِ کعبہ اور قربانیٔ ابراہیمی کا پس منظر (حصہ دوم)
سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، جلد 5، حج، اشاعت اول: 5 نومبر 2020 بمطابق: 19 ربیع الاول 1442 ہجری، (حصہ دوم)
اسلام کا حقیقی مفہوم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی
قربانیِ اسماعیل علیہ السلام کا حقیقی مقام (مروہ)
خانہ کعبہ کی قدامت، فضیلت اور تجدید
مکہ اور بکہ کے ناموں کی لغوی و تاریخی تحقیق
قدیم یونانی اور رومی تاریخ میں خانہ کعبہ اور حج کا ذکر
تاریخ نگاری، تحقیق کی اہمیت اور مؤرخین کا تنقیدی جائزہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔ آج جمعے کی رات ہے اور جمعے کی رات ہمارے ہاں حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی مرتب کردہ سیرت النبی کی کتاب، اس سے درس ہوتا ہے۔
گزشتہ سے پیوستہ
اسلام قربانی ہے:
اسلام کے لفظی معنی ’’اپنے کو کسی دوسرے کے سپرد کر دینا اور اطاعت اور بندگی کے لئے گردن جھکا دینا ہے‘‘ اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے اس ایثار اور قربانی سے ظاہر ہوتی ہے، یہی سبب ہے کہ ان باپ بیٹوں کی اس اطاعت اور فرمانبرداری کے جذبہ کو صحیفہ محمدی میں اسلام کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، فرمایا: ﴿ فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ﴾ (صافات - 3) جب ابراہیم اور اسماعیل اسلام لائے (یا فرمانبرداری کی یا اپنے کو خدا کے سپرد کر دیا) اور ابراہیم نے اپنے بیٹے (اسماعیل) کو پیشانی کے بل زمین پر لٹایا۔ ﴿ وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ ۭ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ o إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾ (بقره - ۱۶) اور کون ابراہیم کی ملت کو پسند نہ کرے گا، لیکن وہ جو خود بیوقوف بنے، ہم نے اس کو دنیا میں مقبول کیا، اور وہ آخرت میں بھی نیکوں میں سے ہو گا، جب اس کے رب نے اس سے کہا کہ اسلام لا (یا فرمانبرداری کر یا اپنے کو سپرد کر دے) اس نے کہا میں نے پروردگار عالم کی فرمانبرداری کی (یا اپنے کو اس کے سپرد کر دیا)۔ الغرض ملت ابراہیمی کی حقیقت یہی اسلام ہے کہ انہوں نے اپنے کو خدا کے ہاتھ میں سونپ دیا، اور اس کے آستانہ پر اپنا سر جھکا دیا تھا، یہی اسلام کی حقیقت ہے اور یہی ابراہیمی ملت ہے، اور اسی بار امانت کو اٹھانے کے لئے حضرت ابراہیمؑ بار بار خدا سے دعا فرماتے تھے کہ ان کی نسل میں اس بوجھ کے اٹھانے والے ہر زمانہ میں موجود رہیں، اور بالآخر ان کی نسل میں وہ امین پیدا ہو جو اس امانت کو لے کر تمام دنیا میں وقف عام کر دے چنانچہ دعا فرمائی تو یہ فرمائی: ﴿ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ o رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾ (بقره - 15) ہمارے پروردگار! ہم کو مسلمان (یا اپنا فرماں بردار) بنا، اور ہماری نسل میں سے ایک مسلمان (یا اپنی فرمانبردار) جماعت بنا، اور ہم کو مناسک (حج کے دستور) بتا، اور ہم کو معاف کر، بے شک تو معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے، ہمارے پروردگار اس میں اپنا ایک رسول بھیج جو تیری آیتیں ان کو پڑھ کر سنائے، اور ان کو کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کو پاک اور صاف کرے، تو غالب اور حکمت والا ہے۔ یہ رسول محمد رسول اللہ ﷺ تھے، یہ کتاب قرآن پاک تھی، یہ حکمت سینۂ محمدی کا خزانہ علمی و عملی تھا، اور یہ مناسک اسلام کے ارکان حج تھے۔
یہ قربانی کہاں ہوئی؟
حضرت ابراہیمؑ نے اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی کہاں کی؟ توراۃ میں اس مقام کا نام مورہ یا موریہ بتایا گیا ہے، بعض بے احتیاط مترجموں نے اس نام کا بھی ترجمہ کر دیا ہے، اور بلوطون کے جھنڈ یا بلند زمین اس کا ترجمہ کیا ہے، لیکن محتاط مترجموں نے اصل عبری نام کو قائم رکھا ہے، چنانچہ اس وقت ہمارے پیش نظر توراۃ کا وہ عربی ترجمہ ہے جو عبرانی، کلدانی اور یونانی زبانوں کے مقابلہ میں ۱۸۹۰ء میں اوکسفورڈ یونیورسٹی کے مطبع میں چھپا ہے، اس میں اس مقام کا نام ’’مُرِیا‘‘ لکھا ہے، اور اس کے فارسی ترجمہ میں جو انہی زبانوں کے مقابلہ سے بائبل سوسائٹی لندن کی طرف سے ۱۸۸۵ء میں لندن میں چھپا ہے، اس کا تلفظ ’’موریا‘‘ کیا ہے، اور در حقیقت یہ لفظ مروہ ہے جو مکہ میں بیت اللہ کعبہ کے پاس ایک پہاڑی کا نام ہے، اس فارسی ترجمہ کی عبارت یہ ہے:
’’خدا ابراہیم را امتحان کردہ بدو گفت اے ابراہیم! عرض کرد لبیک، گفت کہ اکنوں پسر خود را کہ یگانہ تست و او را دوست می داری یعنی اسحاق را بردار و بزمین موریا برؤ و اور ا در آن جابر یکے از کوہ ہائیکہ بتونشان می دہم برائے قربانی سوختنی بگذران، بامدادان (صبح) ابراہیم برخاستہ الاغ (گدھا) خود را بیاراست و دونفر از نوکران خود را با پسر خویش ’’اسحاق‘‘ برداشته و هیزم برائے قربانی سوختنی شکستہ روانہ شد، وبسوئے آں مکانیکہ خدا او را فرمودہ بود رفت، و در روز سوم ابراہیم چشماں خود را بلند کردہ آن مکان را از دور بدید، آنگاہ ابراہیم بخادمان گفت شما ایں جا بمانید تا من با پسر بدانجا رویم، و عبادت (دوسرے ترجموں میں سجدہ ہے) کردہ نزد شما باز آئیم‘‘ (پیدائش ، ۲۲)
اس عبارت میں اسحاق کا نام یہود کی تحریف اور اضافہ ہے، اور مسلمان متکلمین نے قطعی دلیلوں سے اس تحریف و اضافہ کو ثابت کیا ہے، اس کتاب کی پہلی جلد کے مقدمہ میں اس پر مختصر بحث گذر چکی ہے، اور ہماری جماعت میں سے جناب مولانا حمید الدین صاحب مرحوم نے ’’الرای الصحیح فی من هو الذبیح‘‘ نام ایک عربی رسالہ خاص اس مسئلہ پر مدلل و مفصل لکھا ہے، اس لئے یہاں بحث بے محل ہے، بہرحال حضرت ابراہیمؑ کو حضرت اسماعیلؑ کی قربانی کے لئے جو مقام بتایا گیا تھا وہ سر زمین مروہ تھی، وہ اس مقام سے جہاں وہ قیام پذیر تھے چند روز کی مسافت پر تھی، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسیٰؑ کی شریعتوں کے مطابق ضروری تھا کہ جس مقام پر قربانی گذاری جائے وہ کوئی قربان گاہ اور بیت اللہ ہو خاص کر اس لئے بھی کہ وہاں حضرت ابراہیمؑ نے خدا کی عبادت کی اور سجدہ کیا اور وہ قربان گاہ یا بیت اللہ ایسا معروف و مشہور ہو کہ ساتھ کے نوکروں کو یہ کہا جا سکے کہ ’’میں وہاں جا کر عبادت کر کے واپس آتا ہوں‘‘۔ یہ خصوصیتیں کعبہ کے سوا کہیں اور نہیں پائی جاتیں اور نہ یہود و نصاریٰ اس کے لئے کسی دوسرے مقام کو ثابت کر سکے اور نہ عظیم الشان واقعہ کی کسی قسم کی بھی یادگار حضرت اسحاقؑ کی نسل (بنی اسرائیل) میں موجود تھی اور نہ ہے، اور نہ بیت المقدس یا مسیحؑ کی ولادت گاہ سے اس واقعہ کے کسی یادگاری اثر کا تعلق پہلے تھا نہ اب ہے۔
بر خلاف اس کے بنو اسماعیل یعنی اسماعیلی عربوں میں اس قربانی اور اس کی خصوصیات کی ایک ایک یادگار ہزارہا برس سے محفوظ چلی آتی تھی، اور گو اس میں امتداد زمانہ اور تغیرات کے سبب سے کسی قدر کمی بیشی یا بعد کی گمراہیوں کے سبب سے اس میں بعض مشرکانہ رسوم کی آمیزش ہو گئی تھی، تا ہم اصل شے باقی تھی، عرب میں بت پرست بھی تھے، ستارہ پرست بھی تھے، کافر بھی تھے، مشرک بھی تھے، بلکہ عیسائی بھی تھے، اور یہودی بھی تھے، مگر عربوں کے قدیم اشعار سے ثابت ہے کہ ان سب کو خانہ کعبہ اور حج کے مراسم کی اہمیت کا یکساں اعتراف تھا، یہاں تک کہ عیسائی عرب بھی اس کی قسمیں کھاتے تھے، اور غالباً یہی وجہ ہے کہ خانہ کعبہ میں جہاں مشرکوں کے بتوں کی صفیں تھیں، حضرت ابراہیمؑ، حضرت عیسیٰؑ اور حضرت مریمؑ کی تصویریں بھی تھیں۔
مکہ اور کعبہ:
کعبہ وہ مقام ہے جو مسلمان عرفاء کے خیال کے مطابق عرش الٰہی کا سایہ اور اس کی رحمتوں اور برکتوں کا ’’سمت القدم‘‘ ہے، وہ ازل سے اس دنیا میں خدا کا معبد اور خدا پرستی کا مرکز تھا، سب بڑے بڑے پیغمبروں نے اس کی زیارت کی اور بیت المقدس سے پہلے اپنی عبادتوں کی سمت اس کو قرار دیا کہ: ﴿ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ ﴾ (آل عمران۔ ۱۰) سب سے پہلا خدا کا گھر جو لوگوں کے لئے بنایا گیا۔
وہ وہی تھا، لیکن حضرت ابراہیمؑ سے بہت پہلے دنیا نے اپنی گمراہیوں میں اس کو بھلا کر بے نشان کر دیا تھا، حضرت ابراہیم کے وجود سے جب اللہ تعالیٰ نے اس ظلمت کدہ میں توحید کا چراغ پھر روشن کیا، تو حکم ہوا کہ اس گھر کی چہار دیواری بلند کر کے دنیا میں توحید کا پتھر پھر نصب کیا جائے چنانچہ قرآن پاک کے بیان کے مطابق (حج ۳-۴) کعبہ حضرت ابراہیمؑ کے زمانہ میں بھی ﴿ الْبَيْتِ الْعَتِیْقِ ﴾ (پرانا گھر) تھا، کوئی نیا گھر نہ تھا، حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے مل کر اس گھر کی پرانی بنیادوں کو ڈھونڈ کر پھر نئے سرے سے ان پر چہار دیواری کھڑی کی، فرمایا ﴿ وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ ﴾ (ابراہیم جب اس گھر کی بنیادیں اٹھا رہے تھے) اس سے معلوم ہوا کہ بنیاد پہلے سے پڑی تھی، حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ نے اس افتادہ بنیاد کو از سر نو بلند کیا، حضرت ابراہیمؑ نے عراق، شام، مصر، ہر جگہ پھر کر آخر اسی گمنام گوشہ کو منتخب کیا جو باسطوت جباروں اور بت پرست اور ستارہ پرست قوموں کے حدود سے دور ایک بے نام و نشان صحرا میں ہر چار طرف سے پہاڑیوں سے گھرا تھا، اس لئے قرآن پاک نے کہا: ﴿ وَاِذْ بَوَّأْنَا لِاِبْرَاهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْئًا ﴾ (حج -۴) اور ہم نے ابراہیم کے لئے اس گھر کی جگہ کو ٹھکانہ بنایا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا۔
