دل کی اصلاح میں پاکیزہ شاعری کا کردار، ہوشِ دیوانگی اور حرمین شریفین کی روحانی کیفیات

کتاب: شاہرائے محبت اور ہوش دیوانگی، درس 20، اشاعت اول:منگل، 5 نومبر، 2013 بمطابق 2 محرم، 1434 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. جسم کے بادشاہ دل کی درستی دنیا کی محبت نکال کر اس میں خالص اللہ کی محبت بسانے پر موقوف ہے۔
  2. صحبتِ صالحین اور بامقصد اچھی شاعری دل کی صفائی اور اسے اللہ کی طرف راغب کرنے کے مؤثر ذرائع ہیں۔
  3. مکہ مکرمہ اور خانۂ کعبہ کے مقامات کا اصل مقصد دل کا تعلق اللہ سے جوڑ کر اسے دنیا سے نکالنا ہے۔
  4. اللہ کی وہ شدید محبت جو انسان کو بندہ ہونے اور اعمال کا مکلّف ہونے کا ادراک کرائے، ہوشِ دیوانگی کہلاتی ہے۔
  5. ہوشِ دیوانگی کا عقلِ نفسانی پر غالب آنا ہی صحیح جذب ہے، جبکہ ہوش کھو دینے سے روحانی ترقی رک جاتی ہے۔
  6. ہوشِ دیوانگی اخلاص پیدا کر کے ہر عمل کا رخ خالصتاً اللہ کی رضا اور صراطِ مستقیم کی طرف موڑ دیتا ہے۔
  7. حرمین شریفین کے قرب سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے ادبِ حرم اور پاکی ناپاکی کے احکام کا شعور لازمی ہے۔

اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ۔ اَعُوذُ باللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارا شعر و شاعری جو جذب کے بارے میں ہوتی ہے، اس کے بارے میں ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا جو مقصد ہے اس شعر و شاعری سے، یہ محض کلام کی ایک محفل جمانے کا نہیں ہے۔ نہ اس سے صرف ہم اپنا وقت گزاری چاہتے ہیں۔ بلکہ اصل میں دل، جو جسم کا بادشاہ ہے۔ اگر یہ ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک ہو جائے۔ حدیثِ شریف کے مطابق۔ تو اس کو ٹھیک کرنے کے جو ذرائع ہوں گے وہ بھی اتنے ہی اہم ہوں گے۔

اب اس کو ٹھیک کس وقت نہیں کہا جاتا اور کس وقت ٹھیک کہا جاتا ہے، یہ بھی ایک سوال ہے۔ تو ٹھیک اس کو اس وقت نہیں کہا جاتا جب اس میں دنیا کی محبت آ جائے۔ چونکہ یہ دل اللہ کے لیے بنا ہوا ہے۔ لہٰذا اس میں اگر دنیا آ جائے تو یہ دل کی خرابی کی علامت ہے۔ پس دل سے دنیا کی محبت کو نکالنا اس کو ٹھیک کرنے کے مترادف ہے۔ اور یقیناً چونکہ یہ اللہ کے لیے بنا ہوا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی محبت کو اس میں لانا۔ اب اللہ تعالیٰ کی محبت کو اس میں کیسے لایا جائے؟ اور دنیا کی محبت کو کیسے نکالا جائے؟ تو ظاہر ہے یہ کوئی بٹن تو نہیں ہے کہ اس کو دبا لیا اور اس پہ کام ہو گیا۔ اس کے لیے ذرائع وہی ہوں گے جو اس کے ساتھ مناسب ہوں گے۔ تو صحبتِ صالحین اور صالحین کا کلام۔ اور اس کے ساتھ وہ اگر الفاظ کی ادائیگی بھی دل کو راغب کرنے والی ہو۔ تو کام آسان ہو جاتا ہے۔

