نبیِ اُمّی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت اور احوالِ بنی اسرائیل
درس نمبر 296، سورہ الاعراف آیات 156 تا 162، اشاعتِ اول: 13 اور 14 اکتوبر، 2022، بمطابق 16 اور 17 ربیع الاول ، 1444 ہجری
اللہ کی رحمت متقی مومنوں کے لیے خاص ہے۔
تورات اور انجیل میں رسول اللہ ﷺکی بشارتیں موجود ہیں۔
رسول اللہ ﷺنے سخت احکام منسوخ کرکے آسان شریعت دی۔
آنحضرت ﷺتمام انسانوں کی طرف بھیجے گئے رسول ہیں۔
بنی اسرائیل کو بارہ چشمے اور پاکیزہ رزق عطا ہوا۔
احکامِ الٰہی کا مذاق اڑانے پر آسمانی عذاب آیا۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ ؕ فَسَاَ كْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ (156) اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (157)
ترجمہ: اور ہمارے لئے اس دُنیا میں بھی بھلائی لکھ دیجئے، اور آخرت میں بھی ۔ ہم (اس غرض کے لئے) آپ ہی سے رجوع کرتے ہیں۔“اللہ نے فرمایا: ”اپنا عذاب تو میں اُسی پر نازل کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں۔ اور جہاں تک میری رحمت کا تعلق ہے، وہ ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔
حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے۔ دنیا کا عذاب میں ہر نافرمان کو نہیں دیتا، بلکہ اپنی حکمت اور علم سے جس کو چاہتا ہوں اسے دیتا ہوں۔ آخرت میں بھی ہر گناہ پر میرا عذاب دینا ضروری نہیں، بلکہ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں، ان کے بہت سے گناہ میں معاف کرتا رہتا ہوں۔ البتہ جن لوگوں کی سرکشی کفر و شرک کی صورت میں حد سے بڑھ جاتی ہے، ان کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت عذاب دیتا ہوں۔ اس کے برخلاف دنیا میں میری رحمت ہر مؤمن اور کافر، نیک اور بد سب پر چھائی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں انہیں رزق اور صحت وعافیت کی نعمتیں ملتی رہتی ہیں۔ اور آخرت میں بھی کفر و شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کو اسی رحمت سے معاف کیا جائے گا۔
ترجمہ: چنانچہ میں یہ رحمت (مکمل طور پر) ان لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھیں﴿156﴾
حاشیہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی اُمت کے لئے جو دُعا مانگی تھی کہ دُنیا اور آخرت دونوں میں اُن کو بھلائی نصیب ہو، یہ اُس کا جواب ہے، اور مطلب یہ ہے کہ دُنیا میں تو میری رحمت سے سب کو رزق وغیرہ مل رہا ہے، لیکن جن لوگوں کو دُنیا اور آخرت دونوں میں میری رحمت حاصل ہوگی، وہ صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کی صفات کے حامل ہوں، اور جنہیں مال کی محبت زکوٰۃ جیسے فریضے کی ادائیگی سے نہ روکے۔ چنانچہ اے موسیٰ! (علیہ السلام) آپ کی اُمت کے جو لوگ ان صفات کے حامل ہوں گے، اُن کو ضرور میری یہ رحمت پہنچے گی کہ دُنیا اور آخرت دونوں میں انہیں بھلائی نصیب ہوگی۔
ترجمہ: جو اُس رسول، یعنی نبیِ اُمّی کے پیچھے چلیں جس کا ذکر وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے،
یہ اصل میں واقعی قرآن پاک میں یہ آیا ہوا ہے کہ، یہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو پتا تھا اس کا۔
حاشیہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو اُن کی وفات کے بعد بھی صدیوں تک باقی رہنا تھا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دُنیا اور آخرت کی بھلائی کی جو دُعا کی تھی، وہ بنی اسرائیل کی اگلی نسلوں کے لئے بھی تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول کرتے وقت یہ بھی واضح فرمادیا کہ بنی اسرائیل کے جو لوگ نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہوں گے، اُن کو دُنیا اور آخرت کی بھلائی اُسی صورت میں مل سکے گی جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاکر ان کی پیروی کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی کچھ صفات بھی بیان فرمائیں، جن میں سے پہلی صفت یہ ہے کہ آپ نبی ہونے کے ساتھ رسول بھی ہوں گے۔ عام طور سے رسول کا لفظ ایسے پیغمبر کے لئے بولا جاتا ہے جو نئی شریعت لے کر آئے۔ لہٰذا اس لفظ سے اشارہ کردیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نئی شریعت لے کر آئیں گے جس میں کچھ فروعی احکام تورات کے احکام سے مختلف بھی ہو سکتے ہیں، اور بنی اسرائیل کو اس وقت یہ نہ کہنا چاہئے کہ یہ تو ہماری شریعت سے مختلف احکام بیان کررہے ہیں، اس لئے ہم ان پر کیسے ایمان لائیں؟ چنانچہ پہلے سے بتایا جارہا ہے کہ ہر دور کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں، اور جو رسول نئی شریعت لے کر آتے ہیں، ان کے فروعی احکام پہلے احکام سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ اُمی ہوں گے، یعنی لکھتے پڑھتے نہیں ہوں گے۔ عام طور سے بنی اسرائیل اُمی نہیں تھے، بلکہ نسلی عربوں کو اُمی کہا جاتا تھا، (دیکھئے قرآن کریم میں 2:62 و 3:20 اور 2:78) اور خود یہودی یہ لفظ عرب نسل کے لوگوں کے لئے کسی قدر حقارت کے پیرائے میں استعمال کرتے تھے، (دیکھئے سورۂ آل عمران 3:75) اس لئے اس لفظ سے یہ اشارہ بھی دے دیا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کے بجائے عربوں کی نسل سے مبعوث ہوں گے۔ آپ کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ کا ذکر مبارک تورات اور انجیل دونوں میں موجود ہوگا۔ اس سے ان بشارتوں کی طرف اشارہ ہے جو آپ کی تشریف آوری سے متعلق ان مقدس کتابوں میں دی گئی تھیں۔ آج بھی بہت سی تحریفات کے باوجود بائبل میں متعدد بشارتیں موجود ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ”اظہار الحق“ کا اُردو ترجمہ ”بائبل سے قرآن تک“ مرتبہ راقم الحروف۔
ترجمہ: چنانچہ جو لوگ اُس (نبی) پر ایمان لائیں گے، اُس کی تعظیم کریں گے، اُس کی مدد کریں گے، اور اُس نور کے ساتھ جو نور اُتارا گیا ہے، اُس کے پیچھے چلیں گے، تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہوں گے ﴿157﴾
وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ.
ترجمہ: اور اُن پر سے وہ بوجھ اور گلے کے وہ طوق اُتار دے گا جو اُن پر لدے ہوئے تھے۔
حاشیہ: اس سے اُن سخت احکام کی طرف اشارہ ہے جو یہودیوں پر عائد کئے گئے تھے۔ ان میں سے کچھ احکام تو خود تورات میں تھے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے اُس وقت یہودیوں کو اُن کا پابند کیا تھا۔ بعض سخت احکام اُن کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر نافذ کئے گئے تھے جس کا ذکر سورۂ نساء (4:160) میں گزرا ہے۔ اور بہت سے احکام یہودی علماء نے اپنی طرف سے گھڑ لئے تھے۔ شاید ”بوجھ“ سے پہلی اور دوسری قسم کی طرف اور ”گلے کے طوق“ سے تیسری قسم کے احکام کی طرف اشارہ ہو۔ بتایا جارہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان احکام کو منسوخ کرکے ایک آسان اور معتدل شریعت لائیں گے۔
یہ اصل میں واقعتاً یہود کی چونکہ بہت یعنی حرکات ایسی تھیں جس میں کبھی سخت کوئی ایسے سوال کر لیتے تھے جس کی وجہ سے ان پر کچھ سخت احکام وغیرہ آ جاتے تھے۔ اور کچھ احکام پہلے سے مطلب ان کے لیے موجود تھے۔ اور بعض احکام ان کی نافرمانیوں کی سزا کے طور پر ان پر نافذ کیے گئے تھے۔ اور بعض احکام ایسے تھے جو یہودی علما نے اپنی طرف سے گھڑ لیے تھے۔ تو یہ جو پہلی اور دوسری قسم کے یعنی وہ احکام آ گئے تو وہ بوجھ کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بوجھ ہے۔ اور جو دوسری قسم کے وہ گلے کے طوق ہیں وہ تیسری قسم کے احکام کی طرف، تو مطلب یہ ہے کہ یہ سارے احکام جو ہیں جو سخت ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ان کو منسوخ کر لیا جائے گا اور ایک آسان اور معتدل شریعت ان شاءاللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آئے گی۔
قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ ۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (158) وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ (159) وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰـكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ (160) وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓــٴٰـتِكُمْ ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ (161) فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ (162)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: (اے رسول! ان سے) کہو کہ: ”اے لوگو! میں تم سب کی طرف اُس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں،
