واقعہ اصحابِ سبت: حیلہ سازی، جھوٹی اُمیدیں اور عبرت ناک انجام

درس نمبر 297، سورہ الاعراف آیات 163 تا 171، اشاعتِ اول: 15 اور 16 اکتوبر، 2022، بمطابق 18 اور 19 ربیع الاول ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

بنی اسرائیل نے سنیچر کے دن حیلے سے نافرمانی کی۔

حق کے داعی کو مایوس ہوئے بغیر سمجھاتے رہنا چاہیے۔

سرکشی کرنے والے نافرمانوں کو ذلیل بندر بنا دیا گیا۔

بعد کے لوگوں نے رشوت لے کر جھوٹی بخشش چاہی۔

عقلمند انسان نفس پر قابو رکھ کر آخرت سنوارتا ہے۔

اللہ نے پہاڑ اٹھا کر کتاب تھامنے کا حکم دیا۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَسْـَٔلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ ۚ كَذٰلِكَ ۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (163) وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمًا ۙ اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ (164) فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَىٕیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ (165) فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِىٕیْنَ (166) وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (167)

ترجمہ: اور ان سے اُس بستی کے بارے میں پوچھو جو سمندر کے کنارے آباد تھی، جب وہ سبت (سنیچر) کے معاملے میں زیادتیاں کرتے تھے،

حاشیہ: یہ واقعہ بھی اختصار کے ساتھ سورۂ بقرہ (2:65-66) میں گزرا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ سنیچر کو عربی اور عبرانی زبان میں ”سبت“ کہتے ہیں۔ یہودیوں کے لئے اسے ایک مقدس دن قرار دیا گیا تھا جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں۔ جن یہودیوں کا یہاں ذکر ہے وہ (غالباً حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں) کسی سمندر کے کنارے رہتے تھے، اور مچھلیاں پکڑا کرتے تھے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنا ان کے لئے ناجائز تھا، مگر شروع میں انہوں نے کچھ حیلے کرکے اس حکم کی خلاف ورزی کرنی چاہی، اور پھر کھلم کھلا مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں۔ کچھ نیک لوگوں نے انہیں سمجھایا، مگر وہ باز نہ آئے۔ بالآخر ان پر عذاب آیا اور ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں بندر بنادیا گیا۔ سورۂ بقرہ میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اگرچہ موجودہ بائبل میں موجود نہیں ہے، لیکن عرب کے یہودی اس سے خوب اچھی طرح واقف تھے۔

اصل میں یہ لوگ اپنی باتوں کو چھپاتے ہیں۔ تو یہ تو ایسی بات تھی جو کہ ان کے لیے بہت بدنامی کے باعث تھی۔ تو ان لوگوں نے اس کو آگے نہیں چلنے دیا۔ اس وقت یہ بات معلوم تھی سب لوگوں کو۔

ترجمہ: جب اُن (کے سمندر) کی مچھلیاں سنیچر کے دن تو اُچھل اُچھل کر سامنے آتی تھیں، اور جب وہ سنیچر کا دن نہ منارہے ہوتے، تو وہ نہیں آتی تھیں۔ اس طرح اُن کی مسلسل نافرمانیوں کی وجہ سے ہم انہیں آزماتے تھے۔ ﴿163﴾