اس سے معلوم ہوا کہ گھر کی جگہ تو پہلے سے متعین تھی البتہ دیواریں بے نشان تھیں تو ہم نے ابراہیمؑ کو اسی گھر کی جگہ بتا دی اور اس کو ان کی جائے پناہ اور ٹھکانہ بنا دیا کہ بت پرستوں کے شر اور فتنہ سے محفوظ رہ کر دین حق کی تبلیغ کریں۔ توراۃ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ سے پہلے یہ معبد موجود تھا کیوں کہ سامی دستور کے مطابق یہ ضروری تھا کہ جس مقام پر خدا کی قربانی یا نذر یا عبادت کی جائے وہ کوئی معبد یا قربان گاہ ہو، اس بنا پر وہ مقام جہاں حضرت ابراہیمؑ، اسماعیلؑ کو قربان کرنے کے لئے لائے تھے اور جس کے متعلق اپنے خادموں سے کہا تھا کہ وہاں جا کر عبادت کر کے واپس آتا ہوں ضروری ہے کہ وہ کوئی معبد ہو اسی لئے قرآن نے حضرت ابراہیمؑ کی طرف اس گھر کی ایجاد نہیں، بلکہ تجدید اور تطہیر کی نسبت کی ہے ﴿ وَ طَهِّرْ بَيْتِيَ ﴾ (اور میرے گھر کو عبادت گاہوں کے لئے پاک و صاف کر) اس وقت تک اس سر زمین کے لئے عرب کا لفظ بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ لفظ تو مجموعہ توراۃ میں حضرت سلیمانؑ کے زمانہ سے ملتا ہے اس سے پہلے اس کا نام پورب یا دکھن کا ملک تھا کہ یہ شام کے جنوبی و مشرقی سمت میں واقع تھا اور کبھی اس کا نام بیابان تھا اور آخری بھی بیابان اس کا نام پڑ گیا۔ لفظ عرب (عربہ) کے اصلی معنی بیابان و صحرا ہی کے ہیں۔ ؎۱ اس لئے حضرت ابراہیمؑ نے جس وقت یہ فرمایا تھا: ﴿ رَّبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ ﴾ (ابراہیم - ۶) خداوندا! میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بن کھیتی کی ترائی میں لا کر بسایا ہے۔
تو حقیقت میں یہ بن کھیتی کی ترائی اور بے آب و گیاہ میدان اس وقت اس کی ایک امتیازی صفت تھی اور آخر یہی صفت اس ملک کا خاص نام بن گئی اور اس لئے حضرت ابراہیمؑ نے یہاں حضرت اسماعیلؑ کو آباد کرتے ہوئے یہ دعا مانگی تھی: ﴿ وَارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ ﴾ (بقره - ۱۵) اور خداوند! یہاں کے رہنے والوں کو پھلوں کی روزی پہنچا۔
مکہ قدیم زبانوں کے بعض محققوں کے نزدیک بابلی یا کلدانی لفظ ہے جس کے اصلی معنی ’’گھر‘‘ کے ہیں اس سے دو حقیقتیں ظاہر ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ یہ آبادی اس وقت قائم ہوئی جب بابل و کلدان کے قافلے ادھر سے گذرتے تھے اور یہ اس کی ابراہیمی نسبت کی ایک اور لغوی دلیل ہے، دوسرے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس شہر کی آبادی اسی گھر کے تعلق سے وجود میں آئی اور یہ اس خانہ کعبہ کی قدامت اور تقدس اور اہل عرب کی روایات کی صحت پر دلیل قاطع ہے۔ مکہ کا بکہ نام حضرت داؤدؑ کی زبور میں سب سے پہلے نظر آتا ہے ؎۳۔ پہلی جلد کے مقدمہ میں اس کا حوالہ گذر چکا ہے۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ہے کہ قدیم شامی زبان میں بک کے معنی آبادی یا شہر کے ہیں جیسا کہ آج بھی شام کے ایک نہایت قدیم شہر کا نام بعلبک ہے یعنی بعل کا شہر (بعل دیوتا کا نام ہے) یہ اس آبادی کی قدامت کی دوسری لغوی شہادت ہے اور کعبہ کی ابتدائی تعمیر کے وقت یہی نام قرآن پاک میں آیا ہے: ﴿ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ ﴾ (آل عمران۔ ۱۰) پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے۔
کعبہ کے لغوی معنی ’’چوکھونٹے‘‘ کے ہیں چونکہ یہ گھر چوکھونٹا بنا تھا اور اب بھی اسی طرح ہے اس لئے کعبہ کے نام سے بھی مشہور ہوا۔ یونانی تاریخوں میں بھی کعبہ کا حوالہ موجود ہے۔ یونان کا مشہور مورخ ڈیوڈورس جو حضرت عیسیٰ سے ایک صدی پہلے گذرا ہے وہ عرب کے ذکر میں کہتا ہے: ’’ثمود یوں اور سبا والوں کے درمیان ایک مشہور معبد ہے جس کی تمام عرب بہت بڑی عزت کرتے ہیں۔‘‘ ؎۴ ثمود کا مقام شام و حجاز کے حدود میں تھا اور سبا کا یمن میں، ظاہر ہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان حجاز ہی ہے اور وہاں کا مشہور معبد جس کی عزت سارے عرب کرتے ہوں گے خانہ کعبہ ہے۔ رومیوں کی تاریخ میں بھی خانہ کعبہ کا ذکر ملتا ہے پروکوپس مورخ لکھتا ہے کہ ۵۳۱ء میں رومی سپہ سالار بیلزیر نے اپنے تمام فوجی افسروں کا ایک جلسہ مشاورت کیا اس میں شام کے دو افسروں نے اٹھ کر کہا کہ وہ آئندہ لڑائی میں شریک نہیں ہو سکتے کیوں کہ اگر وہ اپنی جگہ سے ہٹے تو عرب کا بادشاہ منذر سوم فوراً حملہ کر دے گا اس پر سپہ سالار نے کہا: ’’تمہارا یہ خطرہ صحیح نہیں ہے کہ عنقریب وہ موسم آنے والا ہے جس میں عرب اپنے دو مہینے عبادت کے لئے خاص کرتے ہیں اور اس زمانہ میں ہر قسم کے ہتھیاروں سے وہ پر ہیز کرتے ہیں۔‘‘ ؎۱ ظاہر ہے کہ یہ صاف حج کا بیان ہے۔
اب کیسے کہاں کہاں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کے وہ لا رہے ہیں، مطلب یہ ایک تاریخ دان ہی کر سکتا ہے۔ اور اسی لیے جو history ہے نا، تاریخ، یہ ایک specialization ہے۔ مطلب اس کو عام لوگ صرف ایک کہانی سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ کہانی نہیں ہوتی کیونکہ اس کی analysis کا اپنا ایک طریقہ کار ہے۔ یہ ہمارے پاس ایک موٹی سی کتاب ہے، روحانی تړون، پشتو میں ہے، روحانی رابطہ۔ مولانا عبدالحلیم اثر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھی ہے۔ ہے تاریخ، بزرگوں کے واقعات ہیں۔