حاشیہ: چونکہ پیچھے یہ ذکر آیا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دُعا قبول کرتے وقت اُن کو یہ بتادیا گیا تھا کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اُن کی آئندہ نسلوں کے لئے ضروری ہوگا، اس لئے اس موقع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے جملہ معترضہ کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت عطا فرمائی کہ وہ بنی اسرائیل سمیت تمام انسانوں کو اپنی نبوت پر ایمان لانے اور اپنی اتباع کی دعوت دیں۔
ترجمہ: جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ اب تم اللہ پر اور اُس کے رسول پر ایمان لے آؤ جو نبی امی ہے، اور جو اللہ پر اور اُس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اور اُس کی پیروی کرو، تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو ﴿158﴾ اور موسیٰ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو لوگوں کو حق کا راستہ دکھاتی ہے، اور اُسی (حق) کے مطابق انصاف سے کام لیتی ہے۔﴿159﴾
حاشیہ: یہودیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی جو دعوت دی گئی، اور اس سے پہلے اُن کی بہت سی بدعنوانیاں بیان ہوئیں، اُس سے یہ شبہہ ہو سکتا تھا کہ تمام بنی اسرائیل ان بدعنوانیوں کے مرتکب ہیں، اس لئے اس جملہ معترضہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرمادی کہ سارے بنی اسرائیل ایک جیسے نہیں ہیں، بلکہ اُن میں حق کو ماننے والے، اُس پر عمل کرنے والے اور اُس کی طرف لوگوں کو ہدایت دینے والے بھی موجود ہیں۔ اس میں وہ بنی اسرائیل بھی داخل ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دینِ حق پر قائم رہے، اور وہ بھی جو آپ پر ایمان لائے، مثلاً حضرت عبداللہ بن سلامؓ وغیرہ۔ اس وضاحت کے بعد آگے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بنی اسرائیل کا جو واقعہ دور سے چلا آرہا ہے، اس کو دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔
ترجمہ: اور ہم نے اُن کو (یعنی بنی اسرائیل کو) بارہ خاندانوں میں اس طرح تقسیم کر دیا تھا کہ وہ الگ الگ (انتظامی) جماعتوں کی صورت اختیار کر گئے تھے۔ اور جب موسیٰ کی قوم نے اُن سے پانی مانگا تو ہم نے اُن کو وحی کے ذریعے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی فلاں پتھر پر مارو۔
حاشیہ: (79) آیات 160 تا 162 میں جن واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ سورۂ بقرہ (2:57 تا 61) میں گزر چکے ہیں۔ تشریح کے لئے ان آیتوں کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
واقعی بڑی تفصیل کے ساتھ وہاں پر ذکر ہوا ہے۔
ترجمہ: چنانچہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ ہر خاندان کو اپنی پانی پینے کی جگہ معلوم ہوگئی۔ اور ہم نے اُن کو بادل کا سایہ دیا، اور ہم نے اُن پر من و سلویٰ (یہ کہہ کر) اُتارا کہ: ”کھاؤ وہ پاکیزہ رزق جو ہم نے تمہیں دیا ہے۔“ اور (اس کے باوجود انہوں نے جو ناشکری کی تو) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ ﴿160﴾ اور وہ وقت یاد کرو جب اُن سے کہا گیا تھا کہ: ”اس بستی میں جاکر بس جاؤ، اور اُس میں جہاں سے چاہو کھاؤ، اور یہ کہتے جانا کہ (یا اللہ!) ہم آپ کی بخشش کے طلب گار ہیں، اور (بستی کے) دروازے میں جھکے ہوئے سروں کے ساتھ داخل ہونا، تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے، (اور) نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ (ثواب) بھی دیں گے۔“ ﴿161﴾ پھر ہوا یہ کہ جو بات اُن سے کہی گئی تھی، اُن میں سے ظالم لوگوں نے اُسے بدل کر دوسری بات بنالی۔ تب ہم نے اُن کی مسلسل زیادتیوں کی وجہ سے اُن پر آسمان سے عذاب بھیجا ﴿162﴾
