انسان کا کسب، اللہ کی قدرت اور بچھڑے کی پوجا کا فتنہ

درس نمبر 294، سورہ الاعراف آیات 145 تا 151، اشاعتِ اول: 10 اور 11 اکتوبر، 2022، بمطابق 13 اور 14 ربیع الاول ، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حضرت موسیٰ کو تختیاں مضبوطی سے تھامنے کا حکم ملا۔

ناحق تکبر کرنے والے اللہ کی نشانیوں سے برگشتہ رہے۔

ہاروت و ماروت کی مثال سے مسئلہ اختیار واضح ہوا۔

دلوں کی کجی سے بچنے کی قرآنی دعا بیان ہوئی۔

قوم موسیٰ نے بچھڑا پوجا اور بعد میں پچھتائی۔

حضرت موسیٰ نے مغفرت مانگی اور سامری کو سزا ملی۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔

فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔

وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ (145) سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ (146) وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (147)۔

ترجمہ: اور ہم نے ان کے لئے تختیوں میں ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی، (اور یہ حکم دیا کہ:) ”اب اس کو مضبوطی سے تھام لو، اور اپنی قوم کو حکم دو کہ اس کے بہترین احکام پر عمل کریں۔“ میں عنقریب تم کو نافرمانوں کا گھر دکھا دوں گا۔“﴿145﴾

حاشیہ: بظاہر اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے جو اس وقت عمالقہ کے قبضے میں تھا، اور دکھانے سے مراد یہ ہے کہ وہ علاقہ بنی اسرائیل کے قبضے میں آجائے گا، جیسا کہ حضرت یوشع اور حضرت سموئیل علیہما السلام کے زمانے میں ہوا۔ بعض مفسرین نے ’نافرمانوں کے گھر‘ کا مطلب دوزخ بتایا ہے، اور مقصد یہ بیان کیا ہے کہ آخرت میں تمہیں نافرمانوں کا یہ انجام دکھا دیا جائے گا کہ جنہوں نے تم پر ظلم کئے تھے، وہ کس برے حال میں ہیں۔

ترجمہ: میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں، اور وہ اگر ہر طرح کی نشانیاں دیکھ لیں، تو ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اگر انہیں ہدایت کا سیدھا راستہ نظر آئے، تو اس کو اپنا طریقہ نہیں بنائیں گے، اور اگر گمراہی کا راستہ نظر آجائے تو اس کو اپنا طریقہ بنالیں گے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، اور ان سے بالکل بے پروا ہوگئے ﴿146﴾ اور جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کو اور آخرت کا سامنا کرنے کو جھٹلایا ہے، ان کے اعمال غارت ہوگئے ہیں۔ انہیں جو بدلہ دیا جائے گا، وہ کسی اور چیز کا نہیں، خود ان اعمال کا ہوگا جو وہ کرتے آئے تھے۔ ﴿147﴾

حاشیہ: اوپر جو یہ فرمایا گیا تھا کہ: ”میں اپنی نشانیوں سے ان لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں“، اس سے کسی کو یہ شبہہ ہو سکتا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود ان کو اپنی نشانیوں سے برگشتہ کر دیا تو ان کا کیا قصور؟ اس شبہہ کو اس فقرے کے ذریعے دور فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے اختیار سے کفر پر اڑے رہنے کا راستہ اختیار کر لیتا ہے، تو ہم وہی راستہ اس کے لئے مقدر فرما دیتے ہیں جسے اس نے اپنی مرضی سے اختیار کیا۔ چونکہ وہ چاہتا ہی یہ تھا کہ ہماری نشانیوں سے برگشتہ رہے، اس لئے ہم اس کو اس کی خواہش کے خلاف کسی بات پر مجبور نہیں کرتے، بلکہ اسے اس کی خواہش کے مطابق برگشتہ ہی رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس کو جو سزا ملتی ہے، وہ خود اپنے ہی عمل کی ملتی ہے جو وہ اپنے اختیار سے مسلسل کرتا آیا تھا۔