تو شاعری جو ہے یہ ایک ایسی چیز ہے جو دل کو لبھاتی ہے۔ بُری شاعری بھی دل کو لبھاتی ہے اور اچھی شاعری بھی۔ بُری شاعری اس کو بُری جگہ لے جاتی ہے۔ بُرے جذبات اس میں پیدا کرتی ہے۔ اور بعض دفعہ وہ بڑے تیز ہوتے ہیں اور بہت نقصان کر دیتے ہیں۔ اور اچھی شاعری اس کو اچھی جگہ لے جاتی ہے۔ اور بعض دفعہ اس کے بڑے فوائد ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ جو ہمارے بزرگوں نے اس مقصد کے لیے شاعری کو استعمال کیا ہے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ ایک بہت مؤثر ہتھیار ہے۔ دل کی صفائی کا، دل کے لیے، دل کے اندر اللہ کی محبت کو لانے کا اور دل سے دنیا کی محبت کو نکالنے کا۔

تو اللہ جل شانہٗ نے یہاں پر مکہ مکرمہ میں جو مقامات ہمارے لیے بنائے ہیں۔ اس مقصد کے لیے تاکہ ہم لوگ بھی اپنے دل کا تعلق ان کے ساتھ جوڑ کر دنیا سے اپنے آپ کو نکالیں۔ تو خانۂ کعبہ بھی ایسی جگہ ہے۔ کہ اس کے ساتھ دلوں کو جوڑا جاتا ہے۔ ملتزم شریف ہے، حجرِ اسود ہے، حطیم ہے۔ اور مطلب طواف ہے۔ یہ سب مطلب بڑے مقامات ہیں۔ لہٰذا یہاں پر ہوتے ہوئے اس کا استعمال بہت ضروری ہے۔ تو یہاں کی شاعری بھی اسی سے زیادہ اس سے متعلق ہو گی۔

البتہ اسی جگہ کے فیض سے ایک نئی چیز بھی وارد ہوئی ہے۔ اور وہ ہوشِ دیوانگی ہے۔ دیوانگی اصل میں کیا چیز ہے؟ یہ محبت کے افراط کو کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر محبت جب بڑھ جائے تو تمام چیزوں پر غالب آ جاتی ہے۔ اور وہ چیزیں ان چیزوں پر بھی غالب آ جاتی ہیں جن کو لوگ دنیا کے لیے بہت چاہتے ہیں۔ تو اسی کو دیوانگی کہتے ہیں۔ تو اس طرح جو ہے مطلب یہ ایک، لیکن یہ دیوانگی بذاتِ خود مطلوب نہیں ہے۔ جب تک یہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہ ہو۔ لہٰذا اللہ کے لیے ہونا اور پھر اللہ تعالیٰ کی بات اس پہ ماننا۔ ہر ایک شخص چونکہ اعمال کا مکلّف ہے۔ تو لہٰذا جو دیوانگی اس بات کا ادراک کرائے گی کہ کس کا بندہ ہوں اور مجھے کیا کرنا ہے۔ تو یہ ہوش کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ تو یہ ہوش چونکہ دیوانگی سے ہی نکلا ہے یعنی دیوانگی کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا اس کو ہوشِ دیوانگی کہا گیا، اور یہ ہوشِ دیوانگی جب عقلِ نفسانی پہ غالب ہو جائے۔ تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