حاشیہ: جب کوئی قوم نافرمانی پر کمر باندھ لیتی ہے تو بعض اوقات اللہ تعالیٰ اُسے ڈھیل دیتے ہیں، جیسا کہ آگے آیت نمبر 182 میں خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ سنیچر کے دن معاشی سرگرمیوں سے باز رہنا اپنی ذات میں کچھ اتنا ناقابلِ برداشت نہیں تھا، لیکن جس قوم کی سرشت ہی میں نافرمانی تھی، اُس نے جب کسی معقول وجہ کے بغیر احکام کی خلاف ورزی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ ڈھیل دی کہ سنیچر کے دن مچھلیاں اتنے افراط کے ساتھ نظر آنے لگیں کہ دوسرے دنوں میں اتنے افراط کے ساتھ نظر نہیں آتی تھیں۔ اس سے ان کو نافرمانی کا اور حوصلہ ہوا، اور وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل اور آزمائش ہے۔ اور انہوں نے پہلے ایسے حیلے کئے کہ سنیچر کے دن مچھلی کی دُم میں رسّی اٹکا کر اسے زمین کی کسی چیز سے باندھ دیا، اور اتوار کے دن اُسے پکا کھایا۔ جب ان حیلوں سے نافرمانی کا حوصلہ بڑھا تو کھلم کھلا شکار شروع کردیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کسی شخص کو گناہ کے وافر مواقع میسر آرہے ہوں تو اُسے ڈرنا چاہئے کہ یہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل نہ ہو جس کے بعد وہ ایک دم پکڑلیا جائے۔

ایسا ہی ہوتا ہے اللہ بچائے بس۔

ترجمہ:اور (وہ وقت انہیں یاد دلاؤ) جب انہی کے ایک گروہ نے (دوسرے گروہ سے) کہا تھا کہ: ”تم اُن لوگوں کو کیوں نصیحت کررہے ہو جنہیں اللہ یا تو ہلاک کرنے والا ہے، یا کوئی سخت قسم کا عذاب دینے والا ہے؟“

حاشیہ: دراصل ان لوگوں کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک گروہ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے تھا۔ دوسرا گروہ شروع میں انہیں سمجھاتا رہا، اور جب وہ نہ مانے تو مایوس ہوکر بیٹھ گیا۔ تیسرا گروہ مایوس ہونے کے بجائے بدستور انہیں نصیحت کرتا رہا۔ اب دوسرے گروہ نے تیسرے گروہ سے کہا کہ جب یہ لوگ مسلسل نافرمانی پر کمر باندھے ہوئے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آنے والا ہے، اس لئے ان کو سمجھانا وقت ضائع کرنا ہے۔

ترجمہ: دوسرے گروہ کے لوگوں نے کہا کہ: ”یہ ہم اس لئے کرتے ہیں تاکہ تمہارے ربّ کے حضور بری الذمہ ہوسکیں، اور شاید (اس نصیحت سے) یہ لوگ پرہیزگاری اختیار کرلیں۔“﴿164﴾

مطلب یہ ہے کہ جو گروہ بچانے والا تھا تو انہوں نے جو جواب دیا

حاشیہ: بڑا عارفانہ جواب ہے۔ انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھنے کی دو وجہیں بیان کیں۔ ایک یہ کہ ہمارے نصیحت کرتے رہنے کا پہلا مقصد تو یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری پیشی ہو تو ہم یہ کہہ سکیں کہ یا اللہ! ہم اپنا فریضہ ادا کرتے رہے تھے، اس لئے ہم ان کے جرائم سے بری الذمہ ہیں۔ اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ ہم اب بھی یہ اُمید رکھتے ہیں کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ ہماری بات سن لے، اور گناہ سے باز آجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کا یہ جواب خاص طور پر نقل فرماکر ہر مسلمان کو متنبہ فرمایا ہے کہ جب معاشرے میں نافرمانی کا دور دورہ ہو جائے تو ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچالے، بلکہ دوسروں کو راہِ راست کی دعوت دینا بھی اُس کی ذمہ داری ہے۔ جس کے بغیر وہ مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ اور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حق کے ایک داعی کو کبھی مایوس ہوکر نہیں بیٹھنا چاہئے، بلکہ اس اُمید کے ساتھ اپنا پیغام پہنچاتے رہنا چاہئے کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ بات سمجھ جائے۔

ترجمہ: پھر جب یہ لوگ وہ بات بھلا بیٹھے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی تو بُرائی سے روکنے والوں کو تو ہم نے بچالیا، اور جنہوں نے زیادتیاں کی تھیں، اُن کی مسلسل نافرمانی کی بنا پر ہم نے انہیں ایک سخت عذاب میں پکڑلیا ﴿165﴾ چنانچہ ہوا یہ کہ جس کام سے انہیں روکا گیا تھا، جب انہوں نے اس کے خلاف سرکشی کی تو ہم نے اُن سے کہا: ”جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ۔“ ﴿166﴾

حاشیہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں واقعی بندر بنادیا گیا۔ ہمارے دور کے بعض لوگ اس قسم کی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے قرآن کریم میں تاویلات بلکہ تحریفات کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جب ڈارون کی قطعی دلیل کے بغیر یہ کہے کہ بندر ترقی کرکے انسان بن گیا تھا تو اُسے ماننے میں انہیں تامل نہیں ہوتا، لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے قطعی کلام میں یہ فرمائیں کہ انسان تنزل کرکے بندر بن گیا تو یہ حضرات شرما کر اُس میں تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اصل میں واقعی یہ apologizing Islam والے جو لوگ ہوتے ہیں نا یہ اس طرح ہی کرتے ہیں کہ یہ شرماتے ہیں کہ او ہو پتہ نہیں ہم اس کا کیا جواب دیں۔

ترجمہ: اور (یاد کرو وہ وقت) جب تمہارے ربّ نے اعلان کیا کہ وہ ان پر قیامت کے دن تک کوئی نہ کوئی ایسا شخص مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بری بری تکلیفیں پہنچائے گا۔

حاشیہ: یہود کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ واقعی ہر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان پر کوئی نہ کوئی جابر مسلط ہوتا رہا ہے جس نے ان کو اپنا محکوم بناکر طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ البتہ ظاہر ہے کہ ہزاروں سال کی تاریخ میں ایسے وقفے بھی آتے رہے ہیں جن میں وہ خوش حال رہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آگے خود یہ فرمایا ہے کہ: ”ہم نے ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمایا“ جس سے واضح ہے کہ ان پر خوش حالی کے دور بھی آتے رہے ہیں، مگر مجموعی تاریخ کے مقابلے میں وہ کم ہیں۔

ترجمہ: بیشک تمہارا ربّ جلد ہی سزا دینے والا بھی ہے، اور یقیناً وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان بھی ہے ﴿167﴾

اللہ جل شانہ ہم سب پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنے فرمانبردار بندے بنائے اور کسی قسم کی یعنی اس قسم کی گمراہی کے لیے ہمیں وہ آزاد نہ ہونے دے بلکہ ہمیں اپنے فضل و کرم سے عافیت کے ساتھ حق کے ساتھ چمٹائے رکھے۔

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ (168) فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (169) وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ (170) وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (171)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

ترجمہ: اور ہم نے دُنیا میں اُن کو مختلف جماعتوں میں بانٹ دیا۔ چنانچہ ان میں نیک لوگ بھی تھے، اور کچھ دوسری طرح کے لوگ بھی۔ اور ہم نے انہیں اچھے اور بُرے حالات سے آزمایا، تاکہ وہ (راہِ راست کی طرف) لوٹ آئیں ﴿168﴾ پھر ان کے بعد اُن کی جگہ ایسے جانشین آئے جو کتاب (یعنی تورات) کے وارث بنے، مگر ان کا حال یہ تھا کہ اس ذلیل دُنیا کا ساز و سامان (رشوت میں) لیتے، اور یہ کہتے کہ: ”ہماری بخشش ہوجائے گی“ حالانکہ اگر اُسی جیسا ساز و سامان دوبارہ اُن کے پاس آتا تو وہ اُسے بھی (رشوت میں) لے لیتے۔ اور یہ کہتے کہ ہماری بخشش ہو جائے گی۔ حالانکہ اگر اسی جیسا ساز و سامان دوبارہ ان کے پاس آتا تو وہ اسے بھی رشوت میں لے لیتے۔

یہ اصل میں ان لوگوں کی جو بعد میں آئے تھے بنی اسرائیل میں تو ان کے حالات کچھ ایسے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اس کی باتوں کو تبدیل کر کے، غلط تفسیر کر کے اس پہ پیسے لیتے تھے۔