یہاں پر اصل میں جبر و اختیار والی بات مسلسل چلی آ رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ جو ہوتے ہیں۔ وہ اس پر اشکال کرتے ہیں کیونکہ قرآن پاک میں اس طرح بار بار آتا ہے۔ کہ ہم نے ان کو، مطلب ظاہر ہے، برگشتہ راستہ دکھا دیا، جو وہ کیا تھا ہم نے ان کو یہ کر دیا۔ تو اس پر لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ پاک کا فعل ہے، یہ تو انسان کا فعل نہیں ہے۔ حالانکہ بات یہ ہے کہ اللہ کا فعل بھی ہے اور انسان کا فعل بھی ہے۔ انسان کا فعل بطور کسب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فعل بطور قدرت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ارادے کے ساتھ جب انسان اپنے بس میں جو اس کے ہے جو کچھ کرنا شروع کر لیتا ہے۔ تو اگر اللہ نہ چاہے تو کر نہیں سکتا۔ ظاہر ہے کیونکہ قدرت تو اللہ تعالیٰ کو ہے، اس کو تو نہیں ہے۔ تو اگر یہ مطلب چاہے گا بھی تو نہیں کر سکتا۔ لیکن جب یہ چاہتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس طرح کر لیتے ہیں۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دے دوں جو کہ میرے خیال میں بہت اس میں، قرآن میں ہی آیا ہے۔ ہاروت و ماروت والا واقعہ۔ کہ ہاروت و ماروت وہ لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہم تو آزمائش ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے، کفر ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر وہ لوگ کہتے ہیں "نہیں ہمیں سکھا دو" تو پھر سکھا دیتے ہیں۔ آزمائش جو تھی۔ تو آزمائش تھی، تو اس طرح کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ منع فرماتے ہیں۔ یعنی ہاروت و ماروت گویا کہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے تھے۔ اور وہ کام ظاہر ہو گیا جو اللہ کرتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منع فرماتے ہیں، ہدایت یہی ہے۔ تو یہاں پھر یہ فرمایا گیا ہے کہ ہم ان کو ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں تو اس کو نہیں مانتے۔ یعنی اب یہ بالکل ہی کھل کے بات آ گئی ہے، میرے خیال میں ہمیں اس کو نوٹ کرنا چاہیے۔ اس پر بہت اچھے یعنی وہ آیا ہوا ہے۔ کہ ہم اس کو جب ہدایت کا راستہ دکھاتے ہیں تو اس کو نہیں لیتے۔ اور جب گمراہی کا راستہ آتا ہے تو اس کو لے لیتے ہیں۔ یہ بالکل صاف وہ یعنی آیت کریمہ ہے۔ اور اس کو ہم لوگ، اس کو اچھی طرح وہ سمجھ لیں۔

وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ (146)

یہ جبر و اختیار کی تشریح کے لیے بہت ماشاء اللہ عمدہ مثال ہے آیت میں۔ کہ وہ یہ ہے کہ جس وقت ان کو نظر آتا ہے وہ ہدایت کا راستہ، تو یہ اس کو نہیں لیتے۔ اور جس وقت کوئی گمراہی کا راستہ دیکھ لے، تو اس کو لے لیتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ان میں کجی ہے۔ اسی لیے وہ جو ہم دعا کرتے ہیں رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ۔ یہ دعا اسی مقصد کے لیے ہے کہ اگر اللہ پاک ہمیں ہدایت نصیب فرما دے، تو اس کے بعد پھر ہم لوگ کیا کریں، ہمارے دلوں کے اندر کجی نہ ہو۔ تو میرے خیال میں یہ آیت کریمہ اور یہ دعا اس کو ملا کے جب ہم پڑھتے ہیں، تو اس میں بہت سارے علوم منکشف ہو جاتے ہیں۔ اللہ جل شانہ ہمیں صحیح راستے پہ ڈالے اور اس سے جو صحیح مفہوم ہے اس کو لینے کی توفیق عطا فرما دے۔

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ (148) وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىٕنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (149) وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (150) قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ (151)

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ : اور موسیٰ کی قوم نے ان کے جانے کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنالیا (بچھڑا کیا تھا؟) ایک بے جان جسم جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی!

