نجات کا مدار عمل پر ہے، نسب پر نہیں: بنی اسرائیل کے کردار سے عبرت
درس نمبر 292، سورہ الاعراف آیات 130 تا 141، اشاعتِ اول: 7 اور 8 اکتوبر، 2022، بمطابق 10 اور 11 ربیع الاول ، 1444 ہجری
قوم فرعون پر پے در پے عذاب مسلط کیے گئے۔
اصلاح نفس کے بغیر انسان کی حالت درست نہیں ہوتی۔
نجات کے بعد بنی اسرائیل نے خود بت پرستی مانگی۔
یہود کتب میں تحریف اور سازشوں کے ماہر نکلے۔
محض اعلیٰ نسب انسان کے لیے نجات کا ضامن نہیں۔
بزرگوں کی نسبت کے ساتھ اپنی محنت اور عمل ضروری ہے۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ (130) فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ (131) وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ (132) فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِ عَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (133) وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ لَىٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ (134) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ (135)
ترجمہ: اور ہم نے فرعون کے لوگوں کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا، تاکہ اُن کو تنبیہ ہو۔﴿130﴾
حاشہ: پیچھے آیت نمبر 94 میں اللہ تعالیٰ نے جو اُصول بیان فرمایا تھا، اُس کے مطابق پہلے فرعون اور اُس کی قوم کو دُنیا میں مختلف تکلیفیں دی گئیں، تاکہ وہ کچھ نرم پڑیں۔ ان میں سے پہلا عذاب قحط کا مسلط ہوا، اور اُس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔
ترجمہ: (مگر) نتیجہ یہ ہوا کہ اگر اُن پر خوش حالی آتی تو وہ کہتے: ”یہ تو ہمارا حق تھا“ اور اگر اُن پر کوئی مصیبت پڑ جاتی تو اُس کو موسیٰ اور اُن کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ ارے (یہ تو) خود اُن کی نحوست (تھی جو) اللہ کے علم میں تھی، لیکن اُن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں تھے ﴿131﴾ اور (موسیٰ سے) کہتے تھے کہ: ”تم ہم پر اپنا جادو چلانے کے لئے چاہے کیسی بھی نشانی لے کر آجاؤ، ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں“ ﴿132﴾چنانچہ ہم نے اُن پر طوفان، ٹڈیوں، گھن کے کیڑوں، مینڈکوں اور خون کی بلائیں چھوڑیں، جو سب علیحدہ علیحدہ نشانیاں تھیں۔
حاشیہ: یہ مختلف قسم کے عذاب تھے جو یکے بعد دیگرے فرعون کی قوم پر مسلط ہوتے رہے۔ پہلے طوفان آیا جس میں ان کی کھیتیاں بہہ گئیں۔ اس کے بعد جب انہوں نے ایمان لانے کا وعدہ کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دُعا کروائی، اور کھیت بحال ہوئے، اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے تو ٹڈی دل نے کھیتوں کو برباد کر ڈالا۔ پھر وہی وعدے کئے، اور یہ بلا دُور ہوئی اور خوش حالی آنے لگی تو یہ پھر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے، اور ایمان نہ لائے، تو ان کی پیداوار کو گھن لگا دیا گیا۔ پھر وہی ساری داستان دُہرائی گئی، اور یہ پھر بھی نہ مانے تو مینڈکوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ وہ کھانے کے برتنوں میں نمودار ہوتے اور سارے کھانے کو خراب کر دیتے، دوسری طرف پینے کے پانی میں ہر جگہ خون نکلنے لگا، اور پانی پینا دو بھر ہوگیا۔