حاشیہ: یہ ان کی اس بدعنوانی کا ذکر ہے کہ وہ رشوت لے کر اللہ کی کتاب کی غلط تفسیر کر دیتے تھے، اور ساتھ ہی بڑے یقین کے ساتھ یہ بھی کہتے کہ ہمارے اس گناہ کی بخشش ہو جائے گی۔ حالانکہ بخشش تو توبہ سے ہوتی ہے، جس کا لازمی حصہ یہ ہے کہ آئندہ اس گناہ سے پرہیز کیا جائے، لیکن ان کا حال یہ تھا کہ اگر انہیں دوبارہ رشوت کی پیشکش کی جاتی تو وہ دوبارہ لینے کو بے تکلف تیار رہتے تھے۔ اور یہ سب کچھ وہ دُنیا کی خاطر کرتے تھے، حالانکہ اگر عقل ہوتی تو یہ دیکھتے کہ آخرت کی زندگی کہیں بہتر ہے۔

اصل میں یہ اگرچہ بنی اسرائیل کا واقعہ ہے لیکن ہمارے لیے اس میں بڑا سبق ہے کہ ہم لوگ دنیا کے پیچھے اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔ عموماً یہی ہوتا ہے کہ انسان کے سامنے جو چیز ہوتی ہے وہ بہت زیادہ attract کرتی ہے۔ اس وقت وہ اس کو نہیں دیکھتا کہ اس کا بعد میں مجھے کیا نقصان ہوگا۔ مثلاً کوئی آدمی بیمار ہے تو اس کو پرہیز کا کہا جاتا ہے، تو وہ پرہیز جو چیز ہوتی ہے وہ اس کا جو فائدہ ہوتا ہے وہ بعد میں ہوتا ہے۔ اور جو مثلاً ایسی چیز ہے جو کہ اس کو پسند ہے لیکن اس کو منع کیا گیا ہے تو اس کی طلب وہ فوری ہوتی ہے۔ تو اس فوری چیز کے لیے وہ وہ بعد والی چیز کو قربان کر لیتے ہیں۔ یہ طریقہ کار چلا رہا ہے۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے نقصان تو ہوگا پھر۔ تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ دنیا کے شائقین لوگ جو ہوتے ہیں وہ دنیا کی خاطر سود بھی کھا لیتے ہیں، رشوت بھی لیتے ہیں، دھوکہ بھی کر لیتے ہیں، اور پھر طفل تسلیاں بھی۔۔ ہاں کہ ہماری بخشش ہو جائے گی۔ اور یہ جو حدیث شریف ہے جس میں آپ فرماتے ہیں کہ عقلمند ہے وہ شخص جس نے اپنے نفس پہ قابو کر لیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بے وقوف ہے وہ شخص جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا، جو کرنا چاہتا تھا کرنے دیا، پھر بعد میں بس جھوٹی امیدیں باندھے رہے تمنائیں کر رہے تھے۔ تو اصل میں وہ یہی والی بات ہوتی ہے کہ انسان اپنے نفس کے وار کو سہہ نہیں سکتا وہ بس کرتا جاتا ہے جو کہ نفس چاہتا ہے، تو ایسی صورت میں نقصان پہ نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔ اور اس کو طفل تسلیاں وہ اپنے آپ کو دینی پڑتی ہیں کہ کوئی بات نہیں یہ ٹھیک ہے، یہ بھی مسئلہ ہے، وہ کوئی پرابلم نہیں ہے، مطلب یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا، اس طریقے سے وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتا رہتا ہے۔ تو یہ مطلب یہاں پر ہم لوگوں کے لیے اس بات میں عبرت ہے۔

ترجمہ: کیا ان سے کتاب میں مذکور یہ عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کریں؟ اور اُس (کتاب) میں جو کچھ لکھا تھا، وہ انہوں نے باقاعدہ پڑھا بھی تھا۔ اور آخرت والا گھر اُن لوگوں کے لئے کہیں بہتر ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ (اے یہود!) کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ ﴿169﴾ اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں، تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے ﴿170﴾ اور (یاد کرو) جب ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر اس طرح اٹھا دیا تھا جیسے وہ کوئی سائبان ہو،