مطلب ہوش بھی ہو لیکن دیوانگی سے ہو اور پھر یہ عقلِ نفسانی پر غالب آ جائے تو پھر اس کے بعد مسئلہ حل ہو جاتا ہے، اسی کو ہم لوگ کہتے ہیں جذب۔ یعنی جذب جو صحیح جذب ہے جس سے ہمیں فائدہ ہوتا ہے وہ یہی ہے۔ اور اگر خدا نخواستہ اس میں ہوش ختم ہو جائے اور دیوانگی ہی دیوانگی رہ جائے اور پھر اس کے بعد عقل ہی ختم ہو جائے تو وہ پھر مجذوب کہلاتا ہے، لیکن ظاہر ہے وہ مکلّف نہیں ہوتا لیکن اس کے اعمال بھی نہیں ہوتے لہٰذا وہ اس کی ترقی رک جاتی ہے۔ لہٰذا کسی شیخِ کامل کے ساتھ جس کے لیے تعلق بنانا پڑتا ہے کہ دیوانگی تو حاصل ہو لیکن اس دیوانگی کا جو ہوش ہے وہ ہم لوگ استعمال کر لیں اور اس میں یعنی دین کے کاموں میں ہم لوگ محض اللہ کی رضا کے لیے کام کریں۔ ظاہر ہے جب اس سے یہ ایک فائدہ ہو گا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس سے ایسے اعمال وجود میں آئیں گے جو خالص اللہ کے لیے ہوں گے۔ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں کہ اگر اس کو سائنس کی زبان میں کہیں تو ایک vector ہے جو عمل جو کسی بھی چیز کے لیے ہو سکتا ہے، اللہ کے لیے بھی ہو سکتا ہے، نفس کے لیے بھی ہو سکتا ہے، اس کو خالص اللہ کے لیے کر دیتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ vector جب حاصل ہو جائے تو پھر کامیابی حاصل ہو جاتی ہے وہ سیدھا سیدھا راستہ پھر صراطِ مستقیم حاصل ہو جاتا ہے۔ تو بہر حال ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہوشِ دیوانگی سے اخلاص کے ساتھ عمل نصیب ہو جاتا ہے۔ اور اخلاص کے ساتھ عمل صراطِ مستقیم ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ تو بس یہی مطلب ترقی ہے۔ تو اس وجہ سے ہماری جو محفل ہے آج اسی مقصد کے لیے ہے۔ تو وہ میں سنا دیتا ہوں۔

نہ مکے سے جانے کو جی چاہتا ہے
مدینے کو جانے کو بھی چاہتا ہے

یہاں کعبۂ محترم ہی کے گرد
میں چلتا رہوں دل یہی چاہتا ہے

نہ مکے سے جانے کو جی چاہتا ہے
مدینے کو جانے کو بھی چاہتا ہے

یہ زمزم کا پانی نظارۂ کعبہ
انہیں چھوڑ دوں دل نہیں چاہتا ہے

نہ مکے سے جانے کو جی چاہتا ہے
مدینے کو جانے کو بھی چاہتا ہے

یہ میزابِ رحمت کرے ہے اشارہ
چلا آگے اگر روشنی چاہتا ہے

نہ مکے سے جانے کو جی چاہتا ہے
مدینے کو جانے کو بھی چاہتا ہے

میں کیا میری خواہش ہے کیا اے شبیر
جو چاہے خدا دل وہی چاہتا ہے

نہ مکے سے جانے کو جی چاہتا ہے
مدینے کو جانے کو بھی چاہتا ہے

یہ ما شاء اللہ پہلی غزل اس سلسلے میں تھی۔ طوافِ وداع کے لیے ہم رات کے وقت گئے تھے۔ تہجد کی نماز ہم نے وہیں پڑھی اور پھر طوافِ وداع کیا۔ تو یہ رات کا منظر خانۂ کعبہ کا بڑا عجیب ہوتا ہے۔ لائٹنگ بہار پہ ہوتی ہے اور خانۂ کعبہ کے اپنے انوارات ہوتے ہیں۔ اوپر آسمان سیاہ اور نیچے ما شاء اللہ نظارۂ کعبہ، خوبصورت۔ تو اس کے عجیب اثرات ہوتے ہیں۔ تو اسی جلوے میں ہم نے الحمد للہ طوافِ وداع کر لیا۔ اس کے بعد بیٹھے واجب الطواف پڑھ کے۔ تو یہ اشعار وارد ہوئے۔ ادھر ہی لکھے۔ اور ادھر ہی الحمد للہ پڑھے۔ اور پھر بعد میں اس کتاب کی زینت بنے۔ تو میں یہاں پر بھی وہ سنا دیتا ہوں۔

