حقیقتِ جذب و سلوک اور اقسامِ مجذوب (حصہ دوم)
مکتوبات: 287، اشاعت اول: 28 مارچ، 2018 بمطابق: 11 رجب المرجب 1439 ھ
منتہی مرجوع الی الخلق کی شان اور اس کی جامعیت
اصلاحِ نفس اور رذائل کے خاتمے کے لیے "سلوک" کی اہمیت و ضرورت
جذب اور سلوک کے درمیان فرق اور ان کا باہمی تعلق (محاکمہ)
مجذوب کی تین اقسام: مجذوبِ مجنوں، مجذوبِ سالک (کامل)، اور مجذوبِ متمکن
مختلف سلاسلِ تصوف (نقشبندی، چشتی وغیرہ) کے طریقِ تربیت کا تقابلی جائزہ
جذبِ کسبی اور جذبِ وہبی کے درمیان فرق اور ان کا مقام
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
آج بدھ کا دن ہے، اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔
منتہی مرجوع (الی الخلق) فائدہ اور تکمیل میں ان قیود و شرائط کا محتاج نہیں ہے،
یہ فرمایا کہ یہ تو ان لوگوں کو بتایا گیا جو مجذوب متمکن ہیں، اگر وہ دین کا کام کرنا چاہتے ہیں تو یہ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کرنا چاہتے ہیں تو۔ وہ یہ کر سکتے ہیں۔ لیکن فرمایا کہ جو اصل جن کو اللہ جل شانہٗ نے واقعی مرجوع الی الخلق وہ بنا دیا ہو، یعنی ان کو اللہ تعالیٰ نے کمال نصیب فرما دیا ہو، تو ان کے اوپر یہ پابندی نہیں۔
لیکن منتہی مرجوع (الی الخلق) فائدہ اور تکمیل میں ان قیود و شرائط کا محتاج نہیں ہے، کیونکہ اس کو جامعیت کی وجہ سے تمام طریقوں کی استعداد اور مناسبت حاصل ہے لہٰذا ہر شخص اس سے اپنی استعداد اور مناسبت کے لحاظ سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگرچہ شیوخ اور مقتداؤں کی صحبت میں مناسبت کے قوی یا ضعیف ہونے کے اعتبار سے جلدی یا دیر میں (فیض یاب ہونے میں) فرق ہے، لیکن اصل فائدہ پہنچانے میں جملہ مشائخ مساوی الاقدام (برابر) ہیں۔
یہ اصل میں یہ بات ہے تو اصل بات یہ ہے کہ، اس وقت میں ذرا بات کو اخیر میں وہ جس کو کہتے ہیں لب لباب عرض کرتا ہوں۔ کیونکہ اہم بات ہے۔ جذب سے کوئی منکر نہیں ہے۔ جذب کی سپیڈ سے کوئی منکر نہیں ہے۔ لیکن جذب سے یہ ساری چیزیں ٹھیک نہیں ہوتیں۔ کیونکہ چیزیں ٹھیک ہونے کے لیے باقاعدگی چاہیے اور جذب میں باقاعدگی نہیں ہوتی۔ وہ تو ایک طاقت ہے۔ اب مثال کے طور پر میں طاقت کا ساری چیزوں کے اوپر اکٹھا استعمال کر لوں تو وہ چیزیں کیا بن جائیں گی؟ وہ تو آپس میں گڈمڈ ہو جائیں گی۔ تو اس طاقت کو صحیح جگہ پہ استعمال کرنے کے لیے پہلے سے ان چیزوں کو ارینج کرنا ہوتا ہے۔ تو یہ جو پہلا والا جذب ہے، جذبِ کسبی، یہ صرف اور صرف تیاری کے لیے ہے کہ انسان سلوک کے لیے تیار ہو جائے۔ مطلب وہ سلوک کی جگہ نہیں لے سکتا۔ کیونکہ چیزیں ترتیب سے ہیں نہیں۔
مثلاً دیکھو، تکبر کو کیسے نکالنا ہے؟ ریا کو کیسے نکالنا ہے؟ یا حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ارشاد فرمایا ہے آخر کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ کوئی نماز نہیں پڑھتا تو مجھے اتنا زیادہ ڈر نہیں ہوتا کیونکہ ابھی اگر یہ نماز پڑھنا شروع کر لے تو پانچ منٹ میں نمازی ہو سکتا ہے۔ لیکن جب کسی میں دیکھتا ہوں کہ اس میں تکبر ہے تو فرمایا کہ میرے پیروں سے جان نکل جاتی ہے اور سوچتا ہوں کہ اگر یہ ابھی ارادہ کر بھی لے اور شروع بھی کر لے تو اس کو مدتیں لگیں گی تکبر کو نکالنے میں، مدتیں لگیں گی۔ تو اب یہ جو چیزیں ہیں، یہ تو نکالنے کے لیے باقاعدہ پوری ترتیب، کیونکہ جڑیں گھسی ہوتی ہیں۔ ان جڑوں کو نکالنا ہوتا ہے۔ اب ان جڑوں کو نکالنے کے لیے سلوک طے کرنا ہے۔ ان تمام چیزوں کو، مطلب اس کے لیے وہ مقاماتِ سلوک جیسے حضرت نے فرمایا، دس مقامات لازمی طے کرنے ہیں۔ تو یہ ان کو طے کرنے ہوں گے۔
اب یہ اگر کوئی طے نہ کر لے، اور صرف جذب کی طاقت سے کام لے، تو جذب کی طاقت نے اس تک پہنچا دیا نا۔ اب اس سے کام لو۔ بعد میں جو دوسرا جذب آتا ہے، وہ پہلے سے چیزیں ارینج ہونے کے بعد آتا ہے۔ تو ہر ہر چیز میں اپنی اپنی طاقت آ جاتی ہے۔ کیونکہ پہلے سے اپنی اپنی جگہ پہ پہنچ چکی ہیں۔ تو ہر ایک چیز میں اپنے اپنے حصے کی طاقت آ جاتی ہے، اور وہ بہت طریقے سے ما شاء اللہ، یعنی قوی ہوتی ہے۔ لیکن پہلے سے جو چیزیں ترتیب میں نہیں ہیں، ان کو جذب کے ذریعے سے ترتیب میں نہیں لایا جا سکتا، اس کے لیے سلوک ہے۔
یہ اصل میں بنیادی بات ہے جس کو مطلب میرے خیال میں شاید میں نہیں سمجھ پایا ہے۔ سلوک اس لیے ضروری ہے کہ بغیر سلوک کے چیزوں کی ترتیب ہو نہیں سکتی۔
سائل: حضرت اس میں ایک بات ہے۔ یہ جو جگر مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی وجہ سے ان کو یہ شبہ ہو رہا ہے۔ کہ انہوں نے سلوک طے نہیں کیا۔ ہمارے پاس ایک قانون کلی ہے۔ کہ سب لوگوں نے کہا ہے کہ سلوک طے کرنا چاہیے۔ اب ایک آدمی کی وجہ سے وہ قانون تو نہیں ٹوٹ سکتا نا۔