حاشیہ: یہ واقعہ سورۂ بقرہ (2: 63) اور سورۂ نساء (4: 154) میں بھی گزرا ہے، اور سورۂ بقرہ کی متعلقہ آیت کے تحت ہم نے اس کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ وہاں ہم نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ عربی زبان کے لحاظ سے اس آیت کا یہ ترجمہ بھی ممکن ہے کہ: ”ہم نے پہاڑ کو اُن کے اوپر اس طرح زور زور سے ہلایا کہ انہیں یہ گمان ہو گیا کہ وہ ان کے اوپر گرنے والا ہے۔“ مطلب یہ بات بھی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ اب جیسے زلزلہ آ جائے تو وہ وہ مکان ہلنے لگتا ہے۔ تو آدمی محسوس کرتا ہے یہ مکان تو ابھی گر جائے گا۔ تو اس طرح یہ بات ہے کہ اگر کوئی پہاڑی علاقے میں ہو اور پہاڑ پر کھڑا ہو یا وہ تو وہ پہاڑ وہ ظاہر ہے زلزلے میں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو گرنے کو ہوتا ہے۔ تو ایسی بات مطلب یہ ہے کہ ان کے لیے کوئی اس مطلب وہ ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں کہ اس کا کیا ہے، اللہ تعالیٰ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ پہاڑ کو ان کے اوپر ہی اس طرح سائبان بنا دیں اور اس طرح وہ، لیکن بہرحال جو بھی صورتحال تھی، ڈراؤنی صورتحال تھی۔

ترجمہ: اور انہیں یہ گمان ہو گیا تھا کہ وہ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے، (اُس وقت ہم نے حکم دیا تھا کہ:) ”ہم نے تمہیں جو کتاب دی ہے، اُسے مضبوطی سے تھامو، اور اُس کی باتوں کو یاد کرو، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرسکو“

تو یہ جو اس آیت کریمہ میں جو مطلب یعنی بتایا گیا ہے تو اس کو یہ ہے کہ گویا کہ اللہ پاک چونکہ ان لوگوں نے مطلب مختلف طریقے سے اس قسم کے کام کیے تھے جس کی وجہ سے ان کو یعنی اس طرح بتایا گیا، ورنہ اللہ پاک زبردستی تو کسی کو وہ نہیں وہ اس طرف لاتے، لیکن یہ لوگ چونکہ ایسے ہو گئے تھے کہ ان کے لیے بس وہ حجت تمام کرنے کے لیے ایسا کر لیا گیا۔ بہرحال یہ ہے کہ جتنے بھی مطلب یہود کے جو کام تھے اس میں یہ پتہ چلتا ہے کہ بہت ہی زیادہ بہت ہی زیادہ ٹیڑھے خیالات تھے ان کے اور بہت جلدی یعنی سب چیزوں کو بھول جاتے تھے اور جو جس کو كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْآخِرَةَ والی بات ہے۔ یعنی جو فوری چیز ہے اس کا اثر لیتے ہو اور جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کا اثر چھوڑتے ہو۔ تو یہ بات ان میں بہت زیادہ تھی۔ بہت جلدی یعنی گمراہی کا ان میں ہوتا تھا۔ ہاں اچھے لوگ بھی ان میں تھے جیسے کہ بتایا گیا ہے لیکن بہرحال جو لوگ اس طرح پھسل جاتے تھے تو ان کے لیے کبھی تو عذاب آ جاتا تھا، کبھی وہ اگر مطلب سمجھ لیتے تو پھر ان کو اللہ تعالیٰ معاف کر لیتے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی بیوقوفیوں سے محفوظ فرما دے۔ یہ جو عبرت کے واقعات ہوتے ہیں ان عبرت کے واقعات کو اس لیے بیان کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس سے عقل سیکھیں اور اس قسم کی باتیں نہ کریں۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

واقعہ اصحابِ سبت: حیلہ سازی، جھوٹی اُمیدیں اور عبرت ناک انجام - درسِ قرآن - دوسرا دور