حاشیہ: اس بچھڑے کا مختصر ذکر سورۂ بقرہ (2:51) میں بھی گزر رہا ہے، اور اس کا مفصل واقعہ سورۂ طٰہٰ (20:88) میں آنے والا ہے کہ کس طرح سامری جادوگر نے یہ بچھڑا بنایا، اور بنی اسرائیل کو یقین دلایا کہ (نعوذ باللہ) تمہارا خدا یہی ہے۔

اصل میں لوگوں کا بڑا ہی یعنی یہ جس کو کہتے ہیں نا، اللہ جل شانہ کے بارے میں ایسا کمزور عقیدہ، کہ ایک بے جان بچھڑا ہے، اس سے آواز نکلتی ہے تو اس کو خدا کہہ دیا۔ حالانکہ وہ ہاتھ پیر بھی نہیں ہلا سکتا، سانس بھی نہیں لے سکتا اور کچھ نہیں کر سکتا، لیکن صرف آواز نکالتا ہے۔ تو یہ شیطان کے وہ ہیں سارے، اللہ تعالی بچائے، چال جو ہے۔ تو یہ ہے کہ

ترجمہ: بھلا کیا انہوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے، اور نہ انہیں کوئی راستہ بتا سکتا ہے؟ (مگر) اسے معبود بنالیا، اور (خود اپنی جانوں کے لئے) ظالم بن بیٹھے ﴿148﴾ اور جب اپنے کئے پر پچھتائے، اور سمجھ گئے کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے: ”اگر اللہ نے ہم پر رحم نہ فرمایا، اور ہماری بخشش نہ کی تو یقیناً ہم برباد ہوجائیں گے۔“ ﴿149﴾ اور جب موسیٰ غصے اور رنج میں بھرے ہوئے اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو انہوں نے کہا: ”تم نے میرے بعد میری کتنی بُری نمائندگی کی! کیا تم نے اتنی جلد بازی سے کام لیا کہ اپنے رب کے حکم کا بھی انتظار نہیں کیا؟“ اور (یہ کہہ کر) انہوں نے تختیاں پھینک دیں،

حاشیہ: یہ تورات کی تختیاں تھیں جو وہ کوہِ طور سے لائے تھے۔ ”پھینکنے“ سے یہاں مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جلدی میں انہیں اس طرح ایک طرف رکھا کہ دیکھنے والا اسے پھینکنے سے تعبیر کرسکتا تھا، خدانخواستہ ان کی بے حرمتی مقصود نہیں تھی۔

کیونکہ ظاہر ہے، ان کو جو فکر تھی، اس فکر کی وجہ سے وہ بالکل یعنی ٹھہر نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے فوراً یہ کام کر دیا۔

ترجمہ: اور اپنے بھائی (ہارون علیہ السلام) کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف کھینچنے لگے۔ وہ بولے: ”اے میری ماں کے بیٹے! یقین جانئے کہ ان لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا، اور قریب تھا کہ مجھے قتل ہی کر دیتے۔ اب آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیجئے، اور مجھے ان ظالم لوگوں میں شمار نہ کیجئے“ ﴿150﴾ موسیٰ نے کہا: ”میرے پروردگار! میری اور میرے بھائی کی مغفرت فرمادے، اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کردے۔ تو تمام رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے“ ﴿151﴾ (اللہ نے فرمایا:) ”جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ہے، ان پر جلد ہی ان کے رب کا غضب اور دُنیوی زندگی ہی میں ذلت آپڑے گی۔ جو لوگ افترا پردازی کرتے ہیں، ان کو ہم اسی طرح سزا دیتے ہیں ﴿152﴾ اور جو لوگ بُرے کام کرگزریں، پھر ان کے بعد توبہ کرلیں، اور ایمان لے آئیں، تو تمہارا رب اس توبہ کے بعد (ان کے لئے) بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔“ ﴿153﴾