لیکن انہوں نے جو analysis کیا ہے نا تو اس analysis کو دیکھ کر آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ analysis ہوتی کیا ہے۔ یعنی انہوں نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بہت سارے واقعات جو مشہور تھے ان کو analysis کے ذریعے سے غلط ثابت کیا کہ نہیں ایسا نہیں ہوا تھا۔ ہاں یہ لوگوں نے مشہور کیا ہے ایسا نہیں ہوا تھا۔ مطلب وہ analysis کہ اگر یہ ہوتا ہے تو پھر یہ نہیں ہو سکتا، اگر یہ نہیں ہو سکتا تو پھر یہ نہیں ہو سکتا۔ مطلب اس طریقے سے analysis جیسے ابھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ analysis مطلب کس طریقے سے کر رہے ہیں تو یہ بہت زبردست specialization ہے۔ اور حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور یہ ندوہ کے کچھ علمائے کرام ہیں یہ خصوصی طور پر اس کے بڑے ماہر تھے۔ انہوں نے جو لکھی ہے کتاب النبی الخاتم مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ وہ بھی ماشاءاللہ وہ اگرچہ ندوہ کے نہیں ہیں لیکن وہ بھی بہت ماہر تھے اس معاملے میں۔ بہت مطلب ذہن مہارت کے ساتھ analysis کرتے تھے۔ اور یہ وہ چیزیں ہوتی ہیں جو کہ کام آتی ہیں، کیونکہ جب کبھی کسی کے ساتھ بات کرنی ہوتی ہے تو ان تمام باتوں کی ضرورت پڑتی ہے کسی چیز کو سمجھانے کے لیے۔ کیونکہ لوگوں نے مطلب اتنا جھوٹ بولا ہوتا ہے کہ اس میں سچ کا ڈھونڈنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ تو اتنے زیادہ جھوٹ کے درمیان سچ کو نکالنا یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ تو اس کو پھر ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جو ماہرین ہوتے ہیں وہ ماہرین اس کو اس طریقے سے مطلب لاتے ہیں۔ اب دیکھیں انہوں نے ساری چیزیں آگے جا کے کہا کہ اتنی ساری باتیں خود ان کی تاریخوں میں موجود ہیں۔ تو اگر یہ صحیح ہے تو اسحاق کا نام کیسے آ گیا؟ یہ تحریف ہے۔ مطلب یعنی باقی چیزیں اگر اسماعیل علیہ السلام والی ہیں تو یہاں اسحاق کا نام تو آ ہی نہیں سکتا، اسحاق علیہ السلام کا نام۔ کیونکہ وہ تو فلسطین میں تھا۔ ان کا تو مطلب جو مستقر تھا وہ فلسطین کا تھا۔ تو وہ بہت ظاہر ہے وہاں یہاں تو نہ آئے ہیں نہ مطلب ان کے بارے میں بات ہوئی ہے۔ تو یہ تمام باتیں جو ہیں نا اب دیکھیں کتنے زبردست references دے رہے ہیں مختلف جگہوں کے، مختلف لوگوں کے، حتی کہ خود عیسائیوں کے بھی references دے رہے ہیں اور یونانیوں کے references دے رہے ہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔
###ری براڈکاسٹ کے بعد حضرت شیخ دامت برکاتہم کے ارشادات
مروہ کی تحقیق
اس بیان میں مکہ مکرمہ کے بارے میں ایک زبردست تحقیق آئی ہے۔ تورات میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی قربانی کے لیے "موریا" کی سرزمین پر جانے کا حکم ہوا۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل "مروہ" ہے، یعنی وہی پہاڑی جو بیت اللہ کے پاس ہے، اور جس کے اور صفا کے درمیان حضرت ہاجرہ علیہا السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں دوڑی تھیں، پھر آبِ زمزم جاری ہوا۔ وہیں سے چند کلومیٹر پر منیٰ کی وادی ہے جس میں قربان گاہ ہے۔
ان سب باتوں سے ثابت ہوا کہ جن کی قربانی پیش کی گئی وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے، یہود نے اپنی کتاب میں تحریف کر کے حضرت اسحاق علیہ السلام کا نام لکھ دیا۔