نہیں نہیں ایسی بات ہے ہی نہیں اصل میں تو صحابہ کرام کی مثال موجود ہے۔ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وہ مسلمان ہوئے اور اس کو ابھی ایک نماز پڑھنے کے لیے بھی وقت نہیں ملا، اور شہید ہو گئے۔ تو اس پر صحابہ رشک کرتے تھے کہ دیکھیں وہ کچھ بھی نہیں کیا اور جنت میں پہنچ گئے۔ تو یہ تو تیار تو ہو گئے نا اس کے لیے، تیار تو ہو گئے لیکن موقع نہیں ملا، لہٰذا اللہ پاک نے اس کو وہ اسی میں شامل کر دیا۔ آخر جو حافظ ہے حافظ قرآن ہے، وہ مشہور روایت ہے کہ جو حافظ قرآن حفظ شروع کر لیتا ہے تو اگر درمیان میں فوت ہو جائے اور پورا نہ ہو سکے تو ان کو حافظوں میں اٹھایا جاتا ہے، حافظوں میں اٹھایا جاتا ہے۔ تو حافظوں میں ان کو اٹھایا جا سکتا ہے اس طریقے سے کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طریقے سے اگر کوئی محنت کرتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا میں آ گیا، تو لنھدینھم سبلنا ایک راستہ تو نہیں ہے نا۔ اللہ تعالی کے پاس بے شمار راستے ہیں، اس کو کامیاب کرنے کے لیے۔ باقی یہ والی بات ہے کہ سب سے پہلے میں یہ بات عرض کروں کہ حضرت جگر مراد آبادی نے کیا کیا تھا؟ تھوڑا سا غور تو فرمائیں نا انہوں نے شراب سے توبہ کی تھی اور ایسی توبہ کی تھی کہ حکیموں ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ کے لیے گنجائش ہے، فرمایا اب میں نے چھوڑ دیا اب میں مر سکتا ہوں اس کو اس چیز کو نہیں پی سکتا ہوں۔ ایسی توبہ کی تھی۔ یہ کیا چیز ہے؟ مقام توبہ میں چل رہے تھے نا؟ پورا نہیں ہو سکا۔ ظاہر ہے مقام توبہ ہی میں فوت ہو گئے۔ تو بہرحال یہ کیسی عجیب باتیں بھلے کرتے ہیں۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اگر یہ والی چیز ہے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے ہم لوگ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جذب تیز ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن تیز ہونے کا مطلب یہ تو نہیں ہے نا کہ یہ مطلب یہ کافی ہے۔ اصل بھی وہی ہے۔ اصل بھی وہی ہے یہ تو نہیں ہے۔ اب دیکھیں سلوک اور جذب کے درمیان مکالمہ ہے۔ یہ بہت پہلے میں نے لکھی ہے۔ یہ آج میں نے نہیں لکھی ہے۔ یہ کافی عرصہ ہوا میں نے بلکہ حضرت کی کتابیں پڑھنے سے پہلے میں نے لکھی ہے۔
سلوک کہتا ہے:
میں ہوں سلوک، رذائل کو جو دبائے خوب
اور جو دل کے فضائل ہیں سامنے لائے خوب
میں رذائل کو تو قابو مجاہدات سے کروں
دل کی تنویر کے لئے ذکر اس میں خوب بھروں
ہر رذیلے کو ختم کرنے تک میں ساتھ چلوں
جب تلک دل کی صفائی نہ ہو چپ کیسے رہوں
پھر تو قرآن کا زکھّٰا سمجھ میں آئے
اس کے دسّٰھا سے نجات بھی نفس خوب پائے
ایک مشکل مجھے آج کل یہ نظر آتی ہے
کہ رذائل سے خلاصی نہیں ہو پاتی ہے
ایک برائی ختم ہو دوسری دل کو بھاتی ہے
دوسری شروع ہو، جب یہ ایک ختم ہو جاتی ہے
اب میں چاہتا ہوں کہ اس کی کوئی تدبیر کروں
خوابِ اصلاح کی مناسب کوئی تعبیر کروں
ٹھیک ہے مطلب ظاہر ہے سلوک کے اندر یہ مسئلہ تو ہے۔
جذب کہتا ہے۔
جذب ہوں، جذب سے اصلاح بہت آسان ہے نا
یہ جذب کہتا ہے۔
دیکھ لیا آپ نے، سلوک پریشان ہے نا
دل سے دنیا کی محبت کو جب نکالوں گا
دل میں اللہ کی محبت کو جیسے لاؤں گا
جو رذائل ہوں پھر دنیا کے وہ دبالوں گا
جو فضائل ہیں ان کو راستے میں جالوں گا
سامنے میرے دنیا کی محبت کچھ بھی نہیں
ہے جو دنیا کی عزت اور ذلت کچھ بھی نہیں
میں دل کو حبِ الہٰی سے جب سرشار کروں
اس سے حاصل میں جواباً، خدا سے پیار کروں
کیسے ایک ایک رذیلے کا انتظار کروں؟
آؤں جس دل میں اس کو روشن اور بہار کروں
طریقِ جذب بتا کیسے نظر آتا ہے؟
جو کہ خالق سے ایک جست میں ملاتا ہے
ٹھیک ہے جی مطلب لفٹ سے بھی آگے لفٹ چلا گیا۔ لفٹ کی بات بھی نہیں ہے۔ وہ تو ایک جست میں پہنچ گیا۔
ایک مشکل ہے کہ اس میں کچھ انتظام نہیں
طریقِ خاص ہے ہر ایک کے لئے عام نہیں
جو ملائے خدا سے وہ بھی ہر اک جام نہیں
جست تو ہو مگر ہو رو بہ انہدام نہیں
کہیں یہ جست کسی پتھر سے سر کو پھاڑ نہ دے
صرف رذائل کو نہیں سب کو کہیں جھاڑ نہ دے
محاکمہ بین السلوک و الجذب
سلوک خوب ہے آج کل یہ کفایت نہ کرے
جذب ہے خوب، پر خطر ہے، حفاظت نہ کرے
سلوک طویل ہے یہ تو ختم نہ ہوپائے
جذب مختصر ہے، پرُخطر کہیں نہ ہوجائے
دیر ہونے سے کہیں بخت اپنا نہ سو جائے
زیادہ تیزی سے کہیں سب کچھ ہی نہ کھو جائے
طریق مختصر تو ہو پر انتظام بھی ہو
فہم ہو اپنی جگہ پر ہاتھ میں جام بھی ہو
دونوں چیزیں اپنی ہونی چاہئیں۔
اس لئے ابتداء ہوگی سلوک سے بہتر
اور پھر جذب ہو کہ ہے یہ اک طریق مختصر