ہے میزابِ رحمت سے رحمت پھوار
الٰہی ہمیں لا یہاں بار بار

یہ کعبے کی چوکھٹ اور یہ ملتزم
طفیل اس کے بخش دے ہمیں یا غفار

ہے میزابِ رحمت سے رحمت پھوار
الٰہی ہمیں لا یہاں بار بار

یہ کعبے کا حصہ ہے باہر حطیم
ہے باہر مگر یہ ہے اندر شمار

ہے میزابِ رحمت سے رحمت پھوار
الٰہی ہمیں لا یہاں بار بار

سکینہ برستا یہاں ہے بہت
یہاں کے زمان و مکان پُر بہار

ہے میزابِ رحمت سے رحمت پھوار
الٰہی ہمیں لا یہاں بار بار

مقامِ ابراہیم بھی سامنے ہے
نشانی نبی کی یہ ہے پر وقار

ہے میزابِ رحمت سے رحمت پھوار
الٰہی ہمیں لا یہاں بار بار

میں چاہتا ہوں چوموں یہاں حجرِ اسود
ہے ڈر کہ نہ کوئی ہو مجھ سے آزار

ہے میزابِ رحمت سے رحمت پھوار
الٰہی ہمیں لا یہاں بار بار

طوافِ وداع کر کے ہوں سامنے
میرے دل پہ جانے کا غم ہے سوار

الٰہی ہمیں لا یہاں بار بار
ہے میزابِ رحمت سے رحمت پھوار

میں مقبول و مغفور یہاں سے چلوں
کھڑا در پہ تیرے شبیر اشک بار

الٰہی ہمیں لا یہاں بار بار
ہے میزابِ رحمت سے رحمت پھوار

ما شاء اللہ، ہم لوگ جس وقت یہاں سے روانہ ہو رہے تھے تو وہ متفرق جذبات جیسے پہلے بیان کیے گئے، اس طرح ہوئے تھے۔ تو وہ ذرا انوکھے انداز میں سامنے آ گئے تھے۔

فراقِ کعبہ کا احساس مدینے کی طلب
دل میں گڈمڈ سی ہو رہی ہے کیفیت ایک عجب

اسی کعبے کے گرد طواف آپ نے ہے کیا
اور آپ ہی ہیں کائنات کی تخلیق کے سبب

فراقِ کعبہ کا احساس مدینے کی طلب
دل میں گڈمڈ سی ہو رہی ہے کیفیت ایک عجب

آپ نے آنسو بہائے ہیں ملتزم پر یہاں
لے گیا آپ کو واپس پھر مدینے کا جذب

فراقِ کعبہ کا احساس مدینے کی طلب

حسنِ سودا پہ سنہری حروف کا جھلمل
اس کو دیکھ کر کوئی بھول جائے سب یابس و رطب

فراقِ کعبہ کا احساس مدینے کی طلب

چونکہ غلافِ کعبہ سیاہ ہے اور اس کا اپنا حسن ہے اور سنہری حروف سے اس پر آیاتِ قرآنیہ لکھی ہوئی ہیں تو ایک عجیب حالت پیدا ہو جاتی ہے اس سے۔

ہم تو پرنالۂ رحمت پہ سوالی ہیں کھڑے

یعنی میزابِ رحمت۔

ہم تو پرنالۂ رحمت پہ سوالی ہیں کھڑے
میں کیا چیز ہوں کیا چاہوں گا کیا میرا کسب

فراقِ کعبہ کا احساس مدینے کی طلب

یا الٰہی بھر دے توحید شبیرؔ کے دل میں
اور ہو نصیب اس کو تیرے شعائر کا ادب

فراقِ کعبہ کا احساس مدینے کی طلب
دل میں گڈمڈ سی ہو رہی ہے کیفیت ایک عجب

جب ہم مدینۂ منورہ روانہ ہو رہے تھے اور سامان بس میں رکھوا رہے تھے اس وقت یہ غزل آ گئی تھی۔

قافلہ اپنا حرم سے آج ہی جانے کو ہے
ضبط تو کرنا ہے پیمانہ چھلک جانے کو ہے

کیا یہاں پر زندگی کعبے کے نظارے کی تھی
چھوڑ جائیں گے یہاں پر وقت یہ آنے کو ہے

قافلہ اپنا حرم سے آج ہی جانے کو ہے

قدر کرتے کاش اپنے وقت کی جو تھا ملا
رہ گئی حسرت یہی تو وقت سمجھانے کو ہے

قافلہ اپنا حرم سے آج ہی جانے کو ہے

روز زمزم کے جو کاسے پیتے تھے بعد از نماز
رہ گیا سب چل دیے ہم، غم یہ چھا جانے کو ہے

