تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر

اشاعت اول: منگل، 10 اور 16 جنوری، 2012، بمطابق: 16 اور 23 صفر، 1433 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

الحمد للہ، دین آسان ہے اور دین ہماری زندگی کے لیے جان کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ جان تو امانت ہے۔ یہ تو ایک وقت تک ہے، اس کے بعد لے لی جائے گی، اور مال و دولت بھی امانت ہے، وقت بھی امانت ہے۔ لیکن اگر ہم اس کو اللہ جل شانہ کی منشا کے مطابق، ان تین چیزوں کو استعمال کر لیں تو پھر ان شاء اللہ وہ جو ابدی زندگی ہے وہ ہماری بن جائے گی۔

تو اس ابدی زندگی بنانے کے لیے ایک تو علم کی ضرورت ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اللہ چاہتا کیا ہے اور جو چاہتا ہے اس کو کرنا کیسے ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اس سے روکنے کے لیے جو طاقتیں ہیں، مثلاً شیطان ہے اور نفس ہے، اس سے مقابلہ کیسے کیا جائے، نفس کی تربیت کیسے کی جائے اور شیطان کی بات سے اپنے آپ کو کیسے بچایا جائے۔ اس سلسلے میں ساری بات ہوتی ہے، تو چونکہ اس میں تجرباتی باتیں ہوتی ہیں، علمی باتیں بھی ہوتی ہیں، تجرباتی باتیں بھی ہوتی ہیں، تربیت تو ساری کی ساری تجرباتی ہے۔ تو اس لحاظ سے اس میں پھر پوچھنے کی ضرورت بھی پڑتی ہے کہ جو کسی کی ضرورت ہو، مثلاً کوئی بات سمجھ نہیں آ رہی ہو یا طریقہ سمجھ میں نہ آ رہا ہو تو اس کے لیے پھر رابطہ کیا جاتا ہے۔ تو یہ جو ہم نے پروگرام شروع کیا ہے، اسی رابطے کے لیے شروع کیا ہے۔

سوال نمبر 8: کوئی بندہ جو کہ بظاہر کسی ایسے رستے پر نہیں ہے، تصوف کے رستے پر، تو وہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں کرسکتا ہوں اس طرح کا تو اس کو کتنا considerکرنا چاہیے یا اس سے بچنا چاہیے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: اصل میں بڑی جسارت ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ جو اہل بھی ہوتے ہیں اس کا دعویٰ نہیں کرتے۔ جو دعویٰ کرتے ہیں وہ تو مارے گئے بیچارے۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ "میں کرتا ہوں" تو وہ تو گیا۔ چاہے وہ کر بھی جس کو کہتے ہیں۔۔۔ تو بس اپنی بیوقوفی کی وجہ سے ایسا کر رہا ہو گا۔ کیونکہ اس مسئلے میں دعویٰ تو چلتا نہیں ہے، اس کی میں آپ کو ایک وجہ بتا دوں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ دیکھیں medical line ہے، تو medical line میں تو ہمارے پاس بہت سارے وسائل ہوتے ہیں۔ مثلاً blood test ہے، temperature thermometer کے ذریعے سے چیک کرنا ہے، blood pressure چیک کرنا ہے، X-ray ہے، مطلب ultrasound ہے، اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں موجود ہیں۔ اس کے ذریعے سے سارا چیک کر کے جو ماہر ڈاکٹر ہوتے ہیں، وہ آپس میں ڈسکس کر کے کوئی conclusion ڈرا کر لیتے ہیں کہ فلاں بیماری ہے۔ پھر بھی کچھ پتہ چلتا ہے، کچھ نہیں چلتا، پریشانی ہوتی ہے۔

اب یہ جو تصوف والی line ہے، وہ تو سارے کا سارا wholly solely اللہ پر انحصار ہے۔ اس میں کون سا ٹیسٹ ہے؟ کون سا blood test ہے؟ کون سی X-ray رپورٹ ہے؟ کون سی رپورٹ ہے۔۔۔ یہ ساری چیزیں تو نہیں ہیں نا۔ اور یہ ہے کہ اس کی جو بیماری ہے وہ زیادہ hidden ہے، یعنی وہ physical بیماری سے زیادہ گہری ہے۔ اب گہری بیماری کے لیے تو زیادہ ٹیسٹ چاہیے، تو کس کے پاس ہیں وہ؟