ہوش میں رہنے سے بچ جائیں گے اپنے بال و پر
اور تکمیل کے لئے ہے مفید جذب مگر
دیکھو پرانا طریقہ جو تھا وہ اس میں سامنے آ گیا نا کہ وہ کیسے ہے۔ کہ جس میں سلوک سے ابتدا ہوتی اور جذب پہ ختم ہوتا۔ وہ اب بھی ہے۔ نقشبندی سلسلے نے صرف اس میں اتنا انتظام کر دیا ہے بضرورت کہ اس میں جذبِ کسبی کی ایک اور صورت شامل کر دی کہ سلوک کے لیے تیار ہو جائے کیونکہ سلوک کے لیے تیار نہیں ہو رہی تھی باقی تو یہی چیز ہے نا۔
اس لئے ابتداء ہوگی سلوک سے بہتر
اور پھر جذب ہو کہ ہے یہ اک طریق مختصر
ہوش میں رہنے سے بچ جائیں گے اپنے بال و پر
یعنی ہوش مطلب چونکہ سلوک میں ہوش ہے نا۔
ہوش میں رہنے سے بچ جائیں گے اپنے بال و پر
اور تکمیل کے لئے ہے مفید جذب مگر
ایک ہاتھ جام شریعت، دوسرے عشق کی سنداں
ان شاء اللہ شبیرؔ پھر سامنے ہو جانِ جاناں
مطلب یہ ہے کہ یہ والی بات ضروری ہے۔ کہ کم از کم شریعت پر عمل نصیب ہو جائے۔ اس وجہ سے سیر الی اللہ یہ طریقِ تربیت ہے۔ اور طریق صحابہ یہ سیر فی اللہ ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ وہ تربیت جو حاصل کی ہے اس کو اب استعمال کرنا ہے اعمال کے اندر۔ تو اعمال کے اندر اگر آپ جذب کے ذریعے سے آئے اور آپ کو پتہ نہ چلے کہ کس وقت میں کیا کروں۔ تو پھر آپ کیا کریں گے؟
تو جذب صرف کافی نہیں ہے۔ سلوک کسی حد تک کافی ہے۔ لیکن مشکل ہے۔ کیونکہ سلوک میں راستہ تو مل گیا نا راستے پہ تو چل سکتے ہیں۔ ہاں البتہ تکمیل اللہ پاک کروا دیتے ہیں جذب کے ذریعے سے راستہ کو کم کرنے کے لیے شارٹ کرنے کے لیے درمیان میں سے اٹھا لیتے ہیں اور پہنچا دیتے ہیں۔ لیکن یہ والی بات ہے کہ آپ اپنی طرف سے تو نہیں لگا سکتے بس مجھے پہنچا دو اسی طریقے سے۔ اپنی طرف سے تو ہم نہیں کر سکتے اپنی طرف سے تو آپ نے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ کہ یا اللہ میں تیری طرف آنے کے لیے تیار ہوں۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا، میں اس میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ اور آپ نے شامل ہونے کی سعی بھی کر لی اس کے لیے کوشش بھی شروع کر لی وہ سارا کچھ ہونے لگا۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ آپ کے لیے جلدی کروا دے، تو یہ ہے۔
جذب تو ہو پر شریعت کا وہ قابو میں رہے
اصل مجذوب وہی ہے جو شریعت پہ چلے
عقل بھی کام کرے اور دل ہو اس کے ساتھ
پھر کچھ ہی دیر میں مجذوب کہاں تک پہنچے
مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔ تو اب یہ ہے کہ میں آپ کو ایک اور چیز ان شاء اللہ سنانا چاہتا ہوں تاکہ یہ چیز پوری ہو جائے۔ میرا تو خیال تھا کہ شاید آج یہی ہو جائے گا۔ آپ دیکھیں حضرت نے مزید ایک بات فرمائی ہے۔
بعض مشائخ نے فرمایا ہے کہ جب طالب کا کام جذبے تک پہنچ جاتا ہے تو پھر جذبہ ہی اس کا رہبر بن جاتا ہے اور بس۔ یعنی اس کو کسی دوسرے رہبر کے توسط کی ضرورت نہیں بلکہ وہی جذبہ اس کے لیے کافی ہے۔ اگر اس جذبے سے سیر فی اللہ کا جذبہ مراد ہے تو بس یہ کافی ہے لیکن لفظِ ”رہبر“ اس ارادہ کے منافی ہے۔ کیونکہ سیر فی اللہ کے بعد کوئی مسافت (سیر) نہیں ہے کہ جس کو طے کرنے کے لیے وہ رہبر کا محتاج ہو۔ اسی طرح جذبۂ متقدم بھی مراد نہیں ہے
یعنی جذبِ کسبی
جیسا کہ عبارت سے متبادر (بظاہر) مفہوم ہوتا ہے (یعنی جذبۂ متقدم مطلقًا انجامِ کار سلوک کی طرف لے جائے یا نہ لے جائے، وہ جذبہ ہے)۔ لہٰذا ناچار جذبۂ متوسط ہی مراد ہو گا لیکن وہ مطلوب کے وصول کی پوری کفالت کرتا ہوا معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ بہت سے متوسط اس جذبہ کے حصول کے وقت فوق کی طرف عروج کرنے سے رہ جاتے ہیں اور اسی جذبے کو جذبۂ نہایت سمجھ لیتے ہیں۔
یعنی جذبہ وہبی سمجھ لیتے ہیں۔
اگر یہ (جذبہ) کافی ہوتا تو (ان کو) راستے میں نہ چھوڑ دیتا۔
یعنی کافی نہیں ہوا نا کیونکہ سلوک طے نہ ہونے کی وجہ سے نفس نے اس کو پکڑ لیا آگے نہیں جانے دیا۔
ہاں، چونکہ جذبۂ مقدم کا تعلق محبوبوں سے ہے، اگر کافی حاصل ہو جائے تو بھی گنجائش رکھتا ہے۔
لیکن آگے حضرت ایک زبردست بات فرماتے ہیں۔
کیونکہ محبوبوں کو محض عنایتِ قلابہ (حلقہ) سے اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور راستے میں نہیں چھوڑتے، لیکن یہ کفایت تمام متقدم جذبات کے حق میں بھی ممنوع ہے۔ صرف وہ جذبہ جو انجام کار سلوک کی طرف کھینچ لے وہی کافی ہے۔
یعنی جو سلوک تک لے جائے وہ جذبہ ہے صحیح یہ جو متقدم والا۔
اگر وہ سلوک تک نہیں آیا تو یہ مجذوب ابتر (بے نصیب) ہے اور محبوبوں میں سے نہیں ہے۔