اصل میں بات یہ ہے کہ واقعتاً کیسے عجیب لوگ تھے کہ جیسے کلنڈر ٹائپ لوگ نہیں ہوتے، مطلب ہمارے ہاں بھی، مطلب کوئی بھی سیریس بات وہ نہیں کرتے۔ تو اس طرح بعض لوگ ایسے تھے جو کہ اچھے خاصے ایک سیریس بات کو مذاق بنا لیتے تھے۔ تو ان کو کہا جائے کہ جھکے ہوئے سروں کے داخل ہو۔ تو اکڑ اکڑ کے داخل ہو گئے۔ اس طرح مطلب ہے کہ جو بھی کام ان کو بتایا جاتا، اس کا الٹ۔ تو پھر اللہ پاک کی طرف سے ان کے اوپر عذاب آیا۔ اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔
درس کے بعد مزید ارشاد: عقائد کی حفاظت اور صراطِ مستقیم
ہر دور میں صاحبِ شریعت نبی کی دعوت
یہ سلسلہ مسلسل چلا آ رہا ہے کہ ہر دور میں جو صاحبِ شریعت نبی ہوتا تھا، اس کی دعوت قبول کرنے والا مسلمان ہوتا تھا۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے، پھر ان کی اولاد میں حضرت یعقوب علیہ السلام ہوئے جن کا لقب اسرائیل تھا۔ پھر ان کی اولاد میں حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے جنہیں تورات ملی، اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے جنہیں انجیل ملی۔ لیکن بنی اسرائیل کا حال یہ تھا کہ وہ انبیاء علیہم السلام کو قتل کرتے، ان کے بارے میں غلط باتیں مشہور کرتے اور غلط عقائد اپنا لیتے تھے۔
ہم مسلمانوں میں عقائد کا بگاڑ
افسوس کہ آج ہم مسلمانوں میں بھی عقائد کے معاملے میں لوگوں نے بہت افراط و تفریط کر رکھی ہے۔ مثلاً نور و بشر کا مسئلہ ہے: قرآنِ پاک میں آپ ﷺ کو بشر فرمایا گیا ہے، اس کے باوجود بعض لوگ آپ ﷺ کی بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح عید میلاد النبی کے نام سے دین میں ایک اور عید کا اضافہ کر لیا گیا ہے۔
اسی طرح بعض لوگ صحیح عقیدہ رکھنے والے اولیاء اللہ پر کفر کا حکم لگا دیتے ہیں، جبکہ جو واقعی کافر ہیں ان کے ساتھ مدارات کا تعلق رکھتے ہیں، لیکن ہمارے بارے میں کہتے ہیں کہ ان سے نکاح نہ کرو۔ غرض ہم مسلمانوں میں بھی عقائد میں اختلاف رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ بعض اوقات دو گروہوں کے عقائد ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں، پھر بھی وہ آپس میں ایک دوسرے کو کچھ نہیں کہتے اور دونوں ہماری مخالفت میں ایک ہو جاتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ظالم شیطان انہیں ہمارا مخالف بنا دیتا ہے۔
تہتر فرقوں والی حدیث
آپ ﷺ نے فرمایا کہ گزشتہ امتوں میں یہود کے 71 فرقے ہوئے، عیسائیوں کے 72، اور عنقریب میری امت کے 73 فرقے ہوں گے، جن میں سے ایک نجات پائے گا۔ صحابہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! وہ کون سا فرقہ ہوگا؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔"
یعنی وہ 72 کے 72 فرقے ہم مسلمانوں میں بھی آ گئے، اور 73واں فرقہ حق پر ہے اور وہی نجات پائے گا۔ اصل اور بنیادی بات عقائد کی ہے۔ ہمارے یا کسی اور کے اعمال کمزور ہو سکتے ہیں، لیکن عقیدہ بنیادی چیز ہے، اس میں کوئی کمی زیادتی نہیں ہو سکتی۔
تورات، انجیل اور زبور
اہلِ کتاب وہ ہیں جو تورات، انجیل اور زبور والے کہلاتے ہیں۔ ہم ان کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن ان پر عمل نہیں کر سکتے، کیونکہ ان میں تحریف ہو چکی ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تورات کا ایک نسخہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! یہ تورات کا ایک نسخہ ہے۔" آپ ﷺ خاموش رہے۔ حضرت عمرؓ نے اسے پڑھنا شروع کیا اور رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک کا رنگ بدلنے لگا۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "گم کرنے والیاں تمہیں گم پائیں! کیا تم رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک کی حالت نہیں دیکھ رہے؟" حضرت عمرؓ نے آپ ﷺ کے چہرۂ مبارک کی طرف دیکھا تو عرض کیا: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا "میں اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ ہم اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو نبی مان کر راضی ہیں۔" تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے! اگر موسیٰ تمہارے سامنے ظاہر ہو جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی پیروی کرنے لگو تو سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔ اور اگر وہ زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پاتے تو وہ بھی میری ہی پیروی کرتے۔"
اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی جب تشریف لائیں گے تو آپ ﷺ کی شریعت پر چلیں گے۔
بنی اسرائیل کی عجیب حرکتیں
بنی اسرائیل کو جب پانی کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانی مانگا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ چنانچہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے، بارہ قبیلوں کے لیے بارہ چشمے، اور ہر قبیلے کو اپنے پانی پینے کی جگہ معلوم ہو گئی۔
لیکن وہ قوم عجیب عجیب حرکتیں کرتی تھی۔ جیسے کل گزرا کہ انہوں نے ایک قوم کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھا تو فرمائش کرنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایسا کوئی دیوتا بنا دیں۔ شرعی احکام کے بارے میں بھی ان کے سوالات عجیب ہوتے تھے، جیسے گائے والا واقعہ قرآنِ پاک میں تفصیل سے موجود ہے۔ ہمیں ان باتوں سے سیکھنا چاہیے اور ویسا نہیں کرنا چاہیے جیسا بنی اسرائیل کرتے تھے، کیونکہ وہ قومیں تو گزر گئیں، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:
تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ
"یہ ایک امت تھی جو گزر گئی۔ جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کے لیے ہے اور جو تم نے کمایا وہ تمہارے لیے ہے، اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔"
اسرائیلی روایات
جو اسرائیلی واقعات قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں، ان پر تو ہم ایمان لاتے ہیں کہ وہ ایسے ہی ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ جو اسرائیلی روایات ملتی ہیں، ان کے بارے میں اصول یہ ہے: "لا نصدق ولا نکذب"، یعنی ہم نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں اور نہ تکذیب، بلکہ ان کے بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ آج کل مسئلہ یہ ہے کہ ایسی روایات کو بھی بڑے زور و شور سے بیان کیا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ خود کو خراب نہ کرو۔
اصل چیز صراطِ مستقیم ہے
اصل چیز صراطِ مستقیم ہے، بس اسی پر رہو اور ادھر ادھر نہ ہو۔ جیسے سورۂ فاتحہ میں ہے، اور پھر سورۂ بقرہ کا پہلا رکوع ہے:
سورۃ البقرہ (پہلا رکوع، آیات 1 تا 7):
ترجمہ: الٓمّٓ۔ یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے ڈر رکھنے والوں کے لیے، جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اور جو اس (وحی) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی، اور وہ آخرت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ یہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے صحیح راستے پر ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔ بے شک جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے، اور ان کے لیے زبردست عذاب ہے۔
تلاوت کے ساتھ تدبر
اصل بات یہ ہے کہ اکثر لوگ تلاوت تو کرتے ہیں لیکن تدبر نہیں کرتے، انہیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ کیا پڑھا ہے۔ قرآنِ پاک پڑھتے ہوئے جب رحمت کی آیت آئے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت کی دعا کرنی چاہیے، اور جب عذاب والی آیت آئے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ مانگنی چاہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مجھے سورۂ ہود نے بوڑھا کر دیا۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سورۃ البقرہ کو سیکھنے، اس کے معنی و مفہوم سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں 12 سال لگائے۔ اسی طرح فقہائے کرام نے آیات و احادیث میں غور کرکے سینکڑوں مسائل فقہ کے مرتب کیے ہیں۔
میرے ساتھ ایک بار ایسا ہوا کہ مدینہ منورہ میں میں کمرے میں تھا رات کو سب سوگئے جیسے ہی میں سونے لگا تو ایک شعر وارد ہوا۔ تو میں نے پردہ تھوڑا سا کھسکا کر اسے فوری لکھ لیا۔ پھر جب سونے لگا تو دوسرا شعر آگیا۔ پھر اسے لکھا۔ جب پھر سونے لگا تو پھر شعر آنے لگے اس طرح میں نے وہ غزل مکمل کی۔ تو ایسا ہوتا ہے۔