شمع کی مانند کعبہ تھا تھے ہم پروانے سب
رہ گئی شمع شبیر بس غم یہ پروانے کو ہے

قافلہ اپنا حرم سے آج ہی جانے کو ہے
ضبط تو کرنا ہے پیمانہ چھلک جانے کو ہے

حرمِ کعبہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آپس میں بڑا عجیب تعلق ہے۔ اس کا بھی احساس ہوتا جا رہا تھا اس پر بھی کلام ہوا۔

پکڑا ہم نے ہے حرم کا دامن
اور پھیلایا ہے اپنا دامن

بڑی امید اس کے در سے ہے
گو کہ تر ہی تو ہے میرا دامن

پکڑا ہم نے ہے حرم کا دامن

یاد رکھنا ہمیں ہے میرِ حرم

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم

یاد رکھنا ہمیں ہے میرِ حرم
چھوٹنے پائے نہ اس کا دامن

پکڑا ہم نے ہے حرم کا دامن

وہ جو دونوں جہاں میں کام آئے
واہ کتنا ہے وہ اچھا دامن

پکڑا ہم نے ہے حرم کا دامن

وقت ہے کام لو ہمت سے شبیرؔ
کر لو جتنا بھی ہو ستھرا دامن

پکڑا ہم نے ہے حرم کا دامن
اور پھیلایا ہے اپنا دامن

تو مدینۂ منورہ کے راستے میں بس میں کچھ کلام ہوا۔ ان شاء اللہ ابھی تھوڑی دیر میں آپ کو سنائیں گے اس کا کچھ حصہ۔ لیکن اس سے پہلے آج کچھ کلام ہوا ہے، تو وہ جو ہے ان شاء اللہ سنایا جاتا ہے جیسا کہ بتایا گیا تھا ہوشِ دیوانگی۔ یعنی دیوانگی سے جو ہوش نکلتا ہے، وہ اس کے بارے میں کچھ کلام ہے۔ اور الحمد للہ اس سے کچھ چیزیں کھلتی ہیں۔

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو
پروانہ وار گھومنا یہی تیرا حال ہو

اس گھر کے ساتھ دل کا لگانا اسے مطلوب
دیکھے اسے یہاں کوئی کس کی مجال ہو

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو

چکر ہم اس کے گھر کے لگا سکتے ہیں تو ہیں آج
دیکھنا اس کو اس زندگی میں گر محال ہو

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو

وہ یہاں کے حسینوں میں لگائے گا کیسے دل
ایماں سے اس کا جس کو مستحضر جمال ہو

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو

تم کس کے کمالات کے دلدادہ بنے ہو
اس نے ہی دیا ہے شبیر جو بھی کمال ہو

اے دل طواف میں کہاں تھکن کا خیال ہو

عشق دیوانگی سکھائے ہے
عقل کچھ راستہ بتائے ہے

عشق اور عقل میں تعلق ہو
ہوشِ دیوانگی پھر آئے ہے

گردِ کعبہ کے خوب گھوم جانا
یاد اس کی اگر ستائے ہے

عشق دیوانگی سکھائے ہے

راستہ یہ دل کا ہے اس پر جانا
تجھے محبوب سے ملائے ہے

عشق دیوانگی سکھائے ہے

وہ یہاں جی لگا سکے کیسے
خیال اس کا کوئی جمائے ہے

عشق دیوانگی سکھائے ہے

تیرے اشعار تو موتی ہیں شبیرؔ
کون کرم پر تیرے یہ لائے ہے

عشق دیوانگی سکھائے ہے

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں
اس میں کوشش آپ اپنا کر دیکھیں

عشق چھپائے کوئی کیسے ناداں
خیال اس کا تو ذرا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

عشق عاشق کے دل کی ہے آواز
کبھی تو اس کو سنا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

عشق کے بول میں عشق پنہاں ہے
بول پیارے یہ ادا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

عشق سے معشوق کا منشا ہو معلوم
پھر ذرا اس کو بھلا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