تو بس اللہ تعالیٰ جس کو قبول فرما لے اور جس سے اللہ تعالیٰ کام لینا چاہے تو اس کے اوپر اللہ پاک کھولتے رہتے ہیں، تو چیزیں بھی کھولتے ہیں، اس کا طریقہ بھی کھولتے ہیں۔ اور اللہ پاک وہ راستے بناتے رہتے ہیں۔ تو کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ "میں کرتا ہوں"؟ اس میں تو جو کرنے والے ہیں وہ بھی دعویٰ نہیں کرتے۔ یہ حضرت انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، ان کو ایک دفعہ چیز پڑھ لیتے تھے تو یاد ہو جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا تیز حافظہ دیا تھا۔ ان سے اگر کوئی سوال پوچھتے تو فوراً پڑھ لیتے حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ اور پھر بیٹھ جاتے، پھر جواب دیتے اللہ پاک جواب بھیج دیتے۔

اب اکثر یہ ہے کہ ہمارا تو سارے کا سارا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔ کون کہتا ہے کہ "میں کر سکتا ہوں"؟ اور پھر اس قسم کی جسارت کہ اپنے اوپر اتنا ہو، اور پھر اس line میں قدم رکھے، تو یہ بیوقوفی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اس کو تو خود guidenceکی ضرورت ہے۔

سوال نمبر 9: ایسے ایک clean shaved سا شخص وہ claim کرتا ہے۔

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پوچھنے والا اس وقت نہیں پوچھے گا، وہ ادھر پوچھے گا۔ تو ادھر تو پھر کچھ بھی راستہ نہیں ہو گا۔ تو اب لوگ اس گیپ میں جو کچھ کرنا چاہیں تو کریں۔ وقت ہے، اس وقت میں جو کچھ کرنا کوئی چاہے تو کر سکتا ہے۔ لیکن ادھر پتہ چلے گا پھر۔ کہتے ہیں گرد کو بیٹھنے دو، پھر پتہ چل گا گھوڑے پہ سوار تھے یا گدھے پہ۔ ذرا گرد کو بیٹھنے تو دو۔

سوال نمبر 10: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا کہ اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو۔ یہ احسان سے کیا مراد ہے؟ یعنی احسان جس طرح ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ ان کا کام کر دیا ہم نے احسان کر دیا۔

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: احسان اصل میں لفظ ہے "حسْن" سے، عربی کا لفظ ہے۔ اچھا۔ کوئی چیز اچھی ہوتی ہے نا تو ہم کہتے ہیں یہ "حَسَن" ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ کسی چیز کو آپ اچھا کہتے ہیں اس کو کہتے ہیں "تَحْسِیْن"، یعنی اس کی تحسین کرنا۔ ٹھیک ہے نا؟ احسان، کسی چیز کو اچھا کرنا۔ کسی چیز کو اچھا کرنا کیا ہے؟ احسان۔

تو اس میں بات یہ ہے کہ آپ یوں سمجھ لیجیے، جو اس کا حق ہے، اس سے زیادہ اس کو دیں، اس کو احسان کہتے ہیں۔ اگر آپ حق کے برابر دیں تو وہ تو اس کا حق تھا۔ وہ تو اس کو ویسے بھی ملنا چاہیے تھا، اگر نہ کریں گے تو گنہگار ہو جائیں گے۔ لیکن یہ ہے کہ احسان کا مطلب یہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ دو۔ تو یہ احسان ہے۔ تو اس کے لیے قرآن پاک میں ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ۔ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ ہو سکتا ہے؟ یعنی اگر آپ کے ساتھ کسی نے احسان کیا، کچھ آپ کو آپ کے حق سے زیادہ دیا، تو اب آپ بھی اس کے ساتھ احسان کریں۔ تو احسان کا مطلب یہی ہے کہ اس کے حق سے اس کو زیادہ دینا۔ اس کے حق سے اس کی زیادہ رسپیکٹ کرنا اسے حق سے زیادہ اس کو وہ دینا۔

سوال نمبر 11: مقصد کے حصول کے لیے جو ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں، اختیار کیے جاتے ہیں، ان پہ بھی ثواب ملتا ہے؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: اس مقصد پہ منحصر ہے کہ بھئی مقصد کیا ہے؟ اگر وہ مقصد نیک ہے تو ثواب ملے گا۔ مثال کے طور پر آپ نے نماز پڑھنے کے لیے سردی میں گرم پانی کا بندوبست کرنا ہے تو اب مقصد نماز پڑھنا ہے اس کے لیے ذریعہ وضو ہے۔ اب اس وضو کے لیے ذریعہ آپ بنا رہے ہیں کہ سردی میں آسانی کے ساتھ لوگ وضو کریں تو اس پہ ثواب ملے گا یا نہیں ملے گا؟ اور اگر کوئی برائی کے لیے راستہ بنائے گا تو اس پہ گناہ ہوگا۔