ترجمہ: پھر بھی انہوں نے تکبر کا مظاہرہ کیا، اور وہ بڑے مجرم لوگ تھے ﴿133﴾ اور جب اُن پر عذاب آپڑتا تو وہ کہتے: ”اے موسیٰ! تمہارے پاس اللہ کا جو عہد ہے، اُس کا واسطہ دے کر ہمارے لئے اپنے رَبّ سے دُعا کردو (کہ یہ عذاب ہم سے دُور ہوجائے)۔ اور اگر واقعی تم نے ہم پر سے یہ عذاب ہٹادیا تو ہم تمہاری بات مان لیں گے، اور بنی اسرائیل کو ضرور تمہارے ساتھ بھیج دیں گے“ ﴿134﴾ پھر جب ہم اُن پر سے عذاب کو، اتنی مدت تک ہٹا لیتے جس تک اُنہیں پہنچنا ہی تھا، تو وہ ایک دم اپنے وعدے سے پھر جاتے ﴿135﴾
یہ اصل میں ایک مسئلہ ہوتا ہے۔ جیسے اللہ پاک نے فرمایا قرآن پاک میں کہ كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَتَذَرُونَ الْاٰخِرَةَ۔ ہرگز نہیں تم جو فوری چیز ہے اس کو دیکھتے ہو جو بعد میں آنے والی چیز ہے اس کو چھوڑتے ہو۔ تو یہاں پر جو فوری عذاب آتا تو اس وقت اس کو لیتے اور اس سے ڈر جاتے اور توبہ کرتے اور موسیٰ علیہ السلام سے کہتے کہ بس آپ ہمارے لیے دعا کریں تو ہم تمہاری بات مان لیں گے۔ لیکن جس وقت عذاب ٹل جاتا موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے تو پھر وہی نفس کی خواہشات سامنے آ جاتیں۔ مطلب دیکھیں نا میں آپ کو بتاؤں بات صرف نفس کی ہے اگر دیکھیں۔ پہلے نفس کی تکلیف سے بچنے کے لیے وہ موسیٰ علیہ السلام سے دعا کرواتے۔ اور جس وقت وہ عذاب ٹل جاتا تو پھر نفس کی وہ جو خواہشات ہوتی تھی جس سے موسی علیہ السلام روکتھے تھے تو وہ سامنے آ جاتیں اور موسیٰ علیہ السلام کی بات نہ مانتے۔ تو گویا کہ بنیادی مسئلہ پھر بھی نفس ہی کا تھا۔ پہلے بھی نفس کا تھا، بعد میں بھی نفس کا تھا، تو جس وقت تک نفس کی اصلاح نہ ہو جائے اس وقت تک معاملہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ تو آج کل ہم لوگ دیکھ رہے ہیں اس وقت جو عذاب آ رہے ہیں، اس وقت جو مشکلات آ رہی ہیں اس پہ لوگ متوجہ نہیں ہو رہے کہ علاج کر لیں۔ وہ ادھر ادھر کی باتیں ہانک رہے ہیں۔ تو یہ اصل میں شامت اعمال والی بات ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمیں جلد سے جلد اس کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم لوگ اپنے اعمال کو درست کر لیں اور ان چیزوں سے توبہ کر لیں جس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں، ان کاموں کو کرنے لگ جائیں جو کہ اللہ پاک کو پسند ہیں۔
فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ(136) وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا صَبَرُوْا ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ (137) وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ (138) اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (139) قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ (140) وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ (141)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اُن سے بدلہ لیا، اور انہیں سمندر میں غرق کردیا، کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، اور اُن سے بالکل بے پروا ہوگئے تھے ﴿136﴾ اور جن لوگوں کو کمزور سمجھا جاتا تھا، ہم نے انہیں اُس سرزمین کے مشرق ومغرب کا وارث بنادیا جس پر ہم نے برکتیں نازل کی تھیں۔