تو یہ جو لوگ تھے، ظاہر ہے ان لوگوں نے اپنی کج فہمی کی وجہ سے بچھڑے کو خدا سمجھا۔ پھر بعد میں پشیمان ہو گئے۔ لیکن اس وقت ان لوگوں نے یہ حرکت کی۔ اور موسی علیہ السلام ظاہر ہے، مطلب انہوں نے فوراً اس پر ری ایکشن کا اظہار فرمایا۔ لیکن ہارون علیہ السلام نے یہ کہ ان لوگوں نے مجھے کمزور کر دیا ہے۔ اس وجہ سے میں کچھ نہیں کر سکا، اور اب اگر آپ مجھ پر سختی کریں گے تو یہ دشمن مجھ پر ہنسیں گے۔ تو موسی علیہ السلام نے، بس ظاہر ہے، جو پیغمبر تو یہی کر سکتا ہے کہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ تو اللہ پاک کی طرف متوجہ ہوئے اور دعا کی کہ اللہ

ترجمہ: میری اور میرے بھائی کی مغفرت فرمادے، اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کردے۔

تو بہرحال یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایسی حرکت کی، ان کے لیے بہت غضب کے وہ احکامات آ گئے۔ اور بعد میں جو سامری تھا، اس کو تو ایک خاص قسم کی بیماری لگ گئی۔ جس کی وجہ سے، مطلب وہ ڈرتا تھا، کوئی اس کو چھو نہیں سکتا تھا۔ تو یہ بات ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو اسی طرح بیماری میں ہلاک کر دیا۔ اور یہ جو ہے، مطلب جو باقی لوگ تھے، ان کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو برے انجام سے محفوظ فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا انِ اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ اَلْعٰلَمِينَ۔


آج کی مزید تشریح:

ہدایت اور کجی

ایک لفظ ہدایت ہے اور دوسرا لفظ کجی۔ قرآن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علمائے کرام، یہ سب ہدایت کے ذرائع ہیں۔ البتہ علمائے کرام کا علم اُس وقت ہدایت ہے جب وہ اللہ کے لیے استعمال ہو۔ اگر وہ دنیا کے لیے استعمال ہو تو ہدایت نہیں رہتا بلکہ دلوں کی کجی بن جاتا ہے۔ مثلاً ایسے علما جو اپنی دنیاوی منفعت کے لیے لوگوں کو ان کی مرضی کے فتاویٰ دے دیتے ہیں، جیسے مشرف کے دور میں ایسے علما تھے جو اس کی پالیسیوں کی حمایت کرتے تھے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ جن کے لیے یہ فتاویٰ دیے جاتے ہیں، انہیں بھی حقیقتِ حال معلوم ہوتی ہے کہ کون لوگ ٹھیک ہیں۔ انگریزوں نے ٹیپو سلطان کو ایک غدار کی مدد سے شکست دی اور شہید کیا، لیکن جب انہیں دفنایا جا رہا تھا تو 21 توپوں کی سلامی دی اور پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا۔

اس لیے ہدایت تو بتا دی جاتی ہے، لیکن اسے قبول نہ کرنا دلوں کی کجی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہاروت و ماروت کی ہمارے پاس زبردست مثال ہے کہ ایک طرف ہدایت کا راستہ بتا دیا جاتا ہے اور دوسری طرف گمراہی کا راستہ بھی، لیکن کجی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

اس کجی سے بچنے کے لیے قرآنِ پاک نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے، اور یہ ایک بہترین دعا ہے:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ (آل عمران: 8)

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما۔ بے شک تیری اور صرف تیری ذات وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے۔

انسان کا کسب، اللہ کی قدرت اور بچھڑے کی پوجا کا فتنہ - درسِ قرآن - دوسرا دور