سوال نمبر 12: سر جو وقت ذرائع اختیار کرنے میں لگا رہے اس پہ؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: ذرائع کو تو مقصد نہیں بنانا چاہیے۔

سوال نمبر 13: جیسے حصول اپنی اصلاح کا وہ کرنا ہے لیکن ابھی اصلاح ہوئی نہیں ہے under process ہے وہ، تو اس پہ بھی ثواب ملتا رہے گا اس کو؟

سوال جواب مجلس 10 جنوری 2012، مجلس نمبر: 2

جواب: ہاں بالکل صحیح ہے، اس کو ثواب اس لیے مل رہا ہے کہ وہ راستے پہ چل رہا ہے۔ یہ جو میں نے آپ سے عرض کیا نا کہ کوئی اس مقصد کے لیے یہاں پر آ رہا ہے تو اس کو ان شاء اللہ تعالیٰ انچاس کروڑ نمازوں کا ثواب ملے گا نا اپنی نماز کا۔ تو وہ کیا وجہ ہے؟ اسی وجہ سے ہے نا کہ اللہ کے لیے آ رہا ہے نا، تو اجر تو اس پہ ملے گا۔

سوال نمبر 1: نفس اور شیطان کی جو شرارت ہے اس کا ڈفرنس کیسے پتا لگے گا کہ یہ نفس کی ہے یا شیطان کی ہے؟

سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3

جواب: ہاں، یہ اچھا سوال ہے کہ کون سا کام نفسانی خواہش کی وجہ سے ہے اور کون سا کام شیطانی لغزش کی وجہ سے ہے، شیطانی اغوا کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں چیزیں ہیں۔ جس کے بارے میں پتا چل جائے کہ ایک ہی چیز طلب ہو رہی ہے، یعنی ایک ہی چیز مسلسل طلب ہو رہی ہے، کسی ایک گناہ کی طرف مسلسل دھیان جا رہا ہے تو سمجھو کہ یہ نفس کی طرف سے ہے۔ کیونکہ نفس اپنا مطلب چاہتا ہے، اس کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ گناہ اس سے ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، اس کو اپنی غرض پوری کرنی ہے، چاہے وہ جائز طریقے سے پوری ہو، چاہے ناجائز طریقے سے پوری ہو۔ وہ ناسمجھ بچے کی طرح ہے، اس کو اس کا یعنی پتا نہیں ہوتا کہ اس سے نقصان ہوگا۔ اس کو بس صرف وہ فوری خواہش پوری کرنی ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی ایسی بات ہو تو یہ پھر نفس کی وجہ سے ہوتی ہے۔

اور اگر ایک برائی کی خواہش آ رہی ہو اور اس کو آپ روکتے ہیں اور اس کے ساتھ دوسری برائی کی خواہش آ جائے فوراً، تو سمجھو کہ پھر یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ کیونکہ شیطان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ فلاں برائی کرائی جائے، اس کو اس سے غرض ہے کہ آدمی گناہ کر لے، آدمی اللہ تعالیٰ سے دور ہو جائے۔ اس وجہ سے اس طرف ہوتا ہے، ایک تو یہ علامت ہے۔

دوسری علامت یہ ہے کہ کفار سے جو گناہ ہوتے ہیں وہ نفس کی وجہ سے ہوتے ہیں، لہٰذا مسلمانوں سے بھی وہ گناہ نفس کی وجہ سے صادر ہوں گے۔ کیونکہ نفس مسلمان کے ساتھ بھی ہے، کافر کے ساتھ بھی ہے۔ اور جو مسلمان سے تو گناہ یعنی ہوتے ہیں لیکن کافر سے نہیں ہوتے، تو وہ شیطانی گناہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ شیطان کافروں سے وہ گناہ نہیں کرواتا۔ ان کو پتا ہوتا ہے کہ یہ تو ہمارے ہیں، یہ تو جہنم جانے ہی جانے ہیں۔ لہٰذا ان کو کسی ایسے گناہ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ کہتے ہیں بلکہ اچھے رہیں تاکہ دوسرے لوگوں کے لیے مثالی بن جائیں اور دوسرے لوگ بھی ان کی وجہ سے کافر بن جائیں۔