حضرت نے بالکل فیصلہ فرمایا۔ تو اب میں عرض کرتا ہوں چشتی حضرات تو پہلے سے اس بات کے قائل، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے مواعظ سے بھی یہی چیز ہمیں ملی ہے۔ اور حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ ان کے تو حضرت نے تو باقاعدہ کہ وہ دل پاک ہو نفس قابو میں ہو اور عقل فہیمِ میں سنت ہو۔ حضرت نے تو اپنے ملفوظات میں یہ بیان فرما دیا۔ اور نقشبندی حضرات میں جو تمام تعلیمات کا نچوڑ ہے حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرما دیا۔ تو لہٰذا بات تو بالکل واضح ہو گئی۔ صورت حال یہی ہے۔
سب سلاسل ان دو پوائنٹس میں ایک ہیں۔ سب سلاسل سارے چاروں کے چاروں ایک ہیں۔ کہ سلوک طے کرنا ہے ابتدا میں اور اس کے بعد اس کو مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جذب عطا ہوتا ہے جذب وہبی عطا ہوتا ہے۔ اس میں سب ایک ہیں۔ ہاں البتہ نقشبندی حضرات اس میں ایک سٹیپ کا اضافہ کر دیتے ہیں بضرورت اور وہ یہ کہ سلوک طے کرنے کے لیے جس قوت اور جس شوق اور جس محبت کی ضرورت ہے وہ جذب کسبی سے اس کو حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کو پہلے سے ہی شوق حاصل ہو تو پھر ان کو ضرورت نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نقشبندی سلسلہ عوام کے لیے مفید ہے اور چشتی سلسلہ خواص کے لیے مفید ہے۔ کیونکہ خواص کو ضرورت ہی نہیں ہے۔ خواص کو اس چیز کی ضرورت ہی نہیں وہ تو پہلے سے تیار ہیں۔ لہٰذا اگر وہ چشتی سلسلے میں آ جائیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لیکن عوام کے لیے بہتر یہی ہے کہ نقشبندی سلسلے کے ذریعے سے آ جائیں۔
الحمد للہ اب یہ بات ہو گئی کہ تمام سلسلے اس لیے ایک ہو رہے ہیں کہ جو چشتی سلسلہ ہے یا قادری سلسلہ ہے سہروردی سلسلہ ہے وہ بھی ابتدا ذکر سے کراتے ہیں۔ تو گویا کہ یوں سمجھیں وہ بھی جذب کسبی حاصل کر لیتے ہیں۔ وہ جذبِ کسبی ذکر جہر سے حاصل کرتے ہیں نقشبندی حضرات مراقبے میں سے حاصل کر لیتے ہیں۔ یا کسی اور طریقے سے حاصل کر لیتے ہیں۔ تو چیز تو ایک ہی ہو گئی نا کیونکہ آج کل عوام زیادہ ہے۔ اور عوام کو ضرورت ہے۔ لہٰذا سارے سلاسل نے یہ کام شروع کر دیا۔ اب کوئی بھی سلسلہ ایسا نہیں جو پہلے سے مجاہدات شروع کرا دے۔ مطلب ایسا وہ کوئی نہیں ہے۔ تو پہلے یہ ذکر اذکار دیتے ہیں۔ تو جو ذکر اذکار دیتے ہیں تو طریقے سب کے ایک ہو گئے۔ چاہے جہری ہے چاہے وہ وہ سری ہے۔ چیزیں تو مختلف ہو سکتی ہیں لیکن نتیجہ تو ایک ہے۔
تو اب وہ جذب جو حاصل ہو جائے چاہے وہ بطریقہ شطاریہ حاصل ہو جائے۔ یعنی شیخ کے ساتھ اتنی محبت ہو کہ اس کو وہ چیز حاصل ہو جائے۔ یا پھر ذکر کے ذریعے سے حاصل ہو جائے۔ یا پھر انسان اتنا عقلمند ہو، اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنی عقل نصیب فرمائی ہو کہ وہ خود اس چیز کو جان لے کہ بغیر اس کے کام نہیں بنے گا۔ اور وہ سلوک پہلے طے کر لے۔ تو وہ بھی ٹھیک ہے۔ تو آپ چاہے دل کو استعمال کر لیں چاہے عقل کو استعمال کر لیں۔ لیکن نفس کو تو کنٹرول کرنا پڑے گا۔ چاہے دل کے ذریعے سے آپ تیار ہو جائیں چاہے عقل کے ذریعے سے تیار ہو جائیں لیکن نفس کو تو کنٹرول کرنا پڑے گا۔ یہ والی بات ہے۔ تو اس وجہ سے اب تو مجھے بالکل درمیان میں فرق ہی نظر نہیں آتا۔ یہ ساری چیزیں جو ہیں نا مطلب ایک ہی نظر آتی ہیں۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو اس میں خواہ مخواہ اپنے آپ کو الجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اب میں ذرا وہ آپ کو جو جدید وہ حالانکہ کلام پہلے پڑھا تھا۔ لیکن چونکہ اس میں ضرورت وہ نہیں تھی تیسرا جو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے اس کی ضرورت پہلے نہیں تھی۔ اب چونکہ اس کی ضرورت پڑ گئی لہٰذا ہم نے تھوڑی سی امینڈمنٹ کی اور اب ما شاء اللہ اب اس کو ہم لوگ اس وجہ سے اس طریقے سے ہم کر سکتے ہیں۔
مجذوب
تین قسم کے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سچ کے محبوب خدا ہیں مجذوب
عقل اور ہوش سے ہے بیگانہ اگر
اقتدا سے رکھو پرے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
بات شریعت کی ہی چلے گی ہمیش
گو خدا کو تو ہیں پیارے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
دین کی بنیاد عقل و ہوش پہ ہے
اور اس پر نہیں چلے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
ہاں جذب ہوش