اسے تاریخ کہتے ہیں
لوگ تاریخ کو محض قصے کہانیاں سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ایک مستقل فن ہے جس کے تجزیے کا اپنا طریقۂ کار ہے۔ مؤرخ کو مختلف زبانوں، قوموں اور کتابوں سے شہادتیں جمع کرنی پڑتی ہیں، یہاں تک کہ مخالفین کی اپنی کتابوں سے بھی، اور پھر ان کو جوڑ کر دیکھنا ہوتا ہے کہ اگر یہ بات درست ہے تو فلاں بات درست نہیں ہو سکتی۔ لوگوں نے بات میں اتنا جھوٹ ملا دیا ہوتا ہے کہ اس کے درمیان سے سچ نکالنا آسان کام نہیں، اس لیے یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ماشاءاللہ حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ اس فن کے ماہر تھے؛ انہوں نے یونانی اور رومی مؤرخین، حتیٰ کہ یہود و نصاریٰ کی اپنی کتابوں سے حوالے جمع کر کے حق بات کو کس طرح ثابت کر دیا۔
بیان کو سمجھ کر سننا
اکثر لوگ بیان میں غور ہی نہیں کرتے کہ کیا کہا جا رہا ہے، گویا سو رہے ہوں۔ جمعہ کا خطبہ ہوتا ہے تو کتنے لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کیا پڑھا جا رہا ہے؟ بلکہ بسا اوقات خطیب کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ خیر، وہ تو خطبہ ہے؛ لیکن نماز تو سب پڑھتے ہیں، کتنوں کو سمجھ ہوتی ہے کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیا فرمایا تھا: "جب میں چاہتا ہوں کہ میرا رب مجھ سے بات کرے تو قرآن پڑھتا ہوں، اور جب چاہتا ہوں کہ میں اپنے رب سے بات کروں تو نماز پڑھتا ہوں۔"
بیماری کے بعد جب میں خانقاہ آیا تو سب سے پہلا بیان نماز کے ترجمے اور اسے سمجھ کر پڑھنے پر کیا۔
رکوع سے اٹھتے ہوئے پڑھتے ہیں سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ — اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی۔ پھر رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ — اے ہمارے رب! سب تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ رکوع کی تسبیح میں 3 الفاظ ہیں — سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ۔ سُبْحَانَ — پاک ہے، رَبِّیَ — میرا رب، الْعَظِیْمِ — بہت عظمت والا۔ پھر سجدے کی تسبیح میں 3 الفاظ ہیں — سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی - سُبْحَانَ — پاک ہے، رَبِّیَ — میرا رب، الْاَعْلٰی — سب سے بلند و برتر۔ کیا تسبیحات پڑھتے ہوئے ہم اس طرح سوچتے ہیں۔ سورۂ فاتحہ جو ہے اس میں ماشاء اللہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے، اس کا نچوڑ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ میں ہے، اور اس کا خلاصہ "ب" میں ہے۔ "بِسْمِ" یعنی "اللہ کے نام کے ساتھ"؛ ہم ہر چیز کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتے ہیں اور ہر کام اللہ کے تعلق سے کرتے ہیں۔ پھر اس کا خلاصہ "ب" کے نقطے میں ہے۔ ہمیں نماز میں پڑھتے ہوئے اس کی پوری سمجھ ہونی چاہیے، اور اپنے بچوں کو چھوٹی عمر ہی سے نماز کے ہر ہر رکن کے بارے میں یہ باتیں سکھانی چاہییں۔