دلِ دیوانگی تو vector ہے
دل کے قرطاس پہ draw کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

اس سے پیدا عملِ اخلاص کا ہو
اس کو روز بڑھا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہو چھپا کر دیکھیں

دیکھی یہی تو جذبِ خالص ہے
خود کو اس سے مٹا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

اللہ بن جائے گا تیرا اس لیے
خود کو اللہ کا بنا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

یہی ادراک ہوشِ دیوانگی ہے
شبیر اس کو تلا کر دیکھیں

عشق چھپانا ہے چھپا کر دیکھیں

صبح ہم آ رہے تھے تو مزدور کچھ بہت سارے ہمارے صحن میں لیٹے ہوئے تھے بیچارے تھکے ہوئے۔ تو اس کی طرف ذہن منتقل ہو گیا۔

آج مزدور حرم کے دیکھے
کچھ تو جاگے تھے اور کچھ لیٹے

تھکے ہارے بوٹ اتارے تھے سب نے
کچھ سو رہے تھے اور تھے کچھ بیٹھے

کچھ ناشتہ کر رہے تھے باجماعت
اور کچھ کو دیکھا تو وہ تنہا تھے

ایک ہی رنگ میں ایک ماحول میں سب
جدا جدا تھے سب کے رنگ اپنے

کاش ان کو قریب کر لیں ہم
کہ ہر ایک ان میں صحیح دیں پہ چلے

ہاتھ مزدور کا چوما ہے آپ نے
کیوں سنتیں نہ اپنا لیں آپ کی

حرمِ پاک کی اس قربت میں
کوئی مزدور بھی محروم نہ رہے

راہِ ادب کی حرم کی جانے وہ
اور مطابق اس کے سب کام کرے

یہاں کے قرب کے، نماز کے لیے
پاکی کو بھی خوب جانے

ان کا یہاں رہنا اے شبیرؔ پھر تو
بلاشبہ سب کو رشک ہو جائے

مطلب یہ ہے کہ مزدور غریب یہاں آئے ہوئے ہیں۔ چونکہ ماحول دوسرے لوگوں کا دیکھ کر اپنے اپنے ملکوں کا ماحول بھول جاتے ہیں اور پھر اس طرح کرنے لگتے ہیں جس طرح دوسرے لوگ کرنے لگتے ہیں۔ تو اگرچہ وہ بہت دور سے آئے ہوتے ہیں لیکن ادب آداب نہیں جانتے اور پاکی ناپاکی کا خیال نہیں رکھتے۔ جہاں پڑے وہاں پڑ گئے، پھر اسی انہی کپڑوں سے پھر نماز مطلب پڑھتے ہیں، اور اس طریقے سے جگہوں کو بھی نہیں دیکھتے جس جگہ پر جوتوں کے ساتھ پھرتے ہیں، اسی جگہ پہ پھر نماز پڑھتے ہیں۔ اور اس طرح مطلب بہت ساری چیزیں چلتے چلتے وہ کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ بہت قرب ان کو حاصل ہوتا ہے لیکن اس قرب کو وہ اس طریقے سے ضائع کر لیتے ہیں۔ تو کاش ان کو کوئی سمجھانے والا ہو جو ان کو سمجھائے اور اس قرب سے وہ فائدہ اٹھائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔ اب ان شاء اللہ ہم وہ جو چند اشعار تھے جو ہوئے تھے اور پھر سنائے گئے تھے، وہ ان شاء اللہ آپ کو سناتے ہیں وہ موبائل سے۔