یہ ابھی تک جس مجذوب کا ذکر ہوا ہے، یہ وہ مجذوب ہے جو مجاہدات کی کثرت سے یا ذکر کی کثرت سے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اگر کوئی کر لے کسی شیخ کامل کی مطلب اس میں نہ ہو۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اس کا جذبہ تو صحیح ہو لیکن شیخ کامل کی رہنمائی حاصل نہ ہو یا شیخ کامل کی مانے نہیں۔ تو ایسی صورت میں وہ مجذوب ہو سکتا ہے، اس کا دماغ اور عقل فیل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس پر شریعت لاگو نہیں ہوتی۔ اور اللہ کو پیارا اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی کم از کم نیت تو صحیح ہوتی ہے وہ اللہ کی محبت کی کی ہوتی ہے، اللہ کی محبت میں وہ پاگل ہو چکے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اللہ پاک کے ہاں تو اس کا مقام ہوتا ہے لیکن اس کی حیثیت لاش کی طرح ہوتی ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اس کا مزید عمل بڑھتا نہیں ہے۔ لیکن زندہ ہوتا ہے، لوگوں کے درمیان میں ہوتا ہے۔ یہ مجذوب کافی مشکل ہوتا ہے لوگوں کے لیے۔ کیونکہ اس کی بے ادبی بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ پاک کا محبوب ہوتا ہے اور اس کی مانی بھی نہیں جا سکتی۔ تو اس وجہ سے بعض لوگ اس کی مان کر اپنی عاقبت خراب کر لیتے ہیں۔ اور بعض لوگ اس کو نقصان پہنچا کر، تکلیف دے کر عاقبت خراب کر لیتے ہیں۔ لہٰذا ایسے مجذوبوں سے تھوڑا دور دور رہیں تو اچھی بات ہے۔ تاکہ ہم قریب نہ ہوں اور اپنے آپ کو بچائیں۔
لیکن یہ جو ابھی مجذوب آ رہا ہے، یہ وہ مجذوب ہے جن کو اللہ جل شانہٗ نے جذب عطا فرمایا لیکن وہ عقل و ہوش میں ہیں اور اس کو کنٹرول کیے ہوئے ہیں۔ اور تکمیل اس کی ہو چکی ہے۔ تو ایسا مجذوب جو ہوتا ہے وہ بڑے کام کا ہوتا ہے یعنی سلوک طے کرنے کے بعد جو اس کو جذب حاصل ہو چکا ہے، وہ والا مجذوب ہے۔
ہاں جذب ہوش کے قابو میں رہے
اور شریعت کی بھی مانے مجذوب
شریعت کے ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ سلوک طے کر چکا ہے یعنی سیر الی اللہ مکمل ہو چکی ہے کیونکہ تبھی تو شریعت پر عمل کر سکتا ہے صحیح معنوں میں۔
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
ایسا جذب فضلِ خداوندی ہے
دل کی باتیں پھر بتائے مجذوب
یہ جذب وہبی کہلاتا ہے اور فضلِ خداوندی ہے، اور دلوں کی باتیں بتانے کا مطلب یہ ہے کہ ملاء اعلیٰ تک ان کی ایکسیس ہوتی ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے ان کی روح ملاء اعلیٰ پہنچ چکی ہوتی ہے۔ لہٰذا وہاں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہ ان کو پتہ چلتا ہے، لہٰذا وہ گہری باتیں جو ان پہ اللہ پاک کھولتے ہیں سِر کے ذریعے سے، وہ لوگوں کو بھی بتا دیتے ہیں اور لوگوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچتا ہے۔
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
دل سے پھر عقل شریعت پہ چلے
دل سے پھر عقل شریعت پہ چلے، یعنی عقل گویا کہ شریعت کو سامنے رکھتی ہے، اس کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ اور یہ سارے دل سے ہوتے ہیں یعنی اللہ کے ساتھ محبت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
دل سے پھر عقل شریعت پہ چلے
نفس پہ خوب پھر چھائے مجذوب
یعنی نفس کی چونکہ تربیت ہو چکی ہے لہٰذا وہ خوب اس پہ چھاتا ہے۔
نفس پہ خوب پھر چھائے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سچ کہ محبوب خدا ہے مجذوب
اور اگر ہوش میں مجذوب تو ہے
یہ تیسری قسم کا مجذوب ہے جس کا ذکر حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے۔
اے، اور اگر ہوش میں مجذوب تو ہے
اور سلوک نہ کرے طے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
پھر یہ مجذوب متمکن ہے بس
اور یہ حق تک نہ پہنچے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
اس کے آثار بزرگوں کے ہیں
یعنی توجہ، باتیں، تمام چال ڈھال، سارا بزرگوں کی طرح ہوتا ہے۔
اس کے آثار بزرگوں کے ہیں
لیکن بزرگ نہیں، یہ ہے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
چاہیے یہ کہ مستعد ہو
کرے دس مقاماتِ سلوک طے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سیر الی اللہ تب اس کا پورا ہو
سیر فی اللہ پہ یہ چلے مجذوب
یعنی سیر الی اللہ اس کا مکمل ہو جائے گا، اس مجذوب کا جس نے سلوک طے کر لیا۔ اور پھر اس کو جو ہے جذب کی حالت میں سیر فی اللہ طے کرے گا تو یہ جذبِ وہبی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس کو قوت عطا فرمائے گا۔
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سچ کہ محبوب خدا ہے مجذوب
عشق کے نور میں ملفوف شبیرؔ
ایسے اشعار سنائے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سچ کہ محبوب خدا ہے مجذوب