حاشیہ: فرعون اور اُس کے غرق ہونے کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۂ یونس (89:10 تا 92) ، سورۂ طٰہٰ (77:20) سورۂ شعراء (60:26 تا 66) میں آنے والا ہے۔ قرآن کریم جب برکتوں والی زمین کا تذکرہ فرماتا ہے تو اُس سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہوتا ہے۔ لہٰذا اس آیت میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو فرعون نے غلام بنا رکھا تھا، انہیں بعد میں شام اور فلسطین کا مالک بنا دیا گیا۔ یادرہے کہ ان علاقوں پر بنی اسرائیل کی حکومت فرعون کے غرق ہونے کے کافی عرصے کے بعد قائم ہوئی جس کی تفصیل سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 246 تا 251 میں گذری ہے۔
بنی اسرائیل جس وقت وہاں سے چلے گئے تو بھی بہت سارے واقعات ان کے قرآن پاک میں مذکور ہیں، صحرائے سینا میں چلنے کے اور پھر وہ من و سلویٰ کے اور اس کے بہت سارے واقعات موجود ہیں۔ اور اس قوم کے کچھ مسائل جیسے تھے کہ اکڑ والی قوم تھی اور ظاہر ہے ایسی باتیں کرتے تھے اس وقت کے جو پیغمبر ان کے ہوتے تھے ان کو سمجھاتے تھے لیکن یہ بس ان کے اندر کچھ ایسی چیزیں تھیں۔ تو جو لوگ اللہ پاک کا حکم مانتے تھے تو ان کو ظاہر ہے الگ کر لیا جاتا تھا اور جو اس طرح، تو ان کی وجہ سے پھر ان کے اوپر کچھ مسائل اور آ جاتے تھے جیسے کہ اب یہاں ذکر آ رہا ہے۔
ترجمہ: اور بنی اسرائیل کے حق میں تمہارے رَبّ کا کلمہ خیر پورا ہوا، کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا۔ اور فرعون اور اُس کی قوم جو کچھ بناتی چڑھاتی رہی تھی،
حاشیہ: ”بنانے“ سے اشارہ ان عمارتوں اور صنعتی پیداوار کی طرف ہے جس پر اس قوم کو فخر تھا، اور ”چڑھانے“ سے اشارہ اُن باغات کی طرف ہے جن میں انہوں نے انگور وغیرہ کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی تھیں، اور بلند درخت اُگائے ہوئے تھے۔ قرآن کریم نے ان دو مختصر لفظوں کا یہ جوڑا (Pair) جس جامعیت اور بلاغت کے ساتھ استعمال فرمایا ہے، اُسے کسی ترجمے کے ذریعے دوسری زبان میں اُتارنا ممکن نہیں۔
ترجمہ: اُس سب کو ہم نے ملیا میٹ کردیا ﴿137﴾
جو ان لوگوں نے کیا تھا ان فرعونیوں نے۔
ترجمہ: اور ہم نے بنی اسرائیل سے سمندر پار کروایا، تو وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو اپنے بتوں سے لگے بیٹھے تھے۔
اب دیکھیں نا، یہ ان کی عجیب باتیں، ایسے مشکل حالات سے نکلے ہیں اور اب یہ ان کے حالات دیکھیں۔
ترجمہ: بنی اسرائیل کہنے لگے: ”اے موسیٰ! ہمارے لئے بھی کوئی ایسا ہی دیوتا بنادو جیسے ان لوگوں کے دیوتا ہیں“
مطلب ظاہر ہے حالانکہ پیغمبر پاس ہیں سارا کچھ دیکھ رہے ہیں لیکن یہ ان کی عجیب و غریب حالتیں ایسی ہیں۔ تو قرآن نے ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔
حاشیہ: بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان تو لے آئے تھے، اور فرعون کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں کو بھی انہوں نے صبر سے برداشت کیا جس کی تعریف قرآن کریم نے بھی فرمائی ہے، لیکن بعد میں انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طرح طرح سے پریشان بھی کیا۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ اس قسم کے کچھ واقعات بیان فرما رہے ہیں۔
ترجمہ: موسیٰ نے کہا: ”تم ایسے (عجیب) لوگ ہو جو جہالت کی باتیں کرتے ہو ﴿138﴾ ارے یہ لوگ تو وہ ہیں کہ جس دھندے میں لگے ہوئے ہیں، سب برباد ہونے والا ہے، اور جو کچھ کرتے آ رہے ہیں، سب باطل ہے“ ﴿139﴾ (اور) کہا کہ: ”کیا تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی اور معبود ڈھونڈ کر لاؤں؟ حالانکہ اُسی نے تمہیں دُنیا جہان کے سارے لوگوں پر فضیلت دے رکھی ہے!“ ﴿140﴾ اور (اللہ فرماتا ہے کہ) یاد کرو کہ ہم نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے بچایا ہے جو تمہیں بدترین تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کرڈالتے تھے، اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے رَبّ کی طرف سے بڑی آزمائش تھی“ ﴿141﴾