کیا خوب مزے دار مدینے کا سفر ہے
دل پر میرا سوار مدینے کا سفر ہے

دل گنبدِ خضرا کے نظارے میں ہے مشغول
اور بختِ بھی بیدار مدینے کا سفر ہے

کیا خوب مزے دار مدینے کا سفر ہے
دل پر میرا سوار مدینے کا سفر ہے

کیا لکھ دوں کیا سوچے قلم کیسے میں رکھوں
دل کا کیا اعتبار مدینے کا سفر

کیا خوب مزے دار مدینے کا سفر ہے
دل پر میرا سوار مدینے کا سفر ہے

آنکھوں میں مدینہ ہے تصور میں مدینہ
خیالات بے شمار مدینے کا سفر ہے

کیا خوب مزے دار مدینے کا سفر ہے
دل پر میرا سوار مدینے کا سفر ہے

کہنا قلم سے آج تھک نہ جائے اے شبیؔر
منہ پر بھی ہیں اشعار مدینے کا سفر ہے

کیا خوب مزے دار مدینے کا سفر ہے
دل پر میرا سوار مدینے کا سفر ہے

دل کی دنیا بدل سی جاتی ہے
جب مدینے کی یاد آتی ہے

عشق کی دنیا کا رنگ اور ہی ہے
دل کو یادوں سے بہلاتی ہے

جب مدینے کی یاد آتی ہے

دل کی دنیا بدل سی جاتی ہے
جب مدینے کی یاد آتی ہے

اپنی یادوں کے دریچے میں یہی
پھول رنگ رنگ کے مہکاتی ہے

دل کی دنیا بدل سی جاتی ہے
جب مدینے کی یاد آتی ہے

جب بھی یادوں پہ ذرا غور کروں
چاہوں نعتیں مجھے سناتی ہے

جب مدینے کی یاد آتی ہے
دل کی دنیا بدل سی جاتی ہے

اپنی یادوں سے جو مشغول رہوں
کبھی ہنسا، کبھی رلاتی ہے

جب مدینے کی یاد آتی ہے
دل کی دنیا بدل سی جاتی ہے

دنیا محبوب مجھے یہی ہے شبیر
اپنا دیوانہ جو بناتی ہے

جب مدینے کی یاد آتی ہے
دل کی دنیا بدل سی جاتی ہے

شروع اب ہوا ہے مدینے کا رستہ
کہے دل کہ کیا ہے مدینے کا رستہ

یہ دل کا ہے رستہ یہ آرزوئے دل ہے
کہ دل پر کھلا ہے مدینے کا رستہ

یہ راہِ محبت ہے، راہِ یقیں ہے
طریقِ وفا ہے مدینے کا رستہ

اسی راہ پر تھے گئے کون سوچو
طریقِ صفا ہے مدینے کا رستہ

سڑک پر گزرتے میں اس بورڈ کو چوموں
کہ جس پہ لکھا ہے مدینے کا رستہ

شبیؔر رستہ جنت کا کیا ہے جو پوچھے
تو دل نے کہا ہے مدینے کا رستہ

شروع اب ہوا ہے مدینے کا رستہ
کہے دل کہ کیا ہے مدینے کا رستہ


مزید تشریح

عقل زبردست چیز ہے لیکن یہاں پر کیفیات دل کی بیان کی گئی ہیں اور دل کی اپنی بھی ایک سمجھ ہوتی ہے جس تک عقل نہیں پہنچ سکتی۔ دل کا حال اور کیفیات کو الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ الفاظ حال کی مکمل ترجمانی نہیں کر سکتے۔ جیسے مثنوی شریف ہے۔ حضرت مولانا حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا ملفوظ ہے کہ "تین کتابیں البیلی ہیں: قرآن مجید، بخاری شریف اور مثنوی شریف۔" یہ دیکھیں یہ کسی شاعر کا ملفوظ نہیں ہے، بلکہ ایک مایہ ناز عالمِ دین نے یہ کہا ہے جو دار العلوم دیوبند کے اصل بانی اور روحِ رواں تھے۔ اس لیے ہمارے ہاں جو یہ شاعری کی مجالس ہوتی ہیں یہ ویسے نہیں ہوتیں ان کا مقصد ہوتا ہے، اس میں آیا کرو، بعض اوقات درمیان میں کوئی ایسی بات دل میں اتر جاتی ہے یا اثر کر جاتی ہے جو گھنٹوں کے بیانات میں اثر نہیں کرتی۔

دل کی اصلاح میں پاکیزہ شاعری کا کردار، ہوشِ دیوانگی اور حرمین شریفین کی روحانی کیفیات - عارفانہ کلام مجلس - اشاعت دوم