بہرحال یہ بات اب میرے خیال میں کھل کے آ گئی ہے کہ یہ جو دو قسم کے مجذوب تھے ان کا ذکر تو پہلے سے تھا۔ یعنی حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا یہ نچوڑ تھا جو میں نے عرض کر لیا ہے۔ ان اشعار میں، پہلے دو قسم کے مجذوب۔ اور حضرت نے اس پر بہت زور دیا ہے۔ یعنی ہمارے بہت سارے لوگ اسی سلسلے میں بہت اپنا وقت ضائع کر لیتے ہیں کہ وہ مجذوبوں کے پیچھے پھرتے ہیں۔ اور مجذوبوں سے فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ مجذوب بس وہ جو وہ معنی مجذوب جو شریعت پہ نہیں چلتے، اور وہ شرعاً مکلف بھی نہیں ہیں کیونکہ وہ پاگل ہو چکے ہوتے ہیں، مجنون ہوتے ہیں۔ تو وہ کسی کو کچھ نہیں دے سکتے۔ کیوں وجہ کیا ہے کہ ان کے پاس وہ چیز ہوتی نہیں ہے، وہ خود جب شریعت پہ نہیں چل رہے تو آپ کو کیسے چلائیں گے؟ تو فیض تو شریعت پہ چلنے کا ہے۔ اچھا ہاں اگر آپ اس کو دیکھتے ہیں کہ وہ دنیا کی کوئی چیز حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو وہاں پر بھی نقصان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی مثال گائیڈڈ میزائل کی طرح ہوتی ہے۔ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ استعمال کرتے ہیں۔ وہ جہاں کے لیے ان کو فائر کرتے ہیں، تو ان پہ فائر کر لیتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے وہ آپ نہیں چینج کر سکتے۔ آپ اگر چینج کریں گے بھی تو اگر آپ کے لیے اللہ پاک نے نہیں لکھا تو وہ نہیں کریں گے۔ تو اس وجہ سے ان کی منتیں کرنا فضول ہیں، ان سے دور ہونے میں ہی فائدہ ہے، حضرت نے فرمایا۔ اس کی وجہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے نظام ہی الگ بنایا ہوا ہے۔ وہ نظام ہمارا نظام نہیں ہے، ہمارا نظام تو شریعت والا نظام ہے، لہٰذا اس میں مرشدین ہی کام آ سکتے ہیں کہ ہم مرشدوں کے پاس جائیں۔ باقی یہ بات ہے کہ دعا بھی، ہر مسلمان کر سکتا ہے۔ مرشد بھی کر سکتے ہیں، سب کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات ہے کہ تہجد کے وقت جو دعا ہے وہ بہت ہی مجرب ہے۔ لہٰذا اس وقت اپنے لیے دعائیں کرنی چاہئیں۔ اس کے لیے بھی مجذوبوں کے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
تو یہ پہلا مجذوب تو حضرت نے فرمایا ہے۔ دوسرے مجذوب بھی حضرت کا فرمودہ ہے کہ جو سلوک طے کر کے اللہ تعالیٰ ان کو کیفیت جذب نصیب فرما دے۔ جیسے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں بذریعہ جذب تکمیل ہوتی ہے۔ تو وہ جذب حاصل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جس وقت انسان اخلاص کے ساتھ سلوک طے کر رہا ہوتا ہے مطلب اللہ کو ہماری کمزوریوں کا پتہ ہے کہ ہم لوگ کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمارے کنٹرول میں چیزیں نہیں آ رہی ہوں۔ تو پھر اللہ پاک اس وقت جذب عطا فرما دیتے ہیں اور اس کے ذریعے سے وہ تمام چیزیں وہ کروا دیتے ہیں۔ لیکن بہر حال یہ سیٹنگ سلوک کے لحاظ سے ضروری ہے۔ اس کے لیے ہمیں کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد پھر جذب عطا ہو جائے، جذب وہبی۔ تو سبحان اللہ! اس کے ذریعے سے بڑے فاصلے، دور دور کے فاصلے طے ہو جاتے ہیں۔
بس ان لوگوں کو غلط فہمی یہ ہوئی کہ جذبِ کسبی کو جذب وہبی کی جگہ پہ رکھ دیا، بس غلطی صرف اتنی ہوئی۔ کہ انہوں نے وہ ساری چیزیں، جذب وہبی کے لیے جو تھیں، ان کو جذب کسبی کے لیے سمجھ لیا۔ وہاں کے لیے نہیں ہے، جذبِ وہبی کے لیے ہم سب مانتے ہیں۔ سلوک طے کرنا بہر حال ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔
آج کی مزید تشریحات
لوگ اکثر مجذوبوں کے پیچھے پھرا کرتے ہیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو مجذوب بنا لیا ہو، وہ الگ بات ہے۔ لیکن جو صحیح معنوں میں مجذوب ہوتے ہیں، ان کا یہ نظام، یعنی ارشاد والی لائن، ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ زندہ لاش کی مانند ہوتے ہیں۔ ان کی عقل کام نہیں کرتی، لہٰذا شریعت بھی ان پر لاگو نہیں ہوتی۔ البتہ چونکہ وہ اس حالت تک اللہ کی محبت کی وجہ سے پہنچے ہوتے ہیں، اس لیے اللہ پاک ان کی لاج رکھتے ہیں، اور بعض دفعہ ان کی زبان سے کوئی بات نکلے تو پوری ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے لوگ مجذوبوں کے پیچھے پھرتے ہیں۔ حالانکہ مجذوب کسی کو کچھ دے نہیں سکتے، بس اللہ تعالیٰ ان کی زبان سے جو نکلوا دے۔
لیکن اس سے مجذوب مقتدا نہیں بنتا، بلکہ کہتے ہیں کہ مجذوب سے بھاگنا چاہیے۔ اگر اس کی بے ادبی کرو گے تب بھی نقصان ہے، اور اگر اس کا ادب کرو گے تو شریعت کی بے ادبی ہوگی، تب بھی نقصان ہے۔ لہٰذا اس سے بھاگنا ہی چاہیے اور اس کے قریب نہیں جانا چاہیے۔