مثال کے طور پر قادیانی جو ہیں، جب یہ قادیانی بن جاتے ہیں تو بڑے تحمل مزاج ہو جاتے ہیں اور خرچ بھی کرنے لگتے ہیں، برداشت ان میں آ جاتی ہے، سلیقہ بھی ان میں آ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب شیطان نے ان سے وہ اثر ہٹا لیا، باقی مسلمانوں کے اوپر وہ چیزیں موجود ہوتی ہیں۔

تو شیطان کافروں سے وہ گناہ نہیں کرواتا بلکہ صرف مسلمانوں سے، کیونکہ مسلمانوں کے بارے میں اس کو پتا ہوتا ہے کہ اگر ایک دفعہ سبحان اللّٰه بھی کہے گا تو اس پر بھی اس کا مرتبہ بلند ہوگا۔ اگر کسی راستے سے کوئی تکلیف دہ پتھر بھی ہٹائے گا تو اس پر بھی اس کو اجر ملے گا، لہٰذا اس کی ہر ہر چیز کے پیچھے ہوتا ہے کہ کہیں کوئی نیکی نہ کر لے۔ تو یہ علامت ہے۔

سوال نمبر 2: یہ سوال کرنے اور اشراف نفس میں کیا فرق ہے اور ان کا حکم کیا ہے؟

سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3

جواب: ایک ہوتا ہے سوال۔ سوال جو ہوتا ہے یہ کسی سے سوال کرنا، اپنے کسی دنیاوی مقصد کے لیے، یہ سوال ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو پیسے چاہییں یا آپ کو کوئی سروس چاہیے، ہیں جی، تو وہ سوال ہے۔ تو سوال کرنا جو ہے مطلب بلاوجہ حرام ہے، مطلب جب تک جائز نہ ہو، اور جواز کی شرطیں پھر بڑی تفصیلی ہیں لہٰذا وہ اس مختصر موقع پر نہیں بیان کی جا سکتیں۔ لیکن جب تک شریعت نے اس کی اجازت نہ دی ہو تو اس وقت تک سوال حرام ہے۔

اور اشرافِ نفس، زبان سے سوال نہیں کیا جاتا، دل میں خیال ہوتا ہے کہ یہ مجھے دے دے۔ مثال کے طور پر بھوکا آدمی ہے، آ کر کوئی کھانا کھا رہا ہے، اب دل میں اس کی چاہ، خواہش ہے کہ یہ مجھے بھی کہہ دے کہ آپ میرے ساتھ کھا لیں۔ تو یہ اشرافِ نفس ہے، یہ اشرافِ نفس ہے۔ اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہ شادی بیاہ کے جو چکر ہوتے ہیں، کوئی آدمی کہے کہ مجھے بھی کارڈ دے دے، مجھے بھی بلا لے شادی پر، تو یہ اشرافِ نفس ہے۔ تو ایسا اشرافِ نفس بہت عام ہوتا ہے، مطلب لیکن اس کا پتا نہیں چلتا۔ عام لوگوں کو پتا نہیں چلتا، ظاہر ہے وہ چھپا ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، دل کی بات ہے، اور سوال کا پتا چلتا ہے۔ تو اشرافِ نفس، یہ بھی حرام ہے۔

اس وجہ سے وہ ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کو فاقہ تھا، تو ان کے ایک شاگرد آئے تو ان کے لیے خوانچہ بھرا ہوا لائے کھانے کا۔ جب وہ لائے تو ان حضرت کے سامنے سلام کر کے بیٹھ گئے اور اس کو رکھ دیا۔ تو انہوں نے کہا: بیٹا! آپ بہت اچھا کیا آپ لے آئے، آپ کو اس کا ثواب مل گیا، لیکن میرے لیے یہ حرام ہے۔ اس نے کہا: حضرت! میرا کھانا آپ کے لیے کیسے حرام ہو گیا؟ فرمایا کہ جب آپ آ رہے تھے تو میرے دل میں خیال آیا تھا کہ اب یہ میرے لیے کوئی کھانے کی کوئی چیز لا رہا ہے، لہٰذا وہ میرا اشرافِ نفس تھا، تو یہ ٹھیک نہیں ہے، اب میرے، میں نہیں کھا سکتا۔ تو وہ شاگرد بڑے ہوشیار تھے، تو اس نے کہا: حضرت! میں آپ کو حرام کیوں کھلاؤں گا؟ بالکل نہیں کھلاتا، میں لے جاتا ہوں، پھر کبھی سہی۔ اور بس چلے گئے اور فوراً واپس آ گئے، کہتے ہیں: حضرت! اب تو آپ کا خیال نہیں تھا؟ کہا: جی بالکل نہیں تھا۔ اس نے کہا: جی بس آپ کھا لیجیے۔ تو شکر خورے کو خدا شکر دے دیتا ہے۔ دیکھو اللہ پاک نے حلال کھلا دیا، جب حرام سے نظر ہٹا دی تو حلال کھلا دیا، فوراً کھلا دیا۔ تو اللہ تعالیٰ دیتے ہیں مطلب کسی کو ظاہر ہے محروم نہیں فرماتے، لیکن یہ کہ انسان اللہ سے مانگے۔