تو یہ آزمائشیں ان پر آئی ہیں اور اس وقت کثرت کے ساتھ انبیاء بھی ان میں آئے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے جیسے انسان کی ذہانت ہوتی ہے، تو ذہانت تو اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے لیکن یہی ذہانت بعض لوگوں کے لیے مطلب وہ بن جاتی ہے، نقصان کا باعث بن جاتی ہے اور وہ اس کو غلط چیزوں کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔ یہ جتنے بھی فتنے پھیلتے ہیں وہ ذہین لوگوں سے پھیلتے ہیں، مطلب چونکہ وہ کر سکتے ہیں تو تبھی تو مطلب ان سے پھیلتے ہیں۔ اسی طرح ان میں ذہانت بھی تھی، پیغمبروں کی اولاد تھے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں بھی دیکھی تھیں۔ تو اس سے شیطان نے ان کے دل میں ان کے دماغ میں یہ ڈالا کہ تم منتخب لوگ ہو، تم جو کچھ کرتے ہو تو ظاہر ہے اول تو تمہیں سزا نہیں دی جائے گی اور دی جائے گی تو بہت تھوڑی سی۔ مطلب کوئی زیادہ بات نہیں ہو گی۔ اور پھر ان کے اندر کے جو لوگ تھے نا، وہ جو ان کے مذہبی لوگ تھے، تو وہ اپنی دنیا داری کے چکر میں کچھ اور ہی ظاہر ہے مسائل پیدا کر دیے، جیسے ان لوگوں نے ایسے غلط قسم کے عقیدے بنا لیے جس کا کوئی سر و پیر نہیں تھا۔ یعنی جو قوم موسیٰ علیہ السلام سے کہہ سکتی تھی کہ ہمارے لیے کوئی اس طرح دیوتا بنا دو، تو مجھے بتاؤ کہ وہ پھر کیا کچھ نہیں کر سکتے تھے؟ تو بعد میں ان لوگوں نے یعقوب علیہ السلام کے بارے میں بڑی عجیب عجیب باتیں بنائیں، اپنے پیغمبروں کے بارے میں اتنی بڑی عجیب عجیب باتیں جو سن بھی نہیں سکتا آدمی لیکن ان لوگوں کی کتابوں میں وہ ہیں، موجود۔ پھر دھڑلے سے تحریف کیا کرتے تھے باقاعدہ۔ جیسے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس وقت مسلمان ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی قوم کا تو پتہ تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ میری قوم جیسی ہے نا وہ ذرا تھوڑا سا آپ اس کا نظارہ دیکھیں۔ آپ ان سے میرے بارے میں پوچھیں کہ یہ کیسا آدمی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ عبد اللہ بن سلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو اس وقت اندر تھے مطلب باہر نہیں آئے تھے۔ انہوں نے کہا جی وہ شریف آدمی ہے، شریف کا بیٹا ہے، اور ایسا ہے اور ایسا ہے، زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے ان کی تعریف میں۔ اتنے میں عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ باہر تشریف لائے اور باآواز بلند کہا اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلَهَ اِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ. تو فوراً بس وہ پھر گئے اور کہتے ہیں یہ رذیل آدمی ہے اور رذیل کا بیٹا ہے اور ایسا ہے اور ایسا ہے اور ایسا ہے، مطلب ان کے خلاف جو غلط باتیں ہو سکتی تھیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ دیکھیں جی اس قسم کے لوگ ہیں۔ پھر یہ جو رجم کا واقعہ ہے تو یہ ان کی کتاب میں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ان کا کیس آتا تھا تو انہی کی کتاب سے مطلب ان کے بارے میں فیصلہ کرتے تھے۔ تو تورات میں وہ تو رجم ہے تو اس پر انہوں نے کہا کہ نہیں یہ نہیں ہے، تو تورات لائی گئی تو اپنا انگوٹھا وہ اس، وہ آیت کے اوپر رکھا ہوا تھا۔ تو عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ان سے کہیے کہ ہاتھ ہٹا دیں۔ جب ہاتھ ہٹا دیا تو نیچے وہی لکھا ہوا تھا۔ وہ سارا کچھ لکھا ہوا تھا۔ تو یہ مطلب دھڑلے کے ساتھ تحریف کرتے تھے۔ یہ ان کے عجیب و غریب مطلب وہ تھا۔ اور اب بھی یعنی اس وقت دنیا کے اندر فتنہ و فساد پھیلانے میں جو سب سے بڑا کردار ہے وہ یہودی ہے۔ یا پھر یہودیوں کے آلہ کار ہیں، چاہے وہ عیسائیوں میں ہیں، چاہے مسلمانوں میں ہیں، چاہے کسی اور مذہب میں ہیں۔ اور یہ اتنی زبردست پلاننگ کرتے ہیں۔ اتنی زبردست پلاننگ کرتے ہیں کہ سب سے بڑی بات آپ یہ دیکھ لیں کہ دجال جو ہے، اس کو انگریزی میں anti Christ کہتے ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا مخالف۔ اور دیکھیں نا اتنا اور یہ ان کو نجات دہندہ کہتے ہیں anti Christ کو، باقاعدہ اس کا انتظار کرتے ہیں۔ تو یعنی اس کے باوجود عیسائیوں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے۔ جو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مقابلہ کرے گا عیسیٰ علیہ السلام اس کو مارے گا، وہ عیسائیوں کی کتابوں میں بھی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام ان کو مارے گا۔ لیکن اس کے باوجود anti Christ کو وہ نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ اور ہے کہ ان کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ تو یہ اتنی زبردست پلاننگ کرتے ہیں، مختلف طریقوں سے یہ پلاننگ کرتے ہیں۔ اور ان کا طریقہ یہ ہے کہ جہاں بھی یہ جاتے ہیں تو سب سے پہلے economy پہ قبضہ کرتے ہیں۔ اور communication یہ اطلاعات وغیرہ، ان کے اوپر قبضہ کرتے ہیں۔ یہ دو چیزیں سب سے زیادہ مطلب ان کے جو ہیں نا کیونکہ کا جس وقت قبضہ ہو جائے ان چیزوں پر، تو پھر اس کو manipulate کرتے ہیں۔ پھر جو کام ان سے لیتے ہیں۔ تو economy لوگوں کی کمزوری ہوتی ہے۔ جیسے پاکستان کی اس وقت کمزوری ہے نا معاشیات، تو اس کے ذریعے سے پھر ان کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں۔ چاہے IMF ہے، چاہے دوسرا ہے، چاہے جو بھی ہے، وہ بھی ہے اسی میں۔ لیکن وہ ظاہر ہے پھر کھیلتے ہیں ان کے ساتھ۔ یعنی پہلے جب یہ لوگ خوشحال ہوتے ہیں تو خود اپنی طرف سے قرضے پیش کرتے ہیں۔ کہ یہ ایسا اور یہ آپ کے لیے ایسا اور آپ کے لیے ایسا کر کے۔ اور جس وقت ان کا جیسے نہیں ہوتے جو لوگ چرس پہ لگاتے ہیں یا افیم پر لگاتے ہیں، تو وہ خود مفت وہ پہلے چرس پلاتے ہیں، افیم کھلاتے ہیں۔ جب وہ عادی ہو جاتے ہیں پھر ان سے پیسے بٹورتے ہیں اچھی طرح۔ تو اسی طریقے سے ان کے یہ ہے کہ اب monetary funds جو ان کے ہوتے ہیں، پیسے ہم سے لیتے ہیں مسلمانوں سے، اور پھر مسلمانوں کے خلاف ان کو استعمال کرتے ہیں۔ تو یہ پلاننگ کرتے ہیں انہی کے، انہی کے وسائل سے ان کو مارتے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دھوکہ میں specialist۔ اس حد تک specialist ہیں کہ آپ کو کیا بتاؤں؟ ان کے اوپر آپ کچھ بھی اعتبار نہیں کر سکتے کہ کس وقت آپ کو کیسا دھوکہ دے دیں؟ یاسر عرفات وغیرہ کے ساتھ جو دھوکہ ہوا تھا نا، سارے مطلب commitment ہوئے تو اس کے اندر ایک کاغذ اس طرح کا جو کہ ان کی مرضی کی وہ باتیں تھیں، سب دستخط ہو گئے۔ تو اس پہ بھی دستخط ہو گیا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ بہت، بہت قسم کی کمینے قسم کی حرکات ان کی ہوتی ہیں۔ لیکن یہ ذرا ہمارے لیے ایک یعنی اس میں عبرت ہے کہ یہ سب پیغمبروں کی اولاد ہیں۔ تقریباً کیونکہ ان میں اغیار سے ان کی شادیاں نہیں ہوتیں، تو مطلب یہ ہے کہ اپنے ہی ساتھ ہی کرتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ان کی نسل محفوظ چلی آ رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی یہ حرکتیں ہیں، تو اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ ہم لوگ اپنی نسلی بنیادوں پر اگر اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور اس کے لیے سمجھتے ہیں کہ بھئی ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہو گا، تو یہ ہمارے لیے نمونہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کی اولاد ہونے کے باوجود اگر ان کی یہ حالت ہے تو کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔ نوح علیہ السلام کے بیٹے کی جیسے ہوئی، ان کے ساتھ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ بات نہیں ہے، اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمۃ الذہری رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرما دیا تھا کہ تم اس وجہ سے نہیں بچو گی کہ میری بیٹی ہو۔ بلکہ اپنا عمل کرنا پڑے گا۔ تو یہی چیز اگر کسی کو سمجھ نہ آئے تو پھر ہوتا ہے۔ میں گیا تھا ادھر وہ یہ بہاولپور سے آگے جگہ ہے اچ شریف کے پاس طاہر والی۔ تو طاہر والی گیا تھا تو وہاں پر کچھ teachers کا ایک ہو رہا تھا یعنی جو ہوتے ہیں ان کے workshop وغیرہ ہوتے ہیں۔ تو ایک ساتھی ہمارا ان میں شامل تھا تو انہوں نے کہا جی آپ کے بیان کے لیے میں کہہ دوں؟ تو میں نے کہا چلو کہہ دو، تو انہوں نے کہہ دیا، تو بہرحال مجھے بلایا۔ تو میں نے بیان کیا تو سوال و جواب کے سیشن میں ایک استانی اٹھی۔ اور انہوں نے کہا کہ میں بخاری سیدہ ہوں۔ تو کیا میں بھی بیعت ہو سکتی ہوں یعنی میں بیعت کر سکتی ہوں؟ میں نے کہا آپ کے آباؤ اجداد بیعت کرتے تھے یا کر سکتے تھے؟ تو کہتی ہیں ہاں بالکل بیعت ہوتے تھے۔ تو میں نے کہا کہ آپ کے آباؤ اجداد سید تھے یا نہیں تھے؟ تو کہتی ہیں سید تھے، تو میں نے کہا اگر وہ بیعت ہو سکتے تھے تو تم کیوں نہیں ہو سکتی؟ اب یہ مطلب ان کے ہاں یہ مطلب گویا کہ یہ concept بنا دیا گیا ہوتا ہے کہ تم تو خود مطلب وہ ہو نا یعنی چنے ہوئے والی بات ہے نا۔ تو پھر آپ کو کسی اور جگہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟ خود میں جب پہلی دفعہ میں نے یہ سہ روزہ لگایا مطلب نویں جماعت میں تھا میں ninth class میں تھا۔ تو ہماری مسجد میں ایک خادم رہتے تھے کہیں مانسہرہ سائیڈ کے تھے۔ تو وہ خادم رہتے تھے تو وہ ذرا خشک عقیدہ لوگوں میں تھے۔ تو مجھے کہتے ہیں بادشاہ جی آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے آپ تو ادھر بیٹھ جائیں سارے لوگ آپ کے پاس آئیں گے۔ آپ کو ان لوگوں کے ساتھ پھرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہاں مطلب وہی والا concept مطلب وہ چیز مطلب ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم سب اللہ کے بندے ہیں۔ اور اللہ کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے، ایک بات۔ نسبت سے انکار نہیں، نسبت سے انکار نہیں۔ لیکن فائدہ اس وقت دیتا ہے جب آپ اللہ کے راستے پہ ہوں۔ speed بنتی ہے۔ اب دیکھو حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب اور مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب چونکہ مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں ہونے کی وجہ سے ان کو سہولت زیادہ تھی علم حاصل کرنے کی۔ گھر میں ایسے شخص موجود تھے۔ تو انہوں نے جب علم دین کی کوشش کی تو بہت آگے نکل گئے۔ لیکن کیا صرف اس وجہ سے کوئی علم میں آگے نکل سکے کہ میرا باپ عالم ہے جب تک وہ محنت نہ کرے؟ محنت ان لوگوں نے کی اور باپ کی وجہ سے ان کو فائدہ ہوا کس طرح کہ ایک تو استاد بڑے اچھے ملے ان کے والد صاحب کی وجہ سے خود والد صاحب بھی ان کے بڑے ماشاءاللہ مایہ ناز استاد تھے۔ تو تربیت کے لیے بھی لے گئے ڈاکٹر عبدالحی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف تو ماشاءاللہ تربیت بھی ہو گئی تو اللہ پاک نے ان کو کیسے بنایا۔ تو اب ان کو سہولت ہوئی اپنی نسبت کی وجہ سے۔ لیکن صرف اس کی بنیاد پر وہ ترقی تو نہیں کر سکتے کہ ہم فلاں کے بیٹے ہیں۔ پدرم سلطان بود۔ تو اسی طرح نسبت والے یقیناً ان کو فائدہ ہوتا ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ جب یہ اس کام پر آ جاتے ہیں تو اللہ پاک ان کو نوازتے ہیں۔ تو ان کی وجہ سے مطلب وہ نوازتے ہیں۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ محنت تو کرنی پڑے گی۔ اس کے لیے کوئی وہ نہیں ہے کہ کوئی محنت نہ کرے بغیر محنت کے ان کو سب کچھ مل جائے گا، یہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ پاک ہم سب کو سمجھ عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ.
اضافی تشریح
فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل کو زندگی گزارنے کے لیے ایک شریعت کی ضرورت تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا کرنے کے لیے کوہِ طور پر بلایا۔ پہلے تیس راتوں کا وعدہ ہوا، پھر دس راتیں بڑھا کر چالیس پوری کی گئیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو قوم میں اپنا جانشین بنا کر طور پر تشریف لے گئے۔ پیچھے قوم میں سامری نام کا ایک شخص تھا، جس کے بارے میں مفسرین لکھتے ہیں کہ وہ سنار تھا۔ بنی اسرائیل کے پاس قبطیوں کے بہت سے زیورات تھے جو وہ مصر سے ساتھ لائے تھے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی میں دیر ہوئی تو یہ زیور ایک جگہ جمع کیے گئے۔ سامری نے اس سونے کو پگھلا کر ایک بچھڑا ڈھال لیا، جس سے گائے جیسی آواز نکلتی تھی۔ اکثر مفسرین کے مطابق یہ آواز اس مٹی کی وجہ سے تھی جو سامری نے سمندر پار کرتے وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کے نشان سے اٹھا لی تھی۔ پھر اس نے لوگوں سے کہا کہ یہی تمہارا اور موسیٰ کا معبود ہے۔ بہت سے لوگ اس کی پوجا میں لگ گئے۔ یہ مکمل واقعہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ شیطان ہر وقت ہمارے ساتھ ہے۔ وہ ہمارے نفس کی خواہشات دیکھ کر انہی کے مطابق وسوسہ ڈالتا ہے۔ شیطان سے بچنے کا راستہ اللہ کا ذکر ہے۔ ساتھ ہی نفس کی تربیت کروانی چاہیے، کیونکہ جب تک نفس کی خواہشات قابو میں نہ ہوں، شیطان کو دروازہ ملتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشمس میں سات قسمیں کھائی ہیں۔ اتنی بڑی بڑی چیزوں کی قسمیں کھا کر اللہ نے بتایا کہ انسان کی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ نفس کی اصلاح پر ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے۔