خود میرے ساتھ ایسا ہوا تھا۔ یہاں صدر میں ہاتھی چوک کی طرف جانے والے راستے اور بینک روڈ کے چوراہے پر ایک مسجد ہے جس کے دو دروازے ہیں۔ ہم نیلور جایا کرتے تھے اور ہماری بس سوا سات بجے چلتی تھی۔ خواتین بھی میرے ساتھ تھیں۔ ہمارے پاس کچھ وقت تھا، اس لیے میں انتظار کر رہا تھا کہ خواتین کو نماز پڑھواؤں۔ مرد نماز پڑھ رہے تھے، تو میں نے سوچا کہ رش کم ہو جائے تو ان کے لیے جگہ بن جائے گی۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ وہاں تین مجذوب کھڑے ہیں اور آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ پھر ان کی بات میرے بارے میں شروع ہو گئی۔ میں نے کہا: یا اللہ! یہاں سے کیسے بھاگوں؟ خواتین میرے ساتھ ہیں، انہیں چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتا، اور یہ تو مجھ پر حاوی ہو جائیں گے۔ خیر، میں غیر محسوس طریقے سے لوگوں کو دیکھتا رہا۔ جیسے ہی جگہ بنی، میں نے خواتین سے کہا کہ نماز پڑھ لیں۔ جیسے ہی انہوں نے نماز پڑھ لی، ہم دوسرے دروازے سے نکل گئے۔ ایسے لوگوں کی بات ماننے میں خطرات ہوتے ہیں، اس لیے ان کے سامنے بالکل نہیں آنا چاہیے۔ جو لوگ مجذوبوں کے پیچھے چلتے ہیں، ان کے ساتھ جو ہوتا ہے وہ بھی نظر آتا ہے۔
ایک دفعہ منیٰ میں آگ لگ گئی۔ مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنے خیمے میں مسلسل رو رہے تھے: یا اللہ معاف فرما، یا اللہ معاف فرما، یا اللہ معاف فرما۔ ادھر ایک مجذوب اس کام پر مقرر تھا۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ جس طرف ہاتھ سے اشارہ کرتا، آگ اسی طرف چلی جاتی۔ وہ حضرت کا رونا سن رہا تھا، تو غصے سے کہنے لگا: فقیر محمد! چپ ہو جاؤ، میں نے سب کو جلانا ہے، مجھے ان سب کو جلانے کا حکم ہے۔ مگر حضرت اس کی پرواہ نہیں کر رہے تھے۔ انہیں اپنی پڑی ہوئی تھی اور وہ مسلسل روتے رہے: یا اللہ معاف فرما، یا اللہ معاف فرما، یا اللہ معاف فرما۔ کچھ دیر کے بعد اس مجذوب کا وہ ہاتھ، جس سے وہ اشارہ کر رہا تھا، نیچے گر گیا۔ آگ پہاڑ کی طرف چلی گئی اور پھر ختم ہو گئی۔ مولانا فقیر محمد صاحب جو دعا کر رہے تھے، اس پر اللہ پاک نے معاف فرما دیا۔
مولانا فقیر محمد صاحب تشریعی بزرگ تھے اور وہ مجذوب تکوینی بزرگ تھا۔ اب اس مجذوب کو لوگوں کو جلانے کا کیا گناہ ہو رہا تھا؟ اسے کوئی گناہ نہیں ہو رہا تھا، وہ تو مامور تھا۔ جو مامور ہوتے ہیں انہیں گناہ نہیں ہوتا، وہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کر رہے ہوتے ہیں۔
خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں ہانڈی میں یوں ہی ہڈیاں ابل رہی تھیں کہ ایک مجذوب آ گیا۔ اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا؟ اس نے کہا: نہیں، بس مجھے بتاؤ کیا چیز ہے۔ فرمایا: بس ہڈیاں ہیں جو ابل رہی ہیں۔ اس نے کہا: مجھے اس میں سے دے دو۔ انہوں نے دے دیا۔ وہ گرم گرم تھا، مجذوب نے اس میں سے تھوڑا سا پیا اور پھر ہانڈی اٹھا کر دیوار پر دے ماری اور کہا: آج سے میں نے تیرے فقر کی ہانڈی توڑ دی۔ اس کے بعد فتوحات شروع ہو گئیں اور پھر وہ بادشاہوں کی طرح رہے۔
ایک دفعہ ہم پشاور یونیورسٹی سے ویگن میں آ رہے تھے کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے سامنے ہماری گاڑی رکی۔ میں ویگن کی اس سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا جسے privileged سیٹ کہتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھے آدمی کو دو آدمیوں نے اٹھایا ہوا ہے۔ میں اس سیٹ سے اٹھ کر آگے چلا گیا اور وہ سیٹ ان کے لیے چھوڑ دی، اور انہیں وہاں بٹھا دیا گیا۔ ویسے بھی ہمارے ہاں الحمد للہ بڑوں کا خیال رکھا جاتا ہے، اللہ کا شکر ہے۔ کسی وجہ سے میں نے پیچھے دیکھا تو وہی بزرگ مجھے بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔ جس انداز سے وہ مجھے دیکھ رہے تھے، وہ آنکھیں مجھے اب تک یاد ہیں۔ اگلے دن اخبار میں دیکھا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔ وہ پشاور کے کوئی بہت بڑے بزرگ تھے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہیں، لیکن بعد میں اخبار میں ان کی تصویر آئی تو دیکھا کہ وہی بزرگ تھے۔ میں نے کہا: اوہو! یہ تو بالکل آخری ملاقات والی بات تھی۔ الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے کہ ان کے جذبات میرے لیے تھے، اور اللہ کا شکر ہے کہ اللہ پاک نے ایسی حالت میں ملا دیا۔ یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ پتا نہیں اللہ پاک کس وقت کس جگہ سے فائدہ پہنچا دے، یہ تو اللہ کا کام ہے۔