میں آپ کو اس کی ایک مثال اور دیتا ہوں۔ میں گیا تھا Jabees ہوٹل میں میرا قیام تھا، کراچی میں، سرکاری ڈیوٹی پہ گیا تھا، اور آپ کو پتا ہوتا ہے کہ سرکاری ڈیوٹی، یہ Jabees ہوٹل، اس قسم کے جو ہوٹل ہوتے ہیں، اس میں یا کاروباری لوگ ٹھہرتے ہیں یا سرکاری افسر ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ عام لوگوں کی رینج سے تو یہ باہر ہوتے ہیں، مطلب ان کے جو اخراجات ہوتے ہیں۔ تو وہ پھر یہ ہے کہ سرکاری افسر ان کو پتا چل جاتا ہے کہ یہ کسی سرکاری جگہ سے آئے ہوئے ہیں۔ اب جو ان کے بیرے تھے، تو ان کا یہ خیال تھا کہ میں ان کا کوئی کام کر لوں، مطلب کوئی ان کے لیے کوئی vacancy وغیرہ یا کوئی اس طرح، ہوتے ہیں مطلب لوگوں کو خیال ہوتا ہے۔

تو میں نماز کے لیے جا رہا تھا صبح کی، تو یہ ایک جائے نماز پہ بیٹھا ہوا تھا corridor میں، اور زور زور سے دعا کر رہا تھا کہ: اے اللہ! میں بے روزگار ہوں، مجھے روزگار عطا فرما دے اے اللہ! میرا یہ مسئلہ ہے، میرا یہ مسئلہ ہے۔ سنا مجھے رہا تھا، تو مجھے بڑی حیرت بھی آئی، مجھے غصہ بھی آ گیا کہ اگر مجھے صاف کہہ دیتے، تو چلو ایک جائز کام تھا کہہ دیتے، تو اگر ہو سکتا تھا تو میں کر دیتا، نہ ہو سکتا تو معذرت کر لیتا۔ لیکن یہ ناٹک رچانے کی کیا ضرورت تھی کہ خواہ مخواہ اس طریقے سے وہ کہنا کہ اشاروں سے، دل میں ایک چیز رکھی ہوئی۔ تو یہ چیز اس طرح ہوتی ہے۔ بہت سارے لوگ اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔

سوال نمبر 3: کسی کو اشرافِ نفس ہو جائے اور وہ جھٹلا دے اس خیال کو، تو بھی؟

سوال جواب مجلس 16 جنوری 2012، مجلس نمبر: 3

جواب: ہاں، مطلب ہو سکتا ہے اس خیال کو وہ جھٹلا دے، لیکن جھٹلانے کے مراحل ہیں۔ مثلاً ایک شخص ہے، وہ نماز قصر پڑھنا چاہتا ہے، تو وہ یہ ہے کہ اب اس کا سامان پڑا ہوا ہے اور اپنی جگہ پر ہے، اور اس میں ویسے ہی نیت کر لے کہ چلو جی میں سفر کی نیت کرتا ہوں کراچی کے، پھر بعد میں چلو نہیں گیا تو نہیں گیا، لیکن چلو کراچی کی نیت کر لیتا ہوں، تو اس سے وہ مسافر تھوڑا ہو جائے گا؟ یقینی طور پر اگر ایسی بات نہیں ہے، پھر تو ٹھیک ہے ورنہ اللہ کو تو دھوکا نہیں دیا جا سکتا نا۔ یہ تو اللہ کے ساتھ معاملہ ہے، تو لہٰذا کھری کھری بات ہونی چاہیے۔

تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت دوم