ہمارے حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ غالباً خود بھی اس نظام کا کچھ حصہ تھے۔ وہ فرمانے لگے کہ جب وہ حج پر جا رہے تھے تو بنوری ٹاؤن میں اپنے کزن مولانا عبد اللہ کاکاخیل رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے۔ مولانا عبد اللہ کاکاخیل رحمۃ اللہ علیہ عالم تھے، اور آپ کو معلوم ہے کہ علماء حضرات ایسی ویسی باتیں نہیں مانتے۔ دونوں واک پر جا رہے تھے کہ ایک مفلوک الحال سا آدمی جاتا ہوا نظر آیا۔ حلیمی صاحب نے کہا کہ یہ اس علاقے کا ڈی ایس پی ہے۔ مولانا نے کہا: جاؤ جاؤ، ڈی ایس پی ہے! کیا باتیں کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اچھا، پھر دیکھو۔ پھر انہوں نے جا کر ایک چونی اس کی طرف پھینکی۔ اس نے اسے ہوا ہی میں پکڑ لیا اور کہا: کیا کہنا چاہتے ہو؟ حج پر جا رہے ہو؟ جاؤ، خیریت سے جاؤ، خیریت سے آؤ۔
اب لوگ کتابوں میں ایسی باتیں پڑھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مجذوب بڑے کام کے ہوتے ہیں، خدا کے بندے ہیں، وہ ان کی طرف بھیجے گئے تھے، اللہ کی طرف سے آئے تھے۔ تم بھی دل اللہ کو دے دو، پھر اللہ پاک تمہارے پاس جسے بھی بھیج دے۔ تمہارا کام کیا ہے؟ اس سوچ میں کیوں مستغرق ہو کہ مجذوب ملے گا تو کام بنے گا؟ مجذوبوں کے پیچھے نہ جاؤ۔ بننا ہے تو مرشدوں کے پاس جاؤ، اور ان تمام چیزوں سے مستغنی ہو جاؤ۔ اللہ پاک جب چاہے گا بھیج دے گا۔ چاہے کسی کے ذریعے سے کر دے، چاہے اپنی طرف سے کر دے۔ یہ چیز لوگوں کے ذہنوں میں ایک خلفشار پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے کافی گڑبڑ ہوتی ہے۔ بس بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اللہ نے لوگوں کی اصلاح کے لیے بنایا ہوتا ہے اور کچھ کو اپنے لیے۔ جنہیں اپنے لیے بنایا ہے انہیں اپنی طرف متوجہ نہ کرو۔ اور جنہیں اللہ نے تمہارے لیے بنایا ہے، ان کے پاس جاؤ، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے تمہیں ان شاء اللہ عطا فرما دیں گے۔
آج کے بیان میں تین قسم کے مجذوبوں کا ذکر آیا۔ ان میں سے تیسری قسم کا مجذوب، جسے مجذوبِ متمکن کہتے ہیں، اس کے بارے میں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے مکتوب نمبر 287 میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔
آج کل یہ جو سیفی حضرات ہیں، یہی مجذوبِ متمکن ہیں۔ انہوں نے پورا ایک ڈھونگ رچایا ہوا ہوتا ہے، اور جاہ، مال اور باہ، تینوں قسم کے مسائل ان میں ہوتے ہیں۔ استغفر اللہ، استغفر اللہ! اللہ بچائے، آمین۔
ہمارے ہاں ایک شخص آیا کرتا تھا جس کا نام ایوبی تھا۔ اس کے بھی ایسے ہی مسائل تھے اور وہ نعرے لگاتا تھا۔ اس نے مجھ سے ذکر مانگا تو میں نے نہیں دیا اور کہا کہ میں ہر ایک کو نہیں دیتا۔ یہاں سے وہ اکرم اعوان کے پاس چلا گیا، اور انہوں نے ایک مہینے بعد اسے خلافت دے دی۔ پھر وہ ہمارے ایک ساتھی سے ملا اور کوئی ایسی ہی بات کی تو ہمارے ساتھی نے جواب دیا: تمہاری یہاں نہیں بنی، اس لیے کہتے ہو کہ انگور کھٹے ہیں۔
بعض اوقات لوگ مجھ سے ملاقات کا وقت لیتے ہیں تو میں انہیں بیان کا وقت بتا دیتا ہوں۔ لیکن وہ بیان میں نہیں آتے، بیان ختم ہونے کے بعد آتے ہیں۔ تو میں انہیں واپس بھیج دیتا ہوں کہ جاؤ، تمہیں دین کی پرواہ نہیں تو مجھے تمہاری دنیا کی پرواہ نہیں۔ کیا بزرگوں نے ہمیں یہاں اس لیے بٹھایا ہوا ہے؟ بھئی! جو اللہ کے لیے آنا چاہے، ہم اس کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ بعض لوگ فون کر کے بتاتے ہیں کہ اتنے سال پہلے بیعت ہوئے تھے، اور انہیں وہ ذکر بھی یاد نہیں ہوتا، بھول چکے ہوتے ہیں۔ تو میں انتظار کرتا ہوں کہ کب اصل بات پر آئیں گے جو اس کے پیچھے ہے۔ جب وہ میدان بنا لیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کاروبار نہیں چل رہا یا فلاں مسئلہ ہے، تو میری بھی ٹون بدل جاتی ہے۔ بھئی! ہم خواہ مخواہ ان باتوں پر اپنا وقت کیوں خرچ کریں؟ ہمارے پاس جو اللہ کے لیے آئے، چاہے ایک ہو، دو ہوں یا تین ہوں۔ ہمیں خواہ مخواہ بھیڑ اکٹھی نہیں کرنی، کوئی ایک بھی اللہ والا بن جائے تو بس ہمارا کام ہو گیا۔ ہاں، جسے نفس و شیطان کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہے اور وہ اپنی اصلاح کے لیے ہمارے پاس آتا ہے تو یہ ہمارا کام ہے۔ اور جو کسی اور مسئلے کے لیے آئے، اسے ہم السلام علیکم کہہ کر رخصت کر دیتے ہیں۔
جب ہماری خانقاہ یہاں خیابان میں تھی تو ایک آدمی اپنا مسئلہ لے کر میرے پاس آیا۔ میں نے اسے ذکر دیا تو کہنے لگا: جس کے پاس بھی جاتا ہوں، مجھے پڑھنے کو بتا دیتا ہے، خود کچھ بھی نہیں کرتا۔ میں نے غصے سے کہا: جاؤ جاؤ، کیا میں تمہارے باپ کا نوکر ہوں؟ نہیں کرنا تو نہ کرو۔ اس پر اس کا دماغ ٹھکانے آ گیا۔ پھر اس نے مجھ سے ذکر لیا اور اسے کرنا شروع کر دیا۔ بہرحال اللہ کا بڑا فضل ہے کہ اللہ پاک نے ہمیں ان چیزوں سے بچایا ہوا ہے، الحمد للہ۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